واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




اجنبی رات اور صحرا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-08-07, 09:59 AM   #1
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,320
شکریہ: 18,821
12,629 مراسلہ میں 29,414 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اجنبی رات اور صحرا

اجنبی رات اور صحرا

اجنبی رات اور صحرا

شہر سے چلتے چلتے اسے احساس ہی نہ ہوا کہ وہ کتنا دور جا چکا ہے۔ رات کا اندھیرا اور صحرا مگر جانے کہاں جانا چاہتا تھا۔ شاید اپنی منزل کھو چکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت اور گالوں پر آنسو کب کے خشک ہو چکے تھے۔ سردی بڑھتی جا رہی تھی اور سامنے صرف صحرا ، درخت پودے سب بہت پیچھے رہ گئے تھے۔شاید وہ اپنی ویران زندگی کو ویرانے میں ہی لانا چاہتا تھا۔ کچھ یادیں آتے ہی اس کی آنکھیں پھر بھیگنے لگیں ۔ ڈبڈبائی آنکھوں میں اسے آگ نظر آئی اور بے خیالی میں اس کے قدم اسی طرف اٹھنے لگے۔ اس نے اپنی آنکھیں خشک کیں سردی کا احساس اسے آگ کی طرف کھینچ لایا تھا۔

آگ کے سامنے دو آدمی خاموش بیٹھے تھے۔ وہ چپ چاپ آگ کے پاس بیٹھ گیا۔ ان دونوں سے نظریں ملیں اور سر کی ہلکی جنبش اور ناکام مسکراہٹ کے ساتھ وہ سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ اسے ایک عجب احساس ہوا کہ یہ دونوں بہت اداس ہیں۔
کافی دیر تک خاموشی رہی۔ آگ کی حدت تھوڑا سکون دے رہی تھی مگر دل کی بے سکونی کا کیا مرہم۔
تینوں ایسے گم سم تھے جیسے پتھر کے بت ہوں ادھیڑ عمر شخص کے کھنکارنے پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگا مگر دوبارہ خاموشی چھا گئی۔
ہمیشہ یہی لگا کہ زندگی کی سمجھ آ گئی ہے مگر کچھ نہ کچھ رہ جاتا۔ ادھیڑ عمر شخص کی آواز نے دونوں کو اس کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ مگر وہ جیسے اپنے آپ سے ھی باتیں کر رہا ہو۔
زیب صاحب کوئی بھی شخص مکمل نہیں ہوتا اسی لئے کہیں نہ کہیں ہم سمجھ نہیں پاتے۔
زیب ۔ ٹھیک کہتے ہو جمیل مگر جب اپنے ہی ہم پر اعتماد نہ کریں تو دل خون ہونے لگتا ہے۔
جمیل ۔ مجھے تو اپنوں نے ہی دھوکہ دیا اب تو اعتماد کسی پر کرنے کو دل ہی نہیں چاہتا

ادھیڑ عمر شخص نے اس کی طرف رخ کیا اور نام پوچھا۔
احسن
زیب ۔ تم اتنے اداس کیوں ہو۔ آنسو تو خشک کر لئے ہیں مگر نشان رہ گئے ہیں۔
احسن کچھ نہ بولا۔ جمیل نے بسکٹ کا پیکٹ کھولا اور زیب کی طرف پہلے بڑھایا پھر احسن کی طرف۔ دونوں نے چند بسکٹ لے لئے۔

آسمان پر تاروں کی چمک اور نیچے روشن آگ اور اس کے پاس بیٹھے تین افراد لگتا تھا شاید دنیا کے کسی اور کونے میں بیٹھے ہوں یہ لوگ ، سب سے الگ تھلگ ۔
جمیل نے ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا کیا ہم اس رات کے اجنبی لوگ کیا اپنا درد کم نہیں کر سکتے؟
زیب ۔ اگر آپ نے بات کر لی ہے تو آپ بتائیں اس رات میں صحرا کا رخ کیوں؟
جمیل ۔ (کچھ دیر خاموشی کے بعد) اعتماد کبھی کبھی انسان کا دشمن بن جاتا ہے۔ میرے بچپن کا دوست لقمان اور میں نے ایک کاروبار شروع کیا تھا سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ اسے میں بچپن سے جانتا ہوں میں ایک ماہ کے لئے کاروباری سلسلے میں سنگاپور گیا واپسی پر وہ سب کچھ بیچ کر غائب ہو چکا تھا۔ اس کا کوئی عزیز کوئی رشتہ دار بھی نہیں ہے جس سے پتا کرتا۔ ایک پل میں انسان کتنا بدل جاتا ہے۔ پانچ سال کی محنت پل میں برباد ہو گئی۔ شادی بھی کرنی تھی مگر اب شمائلہ کے گھر والوں کے سامنے خالی ہاتھ کیسے جا کر رشتہ مانگوں۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد جمیل نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔ خواب کیسے ٹوٹتے ہیں پتا بھی نہیں چلتا۔
زیب ۔ بہت افسوس ہوا سن کر زندگی بھی عجب ہے ہر جگہ کچھ اور رنگ لئے ہوئے ہے۔ میری اپنی اولاد میرا کہنا نہیں مانتی۔ میری بیٹی جس سے شادی کرنا چاہتی ہے وہاں میں نہیں چاہتا کہ وہ شادی کرے۔ آج اس نے رو رو کر جھگڑا کیا مجھ سے اور زہر کھانے کی دھمکی دی ۔ میری محبت شفقت کا یہ صلہ ملا ہے۔
احسن ۔ محبت نام ہی درد کا ہے۔ ایک سال سے جسے اتنا جانتا تھا آج وہی مجھ سے انجان ہو گئی۔ بس فون پہ کہ دیا کہ ا س کے گھر والے نہیں مان رہے۔ مجھے بھول جاؤ۔ کیا کوئی اپنی زندگی کو بھول سکتا ہے۔ آج اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہا ہوں۔ بچپن سے لیکر اب تک ڈیڈی کی توجہ نہیں مل سکی۔ کاش امی زندہ ہوتیں۔ اب جب مجھے کسی کی چاہت اور توجہ ملی۔ وہ بھی قسمت کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی۔ اس کے گھر والے کاش ایک بار مجھ سے مل لیں مگر وہ مجھ سے ملنا ہی نہیں چاہتے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔
احسن نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا شاید وہ اپنے آنسو ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔
جمیل ۔ بہت افسوس ہوا دوست۔ کاش ہمارے بزرگ ہمیشہ ہم سے اعتماد کا تقاضہ کرنے کی بجائے کبھی کبھی ھم پر بھی اعتماد کرنا سیکھ لیں۔
تین اجنبی ساری رات بیٹھے رہے آگ جلتی رہی سوچ کے بھنور میں جکڑے
ہوئے بے بس لوگ۔صبح ہونے کو تھی تینوں اجنبی اپنے راستوں پر نکل پڑے۔
تین دن بعد احسن تیار ہو رہا تھا۔ آج اس کی خوشی کی جہاں انتہا تھی وہاں ایک ڈر بھی۔ وہ افشاں کے گھر جا رہا تھا اس کے رشتے کے لئے ۔ اس کے ڈیڈی نے آواز دی احسن جلدی کرو۔
گاڑی روانہ ہوتے ہی اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔ اگر انہوں نے رشتہ منظور نہ کیا یہ سوچ کر ہی دل اداس ہونے لگتا۔ عجیب کشمکش تھی۔ گاڑی رکی تو احسن چونکا۔ ایک لڑکا انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھا کر چلا گیا۔ اتنے میں ایک جم غفیر امڈنے لگا مختلف دروازوں سے۔ سب سے آگے زیب صاحب اور جمیل کو دیکھ کر احسن کو حیرت ہوئی۔ یہ تو صحرا کی رات کے ساتھی ہیں۔ احسن بڑے تپاک سے ان سے ملا اور حیرانگی سے پوچھا آپ یہاں کیسے۔
جمیل ( قہقہہ لگاتے ہوئے) زیب صاحب افشاں کے ڈیڈی ہیں۔ اور مجھے فنانس کر رہے ہیں میرے آئیڈیاز ان کو پسند آئے ہیں اب ہم مل کر کاروبار شروع کرینگے۔ انہوں نے مجھے بلایا کہ آج ضرور آؤں۔
احسن ۔ معافی چاہتا ہوں اگر مجھ سے کبھی کوئی گستاخی ہوئی ہو۔
زیب ۔ نہیں بیٹا اس رات مجھے احساس ہوا کہ اولاد کی پسند کو ایک بار دیکھنا اور پرکھنا ضرور چاہیے۔ اپنے فیصلے ان پر لاگو کرنے کی بجائے ان کی خواہشات کا احترام بھی کرنا چاہیے۔ اس رات مجھے دو بیٹے مل گئے ایک جمیل اور ایک تم۔ تمہاری باتیں سن کر مجھے یاد آیا کہ افشاں نے کسی احسن مشتاق کا کہا تھا۔ سب سمجھ آنے لگا۔
جمیل احسن کو باغیچے کی طرف لے گیا اور باقی سب لوگ آپس میں گھل مل گئے۔ دونوں باتیں کرتے ہوئے چہل قدمی کرنے لگے۔ احسن کی نگاہ بالکنی پر پڑی۔ جہاں شیشے کے پار اسے ایک مسکراتا چہرا نظر آیا۔ وہ اس کی افشاں تھی۔ جس کے چہرے کو خوشی نے چاند کی طرح روشن بنا دیا تھا۔ احسن کے ہونٹوں پر ایک اطمینان بھری مسکان تھی۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (11-04-08), عروج (12-10-10)
پرانا 11-04-08, 12:15 PM   #2
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,174
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اجنبی رات اور صحرا

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

بہت اچھا مراسلہ ہے
امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے
بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, پسند, قدم, لوگ, نظر, مکمل, محبت, آج, آدمی, اللہ, انسان, اجنبی, بچپن, خون, دوست, دل, رات, رشتے, زندگی, سال, شخص, عزیز, صحرا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:00 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger