|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,049
شکریہ: 5,185
5,035 مراسلہ میں 11,453 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا ذہن بھٹکتے بھٹکتے بالکل بھٹک جاتا ہے... میں سوچتے سوچتے کہاں سے کہاںپہنچ جاتا ہوں... میرے دوست... مجھے بچالو...میں بے فکری کی زندگی چاہتا ہوں... سکون والی اطمینان والی... خدا کے لیے میری مدد کرو...میری مدد کرو... فقط تمہارا دوست عبدالغنی فاروقی...“
اکرام الحق صاحب نے عجلت میں تمام خط گھر کے دروازے پر ہی کھڑے کھڑے پڑھ ڈالا... وہ نماز پڑھ کر واپس آرہے تھے کہ دروازے پر ڈاکیے کو کھڑے پایا... اس سے پہلے کہ وہ دروازے پر دستک دیتا... اکرام الحق صاحب نے آگے بڑھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا... اور ڈاکیے نے انھیں دیکھتے ہی جھٹ خط نکالا اور انھیں تھما دیا... عبدالغنی فاروقی سے ان کی دوستی لڑکپن کے زمانے میں ہوئی تھی... جب وہ ہائی سکول کی تعلیم حاصل کر رہے تھے... عبدالغنی ایک امیر گھرانے کا لڑکا تھا... اس کے والد کااپنا کافی بڑا کاروبار تھا... عبدالغنی مزاج اور عادات کے حوالے سے بذاتِ خود ایک اچھا لڑکا تھا... مگر گھر کے ماحول کا اثر تھا کہ دین سے برائے نام ہی تعلق تھا... نماز کبھی پڑھی، کبھی چھوڑ دی... روزے کا تصور بھی اس کے نزدیک عام عبادت جیسا تھا... اس کے برعکس اکرام کا رحجان مذہب کی طرف زیادہ مائل تھا... ان کے والدکاشتکار تھے مگر سچے پکے مومن تھے... وقت کاپنچھی اڑتا رہا... ہائی سکول کے بعد کالج کی تعلیم شروع ہوگئی... دونوں اب بھی اکٹھے تھے... کچھ عرصہ اور گزرا... اکرام صاحب کے لیے گھریلو حالات کے باعث مزید تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہوگیا تو انھوں نے ایک ملازمت کر لی... البتہ عبدالغنی تعلیم حاصل کرتا رہا... اور آگے بڑھتا چلا گیا... عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد عبدالغنی نے والد کی طرح کاروبار شروع کیا... ترقی کرتے کرتے وہ اس قدر آگے چلا گیا کہ ایک فیکٹری کا مالک بن گیا... یہ تو تھے ان دوستوں کے اجمالی حالات... اب ان کی سنیے... اکرام الحق صاحب اگرمتوسط آمدنی والے گھرانے کے مالک تھے مگر سکون کی لازوال دولت سے مالا مال تھے... ادھر عبدالغنی فاروقی صاحب... دنیاوی اشیاءاور آسائشوں سے بھرپور زندگی گزار رہے تھے...مگر ان کی زندگی میںسکون اور اطمینان کا نام و نشان مٹ چکا تھا... یہ حالت جب حدوں کو چھونے لگی تو بالآخر انھوں نے اپنے دیرینہ دوست اکرام الحق کے نام خط لکھ ڈالا... ادھر جب اکرام صاحب نے خط پڑھا تو وہ مسکرانے لگے... گویا وہ اصل وجہ سے واقف تھے... اگلے ہی دن وہ عبدالغنی کی کوٹھی میں موجود تھے... ”تمہارے خط سے معلوم ہوا کہ تم آج کل بہت پریشان ہو...بے چینی اور بے سکونی کے ”عارضے“ میں مبتلا ہو... تمہیں ایسا نسخہ بتاؤں گاجو آزمودہ بھی ہے اور انتہائی کارآمد بھی... عمل کرو گے تو معلوم ہوجائے گا... کیا خیال ہے بتاؤں...“اکرام صاحب نے کہا۔ ”ہاں ہاں! کیوں نہیں دوست! اسی لیے تو میں نے تم سے مدد کی درخواست کی تھی۔“ عبدالغنی بے تابانہ لہجے میں بولے... ”وہ نسخہ جو میں تمہیں بتانے جارہا ہوں... ایک بھولا ہوا سبق ہے... میں تم سے کچھ سوال پوچھوں گا... کبھی تم نے باقاعدگی سے نماز پڑھی...“ ”کیاکہا...“ عبدالغنی حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا... وہ توکسی اور سوال کا منتظر تھا... ”کبھی تم نے روزے اور صدقات ، زکوٰۃ کی پابندی کی... حج کیا“ اس کا سر نفی میں ہلنے لگا... اب اکرام صاحب بولے... ”یہی وہ سبق ہے... جسے تم نے چھوڑا تو اس قدر بے سکونی میں مبتلا ہوئے کہ خودکشی کا سوچنے لگے...میرے دوست اگر تم آج ہی سے نماز کی پابندی شروع کر دو، ذکر تلاوت کو روز کا معمول بنا لو، زکوٰۃ پابندی سے ادا کرناشروع کر دو... تو لازمی طورپر تمہارے حالات میں بہتری آئے گی... دولت کے نشے میںاتنامدہوش نہیں ہوا کرتے کہ جس نے یہ سب کچھ عطا کیا ہے، اسے ہی بھول جائیں... جس نے اچھے حالات دیے ہیں... اس کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیں... اس کے حقوق کو نظر انداز کر دیں... بس تم حقیقی معنوں میں مسلمان بن جاؤ... سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوجاؤ گے... دینِ اسلام تو سکون ہی سکون ہے...“ عبدالغنی فاروقی کی نگاہیں شکریے کا جذبہ لیے ہوئے اکرام صاحب کی طرف اٹھ گئیں... ان میں ندامت کے آنسوتیر رہے تھے
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,535
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی تحریرہے۔کس کی ہے۔کیا یہ آپ کی اپنی تحریر ہے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کالج, قدم, نماز, نظر, معلوم, آج, امیر, اسلام, تعلیم, خودکشی, خدا, دوست, درخواست, زندگی, عبادت, صدقات |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|