|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 610
کمائي: 11,073
شکریہ: 130
383 مراسلہ میں 964 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سعادت حسن منٹو
بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہیے یعنی جو مسلمان پاگل، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے۔ معلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول بہرحال دانشمندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں اور بالآخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لیے مقرر ہو گیا۔ اچھی طرح چھان بین کی گئی، وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے وہیں رہنے دیے گئے تھے جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا۔ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے اس لیے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا، جتنے ہندو سکھ پاگل تھے سب کے سب پولیس کی حفاظت میں سرحد پہنچا دیے گئے۔ ادھر کا معلوم نہیں لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز باقاعدگی کے ساتھ ”زمیندار“ پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا ”مولبی ساب، یہ پاکستان کیا ہوتا ہے“ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا ”ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں“۔ یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا۔ اس طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا ”سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا جا رہا ہے، ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی“۔ دوسرا مسکرایا ”مجھے تو ہندستوڑوں کی بولی آتی ہے.... ہندوستانی بڑے شیطانی آکڑ آکڑ پھرتے ہیں....“۔ ایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے، ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں، یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے لیکن صحیح واقعات سے وہ بھی بے خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی ان پڑھ اور جاہل تھے، ان کی گفتگو سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمد علی جناح ہے جس کو قائداعظم کہتے ہیں، اس نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے، اس کا محل وقوع کیا ہے اس کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتے تھے، یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماوف نہیں ہوا تھا اس مخمصے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں، اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے، اگر وہ پاکستان میں ہیں تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے۔ ایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان اور ہندوستان اور پاکستان کے چکر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیا۔ جھاڑو دیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور اوپر چڑھ گیا، ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا ”میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں.... میں اس درخت ہی پر رہوں گا“۔ بڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا، اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائیں گے۔ ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے بالکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا میں یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کر دیے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کر دیا۔ چنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سرگرم رکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی۔ اس کا نام محمد علی تھا چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کر دیا کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا، قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیحدہ بند کر دیا گیا۔ لاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبت میں ناکام ہو کر پاگل ہو گیا تھا، اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبت ہوئی تھی، گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا چنانچہ وہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دیے۔ اس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔ جب تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے، اس کو ہندوستان بھیج دیا جائے گا، اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اس لیے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلے گی۔ یورپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں اب ان کی حیثیت کس قسم کی ہو گی، یورپین وارڈ رہے گا یا ا#±ڑا دیا جائے گا، بریک فاسٹ ملا کرے گا یا نہیں، انہیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاتی تو زہر مار نہیں کرنا پڑے گی۔ ایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب و غریب الفاظ سننے میں آتے تھے ”اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین“، دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سویا، لیٹتا بھی نہیں تھا، البتہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔ ہر وقت کھڑا رہنے سے اس کے پاوں سوج گئے تھے، پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی تو وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے پوچھتا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا”اوپڑدی گڑ گڑدی اینکس دی بے دھیانادی منگ دی دال آف دی پاکستان گورنمنٹ“۔ لیکن بعد میں آف دی پاکستان گورنمنٹ کی جگہ اوف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ نے لے لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں، جو بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ خود اس الجھاو میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے، کیا پتا ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غائب ہو جائیں گے۔ اس سکھ پاگل کے کیس جھدرے ہوکر بہت مختصر رہ گئے تھے، چونکہ بہت کم نہاتا تھا اس لیے داڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے جس کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہوگئی تھی مگرآدمی بے ضرر تھا، پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا، پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں، اچھا کھاتا پیتا زمیندار تھا کہ اچانک دماغ ا#±لٹ گیا، اس کے رشتے دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے۔ مہینے میں ایک بار ملاقات کے لیے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کر کے چلے جاتے تھے، ایک مدت تک یہ سلسلہ جاری رہا پر جب پاکستان ہندوستان کی گڑ بڑ شروع ہوئی، ان کا آنا بند ہو گیا۔ اس کا نام بشن سنگھ تھا مگر سب اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو یہ یقینا معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے، مہینہ کون سا ہے یا کتنے سال بیت چکے ہیں لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لیے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آ رہی ہے، اس دن وہ اچھی طرح نہاتا، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا نکلوا کے پہنتا اور یوں سج بن کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار ”اوپڑ دی گڑ بڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین“ کہہ دیتا۔ اس کی ایک لڑکی تھی جو ہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی۔ بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کا قصہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا کہ ملنے والے آ رہے ہیں پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔ اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لیے پھل، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو وہ یقینا اسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں، کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں۔ پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں تو اس نے حسب عادت قہقہہ لگایا اور کہا ”وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں، اس لیے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا“۔ بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو مگر وہ بہت مصروف تھا اس لیے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن یہ تنگ آ کر اس پر برس پڑا۔ ”اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو جی دا خالصہ اینڈ وا ہے گورو جی کی فتح.... جو بولے سو نہال ست سری اکال“۔ اس کا شاید مطلب یہ تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو، سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔ تبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان، جو اس کا دوست تھا، ملاقات کے لیے آیا، پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا مگر سپاہیوں نے اسے روکا ”یہ تم سے ملنے آیا ہے، تمہارا دوست فضل دین ہے“۔ بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ”میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی، تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے۔ مجھ سے جتنی مدد ہو سکی میں نے کی، تمہاری بیٹی روپ کور....“۔ وہ کچھ کہتے کہتے ر#±ک گیا.... بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا ”بیٹی روپ کور“۔ فضل دین نے رک رک کر کہاں ہاں.... وہ.... وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے، ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھی“۔ بشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا ”انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں، اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو، بھائی بلبیر سنگھ اور بھائی وھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا اور بہن امرت کور سے بھی.... بھائی بلبیر سے کہنا فضل دین راضی خوشی ہے.... دو بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑگئے تھے ان میں سے ایک نے کٹادیا ہے دوسری کے کٹی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہوکے مرگئی.... اور.... میرے لائق جو خدمت ہوکہنا، میں ہروقت تیار ہوں اور یہ تمہارے لیے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں“۔ بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کردی اور فضل دین سے پوچھا”ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے“۔ فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا”کہاں ہے.... وہیں ہے جہاں تھا“۔ بشن سنگھ نے پھر پوچھا” پاکستان میں یا ہندوستان میں؟“ ”ہندوستان.... نہیں نہیں پاکستان میں“فضل دین بوکھلا سا گیا۔ بشن سنگھ بڑ بڑاتا ہواچلا گیا”اوپڑدی گڑگڑدی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی درفٹے منہ“ تبادلے کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں، ادھر سے ادھر سے آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا بھی دن مقرر ہوچکا تھا۔ سخت سردیاں تھیں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ دستے کے ساتھ روانہ ہوئیں، متعلقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بورڈ پر طرفین کے سپرنٹنڈنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کارروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہوگیا جو رات بھر جاری رہا۔ پاگلوں کولاریوں سے نکالنا اور ان کو دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا، بعض تو باہرنکلتے ہی نہیں تھے جونکلنے پر رضامند ہوتے تھے ان کوسنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا کیونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے۔ جوننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ کے اپنے تن سے جدا کردیتے۔ کوئی گالیاں بک رہا ہے، کوئی گارہا ہے، آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں، رو رہے ہیں، بلک رہے ہیں، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی.... پاگل عورتوں کا شور وغوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔ پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیںتھی اس لیے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے ”پاکستان زندہ باد“ اور ”پاکستان مردہ باد“ کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا کیونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرے سن کر طیش آ گیا تھا۔ جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا ”ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے.... پاکستان میں یا ہندوستان میں؟“ متعلقہ افسر ہنسا ”پاکستان میں“۔ یہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا ”ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے.... اور زور زور سے چلانے لگا اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان“۔ اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے.... اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائے گا مگر وہ نہ مانا، جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپنی سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔ آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لیے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی، اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام ہوتا رہا۔ سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی.... ادھر ادھر کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا تھا اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان، درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا موضوع آزادی اور تقسیم کی نفسیات اور مابعد اثرات ہیں۔ اس افسانے کی معنویت، طنز اور چوٹ منٹو کے بالغ سیاسی شعور کی غماز ہے۔ پاگل خانہ اور آزادی، پاگلوں کا تبادلہ اور دیوانوں کی ہوشمند باتیں، اس افسانے کے اہم اشارے ہیں۔ پاگل خانہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ دو استعارے ہیں جو آزادی کے منافی رویوں کو بیان کرتے ہیں۔ آزادی کی تعبیر نے فرد کی نفسیاتی کیفیت درہم برہم کر دی اور یہ انتشار پورے سیاسی نظام کا حصہ بن گیا۔ بشن سنگھ اپنی بے معنویت کے ذریعے آزادی کی بے معنویت کو بامعنی طنز کا نشانہ بنا کر پتے کی بات کہتا ہے۔ 47ءکی آزادی کے لیے محروم افراد سے جسم و جاں کا خراج لیا گیا جو آزادی کے بعد بھی لیا جا رہا ہے۔ آزادی صرف چند لوگوں کا ورثہ اور حق قرار پائی جنہوں نے انسانوں کی بڑی تعداد کو ان کی شناخت اور حقوق سے محروم کر کے اپنی حاکمیت کو قائم رکھا۔ تقسیم کے بعد معاشی و سماجی، نفسیاتی و سیاسی، جنس اور عقائد کی بنیاد پر جاری تقسیم نے ذہنی پاگل پن پیدا کر دیا۔ کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئینے کی چادریں پھیلا گئے ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ آزادی کے خلاف نہیں، تقسیم کے خلاف ضرور ہے جو فرد سے اس کی شناخت چھین لیتی ہے۔ 47ءمیں جہاں لوگوں سے ان کے شہر گاوں، گلیاں اور بازار چھوٹ گئے وہاں انسان اپنے خوابوں سمیت ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ بس ایک خواب تھا ”آزادی“ جس کی تعبیر نے ابنارمل فرد کی ذہنی کیفیت کو کچھ اور ابنارمل کر دیا۔ پاگل خانے میں یہ مضحکہ خیز عمل مذاق بن جاتا ہے جسے رہنما پوری سنجیدگی سے سوچتے ہیں مگر انسان گم ہونے والوں کو کھوجتا ہے۔ کس تجلی کا دیا ہم کو فریب کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے اک پہیلی کا ہمیں دے کر جواب اک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے
__________________
تم قاتل نہیں ہو پیشہ ور گدھے! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| ٹیک, پھول, پولیس, پاکستان, واقعات, قائداعظم, قصہ, لوگ, لڑکی, نظر, مکمل, محبت, آدمی, بھائی, جواب, جاہل, حسن, خون, خدا, دیکھو, داڑھی, دریافت, علی, صدمہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سلیکٹرز نے ٹورنٹو ٹورنامنٹ کے لئے ٹیم کا انتخاب مشاورت کے بغیر کیا۔ شعیب ملک | champion_pakistani | کرکٹ | 0 | 16-10-08 06:26 PM |
| ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ: تیرہ ریجنل ٹیموں کا اعلان | تفسیر حیدر | کرکٹ | 0 | 19-09-08 05:38 PM |
| ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کیلئے پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان آج ہوگا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 19-06-08 06:33 PM |
| ٹوبہ ٹیک سنگھ | عبدالقدوس | اردو افسانے | 1 | 11-04-08 02:58 PM |
| ٹوبہ ٹیک سنگھ | خرم شہزاد خرم | میرا پاکستان | 6 | 08-08-07 10:50 AM |