واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




پردے جو نفرتوں کے تھے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-05-11, 05:56 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پردے جو نفرتوں کے تھے

پردے جو نفرتوں کے تھے

ہارمونیم کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا میٹھا سر جنم جنم سے ان دیکھی مشتاق انگلیوں کا منتظر تھا— انگلیاں جوبولتی ہو ، انگلیاں جو دیکھتی ہو ، ا نگلیاں جو ہنستی ہو ، انگلیاں جو روتی ہو —انگلیاں جو ڈھولک کی تھاپ ، سارنگی کے سر اور بانسری کی لے کے ساتھ ہارمونیم کے اس میٹھے سر کو کچھ اس طرح سے ملاد ے کہ ایک ا یسا سنگیت جنم لے جس کی ہر تان ایک دیپک ہو -
مگر — بادل گزرتے رہے ، سورج ڈوبتا ابھرتا رہا اور موسم بدلتے رہے— سارنگی ہارمونیم کے میٹھے سر کے لیے ترستی رہی ، بانسری کی لے ڈھولک کی تھاپ کے انتظار میں روتی رہی —ہارمونیم کا سچا سر کہیں کھو گیا تھا – سنگیت بنا جنم لیے مر رہا تھا-
با لاخر تھک ہار کر اک رات کے پچھلے پہر کچھ انگلیاں ہارمونیم کے پردوں پر سر سرائی – ہارمونیم کے سوئے ہوئے میٹھے سر نے نیند کی آغوش میں کروٹ لی اور پھر دھیمے سے ڈھولک کی تھاپ کے کان میں کچھ ایسی بات کہی کہ ڈھولک کی تھاپ اک دم شرما سی گئی اور پھر بانسری کی لے کے ساتھ کسی ناچتی ناگن کی طرح بل کھا کر اٹھی -
مگر اس سے پہلے کہ سنگیت کی جل ترنگ فضائوں میں گنگنا تی ، ہارمونیم کا میٹھا سر معصوم روتے ہوئے بچوں کی آوازوں میں کراہنے لگا – ڈھولک کی تھاپ مائوں کے سینے کوٹتے ہوئے بے ہنگم شور میں بد لنے لگی- سارنگی سے نکلتے ہوئے سر ہوائی جہازوں کی بے سری چنگاڑتی ہوئی آوازوں سے کانپنے لگے – بانسری کی لے روتے ہوئے گید ڑوں کی آوازوں میں ڈھلنے لگی – سنگیت نوحہ بننے لگا- ہر طرف دھواں دھواں ہونے لگا — سر رورہا تھا ا ور سنگیت مر رہا تھا-
اور پھر سر نے روتے ہوئے ان مشتاق ا نگلیوں کو دیکھا جو ہارمونیم پر ناچ رہی تھیں – انگلیاں — جو خون میں ڈوبی ہوئی تھی-انگلیاں جو درد کے قصے باٹتی تھی – انگلیاں جو زندگیوں میں عذاب بن کر ناچتی تھی- انگلیاں جو عزتیں بھمبھوڑتی تھی- ا نگلیاں جو گولیاں چلاتی تھی- انگلیاں جو بم گراتی تھی – انگلیاں جو آشیانے جلاتی تھی- انگلیاں جو زیست کے نوالے بناتی تھی – انگلیاں جو خون چاٹتی تھی — انگلیاں جو خون میں ڈوبی ہوئی تھی — انگلیاں جو خون میں ڈوبی ہوئی تھی-
اور پھر تھک ہار کر ڈھولک نے ہارمونیم کے سر کا ساتھ چھوڑ دیا – سارنگی روتے روتے سو گئی – سر پھر سے ہارمونیم کے پردوں میں چھپ گیا- اس چاندنی رات کے پچھلے پہر ہر سو موت کی سی خاموشی تھی- –کچھ لمحوں کے بعد ہارمونیم پر جمی انگلیاں د ھیمے سے سر سرائی اور آ ہستگی سے ہارمونیم کے پردوں کو تکنے لگی— پردے— جو نفرتوں کے تھے۔

مصنف: ڈاکٹربلند اِقبال
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (31-05-11), ایس اے نقوی (31-05-11), سحر بٹ (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 02:55 PM   #2
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,015
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ زارا جواب سوچ کر دیتا ہوں
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
سحر بٹ (31-05-11)
پرانا 31-05-11, 04:18 PM   #3
Senior Member
 
سحر بٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 255
کمائي: 2,733
شکریہ: 873
137 مراسلہ میں 244 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شیئرنگ کا شکریہ بہنا
سحر بٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
سحر بٹ کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 31-05-11, 04:27 PM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ایس اے نقوی مراسلہ دیکھیں
شکریہ زارا جواب سوچ کر دیتا ہوں
جواب کا اِنتظاررہے گا انجم بھائی۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر بٹ مراسلہ دیکھیں
شیئرنگ کا شکریہ بہنا
شُکریہ سحرسسٹر۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
کھو, کان, گئی, پہلے, لگا, لے, لمحوں, چھوڑ, نیند, موت, موسم, مر, مشتاق, انگلیاں, بے, بچوں, بننے, بدلتے, خون, دیکھا, رات, زیست, سورج, شور, عذاب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رشتوں کی تھکن زارا اردو کہانیاں 1 10-04-11 10:46 AM
چین کا طیارہ تباہ ، 96 افرد سوار تھے ، ہلاکتوں کا خدشہ جاویداسد خبریں 2 24-08-10 11:56 PM
::::::: عید اور نعمتوں کا شکر ::::::: اللہ کی نعمتوں پر شکر اس طرح تو نہیں کیا جاتا ::::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 1 15-09-09 11:16 AM
ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 12:35 PM
جسٹس افتخار کرپٹ تھے ، بعض جج دوسرے ریاستی ستونوں سے ٹکرارہے تھے۔۔۔ مشرف محمدعدنان خبریں 0 12-11-07 09:58 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger