|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آگرہ کے پاگل خانے میں جس مریض کو لایا گیا تھا وہ ایسی حیرت انگیز حرکتیں اور باتیں کر رہا تھا کہ سارے ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف کو اس سے ایک خاص دلچسپی پیدا ہوگئی تھی ۔اسے مقامی پولس کے دو سپاہی ہسپتال میں چھوڑ کر گئے تھے ۔سپاہی ہری کرشن نے آر ایم او کو بتایا کہ یہ پاگل ہر آنے جانے والے کو پکڑ اس کا نام پوچھتا ہے ۔ اگر کوئی اسے اپنا نام مرلی دھر بتاتا تو وہ ایک زور دار قہقہہ لگا کر کہتا ۔
تم جھوٹ بول رہے ہو ۔ تمہارا نام مرلی دھر نہیں مولوی دلدار علی ہے اور اگر کوئی شخص اپنا نام عبدالقادر بتاتا تو وہ ایک زبردار قہقہہ لگا کرکہتا تم جھوٹ بول رہے ہو تمہارا نام پنڈت گوپی ناتھ ہے ۔وہ کسی کو راکا ایجنٹ کہتا کسی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہتا اور زور دار قہقہہ لگا کر آگے بڑھ جاتا وہ راستہ چلنے والی عورتوں کو روک کر کہتا ۔ بہن جی ....میرا نام اسٹار پلس ہے میں نہ ہندو ہوں نہ مسلمان نہ سکھ نہ عیسائی میں مریخ سے آیا ہوں میرا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مجھ میں مستقبل میں جھانکنے کی شکتی ہے ۔ میں تمھیں بتا سکتا ہوں کہ تم عنقریب بیوہ ہونے والی ہو ۔ تمھارا شوہر ایک بم دھماکے میں مارا جائے گا۔ کسی عورت سے کہتا ہے .... ماں جی تمھارا بیٹا عنقریب تم سے جدا ہو جائے گا۔ ہمیشہ کے لئے .... وہ کنٹرول لائن پر دھرتی کی رکشا کرتے ہوئے شہید ہوجائے گا ۔ شہید .... ہا ہا ہا .... سیدھا سورگ میں جائیگا بس وہ اس قسم کی بے معنی باتوں سے پریشان تھے ۔ سپاہی ہری کرشن نے بتایا .... یہ شخص کئی دن سے علاقے میں اسی قسم کی حرکتیں کر رہا ہے ۔ جب اس کا نام پوچھا جائے تو وہ اپنانام اسٹار پلس بتاتا ہے اور کہتا ہے مریخ سے آیا ہوں ۔ ہسپتال کے آر ایم او ڈاکٹر پر شانت نے جب اس سے پوچھا ۔ تمہارا کوئی عزیز رشتہ دار ہے ؟تو اس نے ایک قہقہہ لگا کر جواب دیا ۔ ڈاکٹر صاحب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگوں اور دہشت گردی کاروائیوں میں اب تک جتنے لوگ مارے گئے میں وہ سب میرے عزیز ہیں ۔ کوئی میرا باپ ہے کوئی ماں کوئی بھائی کوئی بہن کوئی بیٹا ۔ تم رہتے کہاں ہو .... ڈاکٹر پرشانت نے جب پاگل سے سوال کیا تو اس نے ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا ۔ ڈاکٹر صاحب میں پہلے درختوں پر غاروں میں رہتا تھا ۔ ننگا پھرتا تھا ۔ لوگ مجھے اس زمانے میں وحشی کہتے تھے ۔ وحشی اس لئے کہتے تھے کی میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے پرندوں اور جانوروں کا شکار کر کے ان کا گوشت کچا کھاجاتا تھا۔ لیکن میں کسی انسان کو نہیں مارتا تھا ۔ خواہ بھوک سے میرا کتنا ہی برا حال کیوں نہ ہو .... لیکن میں اب دنیا کے ہر شہر میں رہتا ہوں بہترین کپڑے پہنتا ہوں ۔شاندار مکان میں رہتا ہوں۔ میرے پاس ہر موڈل کی گاڑیاں ہیں مجھے زندگی کی ہر آسائش حاصل ہے میں اب دنیا کا ایک مہذب انسان ہوں ۔ میں ہتھیار بنانے کے لئے کار خانوں کا مالک ہوں ۔ میں سای دنیا کو ہتھیار سپلائی کرتا ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب کوریا کی جنگ میں میں نے ہی جدید ترین ہتھیار سپلائی کیے ۔ جرمنی کے دو حصہ مےںمیں نے ہی کئی ۔ ویت نام کی جنگ میں میرے ہی کارخانوں کا بنا ہوا ہتھیار استعمال ہوا ۔ ہاں ایک بات اور بتاﺅں ۔ مگر آپ کسی سے اس کا ذکر نہ کریں ۔ میں آپ کو اپنا آدمی سمجھ کر بتا رہا ہوں ناگا ساکی اور ہیروشیما پر جو بم گرائے گئے تھے وہ میرے ہی بنائے ہوئے تھے ۔ آہا ہا ہا .... ڈاکٹر صاحب یہ بات آپ کسی کو بتانا نہیں ۔ میں ایک مہذب انسان ہوں ۔ میں اب نہ دورختوں پر رہتا ہوں نہ غاروں میں میں اب اوون میں روسٹ کی ہوئی مرغی کھاتا ہوں ۔ کچاگوشت نہیں کھاتا ....میں دنیا کے بہترین ڈیزائن میکروں سے اپنا لباس سلواتا ہوں۔ جانے اور کیا کیا بکواس وہ کرتا رہا ....ڈاکٹر پرشانت نے جو ابھی نیا نیا ہسپتال میں آیا تھا اس پاگل کی باتیں سن کر ہنستا رہا اور آخر اس نے پاگل کو نےند کا ایک انجکشن لگا دیا تھوڑی ہی دیر بعد پاگل خراٹے لینے لگا۔ صبح نو بجے جب پروفیسر رام سہائے ہسپتال آئے تو ڈاکٹر پرشانت نے ایک فائل ان کے سامنے رکھی ۔ پرو فیسر رام سہائے نے بڑے غور سے فائل میں دی گئی تفصیلات کے بارے میں پڑھا.... اور ایک زور دار قہقہہ لگایا ۔ ڈاکٹر پرشانت جو نیا نیا اسپتال میں آیا تھا .... پروفیسر رام کا قہقہہ سن کر تذبذب میں پڑ گیا ۔ کیا پروفیسر بھی پاگل ہو گئے ہیں ۔ کیا ہے کوئی چھوت کی بیماری ہے ؟ اس نے تشویش سے پروفےسر کی طرف دیکھا ۔ سر .... آپ کی طبےعت تو ٹھیک ہے .... ہاں پرشانت .... میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ مجھے پاگلوں کا علاج کرتے ہوئے اب 32سال ہو رہے ہیں میں کئی ہسپتال میں کام کرتا رہا ہوں اب تک جانے کیسے کیسے کیس میرے سامنے آئے لےکن ےہ مریض .... مائی گاڈ .... ےہ مریض تو .... ہا ہا ہا .... پروفیسر رام نے ایک اور قہقہہ لگا یا .... پرشانت مریض کہاں ہے ....؟ سر اسے ایک علیحدہ کمرے میں بند کیا گیا ہے .... وہ دوسرے مریضوں کے ساتھ رہنے کے لےے تیار نہیں ۔ وہ کہتا ہے میں مریخ کا باشدہ ہوں ۔ میں انسانوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا .... گڈ .... بڑا دلچسپ کیس ہے .... چلو ذرا میں اس مریض کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔ پروفیسر ابھی ڈاکٹر پرشانت سے باتیں ہی کر رہے تھے کہ ڈاکٹر رحمان آگئے ۔ ڈاکمر رحمٰن کا شمار بھی ہسپتال کے سینئر ڈاکٹروں میں ہوتا تھا ۔ ڈاکٹر رحمن بڑے نمازی ، پرہیز گار انسان تھے ان کے چہرے پر اےک خوبصورت داڑھی تھی ۔ پیشانی پر نماز کا ایک خوبصورت داغ تھا ۔ وہ مریض کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتے تھے ۔ اس وجہ سے بہت سارے خطرناک مریض بھی ڈاکٹر رحمن کے مشفقانہ سلوک سے آہستہ آہستہ بے ضررہوجاتے تھے ۔ جب ڈاکٹر رام نے نئے مریض کی فائل ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔ ڈاکٹر اس فائل کو ذرا غور سے پڑھئے بڑا دلچسپ کیس ہے .... آپ اسے پڑھ لیں تو ہم اس مریض کو دیکھنے کے لئے چلتے ہیں ۔ ڈاکٹر رحمان جیسے جیسے فائل پڑھ رہے تھے ان کے چہرہ کے تاثرات بدلتے جارہے تھے جب وہ پوری فائل پڑھ چکے تو ان کے حلق سے بھی ایک زور دار قہقہہ نکل گیا ۔ ڈاکٹر پرشانت جو نیا نیا اسپتال میں آیا تھا ۔ حیرت سے کبھی پروفیسر رام کو دیکھ رہا تھا کبھی ڈاکٹر رحمٰن کو ۔ ہے دلچسپ کیس .... .... پروفیسر سہائے نے ڈاکٹر رحمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ آف کورس ویری انٹرسٹنگ .... ڈاکٹر رحمٰن اور پروفیسر رام ڈاکٹر پرشانت کے ساتھ نئے مریض کے کمرے کی طرف چل پڑے ۔ سلاخوں سے بنے ہوئے دروازے سے چیک کر ایک 32-30سالہ انسان سلاخیں توڑنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ یہاں کیوں بند کیا گیا ہے .... میں نے کیا جرم کیا ہے .... نالائقوتم مجھے نہیں جانتے میں مریخ سے آیا ہوں .... میرا نام اسٹار پلس ہے .... میں تو لوگوں کو ایسی سزادوں گا کہ تم زندگی بھر یاد رکھو گے .... کھولویہ سلاخوں کا گیٹ کھولو۔ میں بیسوں صدی کا مہذب انسان ہوں ۔ میں سائنس اور تکنالوجی کی ترقی کے گھوڑے پر سوار ہو کر اکیسویں صدی میں داخل ہو رہا ہوں۔میرے ایک ہاتھ میں ایٹم اور ہائیڈروجن بم ہیں دوسرے میں جراثیم ہتھیار .... میرے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ میں تمہاری اس دنیا کو ہزار بار تباہ کر سکتا ہوں ۔ میرانام چنگیز خان ہے .... ہلاکو خان ہے .... ہٹلر ہے ....ہر دور میں اپنا نام تبدیل کر لیتا ہوں ۔ تم کون ہو .... اس نے پروفیسر رام کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر پرشانت نے کہا ۔ یہ ہمارے سر ہیں .... پروفیسر رام سہائے۔ ہا ہا ہا ....رام ....ہا ہا ہا .... بڑا اچھا نام ہے .... رام سہائے .... پروفیسر رام راجیہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے .... پروفیسر رام سہائے کہیں آپ رام راجیہ کے علمبردار تو نہیں ؟ پروفیسر بہت غور سے مریض کو دیکھ رہے تھے ۔ مریض کے ریمارک سن کر مسکرانے لگے۔ نو.... مسٹر اسٹار پلس .... میں صرف ڈاکٹر ہوں میں مریضوں کا علاج کرتا ہوں ۔ میں کوئی سیاسی لیڈر نہیں ۔ رام راجیہ وغیرہ سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔ پروفیسر .... اگر تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ سچ ہے تو فوری اپنے نام کے ساتھ رام کا لفظ الگ کر لو .... ورنہ کوئی دہشت گرد کوئی مجاہد تمھیں بم سے اڑادے گا۔ یہ کون ہیں ۔ کوئی مولانا .... کوئی مولوی .... اسٹار پلس نے ڈاکٹر رحمٰن کی طرف غور سے دیکھا ۔ یہ اس اسپتال کے سینئر ڈاکٹر ہیں ۔ڈاکٹر رحمٰن .... پروفیسر رام سہائے نے ڈاکٹر رحمٰن کا تعارف کراتے ہوئے کہا ۔ یہ اس ہسپتال کے ایسے ڈاکٹر ہیں جنھوں نے اپنے حسن سلوک سے وحشی مریض کو بھی موم بنا دیا۔ اچھا .... اسٹار پلس نے طنز یہ لہجے میں کہا ۔ اگر واقعی یہ ایسے رحم دل ڈاکٹر ہیں تو پھر انھیں فوری اپنا نام بدل لینا چاہئے اور .... پروفیسر .... اگر ڈاکٹر رحمٰن بُرا نہ مانے تو میرا ایک مشورہ ہے ۔ انھیں فوری اپنی داڑھی کو اپنے سے الگ کردینا چاہئے ورنہ یہ کسی بال ٹھاکرے کی گولی کا نشانہ بن جائےں گے ۔ ڈاکٹر رحمن نے حیرت سے پروفیسر رام کی طرف دیکھا ۔ اور آہستہ سے کہا ۔ پروفیسر .... یہ دیوانہ تو بڑا ہوشیار لگ رہا ہے ۔ ہاں .... بڑا دلچسپ کیس نظر آرہا ہے ۔ تم نے اپنا نام اسٹار پلس بتایا .... یہ نام کس نے تمھیں دیا ہے .... پروفیسر .... یہ نام کسی نے مجھے نہیں دیا ۔ یہ نام میں نے جدید ہتھیاروں کی بین الاقوامی منڈی سے دوایٹم بم کے عوض خریدا ہے ۔ کیوں آپ کو ےہ نام پسند نہیں آیا؟ رام اور رحمان جیسے ناموں سے اب خود رام اور رحمن خود گھبرانے لگے ہیں اس لئے میں نے دو ایٹم بم کے بدلے یہ نام خریدا ہے ۔ کیا آپ کو پسند نہیں آیا ۔ نہیں ہمیں بہت پسند آیا ۔ بہت اچھا نام ہے ۔ کیا تم پڑھے لکھے ہو ....؟ ڈاکٹر رحمان نے سوال کیا ۔ ہا ہا ہا .... کیا میں آپ کو گدھا لگ رہا ہوں ۔ میں نے تاریخ پڑی ہے ۔جغرافیہ پڑھا ہے .... سائنس پڑھی ہے ۔ ایٹمی سائنس پڑھی ہے ۔.... قرآن شریف اور گیتا پڑھی ہے ۔ بائبل اور گرنتھ پڑھاہوں ۔ میں بہت پڑھا لکھا ہوں ۔میں زمین سے آسمان تک کا علم جانتا ہوں۔ اب تو خلاءکے اسرار سے بھی واقف ہورہا ہوں ۔ لیکن ڈاکٹر رحمٰن گدھے پر کتنی ہی کتابیں لاددو پھر بھی وہ گدھا ہی رہتا ہے نا ۔ میں مقدس سائنس ، تاریخ اور جغرافیہ کی سات کتابیں پڑھنے کے باوجود گدھے کا گدھا ہی رہ گیا ہوں اگر یقین نہ ہو تو میرے سر پر سینگ تلاش کر کے دیکھ لو....! ڈاکٹر .... پروفیسر .... تم بتا سکتے ہو کہ تمھارا نام رحمٰن اور رام سہائے کیوں ہے ....؟ تم بتا سکتے ہو کہ تم رحمٰن اور رام پہلے اور انسان بعد میں کیوں ہو .... پروفیسر رام ڈاکٹر رحمٰن تم نے صرف سائنس پڑھی ہے اس لےے تمھیں نہیں معلوم کہ تاریخ کیا ہوتی ہے ۔ تاریخ کے سےنے پر کیسے کیسے بڑے گدھے سوار ہیں ۔ جنھوں نے اپنی تلوار کے ذریعے جغرافےہ بدل دےے۔ ڈاکٹر رحمٰن .... پروفیسر رام .... تاریخ کے سینے پر سوار بڑے بڑے گدھوں نے جغرافیہ بدلنے کے لئے تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کے لئے انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا ۔ انسانوں کی لاشوں کے انبار لگا دیے اور ان انباروں پر کھڑے ہو کر جشن فتح منایا ۔ ڈاکٹر رحمٰن پروفیسر رام .... تاریخ کے سےنے پر سوار ان گدھوں کوکب تک تم سےنے سے لگائے رکھو گے .... تم کسی نہ کسی طرح انسانوں کو قتل کرتے رہوگے ۔ ایک دوسرے سے نفرت کرتے رہوگے ۔ تاریخ کے وہ تمام صفحے پھاڑ دو جن پر جابروں ، ظالموں ، ہلاکوﺅں ، چنگیزوں کے کار نامے درج ہیں ۔ ایک نئی تارخ لکھو .... جس میں انسانوں کا ذکر ہو ....جنھوں نے دنیا کے لئے انسانوں کے لئے .... انسانوں کی بھلائی کے لئے خدمات انجام دیں ۔ ایجادات کیئے ۔ سچ بولنے کے جرم میں پھانسی کے پھندوں پر جھول گئے ۔ امن کی لڑائی میں مارے گئے ۔ جانے میں الو کا پٹھا کیا بکواس کر رہا ہوں ۔ تم بُرا تو نہیں مان رہے ؟بور تو نہیں ہو رہے ؟ سنو.... ڈاکٹر رحمٰن پروفیسر رام .... اگر تم کو میری بربریت دیکھنا ہو تو فلسطین چلے جاﺅ ۔ چیچنیا میں دیکھو کو سو دو اور بوسنیا کی اجتماعی قبروں میں جھانکوں ، کشمےر جاﺅں اور وہاں کی حسین وادیوں میں میری وحشتوں کا نظارہ کرو ۔ میں ایک بین الاقوامی اسلحہ ڈیلر ہوں ۔ میں مریخ میں انسان تھا ۔ ایک پر امن انسان لیکن جب سے کرہ ارض پر آیا ہوں شیطان بن گیا ہوں ۔ میں اسلحہ کے سےنکڑوں کاخانوں کا مالک ہوں ۔ میری مٹھی میں ہزاروں ایٹمی سائنسدان ہیں ۔ میں انھیں تاریخ پڑھاتا ہوں ۔ جغرافیہ پڑھاتا ہوں ۔ قوم اور قومی مفادات کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ ان کے ذہنوں سے محبت کھینچ کر ان کے ذہنوں میں نفرت بھر دیتا ہوں ۔ پھر یہ سائنس دان یہ ماہر حرب اپنی خوشی سے اپنی قوم اور اپنے اپنے ملک کے لئے ایک محب وطن کی طرح کی جدید سے جدید ہتھیاروں کی تیاری میں لگ جاتے ہیں ۔ یہ پھر رحمن اور رام بن جاتے ہیں ۔ ان کی مہارت سے میں کروڑوں روپئے کماتا ہوں ۔ غریب ملک ، بھوکے پیا سے ملک ، اپنے اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مجھ سے ہتھیار خریدنے پر خرچ کر دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر رحمٰن پروفیسر رام .... تم میری باتوں سے بور تو نہیں ہو رہے ہو ؟ نہیں مسٹر اسٹار پلس ۔ ہم ہر روز ہی ایسی باتیں ایسے لیکچر سنتے رہتے ہیں ۔ ہم بالکل بور نہیں ہو رہے ۔ ڈاکٹر رحمٰن نے ہنستے ہوئے کہا ۔ مسٹر اسٹار پلس ۔ کیا تم اپنے ماں باپ عزیز رشتہ دار کے نام بتا سکتے ہو۔ پروفیسر رام نے پاگل سے سوال کیا ۔ ماں باپ .... عزیز رشتے .... پاگل نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔ کیا کروگے .... ماں باپ عزیز رشتے داروں کے نام جان کر ۔ لیکن چوں کہ تم نے پوچھا ہے لہذا بتا دیتا ہوں .... میرے باپ کا نام نفرت خان ہے ۔ میری ماں کا نام شریمتی دہشت کماری ہے ۔ میں نفرت خان اور دہشت کماری کے ملاپ سے پیدا ہوا ہوں ۔ میں بیسویں صدی کا مہذب انسان ہوں ۔ میں ایٹمی ہتھیاروں کے گھوڑے پر سوار ہو کر اکیسویں صدی کا مہذب انسان ہوں ۔ میں ایٹمی ہتھیاروں کے گھوڑے پر سوار ہو کر اکیسویں صدی میں داخل ہو رہا ہو ں۔ تم نے کسی گھوڑے پر کسی گدھے کو سواری کرتے دیکھاہے ۔ نہیں دیکھا ہوگا تو مجھے دیکھو ۔ میری طرف دیکھوں .... ڈاکٹر رحمان .... پروفیسر رام ۔ تم برسوں سے پاگلوں کا علاج کر رہے ہو ۔ لیکن تم نے کبھی سوچا ہے کہ لوگ پاگل کیوں ہوتے ہیں ؟ نہیں سوچا ہوگا۔ کیوں کہ تمھارے سلیبس میں یہ آئٹم ہی موجود نہیں ! تم کو صرف پاگلوں کا علاج کرنا سکھایا گیا ہے .... لوگ پاگل کیوں ہوں تے ہیں اس کے بارے میں تمھیں کچھ نہیں بتایا گیا نہ پڑھایا گیا ۔ لہذا تم بے قصور ہو ۔ صرف علاج کرو.... سنو .... دنیا میں اتنا غلہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان پیٹ بھر کر روٹی کھا سکتاہے لیکن دنیا کی دوتہائی سے زیادہ آبادی کو ایک وقت بھی کھانا نصیب نہیں ہوتا اور لاکھوں ٹن گندم سمندر میں اس لےے بہادیا جاتا ہے یا جلا دیاجاتا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں گندم کی قیمت مستحکم رہے ۔ دنیا میں اتنا کپڑا پیدا ہوتا ہے کہ ہر آدمی کو لباس مہیا ہوسکتاہے ۔ لیکن دنیا کی آدھی آبادی پھٹے پرانے کپڑوں پر گزارہ کرتی ہے کہ ان کے پاس کپڑا خریدنے کے لئے پیسہ نہیں ۔ ہر روز دنیا میں ہزاروں لوگ ہسپتالوں کے سامنے دواﺅں کے لئے تڑپ تڑپ کر مرجاتے ہےں کہ دوا خریدنے کے لئے ان کی جیب میں روپیہ نہیں دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تعلیم سے محروم ہے اس لے کہ کتابیں خریدنے اسکول کی فیس دینے کے لئے ان کی پاس پیسہ نہیں دنیا میں اتنی دولت موجود ہے کہ اگر اس کی منصفانہ تقسیم کی جائے تو ہر آدمی مالا مال ہوسکتا ہے .... غریب ممالک اگر ہتھیار خریدنا چھوڑ دیں تو ان ملکوں میں ایک غریب بھی نظر نہیں آئے گا ۔ لیکن ہتھیار خریدنا اس لئے ضروری ہے کہ ملکی سلامتی کا دار و مدار فوجی طاقت اور جدید ہتھیار کے ذخیروں پر ہے .... بیلنس پاور کی اصطلاح تو تم نے سنی ہوگی اور یہ سب اس لئے ہے کہ ۔ اچھا .... ڈاکٹر رحمٰن نے بڑے پیار سے کہا ۔ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ درست ہے تم بڑی اچھی باتیں کر رہے ہو ۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ تمہیں سب سے پہلے علاج کی دواءکی ضرورت ہے .... کیا تم اپنا علاج کرانا پسند نہیں کر وگے ؟ ڈاکٹر رحمٰن ۔ اگر تم برانہ مانو تو ایک بات کہوں ؟ نہیں نہیں ۔ ہم کسی مریض کی بات کا برا نہیں مانتے ۔ ڈاکٹر رحمٰن نے بڑے اعتماد سے کہا ۔ تو پھر سنو .... علاج کی مجھے ضرورت نہیں .... علاج کی تمہیں ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر رحمان .... یہ بڑا سیریس کیس ہے ۔ پروفسر رام سہائے نے کہا ۔ اس کی تھارواسٹیڈی کی ضرورت ہے ۔ فی الوقت اسے وبلیم ٹین انجکشن لگوا دو .... تاکہ اسے ذہنی سکون مل سکے ۔ یہ سیریس ہی نہیں بڑا کیمپلیکیٹڈ کیس بھی نظر آتاہے ۔ڈاکٹر رحمان نے پروفیسر رام سہائے کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ۔ ہا ہا ہا .... کیمپلیکیٹڈ سیریس کیس ۔پاگل نے ان کی باتیں سن کر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا .... ڈاکٹر رحمان پروفیسر رام .... مجھے تعجب ہے کہ تم نے اب تک ایک دوسرے کا گلہ کیوں نہیںکاٹا ۔ مجھے تمھارا کیس بڑ سیریس بڑا کمپلکیٹڈ نظر آتا ہے ۔ میں آج رات تمھارے کیس کی اسٹڈی کروں گا ۔ مریخ پر جا کر بھی اسٹڈی کروں گا ۔ خلاءمیں بیٹھ کہ بھی اسٹڈی کروں گا ۔ تمھارا کیس بہت کمپلکیٹڈ ہے ۔ رحمن اور رام برسوں سے کیوں ساتھ ساتھ کام کر رہے ہیں ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کیوں نہیں ۔ یہ ایک دوسرے کا خون کیوں نہیں بہاتے ۔ ہا ہا ہا .... یہ بڑا کمپلکٹڈکیس لگ رہا ہے ۔ ڈاکٹر پرشانت نے گےٹ کھولا ۔ دووارڈ بوائز کی مدد سے پاگل کو انجکشن لگا دیا ۔ اس کی آواز کے قہقہے آہستہ آہستہ خراٹوں میں بدلتے گئے ۔ رحمن اور رام ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے اپنے آفس کی طرف چلے گئے ۔ تحریر: ظہیر اختر بیدری
__________________
![]() |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (19-02-11) |
![]() |
| Tags |
| ہندو, پاکستان, پاگل, پسند, قرآن, لوگ, نفرت, نظر, موم, ماں, محبت, معلوم, آبادی, آج, آدمی, انسان, بھائی, تلاش, تعلیم, جھوٹ, دیکھو, داڑھی, راستہ, سائنس, علی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|