واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




وہ چاند تھی شاید

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-04-11, 03:03 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default وہ چاند تھی شاید

وہ چاند تھی شاید

ابھی ابھی وہ گاڑی پورچ میں کھڑی کرنے کے بعد اندر داخل ہوا ہی تھا ۔پھر سے وہی روزانہ کی
کہانی دوہرائی جانے لگی ۔ مگر وہ ایسے ہی مسکراتا ہوا حسب معمول ماں کی طرف بڑھتا گیا ۔
جب بھی وہ گھر داخل ہوتا ماں کھانا ٹیبل پر رکھتی اور دوسری کرسی پر بیٹھ جاتی ۔جتنی دیر عرفان
کھانا کھاتا رہتا ۔ماں شادی کا لکچر جھاڑتی رہتی ۔وہ بھی کبھی ایک کان سے سُنتا اور دوسرے سے
نکال دیتا ۔ اتنا بچہ تو تھا نہیں کہ اُسے ماں کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔مگر وہ کبھی بھی ماں سے خفا نا ہوتااُسے معلوم تھا ہر انسان کی ایک عمر ہوتی ہے شادی کی ۔لڑکی ہو یا لڑکا کُچھ خواب تو آنکھوں میں بسے ہی ہوتے ہیں ۔لڑکوں کو تو پھر بھی کُچھ آذادی ہوتی ہے۔باہر گلی کی نُکڑ پر کھڑے ہو کر سکول وکالج جانے والی ہر لڑکی کو دیکھ کر کُچھ آۂیں بھرنے اور آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی۔ مگر لڑکیوں کو تو بند آنکھوں میں بھی خواب سجانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔۔ماں باپ کو ہر لمحہ ایک خوف رہتا ہے وہ خوف وبدنامی کے ڈرکا اِدھر تو ماملہ ہی کُچھ اُلٹا تھا ۔عرفان کی شرافت کی قسمیں ہر کوئی کھاتا تھا ،اُسے کبھی کسی لڑکی کی طرف راغب ہوتے دیکھا ہی نہیں تھا ۔اکثر ہی شادی بیاہ کے موقعہ پر بہت کزن اکھٹی ہوتیں اور پھر اسکا خوب مزاق اُڑاتیں ۔وہ نگاہیں جُھکائے ماتھے پہ آأ پسینے کو پو نچھتا دوسری طرف نکل جاتا ۔ وہ اس معاملے میں کافی کمزور تھا ۔اند ر کے کمزور آدمی کو کبھی جگا نا سکا ۔اَب تو اکثر ہی ماں اُسے گزرتی عمر کی یاد دہانی کرواتی،کبھی اپنی بیماری کا بہانا ،کبھی تنہائی پھر ایک دن عرفان نے فیصلہ کر ہی لیا ۔ماں کی محبت کے آگے ہارنے کا اُس دن تو ماں کی خوشی کا ٹھکانا ہی نا رہا ۔جب وہ اپنے وعدے کے مطابق اپنی بھانجی کو بیاہ لائی ۔ایک عقلمندی اُس نے اور کی کہ بیٹے اور بہو کو ایک علیحدہ فلیٹ میں آتے ہی سیٹ کر دیا ۔
تاکہ وہ ایک دوسرے کو جلد ہی سمجھ لیں ۔۔ پھر وہ اپنی دُلہن کو لیے ماں کے حُکم کے مطابق علیحدہ بس گیا ۔۔شادی کے چند ہفتوں بعد ہی اُسے آفیس والوں نے دوسرے ملک جاب کی آفر کر دی وہ تو اکیلے ہی جانا چاہتا تھا مگر ماں نے اُس کی کوئی دلیل کامیاب نا ہونے دی ۔۔
پھر وہ ابھی بیوی کو ساتھ لی دوسری جگہ آبسا ۔۔جگہ سے اُسے کُچھ فرق نا پڑا ۔پھر بھی وہ اپنے اندرحوصلہ پیدا نا کر سکا ۔۔ اظہارِ محبت کا ۔۔ کئ راتیں ایسی ہی اور گزرتی گیئ ۔ وہ اپنی بیوی کے پاس ہو کر بھی اتنا قریب نا ہو پایا ۔یہ اِسکی کمزوری تھی شاید ۔۔ہر لڑکی کا ایک ارمان ہوتا ہے ۔جب بیاہ کر آئے تو خا وند اُس کا اُس سے محبت کی باتیں کرے ناز نخرے اُٹھائے۔یہ پُل صراط تو بینا محبت کے پر بھی تو نہیں کیا جا سکتا۔وہ تو حقوقِ زوجیت بھی ابھی تک ادا نا کر پایا ۔عرفان ہر روز کام سے آتا لیٹی ہوئی عائشہ کے پہلو میں آکر سو جاتا۔عائشہ بھی ببظاہر تو سوئی لگتی مگر ایسا نا ہوتا ۔ہر روز اور ہر بار خود سے ہی سوالوں کے جواب مانگتی ۔اپنے ہاتھوں لگی مہندی میں آنسوؤں کے قطرے اور۔دل کی اُمنگیں انگرائیاں لیتی دیکھتی اور پھر کروٹ لے کر آنکھیں موند لیتی۔شاید کبھی وہ اپنے سوال کا جواب پا لے گی۔پھر تو یہ سب اس کی عادت میں شامل ہوگیا۔۔ہر لڑکی کی بہت سی خواہشیں ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک یہ بھی تو ہوتی ہے ۔اور خا وند اُ س کا اس سے پیار بھری باتیں کرے اس کے ناز نخرے اُٹھائے۔۔۔

جب بیاہ کر آئے تو خاوند اُسکا اُس سے محبت کی باتیں کرے ناز نحر ے اُٹھاءأ۔ اُس کے سب خواب پورے ہوں ،اُسکا جیون ساتھی اُسے۔۔۔
یہ بھی نہیں تھا کہ عرفان اسکا خیال نہیں رکھتا تھا ،ہر جگہ ساتھ لیکر جاتا بہت سی شا پینگ کرواتا ۔یہی بات تو عاأشہ !۱ کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔پھر اِس رشتے میں اتنا فاصلہ کیوں ۔۔ کبھی کبھی وہ اُلجھ کر رہ جاتی عرفان بھی اپنی نفسیات سے نالڑ سکا ۔ایسے ہی پھیکے موسموں کی طرح وقت گزرتا گیا ۔ وہ بھی اپنے جذبات قابو کر نا سیکھ گئ عرفان کام پر چلا جاتا ۔وہ سارا دن ادھر اُدھر پھر کر گزار دیتی ۔بس فاصلوں کوآنسوؤں کی خوشبومیں سمیٹتی رہی۔ اسے ہی ایک دن عرفان آفیس سے واپس لوٹا تو اُسکے ساتھ ایک اجنبی شخص جسے اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔اندر داخل ہوتے ہی اس نے عاأشہ سے تعارف کروایا ۔یہ تسکین ہے میرا بہت پیارا اور عزیز دوست ۔کُچھ ماہ کیلئ اِسے بھی یہاں جاب ملی ہے ۔جب تک اِسکے رہنے کا کہیں بندوبست نہیں ہوتا وہ یہی رہے گا ۔ ایک ہی سانس میں سب کہتاگیا ۔وہ یہ سُن کر اندر ہی اندر خوش ہو اُٹھی ،شاید یہ بڑھتی تنہائی کُچھ کم ہو جائے۔دل خوشی سے جھومنے لگا ۔۔ ایک انجانی منزل کی طرف ایک پل ہی میں نکل کھڑی ہوئی پھر واقعی کُچھ دنوں کے بعد اُسے ہر طرف بہار ہی بہار نظر آنے لگی ،جن پھولوں میں کبھی اُسے خوشبو محسوس نہیں ہوتی تھی ۔مہک ہی مہک آنے لگی خموشیاں اندھیروں میں چُھپنے لگیں ۔اپنی ذندگی کا مقصدسمجھ آنے لگی اُسے ۔تھوڑے دنوں میں ایسی دوستی ہوگئ اُن دونوں میں کہ ہر وقت قہقوں سے گونجنے لگا ۔تسکین ہمیشہ عرفان سے پہلے گھر آچکا ہوتا ۔ جب وہ گھر داخل ہوتا تو عاأشہ اور تسکین اکثرہی اکھٹے چائے پی رہے ہوتے یا پھر ٹی۔وی کے کسی پروگرام پر بحث ومباحثہ چل رہا ہوتا ۔پہلے جیسی فضا بلکُل ہی نہیں تھی ۔وہ عاأشہ جو عرفان کا پَل پَل خیال رکھتی تھی اُسکے آنے میں کتنی بھی دیر ہو جائے ایک نوالہ کھانے کا نہیں کھاتی تھی۔اَب تو وہ پہلے کھانا بھی کھا چُکی ہوتی ۔۔ عرفان اندر ہی اندر کہیں ٹوٹنے لگا ۔ مگر کبھی شکایت نا کرتا ۔وہ بھی کیسے شکایت کا حوصلہ رکھتا اس نے کبھی فاصلوں کو سمیٹا ہی نہیں تھا ۔پھر بھی سوچتا ایسا کیوں ہے اُسے اپنے سوال کا جواب تو نا مِلا مگر اپنی کوئی نا کوئی غلطی سَر اُٹھاتی نظر آنے لگی وہ کھانے سے فارغ ہو کر بیڈ روم میں چلا جاتا مگر وہ تسکین کے ساتھ بیٹھی رہتی بہت دیر تک ۔اور وہ کھانے سے فارغ ہو کر بیڈ روم میں چلا جاتا مگر عاأشہ تسکین کے ساتھ بیٹھی بہت دیر تک
ٹی۔وی دیکھتی رہتی ۔بیڈ روم تک اُن کے قہقے بہت دیر تک سُنائی دیتے رہتے اور وہ تلملا کر رہ جاتا ۔عرفان کو لگتا یہ سب آگ تو خود اُسکی لگائی ہوئی ہے ۔چنگاری کو بیشک بھڑکنے میں دیر لگتی ہے مگر کبھی نا کبھی شعلہ بنتی ہی ہے ۔اندر ہی اندر اُسے ایک گُھٹن کا حساس ہوتا ۔وہ کیا کرے ۔کُچھ سمجھ نا پاتا ۔رات رات بھر نیند کو سگر ہٹ کے دھواں میں اُڑا دیتا ۔صبح آفیس کیلئ نکلتا تو اُسے لگتا رات کابوجھ ابھی کاندھے
پھر ایسے ہی ایک دن وہ دفتر سے گھر لوٹا تو عائشہ سے کہنے لگا میں دو روز کیلئ کسی کام کے سلسے میں دوسرے شہر جا رہا ہوں ۔ میرے کپڑے پیک کر دینا ۔جب بھی کبھی ایسا موقعہ آیا تو عاأشہ اُداس ہو اُٹھتی ۔مگر آج تو اُسکے چہرے کا ایک رنگ بھی نا بدلا ۔۔بلکے خوشی خوشی اُس نے عرفان کا بیگ تیار کر دیا ۔وہ حیرت اور کِن آکھیوں اُسے دیکھتا ہی گیا ۔۔عرفان کا خیال تھا پہلے کی طرح وہ کئ سوال پوچھے اور
تکرار کرے گئ ۔اُداس ہو گئ مگرایسا کُچھ نا ہوا ۔اَب تو وہ بھی چاہنے لگا وہ پہلے کی طرح اُسے روکے اُس نے بھی سوچ رکھا تھا اَب کی بار وہ روکے گئ تووہ بھی رُک جائے گا مگر ایسا کُچھ نہ تھااُج اُسے بھی محسوس ہوا وہ عاأشہ کا کس قدر عادی ہو چکا تھا کہ جُدائی کا تصور آتے ہی روح کانپ اُٹھتی ۔اتنے عرصے کی رفاقت کے باوجود وہ آج بھی اجنبی اجنبی سے لگنے لگے ۔اُسے بھی توآج عاأشہ کے وجود کا شدت سے حساس ہوا ۔۔پھر اُس نے سوچ لیا اَب کی بار جب وہ گھر لوٹے گااپنا سب کُچھ اُس پر نچھاور کر دے گا ۔جو حق ابھی تک اُسے نا دے پایا تھا ۔۔سب جذبات دل کی رگوں میں اُمنڈآئے۔یہ سوچ کر وہ مُسکرا دیا ۔عالمِ اضطراب میں ڈوبا باہر نکل آیا ۔وقت کی رفتار تو ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے اُسکا گزرنا اپنی سوچ کے مطابق کبھی آہستہ اور کبھی تیز لگتا ہے۔۔۔
دو دن ایسے ہی گزرے تب اُسے محسوس ہوا فاصلے تو فاصلے ہی ہوتے ہیں ۔ راستوں کے ہوں یا دِلوں کے ۔۔آج وہ ایک دن پہلے ہی وہ اپنا کام ختم کر کے لوٹ رہا تھا تب خوش تھا خیالوں خیالوں میں یوں مسکراتا اپنی منزل کی طرف گامزن تھا ۔راستے بھر ہلکی ہلکی بارش موتیوں کیطرح گاڑی کے شیشوں پر گرتی رہی ۔وہ خیالوں ہی میں اُس سے ہمکلام رہا ۔گھر پہنچاتو تب تک بارش کا سلسہ رُک چُکا تھا اُسے یقین تھا اَب کی بار بھی پہلے کی طرح عائشہ اُسکی مُنتظر ہوگئ
انہیں خوش کن خیالات کو ساتھ لیئ ابھی اُس نے دروازہ کھولا تو اُسے لگا وہ دروازہ کُھلتے ہی آکر اُسکے گلے لگ جائے گئی اور دو دن کی دوری کا شکوہ لبوں پر اور آنکھوں میں شکرانے کے موتی۔مگر یہ کیا ؟وہ سب خواب نکلا جبھی اُس نے دروازہ کھولا توعائشہ کو تسکین کی گود میں سَر رکھے ہنستے ہوئے پایا ۔ دونوں ہی دنیا جہاں سے بے خبر ٹی۔وی دیکھنے میں مصروف تھے۔انہیں دروازہ کُھلنے کی آہٹ تک محسو س نا ہوئی وہ لمحے خنجر کی نوک کی طرح سینے میں اُترتے ہی گے ۔کُچھ پَل ایسے ہی بیت گئے۔انہیں قدموں سے وہ واپس باہر نکل آیا ۔۔ اسکا جسم تھکن سے چُور سا۔اُلٹے ہاتھ سے اپنی پیشانی پر آئے پسینے کو صاف کرنے لگا ۔۔ اُسے لگا اُس کے چاروں طرف آگ لگی ہو ۔گردشِ ایام ساکت سی،دل دھڑکنا ہی بھول چکا ہو ۔۔۔مگر اُس کی سانس تو ابھی چل رہی تھی ۔زندگی کا حساس اِن سانسوں میں بس رہا تھابارش کب کی تھم چُکی تھی ۔درختوں کے پتوں سے کُچھ قطرے ابھی بھی آنسو بنکر ٹپک رہے تھے۔کیا وہ اپنے چاروں اطراف لگی آگ اِن چن قطروں سے بُجھا سکے گا۔اپنی کمزوری آج اُسے ماتھے کا داغ لگنے لگی ۔اپنا وجود تمسخر اُڑاتا دیکھائی دیا ۔اُسے اپنی غلطی کا احساس تو ہوا ۔مگر بہت دیر ہو چُکی تھی اُسے لگا وہ چاند تھی شاید جسکا عکس پانی میں تو دیکھتا رہا اُسے چُھو نا سکا ۔اُسکی چاندنی کسی اور نے اپنے نام کر لی۔ آج اُسے لگا وہ تو پہلو میں سُلا کر بھی اُس پھول کی خوشبوکو چُھو بھی نا سکا ۔ اُسے نا کردہ گناہ کی سزا ہی تو ملی تھی۔

تحریر: فرخندہ رضوی
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
لوٹے, نیند, نظر, ماں, محبت, معلوم, آج, آدمی, انسان, اجنبی, تعارف, جواب, جلد, خبر, دوست, رفتار, رشتے, شہر, شخص, عائشہ, عادت, عزیز, غلطی, صاف, صراط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی جون ایلیاء Real_Light جون ایلیا 3 02-04-12 12:17 AM
وہ اس کالج کی شہزادی تھی وہ شاہانہ پڑھتی تھی The Great مزاحیہ شاعری 1 13-09-09 10:20 AM
ساتھی سے The Great شعر و شاعری 0 14-08-09 09:11 PM
تیرے دامن کی تھی ۔ یا مست ہوا کس کی تھی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 1 27-01-09 08:23 PM
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ۔ ۔ ۔ میاں شاہد فیض احمد فیض 3 04-01-09 10:55 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:03 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger