|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ايک تو جواني اور اس پر بيوگي، آگ اور پاني کا کھيل تھا، بالکل، شريا آپا آج سے نہيں پورے ايک برس سے اس آگ اور پاني کے کھيل ميں پھنسي ہوئي تھيں، ايک سال پہلے ان کے شوہر جواني ہي ميں تنہا چھوڑ کر چل بسے تھے، کوئي چھ مہينے تو ثريا آپ کو دولہا بھائي کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں نے غموں سے نڈھال کر رکھا، ليکن آہستہ آہستہ وہ لمحے ان کے ذہن سے دور ہوتے گئے، اور جب ايک دن اپنے غموں کو بھول گئي تو ان کي سوئي ہوئي جواني جاگ اٹھي اور کچھ اس طرح جاگي کہ آس پاس تو کيا پورے محلے ميں دھوم ہي مچ گئي تھي۔
کچھ دنوں پہلے چوڑياں اور نئے کپڑوں کا ذکر تو خيال بھي گناہ تھا، اگر کبھي کبھار محلے ميں کسي شادي میں گندھي ہوئي مہندي گھر ميں آجاتي تو اماں جان اسے جادو کي پڑيا کي طرح جھپاتي پھرتيں۔ کہيں ثريا کي نظر مہندي پر نہ پر جائے۔ وہ مہندي ديکھ کر آنسو نہ بہانے لگے۔ اگر اس نے ديکھ ليا تو رو رو کي جي ہلکان کر لے گي اپنا۔ ثريا آپا بيوہ کاي ہوئيں، جيسے پورے گھر کي خوشياں گھر چھوڑ قبرستان ميں جا بيسں، کہنےکو تو گھر گھر ہي تھا، ليکن ماتم کدہ بن کر رہا گيا تھا، کيا مجال جو دو گھڑي ہنس بول کر گزار دے، کبھي کبھار نئي فلموں کے گانے کو جي چاہتا اور وہ ريڈيو پر فرمائشي پروگرام سننے بيٹھيتي تو۔۔۔۔۔ گانے کے پہلے بول کے ساتھ ہي ثريا آپا آدھمکتيں۔ ہوں تو يوں کہو اپنے ناچ رنگ سے مطلب ہے سب کو کسي کو کيا پڑي ہے، کسي کے دکھوں کي۔۔۔۔خوب گائوں، بجائو، ميں ہوتي کون ہوں؟ اگر اس کي شامت آئي ہوتي تو کہہ ديتي۔تو آخر کيا ہوا، ريڈيو سننے ميں۔۔۔ذرا سا دل بہل جائے گا۔ يہ لفظ کيا ہوتے نشتر ہوتے بالکل اتني سي بات تيز بن کر ثريا آپا کے دل ميں جالگتي پہلےتو وہ دھيمے دھيمے سسکياں بھرتين اور پھر رونے کي آواز سارے گھر ميں پھيل جاتي، اماں جان چنگھاڑتي ہوئي آتيں۔ کيا ہوا۔۔۔۔؟کس نے کيا کيا۔۔۔۔ارے ايک غم کي ماري کي جينے بھي دے گا کوئي؟ اماں جان کي يہ ہمدردي ثريا آپا کے آنسوئوں کي رواني کو اور بڑھا ديتي اور پھر ماں بيٹياں گلے لگ لگ کر جو آنسو بہاتيں تو سارے گھر ميں آنسو کا سيلاب آجاتا سارے گھر ميں مايوسي اور غم کے بادل چھاجاتے، ماما کيسا ہي کھانا پکاديتي کوئي کچھ نہ کہتا، دوپہر کا کھانا تين بجے کے بعد ملتا تو کسي کي زبان سے ايک لفظ نہ نکلتا، جب تک رات آکر گزر نہ جاتي يہ اداسي اور غمگيني گھر سے نہ تلي، صبح ہوئي تو جو چہرہ سب سے زيادہ مسکرا رہا ہوتا وہ ثريا آپا کا ہي ہوتا۔ روز روز کي اس آفت سے گھر کے سب نوکر ڈرے ہوئے تھے، ماما کي تو جان نکلتي تھي، ان کي شکل ديکھ کر جو وہ کہتيں اسے ماننا ہي پڑتا۔ نمک کم چيني زيادہ کوئلے اور ڈالو گھي اتنا زيادہ کم کرو، کھانا اتنا کيوں پکتا ہے، دھوبي کو کپڑے گن کر کيوں نہيں دئيے جاتے ہيں، يہ بجلياں ہر وقت کيوں جلتي رہتي ہي، بل ديکھا ہے کبھي ۔۔۔۔؟ ثريا آپا کي فرعونيت ديکھ کر کيھ بار اس کا جي چاہا کہ وہ بھي کسي مرے گلاے آدمي سے شادي کر لے اور بيوہ ہوجائے، اور اس طرح ثريا آپا سے تو تين سال چھوٹي تھي اور دوسرے وہ جو بات سوچتي تھي آساني سے پوري ہو بھي نہ سکتي تھي، قسمت کي مار ريحانہ کے کہنے پر وہ بازار چلي گئي، ايک دوکان پر پلاسٹک کے بنے ہوئے کلپ اسے پسند آگئے، وہ خريد لائي لاکر رکھے ثريا آپا گھر کا جائزہ ليتے ہوئيے اس تک پہنچ ، کلپ ديکھ کر بوليں کتنے کے لئے؟ اچھے ہيں۔ سو روپے۔۔۔۔کے پسند ہيں تمہيں آپا۔۔۔؟ ہاں پسند تو ہيں ليکن ميري پسند ہي کيا؟ ثريا آپا غمگين ہونے لگيں، اس نے ہمدردي جتائيہاں آپا آپ کي پسند ہي کيا؟ آپ تو مجبور ہوگئيں ہيں۔ مجبور ہوگئ ہوں۔۔۔۔آپا کو غصہ آيا۔ وہ آپا کے غصے سے ڈر سي گئي سہم کر کہا۔ ميں تو کہہ رہي تھي کہ دولہا بھائي کي موت کي وجہ سے يہ چيزيں آپ کے لئے نہيں رہيں ہيں۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ہاں ہاں ميں کون ہوتي ہوں بس اس گھر کي ماہ راني تو ہي رہ گئي ہے، اب تو۔
کئ دنوں سے رکے ہوئے آنسو ثريا آپ کي آنکھوں سے پھوٹ نکلے، وہ چور بني آنسوئوں کي اس سيلاب کو ديکھتي رہ گئي، رونے کي آواز سن کر اماں جان آئيں تو سارا غصہ اسي پر اترا۔ کلموہي۔۔۔۔نامراد بڑي بہن کو رلارہي ہے، شرم نہيں آتي ہے، ڈوب مر اس پر مصيبت ٹوٹ پڑي ہے اور تجھے مزے سوجھ رہے ہيں کہاں ہيں وہ کلپ؟ کلپ لے کر اماں جان نے انہيں بے دردي سے باہر پھينک ديا، اپنے شوق سے لائي ہوئي چيز کي يہ درگت ديکھ کر وہ غصہ سے لرز گئي دل ميں سوچا ليا کہ سارے گھر سے بات چيت کا بائيکاٹ کھانا ناشتہ بند۔۔۔اب اس گھر ميں ثريا آپا رہيں گي يا وہ۔۔۔ايسے اس کے جي ميں تو آئي تھي کہ اپنے اس ارادے سے پہلے اماں جان سے ثريا آپا کي معصوميت اور دکھوں کي کہاني کہہ ہي دے کہيہ بار بار نسوے بہانے والي آپا سانپ کي کنچلي ميں نظر نہ آنے والا زہر ہيں بالکل آس پاس کے رہنے والے مردون کو ايسي نگاہوں سے ديکھتي ہيں جيسے پہلے انہوں نے مرد ديکھا ہي نہيں، اور تو اور۔۔۔۔ايک دن اس نے اپني آنکھوں سے ديکھا ثريا آپا گوشت لانے والے قصائي کے لڑکے سے زينہ ميں کھڑي چپکے چپکے باتيں کررہيں تھيں، کہنے کو تو وہ گوشت لانے والا لڑکا ہي ہے ليکن آج کل کے بيس بائيں سال کے لڑکے بھي بڑي عمر کے مردوں سے چار قدم آگے ہوتے ہيں۔ ليکن اسي باتيں کہنے کيلئےوہ زبان کہاں سے لاتي؟ جب ہو کر رہ گئي، اس نے سوچا کچھ اور ہوا، کچھ اپنے اس ارادے کو نبھاتے ہوئے ابھي دوسرا دن ہي تھا کہ سليم بھائي ڈيوٹي سے رخصت ہوئے گھر ميں آٹہرے اب بھلا اس کا غصہ اپني جگہ کيسے بر قرار رہتا؟ اور کچھ نہيں تو ثريا آپا ہي سليم بھائي سے کہہ ديتيں کہ وہ لڑي بيٹھي ہے وہ دو دن سے تو وہ اپنے دل ميں کيا سوچتے؟ سليم بھائي اس کے منگيتر بھي تھے اور رشتے کے عزيز بھي کئي سال پہلے جب ابا جان زندہ تھے اس کي شادي سليم بھائي سے طر کر دي تھي، ريلوے کي نوکري ميں ہر شہر ميں آنا جان رہتاہے کبھي کبھار اس کے گھر بھي آتے جاتے تھے۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
سليم بھائي کو اس کمرہ دے ديا گيا، اور وہ ثريا کے کمرے ميں آگئي، سليم بھائي کو کوئي کام تو تھا نہيں دن بھر کمرے ميں بيٹھے اپني فائليں ديکھتے رہتے يا کوئي رسالہ يا کوئي کتاب ديکھتے رہتے، وہ شر کي وجہ سے اپنے کمرے سے نکلتي تک نہ تھي کئي بار دل نے چاہا کہ نظر بھر کر سليم بھائي کو ديکھ لو ليکن ثريا آپا کا خوف اس سہانے رہتا، اگر وہ ديکھ ليتيں تو سارے گھر کو سر پر اٹھا ليتيں، سليم بھائي کو گھر ميں آئے ہوئے دوتين دن ہوگئے تو اس نے محسوس کيا نہ جانے کيوں آپا ہر وقت سليم بھائي کے متعلق باتيں کرتين رہتي ہيں۔
سليم صاحب بڑے محنتي ہيں، باتيں بڑي دلچسپ کرتے ہيں، تاش ميں تو اس سے جيتنا مشکل ہے، ايسي باتيں ثريا کے علاوہ کوئي اور کرتا تو وہ بے حد خوش ہوتيں ليکن ثريا آپا کي زبان سے سليم بھائي کے متعلق باتيں سن کر وہ سوچتي، بڑي تيز ہي يہ آپا، نہ جانے کيا زہر پھيلائيں؟ ان کے کرتوت جانتي ہوں، دو چار دن بعد تو يہ حالت ہوگئي کہ ثريا آپا بار بار سليم بھائي کا نام لينے لگيں، کبھي اچھے منہ سے کبھي برے منہ سے صبح اٹھتے ہي ماما سے کہتيں۔ سليم صاحب کي چائے پہنچادي کمرے ميں؟ ٹوسٹ کتنے رکھے انڈے زيادہ تو نہيں سينگے؟ ثريا آپا کي ان گہري باتوں سے اسے ذرا ڈر سا لگنے لگا تھا، کہيں يہ اپني مجبوري کا سہارا سليم بھائي کو نہ بناليں، کہيں يہ اپني باتوں سے انہيں بہکانہ ديں، اس نے سوچا کسي طرح سليم بھائي سے ثريا آپا کے بارے ميں کہہ ہي ديں، ليکن کہتي کس طرح؟شرم و حيا نے پائوں ميں زنجير اور زبان پر تالا لگا ديا تھا۔ ايک دن اس نے سنا کہ سليم بھائي آج شام کو جارہے ہيں، اس سے پہلے جب سليم بھائي آکر واپس جاتے تھے تو اس کا دل مرجھا سا جاتا تھا، ليکن اس بار ان کے جانے کي اسے بے انتہا خوشي تھي نہ جانے کيوں؟ شام کو گاڑي چھ بجے جاتي تھي۔۔۔۔۔۔سليم بھائي اپنا اٹيچي اٹھا کر کمرے سے نکلے۔وہ کواڑوں کي مدد سے دھڑکتے دل کو لئے جھانکتي رہي، سچ مچ اسکا جي چاہتا تھا کہ سليم بھائي کے ہر اٹھتے ہوئے قدم کے نيچے اپني آنکھيں بچھا دے ان کي مسکراہٹ اور بھولے بھالے چہرے کو ہميشہ کيلئے آپني آنکھوں ميں بسالے، سليم بھائي کمرے کے قريب سے گزرے تو انہوں نے کواڑوں کي طرف ديکھا، شرما کر اس نے کوڑاوں کے پاس سے ہٹنا چاہا تو ديکھا، ثريا آپا سليم بھائي سے کچھ دور کھڑي عجيب ليکن پيار بھري نظروں سے انہيں گھور رہي ہيں، نفرت اور غصے کي ملے جلے جذبات سے وہ کانپ گئي، ليکن سوچا اب سليم بھائي واپس جارہے ہيں، اب کيا فکر ثريا آپا کا جادو ان پر نہيں چل سکے گا۔۔۔ اچانک زينہ پر کسي چيز کے لڑھکنے کي آواز اس نے گھبرا کر باہر ديکھا اور وہ بيتاب ہو کر کمرے سے باہر نکل آئي، سيڑھيوں پر اسے اترتے ہوئے سليم بھائي کا پائوں پھسل گيا تھا اور وہ بے سہارا ہو کر سيڑھيوں سے نيچے جاگرے تھے، ثريا آپا سليم بھائي کو اٹھانے کيلئے دوڑيں، اماں جان بھي لپکي ہوئي آئيں، اور وہ بے سدھ زينہ پر آکھڑي ہوئي، سليم بھائي کے کپڑوں پر خون بکھراہوا تھا، اور ثريا آپا نہيں اٹھانے کي کوشش کر رہي تھيں، پہلي بار اس نے سليم بھائي کو نظر بھر کر ديکھا اور شايد سليم بھائي نے اسے، وہ نہ جانے کب تک گم سم سي وہيں کھڑي رہتي ليکن ثريا آپا کي تيز نگاہوں نے اسے وہاں سے ہٹ جانے پر مجبور کرديا۔ سليم بھائي کو کمرے ميں لے جا کر لٹا ديا، ڈاکڑ نے بتايا کہ ان کے پائوں کي ہڈي ميں سخت چوٹ آئي ہے اور کافي دنوں کيلئے وہ چلنے کے قابل نہيں رہيں گے، ڈاکڑوں کے يہ الفاظ سن کر اس کا لرزتا کانپتا ڈوب اور اس کے ہاتھ بے اختيار دعا کيلئے اٹھ گئے۔۔۔۔خدا يا تو ان کو جلد از جلد اچھا کر دے۔ يہ کيسي بے بسي تھي؟ اس کا دل سليم بھائي کے قدموں پر پڑا تھا، اور وہ ان سے قريب ہوتے ہوئے بھي بہت دور تھي، شرم وہ حيا کي آہني ديوار نے اس کي راہ روک رکھي تھي اس کا دل چاہ رہا تھا، وہ انہيں جارک ديکھے ان کي آنکھوں سے آنکھيں ملائے انہيں بتادے کہ اس چوٹ سے زيادہ چوٹ اس کے دل پر لگي ہے، ان کے تو صرف پائوں ميں چوٹ آئي ہے، ليکن اس کي تو ساري زندگي پر چوٹ لگ گئي، پہلےتو وہ دن بھر کام کاج ميں مگھن رہتي تھي، کبھي کشيدہ کاري کي کتاب اٹھا کر رکھ ليتي، کبھي کوئي رسالہ لے کر پڑھنے بيٹھ جاتي، ليکن سليم بھائي کي چوٹ نے اسے بدل سا ديا، دن بھر چپ چاپ سي رہتي ايسا معلوم ہوتا کہ وہ اس دنيا ميں نہيں ہے، کہيں اور ہے شايد تصورات کي حيسن دنيا ميں جہاں سليم بھائي اس کے ساتھ ہوتے ہاتھ ميں ہاتھ ڈالے ہوئے اپنے بھولي بھالي مسکراہٹ کے ساتھ اور وہ بے سدھ سي ہوتي، ايک نوجوان لڑکي بھلا سوچ بھي کيا سکتي ہے؟ اس کي معصوم جواني نے ابھي ديکھا ہي کيا تھا؟ شباب کي پہلي ہي دھمک کے ساتھ اسے ان سے منسوب کرديا تھا، اور اب اس کے ہر خيال ہر تصور کا مرکز سليم بھائي ہي رہ گئے۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ايک دن اسے معلوم ہوا سليم بھائي کھانا نہيں کھاتے کہتے ہيں جي نہيں چاہتا، ماما کھانا لے کر واپس آتي ہيں، اور وہ بھوکے ہي رہتے ہيں اس کا دل بے اختيار تڑپ گيا وہ کھانا نہيں کھاتے اور ميں بيٹھ کر کہا ليتي ہو اگر ميں ان سے جاکر ان سے کہوں کہ کھانا کھا ليجئيے تو کيا وہ انکار کريں گے۔
اور اسي وقت جب وہ سوچ رہي تھي ثريا آپا آئيں انکا چہرہ دمک رہا تھا خوشي ان کي آنکھوں سے برس پڑ رہي تھي کپڑے بھي نئے تھے، اس سے کہا۔۔۔۔ اور اسي وقت جب وہ سوچ رہي تھي ثريا آپا آئيں انکا چہر دمک رہا تھا ان کي خوشي ان ک آنکھوں سے برس پڑ رہي تھي کپڑے بھي نئے تھے اس سے کہا۔۔۔۔ نازہ ديکھ کر ہي ہوا اپنے دولہا کو؟ کھانا تک نہيں کھاتے آخر کيا ہوگيا ہے انہيں؟ ذرا تم ہي جاکر کہو۔۔۔۔ليکن تمجاہي کس طرح سکتي ہو؟ لائو ميں ہي پوچھ آئو۔۔۔۔ثريا آپا سليم بھائي کے کمرے ميں چلي گئيں اس نے چاہا ثريا آپا کو روک لے کہے۔ آپ وہاں نہ جائے وہ نہيں کھاتے تو نہ کھائيں بھوک لگے گي تو خود کھاليں گے، ليکن يہ الفاظ اس کي زبان پر آکر رک گئے، وہ مجبور ہو کر رہ گئي، ثريا آپا سليم بھائي کے کمرے ميں تھيں، ہنس ہسن کے باتين کرنے کي آوازيں وہ سن رہي تھي، آپا ثريا کے تيز قہقہے بار بار اس کے کانوں سے ٹکرارہے تھے اور بت بني خاموش کھڑي تھي، ثريا آپا باہر نکلي اسے ديکھ کر کہا۔ لوبھئي مان گئے۔۔۔بڑے ضدي ہيں سليم صاحب بھي ايسي ايسي باتيں کرتيں ہيں کہ ميں لوٹ پوٹ ہوکر رہ گئي، اس نے حيران نگاہوں سے ثريا آپا کو کھانا لے کرآئي اور کچھ کنگناتي ہوئي سليم بھائي کے کمرے ميں گھس گئيں، دل نے چاہا ذرا سا ديکھو تو۔۔۔ وہ کھانا کھاتے بھي ہيں يا ثريا آپا يوں ہي کہہ رہي ہيں، ڈرتے ڈرتے کمرے سے باہر نکلي نيم واکواڑوں سے جھانک کر ديکھا بھائي تکئے کے سہارے بيٹھے ہيں اور ثريا آپا مسکرا کر ان کے منہ ميں نوالہ دے رہي تھيں، اور وہ خوشي خوشي ثريا آپ سے نوالے کھارہے تھے۔نفرت اور غصہ نے اسے ديوانہ بناديا ہے، خون کھول ر رہگيا اور ہو جذبات کو دباتے ہوئے واپس آکر اپنے بستر پر گر پٹري، آنکھوں سے بے بسي اور مظلوميت کے آنسو بہہ نکلے اور وہ غصہ ميں بڑا بڑا اٹھي۔ يہ سليم بھائي بھي ايسے نکلے۔۔۔۔ثريا آپا تو جيسي ہيں ميں جانتي ہوں، ليکن انہيں کيا ہوا؟ ثريا آپا کے ہاتھ سے ہنس ہنس کر نوالے کھارہے تھے اور يہ ہي نہيں مسکرا مسکرا کر ثريا آپا کو ديکھ بھي رہے تھے، مر ہوتے ہي بے وفا ہيں۔ دس کے اس طوفان کو کس پر ظاہر کئ؟ کس سے کہتي کہ اس کي زندگي اسے سے چھيني جارہي ہے، ثريا آپا کي بيوگي اس کي زنسگي کو تباہ کر رہي ہے اور وہ اپني بہن کي خوشيوں پر ڈاکہ ڈال رہي ہيں، بہن کا سکھ اور قرار چھين رہي ہيں۔ دل نے کہا چل پگلي۔۔۔چلي جا ان کے پاس۔۔۔۔کہہ دے يہ آپ کيا کررہے ہيں؟ جو آپ کي آس ميں دن گزارتي رہي ہے اس آپ بھول رہے ہيں؟ کيوں ميري کو شيشوں کو نيست کو نابود کرنے پر تلے ہيں؟ ميرا يک ہي تو دل ہے اور وہ بھي ايسا جو آپ کے گيت گاتا ہے آپ اس دل کو توڑرہے ہيں سليم صاحب ميري مجبوريوں سے فائدہ اٹھانے والي ثريا آپا کو سمجھائے، وہ مجھ سے آپ کو چھين کجر ميرا سب کچھ لئے جارہي ہيں، اور آپ بے خبر بنے ان کے ساتھ ساتھ مجھے بھي تباہ کر رہے ہيں۔ انہيں خيالات ميں آنسو بہاتے بہاتے وہ سوگئي ليکن بند آنکھوں سے آنسو برا بربہتے رہے۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
صبح اٹھي سورج کافي نکل آيا تھا، رات جن خيالات کي آغوش ميں سوئي تھي، وہ اب بھي دھند لے غبار کي مانند موجود تھے، تھکے تھکے انداز سے انگڑائي لے کر اٹھي، آئينہ ديکھا تو مشکل ويران سي نظر آئي دل کو ٹٹولا تو وہ بھي مردہ سا معلوم ہوا، باہر جھانک کر ديکھا تو ناشتہ تيار ہوچکا تھا، اور سليم بھائي کے کمرے سے ثريا کي ہني امنڈ رہي تھي، منہ دھونے کے ارادے سے آگے بڑھي تو سليم بھائي کے کمرے ميں نگاہ پڑي تو ثريا آپا ان پر جھکي ہوئي ديا سلائي سے انکا سگريٹ سگا رہي تھيں، وہ جلدي سے پيچھے ہٹ گئي۔
رات کے اندھيرے نے اسے ساري رات تڑپايا تھا اور اب صبح کي روشني نے بھي اس پر دکھ کا بوجھ لاد ديا، تن بدن ميں ايک آگ سي بھڑک اٹھي ايسا معلوم ہوا جيسے اسے کسي نے حقارت سے کچل ديا وہ واپس کمرے ميں آگئي اور ايک بار پھر رکے ہوئے آنسوئوں کا سيلاب بہہ نکلا، وہ محسوس کر رہي تھي کہ آپا ثريا کي مسکراہٹوں ميں اضافہ ہو رہا تھا، ان کے لباس بھي بدل گئے تھے، باتيں کہتي ہيں تو چہرے پر سرخي دوڑ جاتي ہے، اس کے برعکس وہ خاموش اور مرجھائي ہوئي سي رہتي کپڑے بدلنے کا خيال آتا نہ صفائي کا، ثريا آپا نے ايک دن اسے کہا۔ نازو۔۔۔۔يہ تمہارے سليم بھائي بھي عجيب ہيں کل کہہ رہے تھے ثريا تمہاري مسکراہٹ اور باتيں بڑي انوکھي ہيں، ميں ايس مسکراہٹوں کي تلاش ميں ہوں نہ جانے کب اور کہاں مليں گي، تو ہي بتا ميں کہتي، انہيں ديکھتي رہ گئي، ان مردوں کي ذار ہي بے وفا ہے، جي تو چاہا کہہ دوں مسکراہٹوں اور باتوں سے کوئي کسي کا نہيں ہوتا، ليکن ان کے سامنے کچھ کہنے کي ہمت نہ ہوسکي، وہ ثريا آپا کي کہي ہوئي اس بات کو اچھي طرح سمجھ تو نہ سکي، ليکن دل کي کنک کم ہونے کے بجائے کچھ اور بڑھ گئي۔ صبح سے شام تک وہ ہي سوچتي کہ آخر کيا کرے؟ کس طرح ثريا اور ان کے ارادوں کو روکے؟ ليکن ہزار سوچنے پر بھي کوئي بات سمجھ ميں نہ آسکي ماں سے کہتي تو کس زبان سے؟ ثريا آپا کو وہ روکتي تو کس طرح؟ رہ گئے سليم بھائي ان تک پہنچنا جتنا نظر آتا ہے وہ اتنا ہي مشکل سمجھتي، لے کے بس ايک ہي بات اس کے ذہن ميں سماسکي کہ رات کا کھانا کھا کر وہ سليم بھائي کےکمرے ميں جائے اور ہمت کرکے صاف صاف ان سے کہہ دے کہ آپ ثريا آپا کي چالوں سے بچے رہيں وہ آپ کے ساتھ مجھ بھي لوٹنا چاہ رہي ہيں۔ رات کو کھانے کے بعد گھر ميں سوکون سا ہوگيا تو سليم بھائي کے کمرے کي طرف بڑھي قريب پہنچ کر سوچا دروازہ کھٹکھٹا دے آواز سن کر سليم بھائي پوچھيں گے کون ہےتو وہ اندر چلي جائے گي، ليکن اتني سي بات کيلئے بھي وہ اپنے ميں ہمت پيدا نہ کرسکي، نيم کواڑوں سے چپکے چپکے جھانک کر اندر ديکھا اور اپني آنکھوں پر اعتبار نہ آيا، ثريا آپا سليم بھائي کے کمرے ميں تھيں، اور سليم بھائي تھکن يا چوٹ کي وجہ سے جلدي سو گئے تھے، وہ محبت سے ان کے ماتھے پر بکھيرے ہوئے بالوں کو ٹھيک کر رہي تھي، روشني ميں ان کے چمکتے ہوئے چہرے پر نہ جانے کيسي شادابي دوڑ رہي تھي، وہ اپني آرزئوں اور تمنائوں کي دنيا کو لٹتے ديکھ کر بھي چپ چاپ واپس چلي آئي، زبان ميں قوت گويائي، آنکھوں ميں بينائي اور پيروں ميں جيسے اٹھنے کي سکت نہ رہي تھي۔ وہ اب خاموش اور رنجيدہ سي رہتي، کسي چيز کو ديکھتي ديکھتي رہ جاتي، بات کرتي تو کھوئي کھوئي سي کھانئے کا ہوش نہ پينے کا ہوش اس کي ان باتوں نے ثريا آپا کو اورڈھيل دے دي اور جو جي چاہتا کرتيں گھنٹوں سليم بھائي کے کمرے ميں گھسيں رہتيں، دونوں وقت کھانا بھي انہيں کے ساتھ۔کھاتيں۔ وہ اب بھي خاموش رہتي ليکن ايک دن ثريا آپا کے بستر پر سے ايک پرچہ ملا۔ ميري کالي راتوں کے اجالے سليم۔ سنا تھا خزاں کے بعد بہار، اندھيرے کے بعد چاندني ضرور آتي ہے، ميں نے ديکھ ليا ميري زندگي کي کالي راتيں گہري سياہي ميں ڈوبي جارہي تھيں، ليکن تمہاري محبت نے زندگي کي ان کالي راتوں ميں اتنا اجالا پھيلا ديا ہے کہ شايد قيامت تک اب اندھيرا قريب ن آسکے ايک ويرانے کو اگر تمہارے دم سے بہار ميسر آسکتي ہے تو کيا تم اسے ويرانہ ہي رہنے دوگے؟ ويسےتو ميں روزانہ تمہارے کمرے ميں آتي ہو ليکن آج تم سے کچھ پوچھنے آئوں گي۔ تمہاري کنيز ثريا۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اس کے لزتے ہوئے ہاتھوں ميں پرچہ کانپ کر رہ گيا، اب ضبط اور خاموشي کا وقت گزرتا جارہا تھا، اس کي زندگي اور موت کا سوال اس کے سامنے تھا کل تک کي شرميلي لڑکي ناز اب بھپر گئي تھي وہ ديوار سر سر ٹکرانے کے بجائے اس ديوار کو توڑ ديان چاہتي تھي جس سے اس کا سر ٹکرانے والا تھا۔
ہلکے ہلکے نيلے رنگ کا پرچہ اس کے ہاتھ ميں تھا، کسي کے تيزي سے قدم اٹھانے کي آواز نے اسے چونکا ديا، اس نے جلدي سے پرچہ تکئيے کے نيچے رکھ ديا۔ ثريا آپا گھبرائي ہوئي سي کمرے ميں آئيں، پہلے اسے ديکھا اور پھر کمرے ميں ادھر ادھر نگاہ ڈالي،چيزوں کو الٹ پلٹ کيا تو اس نے کہا۔۔۔ کيا ہوا آپا۔۔؟ کچھ نہيں ۔۔۔۔ثريا نے خشک لہجے ميں کہا، ايک پرچہ رکھ گئي تھي ابھي يہاں۔۔۔؟ پرچہ۔۔۔وہ معصوم بن گئي۔۔۔۔کيا لکھا تھا۔۔۔۔؟ ثريا آپا نے کوئي جواب نہيں ديا پرچے تکئيے کے نيچے تھا آپا کو مل گيا تو بوليں دھوبي کو کپڑے دئيے تھے نا۔۔۔۔ اس کا حساب کتاب لکھا تھا اب کھو جاتا تو دھوبي کم بخت بے ايماني کرتا۔۔۔۔۔ کيسي بھولي بن رہي ہے۔۔۔۔وہ دل ہي دل ميں بڑا بڑا کر رہ گئي۔ ثريا آپا گنگناتي ہوئي چلي گئي، اس وقت شام کے چھ بجے تھے اور رات کي تاريکي بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے ارادے بھي آگے بڑھ رہے تھے۔ اس نے سوچ ليا تھا، چاہے بے شرمي ہو يا بے عزتي سليم بھائي کے کمرے ميں آج ضرور جائے گي، ان سے کہہ دے گي، سليم بھائي۔۔۔۔ميري زندگي اور خوشياں مجھ سے نہ چھينو، آپا ثريا آپ کو بہکا رہي ہيں، ان کے بہکانے ميں نہ آئو۔۔۔۔ميں تمہاري ہوں۔۔۔۔۔اور نہ جانے کب تک تمہارے تصور کے سہارے جي رہي ہوں، جب ثريا آپا سليم بھائي کے کمرے سے نکليں، اور کھانا کھانے چلي گئي تو وہ ڈرتي ڈرتي سليم بھائي کے کمرے ميں گھس گئي، سليم بھائي سگريٹ سلگانے کيلئے ماچص اٹھا رہے تھے اسے اپنے کمرے ميں کھڑا ديکھ کر حيرت زدہ ہو گئے، سگريٹ ان کي انگليوں ميں لٹکتا رہ گيا۔۔ حيرت سے بولے ۔۔۔۔۔۔ناز۔۔۔تم۔۔۔۔۔ وہ چپ چاپ کھڑي رہي، سليم بھائي اسے محبت بھري نظروں سے ديکھ رے تھے دل میں سوچ آئي تھي کہ يہ کہوں گي ليکن يہاں آکر زبان بے جان ہوگئي تھي کچھ کہنا بھي چاہو تو کہہ نہ سکو۔ کيا بات ہے ناز۔۔۔۔سليم بھائي کي آواز ميں اتني محبت اور درد تھا کہ وہ کانپ کر رہ گئي، بے اختيار ہو کر سليم بھائي کے قدموں پر گر پري آنسو اس کے گھٹے ہوئے خيالوں کا سہارا بن کر بہہ نکلے سليم بھائي نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اٹھاليا بہتے ہوئے آنسو اور روندھے ہوئے گلے سے وہ يہ ہي کہہ سکي۔ سليم بھائي۔۔۔۔ثريا آپا تم کو مجھ سے چھين رہي ہيں۔چھين رہي ہيں۔۔۔۔وہ ہنس پڑے۔ ديواني ہوگئي ہو تم ناز۔۔۔۔۔مجھے تم سے کوئي نہيں چھين سکتا تمہاري ثريا آپا کو تو نہ کيا ہوگيا ہے ميں ان کي دل جوئي کيلئے ان سے ہنس کر بات کرليا کرتا ہوں، اس کا يہ مطلب تو نہيں کہ ميں تمہارے بجائے ان کا ہوگيا ہوں۔ سليم بھائي کہہ رہے تھے اور اسے ايسا محسوس ہورہا تھا جيسے وہ کائي سہانا سپنا ديکھ رہي ہے، اس کي زندگي کي کالي راتوں ميں سليم بھائي کے الفاظ اجالا پھيلا رہے تھے ايسا اجالا جس کي مدد سے وہ اپني منزل جلد پاسکتي تھي۔۔ سليم بھائي کہہ رہے تھے۔ آج نہيں تو کل ميں واپس اپنے گھر جارہا ہوں چند دن بعد پھر آئوں گا ليکن اس بار اکيلا نہيں جائوں گا ميرے ساتھ ہوگي، سليم بھائي کي باتوں نے سارے کمرے ميں جادو سا بکھير ديا تھا وہ بہوش سي اس کي باتيں سن رہي تھي۔ باہر کچھ آہٹ ہوئي تو سليم بھائي سے قدرے الگ ہٹي نگاہ اٹھا کر ديکھا ثريا آپا دھيمے دھيمے قدم اٹھاتي واپس جارہي تھيں، شايد انہوں نے ساري باتيں سن لي تھيں۔ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ماشااللہ جزاک اللہ خیر بہت معیاری شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری و ساری رکھیں گے خداوند متعال آپ کو صدا خوش و خرم رکھے رب راکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| گانے, پسند, وفا, قدم, لمحوں, نفرت, چور, نظر, موت, ماں, معلوم, آج, جلد, خون, خوش, خبر, دل, دعا, رات, رشتے, سال, شہر, شام, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کچھ باتيں شعر و شاعري کي | بنت آدم | گپ شپ | 10 | 03-04-10 01:50 AM |
| خوابوں کو باتيں کرنے دو | wajee | شعر و شاعری | 1 | 12-08-09 07:44 PM |
| خوابوں کو باتيں کرنے دو | wajee | شعر و شاعری | 2 | 11-08-09 02:18 PM |