واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




جڑوں کی تلاش

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-01-08, 07:02 PM   #1
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جڑوں کی تلاش

جڑوں کی تلاش

بشکریہ اردو پلیس

ڈھمپ اینڈ کو کا دفتر بڑے مزے میں چل رہا تھا مگر اس کی منیجری کم از کم خاور کے بس کا روگ نہیں تھی کیونکہ بزنس کے چکروں کے لئے اس کا ذہن موزوں نہیں تھا۔ ذہن موزوں رہا ہو یا نہ رہا ہو لیکن صورت تو ضرور ایسی تھی کہ وہ کسی فرم کا منیجر معلوم ہوسکتا تھا! بھاری بھرکم بارعب چہرے والا۔۔!
چونکہ وہ بزنس کے معاملہ میں اناڑی تھا اس لئے اس کے کمرے میں لکڑی کی ایک دیوار سے پارٹیشنز کردیئے گئے تھے ایک طرف جولیانا بیٹھی ٹائپ رائٹر کھٹکا یا کرتی تھی اور دوسری طرف خاور اپنی مینجری سمیت براجمان رہا کرتا تھا!
اگر کبھی کوئی نیا گاہک آجاتا اور خاور کو اسے ڈیل کرنے میں کچھ دشواری محسوس ہوتی تو جولیا کاغذات کا پلندہ دبائے دستخط کرانے کے بہانے اس کی میز پر آجاتی اور دوران گفتگو میں دخل اندازی کرکے خاور کو سہارا دیئے رہتی۔۔!
آج بھی کوئی بڑا گاہک خاور کی میز پر موجود تھا اور اپنے کام کے سلسلے میں بعض امور کی وضاحت چاہتا تھا! جولیا نے محسوس کیا کہ خاور رک رک کر گفتگو کر رہا ہے اور گاہک کے ٹوکنے پر بعض اوقات گڑبڑا بھی جاتا ہے۔۔!
وہ کچھ کاغذات سنبھالے ہوئے خاور کی میز پر جا پہنچی!
"اوہو۔ اچھا ہوا تم آگئیں۔۔" خاور نے کہا اور پھر گاہک سے بولا۔ " یہ میری اسسٹنٹ ہیں سرسوکھے! میرا داہنا ہاتھ۔۔ اب دیکھیئے آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کام کا تعلق زیادہ تر انہیں کی ذات سے ہوگا!۔۔ حسابات وغیرہ کی پڑتال یہی کرتی ہیں"۔
جولیا نے اس گول مٹول آدمی پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔۔ یہ کچھ وجہیہ ضرور رہا ہوگا! مگر اب مٹاپے نے اس کے ساتھ جو سلوک کیا تھا اس کا اظہار الفاظ میں ناممکن ہے! بس دیکھنے اور محسوس کرنے کی چیز تھی! قد تو متوسط ہی تھا مگر پھیلاؤ نے اس توسط کی ریڑھ مار کر رکھ دی تھی! صرف کناروں پر تھوڑے سے سیاہ بال تھے جو اگر سفید ہوتے تو اتنے برے نہ معلوم ہوتے۔
اس کے پیروں کے پاس ہی ایک ننھا منا سا خوبصورت کتا بیٹھا سرخ زبان نکالے ہانپ رہا تھا! جولیا نے اسے تعریفی نظروں سے دیکھا۔ اس کے بال بڑے اور سفید تھے۔ کان البتہ گہرے کتھئی تھے اور یہی اس کا حسن تھا۔
"سرسوکھے رام۔۔ اور مس جولیانافٹنرواٹر۔۔!" خاور نے تعارف کرایا۔
سرسوکھے رام نے مسکرا کر سر کو خفیف سی جنبش دی۔
اور جولیانے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ " میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہوں جناب!"
وہ دل ہی دل میں ہنس رہی تھی۔ اتنی اردو تو سمجھتی ہی تھی کہ اس کے نام اور حبثہ کے تضاد سے لطف اندوز ہوسکتی!۔۔ کتنی ستم ظریفی تھی! یہ ہاتھی سا آدمی سوکھے رام کہلاتا تھا۔۔ یہی نہیں بلکہ خطاب یافتہ بھی تھا! وہ سوچ رہی تھی نہ ہوا عمران ورنہ مزہ آجاتا۔
"دیکھیئے بات دراصل یہ ہے کہ میں مستقل طور پر آپ لوگوں سے معاملہ کرنا چاہتا ہوں"۔ سرسوکھے نے کہا۔
"ہم ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں"۔
" وہ۔۔ تو۔۔ تو۔۔ ٹھیک ہے"۔ سرسوکھے نے کرسی کی پشت سے ٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا! "مگر آپ کو اس سلسلہ میں تھوڑی سی دردسری بھی مول لینی پڑے گی! دیکھیئے بات دراصل یہ ہے۔۔!"
وہ سانس لینے کے لئے رک گیا اور جولیا جھک کر اس کے کتے کا سرہلاتی ہوئی بولی۔ "بڑا پیارا کتا ہے!"
سرسوکھے نے اس طرح چونک کر کتے کی طرف دیکھا جیسے اس کی موجودگی کا خیال ہی نہ رہا ہو۔
" آپ کو پسند ہے!" اس نے مسکرا کر پوچھا۔
"بہت زیادہ۔۔"
"تو میری طرف سے قبول فرمائیے۔۔!"
"اوہ۔۔ ارے نہیں۔۔!" جولیا خواہ مخواہ ہنس پڑی۔
"نہیں! اب میں اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاؤں گا۔ سرسوکھے نے کہا اور کتے سے بولا۔ " لکی۔۔ یہ دیکھو اب یہ تمہاری مالکہ ہیں"۔
وہ دم ہلانے لگا اور سرسوکھے نے پھر اپنے بزنس کی بات شروع کردی۔
"قصہ دراصل یہ ہے کہ۔۔ اوہ ٹھہرئیے میں پہلے اپنا پورا تعارف تو کرادوں! میری فرم کا نام "سوکھے انٹرپرائزس" ہے۔۔!"
"اوہ۔۔ اچھا میں سمجھ گئی۔۔!"
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:03 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

"آپ جانتی ہیں!" وہ خوش ہو کر بولا۔ "خیر تو۔۔ میرا فارورڈنگ اور کلیرنگ کا الگ سے اسٹاف تھا! لیکن اب اس پر غیر ضروری مصارف ہونے لگے تھے! میں نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ اگر یہ کام کسی دوسری فرم کے سپرد کردیا جائے تو نسبتاًسستے میں ہوگا"۔
"جی ہاں۔۔ عموماً یہیں ہوتا ہے۔۔" جولیا سرہلا کر بولی۔
"بس تو پھر میں نے اپنے یہاں وہ سیکشن توڑ دیا ہے! "سرسوکھے نے کہا۔ "اور اب اس کے لئے آپ کی فرم سے معاملات طے کرنا چاہتا ہوں"۔
"غالباً مینجر صاحب آپ کو یہاں کے قواعد وضوابط سے آگاہ کرچکے ہیں"۔
"جی ہاں۔ اور میں ان سے کلی طور پر متفق ہوں۔ سرسوکھے نے کہا۔ "قواعد وضوابط کی بات نہیں تھی! میں تو دراصل آپ کے لئے تھوڑی سی دردسری بڑھانا چاہتا ہوں۔۔!"
"فرمائیے۔۔!"
"آپ کو ایک ایسا حساب بھی تیار کرنا ہوگا جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ کام میری ہی فرم کے ایک سیکشن نے کیا ہے"۔
خاور نے جولیاکی طرف دیکھا! اور جولیا جلدی سے بولی"یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کے لئے آپ کو زیادہ تشویش ہو۔ ایسا بھی ہوجائے گا"۔
"بس تو پھر ٹھیک ہے! کیا آپ کسی وقت میرے دفتر آنے کی زحمت گوارا کرسکتی ہیں؟"
"جب آپ فرمایئے۔۔!"
"نہیں بھئی جب آپ کو فرصت ملے۔ بس آنے سے پہلے فون کردیئے گا"۔
"بہتر ہے! میں آ کر دیکھ لوں گی کہ اب تک آپ کے یہاں حسابات کس طرح رکھے جاتے رہے ہیں"۔
"اوہ۔ شکریہ! یہ تو بڑی اچھی بات ہوگی! اس کے لئے آپ جو بھی حق المحنت تجویز کریں مجھے اس پر اعتراض نہ ہوگا۔۔!"
"حق المحنت کیسا"۔ جولیا نے حیرت سے کہا! "یہ تو میں اپنی فرم کے انٹرسٹ میں کروں گی۔ ہمارے لئے یہی کیا کم ہے کہ ہمیں اتنا بڑا اور مستقل کام مل رہا ہے"۔
"یہی بات۔۔!" سرسوکھے نے میز پر اس طرح گھونسہ مار کر کہا کہ اس کا سارا جسم تھلتھلا گیا!" یہی بات۔۔ یہی اسپرٹ کام کرنے والوں میں ہونی چاہیئے"۔ پھر خاور سے بولا۔ " آپ خوش قسمت ہیں جناب کہ اتنے اچھے ساتھی آپ کے حصے میں آئے ہیں!"
"شکریہ۔۔" خاور نے سگار کا ڈبہ اسے پیش کیا۔
"بس جناب! اب اجازت دیجیئے!"۔۔ وہ اٹھتا ہوا بولا۔ پھر جولیا سے کہا۔ "میں آپ کا منتظر رہوں گا"۔۔ ساتھ ہی دم ہلاتے کتے سے بولا۔ "نہیں لکی تم میرے ساتھ نہیں جاسکتے! تمہاری مالکہ وہ ہیں!"
کتا جولیا کی طرف مڑا اور وہ متحیر رہ گئی کیونکہ اب وہ اس کی کرسی پر دونوں اگلے پنجے ٹیک کر کھڑا ہوگیا تھا اور اس کی ران سے اپنی تھوتھنی رگڑ رہا تھا!
اس نے پھر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کی ننھی سی دم بڑی تیزی سے ہلنے لگی۔
"کمال ہے!۔۔ جولیا اور خاور نے بیک وقت کہا۔
"کتوں کو ٹرینڈ کرنا میری ہابی ہے"۔ سرسوکھے مسکرایا۔ "میرے سارے کتے بڑے سمجھدار ہیں! اب یہ میرے ساتھ واپس جانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اور صرف آپ ہی کے ساتھ جائے گا! آپ کے دفتر کا کوئی دوسرا آدمی اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا۔۔ اچھا بس اجازت دیجیئے!۔۔"
وہ ان دونوں سے مصافحہ کرکے رخصت ہوگا۔ اس کی چال بھی عجیب تھی بس ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی گیند اچھلتا کودتا ہوا چل پڑا ہو۔
"کیا خیال ہے۔۔!" اس کے چلے جانے کے بعد خاور نے جولیا کی طرف دیکھا۔
"حیرت انگیز۔۔"
"ہر اعتبار سے۔۔ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ اس شہر میں ایسے ایسے عجوبے موجود ہیں لیکن ہمیں ان کے دیدار نہیں ہوتے۔۔ تم نے اس کی چال پر غور کیا؟"
"ہاں! وہی تو میرے لئے حیرت انگیز تھی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنا موٹا آدمی اتنی تیز رفتاری سے چل سکے گا"۔
"اس کی آنکھیں کتنی چمکیلی ہیں"۔ خاور نے کہا۔
"اور یہ کتا۔۔" جولیا نے کتے کی طرف دیکھ کر کہا۔ جو اب اس کے پیروں کے قریب بیٹھا زبان نکالے ہانپ رہا تھا۔۔!

﴿﴾ ﴿﴾ ﴿﴾
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:03 PM   #3
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

جوزف رانا پیلس ہی کا ہو کر رہ گیا تھا! آتشدان کا بت والے کیس کے بعد اس نے فلیٹ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ عمران کی تاکید تھی کہ وہ ادھر کا رخ بھی نہ کرے۔۔! اس طرح سلیمان یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوسکا تھا کہ وہ بدستور عمران ہی کی خدمت کرتا رہے گا۔
رانا پیلس میں سب ہی تھے۔ نوکر چاکر، ڈرائیور، جوزف۔ حتیٰ کہ بلیک زیروبھی (بوڑھے آدمی کے میک اپ میں)۔ لیکن رانا تہور علی صندوقی کا کہیں پتہ نہ تھا۔۔!
بلیک زیرو بوڑھے طاہر صاحب کے روپ میں رانا تہور علی صندوقی کا منیجر تھا، سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کی جائیداد کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
جوزف ہر وقت فوجی وردی میں رہتا تھا اور اس کے دونوں پہلوؤں سے ریوالور لٹکے رہتے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ فوجی وردی میں اس کی مارشل اسپرٹ ہر وقت بیدار رہتی ہے اور شراب نہ ہونے پر اسپرٹ ہی میں پانی ملا کر پینے سے بھی نہیں مرتی۔۔!
جوزف بلانوش تھا! لیکن اسے معینہ مقدار سے زیادہ شراب نہیں ملتی تھی اس لئے وہ اکثر اسپرٹ میں پانی ملا کر پیا کرتا تھا۔۔!
اس وقت وہ اسپرٹ کے نشے کی جھونک میں پورچ میں "اٹینشن" تھا!۔بالکل کسی بت کی طرح بےحس وحرکت۔ پلکیں ضرور جھپکتی رہتی تھیں۔ مگر بالکل ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے کسی الّو کو پکڑ کر دھوپ میں بٹھا دیا گیا ہو۔۔! اور وہ خاموشی سے مجسم احتجاج بن کر تن بہ تقدیر ہوگیا ہو۔۔!
دفعتاً ایک آدمی پشت پر ایک بہت بڑا تھیلا لادے ہوئے پھاٹک میں داخل ہوا لیکن جوزف کی پوزیشن میں کوئی فرق نہ آیا بلکہ وہ تو اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا!۔۔
مگر جیسے ہی وہ پورچ کے قریب آیا۔ اچانک جوزف دہاڑا۔
"ہالٹ۔۔!"
اور وہ آدمی بھڑک کر دوچار قدم کے فاصلے پر تھیلے سمیت ڈھیر ہوگیا!
"گٹ اپ۔۔!" جوزف اپنی جگہ سے ہلے بغیر پھر دہاڑا۔۔
"ارے مار ڈالا۔۔!" وہ مفلوک الحال آدمی دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر کراہا!
"کی در جاتا!"۔۔ جوزف غرایا۔
"بھیر جاتا۔۔ رانا صاحب کے پاس۔۔ ایسی ایسی جڑی بوٹیاں ہیں میرے پاس!۔۔"
"کیا باکتا۔۔!" جوزف پھر غرایا!
"آؤں۔۔ آجاؤں۔۔ پاس آجاؤں!" وہ آدمی خوف زدہ انداز میں ہاتھ ہلا ہلا کر پوچھتا رہا۔
اب جوزف خود ہی اپنی جگہ سے ہلا اور وہ آدمی تھیلا سمیٹتا ہوا پیچھے پھدک گیا! یہ دبلا تپلا اور چیچڑ چسم والا ایک بوڑھا آدمی تھا۔ آنکپیں اندر کو دھنسی ہوئی اور دھندلی تھیں!۔۔ لیکن ہاتھ پاؤں میں خاصی تیزی معلوم ہوتی تھی۔
"کیا باکتا۔۔!" جوزف اس کے سر پر پہنچ کر دہاڑا۔
"شش شش۔۔ شقاقل۔۔ مصری!" وہ تھیلےسے کوئی چیز نکال کر اسے دکھاتا ہوا پیچھے کھسکا!
"یو کیا ہائے۔۔!" جوزف غرایا۔
"اجی بس۔۔ کیا بتاؤں۔۔" وہ بہت تیزی سے بول رہا تھا! رر ۔۔ رانا صاحب قدر کریں گے"۔
"رانا صاحب نائیں ہائے۔۔ بھاگ جیاؤ۔۔!
"تو آپ ہی لڑائی کیجیئے صاحب۔۔ مزہ آجائے گا۔۔ جڑی بوٹیاں۔۔ ہا ہا۔۔ رانا صاحب کہاں ہیں!"
"ام نائیں۔۔ جیان تا۔۔ جیاؤ۔۔!"
اتنے میں بلیک زیرو شور سن کر باہر آگیا۔
"کیا بات ہے۔۔" اس نے جوزف سے انگریزی میں پوچھا!
"باس کو پوچھتا ہے! میں کہتا ہوں باس نہیں ہیں! وہ مجھے کوئی چیز دکھاتا ہے"۔
بلیک زیرو نے بوڑھے کی طرف دیکھا! وہ جھک جھک کر اسے سلام کر رہا تھا۔
"حضور۔۔ حضور۔۔ حضور عالی۔۔ سرکار۔ جڑی بوٹیاں ہیں میرےپاس۔ بڑی دور سے رانا صاحب کا سن کر آیا ہوں"۔
بلیک زیرو نے جلدی میں کچھ سوچا اور آہستہ سے بولا۔ "ہاں کہو ہم سن رہے ہیں"۔
"جو کچھ کہیئے۔ حاضر کروں سرکار۔۔!"
"ہم کیا کہیں! ہم نے تمہیں کب بلایا تھا؟"
"سرکار حضور۔۔ رانا صاحب بڑے معرکے کی بوٹیاں ہیں۔ بس طبعیت خوش ہوجائے گی!"
"کیا ہمارے کسی دوست نے تمہیں بھیجا ہے؟"
"جی حضور۔۔ ہم نے اس سرکار کی بڑی تعریف سنی ہے!"
"خیر اندر چل کر۔۔ ہمیں کچھ بوٹیاں دکھاؤ! اور ان کے خواص بتاؤ"۔
بوڑھا خوش نظر آنے لگا تھا اس نے تھیلا سمیٹ کر کاندھے پر رکھا اور بلیک زیرو کے پیچھے چلنے لگا۔
جوزف کھڑا احمقانہ انداز میں پلکیں جھپکاتا رہا!۔۔ پھر یک بیک وہ چونک کر اس بوڑھے آدمی کے پیچھے جھپٹا!
بلیک زیرو اور بوڑھا آدمی اندرداخل ہوچکے تھے! بلیک زیرو اسے ایک کمرے میں بٹھانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ اس نے جوزف کو اس پر جھپٹے دیکھا!۔۔
"ارے۔۔ ارے حضور"۔ بوڑھا بوکھلا گیا۔
بلیک زیرو بھی بھونچکا رہ گیا!۔۔
لیکن بوڑھا دوسرے ہی لمحے میں زمین پر تھا! اور جوزف نے اس کی میلی اور سال خوردہ پتلون کی جیب سے ایک چھوٹا سال پستول نکال لیا تھا۔۔!
بوڑھا اس اچانک حملے سے بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ اس لئے جوزف کی گرفت سے آزاد ہونے کے بعد بھی اسی طرح بےحس وحرکت پڑا رہا البتہ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور وہ پلکیں بھی چھپکا رہا تھا۔
"کیوں! تم کون ہو!۔۔" بلیک زیرو نے آنکھیں نکال کر بولا۔
"مم۔۔ میں نہیں جانتا صاحب!۔۔ کہ یہ خطرناک ۔۔ چیز میری جیب میں کس نے ڈالی تھی"۔ وہ ہانپتا ہوا بولا۔
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:03 PM   #4
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

بکواس مت کرو"۔ بلیک زیرو غرایا! تم کون ہو؟"
"جی میں جڑی بوٹیاں تلاش کرکے بیچتا ہوں۔۔ شوقین رئیس میری قدر کرتے ہیں"۔
"مگر تم پہلے تو کبھی یہاں نہیں آئے۔۔!" بلیک زیرو اسے گھورتا ہوا بولا۔
"جی بےشک میں پہلے کبھی نہیں آیا"۔
"کیوں نہیں آئے تھے؟" بلیک زیرو نے غصیلے لہجے میں کہا! اس کے ذہن میں اس وقت عمران رینگنے لگا تھا اور اس نے یہ سوال بالکل اسی کے سے انداز میں کیا تھا۔
"جج۔۔ جی۔۔ ای۔۔ کیا بتاؤں مجھے اس سرکار کا پتہ نہیں معلوم تھا! وہ تو ابھی ابھی ایک صاحب نے سڑک ہی پر بتایا تھا کہ اس محل میں جاؤ۔ یہاں رانا صاحب رہتے ہیں! بہت بڑی سرکار ہے!۔۔"
"اس پستول کی بات کرو۔۔!"
"صص۔۔ صاحب! میں نہیں جانتا! بھلا میرے پاس پستول کا کیا کام! پتہ نہیں کس نے کیوں یہ حرکت کی ہے۔ میں کچھ نہیں جانتا!۔۔ خدا کے لئے ان کالے صاحب کو یہاں سے ہٹا دیجیئے ورنہ میرا دم نکل جائے گا"۔
جوزف اسے خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بڑبڑا رہا تھا۔ "مسٹرٹائر۔ یہ کیا کہہ رہا ہے! مجھے بھی بتائیے"۔
"اس کو گردن سے پکڑ کر ٹانگ لو"۔ بلیک زیرو نے کہا۔
جوزف پستول کو بائیں ہاتھ میں سنبھال کر اس کی طرف بڑھا! لیکن اچانک ایسا معلوم ہواجیسے آنکھوں کے سامنے بجلی سی چمک گئی ہو! بوڑھا چکنے فرش پر پھسلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
"خبردار فائر نہ کرنا جوزف۔۔" بلیک زیرو چیخا۔
جوزف نے بوڑھے پر چھلانگ لگائی تھی اور اب فرش سے اٹھ رھا تھا کیونکہ بوڑھا تو چھلاوہ تھا چھلاوہ۔
جب تک جوزف اٹھتاوہ بیرونی برآمدے میں تھا۔
"فائر مت کرنا۔ بلیک زیرو پھر چیخا! ساتھ ہی اب وہ بھی تیزی دکھانے پر آمادہ ہوگیا تھا جوزف کو پھلانگتا ہوا وہ بھی بیرونی برآمدے میں آیا۔
یہاں دو ملازم کھڑے چیخ رہے تھے۔
"۔۔ صاحب وہ چھت پر ہے"۔ دونوں نے بیک وقت کہا۔
بلیک زیرو چکرا گیا! بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اتنی جلدی چھت پر بھی پہنچ جاتا!۔۔
نوکروں نے قسمیں کھا کر یقین دلایا کہ انہوں نے اسے بندروں کی سی پھرتی سے اوپر جاتے دیکھا ہے۔ انہوں نے گندے پانی کے ایک موٹے پائپ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ جس سے ملی ہوئی پورچ کی کارنس تھی اور پورچ کی چھت بہت زیادہ اونچی نہیں تھی کوئی بھی پھرتیلا آدمی کم از کم پورچ کی چھت تک تو اتنے وقت میں پہنچ ہی سکتا تھا۔
پھر ذرا ہی سی دیر میں پوری عمارت چھان ماری گئی لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں تھا!۔۔
اندر پہنچ کر بلیک زیرو نے محسوس کیا کہ اس چھلاوے نے اپنا تھیلا بھی نہیں چھوڑا تھا۔
"ٹائر صاب"۔ جوزف نے غصیلی آواز میں کہا۔ "مجھے فائر کرنے سے کیوں منع کیا تھا؟"
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:03 PM   #5
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

باس کا حکم ہے کہ اس محل میں کبھی گولی نہ چلائی جائے"۔
"چاہے کوئی یہاں آکر جوزف دی فائٹر کے منہ پر تھوک دے"۔
"خاموش رہو! باس کے حکم میں بحث کی گنجائش نہیں ہوا کرتی"۔
جوزف فوجیوں کے سے انداز میں اسے سلیوٹ کرکے اپنے کمرے کی طرف مڑ گیا۔ اس کا موڈ خراب ہوگیا تھا اس لئے وہ شراب کی بوتل پر ٹوٹ پڑا۔۔

﴿﴾ ﴿﴾ ﴿﴾

آج صفدر تین دن بعد آفس میں داخل ہوا تھا۔ مگر اس حال میں کہ اس کے بال گردآلود تھے۔ لباس میلا اور شیو بڑھا ہوا تھا۔
دوسروں نے اسے حیرت سے دیکھا! اور اس نے ایک بہت بری خبر سنائی!
"عمران مار ڈالا گیا!"
اور یہ خبر بم کی طرح ان پر گری! جولیا تو اس طرح اچھلی جیسے اس کی کرسی میں اچانک برقی رو دوڑا دی گئی ہو!
"کیا بک رہے ہو!۔۔ اس نے کانپتے ہوئے سسکی سی لی۔
وہ سب صفدر کے گرد اکھٹے ہوگئے! اس وقت یہاں صرف سیکرٹ سروس کے آدمی تھے۔ چونکہ چھٹی کا وقت ہوچکا تھا اس لئے دوڑ دھوپ کے کام کرنے والے جاچکے تھے۔
"ہاں! یہ حادثہ مجھے زندگی بھر یاد رہے گا!" صفدر بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ میں تین دن سےاس کے ساتھ ہی تھا! ہم دونوں کیپٹن واجد والی تنظیم کے بقیہ افراد کی فکر میں تھے۔ تین دن سے ایک آدمی پر نظر تھی! آج اس کا تعاقب کرتے ہوئے ندی کی طرف نکل گئے! مقبرے کے پاس جو سرکنڈوں کی جھاڑیاں ہیں وہاں ہمیں گھیر لیا گیا! حملہ اچانک ہوا تھا! پھر یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ ہمیں دھوکے میں رکھا گیا تھا! ہم تو دراصل یہ سمجھتے رہے تھے کہ اس تنظیم کا ایک آدمی ہماری نظروں میں آگیا ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ ہمیں نہایت اطمینان سے ختم کرنا چاہتے تھے۔ کسی ایسی جگہ گھیرنا چاہتے تھے جہاں سے بچ کر ہم نکل ہی نہ سکیں یعنی انہوں نے بھی وہ طریقہ اختیار کیا تھا جسے واجد کو پکڑنے کے لئے عمران کام میں لایا تھا"۔
"پھر کیا ہوا۔۔ باتوں میں نہ الجھاؤ!" جولیا مضطربانہ انداز میں چیخی۔
"ہم پر چاروں طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی اور ہم کھلے میں تھے۔ اچانک میں نے عمران کی چیخ سنی۔ وہ ٹیکرے سے ندی میں گر رہا تھا! میں نے اسے گرتے اور غرق ہوتے دیکھا۔ تم جانتے ہی ہو کہ ندی کا وہ کنارہ کتنا گہرا ہے جس کنارے پر مقبرہ ہے۔۔!"
"تم کیسے بچ گئے؟"
"بس موت نہیں آئی تھی!" صفدر نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
"تب تو پھر تم آفس ناحق آئے۔۔! تمہیں ادھر کا رخ ہی نہ کرنا چاہیئے تھا! جاؤ جتنی جلدی ممکن ہو اپنی قیام گاہ پر پہچنے کی کوشش کرو"۔
جولیا میز سے ٹکی کھڑی تھی۔ اس کا سر چکرارہا تھا!
"نہیں میں یقین نہیں کرسکتی!۔۔ کبھی نہیں"۔ وہ کچھ دیر بعد ہذیانی انداز میں بولی۔ " عمران نہیں مر سکتا! بکواس ہے۔ کبھی نہیں! تم جھوٹے ہو!"
وہ خواہ مخواہ ہنس پڑی! اس میں اس کے ارادے کو دخل نہیں تھا!۔۔
وہ سب اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔ ان میں تنویر بھی تھا۔
"مرنے کو تو ہم سب ہی اسی وقت مرسکتے ہیں!" اس نے کہا۔
"ہم سب مرسکتے ہیں! مگر عمران نہیں مرسکتا! اپنی بکواس بند کرو"۔
پھر جولیا نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے ایکس ٹو کے نمبر ڈائیل کئے لیکن دوسری طرف سے جواب نہ ملا!
" تمہیں سرسوکھے کے ہاں جانا تھا"۔ خاور نے کہا۔
"جہنم میں گیا سرسوکھے"۔ جولیا حلق پھاڑ کر چیخی۔ " کیا تم سب پاگل ہوگئے ہوگیا عمران کا مرجانا کوئی بات ہی نہیں ہے!"
"اس کی موت پر یقین آجانے کے بعد ہی ہم سوگ مناسکیں گے!" خاور نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
دفعتاً لیفٹننٹ چوہان نے صفدر سے سوال کیا! "تمہیں وہ آدمی ملا کہاں تھا!۔۔ اور تمہیں یقین کیسے آیا تھا کہ وہ اسی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے"۔
"عمران نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا"۔
"آخر وہ تمہیں ہی کیوں ایسے مہمات کے لئے منتخب کرتا ہے؟"
"وہ کیوں کرنے لگا! مجھے ایکسٹو کی طرف سےہدایت ملی تھی۔۔!"
وہ سب پھر خاموش ہوگئے۔ جولیا میز پر سر ٹیکے بیٹھی تھی! اور تنویر غصیلی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا!
پھر وہ اٹھی اوراپنا بیگ سنبھال کر دروازے کی طرف بڑھی۔
"تم کہاں جارہی ہو؟" تنویر نے اسے ٹوکا۔
"شٹ اپ۔۔" وہ مڑ کر تیز لہجے میں بولی۔ "میں ایکسٹو کے علاوہ اور کسی کو جواب دہ نہیں ہوں"۔
وہ باہر نکل کر اپنی چھوٹی سی ٹوسیٹر میں بیٹھ گئی! لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا ہے۔۔!
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:04 PM   #6
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

صفدر کو وہ ایک دیانت دار اور سنجیدہ آدمی سمجھتی تھی۔ اس قسم کی جھوٹ کی توقع اس کی ذات سے نہیں کی جاسکتی! اس نے سوچا ممکن ہے عمران نے اسے بھی ڈاج دیا ہو!۔۔ لیکن کیا ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ بچتا ہی رہے۔
کچھ دیر بعد ٹوسیٹر ایک پبلک فون بوتھ کے قریب رکی اور بوتھ میں آکر عمران کے نمبر ڈائیل کئے! اور دوسری طرف سے سلیمان نے جواب دیا! لیکن اس نے عمران کے متعلق لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے تین دنوں سے گھر نہیں آیا۔
جولیا نے سلسلہ منقطع کرتے ہوئے ٹھنڈی سانس لی۔
کیسے معلوم ہو کہ صفدر کا بیان کہاں تک درست ہے! آخر یہ کمبخت کیوں بچ گیا! پھر ذرا ہی سی دیر میں اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے صفدر ہی عمران کا قاتل ہو!۔۔
پھر اس نے غیر ارادی طور پر اپنی گاڑی ندی کی طرف جانے والی سڑک پر موڑ دی۔۔
سورج غروب ہونے والا تھا۔ مگر وہ دن رہے وہاں پہنچنا چاہتی تھی اس لئے کار کی رفتار خاصی تیز تھی۔ گھاٹ کی ڈھلان شروع ہوتے ہی اس نے بائیں جانب والے ایک کچے راستے پر گاڑی موڑ دی۔ اسی طرف سے وہ اس ٹیکرے تک پہنچ سکتی تھی جہاں ایک قدیم مقبرہ تھا۔ اور دور تک سرکنڈوں کا جنگل پھیلا ہواتھا۔
کچے راستے کی دونوں جانب جھنڈ بیریوں سے ڈھکے ہوئے اونچے اونچے ٹیلے تھے۔
مقبرے تک گاڑی نہیں جاسکتی تھی کیونکہ وہاں تک پہچنے کا راستہ ناہموار تھا! اس نے گاڑی روکی، انجن بند کیا اور نیچے اتر کر خالی خالی آنکھوں سے افق میں دیکھتی رہی جہاں سورج آسمان کو چھوتی ہوئی درختوں کی قطار کے پیچھے جھک چکا تھا!
پھر وہ چونکی اور مقبرے کی طرف چل پڑی۔
ابھی دھندلکا نہیں پھیلا تھا!۔۔ دریا کی سطح پر ڈھلتی ہوئی روشنی کے رنگین لہرئے مچل رہے تھے۔۔ وہ ٹیکرے کے سرے کی جانب بڑھتی چلی گئی!
مگر کیا یہ حماقت ہی نہیں تھی!۔۔ اس نے سوچا! آخر وہ یہاں کیوں آئی ہے؟
ٹیکرے کے نیچے پانی پر ایک موٹر بوٹ نظر آئی جس میں کوئی نظر نہیں آرہا تھا! ہوسکتا ہے کچھ لوگ اس کے چھوٹے سے کیبن میں رہے ہوں۔
اچانک موٹر بوٹ سے ایک فائر ہوا۔ پانی پر ایک جگہ بلبلے اٹھے تھے اور گولی بھی ٹھیک اسی جگہ پڑی تھی۔
کیبن کی کھڑکی سے رائفل کی نال پھر اندر چلی گئی اور اس کے بعد ایک آدمی سر نکال کر پانی کی سطح پر دیکھنے لگاجہاں ایک بڑی سی مردہ مچھلی ابھر آئی تھی!
پھر کیبن کی دوسری کھڑکی سے ایک سیاہ رنگ کا بڑا سا کتا پانی میں کودا اور تیرتا ہوا مچھلی تک جاپہنچا! اس کی دم منہ میں دبا کر وہ پھر موٹر بوٹ کی طرف مڑا تھا۔
دوسری بار جب موٹر بوٹ میں بیٹھے ہوئے آدمی نے اپنے دونوں ہاتھ کھڑکی سے نکال کر مچھلی کو سنبھالا۔ اس وقت جولیا نے اسے صاف پہچان لیا! وہ سرسوکھے تھا!
اس نے مچھلی اندر کھینچ لی اور کتا بھی کھڑکی سے کیبن میں چلاگیا۔
تو وہ مچھلیوں کا شکار کھیل رہا تھا۔۔ جولیا ٹیکرے سے پرے کھسک آئی۔ اس نے سوچا اچھا ہی ہوا سرسوکھے کی نظر اس پر نہیں پڑی! ورنہ خواہ مخواہ تھوڑی دیر تک رسمی قسم کی گفتگو کرنی پڑتی! مگر اب وہ یہاں کیوں ٹھہرے! آئی ہی کیوں تھی؟ یہاں کیا ملتا!۔۔ اگر عمران مارا بھی گیا تو۔۔! وہ۔۔ وہ یک بیک چونک پڑی!اگر وہ یہاں مارا گیا ہوگا تو ایک آدھ بار لاش سطح پر ضرور ابھری ہوگی! مگر اسے کیا؟ ضروری نہیں ہے کہ کسی نے اسے دیکھا بھی ہو!۔۔
پھر وہ کیا کرے۔۔ کیا کرے۔۔!
غیر ارادی طور پر وہ سرکنڈوں کی جھاڑیوں میں گھس پڑی! یہ ایک پتلی سی پگڈنڈی تھی جو سرکنڈوں کی جھاڑیوں سے گذر کر کسی نامعلوم مقام تک جاتی تھی۔
کچھ دور پر اسے ریوالور کے چند خاټ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:04 PM   #7
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

ایکس ٹو نے اپنے ماتحتوں کو باقاعدہ طور پر ہدایت کردی تھی کہ وہ عمران کے متعلق کسی چکر میں نہ پڑیں۔ نہ تو اس کے فلیٹ کے فون نمبر رنگ کئے جائیں اور نہ کوئی ادھر جائے! جولیا کو اس قسم کی ہدایت دیتے وقت اس کا لہجہ بےحد سخت تھا!
جولیا اس پر بری طرح جھلا گئی تھی! لیکن کرتی بھی کیا! ایکس ٹو بہرحال اپنے ماتحتوں کے اعصاب پر سوار تھا! وہ اس سے اسی طرح خائف رہتے تھے جیسے ضعیف الاعتقاد لوگ ارواح کے نام پر لرزہ براندام ہوجاتے ہیں!
مگر جولیا الجھن میں مبتلا تھی۔ آج کل ایک ناقابل فہم سی خلش ہر وقت ذہن میں موجود رہتی اور اس کا دل چاہتا کہ وہ شہر کی گلیوں میں بھٹکتی پھرے! چھتوں اور دیواروں کے درمیان گھٹن سی محسوس ہوتی تھی!
آج صبح اس نے فون پر بڑے جھلائے ہوئے انداز میں ایکس ٹو سے گفتگو کی تھی۔ اسے بتایا تھا کہ سرسوکھے کی بھاگ دوڑ کا اصل مقصد کیا ہے! پھروہ اس کے لئے عمران کو تلاش کرے یا نہ کرے!۔۔
"بس اسی حد تک جولیا ناکہ وہ مطمئن ہوجائے!" ایکس ٹو نے جواب دیا تھا! " اسے یہ شبہ نہ ہونا چاہیئے کہ تم اسے ٹال رہی ہو! بلکہ عمران کی گمشدگی پر پریشانی بھی ظاہر کرو!"
جولیا برا سا منہ بنا کر رہ گئی تھی!
سرسوکھے کی فرمائش کے مطابق آج اسے عمران کی تلاش میں اس کا ساتھ دینا تھا! سب سے پہلے وہ عمران کے فلیٹ میں پہنچے لیکن سلیمان سے یہی معلوم ہوا کہ عمران پچھلے پندرہ دنوں سے غائب ہے! پھر جولیا نے ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران وہاں کا مستقل ممبر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہاں اس کےمتعلق کچھ معلومات حاصل ہوسکیں۔
وہ ٹپ ٹاپ کلب پہنچے۔ یہاں بھی کوئی امید افزا صورت نہ نکل سکی! آخر سرسوکھے نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔ "اب کہاں جائیں۔ میں واقعی بڑا بدنصیب ہوں مس جولیانا۔ آيئے کچھ دیر یہیں بیٹھیں!"
جولیا کو اس پہاڑ نما آدمی سے بڑی الجھن ہوتی تھی! اس کے ساتھ کہیں نکلتے ہوئے اس کے ذہن میں صرف یہی ایک خیال ہوتا تھا کہ وہ بڑی مضحکہ خیز لگ رہی ہوگی۔ آس پاس کے سارے لوگ انہیں گھور رہے ہوں گے!
مگر اس کمبخت ایکس ٹو کو کیا کہیئے جس کا حکم موت کی طرح اٹل تھا!
وہ سرسوکھے کے ساتھ بیٹھی اور بور ہوتی رہی! لیکن پھر اس نے ریکرئیشن ہال میں چلنے کی تجویز پیش کی!
مقصد یہ تھا کہ وہاں کوئی نہ کوئی اس سے رقص کی درخواست ضرور کرے گا اور سرسوکھے سے پیچھا چھوٹ جائے گا! سرسوکھے اس تجویز پر خوش ہوا تھا!
وہ ریکریشن ہال میں آئے۔ یہاں ابھی آرکسٹرا جاز بجا رہا تھا! اور چند باوردی منتظمین چوبی فرش پر پاؤڈر چھڑکتے پھر رہے تھے۔
وہ گیلری میں جا بیٹھے! تھوڑی دیر بعد رقص کے لئے موسیقی شروع ہوئی!
"کیا میں آپ سے رقص کی درخواست کرسکتا ہوں!" سرسوکھے نے ہچکچاتے ہوئے کہا!
"آپ!" جولیا نے متحیرانہ لہجے میں سوال کیا! اس کا سر چکرا گیا تھا!
"اوہ"۔ دفعتاً سرسوکھے بےحد مغوم نظر آنے لگا! کرسی کی پشت سے ٹکتے ہوئے اس نے چھت پر نظریں جما دیں! جولیا کو اپنے رویے پر افسوس ہونے لگا کیونکہ سرسوکھے کی آنکھیوں میں آنسو تیر رہے تھے! جولیا نے محسوس کیا کہ اس کا وہ "آپ" گویا ایک تھپڑ تھا جو سرسوکھے کے دل پر پڑا تھا! کیونکہ "آپ" کہتے وقت جولیا کےلہجے میں تحیر سے زیادہ تضحیک تھی!
"اوہو۔۔ تو پھر۔۔ آپ اٹھیئے نا!" جولیا نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔
وہ ہنسنے لگا۔ بےتکی سی ہنسی! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے خود اسے بھی احساس ہو کہ وہ یوں ہی احمقانہ انداز میں ہنس پڑا ہے۔ پھر وہ آنکھیں ملنے لگا!
"نہیں ۔!" وہ کچھ دیر بعد بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ "میں اپنی اس بےتکی درخواست پر شرمندہ ہوں! میں آپ کو بھی مضحکہ خیز نہیں بنانا چاہتا !"
وہ پھر ہنسا مگر جولیا کو اس کی ہنسی دردناک معلوم ہوئی تھی! ایسا لگا تھا جیسے متعدد کراہوں نے ہنسی کی شکل اختیار کرلی ہو!
"مس فٹز واٹر!" اس نے اپنے سینے پر ہاتھ مار کر کہا۔ "ہڈیوں اور گوشت کا یہ بنجر پہاڑ ہمیشہ تنہا کھڑا رہے گا۔ میں نے نہ جانے کس رو میں آپ سے درخواست کردی تھی! اداس اور تنہا آدمی بچوں کی سی ذہنیت رکھتے ہیں"۔ گوشت اور ہڈیوں کے اس بےہنگم سے ڈھیر میں چھپا ہوا سرسوکھے رام بچہ ہی تو ہے جو بڑی لاپروائی سے اس بدنما ڈھیر کو اٹھائے پھرتا ہے۔ اگر باشعور ہوتا تو۔۔"
"اور دیکھیئے! آپ بالکل غلط سمجھے سرسوکھے! میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا! دراصل مجھے اس پر حیرت تھی کہ۔۔!"
"نہیں۔ مس جولیانا! میں خود بھی تماشہ بننا پسند نہیں کروں گا!" وہ ہاتھ اٹھا کر دردناک آواز میں بولا۔
جولیا خاموش ہوگئی! رقص شروع ہوکا تھا! سرسوکھے رقاصوں کو کسی بچے ہی کے سے انداز میں دیکھتا رہا۔۔! نہ جانے کیوں جولیا سچ مچ اس کے لئے مغوم ہوگئی تھی!

﴿﴾ ﴿﴾ ﴿﴾
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:04 PM   #8
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

جوزف بس چلتا ہی رہا! اسے احساس نہیں تھا کہ وہ کتنا چل چکا ہے۔ اور کب تک چلتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی زبان ہی چل رہی تھی ۔ نوجوانی کے قصے چھیڑ رکھے تھے!
نوجوانی کے قصے بھی جوزف کی ایک کمزوری تھی۔ وہ مزے لے لے کر اپنے کارنامے بیان کرتا تھا اور ان کہانیوں کے درمیان قبیلے کی ان لڑکیوں کا تذکرہ ضرور آتا تھا جو اس پر مرتی تھیں۔ اس مرحلہ پر جوزف کے ہونٹ سکڑ جانے اور آواز میں سختی پیدا ہوجاتی۔ ایسا لگتا جیسے حقیقتاً اسے کبھی ان کی پرواہ نہ ہوئی ہو! اس وقت وہ بوڑھے سے کہہ رہا تھا۔ "بھلا بتاؤ۔ مجھے ان باتوں کی فرصت کہاں ملتی تھی۔ میں تو زیادہ تر رائفلوں اور نیزوں کے کھیل میں الجھا رہتا تھا۔ جب بھی سفید فام شکاری میرے علاقہ میں داخل ہوتے تو انہیں تندوے کی تلاش ضروری ہوتی تھی! میں ہی ان کی رہنمائی کرتا تھا۔ ان کی زندگیاں میری مٹھی میں ہوتی تھیں۔۔ اب بتاؤ۔۔ تم ہی بتاؤ۔۔ میں کیا کرتا! نگانہ جو قبیلے کی سب سے حسین لڑکی تھی! اس نے مجھے بددعائیں دی تھیں۔۔ آہ۔۔ آج میں اسی لئے بھٹکتا پھر رہا ہوں۔ مگر بتاؤ! اس کے لئے کہاں سے وقت نکالتا۔۔!"
جوزف نے پھر بکواس شروع کردی۔ تاڑی کی تین بوتلیں ہٹلر بھی بن سکتی ہیں اور علم الکلام کی ماہر بھی۔۔!
اچانک بوڑھا چلتے چلتے رک گیا۔ اور خوش ہو کر بولا! "واہ۔۔ اب تو وہ بیرل یہاں سے لے جائے بھی جاسکتے ہیں! میرے آدمی ٹرک لے آئے ہیں لیکن پولیس کا کہیں پتہ نہیں ہے۔۔!"
"ہائیں!" جوزف منہ پھاڑ کر رہ گیا۔ پھر بولا! "اب میرے انعام کا کیا ہوگا!"
"ایک بیرل تمہارا ہے دوست!" بوڑھے نے اس کی کمر تھپتھپا کر کہا! "تم اب انہیں ٹرک میں چڑھانے میں مدد دو گے"۔
ٹرک قریب ہی موجود تھا۔ اس کا پچھلا ڈھکنا زمین پر ٹکا ہوا تھا۔ جوزف نے چندھائی ہوئی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھا! یہ ایک ویرانہ تھا۔ گھنیرے درخت اور جھاڑ جھنکار قریب وجوار کے اندھیرے میں کچھ اور اضافہ کرتے ہوئے سے معلوم ہو رہے تھے۔
"چلو۔ اندازہ کرلو کہ تم بیرل اوپر چڑھا سکو گے یا نہیں!" بوڑھے نے کہا اور ٹرک پر چڑھ گیا۔
جوزف کی رفتار سست تھی۔ لیکن وہ بھی اوپر پہنچ ہی گیا! ٹرک تین طرف سے بند تھا اور اس کی چھت کافی اونچی تھی! لیکن جوزف جیسے لمبے تڑنگے آدمی کو تو جھکنا ہی پڑا تھا۔
"چڑھا سکو گے نا؟" بوڑھے نے پوچھا۔
"بل۔۔ بل۔۔ بلکول۔۔" جوزف لڑکھڑایا اور آندھی سے اکھڑتے ہوئے کسی تناور درخت کی طرح ڈھیر ہوگیا! اسے اس پر بھی غور کرنے کا موقعہ نہیں مل سکا تھا کہ کھوپڑی پر ہونے والے تین بھرپور وار زیادہ نشہ آور ہوتے ہیں۔۔ یا تاڑی کی تین بوتلیں۔۔!
اس کا ذہن تاریکی کی دلدل میں ڈوبتا چلا گیا! پھر دونوں ٹرک کے اگلے حصے میں چلے گئے!
تھوڑی دیر بعد ٹرک چل پڑا!

﴿﴾ ﴿﴾ ﴿﴾
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:05 PM   #9
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

صفدر نے اس دن کے بعد سے اب تک ڈھمپ اینڈ کو کے دفتر کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ جب وہاں عمران کی موت کی اطلاع لے کر گیا تھا! ایکس ٹو کی طرف سے اسے یہی ہدایت ملی تھی!
لیکن وہ عمران کے متعلق الجھن میں تھا! کبھی یقین کرنے پر مجبور ہوتا کہ اب عمران اس دنیا میں نہیں! اور کبھی پھر کئی طرح کے شبہات سر اٹھاتے! مگر یہ تو اس کی آنکھوں کے سامنے کی بات تھی کہ عمران چیخ مار کر ندی میں جا پڑا تھا! کچھ بھی ہو دل نہیں چاہتا تھا کہ عمران کی موت پر یقین کرے!
جولیا نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ عمران زندہ ہے اور اسے اس واقعہ کے بعد اس کی کوئی تحریر ملی تھی! ایکس ٹو تو اسے یقینی طور پر صحیح حالات کا علم تھا۔ ورنہ وہ جولیا کو فون پر سرزنش کیوں کرتا۔ یہی سوچ کر جولیا نے اس سے بھی اس مسئلہ پر کسی قسم کی گفتگو نہیں کی تھی!
بہرحال صفدر آج کل زیادہ تر گھر ہی میں پڑا رہتا تھا۔۔ اس وقت بھی وہ آرام کرسی میں پڑا اونگھ رہا تھا! اچانک فون کی گھنٹی بجی جو ان دونوں شاذونادر ہی بجتی تھی!
وہ اچھل پڑا۔۔!
"ہیلو۔۔!" اس نے ماؤتھ پیس میں کہا۔
"ہائیں۔۔!" دوسری طرف سے آواز آئی۔ "کیا تم زندہ ہو؟"
"ارے!" صفدر پرمسرت لہجے میں چیخا! "آپ۔۔!"
اس نے عمران کی آواز صاف پہچان لی تھی۔
"اتنی زور سے نہ چیخو کہ تمہاری لائن کو شادیٴ مرگ ہوجائے۔ ویسے میں عالم بالا سے بو ل رہا ہوں!"
"عمران صاحب خدا کے لئے بتایئے کہ وہ سب کیا تھا؟"
"یار بس کیا بتاؤں"۔ دوسری طرف سے مغوم لہجے میں کہا گیا! " میں تو یہی سمجھ کر مرا تھا کہ گولی لگ چکی ہے۔ مگر فرشتوں نے پھر دھکا دے دیا! کہنے لگے کھسکو یہاں سے۔ یہاں چارسو بیسی نہیں چلے گی۔ گولی وولی نہیں لگی۔ آئندہ اچھی طرح مرے بغیر ادھر کا رخ بھی نہ کرنا۔ نہیں تو اب کی دم لگا کر واپس کئے جاؤ گے!"
صفدر ہنسنے لگا! وہ بےحد خوش تھا۔ اس کی بیک بہت بڑی الجھن رفع ہو گئی تھی!
"جولیا بے حد پریشان تھی۔۔!" صفدر نے کہا۔
"پچھلے سال میں اس سے ساڑھے پانچ روپے ادھار لیئے تھے نا۔۔ آج تک واپس نہیں کرسکا۔۔!"
"عمران صاحب خدا آپ کو جمالیاتی حس بھی عطا کردے تو کتنا اچھا ہو!"
"تب پھر لوگ مجھے جمال احمد کہیں!" عمران خوش ہو کر بولا۔ "اور میں جمالی تخلص کرنے لگوں! خیر اس پر کبھی سوچیں گے۔ اس وقت تمہیں ایک آدمی کا تعاقب کرنا ہے جو ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کے بلیرڈ روم نمبر۳ میں بلیرڈ کھیل رہا ہے۔ اس کے جسم پر سرمئی آئیرن کا سوٹ ہے اور گلے میں نیلی دھاریوں والی زرد ٹائی۔ اگر وہ تمہارے پہنچنے تک وہاں سے جاچکا ہو تو پھر وہیں ٹھہرنا"۔
دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہوگیا!
صفدر کو ٹپ ٹاپ نائٹ کلب پہچنے میں بیس منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے! وہ آدمی اب بھی بلیرڈ روم میں موجود تھا جس کے متعلق عمران نے بیس منٹ پہلے اس سے فون پر گفتگو کی تھی۔ یہ ایک لمبا تڑنگا اور صحت مند جوان تھا۔ جبڑوں کی بناوٹ اس کی سخت دلی کا اعلان کر رہی تھی۔ البتہ آنکھیں کاہلوں اور شرابیوں کی سی تھیں۔ آنکھوں کی بناوٹ اور جسم کے پھرتیلے پن میں بڑا تضاد تھا۔
صفدر اس طرح ایک خالی کرسی پر جا بیٹھا جیسے وہ بھی کھیلنے کا ارادہ رکھتا ہو! یہاں چار بلیرڈ روم تھے اور ہر کمرے میں دو دو میزیں تھیں! اس کمرے کی دونوں میزوں پر کھیل ہو رہا تھا!
بھاری جبڑے والے کا ساتھی تھوڑی دیر بعد ہٹ گیا! اور بھاری جبڑے والے صفدر سے پوچھا!
"کیا آپ کھیلیں گے؟"
"جی ہاں۔۔!" صفدر اٹھ گیا۔
دونوں کھیلنے گے! کچھ دیر بعد صفدر نے محسوس کیا کہ اس کی باتیں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔ پتہ نہیں کیسے وہ عورتوں اور آرائشی مصنوعات کا تذکرہ نکال بیٹھا تھا!
"کیا خیال ہے آپ کا یہ عورتیں سال میں کتنی لپ اسٹک کھا جاتی ہوں گی؟"
اس نے پوچھا!
"ابھی تک میں عورتوں کے معاملات سمجھنے کے قابل نہیں ہوا"۔ صفدر نے جواب دیا۔
"اوہو۔۔ تو کیا بھی تک سنگل ہی ہو یار۔۔!"
"بالکل سنگل۔۔!"
"یہ تو بہت بری بات ہے کہ تمہاری آمدنی کا بہت بڑا حصہ لغویات پر نہیں صرف ہوتا"۔
"تم شائد بہت زیادہ زیربار ہوجاتے ہو"۔ صفدر مسکرایا۔
"دو بیویاں ہیں! لیکن ایک کو دوسری کی خبر نہیں۔۔!"
"یہ کیسے ممکن ہے؟"
"دن ایک کے ہاں گزرتا ہے، رات دوسری کے ہاں"۔ ایک سمجھتی ہے کہ میں فلموں کے لئے کہانیاں لکھتا ہوں! وہی جس کے ہاں رات بسر ہوتی ہے۔ اور دوسری سمجھتی ہے کہ میں ایک مل میں اسسٹنٹ ویونگ ماسٹر ہوں اور ہمیشہ رات کی ڈیوٹی پر رہتا ہوں"۔
"تو تم حقیقتا" کیا کرتے ہو؟"
"فلموں کے لئے کہانیاں لکھتا ہوں۔۔!" اس نے جواب دیا۔ "اور یہ کہانیاں کہیں بھی بیٹھ کر لکھی جاسکتی ہیں! اور کبھی ناوقت سیٹ پر جانا پڑا تو اس وقت والی بیوی سمجھتی ہے کہ اوورٹائم کر رہا ہو۔ یا شوٹنگ طویل ہوگئی ہے۔۔!"
"کما ل کے آدمی ہو۔۔!"
"بیویوں کو دھوکا دینا میری تفریح ہے!۔ اب تیسری کے امکانات پر غور کر رہا ہوں لیکن وقت کیسے نکالوں گا"۔
"واہ۔۔ تیسری بھی کرو گے۔۔!"
"کرنی ہی پڑے گی۔ دیکھو یار قصہ دراصل یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ شادیاں کرنے سے سالیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔۔ اور سالیاں۔۔ ہا۔۔ اگر سالیاں نہ ہوں تو دنیا ویران ہوجائے!"
"مجھے تو اس نام ہی سے گھن آتی ہے"۔ صفدر نے کہا۔
"آہا۔ تو تم انہیں سالیوں کی بجائے بتاشیاں یا جلیبیاں کہہ لیا کرو! کیا فرق پڑتا ہے"۔
صفدر ہنسنے لگا اور تھوڑی دیر بعد یہ بھول ہی گیا کہ وہ یہاں کس لئے آیا تھا۔
کھیل ختم ہوجانے کے بعد وہ ڈائننگ روم میں آ بیٹھے۔ بھاری جبڑے والا ایک لاپرواہ اور فضول خرچ آدمی معلوم ہوتا تھا۔
کافی پیتے وقت اس نے صفدر سے کہا۔"یا مجھ پر ایک احسان کرو"۔
"کیا؟" صفدر چونک پڑا۔
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:05 PM   #10
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

اس نے کلائی کی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ "چھ بج رہے ہیں لیکن میں رات والی بیوی سے آج پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں۔ میں اس سے کہوں گا کہ تم اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہو۔ آج رات بھی شوٹنگ ہوگی۔ اس لئے ڈائریکٹر نے تمہیں ساتھ کردیا ہے تاکہ تم مجھے اپنے ساتھ ہی لے جاؤ! ساڑھے سات بجے ہم گھر ہی پر رات کا کھانا کھائیں گے۔ تم برابر کہتے رہنا، بھئی جلدی چلو اور بس ہم آٹھ بجے تک گھر سے نکل آئیں گے۔کیوں؟ پھر ہم دونوں دوست ہوجائیں گے۔ اور تم آئندہ بھی ایسے مواقع پر میرے کام آیا کرنا!"
صفدر ہنسنے لگا۔ مگر بھاری جبڑے والے کی سنجیدگی میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا!
"میں سنجیدہ ہوں دوست!" اس نے کہا۔ "اگر تم یہ کام نہ کرسکو تو صاف جواب دو۔ تاکہ میں کسی دوسرے کو پھانسوں! بس کسی اور کے ساتھ کچھ دیر کھیلنا پڑے گا! سارے ہی آدمی تمہاری طرح ٹھس تھوڑا ہی ہوں گے۔ ایڈوینچر کا شوق کسے نہیں ہوتا! بہتیرے پھنسیں گے!"
صفدر نے سوچا چلو دیکھا ہی جائے گا کہ یہ آدمی کس حد تک بکواس کر رہا ہے اور اسے بہرحال اس کے متعلق معلومات فراہم کرنی تھیں! پہلے چوری چھپے یہ کام سرانجام دینا پڑتا۔ مگر اب۔۔ اب تو وہ اسے کھلی ہوئی کتاب کی طرح پڑھ سکے گا۔
اس نے حامی بھر لی۔
باہر نکل کر بھاری جبڑے والے نے کہا۔ "یہ تو اور اچھی بات ہے کہ تمہاری کار بھی موجود ہے! اب وہ شبہ بھی نہ کرسکے گی کہ میں اسے الو بنا رہا ہوں۔ وہ تمہارے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پر ایمان لے آئے گی"۔
"قطعی۔!" صفدر یوں ہی بولنے کے لئے بولا۔
وہ صفدر کی رہنمائی کرتا رہا اور پھر ماڈل کالونی کی ایک دور افتادہ عمارت کے سامنے کار روکنے کو کہا۔ عمارت نہ خوبصورت تھی اور نہ بڑی تھی۔ پائیں باغ ابتر حالت میں تھا۔ جس سے مالک مکان کی لاپرواہی یا مفلوک الحالی ظاہر ہو رہی تھی!
اس نے اسے نشست کے کمرے میں بٹھایا اور خود اندر چلا گیا!
صفدر سوچ رہا تھا کہ اسے فلموں یا فلموں کی شوٹنگ کے متعلق بالکل کچھ نہیں معلوم! اگر اس کی بیوی اس سلسلے میں اس سے کچھ پوچھ بیٹھی تو کیا ہوگا۔۔!
لیکن اس کے کچھ پوچھنے سے پہلے تین چار آدمی اس پر ٹوٹ پڑے۔ حملہ پشت سے ہوا تھا۔ اس لئے اسے سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔
ایک نے اس کا منہ دبالیا تھا اور دو بری طرح جکڑے ہوئے دروازے کی جانب کھینچ رہے تھے۔ لیکن جب وہ اس طرح اسے کمرے سےباہر نہ لے جاسکے تو تین مزید آدمی ان کی امداد کے لئے وہاں آپہنچے۔ اور صفدر کشاں کشاں ایک تہہ خانے میں پہنچا دیا گیا۔ تہہ خانے کا علم تو اسے اس وقت ہوجا جب اس کی آنکھوں پر سے پٹی کھولی گئی۔ بعد میں آنے والے تین آدمیوں میں سے ایک نے اس کی آنکھوں پر رومال باندھ دیا تھا اور کسی نے دونوں ہاتھ پشت پر جکڑ دیئے تھے۔
لیکن جب آنکھوں پر سے رومال کھولا گیا تو اس کے سامنے صرف ایک ہی آدمی تھا اور یہ تھا وہی بھاری جبڑے والا جو اسے ٹپ ٹاپ نائٹ کلب سے یہاں تک لایا تھا!
"مجھے افسوس ہے دوست!" اس نے سر ہلا کر مغوم لہجے میں کہا۔ "اس وقت دونوں بیویاں یہاں موجود ہیں! اس لئے یہ ابتری پھیلی ہے۔ سالیوں کی بجائے دونوں طرف کے سالے اکھٹے ہوگئے ہیں اور انہیں شبہ ہے کہ تم ہی مجھے بہکایا کرتے ہو!"
صفدر نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے ہوئے اسے گھورتا رہا!
وہ کوشش کر رہا تھا کہ پشت پر بندھے ہوئے ہاتھ آزاد ہوجائیں! لیکن کامیابی کی امید کم تھی۔ اگر کسی طرح وہ اپنے ہاتھ استعمال کرنے کے قابل ہوسکتا تو اس بھاری جبڑے کے زاویوں میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور نظر آتیں کیونکہ وہ ایک بےجگر فائٹر تھا!
دفعتاً بائیں جانب دیوار میں ایک دروازہ نما خلاء نمودار ہوئی اور جوزف جھکا ہوا اندر داخل ہوا۔ اس کے سر پر پٹی چڑھی ہوئی تھی اور اس کے دونوں ہاتھ بھی پشت پر بندھے ہوئے تھے! سر شاید زخمی تھا! شاید یہ صفدر کی چھٹی حس ہی تھی جس نے اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نہ پیدا ہونے دیئے اور جوزف تو پہلے ہی سے سر جھکائے کھڑا ہوا تھا! اس نے کسی طرف دیکھنا بھی نہیں تھا! اس کے چہرے پر نظر آنے والے آثار اکھڑے ہوئے نشے سے پیدا ہونے والی بوریت کی غمازی کر رہے تھے۔ زیادہ دیر تک شراب نہ ملنے پر اس کی پلکیں ایسی ہی بوجھل ہوجاتی تھیں کہ وہ کسی کی طرف دیکھنے میں بھی کاہلی محسوس کرتا تھا!
اچانک بھاری جبڑے والے نے صفدر سے پوچھا۔ " یہ کون ہے؟"
"میں کیا جانوں!" صفدر غرایا۔ "کہیں تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا!"
بھاری جبڑے والے کا قہقہہ کافی طویل تھا لیکن جوزف اب بھی سر جھکائے کسی بت کی طرح کھڑا رہا!ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے یہ آوازیں اس کے کانوں تک پہنچی ہی نہ ہوں۔ جو آدمی اسے یہاں لایا تھا اس کی رائفل کی نال اب بھی اس کی کمر سے لگی ہوئی تھی!
"تم بکواس کرکے کامیاب نہیں ہوسکتے دوست"۔ بھاری جبڑے والے نے کہا۔ "تم عمران کے آدمی ہو! اور اس وقت بھی اس کے ساتھ تھے۔ جب وہ ندی پر مقبرہ کے قریب گھیرا گیا تھا"۔
"مجھے اس سے کب انکار ہے مگر میں اس آدمی کو نہیں جانتا"۔ صفدر نے لاپروائی سے کہا۔
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:05 PM   #11
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

یہ عمران کا ملازم نہیں ہے؟" بھاری جبڑے والے نے غرا کر کہا۔
"میں نے تو کبھی عمران کے ساتھ نہیں دیکھا"۔ صفدر نے جواب د یا! وہ جانتا تھا کہ جوزف اب عمران کے ساتھ اس کے فلیٹ میں نہیں رہتا بلکہ مستقل طور پر رانا پیلس ہی میں اس کا قیام ہے۔ اس لئے وہ اس کے معاملے میں محتاط ہو کر زبان کھول رہا تھا!
"رانا تہور علی کو جانتے ہو؟"
"یہ نام میرے بالکل نیا ہے"۔ صفدر نے متحیرانہ لہجے میں کہا۔
"او۔۔ حبشی۔۔!" دفعتاً وہ جوزف کی طرف مڑکر گرجا! "اب تم اپنی زبان کھولو۔ ورنہ تمہارے جسم کا ایک ایک ریشہ الگ کردیا جائے گا"۔
"جاؤ۔۔" جوزف سر اٹھائے بغیر بھرائی سی آواز میں بولا! "پہلے میری پیاس بجھاؤ! پھر میں بات کروں گا۔ تم لوگ بہت کمینے ہو۔ تمہیں شاید نہیں معلوم کہ شراب ہی میری زبان کھلواسکے گی"۔
"شراب نہیں مل سکے گی"۔
"تب پھر مجھے کسی کی بھی پروا نہیں! جو تمہارا دل چاہے کرو"۔
"ادھر دیکہو۔ کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟" اشارہ صفدر کی طرف تھا۔
"کیوں دیکھوں؟ کیسے دیکھوں؟ میری آنکھوں کے سامنے غبار اڑ رہا ہے۔ مجھے اپنے پیر بھی صاف نہیں دکھائی دیتے۔ شراب لاؤ۔ یا مجھے گولی مارد"۔
"پلاؤ۔ اسے۔ پلاؤ"۔ دفعتاً بھاری جبڑے والا دونوں ہاتھ ملا کر غرایا ۔ "اتنی پلاؤ کہ اس کا پیٹ پھٹ جائے"۔
رائفل والا جوزف کے پاس سے ہٹ کر پچھلے دروازے سے نکل گیا۔
"عمران کہاں ہے؟" وہ پھر صفدر کی طرف متوجہ ہوا۔
"اگر تم یہ جانتے ہو کہ میں اس دن عمران کے ساتھ تھا جب ہم پر چاروں طرف سے گولیاں برس رہی تھیں تو یہ بھی جانتے ہو گے کہ عمران کام آگیا تھااور میں بچ کر نکل گیا تھا"۔
"ہمیں تو اس پر یقین تھا کہ تم بھی نہ بچے ہوگے! لیکن آج تم ہاں میرے سامنے موجود ہو! تم اتنی چالاکی سے نکل گئے تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہ چل سکا تھا"۔
"عمران گولی کھا کر دریا میں گر گیا تھا"۔ صفدر نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا! لیکن وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں جوزف یہ جملے سن کر چونک نہ پڑے۔ اس وقت کی گفتگو سے اچھی طرح اندازہ کرچکا تھا کہ وہ رانا تہور علی اور عمران کی الجھن میں پڑ گئے ہیں۔
لیکن صفدر کے اندیشے بےبنیاد ثابت ہوئے کیونکہ جوزف کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی اس نے نہ تو سر اٹھایا اور نہ کسی طرف دیکھا۔
تھوڑی دیر بعد قدموں کی آہٹ سنائی دی اور رائفل والا دیسی شراب کی دو بوتلیں لئے دروازے سے اندر داخل ہوا۔
"ایک بوتل کھول کر اس کے منہ سے لگا دو"۔ بھاری جبڑے والے نے کہا۔ تعمیل کی گئی! جوزف کے موٹے موٹے ہونٹ بوتل کے منہ سے چپک کر رہ گئے! بڑا مضحکہ خیز منظر تھا۔ ایسا ہی لگ رہا تھا کہ جیسے کسی بھوکے شیرخوار بچے نے دودھ کی بوتل سے منہ لگا کر چسر چسر شروع کردی ہو۔
آدھی بوتل غٹا غٹ پی جانے کے بعد اس نے بوتل کا منہ چھوڑ کر دو تین لمبی لمبی سانسیں لیں اور مسکرا کر بولا۔
"تم بڑے اچھے ہو! بڑے پیارے آدمی ہو! تم پر آسمان سے برکتیں نازل ہوتی رہیں! اور آسمانی باپ تمہیں اچھے کاموں کی توفیق دے"۔
بھاری جبڑے والا کینہ توز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے سالہا سال سے اسے مار ڈالنے کی خواہش پال رہا ہو! جوزف نے بقیہ آدھی بوتل بھی ختم کردی!
اب وہ کسی جاگتے ہوئے آدمی کی سی حالت میں آگیا تھا۔ آنکھیں سرخ ہوگئیں تھیں اور چہرے کی سیاہی چمکنے لگی تھی!
"ارے۔۔ یہ آدمی۔۔" دفعتاً اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ "ہاں! مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اسے ایک آدھ بار مسٹر عمران کے ساتھ دیکھا تھا"۔
"لیکن میں نے تو تمہیں کبھی نہیں دیکھا"۔ صفدر نے غصیلی آواز میں کہا۔
"یہ بھی ممکن ہے مسٹر کہ تمہاری نظر مجھ پر کبھی نہ پڑی ہو"۔
"عمران کہاں ملے گا؟" بھاری جبڑے والا غرایا۔
"میں کیا بتا سکتا ہوں مسٹر"۔ جوزف نے متحیرانہ انداز میں پلکیں جھپکائیں۔ "بہت دنوں کی بات ہے جب میں مسٹر عمران کے ساتھ تھا۔ لیکن وہ میرے پینے پلانے کا بار سنبھالنے کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے خود ہی میرا پیچھا چھوڑ دیا۔۔ اس طرح میں نے اطمینان کا سانس لیا! ورنہ مجھے تو اس کا غلام رہنا ہی پڑتا ہے جو مجھے زیر کرلے۔ اور پھر میرا تو ڈاکٹر طارق والا مقدمہ بھی چل رہا ہے"۔
"کیسا مقدمہ۔۔؟"
اس پر جوزف نے ڈاکٹر طارق کی کہانی دہراتے ہوئے کہا۔ ماسٹر عمران نے مجھے بہت پیٹا تھا۔ وہ شاید پولیس کے لئے کام کرتے ہیں۔۔!"
بھاری جبڑے والا تھوڑی دیر تک کچھ سوچتا رہا پھر بولا! "رانا کون ہے؟"
"باس ہے میرا۔ جوزف نے فخر سے سینہ تان کر کہا۔
"وہ کہاں ملے گا۔۔؟"
"میں نہیں جانتا۔ ان سے تو بس کبھی کبھی ملاقات ہوتی ہے"۔
"عمران سے اس کا کیا تعلق ہے۔۔؟"
"میں کیا بتاسکتا ہوں مسٹر۔ میں کیا جانوں! میں نے کبھی ان کے ساتھ مسٹر عمران کو نہیں دیکھا"۔
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:05 PM   #12
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

دوسری شام جولیا آفس سے گھر آکر لیٹ ہی گئی تھی۔۔! بوریت۔۔! وہ سوچ رہی تھی کہ اس کو ذہنی اضمحلال سے کیسے چھٹکارا ملے گا! آج وہ دن بھر اداس رہی تھی۔ اس کا کسی کام میں بھی دل نہیں لگا تھا!
عمران۔۔! ان ذہنی الجھنوں کی جڑ عمران ہی تھا! اس کے متعلق کسی ذہنی کشمکش میں پڑ کر وہ اپنی ساری زندہ دلی اور مسرور رہنے کی صلاحیت کھو بیٹھی تھی!
یہ عمران اس کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت تھا! اس کی عدم موجودگی میں وہ اس کے لئے بےچین رہتی تھی لیکن جہاں سامنا ہوتا اور وہ اپنے مخصوص لہجے میں گفتگو شروع کرتا تو اس کا یہی جی چاہتا کہ اس وقت جو چیز بھی ہاتھ میں ہو کھینچ مارے! ایسا ہی تاؤ اس کی خاموشی پر بھی آتا تھا! کیونکہ خاموشی حماقت انگیز ہوتی تھی!
جولیا نے کراہ کر کروٹ بدلی۔۔ اور آنکھیں بند کی ہی تھیں کہ فون چیخ پڑا۔۔ وہ اٹھی اور ریسیور اٹھا لیا! دوسری طرف تنویر ٹھا۔۔!
"اوہو۔۔ تو گھر ہی پر ہو!" اس نے کہا۔ کیا آج سرسوکھے واقعی سوکھتا ہی رہے گا؟"
"کیا مطلب؟ جولیا غرائی!"
"سنا ہے آج کل وہ تمہیں بڑی موٹی موٹی رنگینیاں عطا کر رہا ہے۔۔!"
"خاموش رہو بدتمیز۔۔" جولیا بپھر گئی!
"ارے بس۔۔ تھوکو عضہ۔۔ میں نے تو محض عمران کے جملے دہرائے ہیں! ابھی ابھی اس نے فون پر کہا تھا کہ تم تو خیر پہلے ہی ہاتھ دھوچکے تھے اب میں نے بھی دھولئے ہیں اور اس وقت انہیں تولیئے سے خشک کررہا ہوں۔ میں نے پوچھا کیا بکتے ہو کہنے لگا سوکھ رہا ہوں! میں جھنجھلا کر سلسلہ منقطع کرنے ہی والا تھا کہ بولا۔
جولیا آج کل ہمالیاتی عشق کا شکار ہوگئی ہے سرسوکھے اسے عشق کے موٹے موٹے نغمے سناتا ہےاور ایک موٹی سی مسکراہٹ جولیا کے ہونٹوں پر رقص کرنے لگتی ہے اور اسے چاند ستارے، دریا کے کنارے حتیٰ کہ ساون کے نظارے بھی موٹے نظر آنے لگتے ہیں۔۔!"
"شٹ اپ!" جولیا حلق پھاڑ کر چیخی اور سلسلہ منقطع کردیا۔۔
وہ کانپ رہی تھی! اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے رگوں میں خون کی بجائے چنگاریاں دوڑ رہی ہوں!
"سور۔۔ کمینہ۔۔ وحشی۔۔ درندہ!" وہ دانت پیس کر بولی اور منہ کے بل تکیئے پر گر گئی۔۔!
تھوڑی دیر تک بےحس وحرکت پڑی رہی! پھر اٹھی اور سرسوکھے کے نمبر ڈائیل کئے! وہ بھی اتفاق سے مل ہی گیا فون پر!
"کون ہے۔۔؟"
"فٹز واٹر۔۔"
"اوہ۔۔ کہیئے کہیئے۔۔!"
"آپ سے نہیں ملتی تو دل گھبراتا رہتا ہے۔۔!" جولیا ٹھنک کر بولی! اور پھر بڑا برا سا منہ بنایا۔
"اوہو۔۔ تو میں آجاؤں۔۔ یا آپ آرہی ہیں!"
"کسی اچھی جگہ مليے۔۔!"
"اچھا۔۔ جاگیردار کلب کیسا رہے گا؟"
"اوہو۔۔ بہت شاندار۔۔ پھر آپ کہاں ملیں گے۔۔؟"
"میں آپ کے گھر ہی پر آرہا ہوں!"۔۔ سرسوکھے کا لہجہ بےحد پرمسرت تھا! بالکل ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا جیسے کسی بچے سے مٹھائی کا وعدہ کیا گیا ہو!
سلسلہ منقطع کرکے جولیا لباس کا انتخاب کرنے لگی۔۔ یہ عمران آخر خود کو سمجھتا کیا ہے۔ وہ سوچ رہی تھی! بیہودہ کہیں کا۔۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا تو آتا ہی نہیں۔۔ جانور۔۔ خیر دیکھوں گی! تم بھی کیا یاد کرو گے۔ اب سرسوکھے ہی سہی۔۔!
سرسوکھے آدھے گھنٹے کےاندر ہی اندر وہاں پہنچ گیا۔ جولیا بےحد دلکش نظر آرہی تھی! اس نے بڑی احتیاط اور توجہ سے میک اپ کیا تھا اور لباس کا تذکرہ ہی فضول ہے کیونکہ گھٹیا سے گھٹیا لباس بھی اس کے جسم پر آنے کے بعد شاندار ہوجاتا تھا۔ وہ ایسی ہی جامہ زیب تھی۔۔!
جاگیردار کلب پہنچنے میں دیر تو نہ لگتی لیکن واقعہ ہی ایسا پیش آیا جو دیر کا سبب تو بن گیا تھا لیکن جولیا کی سمجھ میں نہیں آسکا تھا!
جگایردار کلب پہنچنے کے لئے ایک ایسی سڑک سے گذرنا پڑتا تھا جو زیادہ کشادہ نہیں تھی اور عموماً سرشام ہی اپنی رونق کھو بیٹھی تھی! وہ اس سڑک ہی پر تھے کہ جولیا نے محسوس کیا جیسے ان کا تعاقب کیا جارہا ہو! دیر سے ایک کار پیچھے لگی ہوئی تھی!
"شاید یہ آگے جانا چاہتا ہے۔۔ ایک طرف ہوجائیے!" جولیا نے کہا!
سرسوکھے نے بھی پلٹ کر دیکھا۔ پچھلی کار اب زیادہ فاصلے پر نہیں تھی!
اس کے اندر بھی روشنی تھی اور ایک بڑا شاندار آدمی اسٹیرنگ کر رہا تھا!
جولیا کو تو وہ شاندار ہی لگا تھا!
سرسوکھے کے حلق سے عجیب سی آواز نکلی اور پھر جولیا نے محسوس کیا جیسے اس نے اپنے ہونٹ سختی سے بند کرلیئے ہوں! اس نے اپنی گاڑی بائیں کنارے کرلی اور پچھلی کار فراٹے بھرتی ہوئی آگے نکل گئی۔۔!
تھوڑی دیر بعد جولیا نے چونک کر کہا۔ "ارے جاگیردار کلب تو شاید پیچھے ہی رہ گیا۔۔!
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:06 PM   #13
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

جی ہاں۔۔ بس ابھی واپس ہوتے ہیں! یہ کام اچانک نکل آیا ہے"۔
"میں نہیں سمجھی؟"
"ہوسکتا ہے کہ آپ نے اس آدمی کو بارہادیکھا ہو! یہ جو اگلی کار میں ہے!"
"جی نہیں! میں نے تو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔" جولیا بولی!
"تعجب ہے آپ فارورڈنگ کلیرنگ کا کام کرتی ہیں لیکن اسے نہیں جانتیں میرا خیال تھا کہ یہ بھی آپ کے کاروباری حریفوں میں سے ہوگا!اس کا بھی تو فارورڈنگ کلیرنگ کا بزنس ہے شاید۔۔!"
"پتہ نہیں! میں نہیں جانتی!"
"کسی زمانے میں میرے یہاں اسسٹنٹ منیجر تھا"۔ سرسوکھے نے ٹھنڈا سانس لے کر کہا۔ "لیکن بےایمان آدمی ہے اس لئے میں نے اسے الگ کردیا تھا!"
"تو کیا آپ اس کا تعاقب کر رہے ہیں!"
"یقیناً کیونکہ میرا خیال ہے کہ وہ میری فرم کے موجودہ جنرل منیجر سے گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہے۔ مقصد کیا ہے! میں نہیں جانتا!"
"گٹھ جوڑ کا شبہ کیسے ہوا آپ کو؟"
"جب یہ میرے یہاں تھا تو دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔۔!"
"تو آپ کس بات کا شبہ کر رہے ہیں۔۔!"
"وہ ایک پرانا اسمگلر ہے۔۔ یہی معلوم ہوجانے پر میں نے اسے اپنی فرم سے الگ کیا تھا۔۔!"
"تب تو پھر اتنے گھماؤ پھراؤ کی بات ہی نہیں تھی! آپ نے پہلے ہی اس کا نام بتایا ہوتا! ہم اسے چیک کرلیتے"۔
"نام تو درجنوں بتائے جاسکتے ہیں! مگر یہ اس وقت میرا تعاقب کیوں کر رہا تھا! مجھے تو یہ دیکھنا ہے۔۔!"
" تو اب آپ اس کا تعاقب کریں گے؟"
قطعی۔۔ قطعی!" وہ بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولا! "اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اب وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟" کیا اس لئے میرا تعاقب کیا جا رہا ہے کہ میں نے تم لوگوں سے مدد طلب کی ہے!"
"خیر ایسے لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث صرف عمران ہوسکتا ہے!" جولیا نے کہا۔ "کیونکر بعض بڑے جرائم پیشہ اس کی ساکھ سے واقف ہیں!"
"میں یہی کہنا چاہتا تھا مس جولیانا۔۔ آپ کو وہ شام تو یاد ہی ہوگی جب آپ میرے آفس میں میری کہانی سن رہی تھیں۔۔!"
"جی ہاں! میں نے میز پر پائے جانے والے پیر کے نشان کا چربہ عمران کے حوالے کردیا ہے!"
"اوہ۔۔ دیکھیئے وہ کار بائیں جانب مڑرہی ہے۔۔ کیا میں ہیڈلائٹس بجھا دو"۔
"اگر تعاقب جاری رکھنا ہے تو یہی مناسب ہوگا!" جولیا نے کہا!
سرسوکھے نے اگلی روشنی گل کردی اور پھر وہ بھی بائیں جانب مڑ گیا! تھوڑی دیر بعد وہ پھر شہر کے ایک بھرے پرے حصے میں داخل ہوئے!
"اوہ وہ اپنی گاڑی گرینڈ ہوٹل کی کمپاؤنڈ میں موڑ رہا ہے!" سرسوکھے بڑبڑایا۔۔!
اگلی کار گرینڈ ہوٹل کے پھاٹک میں داخل ہو رہی تھی۔ سرسوکھے نے اپنی گاڑی کی رفتار رینگنے کی حد تک کم کردی۔۔! اگلی کار پارک ہوچکی تھی اس سے وہی آدمی اترا اور بڑے پروقار انداز میں چلتا ہوگا گرینڈ ہوٹل کے صدر دروازے میں داخل ہوگیا۔۔!
ادھر سرسوکھے نے اپنی گاڑی روک دی تھی۔۔!
"اوہ۔۔ میں کیا کروں!" وہ مضطربانہ انداز میں بولا! "آپ ہی بتایئے!"
"کاش میں یہ معلوم کرسکتی کہ آپ کیا چاہتے ہیں"۔
"ہمیشے کے لئے ان بدبختوں کا خاتمہ جن کی وجہ سے نیندیں حرام ہوگئی ہیں مجھ پر۔۔! اس وقت تو میں صرف اپنی جان بچانا چاہتا ہوں! آپ کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے مس جولیا!"
"آپ جو کچھ کہیں۔۔ میں کروں!"
"اوہ دیکھیئے! میں بھی اپنی گاڑی کمپاؤنڈ ہی میں پارک کروں گا اور آپ اسی میں بیٹھ کر میرا انتظار کریں گی!"
"کتنی دیر۔۔!"
"ہوسکتا ہے۔۔ جلد ہی لوٹ آؤں! ہوسکتا ہے دیر ہوجائے"۔
"آپ جائیں گے کہاں۔۔؟"
"اندر۔۔! میں دیکھوں گا کہ وہ کس چکر میں ہے! آپ خود سوچیئے کہ وہ میرا تعاقب کر رہا تھا! پھر آگے نکل آیا۔۔ اب یہاں آرکا ہے۔ کیاوہ میرے گرد کسی قسم کا جال پھیلا رہا ہے!"
جولیا کچھ نہ بولی! سرسوکھے نے گاڑی پھاٹک میں گھمائی اور اسے ایک گوشے میں روکتا ہوا بولا۔
"بس آپ اس کی کار پر نظر رکھیئے گا!"
سرسوکھے گاڑی سے اترا اور صدر دروازے کی طرف چل پڑا! اس کی چال میں معمول سے زیادہ تیزی تھی! جولیا کار میں بیٹھی رہی! تقریباً پانچ منٹ گذر گئے! وہ اس آدمی کے متعلق سوچ رہی تھی جسے کار میں دیکھا تھا۔۔ یکایک وہ چونک پڑی ایک نیا سوال اس کے ذہن کے تاریک گوشوں سے ابھرا تھا!۔۔ اگر وہ سرسوکھے کا تعاقب ہی کر رہا تھا تو گاڑی کے اندر روشنی رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
جولیا اس پر غور کرتی رہی! اور اس کا ذہن الجھتا چلا گیا! اب تو ایک نہیں درجنوں سوالات تھے۔۔!
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:06 PM   #14
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

کیا سرسوکھے اسے خطرے میں چھوڑ کر خود کھسک گیا تھا؟ خصوصیت سے اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا! لہذا وہ چپ چاپ سرسوکھے کی گاڑی سے اتر آئی! قریب ہی بڑے بڑے گملوں کی ایک قطار دور تک پھیلی ہوئی تھی! ان میں گنجان اور قدآور پودے تھے جن کی پشت پر تاریکی ہی تھی! جولیا نے سوچا کہ وہ بہ آسانی ان کی آڑ لے سکے گی!
شاید آدھا گھنٹہ گذر چکا تھا لیکن ابھی تک ان دونوں میں سے کسی کی بھی واپسی نہیں ہوئی تھی۔۔!
جولیا سوچنے لگی کہ وہ خواہ مخواہ اپنے پیر تھکا رہی ہے اور اسے ایک بار پھر عمران پر غصہ آگیا۔۔ محض عمران کی وجہ سے وہ اس وقت گھر سے نکل آئی تھی ورنہ دل تو یہی چاہا تھا کہ آفس سے واپسی پر گھنٹوں مسہری پر پڑی رہے گی! تنویر نے فون پر عمران کی گفتگو دہرا کر اسے تاؤ دلا دیا تھا اور وہ سرسوکھے کے ساتھ باہر نکل آئی تھی اور تہیہ کرلیا تھا کہ آئندہ شامیں بھی اسی کے ساتھ گذارے گی!
لیکن اب اسے اپنی جلد بازی کھل رہی تھی! ویسے اس کی ذمہ داری تو عمران ہی پر تھی لہذا وہ سلگتی رہی۔۔!
دفعتاً اسے سرسوکھے نظر آیا جو بڑی تیزی سے اسی کار کی طرف جارہا تھا جس پر تعاقب کرنے والا آیا تھا۔ پھر جولیا نے اسے کار کے انجن میں کچھ کرتے دیکھا اور اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں! آخر وہ کیا کرتا پھر رہا ہے!
اس کے بعد وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنی کار کی طرف مڑا اور داہنا ہاتھ اٹھا کر اسے دو تین بار جنبش دی!
غالباً یہ اشارہ جولیا کے لئے تھا کہ وہ ابھی انتظار کرے۔۔ جولیا نے ایک طویل سانس لی۔۔!
سرسوکھے بڑی تیزی سے پھاٹک کی طرف سے چلا جارہا تھا! پھر وہ اس سے گذر کر سڑک پر نکل گیا!
جولیا وہیں کھڑی رہی! پھر اس نے سوچا کہ وہ خواہ مخواہ اپنی ٹانگیں توڑ رہی ہے! جہنم میں گئے سرسوکھے کے معاملات! وہ خود ہی نپٹتا پھرے گا اسے کیا پڑی ہے کہ خواہ مخواہ اپنا وقت برباد کرے، اپنی انرجی ضائع کرے۔۔ اچانک وہ ایک بار پھر چونک پڑی!
اب وہ آدمی اپنی کار کی طرف جا رہا تھا جو سرسوکھے کی موجودہ بھاگ دور کی وجہ بنا تھا۔۔!
پھر جولیا نے دیکھا کہ وہ کار میں بیٹھ کر اسے اسٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے! تھوڑی ہی دیر بعد وہ انجن کھولے اس پر جھکا ہوا نظر آیا۔۔ اور پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہو ا تو اس کے ہاتھوں کی مایوسانہ جنبشیں اس کی بےبسی کا اعلان کر رہی تھیں۔۔!
دفعتاً ایک ٹیکسی ڈرائیور اس کی طرف آیا! دونوں میں گفتگو ہوتی رہی پھر ٹیکسی ڈرائیور نے بھی انجن دیکھا اور کار اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی! جولیا محسوس کر رہی تھی کہ وہ آدمی بہت زیادہ پریشان ہے!
پھر ذرا سی دیر بعد اس نے اسے ٹیکسی میں بیٹھتے دیکھا کہ وہ اپنی کار وہیں چھوڑے جا رہا تھا۔۔!
جولیا نے سوچا کہ اب اسے ہر قیمت پر اس کا تعاقب کرنا چاہیئے! ہوسکتا ہے سرسوکھے نے اسے وہاں کچھ دیر روکے رکھنے ہی کے لئے اس کے کار کے انجن میں کوئی خرابی پیدا کی ہو!
اس نے تعاقب کا فیصلہ بہت جلدی میں کیا تھا! کیونکہ ٹیکسی نکلی جارہی تھی ورنہ وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے مناسب حد تک غور کرنے کی عادی تھی! وہ جھپٹ کر سرسوکھے کی کار میں آ بیٹھی! اور پھر دس منٹ بعد دونوں کاروں کے درمیان صرف سو گز کا فاصلہ رہ گیا! وہ اس فاصلہ کو اس سے بھی زیادہ رکھنا چاہتی تھی لیکن اس بھری پری سڑک پر اس کے امکانات نہیں تھے!
جو ں توں کرکے اس نے تعاقب جاری رکھا! کچھ دیر بعد وہ ٹیکسی شہر کے ایک کم آباد حصے میں داخل ہوئی لیکن یہاں بھی ٹریفک کم نہیں تھا!
دفعتاً وہ ٹیکسی ایک عمارت کی کمپاؤنڈ میں مڑ گئی! پھاٹک کھلا ہی ہوا تھا! جولیا نے اپنی کار کی رفتار کم کرکے اسے سڑک کے نیچے اتار دیا!
دوسری عمارت کی کمپاؤنڈ تاریک پڑی تھی اورچہار دیواری اتنی اونچی تھی کہ اندر کا حال نظر نہیں آسکتا تھا!
پتہ نہیں اس کے سر میں کیا سمائی کہ وہ بھی کار سے اتر کر کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئی! چاروں طرف اندھیرا تھا۔ عمارت کی کوئی کھڑکی بھی روشن نہیں تھی!
وہ مہندی کی باڑھ سے لگی ہوئی آگے بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک کوئی سخت سی چیز اس کے بائیں شانے سے کچھ نیچے چھبنے لگی اور ایک تیز قسم کی سرگوشی سنائی دی! "چپ چاپ چلتی رہو۔ یہ پستول بےآواز ہے!"
جولیا کا سرچکرا گیا۔۔ یہ کس مصیبت میں آ پھنسی۔ لیکن وہ چلتی ہی رہی!
اسے ہوش نہیں تھا کہ اندھیرے میں اسے کتنے دروازے طے کرنے پڑے تھے! پھر جب وہ ایک بڑے کمرے میں پہنچی تو اس کی آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں۔یہاں متعدد بلب روشن تھے اور ان کی برقی قوت بھی زیادہ تھی!
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 07:06 PM   #15
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جڑوں کی تلاش

یہاں اسے وہ آدمی جو ٹیکسی میں بیٹھ کر آیا تھا! تین نقاب پوشو ں میں گھرا ہوا نظر آیا جن کے ہاتھوں میں ریوالور تھے۔۔!
جولیا نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا جو اسے یہاں تک لایا تھا۔۔! دوسرے ہی لمحے اس کے حلق سے ایک تحیر زدہ سی چیخ نکلی۔۔! یہ سرسوکھے تھا۔۔!
اس کے ہونٹوں پر ایک خونخوار سی مسکراہٹ تھی۔۔! اس نے کہا!
"میں جانتا تھا کہ تم یہی کرو گی۔۔!"
"مم۔۔ مگر۔۔ میں نہیں سمجھی"۔ جولیا ہکلائی!
"ابھی سمجھ جاؤ گئی"۔ سرسوکھے نے خشک لہجے میں کہا! "چپ چاپ یہیں کھڑی رہو! اوہ۔۔ تمہارے ہینڈ بیگ میں ننھا سا پستول ضرور ہوگا! مجھے یقین ہے"۔
اس نے اس کے ہاتھ سے بیگ چھین لیا!
جولیا دم بخود کھڑی رہی! اب وہ پھر اس آدمی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ان مشکلات میں پڑی تھی۔۔ سرسوکھے کا مرکز نگاہ بھی وہیں تھا۔
"کیوں۔۔؟ خفیہ معاہدہ کے کاغذات کہاں ہیں؟" اس نے گرج کر اس آدمی سے پوچھا!
"کیسا خفیہ معاہدہ۔۔ اور کیسے کاغذات؟" وہ آدمی مسکرا کر بولا۔ "میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو!"
"اوہ تو کیا تم اسے بھی جھٹلاؤ سکو گے کہ تم رانا تہور علی ہو!"
"اسے جھٹلانے کی ضرورت ہی کیا ہے!"
"کیا لیفٹننٹ واجد والے کاغذات تمہارے پاس نہیں ہیں؟"
" میں جب کسی کسی لیفٹننٹ واجد ہی کو نہیں جانت تو کاغذات کے متعلق کیا بتاؤں۔۔؟"
"تب تو عمران بھی تمہارے لئے اجنبی ہی ہوگا"۔ سرسوکھے کی مسکراہٹ زہریلی تھی!
"یہ کیا چیز ہے۔۔؟"
"خاموش رہو!" سرسوکھے آنکھیں نکال کر چیخا!
"چلو اب خاموش ہی رہوں گا!یقین نہ ہو تو کچھ پوچھ کر آزمالو۔۔!"
"رانا۔۔"
"اب اپنا نام بھی بتا دو۔۔" وہ آدمی مسکرایا! ت"تاکہ میں بھی تمہیں اتنی ہی بےتکلفی سے مخاطب کرسکوں!"
"رانا تمہارے جسم کا بند بند الگ کردیا جائے گا!"
"ضرور کوشش کرو! میں بھی آدمی کی ٹوٹ پھوٹ کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں! میری نظروں سے آج تک کوئی ایسا آدمی نہیں گذرا جس کا بند بند الگ کردیا گیا ہو؟"
"ستون سے باندھ کر کوڑے برساؤ"۔ سرسوکھے نے نقاب پوشوں سے کہا۔
نقاب پوشوں نے اپنے ریوالور جیبوں میں ڈال لئے۔ لیکن اس وقت جولیا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ اس آدمی کی بجائے خود سرسوکھے ہی پر ٹوٹ پڑے۔۔!
"ارے۔۔ ارے! دماغ تو نہیں خراب ہوگیا!" سرسوکھے بوکھلا کر پیچھے ہٹا۔
"ہاں۔۔ دیکھو! دفعتاً وہ آدمی بولا۔ "ہم اسے زندہ چاہتے ہیں! تاکہ اس پر ہودہ کسوا کر سواری کے کام میں لاسکیں۔۔ رانا تہور علی صندوقی کا ہاتھی بھی عام ہاتھیوں سے الگ تھلگ ہونا چاہیئے۔۔!"
جولیا کو تو ابھی بھانت بھانت کی حیرتوں سے دوچار ہونا تھا! سرسوکھے ان تینوں کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوا۔۔!
سارے کمرے میں وہ انہیں نچاتا پھر رہا تھا۔۔ اتنے بھاری جسم والا اتنا پھرتیلا بھی ہوسکتا ہے! حیرت! حیرت!! جولیا کو تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بھوت ُانے میں آ پھنسی ہو! سرسوکھے آدمی تو نہیں معلوم ہو رہا تھا۔۔!
بالکل ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا جیسے کسی ہاتھی نے چیتے کی طرح چھلانگیں لگانی شروع کردی ہو۔۔!
سب سے لمبا نقاب پوش حلق سے طرح طرح کی آوازیں نکالتا ہوا اسے پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔!
رانا تہویر علی ریوالور سنبھالے دروازوں کی روک بنتا پھر رہا تھا کہ کہیں سرسوکھے کسی دروازے سے نکل کر فرار نہ ہوجائے! ویسے اس کی آنکھوں میں کچھ اس قسم کے تاثرات پائے جاتے رہے تھے جیسے اچھی فیلڈنگ کرنے والے کسی چست وچالاک بچے کی آنکھوں میں پائے جاتے ہیں۔ جولیا کبھی اس کی طرف دیکھنے لگی تھی اور کبھی سرسوکھے کی طرف۔۔!
"سرسوکھے تم ابھی تھک جاؤ گے"۔ دفعتاً رانا نے کہا۔
"اسی طرح صبح ہوجائے گی"۔ سرسوکھے نے قہقہہ لگایا۔ تم مجھ پر فائر کیوں نہیں کرتے؟"
"میں ایک بلیک میلر ہوں سرسوکھے!" رانا کہا۔ "کیا تم سودا کرو گے؟"
"میں جانتا تھا!"۔۔ سرسوکھے نے بےتکان قہقہ لگایا۔ وہ اب بھی ان تینوں کو ڈاج دیتا پھر رہا تھا!
جولیا دروازے کی طرف کھسک رہی تھی۔۔ رانا نے اسے للکارا۔
"خبردار اگر تم اپنی جگہ سے ہلیں تو تمہاری لاش یہیں پڑے پڑے سڑ جائے گی!" جولیا ٹھٹک گئی!
"اپنے آدمیوں کو روکو"۔۔ سرسوکھے نے کہا۔
"اوہ۔۔ تم تینوں دفع ہوجاؤ"۔ رانا نے ہاتھ ہلا کر کہا! اور تینوں نقاب پوش اسے چھوڑ کر ایک دروازے سے نکل گئے!
"تم ادھر چلو۔۔!" سرسوکھے نے جولیا سے کہا۔۔ اور رانا نے ریوالور کی نال کو جنبش دے کر سرسوکھے کی تائید کی! جولیا ان کے قریب آگئی!
"تم اسے کہاں لئے پھر رہے ہو سرسوکھے؟ جانتے ہو یہ کون ہے؟" رانا نے پوچھا۔
"میں سب کچھ جانتا ہوں تم معاملے کی بات کرو!"
"ساڑھے تین لاکھ"۔
"بہت ہے۔۔ میں نہیں دے سکتا۔۔!"
"تب پھر میں دوسروں سے بھی بزنس کرسکتا ہوں۔۔! مگر نہیں!
میں تم سے بات ہی کیوں کرو۔۔ معاملہ تو تمہارے چیف ہی سے طے ہو سکے گا۔۔!"
"میرا کوئی چیف نہیں ہے!" سرسوکھے غرایا! "میں مالک ہوں"۔
"تب پھر تم ہی معاملہ طے کرو"۔
"میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک بڑھ سکوں گا! لیکن اس کے بعد گنجائش نہیں ہے!"
"اس سے بہتر تو یہی ہوگا کہ میں عمران سے ہار مان کر اپنا پیچھا چھڑاؤں!"
"تم ایسا نہیں کرسکتے!" سرسوکھے گرجا! "میں کتوں کے راتب میں اضافہ کرنے کی سکت رکھتا ہوں۔۔ ساڑھے تین لاکھ ہی سہی"۔
اچانک رانا نے اچھل کر اس کی توند پر ایک زر دار لات رسید کی۔۔!
اور وہ چیخ کر الٹ گیا! اس کے گرنے سے کسی قسم کی آواز پیدا ہوئی تھی!
جولیا اندازہ نہ کرسکی! عجیب سی آواز تھی۔۔ نہ وہ کسی چٹان کے گرنے کی آواز تھی اور نہ۔۔؟ وہ اندازہ بھی کیسے کرسکتی تھی کیونکہ اس نے آج تک نہ تو گوشت کا پہاڑ دیکھا ہی تھا اور نہ اس کے گرنے کی آواز سنی تھی!
"اب تم اٹھ نہ سکو گے سرسوکھے۔۔! رانا نے قہقہہ لگایا۔ "بس کسی ایسی بطخ کی طرح پڑے رہوجو چت لیٹا کر سینے پر کنکری رکھ دی گئی ہو! مجھے اسی کا انتظار تھا۔ مگر تم تو ایسے بھی ڈفر ہو! تم غالباً یہ سمجھتے تھے کہ رانا اتفاقاً ہاتھ آگیا ہے اسی لئے اس پھر بھی غور نہ کرسکے کہ جو شخص کسی سے چھپتا پھر رہا ہو وہ بھلا کار کے اندر روشنی کیوں رکھنے لگا! کار کے اندر میں نے اس توقع پر روشنی کی تھی کہ شاید تم پھنس ہی جاؤ۔۔ وہا ہوا۔۔ یہاں کچھ دیر پہلے تمہارے آدمی تھے جنہیں میرے آدمیوں نے ٹھکانے لگا کر ان کی جگہ خوش لے لی تھی۔۔ مجھے تمہارے سارے اڈوں کا علم تھا! اس لئے اس وقت ہر اڈے پر میرے ہی آدمی موجود ہوں گے! اتنی دردسری تو محض اس لئے مول لی تھی کہ تمہاری زبان سے اعتراف کراسکوں کہ اس کالی تنظیم کے سربراہ تم ہی ہو۔۔ تم ہی وہ وطن فروش ہو جس نے ملک کو تباہ کردینے کی سازش کی تھی۔۔ ہاہا۔۔ تم اٹھ نہیں سکتے۔۔ بس اسی طرح بےبسی سے ہاتھ پیر مارتے رہو! میں یہ بھی جانتا تھا کہ تم لیٹ جانے پر خود سے نہیں اٹھ سکتے تین چار نوکر تمہیں کینچ کھانچ کر بستر سے اٹھاتے ہیں! اسی کام کے لئے تم نے تین چار پہلوا رکھ چھوڑے ہیں۔۔!"
"مجھے۔۔ اٹھاؤ۔۔ دس لاکھ!" سرسوکھے چیخا!
جولیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔!
"تم اس فکر میں تھے کہ مجھے اور عمران دونوں کو ٹھکانے لگا دو۔۔ اس لئے اسمگلنگ کی کہانی لے کر عمران کی بیوی کے پاس پہنچ گئے تھے۔۔!"
"اے۔ تم کیا بکواس کر رہے ہو!" جولیا بگڑ گئی۔۔!
"تم عمران کی بیوی نہیں ہو؟" رانا نے بڑی معصومیت سے پوچھا!
"نہیں۔۔!"
"اوہ۔۔ تو اس نے بکواس کی ہوگی۔۔ بہرحال تو پھر تم اس سے اتنی ہی قریب ہوسکتی ہو کہ سرسوکھے تمہارا سہارا لیتا"۔
"وہ صرف میرا دوست ہے"۔
"شوہر بھی دشمن تو نہیں ہوتا!"
"زبان۔۔ بند کرو۔۔! تم کون ہو؟ اور تمہارا ان معاملات سے کیا تعلق ہے؟"
"زبان بند کرلوں گا تو تم سنو گی! خیر۔۔ تم خود ہی اپنی زبان بند کرو اور مجھے سرسوکھے سے گفتگو کرنے دو! ہاں سوکھے! تم ابھی دس لاکھ کی بات کر رہے تھے! دس کروڑ اور دس ارب کی باتیں شروع کرو پھر شاید مجھے سوچنا پڑے کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے!"
"تم کیا چاہتے ہو؟" سرسوکھے نے بےبسی سے پڑے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔۔!
"تمہارے ہاتھوں کے لئے اسپیشل ہتھکڑیاں بنوائی ہیں! دیکھنا چاہتا ہوں کہ فٹ ہوں گی یا نہیں۔۔؟"
"تم بلیک میلر ہو؟۔۔"
"ہاں میں اپنے ملک و قوم کے لئے سب کچھ کرسکتا ہوں! بلیک میلنگ تو تفریحاً بھی ہوجاتی ہے۔۔!"
"تم کون ہو۔۔؟" سرسوکھے نے خوف زدہ سی آواز میں پوچھا!
"جوزف۔۔!" رانا نے جواب دینے کی بجائے آواز دی!
دوسرے ہی لمحے جوزف کمرے میں تھا اور اس کے ہاتھوں میں بڑی بڑی اور وزنی ہتھکڑیاں تھیں۔۔!
"ہتھکڑی لگا دو!" لیکن خیال رکھنا کہ کہیں وہ تمہارے سارے اٹھ نہ آئے! ورنہ پھر اس کا پیٹ ہی پھاڑنا پڑے گا! میں اس ہاتھی کو زندہ لے جانا چاہتا ہوں۔۔!"
جوزف اس کا مطلب سمجھ گیا تھا اس لئے وہ کوشش کر رہا تھا کہ قوت صرف کئے بغیر ہی اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دے۔ لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی۔ تب رانا نے صفدر کو آواز دی! اور جولیا چونک کر اسے گھورنے لگی صفدر بھی اندر آیا۔۔!
"چلو بھئی۔۔ تم بھی مدد کرو جوزف کی!" رانا نے کہا اور جولیا کھسک کر اس کے قریب آگئی! وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہی تھی!
"فرمائیے محترمہ۔۔!"
"تم کون ہو؟" جولیا نے آہستہ سے پوچھا!
"ہم۔۔ رانا تہور علی صندوقی ہیں!۔۔ ہمارے حضور ابا۔۔ یعنی کہ آنریبل فادر۔۔"
"تم جھوٹے ہو۔۔!" سرسوکھے حلق پھاڑ کر چیخا!" تم ان لوگوں سے بھی کوئی فراڈ کرو گے۔۔ صفدر تم تو عمران کے ساتھی ہو! جولیا اس کے باتوں پر یقین نہ کرو! یہ تمہیں بھی ڈبوئے گا!"
"مگر کچھ دیر پہلے تو یہ تمہاری فرم کا ایک نالائق ملازم تھا"۔ جولیا نے زہریلے لہجے میں کہا!
"کچھ بھی ہو تم اس سے وفا کی امید نہ رکھنا یہ تمۼ/div>
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
جواب

Tags
کمال, ٹیک, پسند, قواعد, قدم, قصہ, نظر, معلوم, آدمی, احتجاج, اردو, تلاش, تعارف, حسن, خوش, خدا, دیکھو, دوست, دل, سال, شہر, شور, علی, عمران, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 11:05 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:09 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger