|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
چارہ گر آج ستاروں کي قسم کھا کے بتا
کس نے انسانوں کو تبسم کے لئے ترساينذر کرتا رہا ميں پھول سے جذبات اسے جس نے پتھرکے کھلونوں سے مجھے بہلادينرس تيز تيز قدموں سے چلتي ھوئي آئي، بچوں والے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا، کمرے ميں اس وقت کوئي نہيں تھا، پھر اس نے مزيد تسلي کي خاطر گردن باہر نکال کرسہمي سہمي نظروں سے دور دور تک ديکھا، بر آمدے بالکل خالي تھے، کوئياس طرف نہيں آرہا تھا، اور پانچ دس منٹ تک کسي کے آنے کا امکان بھي نہ تھا، اس کا دل يکبار گي تيزي سے دھڑکا، جو سودا اس نے کرليا تھا اس پر اس کے ضمير نے آخري بار لرزش کي۔ دھوکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اذيت ناک فريب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسےسنگدل عورت مامتا کو دھوکا دينا چاھتي ھے، اس کي کوکھ کي مان کوک رہي ہے، اس کي محبت کو فريب دے رھي ہے، اس لئے وھ تجھ پر اعتماد کرتي ھے، آخر تجھے اس سے کيا مل جائے گا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانچ ہزار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رقم کيش سہي ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر تو کب تک اس رقم کے سہارے جيتي رھے گي۔ ايک دن يہ رقم ختم ھوجائے گي، ليکن گذرا ہوا وقت ہاتھ نھيں آئے گا۔ ضميرکي خلش زندگي کو زہر آلودہ کردے گي، اور پھر ايک دن خدا کے روبرو يہ حساب تجھے چکانا ھوگا۔ سوئے ھوئے بچوں ميں سے ايک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نومولد ھلکي سي آواز ميں آغاؤں کرکے رويا، نرس چونک گئي، سوچنے کا وقت بالکل نہيں تھا، اور اب تو سوچنا ہي بے کار تھا، اس نے اس کا فيصلہ کل ہي کر ليا تھا، دستخط کرکے آدھي رقم وصول کرلي تھي، اور اب پلٹ جانا کس قدر مشکل تھا، جب اس نے رقم کا مصرف بھي تلاش کرليا تھا۔ يہ تو ايک بازي ھے، زندگي ميں لوگ ھزاروں بازياں لگاتے ھيں، بازياں کھيلنے والوں مدد کرنا يا اشارے سے انہيں ہات جيت کے متعلق بتا دينا کوئي گناہ نہيں۔۔۔۔۔۔۔۔ بچہ پھر بڑي تيزي سے رونے لگا تھا، نرس دوڑ کر اس کي طرف گئي۔ نمبر9 رورہا تھا، اور مريم کے کمرے ميں بير سٹر صاحب اپني بچي کو ديکھنے کے لئے آئے بيٹھے تھے، اسے جلد ہي بچي کو لے کر ان کے کمرے ميں پہنچنا تھا، ايکبار پھر اس نے تسلي کي خاطر جالي والا دروازہ کھول کر باھر جھانکا، باھر بر آمدھ سنسان پڑا تھا، اس نے جلدي سے بچي کے گلے ميں سے 9 نمبر کي چٹ نکالي، اور دوڑ کر تيسري لائن ميں گئي، وہاں ايک کومل سے پياري سي بچي کا ٹ ميں بے سدہر سو رہي تھي، اسکے گلے ميں 6 نمبر کي چٹ پڑي تھي، جو نرس نے پھرتي سے اتاري اور اس کي جگہ 9نمبر کي چٹ اس سوئي ھوئي بچي کے گلے ميں ڈال دي، کانپتے ہاتھوں سے6نمبر کي چٹ لے کر لوٹي اور پہلي بچي کے گلي ميں ڈال دي، نچي ابھي تک ھلکے ھلکے بسور ہي تھي، ان کے گلے ميں پڑے ھوئے نمبروں کو بدل دينے کے بعد اب اسے دونوں بچيوں کي جگہيں بھي تبديل کرني تھيں،اور اس کام ميں بھي اتني ھي پھرتي کي ضرورت تھي، اس نے احتياطا دروازے ميں سے پھر جھانکا اور تيزي سے دونوں بچيوں کي جگہ بدل دي، جب اس نے لپک کر6نمبر کو اٹھايا تو بچي ڈر گئي، اور زور زور سے رونے لگي۔ آئي مصيبت۔۔۔۔۔۔نرس بوکھلا گئي، اس نے جلدي سے اسے 9نمبر کے پلنگ پر لٹا ديا،
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اور تھپک تھپک کر اسے چمکارنے لگي، بچي نے چونک کر آنکھيں کھول ديں، لمبي لمبي باريک اور سياہ آنکھيں، جن ميں صبح کے تارے جيسي مقدس چمک تھي اور شبنم ايسے چھوٹے چھوٹے آنسوؤں کے قطرے اس کي آنکھوں کے کناروں پر ٹھٹھک گئے تھے، وہ حيرت سے ٹکر ٹکر سفيد سفيد کپڑوں والي کالي کلوٹي نرسکو ديکھے جارھي تھي، جس کا سياہ رنگ اڑ کر کچھ کانسي کا سا ھوگيا تھا اور جو خشک ھونٹوں پر زبان پھيرتي ھوئي اسے تھپکتي تھي، گاہ نظر اٹھا کر دروازے کي طرف ديکھ ليتي تھي، بچي کے يوں نظر باندھ کرديکھنے سے نرس سٹپٹا سي گئي۔
شي ۔۔۔۔۔۔۔شي بے بي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے بچي کي ٹھوري ہلا کر اسے چمکا ديا۔ بچي ٹس سے مس نہ ھوئي، لگا تار اسے ديکھتي رھي، جيسے کہہ رھي ھو۔۔۔۔۔؟ تم فرشتہ ھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم انسانت کي محافظ ھو۔۔۔۔۔۔تم ھمارے تخليق کي ضامن ہو۔۔۔۔۔۔۔۔انساني وجود کي بقا تمہاري بھي ضامن ہے، مجھے بتاؤ يہ تماشا تم نے کيوں کيا؟۔۔۔۔۔۔۔ مامتا کي آنکھ ميں دھول جھونکنے کي کوشش کيوں کي؟۔۔۔۔۔۔ايک حقدار کو اس کي ماں کے دودہ کي مقدس دہاروں سے محروم کيوں کيا؟ ۔۔۔۔۔۔۔کيا تم نہيں جانتي ھو کہ بچہ ماں کے دودہ کي خوشبو سے اپني ماں کو پہچانتا ہے۔ اور پھر معطر دودھ کي يہ لذيذ خوشبو کہاں چھپتي رہ سکتي؟ مجھے تم اتنا بتاؤ، دنيا ميں آتے ہي ميرے ساتھ يہ اتنا بڑا ظلم تم نے کيوں کيا ہے؟۔۔۔۔۔اگر يہي تمہاري دنيا ہے۔۔۔۔۔اور يہي تمہاري سنگدل دنيا کا دستور ہے تو مجہھے واپس ميري دنيا ميں بہيج دو۔۔۔۔اور ابھي رستہ دور نہيں ۔۔۔۔۔۔ابھي شام بھي نہيں ھوئي ۔۔۔۔۔اور ميرا تعلق اس دنيا سے ٹوٹا بھي نہيں ۔۔۔۔۔۔۔۔اوربچي يک ٹک ديکھتے اچانک بلک پڑي، پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگي۔ نرس نے جلدي سےاسے گود ميں اٹھاليا، نومولد سي بچي اس طرح تڑپ تڑپ کر رو رہي تھي، جيسے کسي نے اسے سوئي چبھودي ھو۔ ہش۔۔۔۔۔نہني گڑيا رويا نہيں کرتے۔۔۔۔۔نرس سے دونوں ہاتھوں پر اٹھائے بہلانے کي کوشش کررہي تھي، نرس کے دل ميں ايک انجانا سا درد اٹھ رہا تھا، ايک گہري ٹيس۔۔۔ضمير کي طرف سے بھيجي ھوئي ساري لعنت ملامت اس کے دل پر ہتھوڑوں کي مانند لگ رہي تھي، اس وقت ايکدم وہ کھلاڑي سے عورت بن گئي، اس نے في الفور يہ فيصلہ کيا کہ بچيوں کو ايک دوسرے سے بدل کر اس نے جو انسانيت سوز حرکت کي ہے،اس کي فورا تلافي کے طور پر وہ انہيں واپس اپني اصل جگہوں پر لٹا دے گي، اسے معاملے ميں کسي کي مدد کرنے کي ضرورت نہيں، بچي اس کے بازؤں ميں ابھي تک سسک رہي تھي، اس کے رونے کي آواز سن کر کئي بچے بسور نے لگے تھے، نھنے منے۔۔۔۔۔۔فرشتوں جيسے۔۔۔۔۔جنہوں نے اس کے ساتھ اسي دن۔۔۔۔۔يا آگے پيچھے جنم ليا تھا، يہ سب سرخ و سفيد۔۔۔۔۔ادھوري شکلوں والے اس دنيا کے نئے باسي تھے، ماں کي سکھ بھري ۔۔۔۔نرم اور ٹھنڈي کوکھ سے نکل کر ۔۔۔۔۔ھسپتال کے اس بڑے کمرے ميں آگئے تھے، ايک دوسرے کے وجود سے بے خبر ۔۔۔۔مٹھياں بھينچے ھوئے پڑے سو رھے تھے۔۔۔۔۔انہيں کيا خبر کہ اس اسپتال سے باہر ايک بہت بڑا جہان ہے، جو ماں کي کوکھ سے بڑا مختلف ہے، وہاں تيز دہوپ ہے، دشوار راہيں ہيں۔۔۔۔اور نرس کي طرح کے ضمير فروش لوگ۔۔۔چارہ گر آج ستاروں کي |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
قسم کھا کے بتا
کس نے انسانوں کو تبسم کے لئے ترساينذر کرتا رہا ميں پھول سے جذبات اسے جس نے پتھرکے کھلونوں سے مجھے بہلادياس نے اپنے دل ميں فيلصہ کرليا تھا مگر آدھي رات کو بچي بلک بلک کر روئي اور اس کا تازہ تازہ دودہ ممتا کي دہائي ديتا ہوابہنے لگا تو اسے بچي کو دادہ پلاتے ہي بني۔۔۔۔صبح تک بچي کي طبعيت خراب ھوچکي تھي، ڈاکڑ نے بتايا کہ اس کو ماں کا دودہ محالف پڑا ہے، عجيب بات ہے، ماں جو بچے کو نو مہينے پيٹ ميں رکھ کر اپنے گوشت پوست سے جنم ديتي ہے، بعض اوقات اس کا اپنا دودہ زہر بن کر بچے کو ڈسنے لگتا ہے، اس بچي کو اسے ہر حالت ميں زندہ رکھنا تھا، چناچہ ڈاکڑ کي ھدايت پر اس نے بچي کوخشک دودہ دينا شروع کرديا۔ گيارھويں دن ڈاکڑ نے اسے گھر جانے کي اجازت دے دي، اس سے ايک پہلے فاضلي اسے لينے کے لئے آگيا تھا، اتنے دن اسے چھٹی نہ مل سکي تھي، اپني خوبصورت سي بچي کو ديکہ کر وھ بہت خوش تھا اور رنجيدہ بھي ۔۔۔۔بچي اس کي تھي۔۔۔۔اس کي رضا سے پيدا ھوئي تھي۔۔۔مگر کاش يہ شادي کے بعد پيدا ھوتي، شادي سے پہلے اس کي بے تاب امنگوں کا اعلان بن کر نہ چلي آتي ، مگر يہاں اسے نيلم کو کن جانتا تھا، سب انہيں مياں بيوي سمجھتے تھے، اگر اب مياں بيوي نہيں ھيں تو کيا ھوا۔۔۔۔۔؟اگلے مہينے تو انہوں نے باقاعدہ طور پر شادي کرليني تھي، سو اس کے دل کا سارا رنج جاتا رہا۔ کيا سوچ رہے ھو۔۔۔۔۔۔؟نيلم نے اسے بچي کو اتني محويت سے گود ميں لتائے ھوئے ديکھا کر کہا، سوچ رہا ھوں کتني پياري بچي ہے، بالکل تمہاري طرح ۔۔۔۔۔ بالکل ميري طرح ۔۔۔۔۔؟ نيلم کي آنکھوں ميں زہر آلودہ تنز ابھرا کتني غلط بات ہے تمہاري پہچان۔۔۔۔۔بالکل ميري طرح ۔۔۔۔نيلم نے اس کي نقل اتاري اور پھر قہقہہ لگا کر ہنسنے لگي، مرد اپنے پہلے بچے کي تعريف اسي انداز ميں کرتا ہے، گويا وہ بچے کو نہيں ماں کو سراھ رہا ہو ہا پھر اسے ايسے اور کارنامے انجام دينے پر اکسا رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔ ابھي منيسے تو ہے، بڑی ہوگي تو ديکھ لينا بالکل تمہاري طرح ھوجائے گي۔ بڑي ہوکر ۔۔۔۔۔کون جانے کس طرح کي ھوگي۔۔۔۔؟يہ کہتے کہتے نيلم کي آنکھيں دور مستقبل کي چرف اٹھ گئيں، خدا کرے کہ ميري طرح ہي ہو جائے، اس کي عيار آنکھوں ميں ايک خطرناک ارادہ تير رہا تھا، اور اس ارادے کے ارد گرد عزم راسخ اور انتقام کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ تم نے اس کا کوئي نام سوچا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ فاضلي نے نيلم کو يوں سوچ ميں گم ديکھ کر پوچھا۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ہوں ۔۔۔۔اوں۔۔۔۔نيلم ايک ٹھنڈي سانس لے کر جيسے لوٹ آئي، نام۔۔۔۔۔اس کا نہيں ۔۔۔۔۔۔ابھي سے نام سوچنے کي جلدي کيا ہے، گھر چل کر ديکھا جائے گا۔
تمہيں نہيں معلوم نيلم چھٹہے دن بچے کا نام ضرور رکھ لينا چاہئيے، سنا ہے کہ چھٹے دن آسمان پر اس کي قسمت کا فيصلہ ہوجاتا ہے،اور کوئي مبارک گہڑي ديکھ کر کوئي مبارک نام رکھنا چاہئيے۔ تو پھر اس کي قسمت کا فيصلہ تو بہت دنوں سے ہوگيا۔۔۔؟يہ کہہ کر نيلم نے بڑي ذو معني نظروں سے فاضلي کو ديکھا، ان نظروں ميں فتح مندي کے سارے عکس جھلملا رہے تھے، مامتا کا کہيں نام نہ تھا، فاضلي اس کے ايسے کڑوے اور زود معني فقرے سن کر بڑا گھبراگيا، اس کا خيال تھاشايد نيلم کو يقين نہيں آرہا ميں يہاں سے جاتے ہي اس کے ساتھ نکاح کرلوں گا، غالبا اس لے وہ بچي ميں زيادہ دلچسپي نہيں لے رہي اور مجھے زک دينے کو ايسے جملے کہہ رہي ہے۔ اچھا توميں نے ايک نام سوچا ہے، تمہيں پسند آئے تو رکھ لينا۔۔۔۔۔۔۔پھر بات بدل کر اسے خوشگورار موضوع پر لے آئي۔ بڑي جلدي ہے تمہيں اپني لحت جگر کا نام رکھنے کي۔۔۔۔۔؟فاضلي ھنسنے لگا۔ اچھا تو بتاؤ کونسا نام ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ فاضلي محجوب جو ھوتے ھيں بولا اس کانام شبنم رکھ ديں، چھوٹا سا۔۔۔۔۔۔پيارا سانام ہے اور تمہارے نام سے ملتا جلتا بھي ہے۔ اچھا تو گيارہ دن چھٹي نہ ملنے پر کيا تم يہ ہي سوچتے رہے ہوں، يہ کہہ کر نيلم نے ايک بھر پور مگر کھوکھلا قہقہہ لگايا اور جب ہنستے ہنستے اس کي آنکھيں بھيگ گئيں، تو فاضلي کے شرمندہ چہرے کو ديکھ کر بولي۔ ميں کب انکار کررھي ھوں۔۔۔۔۔۔رکھ لو يہي نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام رکھ کر تم اپني حسرتيں پوري کرتے ہو۔۔۔۔۔جب ميري باري آئے گي تو ميں اپني ساري حسرتيں نکال لوں گي۔ اسي دن سے شبنم کي مہر اس مظلوم اور معصوم بچي کي پيشاني پر لگ گئي، اور اسي روز يہ چھوٹا سا خاندان ۔۔۔۔جو بظاہر ايک دوسرے سے وابستہ تھا، مگر باطني طور پر کسي کا سلسلہ کسي سے نہ ملتا تھا، اپنے قصبہ کي طرف روانہ ہوگيا۔ بيرسٹر فصيح الزماں نے ايک کھاتے پيتے گھرانے ميں پرورش پائي تھي، تعليم کے اخراجات والدين بڑي خوش اسلوبي سے برداشت کرتےتھے، ايک دن پڑھتے پڑھتے وہ وکيل بن بيٹھےاور پھر باہر جا کر بار ، ايٹ لاء کي ڈگري لے آئے، ذہانت قابل ديد پائي تھي، اس لئے دنوں ميں انکے گرد ضرورت مندوں کا ہجوم نظر آنے لگا، اور ہجوم کے بيچوں بيچ انہوں نے اپني ايک شاندار سي کوٹھي بنالي تھي، ان کي ڈاتي موٹر تھي اور بڑے ٹھاٹھ سے رہ رہے تھے۔ کوئي نہ کوئي محرومي ۔۔۔۔ايک خلش بن کر ہر انسان کے دل ميں جاگزير رہتي ہے،جو اسے زندگي کے تلخ حقائق کا سامنا کرنے کے قابل بناتي ہے، اگر يہي خلش مٹ جائے تو انسان کو جنت سمجھ کر ھميشہ کے لئے يہاں رہنے کا تمنائي بن بيٹھے، يہي مايوسياں انسان کو دنيا کي حقيقت سے آگاہ کرتي ہيں، اور وہ عام انسان کي مانند جينے کا تہہ کرليتا ہے، پھر کبھي کبھي مايوسياں اسے زندگي سے بيزار کرکے بالکل ناکارہ بناديتي ہيں۔ بيرسٹر فصيح الزمان کي زندگي ميں ايسے ہيايک خلش ضرور تھي، مگر وہ جينے سے بےراز نہيں ہوئے تھےوہ دل کے بڑے اچھے تھے، اور بڑے بااصول آدمي تھے، وہ زندگي کے اصولوں کے بڑے قدر دان تھے، اور ايک بھر پور زندگي گزارنے کے قائل تھے، ان کي شريک حيات ان کي آرزؤں کا ھلکا سا عکس بھي نہ تھي، والدين کي اس پسند کو پہلے تو انہوں نے بحالت مجبوري قبول کيا، بعد ميں وہ اسي سے مانوس ہوگئے تھے، ہر دم بيمار رہنے والي۔۔۔۔۔۔۔۔۔رزد رد ۔۔۔۔۔خاموش اور حساس مريم۔۔۔۔جس کے نقوش بڑے دلکش تھے مگر کوئي نہ کوئي بيماري اسے اپني گرفت ميں لئے رکھتي جس سے اس کے نقوش کبھي ابھر کر اپنا حق وصول نہ کرسکے، زرديوں نے اس کے رنگ کو سنولاديا تھا، اور سياہ حلقوں نے اس کي آنکھوں کي جاذبت کے اوپر لکير پھير دي تھي، اور سب سے بڑي بات يہ کہ اس کي کوکھ ابھي تک بنجر اور ويران تھي، شادي کو بارہ سال ہوگئے تھے، طرح طرح کي بيمارياں ہي اس کا پہيچا نہ چھوڑتي تھيں، بھلا فصيح الزمان کو اولاد کا خيال کيونکر آتا۔۔۔؟اگر آتا بھي تو مريم کے سونے اور بے نور آنکھوں کو ديکھ کر وھ اس ذکر کو تال جاتے،اس معاملئ ميں بڑے متوکل اللہ تھے، يہ جذبہ خدا جانے صرف ہمدردي تھا ياانہيں صيح معنوں ميں مريم سے محبت تھي، البتہ مريم ان پر والہانہ جان چہڑکتي تھي، اسے خدا نے صرف جان چہڑکنے کي ہي ہمت دي تھي، ورنہ کيا کيا اس کا دل تڑپتا کہ وھ جي جان سے فصيح الزمان کي خدمت کرے۔۔۔۔وقت بے قوت ان کے حضور کھڑي رہے۔۔۔۔ان کے لئے نوع بنوع پکوان پکائے۔۔۔ان کي تما ضروريات کا خيال رکھے۔۔۔۔انہيں لجہائے۔۔۔۔وغيرہ وغيرہ۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اور سب سے بڑا ستم يہ تھا کہ وہ مردانہ خوبصورتي کا مکمل نمونہ تھے۔۔۔۔صحت مند۔۔۔باوقار اور خوبرو نوجوان۔۔۔۔۔۔۔جواني کا زمانہاب چپکے چپکے خوابوں ميں شامل ھورہا تھا۔۔۔کہ اچانک خدا نے ان کے ويرانے ميں باد ستر کو بھيجا، جو مرجھائے ھوئے غنچوں اور شگوفوں کو بہار کا پيام دينے لگي، بچے کي آمد کي خوشبو پاکر مريم خود بخود صحت مند ھونے لگي تھي، اور مريم کے ؛لبوں پر جوان مسکراہٹيں ديکھ کر فصيح الزمان اپني کن پٹي کے سفيد بال بھول گئے تھے۔
فصيح الزمان نے پورے نو ماہ مريم کو ہر طرح کا آرام پہيچاياتھا، ان کي بھي يہي تمنا تھي، کہ وھ بخير و عافيت بچے ک وجنم دے کر فارغ ھوجائے، ان کے لئے ايک بچہ ہي کافيتھا، وھ لڑکي ھو يا لڑکا ۔۔۔۔انہيں اس کا بالکل خيال نہيں تھا، بہر حال ان کا عکس لئے۔۔۔۔۔کوئي تو ان کا نام ليوا آئے گا۔۔۔۔ مريم کا کيس بڑا نازک تھا، يہ ڈاکڑوں نے انہيں پہلے ہي بتا ديا تھا، اس لئے وھ بڑے فکر مند تھے، اس دائم الميرض، کم گو اور چپکے چپکے چاہنے والي بيوي کا ساتھ چھوڑنا انہيں کسي صورت بھي گواانہ تھا۔ اس لئے انہوں نے مريم کومناسب وقت پر ہي اسپتال ميں داخل کرواديا تھا، شہر کا يہ سب سے بڑا اسپتال تھا، انہوں نے پرائيوٹ وارڈ ميں کمرہ لے رکھا تھا، جہاں ان کي ايک بہن ، نوکراني اور مريم رھتي تھيں۔ مريم کے ہاں لڑکي پيدا ھونے کي خبر نے انہيں ايک عجيب چرح کي مست دي، خبر نہيں لڑکے کي پيدائش پر کس قسم کي خوشي ھوتي ہے، انہيں تو لڑکي کي پيدائش ۔۔۔۔اور مريم کي خيريت کي خبر سن کر يوں محسوس ھوا جيسے وہ بڑے طوفانوں سے کشتي بچا لائے ھوں۔۔۔۔۔يہ بچي انہيں واقعيبڑي مبارک قدم لگ رہي تھي، کہ ايسے خطرناک کيس کے باوجود ان کي مريم سيح حالت ميں ہے۔ فلورنس جب بچي کو کمبل ميں لپيٹ کر کمرے ميں داخل ھوئي تو فصيح الزمان کے لبوں پر ايک خوبصورت سي مسکراہٹ کھيلنے لگي، لاغر سي مريم کي آنکھوں ميں ان گنت چراغ روشن ھوگئے، وھ اٹھ بيٹھي ايک فاتحانہ اور محبوبان۔۔۔۔۔مسکراہٹ کے ساتھ اس نے فصيح الزمان کو ديکھا، جو فلورنس کے بازؤں ميں سوئي ھوئي بچي کو غور سے ديکھ رھے تھے۔ فلورنس نے اگلے ہي لمحے بچي کو مريم کي گود ميں ڈال ديا۔۔۔۔۔ چارہ گر آج ستاروں کي قسم کھا کے بتا کس نے انسانوں کو تبسم کے لئے ترساينذر کرتا رہا ميں پھول سے جذبات اسے جس نے پتھرکے کھلونوں سے مجھے بہلاديميري تخليق۔۔۔۔۔ميري بچي ۔۔۔۔۔۔۔ميرے جسم کا ايک حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
مريم کا دل ايک نئےاہساس سے دوچار تھا، بچي کو بازؤں ميں ليتےہي وھ دنيا کے سب سے اونچے مينار پر پہنچ گئي، اسے اپنا مرتبہ آج بہت بلند معلوم ھورہا تھا، اس نے تخليق کائنات ميں ہاتھ بٹايا تھا اور ثبوت کے طور پر اس کي گود ميں ايک بچي آگئي تھي، اسے محسوس ہو در حقيقت اب وہ تنہائي ذمہ دار اور مد برعورت بني ہے، وھ ايک ماں ہے۔
ماں۔۔۔۔۔۔دنيا کي ايک اٹل حقيقت۔۔۔۔۔شفقت و محبت کي تصوير۔۔۔۔۔قربانيوں کي آماج گاہ۔۔۔۔۔۔بچے کے مستقبل کي معمار۔۔۔۔۔۔بے لوث اور جاں نثار ہستي، ماح ۔۔۔۔۔کتنا ميٹھا لفظ ہےماں۔۔۔۔۔اس نے اپبي مان کو بار ہاں پکارا تھا مگر يہ تو اب ہي تجربہ ھوا کہ مان بن کر احساسات کس قدر مختلف ھوجاتے ہيں۔۔۔۔۔يہ مختصر سا لفظ اپنے اندر دنيا جہاں کي وسعت اور ہمہ گير رکھتا ہے، اور ساري حقيقتيں اس کے سامنے باطل نظر آتي ہيں، جس اس نے بچي کو گود ميں لٹايا تھا، اس کي يوں محسوس ہو رہا تھا جيسے کوئي اس کے دل پر سفيد سفيد ۔۔۔۔۔گلابي گلابي پھولوں کي بارش کررہا تھا۔ وھ دونوں محويت سے بچي کو ديکھ رھے تھے، شايد بچي ان کے اس طرح ديکھنے سے گھبراگئي تھي، چونک کر اس نے آنکھيں کھول ديں، اور پھر بلکنا شروع کرديا، مريم ايک دم گھبراگئي، اسے بچي کو چپ کرانا نہيں آتا تھا، شايد قدرت اسے سب کچھ سکھا ديتي ليکن فصيح کے سامنے اسئ صرم آگئي ، دونوں اس وقت پحتہ عمر ميں تھے، ليکن دونوں کا تجربہ تو پہلا تھا، مريم سچ مچ نئي نويلي دلہنوں کے طرح شرما رھي تھي۔ اس کو بھوک لگي ہے، فلورنس نے معني خيز نظروں سے مريم کي طرف ديکھا۔ مريم اس کي نظروں کا مطلب پا کر بوکھلا سي گئي، ، اور فصيح الزمان نے مصلحت اس ميں سمجہي کہ ذرا سي دير کو باہر چلے جائيں، انہوں نے سگريٹ سلگا کر منہ ميں رکھا اور اٹھ کر باہر چلے گئے، دھوئيں کے مرغولوں کے ساتھ کئي قسم کي سوچوں نے ان کو گھير ليا، وھ برآمدے کے ايک ستون کے ساتھ ٹيک لگا کر کھڑے ھوگئے۔۔۔۔بچي کو ديکھنے سے پيشتر انہيں بچي کو ديکھنے کا بڑا اشتياق تھا، مگر جب انہوں نے اس کے چہرے پر سے کپڑا ھتايا تو ان کے دل ميں ايسي کوئي گد گدي نہيں ھوئي،کسے پدرانہ شفقت کہتے ھيں، نہ معلوم کيوں۔۔۔۔۔۔۔؟ ان کے خون ميں ہلچل پيدا نہ ھوئي، انہوں نے بچي کا يوں جائزہ ليا جيسے وھ ان کے دل کا ٹکڑا نہيں ہے۔۔۔۔بس ايک نومولود بچي ہے۔۔۔۔۔جس کے آنے سے ان کے گھر ميں ايک فرد کا اضافہ ھوگيا تھا۔ انہيں يہ احساس نہيں کيوں پيدا ہوا۔۔۔۔۔؟وھ يہ سوچ کر شرمندہ ھوئے، يہ بچي ان کي اپني مريم نے تو جنم دي ہے، جس کي آمد کي خبر سن کر انہيں بے انتہا خوشي ھوئي تھي، پھر انہوں نے يہ کہہ کر دل کو تسلي دي، کہ شايد ان کي عمر کا تقاضا ہے ، کہ وہ بچي کي آمد پر عام نوجوانوں کے سے جذبات کا اظہار نہيں کرسکے، يا شايد لاشعوري طور پر وہ لڑکي کي پيدائش کو قبول نہيں کرسکے، رفتہ رفتہ وھ اس سے ضرور مانوس ھوجائيح گے، اور وہ اسے کماحقہ، اتني شفقت و مہبت ديں گے، جتني کي وہ مستحق ھوگي۔ ليکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے، کہ تقدير نے ان کي ايک چھوٹي سي بھول۔۔۔۔۔۔۔معصوم سي لغزش کي انہیں بہت بڑي سزا دينے کي ٹھان لي ہے، اب انہيں کيا معلوم کہ تقدير تو انجان لوگوں کو سبق پڑہانے اور سزا دينے کے بہانے ڈھونڈتي ہے، ادھر کسي کے منہ سے کوئي بات نکلي۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر اس نے اپني متلون مزاجي کا نيا شوشہ چھوڑا۔۔۔۔۔۔۔اور بعض اوقات تو يہ کسي قصور کے بغير ہي لوگوں کو وھ تکني کا ناچ نچاتي ہے، کہ اس کي ستم ظرفيوں کا قائل ھونا ہي پڑا ہے۔ فصيح الزمان کا صرف اتنا ہي تو قصور تھا، کہ کچھ عرصہ پہلے وہ چلتے چلتے بھٹک گئے تھے اور ايک ايسي راھ پر نکل پڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔جہاں ان کي منزل کي حديں عمودي ھوگئي تھيں،حقيقت کا انکشاف ھوتے ہي وہ الٹے پاؤں لوٹ آئے تھے، پھر ان کے لئے يہ سزا کيوں تجويز کي جارہي تھي؟ اس بات سے کون باخبر تھا؟۔۔۔۔۔۔۔ يہ منصوبہ تو صرف نيلم کے غليظ دماغ ميں پروان چڑھا ۔۔۔۔۔۔سراج نے اس کو تقويت دي تھي۔۔۔۔اور يوں نيلم بيگم اپنے انتقامي منصوبے کي پہلي کامياب کوشش ميں سرخرو ھوگئي تھي۔ نرس نے باہر آکر فصيح الزمان کواندر جانے کا اشارہ کيا۔۔۔۔۔۔کرفيو ختم اب آپ اپني نور چشم کے پاس جاسکتے ھيں۔۔۔۔فلورنس ھنستي ھوئي ان کے پاس سے نکل گئي، ايک نرس کے لئے زندہ دل ھونا بھي کتنا ضروري ہے، وھ يہ سوچتے ھوئے کمرے ميں داخل ھوئے بچي اپنے پالنے ميں چو رہي تھي، ميريم کے چہرے پر ايک عجيب سا نور تھا، ايک پو نور رونق جونہوں نے اس سے پيشتر اس ستے ھوئے چہرے پر نہيں ديکھي تھي، ماںبن کر عورت کتني مقدس اور کتني مکمل ھوجاتيہے، وہ مريم کے قريب پلنگ پر بيٹھ گئے۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اب تو تمہاري طبعيت ٹھيک ہے نا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے پيار سے پوچھا۔
اور جواب ميں مريم نے اپني نکھري نکھري آنکھوں ان کي طرف اٹھا ديں جن ميں محبت پيار، عقيدت ۔۔۔۔۔۔۔اعتماد۔۔۔۔۔جانے کيا کيا کچھ گڈ مڈ ھو کر ان تک پہنچنے کو بے قرار تھا، مريم کي اگر کوئي اداانہيں پسند تھي تو يہي۔۔۔۔۔وھ جب بھي پيار يا ہمدردي ميں ڈوب کر اپني گہرائي مين پيار کے احساس کو چھوليتي تو اپنے بے رونق چہرے کي تاثير سے لبريز ۔۔۔۔نکھري نکھري معصوم سي آنکھيں اٹھا کر ان کي طرف ديکھتي ، جيسے کہہ رہي ھو ۔۔۔۔۔ جذبے گويائي کے مرہون منت نہيں ھوتے۔۔۔۔۔مجھ ميں نطق کي سو خوبياں نہ سہي ۔۔۔۔۔مگر آپ کے دل کا حال تو خوب جانتي ھوں۔۔۔۔۔ يہ بولتي ھوئي۔۔۔۔۔۔محبت کرتي ھوئي۔۔۔۔والہانہ انداز نثار ھوتي ھوئي آنکھيں انہيں بہت پسند تھيں۔۔۔۔۔پھر اچانک انہيں سوچ کر تکليف سي ھوئي کہ ان کي بچي کي آنکہيں مريم پر نہيں تھيں، اپني ماں کي يہي ايک چيز اچھي تھي جو اس نے نہيں لي تھي۔ آپ کيا سوچ رہے ہيں۔۔۔۔۔۔؟ مريم ان کے سکوت بامعني کو توڑنے کے خاطر کہا کچہ نہيں۔۔۔۔۔بس يہي کہ۔۔۔۔۔بچي کے آجانے سے تمہارا جي بہل گيا ھوگا، اب تم ضرور اچھي ھوجاؤ گي، پہلے تو تم نے مفت کے روگ پال رکھے تھے۔۔۔۔۔اب فضول سوچ بچار کا وقت ہي نہ ہوگا۔ مريم ہنسنے لگي، يہ خيال آپ کو کيوں آيا۔۔۔۔۔؟ اس لئے کہ جب تم مان بني ھو، ايک خوبصورت سي مسکراہٹ تمہارے چہرے پر پھيل کرجذب ھوگئي ہے، تم سنجيدہ ھو تو مسکراہٹ کي روشني تمہارے چہرے کو منور کرتي رھتي ہے،نرس نے ايک نگاہ سب بچوں پر ڈالي، اور ہاتھ والي بچي کو بستر پر لٹا کر ابھي اس نے اس کے گلے ميں پڑي ھوئي چٹ اتار نے کو ہاتھ بڑھايا ہي تھا کہ فلونس اندر داخل ھوئي۔ ارے يہ بچوں نے کيا کہرام مچارکھا ہے، يوں معلوم ھوتا ہے بچہ پارٹي ميں بغاوت ھوگئي ہے، وہ حسب معمول ہنستي ھوئي اندر داخل ھوئي۔ نرس کے ہاتھ جہاں تھے وھيں رک گئے، گرہ کھولتے کھولتے اس نے گرہ باندہني شروع کردي، مگر اس نے فلورنس کي بات کا کوئي جواب نہ ديا،ارے ہاں۔۔۔۔۔فاخرہ۔۔۔۔۔۔تم يہاں کيا کررہي ھو؟تمہاري ڈيوٹي تو اس عشوہ طراز رورت کے ک |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر بہت معیاری شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کارنامے, پھول, پسند, لوگ, نظر, ماں, محبت, معلوم, آج, اللہ, انسان, بچوں, تلاش, جلتا, جلد, خوش, خبر, خدا, دل, دستور, رات, سودا, شام, عورت, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|