واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




آندھی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-12-11, 05:20 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,515
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آندھی

آندھی

آندھی

شہر سے تھوڑا سا باہر گلشن کالونی سے 5 یا 6 کلو میٹردور ایک کچی سے دو راہے پر آموں کی خوشبو نے اس قدر معیوب کیا کہ منہ میں ایک دم سے پانی آ گیا۔ وقت کی کمی کے باوجود گاڑی کو کھڑی کر کے تھوڑی سی سیر کرنے کو جی چاہا۔ زندگی میں اکثر دل کی آرزو کو دماغ کے حقائق پر ترجیح دی اور سیر آموں کے اس خوشبو سے سحر آمیز ہونے کو نکل ہی پڑا۔ دائیں اور بائیں پیڑوں پر لٹکے ہوئے آم ایک دم سے لڑکپن کی یاد دلانے لگے۔ جب مالی کو دیکھ کر دھیرے دھیرے عقب سے باغ میں گھس کر پتھر سے آم کا نشانہ لینا اور آم کے گرتے ہی، اس تھام کر، پوری توانائی سے نو دو گیارہ ہونا۔ عمر کے اس حصے میں بھی ایسی ہی شرارت کرنے کو دل کر رہا تھا۔

ابھی لڑکپن کی اس ہی یاد میں تھا کہ بدن کے دائیں جانب سے ایک پر سوز گیت گنگنایا، "یہ وادیاں چھپنے لگیں" ، تب ایک جھٹکے سے خیال آیا کہ موبائل فون بج رہا ہے۔ فون کے اٹھاتے ہی اویس نے تزبزب لہجے میں پوچھا کہ "کہاں رہ گئے ہو"۔ میں نے اویس کو کہا کہ مجھے کچھ دیر ہو جائے گی۔ اویس بولا کہ خانیوال سے ایک پارٹی آئی ہے جو کچھ جلدی میں ہے اور فرنیچر کی ڈیلیوری 2 دن میں چاہتی ہے۔ میں نے بہت چڑ کر کہا کہ اویس ان سے کہو کہ انتظار کریں، اور فرنیچر کی ڈیلیوری دو دن میں کسیے ممکن ہے، اس پارٹی سے خود ہی اس کا حل پوچھ لو
__________________
نہیں ہوں پر میں قائل شدت پسندی کا
میں ترے عشق کی آخری حد چاہتا ہوں

اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
wajee (29-12-11)
پرانا 04-01-12, 02:06 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,515
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ظہر کا وقت ہو گیا تھا۔ واپسی پر آم خریدنے کا ارادہ کر لیا تھا اور پھر اویس کے پیغام نے رنگ میں بھنگ بھی ڈال دیا تھا۔ خیر، میں اپنی گاڑی کو آفس کی طرف دوڑا دیا۔ راستے میں جب فوارہ چوک آیا تو واقعی سر پکڑ کر رہ گیا۔ سکول کا رش، گدھا گاڑی، بسوں کے غیر ضروری ہارن اور پیدل لوگوں کے غول در غول ایک دوسرے پر چڑھ رہے تھے اور میں گاڑی میں بیٹھا کبھی لوگوں کو دیکھ رہا تھا اور کبھی اپنا چہرہ شیشے میں بار بار دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ چوک کے عقب میں سکول کی کیا تک ہے؟ سوچ رہا تھا کہ لوگوں کی یہ بے چینی اسلام کے خلاف عمل نہ کرنے سے ہے یا قانون کے خلاف عمل نہ کرنے سے ہے۔

پون گھنٹے کے بعد جب آفس پہنچا تو وہ ہی بات ہوئی جس کا ڈر تھا۔ وہ گاہک جو فرنیچر لینے آئے تھے وہ لوٹ گئے اور آموں کے چکر میں ایک گاہک گنوا بیٹھا۔ خیر، آموں کی خوشبو بالکل بھی دماغ سے نہیں جا رہی تھی اور گھر جاتے جاتے دو کلو چونسے آم تلوا لیے اور انگور اور کیلوں کے ساتھ جب دوکاندار نے 520 روپے کہا تو ایک لمحے کے لیے جیسے دماغ منجمند سا ہو گیا۔ لیکن پھر حواس پر قابو پا کر 1000 کا نوٹ نکال کر دے دیا۔ بقیہ پیسے لیکر جب گاڑی کے پیٹرول ٹینک کودیکھا تو 470 روپے ایندھن پر خرچ کر دیئے کیونکہ سی این جی کی توتین دن تک امید ہی نہیں تھی
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں فیصل ناصر خبریں 2 01-12-10 08:35 AM
جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر جاویداسد خبریں 1 18-07-10 04:59 PM
جیکب آباد : پی ایس 15 سے پی پی پی کے میر حسن کھوسہ کامیاب عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:47 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger