واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




بہار میرے دل کی۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-10, 10:24 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بہار میرے دل کی۔

بہار میرے دل کی۔

مجھے وہ بہت پیارا تھا۔ میںَ بہت محبتوں اور توجہ کی عادی جو نہ تھی ۔ والدین جو نہ تھے۔ ننھیال میں تھی۔ نہ تو وہ میرا کلاس فیلو تھا نہ ایج فیلو۔ ھاں اسکی اور میری عمر میں پندرہ سال کا فرق تھا۔ لیکن اس بڑے پن کے فرق کو میں نہ مانتی تھی، بھئی ذھنی ھم آھنگی ھونی چاھئیے، اس سے فرق نہیں پڑتا، وہ میرا ماموں زاد تھا ۔ملاقات جلدی نہ ھوتی مگر جب ھوتی تو میرے اوقات کے بیشتر گھنٹے اِسی کے ساتھ گزرتے، جب تک مَیں اپنے سکول پھر پڑھائی کی بلکہ دوستوں ،رشتہ داروں ،تمام تقریبات بلکہ شہرنامہ نہ سنا لیتی مجھے بے چینی رھتی۔ وہ یہ سب سمجھتا تھا،یعنی میرا اکیلا پن۔ اسی لیے چُپ چاپ ظاہراً توجہ اور شوق سے سنتا رھتا۔ جہاں سراھنا ھوتا وھاں سراھتا ،جہاں ٹوکنا ھوتا وھاں ٹوکتا۔ اسکے ٹوکنے پر مجھے اچھا لگتا،کیونکہ اس میں بھی مجھے اپنائیت محسوس ھوتی۔ مَیں تصوُّ رات کی دنیا میں ھر راہ ،ھر منزل پر اِسے ساتھ دیکھتی۔ اس میں میرا بھی قصور نہ تھا ۔نہ گھر والوں نے ،نہ اس نے خود ٹوکا یا دلبرداشتہ کیا۔ مَیں اپنی دُھن میں مگن شوق سے تعلیمی منازل طے کر رھی تھی جبکہ وہ تعلیم مکمل کر کے نوکری پر لگ چکا تھا۔ مگر اس کی میری باتوں میں دلچسپی اور ملاقاتوں کی روانی میں کمی نہ آئی تھی۔ یہی بات میرے لیے حوصلہ مند تھی ۔ میٹرک تک تو مَیں محبت کے معانی سے صرف اس حدّ تک واقف تھی کہ خون کے رشتے ھیں انکی مٹھاس قدرتی ھے اِنکی تکلیف یا خوشی قدرتی امر ھے۔ میری دوست کی منگنی ھوئی ، وہ کم گو ،پڑھاکو شگفتہ ، عجیب انداز کی باتیں کرنے لگی ۔ حتٰی کہ پڑھا ئی میں برائے نام دلچسپی لیتی۔ فائنل امتحانات کیوجہ سے مجھے بہت کوفت محسوس ھوتی جبکہ وہ برائے نام پڑھائی کرتی بلکہ بعض اوقات مجھے یوں محسوس ھوتا کہ وہ سکول محض اپنی باتیں مجھ سے شئیر کرنے آتی ھے۔ اسکے انداز اور بدلتے رنگ مجھے کبھی کبھار '' کچھ'' سوچنے پر مجبور کرتے۔ میں الجھ جاتی ۔ اس سے جگھڑ پڑتی کہ تمہیں تو اپنے منگیتر کے علاوہ بات ھی کرنا بھول گیا ھے؟ تو اس نے مجھے ایک سؤال کیا کہ تم اپنے کزن کی اتنی باتیں کرتی ھو وہ تو عشق کی انتہا ھے میری تو منگنی کی ابتداء ھے ۔میری باتوں سے تم ابھی سے تنگ آ گئی ھو میں تو دس سال سے مسلسل فہد کی گردان سُن رھی ھوں ، ایک ایک لمحہ جو تم نے اس کے ساتھ بِتایا، میں سنتی رھی یہ محبت نہیں تو کیا ھے ۔ مَیں چڑ گئی ، بھئی وہ میرا کزن ھے شروع سے ھماری کبھی لڑائی نہیں ھوئی، میں والدین کی محبت کی کمی اسے اپنے خیالات اور باتوں کو شئیر کر کے پوری کرتی ھوں تو اس میں محبت یا عشق کا کیا سؤال ؟ شگفتہ کو تو جلدی میں مَیں نے یہ جواب دیکر جان چھڑا لی۔ مگر گھر پہنچنے پر جتنا اس لفظ کے بارے میں سوچا ۔ مَیں حیرتوں کے سمندر میں ڈوبتی چلی گئی ۔ مجھے اقرار کرنا پڑا کہ اس قدر چاھت اور اعتماد بلکہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ماضی یا مستقبل میں ساتھ ، جدائی کا تو تصوّ ر بھی نہیں تھا، میرے نزدیک اس کی اھمیت اس قدر تھی کہ مجھے اس کا گمان بھی نہ تھا۔ شاید یہی محبت ھوتی ھے مجھے اقرار کرنا پڑا ۔پھر شگفتہ کی شادی ھو گئی میں نے فہد ھی کے مشورہ پر مضامین حتٰی کہ کالج کا بھی انتخاب کیا۔ وہ میری ھمیشہ کی طرح تمام مشکلات کا آسان حل دیتا رھا۔ مَیں اس تمام منظر کو اِک نئے انداز اور رنگ سے دیکھ رھی تھی۔ اور محبت کا رنگ تمام لمحات پر حاوی ھوتا جا رھا تھا ۔ یہی غلطی ھوئی میرے سمجھنے میں،مَیں فہد کی توجہ اور شفقت بھرے انداز کو محبت کا نام دینے لگی تھی ۔پھر وہ ھؤا جس کا مجھےگمان نہ تھا ،میرے امتحانات قریب تھے کہ مجھے گھر میں مچی ھلچل کا علم نہ ھؤا ۔جب بات میرے سامنے آئی تو میں پتہ نہیں کس زُعم میں اس کے کمرے میں دندناتی ھوئی جا پہنچی کہ بات کروں ،کس استحقاق پر ؟ یہ نہ سوچا ۔ کمرے میں جا تے ھی فہد کے ھاتھ سے کتاب چھین کر دور پھینک دی۔ اور گرج کر کہا اگر تم مجھ سے شادی اور محبت کا اظہار گھروالوں کے سامنے نہیں کر سکتے تو مجھے کہا ھوتا ۔مَیں ان کے سامنے تمہارے لیے دیوار بن جاتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زناٹے دار تھپڑ،،، مگر کیوں ؟؟؟میری سمجھ میں نہ آیا۔فہد نے مجھے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا ۔ میں حیراں۔۔۔ یہ محبت کا کون سا انداز ھے؟ میں اس کی خاطر گھر والوں سے لڑنے کا ارادہ ظاھر کر رھی ھوں یہ مجھے اس طرح سراہ رھا ھے ؟پھر الفاظ جو مجھے سنائی دئیے وہ کسی بم سے کم نہ تھے۔ محبت کیسی محبت؟ میں تو اپنے اندر بہن کی کمی تمہاری صورت پوری کرتا رھا ۔ تم کیا نکلی خود غرض ،مطلبی؟ تم مجھے استعمال کرتی رھی اپنی ذھنیت کے مطابق۔ میں تو تمہاری توجہ کو سچی اوربے لوث سمجھتا رھا ۔ تم کیا نکلی؟ مجھے ھوش آیا مگر وہ کمرے سے کیا ملک سے بھی جا چکا تھا ۔اس نے اپنی تو سنائی میرےجوابات بھی سن لیتا۔کیا کسی سے محبت کرنا خود غرضی یا مطلب پرستی ھی ھے ۔ھاں مجھ سے یہ غلطی ھوئی کہ مَیں محبت کی ترسی یہ سوچ بیٹھی کہ اتنی گہری اور قریبی محبت کھو نہ بیٹھوں ۔ وہ ملک سے کیا گیا مجھے اپنی ھی نظروں میں شرمندہ کر گیا۔ اس کے والدین اس کے سر سہرا سجانے کی آس لئے بیٹھے تھے کیونکہ فہد کی نوکری پکی نہیں ھو پا رھی تھی کیونکہ اس کی تعلیمی کار کردگی اتنی اچھی نہ تھی ۔پھر پرائیویٹ کمپنیوں والے اچھے سے اچھے اور قابل شخص کی تاک میں ھوتے ھیں اس طرح اسے بار بار نکالتے رھے ۔اب جبکہ اسے اچھے رتبے اور رشتے کی توقع تھی اس نے رمشہ سے رشتے کی حامی بھر ی۔ علم نہ تھا کہ وہ کب اسے چاھنے لگا تھا۔ اس بات کا ذکر جو اس نے مجھ سے نہ کیا تھا ۔مجھے بس اتنا علم ھؤا کہ رمشہ کے والدین نے رمشہ کو اس کی ضدّ پر تعلیم کے لیے باھر بھجوایا تھا۔ ابھی فہد کی نوکری جو پکی اور اونچی نہ تھی۔ میری اس غلطی کے بعد رمشہ تو واپس نہیں آئی بلکہ فہد ھی کمپنی والوں کی مدد سے وھاں پہنچ گیا۔ وقت کا کام گزرنا تھا ۔پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا۔میں نانی کی مخالفت کے باوجود ایم ۔ اے جرنلزم کرنے میں کامیاب ھو گئی ۔کسی سے کہہ سُن کر ایک رسالے کے دفتر میں کام کرنے لگی ۔ جس نے بھی شادی کاکہا میرا ''نہ'' کہنا ھاں میں نہ بدلنا تھا نہ بدلا۔سو شادی نہ ھوئی ھر کوئی مایوس ھی ھؤا۔ نوکری کرتے سالوں گزر گئے ۔دل اپنی ڈگر پر چلتا رھا جبکہ وقت اپنی۔ مجھے آخری سانس تک فہد ھی کا انتظار تھا۔اک یقین تھا کہ عمروں اور رشتوں کا یہ فرق مٹ جائے گا۔ آخر انسان ھے کبھی تو میری چاھت اُسے بلا لائے گی۔آج صبح سے بارش ھو رھی تھی ۔ گرمی کا زور ٹوٹ چکا تھا ھلکی ھوا چلنے سے حبس بھی نہیں تھا ۔شاید آج میرے اندر ھی گھٹن کم تھی ۔ میں پائپ اور وائپر اٹھائے صحن کی طرف بڑھی ۔وھیں جھاڑو نظر آگیا دل مطمئن ھؤا کہ جھاڑو ڈھونڈھنے کی زحمت سے بچ گئی۔دوپٹہ کمر سے باندھا ، پائینچے چڑھائے ،نل کھولا اور صحن دھونے لگی درختوں کے پتوں نے خوب کچرا کر رکھا تھا ۔ ھاں شاید خزاں میں سبھی پتے جھڑ جائینگے۔ خزاں کا خیال مجھے اُداس کر گیا ۔ایک عجیب سی اُداسی جو سارہ کی شا دی پر جانے سے چند دن پہلے تک تھی عود آئی۔ بڑی کوفت ھوتی تھی اس اُداس بے رنگ موسم سے۔ شاید اندر کے موسم میں بھی اس کا اثر گہرا ھو جاتا ؟؟ مَیں ادھ دھلے صحن پر ایک نظر مار کر باقی صحن دھونے میں جُت گئی ۔ دروازہ زور سے بجا ۔ مَیں اپنی توجہ دروازے کی طرف مبذول کرانے میں منہمک تھی۔ کون آ سکتا ھے؟ اسوقت تو دودھ والا یا کچرے والا ھی ھو سکتا ھے۔ مَیں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی ۔ لیکن پوچھ تو لُوں ۔ مَیں نل بند کر کے دوپٹہ کھولتی ھوئی بے دلی سے آگے بڑھ رھی تھی ۔ کام ادھورا رہ جانے پر مجھے غصّہ آ رھا تھا۔ کون ؟ کون؟ کوئی نہ بولا۔ مَیں نے سوچا ھو نہ ھو کچرے والا ھے جو کہ ھماری توجہ نہ پا کر دوسرے گھر کی طرف متوجہ ھو گیا ھو گا۔ مَیں نے سوچا کچرا باھر نکال کر دروازہ بند کر لونگی وہ خود ھی کچرا لے جائے گا ۔شاپر بند کر کے مَیں نے دروازہ کھولا ، شاپر باہر رکھ کر دروازہ بند کر کے کنڈی چڑھانے لگی تھی کہ دروازہ باہر سے دھکیلا گیا مَیں حیران ھوئی کچھ نہ سمجھتے ھوئے پیچھے کو ھٹی ۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔۔۔۔ وہ چہرا جسکا مَیں نے برسوں انتظار کیا تھا ۔ میرے سامنے تھا۔ نگاھیں مایوس ھونا چاھتیں دل دلیلیں دے کر آس کے ٹمٹماتے بجھتے دئیے کو نئی زندگی بخشنے لگتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ یہ تم ھو فہد ؟ کیا تم نے مجھے معاف کر دیا ؟ جو یوں پا کستان چلے آئے ۔۔۔۔ ۔ فہد۔۔۔۔ ف ۔ ۔ ۔ ف۔ ۔ ۔ یہ الفاظ زبان پر پھسلتے پھسلتے مَیں بے ھوش ھو گئی ۔ بی یقینی کی کیفیت انسان کو یوں ھی ھلا کر رکھ دیتی ھے۔مجھے ھوش آیا تو مَیں اپنے کمرے میں تھی ملگجا اندھیرا ، گہرا سکوت ۔مَیں نے وقت کا اندازہ لگایا ،شاید رات تھی سبھی سو رھے ھونگے؟ مَیں نے سوچا کیا میرا مقدر بھی سو رھا ھے یا جاگ چکا ھے؟ صبح ناشتے پر خوب رونق تھی۔ یہ بچُی کون ھے ؟ مَیں نے آھستہ سے پاس بیٹھی رمیہ سے پوچھا ؟ اسکے بولنے سے پہلے فہد چہک کر بولا یہ میری بیٹی ھے رابی۔ رابعہ فہد۔ مَیں سمجھ گئی اس نے رمشہ سے شادی کر لی تھی۔ لیکن وہ آئی کیوں نہیں ؟ کیا جو میرا دل سوچ رھا ھے ،چاہ رھا ھے ، ویسا ھو جائے گا ۔مَیں خُود کو فریب دینے لگی شاید حالات ایسا رخ اختیار کر جائیں کہ مجھے میری منزل مل جائے ۔ ۔ ۔ فہد کو آئے بہت دن ھو گئے۔ نہ اس نے میرے وجود کو قابلِ اعتنا سمجھا نہ پاس بیٹھا نہ اپنی سنائی نہ میری پوچھی ۔ مَیں اتنی غیر اھم تو نھیں ۔ کیا اس نے میرے متعلق کسی نہیں پوچھا ۔ مَیں اب تک اسکی آس لگائے بیٹھی تھی ، اسنے آکر مجھ سے بات نہیں کی ۔ مَیں روز اسی اُمید پر آفس جاتی کہ شاید اسکی نگاھیں واپسی پر میری راہ تک رھی ھوں ۔ ایک دن یہی سوچتی گھر داخل ھوئی کہ ھلچل گہما گہمی نے استقبال کیا۔ مَیں حیران سی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ رات کے کھانے کی تیاری میرے ذمّہ ھوتی تھی ۔ تھوڑا آرام کرنےکے بعد مَیں کچن کا رخ کرتی تھی۔ حسبِ معمول مَیں اپنے کمرے سے نکلی ۔فہد سے ٹکراؤ ھؤا۔وہ میرے پیچھے کچن میں آ گیا ۔مَیں اپنے لیے چائے بنانے لگی تھی مروتاً فہد سے بھی پوچھا۔وہ ھاں کہتے ھوئے سٹول کھینچ کر بیٹھ گیا ۔ پھر گویا ھؤا ۔مَیں واپس جا رھا ھوں ۔ کبھی نہ آنے کے لیے ۔ مَیں چونکی ۔ ۔ ۔ پھر ذرا سنبھل کر بولی ۔ مجھے کیوں بتا رھے ھو؟ اتنے عرصے میں پہلی بار اسکا جائزہ لیا ۔ اس کے آدھے سے زیادہ بال سفید ھو چکے تھے ، چہرہ جیسے فکر مندی سے جھریاں زدہ ھو جاتا ھے ۔وہ سر جھکائے بیٹھا جیسے میرے جواب کا منتظر تھا ۔کچّھ سکوت کے بعد بولا، مَیں یہاں سے جا کر رمشہ سے شادی کر بیٹھا ۔ مَیں نے چونک کر ا س کی طرف دیکھا۔ ''کر بیٹھا '' یعنی زبردستی تھی کیا؟ اس نے جواب دیا ۔ نہیں۔ اصل میں وہ صرف محبت حاصل کرنے پر یقین رکھتی تھی ۔محبت دی کس طرح جاتی ھے ؟اس کے لیے کیا قربانی دی جاتی ھے اس سے نہ آشنا تھی نہ ھی جاننا چاھتی تھی ۔ا پنی برتری مجھ پر ثابت کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے مجھ پر مسلّط رھتی، اپنی بات منانا ، اپنی ھر خواہش پوری کروانا، دوسرے کی اھمیت نہ ماننا۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت اسی طرح گزرتا رھا۔وہ بچوں سے الرجک تھی۔ بلکہ میری خواہش کا سن کر بھڑک اٹھی ،اور میری نیت پر شک کرتے ھوئے مجھے بچوں کا بہانہ بنا کر بیوی کو غلام بنانے تک کا طعنہ دیا۔ مَیں غصّے میں آگیا ۔کیا عورت ھے ؟ جو نہ زندگی کی ضروریات سے آشنا ھے نہ میری محبت کی قدر کرتی ھے۔ اللہ نے رابی کا وجود ھماری قسمت میں لکھا تھا سو توجیہات کے باوجود وہ اس سے نہ بچ سکی ۔ اللہ کو مجھ پر رحم آگیا تھا یا شاید اسنے مجھے معاف کر دیا تھا ۔تمہارا دل توڑ کے جو گناہ مَیں نادانستگی میں کرچکا تھا رمشہ مجھے چھوڑنے پر آمادہ تھی بشرطیکہ رابی مَیں لے لیتا ۔ا س سے بڑھ کر کیا احسان تھا میرے لیے ۔میں ایسی بے حس عورت کے پاس اپنی بیٹی چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اپنی نظر میں اس طرح وہ میرے پاؤں میں زنجیر ڈال رھی تھی ۔ لیکن مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا ،مَیں نے اپنی عمر رابی کے لیے وقف کر دی ھے ۔ اتنا کہہ کر فہد خاموش ھو گیا ۔مَیں آگے بڑھی کہ کہیں وقت اپنی سفّا کی پھر نہ دکھا ڈالے ۔۔۔ فہد ۔۔۔ مَیں نے پکارا ۔ یہ لیں چائے ایک ھاتھ سے دیتے ھوئے مَیں نے دوسرا ھاتھ اسکے دوسرے ھاتھ پر رکھ دیا ۔مجھے آپ کے ساتھ ھی رھنا ھے تو رابی بھی آپ کی ذات کا حصّہ ھے اس سے مَیں نفرت نہیں کرونگی ۔آپ نے میری محبت کو گہرائی سے کبھی دیکھا نہیں ،جب مجھے عمروں کے فرق کی پرواہ نہیں تو آپ کی پہلی شادی یا بچی کا ساتھ ھونے پر کیسا اعتراض ؟ اب مَیں نے فہد کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھی جو مَیں اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی متمنّی تھی یعنی اپنی ذات پر بھروسے اور اعتماد کی چمک۔ فہد نے سنا تو اپنا دوسرا ھاتھ میرے ھاتھ پر رکھ دیا ۔ باہر سے مبارک ھو۔ مبارک ھو ۔ کی آوازیں قریب آ رھیں تھیں مَیں جھجھک کر پیچھے ھٹ گئی ۔ یقیناً اب میرے دل اور گھر میں بہار کا موسم شوخ رنگوں سمیت اتر چکا تھا ۔۔۔۔ کبھی نہ جانے کے لیے۔

Last edited by عروج; 12-12-10 at 11:46 AM.
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
saraah (22-03-11), فرخ ظفر (08-12-10), محمدخلیل (08-12-10), حیدر (08-12-10), سیپ (03-03-11), شبنم (06-03-11)
کمائي نے عروج کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
09-12-10 زارا Umdaa Sister 2
پرانا 08-12-10, 10:56 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
عمر: 24
مراسلات: 244
کمائي: 2,624
شکریہ: 465
167 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شیرنگ ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرخ ظفر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فرخ ظفر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (15-12-10), عروج (09-12-10)
پرانا 09-12-10, 08:49 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ظفر بھائی مَیں آپکی آپا ھوں ۔ یہ میرا پہلا ناولٹ تھا ۔اللہ کرے سبھی کو میری شاعر ی کی طرح پسند آئے۔ آپکا شکریہ۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (15-12-10)
پرانا 09-12-10, 11:00 AM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,984
شکریہ: 1,151
6,261 مراسلہ میں 14,128 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

عروج سسٹر پسند کیوں نہ آتا اِتنا خوبصورت اندازِ تحریر تھا۔

بہت اچھا لکھا آپ نے۔ جاری رکھئے۔

خوش رہیں۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
حیدر (15-12-10), عروج (15-12-10)
پرانا 09-12-10, 11:28 AM   #5
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب عروج ۔۔۔
اچھی تحریر ہے۔۔۔
امید ہے اپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گی۔۔
لیکن ۔۔
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
__________________
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو(حضرت علی)
Visit My Blog
http://www.homeopathypakistan.blogspot.com
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
حیدر (15-12-10), عروج (09-12-10)
پرانا 20-02-11, 02:16 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
بہت خوب عروج ۔۔۔
اچھی تحریر ہے۔۔۔
امید ہے اپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گی۔۔
لیکن ۔۔
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
وفا رھے گی تو وفاداری ھر شعبے میں آئے گی۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-03-11, 01:38 PM   #7
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,197
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت ہی اچھی تحریر ہے
مزیذ تحریروں کا انتیظار ہے
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کلاس, کالج, گمان, نوکری, مکمل, انداز, انسان, جواب, خون, دل, دنیا, رات, رشتے, زندگی, سال, شادی, شخص, علم, عادی, عجیب, عشق, غلطی, صبح, صحن, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:06 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger