|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بٹوارے کے دو تين سال بعد پاکستان اور ہندوستان کي حکومتوں کو خيال آيا کہ اخلاقي قيديوں کي طرح پاگلوں کا بھي تبادلہ ہونا چاہئيے، يعني جو مسلمان پاگل ہندوستنا کے پاگل خانوں ميں ہيں انہيں پاکستان پہنچا ديا جائے، اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں ميں نہيں انہيں ہندوستان کے حوالے کرديا جائے۔
معمول نہيں يہ بات معقول تھي، يا غير معقول، بہر حال دانشمندوں کے فيصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچي سطح کي کانفرنس ہوئيں، اور بالاآخر ايک دن پاگلوں کي تبادلے کيلئے دن مقرر کيا گيا، اچھي طرح چھان بين کي گئي، وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقين ہندوستان ہي ميں تھے وہيں رہنے دئيےگئے تھے، باقي جو تھے ان کو سرحد روانہ کرديا گيا، يہاں پاکستان ميں چونکہ قريب قريب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے اس لئے کو کور رکھنے کا سوال ہي نہ پيدا ہوا، جتنے ہندو سکھ پاگل تھے سب کے سب پوليس کي حفاظت ميں سرحد پہنچا دئيے گئے، ادھر کا معلوم نہيں ليکن ادھر لاہور کے پاگل خانے ميں جب اس تبادلے کي خبر پہنچي تو بڑي دل چسپ چہ گوئياں ہونے لگيں۔ ايک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز باقاعدگي کے ساتھ زميندار پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ايک دوست نے پوچھ مولبي صاحب يہ پاکستان کيا ہوتا ہے تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب ديا ہندوستان ميں ايک ايسي جگہ جہاں استرے بنتے ہيں، يہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہوگيا، اس طرح ايک اور سکھ پاگل نے ايک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا سردار جي ہميں ہندوستان کيوں بھيجا جا رہا ہے، ہميں تو وہاں کي بولي بھي نہيں آتي دوسرا مسرکرايا، مجھے تو ہندوستوڑوں کي بولي آتي ہے، ہندوستاني بڑے شيطاني آکڑا آکڑا پھرتے ہيں، ايک دن نہاتے نہاتے ايک پاگل پاکستان زندہ باد کا نعرہ اس زور سے بلند کيا کہ پھسل کر فرش پر گر گيا اور بے ہوش ہوگيا، بعض پاگل ايسے بھي تھے جو پاگل نہيں تھے، ان ميں اکثريت ايسے قاتلوں کي تھي جن کے رشتہ داروں کو دے دلا کر پاگل جانے بھجواديا تھا، کہ پھانسي کے پھندے سے بچ کر جائيں يہ کچھ کچھ سمجھتے تھے، کہ يہ ہندوستان کيوں تقسيم ہوا اور يہ پاکستان کيا ہے، ليکن صيح واقعات سے يہ بھي بے خبر تھے، اخباروں سے کچھ پتا نہيں چلتا تھا، اور پہرے دار سپاہي ان پڑھ اور جاہل تھے، ان کي گفتگو سے بھي وہ کوئي نتيجہ برآمد نہيں کرسکتے تھے، اس کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ايک آدمي محمد علي جناح جس کو لوگ قائد اعظم کہتے ہيں اس نے مسلمانوں کيلئے ايک الگ الگ ملک بنايا ہے۔ جس کا نام پاکستان ہے يہ کہا ہے اس کا محل وقع کيا ہے اس کے بارے ميں اسے کچھ معلوم نہيں يہي وجہ ہے کہ پاگل خانے ميں وہ سب پاگل جن کا دماغي پوري طرح مائوف نہيں ہوا تھا، اس مخنمےميں تھے کہ وہ پاکستان ميں ہيں يا ہندوستان ميں، اگر ہندوستان ميں ہيں تو پاکستان کہا ہيں، اور اگر پاکستان ميں ہيں تو يہ کيسے ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ عرصے پہلے يہيں رہتے ہوئے بھي ہندوستان ميں تھے، ايک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان اور پاکستان کے چکر ميں ايسا گرفتار ہوا کہ اور زيادہ پاگل ہو گيا، جھاڑو ديتے ديتے ايک دن درخت پر چڑھ گيا، اور ٹہنے پر بيٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقرير کرتا رہا، جو پاکستان اور ہندوستان کے نازل مسئلے پر تھي، سپاہيوں نے اسے نيچے اترنے کو کہا، تو وہ اور اوپر چڑھ گيا ڈرايا دھمکايا گيا تو اس نے کہا ميں ہندوستان ميں رہنا چاہتا ہوں نے پاکستان ميں ميں اسي درخت پر رہوں گا، بڑي مشکل کے بعد جب اس کا دور سرد پڑا تو وہ نيچے اتر اور اپنے ہندو سکھ دستوں سے گلے مل کر رونے لگا، اس خيال سے اس کا دل بھر آيا، کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائيں گے۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ايک ايم ايس سي پاس ريڈيو انجينر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے بالک الگ تھلگ تھا، باغ کي ايک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا يہ تبديلي نمودار ہوئي کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفع دار کے حوالے کر دئيے اور تنگ دھڑنگ سارے باغ ميں چلنا شروع کرديا، چنيوٹ کے ايک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم ليگ کا رکن رہ چکا تھا، اور دن ميں پندرہ سولہ مرتبہ نہايا کرتا تھا، ايک لخت يہ عادت ترک کردي، اسکا نام محمد علي تھا، کہ اس جنگلے ميں اعلان کرديا کہ وہ قائد اعظم محمد علي جناح ہے، اس کي ديکھا ديکھي ايک سکھ پاگل ماسڑ تارا سنگھ بن گيا قريب تھا کہ اس جنگے ميں خون خرابہ ہوجائے گا مگر دونوں کي خطرناک قرا دے کر عليدہ عليدہ بند کرديا گيا۔
لاہور کا ايک نوجوان ہندو وکيل تھا، جو محبت ميں مبتلا ہو کر پاگل ہو گيا تھا، جب اس نے سنا کہ امرت سر ہندوستان ميں چلا گيا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا، اسي شہر کي ايک ہندو لڑکي سے اسے محبت ہوگئي تھي، گو اس نے اس وکيل کو ٹھکرا ديا تھا وہ ديوانگي کي حالت ميں بھي وہ اس کو نہيں بھولا تھا، چناچہ وہ ان تمام سلم ليڈروں کو گالياں ديتا تھا۔ جنہوں نے مل کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئيے اس کي محبوبہ ہندوستاني بن گئي اور وہ پاکستاني۔ جبتبادلے کي باري آئي تو اسے اس کے دوستوں نے کہا دل برا نہ کر اسے ہندوستان بھيج دي اجائے گا، اس ہندوستان ميں جہاں اس کي محبوبہ رہتي تھي مگر وہ لاہور چھوڑنا نہيں چاہتا تھا، اس خيال سے کہ امرت ستر ميں اس ي پريکٹيس نہيں چلے گي، يورپين وارڈ ميں دانيکلو انڈين پاگل تھے، ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کرکے انگريز چلے گئے ہيں تو ان کو بہت رنج ہوا وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں اس مسلئے پر گفتگو کرتے رہتے تھے کہ پاگل خانے ميں ان کي حيثيت کسي قسم کي ہوگي يورپين وارڈ رہے گا، اڑ جائے بريک فاسٹ ملا کرے گا نہيں کيا نہيں ڈبل روٹي کے بجائے بلڈ انڈين چپاتي تو زہر مار نہيں کرني پڑے گي، ايک سکھ تھا جس کو پاگل خانے ميں داخل ہوئے پندرہ برس ہوچکے تھے، ہر وقت اس کي زبان پر عجيب و غريب الفاظ سننے ميں آتے تھے اوپپڑي گڑ گڑوي اينکس دي بے دھيان دي والي آف دل لالٹين دن ميں سوتا تھا نہ رات ميں پہرہ داروں کا يہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طويل عرصے ميں وہ ايک لمحے کيلئے بھي نہيں سويا ليٹا بھي نہيں تھا۔ البتہ کبھي کبھار کسي ديوار کے ساتھ ٹيک لگا ليتا تھا، ہر وقت کھڑے رہنے سے اس کے پائوں سوج گئے پنڈلياں بھي پھول گئيں تھيں، مگر اس جسماني تکليف کے باوجود ليٹ کر آرام نہيں کرتا تھا، ہندوستان پاکستان اورپاگلوں کے تبادلے کے متعلق جب کبھي پاگل خانے ميں گفتگو ہوتي تھي وہ غور سے سنتا تھا کوئي اس سے پوچھتا کہ اس کا کيا خيال ہے تو بڑي سنجيدگي سے جواب ديتا اور پڑي گڑ گڑدي اينکس وي بے دھياناوي سنگ وي وال آف دي پاکستان گورنمنٹ ليکن بعد ميں آف دي پاکستان گورنمنٹ کي جگہ آف دي ٹوبہ ٹيک سنگھ گورنمنٹ نے لے لي اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کيا کہ ٹوبہ ٹيک سنگ کہا ہے اور کہا کا رہے والا ہے، ليکن کسي بھي معلوم نہيں تھا کہ وہ پاکستان ميں ہو يا ہندوستان ميں وہ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بتانےکي کوشس کرتے تھے وہ خود اس الجھائوں ميں گرفتار ہوجاتے تھے کہ سيالکوٹ پہلے ہندوستان ہي پاکستان بن جائے اور يہ بھي کون سينے پر ہاتھ رکھ کر کر سکتا تھا، کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسي سرے سے غائب ہوجائيں گے، اس سکھ پاگل کے کيس چھدرے ہوکے بہت مختصر رہ گئے تھے، پندرہ سالوں ميں کسي سے جھگڑا فساد نہين کا تھا پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹيک سنگ ميں اس کي کئي زمينيں تھين، اچھا کھاتا پيتا زمين دار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گيا، اس کے رشتہ دار لونے کي موٹی موٹی زنجيروں ميں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے ميں داخل کراگئے، مہينے ميں ايک بار ملاقات کيلئے يہ لوگ آتے تھے اور اس کي خير خبر دريافت کرکے چلے جاتے تھے۔
ايک مدت تک يہ سلسلہ جاري رہا پر جب پاکستان ہندوستان کي گڑ بڑ شروع ہوئي تو ان کا آنا بند گيا، اس کان بشن سنگ تھا، مگر سب اسے ٹوبہ ٹيک سنگ کہتے تھے، اس کو قطعائہ يہ معلوم نہيں تھا، کہ وہ دن کون سا ہے، مہينہ کون سا ہے، کتنے سال بيت چکے ہيں ليکن ہر مہينے جب اس کے عزيز و اقارب اس سے ملنے آتے تھے تو اسے آپ پتہ چل جاتا تھا، چنانچہ وہ دفعدا سے کہتا کہ اس کي ملاقات آئي ہے، اس دن وہ اچھي طرہ نہاتا بدن پر خوب صابن گھستا اور اس ميں تيل لگا کر کنگھا کرتا پانے کپڑے جو ہو کبھي استعمال نہيں کرتا تھا نکلواتا تھا اور يو سج بنکر ملنے والوں کے پاس جاتا وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہا يا کبھي کبھار اوپڑي گڑربڑي اينکن دي بئ دھيانا دي منگ دي وال آف دي لالٹين کہ ديتا، اس کي بڑي لڑکي جو ہر مہينے ايک ايک نگلي بڑھي بڑھتي پندرہ برس ميں جوان ہواگئي، بش سنگ اس کو پہنچانتا ہيں نہيں تھا، وہ بچي تھي جب بھي اپنے باپ کو ديکھ کر روتي تھي جوان ہوئي تب بھي اس کي آنکھ ميں آنسو بہتے تھے، پاکستان اور ہندوستان کا قصہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کيا کہ ٹوبہ ٹيک سنگھ کہاں ہے، جب اطمينان بخش جواب نہ ملا تو اس کريدن بدن بڑھتي گئي، اب ملاقات بھي نہيں آتي ہے پہلے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا کہ ملنے آرہے ہيں پر اب جيسے اس کے دل کي آواز بھي بند ہوگئي تھي جو اسے ان کي آمد کي خبر دے يا کرتي تھي اس کي بڑي خواہش تھي کہ وہ لوگ آئيں جو اسے ہمدردي کا اظہار کرتے تھے، اور اس کيلئے پھل مٹھائياں اور کپڑے لاتے تھے وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹيک سنگ کہاں ہے تو يقينا اسے بتا ديتے کہ پاکستان ميں ہے يا ہندوستان ميں کيونکہ اس کا خيال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹيک سنگھ ہي سے آتے ہيں، جہاں اس کي زمينيں ہيں ايک دن بش سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹيک سنگھ پاکستان ميں نے يا ہندوستان ميں تو اس نے حسب عادت قہقہ لگايا اور کہا وہ پاکستان ميں نے نہ ہندوستان ميں اس لئے کہ ہم نے ابھي تک حکم نہيں لگايا، بش سنگھ نے اس خدا سے کئي مرتبہ منت سماجت کي کہ اسے وہ اپنے حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو مگر وہ پيٹ ميں مصروف تھا اس لئے کہ اسے اور بے شمار حکم دئيے گئے تھے، ايک دن تنگ آکر وہ اس پر برس پڑا اورپڑي گڑبڑي سينکس دي بے دھيانادي منگ وي وال آف ديوار ہے گورو جي دا خالصہ ايندوا ہے، گوروجي کي فتح جو بولے سونہال ست اکالي، اس کا شايد يہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو، سکھو کے خدا ہوتے تو ضرور ميري سنتے، تبادلے ميں کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹيک سنگہ کا ايک مسلمان جو اس کا دوست تھا، ملاقات کيلے آيا، پہلے وہ کبھي نہيں آيا تھا، جب بشن سنگھ نے اسے ديکھا تو ايک طرف ہٹ گيا اور واپس جانے لگا۔مگر سپاہيوں نے اسے روکا يہ تم سے ملنے آيا ہے، تمہارا دوست فضل دين ہے۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بش سنگھ نے فضل دين کو ايک نظر ديکھا اور کچھ بڑ بڑانے لگا فضل دين نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، ميں بہت دونوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں ليکن فرصت ہي نہيں ملي تمہارے سب آدمي خيريت سے ہندوستان چلے گئے ہيں، مجھے سے جتني مدد ہوسکي ميں نے کي، تمہاري بيٹي روپ کور، کچھ کہتے رک گيا، بشن سنگھ کچھ ياد کرنے لگا، بيٹي روپ کور، فضل دين نے رک رک کر کہا ہاں۔۔۔وہ۔۔۔۔وہبھي ٹھيک ٹھاک ہے ان کے ساتھ ہي چلي گئي تھي۔
بشن سنگھ خاموش رہا فضل دين نے کہنا شروع کيا انہوں نے مجھ سے کہا تھا تمہاري خيريت پوچھتا ہوں اب ميں سنا ہے تم ہندوستان جارہے ہوں، بھائي بلير سنگھ اور بھائي ودھا واسنگ سے سلام کہا، اور بہن امرت کور سے بھي۔۔۔۔۔بھائي بلئير سنگھ سے کہنا فضل دين روضي خوشي ہے، وہ بھينس جو چھوڑ گئے تھے ان ميں سے ايک نے کٹا ديا ہے دوسري کے کٹي ہوئي تھي پر وہ چھ دن کے ہو کے مرگئي۔ اور ميرے لائق جو خدمت ہوکہنا ہر وقت تيار ہوں اور تمہارے لئے تھوڑے سے مرونڈے لايا ہوں، بشن سنگھ نے مرونڈے کي پوٹلي لے کر پاس کھڑے سپاہي کے حوالے کردي اور فضل دين سے پوچھا ٹوبہ ٹيک سنگھ کہا ہے؟ فضل دين نے قدرے حيرت سے کہا کہا ہے وہيں ہيں جہاں تھا، بشن سنگھ نے پوچھا پاکستان ميں يا ہندوستان ميں؟ ہندوستان ميں نہيں نہيں پاکستان ميں فضل دين بوکھلا سا گيا، بشں سنگھ بڑا برا تا ہوا چلا گيا، پڑي دي گڑ گڑوي اينکس دي دھيانا دي منگ دي وال آف دي پاکستان اينڈ ہندوستان دي درفتے منہ۔ تبادلے کي تيارياں مکمل ہوچکي تھي، ادھر ادھر اور ادھر ادرھ آنے والے پاگلوں کي فہرستيں پہنچ چکي تھيں اور تبادلے کا دن بھي مقرر ہوگيا، سخت سردياں تھيں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھري ہوئي لاريا پوليس کے محافظ دستے روانہ ہوئيں، متعلقہ افسر بھي ہمراہ تھے، واہگہ کے بورڈر پر طرفين کے سپرنٹينڈنٹ ايک دوسرسے سے ملے اور ابتدائي کاوائي ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہوگيا جو رات بھر جاري رہا۔ پاگلوں کو لاريوں سے نکالنا اور ان کو دوسے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کھٹن کام تھا، بعض تو باہر نکلتے ہي نہيں تھے، جو نکلنے پر رضا مند ہوئے تھے، ان کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا تھا، کيونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے جوننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کر ديتے کوئي گالياں بک رہا ہے، کوئي گا رہا ہے آپس ميں جھگڑا کر رہے ہيں، رو رہے ہيں بک رہے ہيں کان پڑي آواز سنائي نہيں ديتي تھي، پاگل عورتوں کا شور الگ تھا اور سردي اتني کڑاکے کے تھي کہ دانت بج رہے تھے، پاگلوں کي اکثريت اس تبادلے کے حق سے نہيں تھي اس لئے کہ ان کي سمجھ ميں نہيں آتا تھا، کہ انہيں اپني جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھينکا جا رہا ہے، چند جو کچھ سوچ رہے تھے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، دو تين مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا کيونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو يہ نعرے سن کر طيش آگيا۔ جب بشن سنگھ کي باري آئي وہ واہگہ بارڈر کے اس بار متعلقہ افسر اس کا نام رجسٹر ميں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا، ٹوبہ ٹيک سنگہ کہا ہے؟پاکستان ميں يا ہندوستان ميں؟ متعلقہ افسر ہنس پڑا پاکستان ميں، يہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ايک طرف اور دوڑا پنے باقي ماندہ ساتھيوں کے پاس گيا، پاکستاني سپاہيوں نے اس سے پکڑ ليا اور دوسري طرف لے جانے لگے، مگر اس نے چلنے سے انکار کرديا، توبہ ٹيک سنگھ يہاں ہے، اور زور زور سے چلانے لگا، او پڑي دي گڑ گڑوي اينسک دي بے دھيانا منگ دي وال آف ٹوبہ ٹيک سنگھ اينڈ پاکستان، اسے بہت سمجھايا گيا کہ ديکھو اب ٹوبہ ٹيک سنگھ ہندوستان ميں چلا گيا ہے، اور اگر نہيں گيا تو اسے فورا وہاں بھيج ديا جائے گا، مگر وہ نہ مانا جب اس کو زبردستي دوسري طرف لے جانے کي کوشش کي گئي تو وہ درميان ميں ايک جگہ اس انداز ميں اپني سوچي ہوئي ٹانگوں پر کھرا ہوگيا جيسے اسے کوئي طاقت وہاں سے نہيں ہلا سکے گي، آدمي چونکہ بے ضرر تھا اس لئے اس مزيد زبردستي نہ کي گئي اس کو وہيں کھڑا رہنے ديا گيا اور تبادلے کا باقي ہوتا رہا، سورج نکلنے سے پہلےوہ ساکت وہ صامت بشن سنگھ کے حلق سے ايک فلک شگاف چيخ نکلي، ادھر ادھر کئي افسر دوڑتے آئے ديکھا کہ وہ آدمي جو پندرہ برس سے دن رات اپني ٹانگوں پر کھڑا رہا، اوندھے منہ۔ ليٹا تھا، ادھر خارداروں کے پيچھے ہندوستان تھا، ادھر ويسے ہي تاروں کے پيچھے پاکستان تھا، درميان ميں زمين کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئي نام نہيں ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر بہت معیاری شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہندو, پھول, پاکستان, پاگل, واقعات, قصہ, لوگ, محبت, معلوم, ترک, جواب, جاہل, حکم, حال, حسن, خون, خبر, خدا, دل, رات, سال, سردار, شہر, صابن, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| مزدوری از سعادت حسن منٹو | زارا | اردو ادب سے اقتباسات | 0 | 11-02-11 11:18 AM |
| حجِّ اکبر [سعادت حسن منٹو] | نورالدین | کتاب گھر | 3 | 01-05-10 05:06 PM |
| سلیکٹرز نے ٹورنٹو ٹورنامنٹ کے لئے ٹیم کا انتخاب مشاورت کے بغیر کیا۔ شعیب ملک | champion_pakistani | کرکٹ | 0 | 16-10-08 06:26 PM |
| طاقت کا امتحان از سعادت حسن منٹو | راجہ صاحب | اردو ادب سے اقتباسات | 0 | 06-08-08 03:38 PM |
| موذيل۔۔۔۔سعادت حسن منٹو | خرم شہزاد خرم | اردو افسانے | 6 | 17-07-07 03:56 PM |