واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




کچھ لمحے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-01-11, 02:19 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,984
شکریہ: 1,151
6,261 مراسلہ میں 14,128 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کچھ لمحے

کچھ لمحے

وہ ان کی زندگی کا بھیانک دن تھا جب وہ بری طرح سے ٹوٹیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ان کی پوتی ان سے پوچھ رہی تھی کہ دادی آپ نے اتنا کچھ بنا کر رکھا ہے کھاتی کیوں نھیں؟؟؟؟؟؟؟ وہ کیا بتاتیں کہ انہوں نے کیا کھو دیا ۔۔۔۔ انہوں نے اپنی زندگی ۔۔۔۔۔۔اپنا بیٹا کھو دیا ہے۔

جلال کے والدین ہمیشہ اسے یہ کہتے رہے کہ آگے بڑھو اور سب کچھ حاصل کر لو۔۔۔۔۔۔ مگر کبھی کبھی بچے کسی بات کو غلط انداز میں لیں تو ایسا ہی ھوتا ھے جیسا جلال نے کیا۔ جلال نے بھی خوب محنت کر کے سب کچھ حاصل کر لیا مگر۔ پیچھے سب کچھ بھول گیا۔

گھر بظاہر تو بھرا ہوا تھا مگر ۔۔۔۔۔۔ مگر اندر دل سے خالی۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے بھی روز ابو کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے اور بیوی ۔۔ اس نے بھی کبھی کوئی شکایت نھی کی۔ جلال کی امی جلال کی شادی ہونے کے بعد بھی اس کے لیۓ خود کھانا بناتی تھیں۔ مگر جلال نے کبھی گھر میں کھانا نھی کھایا ھاں ڈٰھیر ضرورکر دیا تھا۔
ابھی دادی کچن کی الماریوں کو دیکھ رھی تھیں، مٹر، چاول، طرح طرح کی سبزیاں اور پکوان صرف انہوں نے اپنے لاڈلے کے لیۓ بناۓ تھے مگر اس کے پاس ٹائم نھی تھا۔ دنیا کے جھمیلوں میں وہ اپنوں کو بھول گیا تھا۔ سب دکھی اور حیران تھے کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ ھاں ایسا تب ہوتا ہے جب والدین بچوں سے بہت سی امیدیں کر لیتے ھیں، اور آگے بڑھنے والا سبق بچوں کو کسی اور ہی دنیا کی سیر کرادیتا ہے۔
ایک دن اچانک دادی بھی چل بسیں، دل میں دکھوں کا بوجھ لے کر، کسی کو یقین نھیں آرھا تھا، ہاں عورت ایسی ہی ہوتی ہے، بچپن سے لے کر مرتے دم تک تک شکوہ نھی کرتی وہ ہمیشہ ہر زیادتی کو چپکے سے سہ جاتی ہے۔
دادی کی وفات کو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا۔ بچے کھیل میں مصروف تھے۔ بھاگ دوڑ کر کےسارے گھر میں شور مچارہے تھے۔ ایک دن عجیب بات ہوئی، کھیل میں مصروف بچوں کو ایک انجانا سا احساس ہوا کہ انہوں نے اپنی دادی کودیکھا ہے، بچے سہم گۓ اور گھر میں خاموشی چھا گئ۔
اسی طرح ایک دن ثمینہ کو بھی کسی کے ہونے کا احساس ہوا، ان کو ایک پل کو لگا کہ ان کی ساس ان کے آس پاس ہی ھیں، انہوں نے جلال کو بتایا تو انہوں نے اس کو ان کا وہم قرار دے کر خاموش کرادیا۔
اب دن پھر سے نارمل ہوگۓ تھے ہاں دل کچھ خالی ہوگۓ تھے کیون کہ دعا کے لیۓ ہر وقت اٹھنے والے ہاتھ جو ان میں موجود نھی تھے۔اس بات کا اندازہ ان کے زندہ رہنے پہ نھی ہوتا۔جب وہ ہم سے جدا ہوتے ھیں تب ہم کو ہمارے ہاتھ خالی محسوس ہوتے ھیں۔
ایک دن چاۓ پیتے پینے کے دوران ایک عجیب بات ہوئی کہ جلال کو پہلی بار اپنی کاروباری زندگی میں کسی کے نہ ہونے کا ملال ہوا اور اس وقت وہ شدت سے اپنی ماں کو یاد کر رہے تھے اور سوچھ رہے تھے کہ میری ماں نے میرے لیۓ کتنی ہی راتیں جاگ کر میرا انتظار کیا ہے ،ان کو اپنا آپ بالکل اچھا نھی لگا۔اپنے آپ سے الجھن ہوئئ۔
ایک ایسی ہی طوفانی رات جب جلال آفس میں ہی تھے تو ان کو لگا کہ ان کے علاوہ بھی کوئئ ہے۔ انہوں نے آواز دی مگر کوئی جواب نہ آیا ، ایک ہیولہ ضرور نظر آیا جو ان کی ماں سے ملتا تھا۔
انہوں نے پکارا امی، ان کو آواز آئی کہ بیٹا تم نے کام میں مصروف ہو کر اپنی ماں کو ہی بھلا دیا تمہارے پاس اپنی ماں کی مغفرت کے لیۓ بھی زرا سا وقت نھیں ہے دو گھڑی نماز پڑھ کے اپنی ماں کی مغفرت کی دعا کر کے اس کی روح کو سکون پہنچا دیا کرو، میں نے آج تک تم سے کچھ نھیں مانگا مگر میری بے چین روح تم سے کچھ مانگنے پہ مجبور کر رہی ہے، وہ کچھ دعائیں ھیں جو تم مجھے دے سکتے ہو۔
جلال اب زارو قطار رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ماں میں نے آپ کو زندگی میں بہت مایوس کیا تھا مگر اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو مایوس نھی کرونگا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔
اس دن سے لےکر آج تک جلال ہر نماز میں اپنی ماں کے لیۓ دعا کرتے ھیں اور گھر پہ بھی توجہ دیتے ھیں، ثمینہ اور بچے ان کی اس تبدیلی سے بہت خوش ھیں۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
چین, نماز, نظر, ماں, آج, انداز, بیوی, بے, بچپن, بچوں, جواب, خوش, دل, دنیا, دعا, دعائیں, زندگی, سیر, شور, شادی, عورت, عجیب, عرصہ, غلط, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:09 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger