|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: Karachi - Pakistan
مراسلات: 328
کمائي: 7,016
شکریہ: 50
83 مراسلہ میں 185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر: بنت مسعود
بغاوت کا علم اس وقت ہوا جب بازی ہاری جا چکی تھی۔۔۔۔ باغی نے بڑی ہی چالاکی اور مہارت سے کام لیا تھا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب سلطان محمود خلجی محل سے دور تھا۔ وہ ایک زرخیز اور خوش حال ریاست "مانڈو" کا حکمران تھا۔ اس وقت مانڈو کو "احمد آباد" کہتے ہیں۔ وہ ایک آزاد ریاست تھی۔ باغی کوئی اور نہیں سلطان محمود خلجی کا وزیر "منڈلی رائے" تھا۔ سلطان نے ہندو ہوتے ہوئے بھی اس پر بڑا اعتماد کیا تھا، لیکن وہ کرتا بھی کیا۔۔۔۔ اس کی ریاست میں ہندوؤں کی تعداد ویسے بھی بہت زیادہ تھی اور عوام میں اپنا بھرم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اعتماد کے ہندوؤں کو اہم عہدے دیتا اور اسی لیے منڈلی راؤ اس کا سب سے اہم وزیر تھا لیکن منڈلی رائے نے وہی کیا جو اقتدار کے بھوکے وزیر کرتے ہیں۔ اس نے اپنے اعتماد کے لوگوں کو ساتھ ملایا۔ محل میں موجود سلطان کے تمام وفاداروں کو بہانے سے ایک جگہ اکٹھا کیا اور پھر انہیں گرفتار کرکے جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کر دیا۔ جن لوگوں نے چوں چرا کی کوشش کی، ان کا سر اتارنے میں ذرا بھر تکلف نہ کیا۔ یوں یہ بغاوت بڑی کامیاب رہی۔ منڈلی رائے نے صرف یہی نہیں کیا بلکہ تیز رفتار دستہ سلطان کی طرف بھی روانہ کر دیا اور کہا کہ سلطان کو گرفتار کرنے کا بھی تکلف نہ کیا جائے بلکہ موقع پر ہی قصہ تمام کر دیا جائے۔۔۔۔ یہ تو سلطان کی قسمت اچھی تھی کہ اس کا ایک وفادار کسی نہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور منڈلی رائے کے دستے کے پہنچنے سے پہلے سلطان کو بغاوت کی خبر ہوگئی اور وہ جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔۔۔۔ کل کا سلطان آج جان بچا کر اپنے چند وفادار سپاہیوں کے ساتھ جنگل ویرانے میں سوچ کے الجھے تار سلجھا رہا تھا۔۔۔۔ سوچ سوچ کر وہ ایک ہی نتیجے پر پہنچا تھا۔۔۔۔ اس مسئلے کا اسے صرف ایک ہی حل نظر آتا تھا ۔۔۔۔ وہ تھا ہمسایہ ریاست گجرات کا حکمران مظفر حلیم! مگر خلجی کے سامنے ماضی کے وہ تمام واقعات گھوم جاتے، جو اب اس کو بچھوؤں کی طرح کاٹتے تھے۔ وہ بھلا وہ وقت کہاں بھول سکتا تھا جب اس کے دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ وہ گجرات پر حملہ کرے اور مظفر حلیم کو شکست دے کر اس کی امیر اور خوبصورت ریاست پر قبضہ جما لے اور پھر ایک دفعہ نہیں۔۔۔۔ اس نے گجرات پر کئی حملے کیے۔۔۔۔ مگر ہر بار ناکام رہا اور مظفر حلیم اس کے حملے کو پسپا کرتا رہا۔۔۔۔ اور اس کا دماغ اسے سمجھا رہا تھا کہ اس وقت اللہ کے بعد صرف مظفر حلیم ہی وہ شخص ہے جو اس کی مدد کر سکتا ہے۔۔۔۔ لیکن اس کا دل کہتا تھا کہ اے کل کے بادشاہ اور آج کے بھگوڑے حکمران، تو کس منہ سے مظفر کے پاس جائے گا؟ کیا تو نے اس سے پانچ سے زیادہ مرتبہ جنگیں نہیں لڑیں؟ کیا تو نے اسے نیچا دکھانے، اس سے اس کا ملک چھیننے کے لیے ہر داؤ نہیں آزمایا؟ کیا تو ہمیشہ اسے اپنے سے کم تر نہیں سمجھتا رہا؟ ان سب سوالوں کا جواب ہاں تھا۔۔۔۔ تبھی اس کی ہمت نہ پڑی کہ وہ اپنے دماغ کے فیصلے پر عمل کرسکے۔۔۔۔ سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہو گیا۔۔۔۔ مگر پھر اس کے ذہن میں عجیب بات آئی۔ اس بات کا آنا تھا کہ اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ گجرات ضرور جائے گا۔۔۔۔ مظفر حلیم کے پاس مدد کی درخواست ضرور کرے گا۔ ٭٭٭ "کیا کہا، مانڈو کا محمود خلجی آیا ہے؟ اور تخلیے میں ملنا چاہتا ہے؟" مظفر حلیم نے بے یقینی سے پیغام لانے والے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ "ہاں حضور، کل تک آپ کا دشمن، ریاست گجرات کے امن و سکون کو تباہ کرنے والا۔۔۔۔ آج سیاہ چہرے کے ساتھ آپ سے ملنے کی درخواست کر رہا ہے!" اس کے درباری نے خلجی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔ نواب مظفر حلیم نے کچھ دیر سوچا اور پھر سب کو حیران کر دیا۔۔۔۔ "تخلیہ۔۔۔۔ ہمیں تخلیہ چاہیے اور خلجی کو عزت کے ساتھ لایا جائے۔" چند ہی منٹوں کے بعد کل کے دشمن آمنے سامنے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ خلجی کی نظریں زمین پر گڑی جا رہی تھیں اور مظفر کے چہرے پر عجیب سکون تھا۔ خلجی کہنے کو تو حاکم گجرات کے پاس آگیا تھا مگر اب ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اپنا مقصد بیان کرتا۔۔۔۔ اسے نظریں جھکاتے دیکھ کر مظفر حلیم بولا: "سلطان خلجی دشمنی ماضی کی بات ہے آج تم ہمارے دشمن بن کر نہیں آئے۔۔۔۔ تمہیں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ تم کیوں آئے ہو۔۔۔۔ ہمیں تمہارے وزیر کی بغاوت کا بھی علم ہے۔۔۔۔ حوصلہ بلند رکھو! ہم تمہارے ساتھ مل کر منڈلی سے لڑیں گے اور اسے بغاوت کا مزا چکھائیں گے!" خلجی کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔ سلطان مظفرحلیم نے آخری جنگ میں بھی اسے شکست دے ڈالی تھی۔ اس نے اخلاق کے میدان میں بھی اسے چت کر ڈالا تھا۔۔۔۔ اسے ماضی کی دشمنی کا کوئی طعنہ نہیں دیا تھا۔۔۔۔ ایک لفظ نہیں کہا تھا حتی کہ اسے اپنے منہ سے مدد کی درخواست کرنے کا موقع بھی نہیں دیا تھا۔ سلطان مظفر نے جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا۔۔۔۔ ٭٭٭ مناسب تیاری کے بعد گجرات کی فوج نے مانڈو پر حملہ کر دیا۔۔۔۔ ان کی قیادت سلطان مظفر ہی کر رہا تھا لیکن خلجی ساتھ تھا۔۔۔۔ جنگ عام جنگوں کی طرح تھی۔ فوجیں میدان میں جمع ہوئیں۔۔۔۔ تیر ہوا میں اڑے، تلواروں سے تلواریں ٹکرائیں، نیزے اور بھالے خون میں نہائے، گھوڑوں کی ہنہناہٹوں اور سپاہیوں کے نعروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور پھر ایک فوج کو شکست ہوئی اور ایک کام یاب۔۔۔۔ یہ کام یاب فوج سلطان مظفر کی تھی! منڈلی راؤ بری طرح شکست کھا گیا اور مارا بھی گیا! جنگ کا گرد وغبار بیٹھا۔۔۔۔ دونوں سلطانوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔۔۔۔ جب خلجی آرام کرنے اپنے خیمے میں گیا تو ایک اور جنگ شروع ہو گئی۔۔۔۔ پہلی جنگ کے بعد یہ جنگ بہت عجیب تھی۔۔۔۔ بہت انوکھی تھی۔ سلطان مظفر حلیم کے فوجی سردار اکٹھے ہوئے اور اپنے سلطان سے کہنے لگے: "حضور مانڈو آپ کا ہے۔۔۔۔ آپ اس کم ظرف خلجی پر ذرا بھروسہ نہ کریں۔ اس ملک کو ہماری فوج نے خون بہا کر فتح کیا ہے۔۔۔۔ آپ اب اسے دوبارہ خلجی کے حوالے نہ کریں۔۔۔۔ وہ پھر طاقت ور ہو کر ہم پر حملہ آور ہوگا! اس ریاست کو اپنی ریاست میں شامل کر لیں۔۔۔۔ اس سے ایک طاقت ریاست قائم ہو گی!" سلطان مظفر حلیم سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔ اسے اچھی طرح علم تھا کہ اس کے سردار کچھ غلط نہیں کہتے پھر اسے یہ بھی خدشہ تھا کہ کہیں یہ فوجی سردار اس سے بغاوت ہی نہ کر دیں۔ وہ سوچتا رہا ، سوچتا رہا۔۔۔۔ پھر بولا: "اے میرے سردارو۔۔۔۔ میں نے یہ جنگ خلجی کے لیے لڑی تھی اور اس کی مدد خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنا پر کی تھی۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ میں میدان کی جنگ تو جیت جاؤں لیکن اخلاق اور شرافت کی جنگ ہار جاؤں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ نہ میں کم ظرف دشمن ہوں اور نہ ہی منافق اور خود غرض دوست! میں مانڈو کی ریاست محمود خلجی ہی کے حوالے کرتا ہوں۔۔۔۔!" سلطان مظفر حلیم نے جنگ کے بعد ہونے والی اس جنگ کو جیت کر اپنا نام ہمیشہ کے لیے روشن کر لیا! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابن ضیاء کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھی شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے صدا سلامت رہیں ماشااللہ- جزاک اللہ خیر خدا حافظ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہی پیغام آج کے مسلمان کے لیے بھی ھے کہ اسلام کو پھیلانے کے لیے آپس میں اتحاد کر کے کفار پر چھا جائیں۔
|
|
|
|
| عروج کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (14-10-10) |
![]() |
| Tags |
| ہندو, واقعات, وزیر, قصہ, نظر, موقع, منافق, آج, اللہ, امیر, تحریر, جیل, جیت, جواب, حال, خون, خوش, خبر, دوست, دل, درخواست, سردار, شخص, عزت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|