|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہارمونیم کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا میٹھا سر جنم جنم سے ان دیکھی مشتاق انگلیوں کا منتظر تھا— انگلیاں جوبولتی ہو ، انگلیاں جو دیکھتی ہو ، ا نگلیاں جو ہنستی ہو ، انگلیاں جو روتی ہو —انگلیاں جو ڈھولک کی تھاپ ، سارنگی کے سر اور بانسری کی لے کے ساتھ ہارمونیم کے اس میٹھے سر کو کچھ اس طرح سے ملاد ے کہ ایک ا یسا سنگیت جنم لے جس کی ہر تان ایک دیپک ہو -
مگر — بادل گزرتے رہے ، سورج ڈوبتا ابھرتا رہا اور موسم بدلتے رہے— سارنگی ہارمونیم کے میٹھے سر کے لیے ترستی رہی ، بانسری کی لے ڈھولک کی تھاپ کے انتظار میں روتی رہی —ہارمونیم کا سچا سر کہیں کھو گیا تھا – سنگیت بنا جنم لیے مر رہا تھا- با لاخر تھک ہار کر اک رات کے پچھلے پہر کچھ انگلیاں ہارمونیم کے پردوں پر سر سرائی – ہارمونیم کے سوئے ہوئے میٹھے سر نے نیند کی آغوش میں کروٹ لی اور پھر دھیمے سے ڈھولک کی تھاپ کے کان میں کچھ ایسی بات کہی کہ ڈھولک کی تھاپ اک دم شرما سی گئی اور پھر بانسری کی لے کے ساتھ کسی ناچتی ناگن کی طرح بل کھا کر اٹھی - مگر اس سے پہلے کہ سنگیت کی جل ترنگ فضائوں میں گنگنا تی ، ہارمونیم کا میٹھا سر معصوم روتے ہوئے بچوں کی آوازوں میں کراہنے لگا – ڈھولک کی تھاپ مائوں کے سینے کوٹتے ہوئے بے ہنگم شور میں بد لنے لگی- سارنگی سے نکلتے ہوئے سر ہوائی جہازوں کی بے سری چنگاڑتی ہوئی آوازوں سے کانپنے لگے – بانسری کی لے روتے ہوئے گید ڑوں کی آوازوں میں ڈھلنے لگی – سنگیت نوحہ بننے لگا- ہر طرف دھواں دھواں ہونے لگا — سر رورہا تھا ا ور سنگیت مر رہا تھا- اور پھر سر نے روتے ہوئے ان مشتاق ا نگلیوں کو دیکھا جو ہارمونیم پر ناچ رہی تھیں – انگلیاں — جو خون میں ڈوبی ہوئی تھی-انگلیاں جو درد کے قصے باٹتی تھی – انگلیاں جو زندگیوں میں عذاب بن کر ناچتی تھی- انگلیاں جو عزتیں بھمبھوڑتی تھی- ا نگلیاں جو گولیاں چلاتی تھی- انگلیاں جو بم گراتی تھی – انگلیاں جو آشیانے جلاتی تھی- انگلیاں جو زیست کے نوالے بناتی تھی – انگلیاں جو خون چاٹتی تھی — انگلیاں جو خون میں ڈوبی ہوئی تھی — انگلیاں جو خون میں ڈوبی ہوئی تھی- اور پھر تھک ہار کر ڈھولک نے ہارمونیم کے سر کا ساتھ چھوڑ دیا – سارنگی روتے روتے سو گئی – سر پھر سے ہارمونیم کے پردوں میں چھپ گیا- اس چاندنی رات کے پچھلے پہر ہر سو موت کی سی خاموشی تھی- –کچھ لمحوں کے بعد ہارمونیم پر جمی انگلیاں د ھیمے سے سر سرائی اور آ ہستگی سے ہارمونیم کے پردوں کو تکنے لگی— پردے— جو نفرتوں کے تھے۔ مصنف: ڈاکٹربلند اِقبال
__________________
![]() |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 255
کمائي: 2,733
شکریہ: 873
137 مراسلہ میں 244 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شیئرنگ کا شکریہ بہنا
|
|
|
|
| سحر بٹ کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (31-05-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,979
شکریہ: 1,151
6,260 مراسلہ میں 14,127 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (31-05-11) |
![]() |
| Tags |
| کھو, کان, گئی, پہلے, لگا, لے, لمحوں, چھوڑ, نیند, موت, موسم, مر, مشتاق, انگلیاں, بے, بچوں, بننے, بدلتے, خون, دیکھا, رات, زیست, سورج, شور, عذاب |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رشتوں کی تھکن | زارا | اردو کہانیاں | 1 | 10-04-11 10:46 AM |
| چین کا طیارہ تباہ ، 96 افرد سوار تھے ، ہلاکتوں کا خدشہ | جاویداسد | خبریں | 2 | 24-08-10 11:56 PM |
| ::::::: عید اور نعمتوں کا شکر ::::::: اللہ کی نعمتوں پر شکر اس طرح تو نہیں کیا جاتا ::::::: | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 1 | 15-09-09 11:16 AM |
| ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 05-01-08 12:35 PM |
| جسٹس افتخار کرپٹ تھے ، بعض جج دوسرے ریاستی ستونوں سے ٹکرارہے تھے۔۔۔ مشرف | محمدعدنان | خبریں | 0 | 12-11-07 09:58 AM |