واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو افسانے




ہاتھ سے جنت بھی گئی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-04-11, 05:47 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,984
شکریہ: 1,151
6,261 مراسلہ میں 14,128 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہاتھ سے جنت بھی گئی

ہاتھ سے جنت بھی گئی

اْسکے چیتھڑے اڑ چکے تھے ، سردھڑسے جدا ہوچکا تھا، عجیب سا دھماکا ہوا تھا بہت زور کی آواز ہوئی تھی، اسکے تن کے خون کا رنگ بھی سیاہ ہوگیا تھا جیسے خون میٖںآکسیجن کی آمیزیش بند ہوگئ ہو، پھر بھی اْسکا جسم کانپ رہا تھا جیسے ابھی کوئی رمق باقی ہو ۔ ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا ایسے میں اْسے لگ رہا تھا جیسے کوئی اْس سے کچھ پوچھ رہا ہو ۔
’’ یہ تم نے کیا کیا؟‘‘
’’میں نے !میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘ اْس نے اُس انجانی آواز کو جواب دیا۔
’’لیکن پہلے یہ تو بتاؤ تم ہو کون اور تم مجھ سے اس قسم کا سوال کیوں کررہے ہو؟ ‘‘
اْسنے اْس انجانی آواز سے پوچھا۔
’’ میں ، میں تو موت کا فرشتہ ہوں اس لئے تم مجھے بالکل صحیح صحیح جواب دو۔‘‘
’’کیا تم موت کا فرشتہ ۔۔۔۔۔۔‘‘ ڈر سے اسکا جواب بھی ادھورا ہی رہ گیا۔۔مو ت کے فرشتے نے اپنا سوال پھر سے دہرایا۔
’’ ہاں بتاؤ یہ تم نے کیا کیا؟ تم نے آخران معصوموں کی جان کیوں لی؟کیوں بے قصوروں کو تم نے اس بے دردی سے مار ڈالا، اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بھی جان لے لی۔۔ آخر کیوں؟ ‘‘
’’ میں نے۔۔۔ میں نے وہ خوف سے ہکلا رہا تھا۔‘‘ موت کا فرشتہ پھر بولا۔
’’ اچھا یہ تم ڈر کیوں رہے ہو؟ ڈرنا تو تم کواْس وقت چاہیے تھا جب تم نے اپنے جسم میں بم باندھا تھا ، اب کیوں؟ اب تو تم مرچکے ہو، اب کیسا ڈرنا؟ ‘‘
’’ میں مر چکا ہوں تو تم مجھ سے اتنے سوال کیوں کررہے ہو؟ مجھے تو میری تنظیم نے بتایا تھا کہ ایسا کرنے سے میں سیدھا جنت میں جاؤں گا، پھر یہ سوال جواب کیوں؟ تم موت کا فرشتہ ہو تو مجھے فوراً جنت میں لے کر چلو۔۔۔‘‘
’’ ہا ہا ہا ۔۔‘‘ موت کے فرشتے نے اْس کی یہ بات سن کر بہت زورسے قہقہ لگایا۔۔۔’’آہا تم جنت میں جانا چاہتے ہو، بہت خوب، معصوم بچوں، عورتوں اور مردوں کو ناحق قتل کرکے تم جنت میں جا نا چاہتے ہو، ارے تم نے تو اپنے جسم کا بھی خیال نہ رکھا جو خدا نے تمھیں امانت کے طور پر دیا تھا اور اس خودکش حملے میں خود کی بھی جان لے لی اور کہتے ہو کہ جنت میں جاؤ گے ۔‘‘
’’ہاں مجھے جنت میں لے چلو۔۔۔۔۔میری تنظیم نے مجھ سے یہی کہا تھا کہ ایسا کرنے پر مجھے فوراً جنت میں داخل کردیا جائے گا۔‘‘
’’اچھا یہ تم بار بار میری تنظیم میری تنظیم کی رٹ کیوں لگا رہے ہو ، آخر یہ تنظیم ہے کون؟ یہ تو بتاؤ ۔۔‘‘ موت کے فرشتے نے سوال کیا۔
’’ نہیں نہیں میں نہیں بتاسکتا اپنی تنظیم کا نام۔‘‘
’’ اچھا یعنی کہ تم اب بھی اپنی تنظیم کے وفادار ہو؟‘‘
’’ ہاں میں وفادار ہوں، کیونکہ انھوں نے مجھے بہت کچھ بتایا تھا، بہت سارے وعدے کیے تھے انھوں نے مجھ سے۔‘‘
’’ آہا ، اچھا یہ تو بتاؤ کیا وعدے کیے تھے ؟
’’ بتا تو رہا ہوں، تم مجھے جنت میں لے چلو میں تم کو سب کچھ بتادوں گا۔‘‘
’’جنت میں اور تم کو؟‘‘ موت کا فرشتہ پھر عجیب سے انداز میں ہنسا۔ ’’ارے تم تو ایسے گنہگار قاتل ہو جس کا جسم بھی مکمل نہیں، سردھڑسے الگ ہے، بازوں پیروں کا کچھ پتہ نہیں ہے، میں تمہیں کہاں کہاں سے اکٹھے کروں، تم تو تم ہو ہی نہیں، اتنی بکھری لاشوں میں تو اب تفریق کرنے کو بھی نہیں ہے، جب تمھارے مکمل وجود کا پتہ ہی نہیں ہے تو تم اس حالت میں جنت میں کہاں جاسکتے ہو ۔ یہ تو تم بھول جاؤ۔‘‘
’’ ایسا کیسے ہوسکتا ہے مجھے تو یہ بتایا گیا تھا کہ میرا جس مذہب سے تعلق ہے اْسکے لوگ ایسا کرنے پر بھی جنت میں چلے جاتے ہیں۔‘‘
’’آہ کاش تم نے مذہب کو سمجھا ہوتا۔۔ مذہب ، دنیا میں تو ایسا کوئی مذہب ہے ہی نہیں جو معصوم انسانوں کی جان لینے کی تبلیغ کرتا ہو، چہ جائکہ تمہارا مذہب ، اور کوئی مذہب یہ بھی نہیں کہتا کہ ایسا کرنے والے کو جنت ملے گی۔‘‘
’’لیکن میں کیا کرتا مجھے تو اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا، انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں ایسا کروں گا تو میرے گھر والوں پر سے غریبی کا سایہ اٹھ جائے گا اور سب ٹھاٹ کریں گے۔اور دوسری طرف جنت بھی ملے گی، سو میں نے یہ قربانی دے دی۔‘‘
’’اچھا یعنی دنیا کی زندگی اور موت کے بعد کی زندگی ۔۔۔دونوں چیزوں کا وعدہ کیا تھا تمہاری تنظیم نے؟‘‘
’’ ہاں میرا تعلق غریب گھرانے سے ہے ، بڑی محنت کرکے میں اپنے دوسرے بھائی بہنوں کا اور ماں کا پیٹ پالتا تھا، ا نھوں نے وعدہ کیا ہے کہ میر ے بعد وہ میرے گھر والوں کا بہت خیال رکھیں گے اور وہ لوگ وہاں ٹھاٹ کریں گے اور میں یہاں جنت میں۔۔۔‘‘
’’آہ کاش ایسا ہی ہوتا۔۔لیکن تم کتنے احمق ہو! محنت مزدوری کرکے خود اور اپنے گھر والوں کو پالتے رہتے تو شاید محنت کرکے تم ایک دن اچھے دن بھی دیکھ لیتے۔لیکن۔۔۔‘‘
’’لیکن کیا ہوا۔۔۔میرے بعد میرے گھر والے تو دیکھ رہے ہوں گے اچھے دن ۔‘‘
’’تمھیں یقین ہے کہ وہ ایسا ہی کریں گے؟‘‘
’’ ہاں کریں گے وہ تو اْس وقت سے ہی کرنا شروع کردیا تھا جب میں اس حملے کی ٹریننگ لے رہا تھا ۔‘‘
’’اچھا، پر اب وہ ایسا کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ ‘‘
’’ نہیں نہیں وہ ایسا ہی کررہے ہوں گے ، میرے گھر والے اب ٹھاٹ سے زندگی گزاررہے ہوں گے۔‘‘
’’ اچھا اگر تمھارا یہی خیال ہے تو کچھ دن تک یہیں پڑے سڑتے رہو۔۔میں پھر بعد میں آؤ ں گا۔‘‘ یہ کہتے ہی اچانک موت کے فرشتے کی آواز آنا بند ہوگئی ۔
’’ سنو تو ۔۔۔تم سنو تو۔۔۔‘‘وہ آواز دیتا ہی رہ گیا۔اْسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی لمبی خاموشی چھا گئی ہو۔۔۔اک لمبا عرصہ تیزی سے گزر گیا ہو۔ ۔۔موت کا فرشتہ ابھی تک واپس کیوں نہیں آیا۔۔۔۔جس موت کے فرشتے سے اْسے پہلے ڈر لگ رہا تھا وہ اب اْسی کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔۔۔پھر اسے لگا کہ کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔
’’ کوئی ہے یہاں کیا؟‘‘ اْس نے آواز لگائی ۔
’’ہاں میں ہوں ۔۔ میں واپس آگیا ہوں ۔‘‘ موت کے فرشتے نے جواباً کہا۔
’’ آؤ میرے ساتھ چلو ، میں تم کو لے کر چلتا ہوں تمھارے خاندان کے پاس، تم خوددیکھ لینا کہ تمھارے گھر والے کس طرح ٹھاٹھ سے زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘
موت کے فرشتے نے بات ختم کی ہی تھی کہ اْسے ایسا لگا جیسے وہ بڑی تیزی سے کسی اونچائی سے نیچے کی جانب جارہا ہو۔
’’ارے ارے یہ تم کہاں لے جارہے ہو۔‘‘
’’ چلو تو میں دکھاؤ ں تم کو۔۔۔‘‘
’’ ارے ارے مجھے یاد آرہا ہے ۔۔یہ تو یہ تو میرے گھر کے قریب کا علاقہ ہے۔‘‘
’’ ہاں یہ تمھارے گھر کے قریب کا ہی علاقہ ہے، دیکھو اْس شخص کو پہچانتے ہو؟‘‘
’’ ہاں ہاں یہ تو میرا چھوٹا بھائی ہے جو اسکول میں پڑھتا تھا۔۔۔ہاں دیکھو وہ کیا کررہا ہے۔۔۔ٹریفک سگنل پر کھڑی گاڑیوں کے درمیان چل چل کر ہاتھ پھیلا رہا ہے۔‘‘
’’ارے کیا یہ بھیک مانگ رہا ہے ؟‘‘
’’ہاں دیکھاتم نے، اور دیکھو گے۔۔۔آگے چلو۔۔۔وہ دیکھو اْس عورت کو جانتے ہو؟‘‘
’’ ارے ہاں یہ تو میرا ہی گھر ہے اور یہ میری ماں ہے۔
اس کو کیا ہوا ہے ؟ یہ بستر سے کیوں لگ گئی ہے ؟ اتنی بیمار لگ رہی ہے۔ ارے یہ تو درد سے تڑپ رہی ہے اس کو کوئی دوا کیوں نہیں دیتا؟
’’ ہاں دیکھ لیا تم نے اپنے خاندان کے ٹھاٹ۔‘‘
’’ او میرے خدا۔۔۔یہ سب میں کیا دیکھ رہا ہوں، میں جب زندہ تھا تو میری محنت سے گھر تو چل رہا تھا، روکھی سوکھی میں گزارا تو ہوہی رہا تھا ۔۔۔کم ازکم بھیک مانگنے کی ضرورت تو نہیں آئی تھی ۔۔۔۔یا خدا یہ کیا ہوا یہ میں نے کیا کیا۔۔‘‘وہ چیخ پڑا۔
’’ نہیں۔۔‘‘
اچانک سے اْسکے جسم میں حرارت پیدا ہوئی۔۔۔خون کا رنگ پھر سے سرخ ہونے لگا، جیسے کہ آکسیجن کی ملاوٹ پھر سے شروع ہوگئی ہو۔۔لیکن جسم کی کپکپی میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی۔۔اْس نے اپنے آپ کو چھونا شروع کیا۔۔ارے میرے ہاتھ پاؤں، سر سبھی سا لم ہیں۔۔۔میں تو شایدسانس بھی لے رہا ہوں۔۔۔او میرے خدا ۔۔۔یہ میں کیا کوئی خواب دیکھ رہا تھا؟ ۔۔۔او ہاں یہ اک خواب ہی تھاکتنابھیانک خواب۔۔۔ او میرے خدا یہ میں کیا کرنے جارہا تھا۔۔۔؟
پھر عامر جان اپنے خاندان کو لے کر نہ جانے کونسی بستی میں چلاگیا ۔۔۔کسی کو کچھ بتائے بغیر۔۔۔شاید تنظیم کے ڈرسے۔۔

تحریر: سید انورظہیر
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
مہتاب (12-04-11), محمدمبشرعلی (12-04-11)
پرانا 12-04-11, 12:05 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,605
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-04-11, 10:27 AM   #3
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
کمائي: 22,536
شکریہ: 861
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت ہی اچھی اور مبنی بر حقیقت تحریر ہے

زارا بہنا اللہ پاک آپکو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور اپنے حبیبِ معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بابرکت صدقہ سے آپ پر اور سید انورظہیر صاحب پر مزید نزولِ رحمت فرمائے (آمین)
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
مہتاب آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-04-11, 11:13 AM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,984
شکریہ: 1,151
6,261 مراسلہ میں 14,128 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نیک دُعاؤں کا شُکریہ مہتاب بھائی، جزاک اللہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کیسا, گھر, لوگ, مکمل, موت, ماں, انداز, بھائی, بے, جواب, خون, خودکش, خدا, دیکھو, دنیا, زندگی, سوال جواب, شخص, عورتوں, علاقہ, عامر, عجیب, عرصہ, غریبی, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ماں ساتھ ہے تو سایہ قدرت بھی ساتھ ہے راجہ اکرام شعر و شاعری 24 09-06-11 02:36 PM
نیلم آپی سے معذرت کے ساتھ!!! عبداللہ آدم آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 8 12-02-11 01:41 PM
کبھی مجھ کو ساتھ لے کہ سیپ شاعری اور مصوری 0 11-02-11 10:19 PM
وکی لیکس کے ڈرون حملے جاری، دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی بمبارمنٹ، پول کھلنے لگے جاویداسد خبریں 1 01-12-10 01:59 PM
افغانستان: فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور ترقیاتی کام کی بھی ضرورت ہے: ہلری کلنٹن راجہ اکرام خبریں 1 01-02-10 05:25 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:15 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger