|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,984
شکریہ: 1,151
6,261 مراسلہ میں 14,128 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کائنات چھٹی کا دن تھا، میں ہفتے بھر کی نیند پوری کر رہا تھاکیونکہ عام دنوں میں ملازمت کے سلسلے میں وقت پر دفتر پہنچنے کے لےے ہر صبح جلدی اٹھنا پڑتا تھا اس لےے ہفتہ وار چھٹی کا دن تمام تر تھکن اتارنے اور نیند پوری کرنے کے لےے مخصوص کر رکھا تھا، چھٹی کی وجہ سے پروگرام تھا کہ دیر تک سویا رہوں گا لیکن چڑیوں کے شور نے میری ساری نیند خراب کر دی۔ میری شادی کو سات سال ہو چکے تھے مگر خدا تعالیٰ نے کائنات کی گود ہری نہیں کی تھی اور ہم اولاد کی نعمت سے محروم تھے، ہمارے ہاں یہ بات عام ہے کہ اگر کسی شادی شدہ جوڑے کے ہاں پہلے دو تین ماہ میں بچہ پیدا ہونے کی امید نہ بندھے تو نہ صرف گھر کی ،بلکہ آس پڑوس کی بڑی بوڑھیاں اس شادی شدہ جوڑے کو عجیب عجیب نظروں سے دیکھنے لگتی ہیں، پھر دبے دبے الفاظ میں باتیں ہونے لگتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ آوازیں بلند ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اگر ایک دو سال اور گزر جائیں اور گھر میں آنے والی بہو کی گود خالی رہے تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے ، ڈاکٹروں اور حکیموں کے ہاں آنا جانا شروع ہو جاتا ہے، تعویز کروائے جاتے ہیں اور منتیں مانی جاتی ہیں، وہ بہو جسے انتہائی لاڈ پیار اور خوشیوں سے بیاہ کر لائے ہوتے ہیںبچہ پیدا نہ ہونے کی وجہ سے اس کی زندگی عذاب بنا دی جاتی ہے، وہ طعنے سن سن کر روز جیتی ہے اور روز مرتی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اسی بہو کو طلاق دینے کے مشورے ہونے لگتے ہیںجسے لاکھوں ارمانوں کے ساتھ بیٹے کے لےے پسند کر کے لائے ہوتے ہیں، میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ میری شادی کو ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا ، بچہ پیدا نہ ہونے کی وجہ سے گھر والوں کی طرف سے طرح طرح کے مشورے میرے کانوں میں ڈالے جانے لگے، میں کسی بھی مشورے پر توجہ نہ دیتا، ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے نکا ل دیتا، میرے والد تو تھے نہیں، اماں اور بہنوں نے اپنی پسند سے کائنات کے ساتھ میری شادی کی تھی۔ شادی کے بعد کائنات نے مجھے اس قدر پیار دیا کہ وہ میری زندگی اور جینے کا سہارا بن گئی، میں بھلا اپنی کائنات کے بارے میں کوئی بھی بات کیسے سن سکتا تھا، میری بہنیں اپنے اپنے گھر کی ہو لی تھیں، ان میں سے جب کبھی کوئی بہن کچھ دن کے لےے ہمارے ہاں آتی ، کھسر پھسر میں اضافہ ہو جاتامگر ان کے جانے کے بعد اماں بھی خاموشی اختیار کر لیتیں۔ اماں نے جب دیکھا کہ بیٹا ان کی کسی بات پر کان نہیں دھرتا تو مجھے پیار سے اپنے پاس بٹھایا اور بولیں ” علی بیٹا ! کیا کبھی کوئی ماں اپنے بیٹا کا برا سوچ سکتی ہے ؟ “ ” اماں میں سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں ؟ “ ” دیکھو بیٹا تمہارے سبھی بہن بھائی تو اپنے اپنے گھر جابسے گھر میں ہر پل اداسی چھائی رہتی ہے، کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ اس گھر میں رونق ہو ؟ “ ” اچھی بھلی رونق تو ہے اماں آپ ہیں، میں ہوں ، کائنات ہے سبھی تو ہیںگھر میں “ ” بیٹا گھر میں بچوں کی اپنی ہی رونق ہوتی ہے آنگن میں کھیلتے ہوئے پھول جیسے بچے کس قدر پیارے لگتے ہیں “ ” لیکن اماں ! آپ جانتی ہیں کہ ہمارے آنگن میں پھول جیسے بچے کبھی نہیں ہوں گے “ ” اسی لےے تو کہتی ہوں کائنات کوطلاق دے دو “ طلاق کا لفظ سن کر میرے دل کو جھٹکا لگااور میں چیخ پڑا ” اماں آپ جانتی ہیںکیا کہہ رہی ہیں ؟ ایک عورت ہو کر دوسری عورت کو طلاق دلوانا چاہ رہی ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ بچے خدا تعالیٰ کی دین ہوتے ہیں، اگر کسی عورت کے ہاں اولاد پیدا نہیں ہوتی تو اس میں اس عورت کا کیا گناہ ہے “ ” ایسا ہوتا آیا ہے “ ” وہ جاہل اور گنوار ہوتے ہیں جو ایسا کرتے ہیں، آپ تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہونے کے باوجود ایسی سوچ رکھتی ہیں “ اماں نے جانے کیا سوچ کر میرے ساتھ بات شروع کی تھی ، وہ کسی طرح سے خاموش ہونے کو ہی نہیں آرہی تھیں ، میرا انکار سن کر انہوں نے ایک اور تیر پھینکا ” چلو طلاق نہیں دیتے نہ سہی تمہاری مرضی لیکن دوسری شادی تو کر سکتے ہو ! “ دوسری شادی کا سن کر میں تڑپ اٹھا ” دیکھیں اماں ! آپ آئے دن یہی بات لے کر بیٹھ جاتی ہیں ۔ آج آخری بار کان کھول کر سن لیں، میں نہ تو کائنات کو طلاق دوں گا اور نہ ہی کسی بھی صورت میں دوسری شادی کروں گا، شادی بیاہ کو آپ لوگوں نے کھیل بنا رکھا ہے، جب چاہا کسی کو طلاق دلوا دی اور جب چاہا کسی کے سر پر سوتن لا کر بٹھا دی ، مگر اماں آج کے بعد آپ نے یا کسی اور نے مجھ سے اس موضوع پر بات کی تو میں کائنات کو لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لےے یہ گھر چھوڑ جاﺅں گا “ میری بات سن کر اماں کے کان کھڑے ہو گئے، زندگی میں پہلی بار میں نے اماں سے تلخ لہجے میں بات کی تھی، جس کا مجھے دکھ تھا لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، اب ہماری شادی کو سات سال ہو گئے لیکن اس کے بعد آج تک اماں نے کبھی بھی طلاق یا دوسری شادی کے متعلق ذکر نہیں چھیڑا۔ گھر میں ہم تینوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا، سب اپنی اپنی دنیا میں مگن رہتے، اماں نماز اور تسبیح میں لگی رہتیں، کائنات کچن میں گھسی رہتی یا فارغ وقت میں خواتین ڈائجسٹ کھول کر بیٹھ جاتی، میں صبح سویرے گھر سے نکل جاتااور شام ڈھلے آتا، گھر میں نہ کوئی شور تھا نہ کوئی ہنگامہ، چھٹی کے روز میں اپنی مرضی سے ہی نیند پوری کر کے اٹھتا تھا لیکن گھر میں نہ جانے چڑیاں کہاں سے آگھسی تھیں ، چڑیوں کے شور نے میری نیند خراب کر کے رکھ دی اور میں اٹھ بیٹھا۔ میں اپنی چارپائی پر لیٹا انہیں دیکھنے لگا، وہ دو چڑیاں تھیں،جو چوں چوں کرتی ادھر ادھر پھدکتی پھر رہی تھیں، میری نیند خراب ہوئی تھی لیکن نہ جانے کیوں مجھے ان کا چہچہانا اچھا لگا میں ان کی حرکا ت کو بغور دیکھ رہا تھا، کائنات بھی میرے پاس ہی آ بیٹھی اور بولی ” اتنی صبح اٹھ گئے آج چھٹی کا دن تھاسوئے رہتے “ ” میں تو سویا ہوا تھا، مگر مہمانوں نے جگا دیا “ میری بات سن کر کائنات حیران ہو گئی اور بولی ”مہمان کون سے مہمان ؟ “ ” بھئی وہ سامنے ہی تو بیٹھے ہیں “ میں نے چڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ” اچھا آپ ان کی بات کر رہے ہیں “ کائنات نے چڑیوں کو دیکھ کر دریافت کیا ” ہاں میں سامنے بیٹھی ہوئی ان چڑیوں کی بات کررہا ہوں ، جنہوں نے مجھے صبح صبح آ جگایا “ ” لیکن آپ کے علم میں اضافہ کر دوں کہ وہ دونوں چڑیاں نہیں “ میں ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھ بیٹھا اور پوچھا ” کیا مطلب ؟؟؟ “ ” مطلب یہ کہ وہ ایک چڑیا اور ایک چڑا ہے “ ” صاف صاف کہو ناں کہ وہ دونوں میاں بیوی ہیں “ ” ایسا ہی سمجھ لیں، بے چارے نہ جانے کہاں سے ادھر آ نکلے “ چڑیوں کی چوں چوں جاری تھی اور ہم دونوں ان کی ہر حرکت پر نظریں لگائے بیٹھے تھے، وہ دونوں کبھی پاس پاس آ بیٹھتے اور کبھی چونچیں لڑانے لگتے۔ چڑیا اڑ کر کسی دوسری جگہ جا بیٹھتی تو چڑا بھی فوراً اس کے پاس جا پہنچتا کچھ دیر اسی طرح گزر گئی، پھر چڑا وہاں سے اڑ گیااور چڑیا وہیں بیٹھی رہی اب چڑیا تنہا تھی، وہ کبھی چونچ سے اپنے پروں کو صاف کرنے لگتی اور کبھی پروں کو پھیلا دیتی، کچھ ہی دیر بعد چڑا چونچ میں گھاس پھونس لےے واپس آ گیا۔ ہم برآمد ے میں بیٹھے تھے اور وہ گیراج میں اپنا گھر بنانے کے چکر میںتھے، وہاں کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں وہ گھونسلہ بنا لیتے، گیراج کی چھت سے پنکھے کا خالی کنڈا لٹک رہا تھا، ان دونوں کی نظریں اسی جگہ پر تھیں، شائد انہیں باہمی مشورے سے وہی جگہ مناسب لگی تھی، ان دونوں نے مل کر گھر بنانے کا آغاز کر دیالیکن وہ جو تنکا کنڈے پر رکھتے وہ نیچے آ گرتا، وہ پھر ہمت کر کے تنکا چونچ میں اٹھاتے اور نئی ترتیب سے کنڈے پر رکھ دیتے، بار بار یہی عمل دہرایا جا رہا تھالیکن انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی، پھر بھی وہ کوشش میں لگے ہوئے تھے، چڑا کچھ دیر بعد وہاں سے اڑ جاتااور کہیں سے کچھ اور گھاس پھونس چونچ میں اٹھا لاتا، ایک ایک تنکا کر کے گیراج کے فرش پر گھاس پھونس اور تنکوں کا ڈھیر لگ گیا تھا۔ ہم دونوں چارپائی پر بیٹھے ان دونوں کی ہمت اور حوصلے کی داد دے رہے تھے، صبح سے دوپہر ہو گئی تھی مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری تھی اور مسلسل اپنی کوشش میں لگے ہوئے تھے، کائنات کچن میں چلی گئی اور میں پھر سے انہیں دیکھنے میں مصروف ہو گیا، گو کہ کسی اور شخص کے لےے یہ عام سی بات تھی لیکن میں نے زندگی میں پہلی بار چڑیوں کو اپنا گھونسلہ بناتے ہوئے دیکھا تھا، چونکہ ہمارے گھر میں ہمیشہ خاموشی چھائی رہتی تھی اس لےے مجھے ان کا چہچہانا بھلا لگ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد کائنات کچن سے آئی اور بولی ” آج ان چڑیوں کو ہی دیکھتے رہیں گے، ناشتے کا کوئی پروگرام نہیں “ ” ہاں ہاں کیوں نہیں تم ناشتہ بنا لو “ ” آپ جلدی سے اٹھ کر نہا دھو لیں، اتنے میں ناشتہ تیار ہو جائے گا“ چڑا اور چڑیا اپنی کوشش میں لگے ہوئے تھے، میں باتھ روم میں گھس گیا میرے باتھ روم سے نکلنے سے پہلے کائنات ناشتہ تیا ر کر چکی تھی، ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں پھر بر آمدے میں چارپائی پر آ بیٹھا ، فرش پر گرے گھاس پھونس میں دھاگوں اور ڈوروں کا بھی اضافہ ہو گیا تھامگرابھی تک گھونسلہ نہیں بن پایا تھا، کچھ دیر بعد کائنات نے گھر کی صفائی وغیرہ شروع کر دی اور فرش پر گرے ہوئے ڈھیر کو جھاڑو سے اٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ شام کو ہمیں کسی رشتہ دار کے ہاں جانا تھے، ہم دونوں وہاں چلے گئے، واپسی پر ہمیں کافی رات ہو گئی تھی، میں نے گیراج میں موٹر سائیکل کھڑی کی یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ گھر میں گیراج تھالیکن میرے پاس گاڑی نہیں تھی۔ میری نظر چھت پر پڑی ، چڑا اور چڑیا کنڈے پر دبکے بیٹھے تھے، گھونسلہ بنانے میں ابھی تک انہیں ذرا سی بھی کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ اگلے روز آفس سے واپسی پر بے ارادہ میری نظر چھت پر اٹھ گئی۔ چڑے اور چڑیا کی محنت رنگ لے آئی تھی اور وہ گھونسلہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے، میں گھونسلہ دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ وہ اتنی تھوڑی سی جگہ تھی کہ وہاں تنکے ٹک نہیں رہے تھے، پھر کس طرح انہوں نے اپنی کوشش سے ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا، اب چڑا اور چڑیا پھدکتے پھرتے اور خوشی سے چوں چوں کرتے ہوئے اڈاریاں مارتے دکھائی دیتے۔ آفس سے آکر مجھے کوئی اور کام تو ہوتا نہیںتھا، میں انہیں کو دیکھتا رہتا اور کائنات بھی میرے پاس ہی بیٹھ جاتی، اماں بھی کبھی کبھارہمارے ساتھ چڑیوں کے دیکھنے میں آ شامل ہوتی، چڑیا ٹونٹی سے گرتے ہوئے پانی کے قطروں کے نیچے بیٹھ جاتی اور خوب نہاتی، پھر اپنے بالوں اور پروں کو سوکھنے کے لےے پھیلا دیتی۔ ” اماں ! یہ چڑیاہر وقت بیسن پر لگے شیشے پر بیٹھ کر اسے ٹھونگے کیوں مارتی رہتی ہے َ “ میری بات سن کر اماں ہنس پڑیں اور بولیں ” بیٹا ! یہ بھی نئی نویلی دلہن ہے، نہا دھو کر اپنے بال و پر سکھاتی ہے اور شیشے کے سامنے جا بیٹھتی ہے، پھر سوچتی ہے مجھ سا خوبصورت جہاں میں کوئی نہیں لیکن جب آئینے میں اپنا ہی عکس دیکھتی ہے تو سمجھتی ہے کہ شائد اس کے سامنے کوئی دوسری چڑیا آ بیٹھی ہے، یہ اسے بھگانے کے لےے ہر وقت شیشے پر اپنی چونچیں مارتی رہتی ہے تاکہ وہ بھاگ جائے “ اماں کی بات سنی تو میری ہنسی چھوٹ گئی ” اماں بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی “ ” تم مانو یا نہ مانولیکن یہی حقیقت ہے کیونکہ ہم نے اپنے بڑوں سے یہی سنا ہے “ اماں کی بات سن کر میں خاموش ہو گیامگریہ بات سچ تھی کہ چڑیا سارا سارا دن شیشے پر بیٹھی ٹک ٹک ٹک ٹک لگی رہتی، کائنات شیشے پر کپڑا ڈال دیتی تو چڑیا موٹر سائیکل کے شیشے پر جا بیٹھتی اور اس پر چونچیں مارتی رہتی، اس دوران چڑا ایک طرف بیٹھا چڑیا کو دیکھتا رہتا، ہم چڑے اور چڑیا کو اپنا سمجھنے لگے تھے، کائنات نے پہچان کے لےے سرنج کی پچکاری سے ان پر سبز رنگ گرا دیا تھا، جب تک وہ دانہ دنکاچگ کر واپس اپنے گھونسلے میں نہ آ بیٹھتے، کائنات ان کی راہ دیکھتی رہتی۔ کچھ عرصہ گزر گیا، اس دوران چڑیا نے ایک بار دو انڈے دےے جو گھونسلے سے گر کر ٹوٹ گئے، ایک روز چڑا اپنے ساتھ ایک اور چڑیا لے آیا، اسے دیکھ کر پہلے والی چڑیا اداس دکھائی دینے لگی، وہ ایک کونے میں لگ کر بیٹھ گئی، چڑے نے اس کی اداسی کی کوئی پرواہ نہ کی اور نئی چڑیا کے ساتھ پھدکنے لگا، وہ نئی چڑیا کو لے کر گھومنے نکل جاتا اور پہلی چڑیاوہیں خاموش اور اداس بیٹھی رہتی ۔ وہ نہ پہلے کی طرح ٹونٹی کے نیچے بیٹھ کر نہاتی تھی ،نہ پروں کو پھیلاتی تھی اور نہ ہی شیشے پر بیٹھی چونچیں مارتی تھی۔ چند دن اسی طرح گزر گئے، ایک روز میں اور کائنات برآمدے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ چڑا نئی چڑیا کے ساتھ برآمدے میں لگے پنکھے پر آ بیٹھا، اسے دیکھتے ہی میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ” کیا بات ہے بہت مسکرا رہے ہیں ؟“ مجھے ہنستا ہوا دیکھ کر کائنات نے سوال کیا۔ ” میں تو یہ دیکھ کر مسکرا رہا ہوں کہ اب چڑا اپنی نئی بیوی کا گھر بنانے کے لےے ادھر برآمدے میں کوئی پلاٹ دیکھنے آیا ہے “ ” ظاہر ہے جب نئی چڑیا لے کر آیاہے تو اسے گھر بنا کر بھی دینا ہو گا ” کائنات نے ہنستے ہوئے کہا، اسی دوران اماں بھی آ گئیں اور کائنات کی بات سن کر بولیں ! ” چڑیا نے کوئی بچہ نہیںدیا تو چڑا دوسری چڑیا لے آ یا کچھ تم بھی سبق سیکھ لو “ اماں کی بات سن کر کائنات کا رنگ اڑ گیا، اس کی حالت دیکھ کر میں خاموش نہ رہ سکا ” اماں ! آپ پھر وہی باتیں لے بیٹھیںہیں، میں نے آپ سے کہا بھی تھاکہ آئندہ اس قسم کا ذکر میرے یا کائنات کے سامنے نہ چھیڑےے گا “ ” ماں ہوں ناں بیٹے کا سونا آنگن دیکھ کر تڑپ جاتی ہوں “ ماں بات کرتے کرتے کمرے میں چلی گئی، میں نے کائنات کو چھیڑا ” کیا خیال ہے کچھ ہو جائے “ کائنات نے شرما کر نظریں جھکا لیں اور بولی ” میں نے کب انکار کیا ہے “ وہ میری بات کا کچھ اور ہی مطلب سمجھ بیٹھی تھی، میں نے بھی بات کو مزید بڑھانا مناسب نہ سمجھااور خاموشی اختیار کرلی۔ گو کہ میں نے ہمیشہ کائنات کو طلاق دینے یا دوسری شادی کرنے کی مخالفت کی تھی لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں اس کے دل میں کھٹکا سا لگا رہتا۔ جب بھی کبھی بچوں کے متعلق ذکر چل نکلتا، کائنات کا حسن ماند پڑ جاتا اور وہ پریشان ہو کر بیٹھ جاتی۔ چڑا برآمدے میں ادھر ادھر چڑیا کے ساتھ لگ کر بیٹھتا رہا مگر وہا ں انہیںکوئی جگہ پسند نہ ئی، پھر کچھ دیر بعد وہ دونوں اڑ کر دوسری چڑیا کے پاس جا بیٹھے، کچھ دیر تک تینوں پاس پاس بیٹھے چوں چوں چوں چوں کرتے رہے، پھر شام ہوئی تو چڑا اور دونوں چڑیاں ایک ہی گھونسلے میں جا بیٹھے جبکہ اس سے پہلے چڑا اور نئی چڑیا ہی گھونسلے میں ہوتے تھے اور پہلے والی چڑیاایک طرف ہو کر اپنی چونچ پروں میں دبا کر سوئی رہتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چڑا نئی چڑیا سے بھی دور ہو کر بیٹھنے لگا دونوں چڑیاں بھی آپس میں تنی رہتیںاور کبھی کبھار ایک دوسری پر چونچیں بھی مارتیں ، چڑا لاپرواہی سے ایک طرف بیٹھا رہتا۔ دوپہر کا وقت تھا، میں برآمدے میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا، اچانک چوں چوں کی آوازوں میں تیزی آگئی اور پروں کے پھڑپھڑانے کی آوازیں آنے لگیں، دونوں چڑیاں آپس میں الجھ پڑی تھیں، میں کھانا چھوڑ کر انہیں لڑتے ہوئے دیکھنے لگا۔ دونوں لڑتی ہوئی زمین پر آ گرتیں اور وہیں گتھم گتھا ہو جاتیں، کبھی ایک چڑیا اڑ کر گھونسلے میں جا بیٹھتی لیکن دوسری چڑیا بھی گھونسلے میں جا بہنچتی اور اس پر حملہ آور ہو جاتی۔دونوں چڑیاں پھر سے لڑتی ہوئی ایک دوسرے کو چونچیں مارتی ہوئی زمین پر آ گرتیں۔ کچھ دیر تک چڑا ان سے لاتعلق ہو کر ایک کونے سے لگا بیٹھا رہاپھر وہ بھی ان کے پاس آ گیا، چڑا اس کوشش میں تھاکہ کسی طرح وہ لڑنا بند کردیں ، مگر دونوں چڑیاں ایک دوسری کو مارنے پر تلی ہوئی تھیں، چڑے کی کوششوں سے چڑیوں کی لڑائی بمشکل بند ہوئی، وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے سے فاصلے پر جابیٹھیں اور چڑا ان دونوں کے درمیان بیٹھا تھا تاکہ کہیںان کی پھر سے لڑائی نہ شروع ہو جائے۔ فرش پر چڑیوں کے چھوٹے چھوٹے پر بکھرے پڑے تھے جو لڑائی کے دوران بار بار پھڑپھڑانے سے جھڑ گئے تھے۔ کچھ دیر وہ تینوں اسی حالت میں بیٹھے رہے ، پھر چڑا اڑ گیا، دونوں چڑیاں بدستور کچھ فاصلے پر بیٹھی تھیں اچانک ہی وہ دونوں ایک دوسرے سے پھر گتھم گتھا ہو گئیں، وہی لڑائی پھر سے شروع ہو گئی، میں نے ایک دو بار انہیں اڑایا لیکن انہیں کہاں پرواہ تھی، وہ بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے پر حملے کر رہی تھیں، اچانک میری ہنسی چھوٹ گئی، کیونکہ دونوں چڑیاں ایک دوسرے کو مارنے پر تلی ہوئی تھیں چڑا ایک اور چڑیا ساتھ لے آیا تھا، وہ نئی چڑیا کے ساتھ ایک طرف بیٹھا مزے سے دونوں چڑیوں کو لڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ چڑے کے ساتھ ایک اور نئی چڑیا دیکھ کر کائنات کے دل میں نہ جانے کیا خیال آیا، اس نے پاس ہی پڑا ہوا وائپر اٹھا کر سب چڑیوں کو وہاں سے بھگا دیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے گھونسلہ بھی اتار پھینکا۔ اب وہاں چڑیاں تھیں نہ چڑیوں کا گھونسلہ میں کائنات کے اس فیصلے پر حیران و پریشان بیٹھا تھا۔ یہ شائد کائنات کے اندر کا خوف تھا یا کچھ اور میرے لاکھ سمجھانے اور ہر طرح کی یقین دہانیوں کے باوجود اسے ہر پل دھڑکا لگا رہتا تھاکہ کہیں میں اس کے سر پر سوتن نہ لا بٹھاﺅں حالانکہ میں ایسا نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ کائنات میں کسی قسم کی خامی اور کمزوری نہ تھی ساری خامیاں اور کمزوریاں تو مجھ میں تھیں میں ایک چھوڈ دس بیاہ بھی رچا لیتا کبھی باپ نہیں بن سکتا تھا۔
__________________
![]() |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | compaq (07-01-12) |
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ذرد زمانوں کا سویرہ اَز نبیلہ ابرارراجا | زارا | کتاب گھر | 0 | 28-05-11 03:55 PM |