|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: Karachi - Pakistan
مراسلات: 328
کمائي: 7,016
شکریہ: 50
83 مراسلہ میں 185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر: نعيم احمد بلوچ
وہ ایک چھوٹا سا قافلہ تھا۔ یہ قافلہ اگرچہ عام لوگوں کا نہیں تھا لیکن اس وقت اس کی حالت بہت خراب تھی۔ کہنے کو ان کا تعلق ترکوں کے ایک معزز قبیلے سے تھا لیکن اس وقت وہ "معزز" قبیلہ اپنے وطن سے بھی محروم ہو چکا تھا۔ ان کا اصل وطن تو خراسان تھا لیکن وہاں وحشی تاتاری حملہ آور ہو چکے تھے۔ ان کے ظلم و ستم سے خراسان اور اس کے ارد گرد کا سارا علاقہ دہشت زدہ تھا، اس لیے دوسرے قبیلوں کی طرح اس قبیلے کے سردار سلیمان شاہ نے اس علاقے سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ 1228ء کا زمانہ تھا اور اس دور میں چنگیز خاں کے قہر سے مسلمانوں کے چند ہی علاقے محفوظ تھے۔ انہی علاقوں میں "حلب" کے قریب سلجوقیوں کا علاقہ بھی شامل تھا اور سلیمان شاہ نے اسی طرف جانے کا فیصلہ کیا تھا، مگر انسان کو بھلا اپنے فیصلوں پر کیا اختیار ہے! ہوا یہ کہ دریائے فرات عبور کرتے ہوئے ایک حادثے کے نتیجے میں سلیمان خاں دریا میں ڈوب گیا! اب قبیلہ سردار کے بغیر رہ گیا تھا۔ قبیلے کے سردار کے یوں اچانک ہلاک ہو جانے پر قبیلے میں پھوٹ پڑ گئی۔ قبیلے کے زیادہ تر لوگوں نے یہی فیصلہ کیا کہ وہ واپس پلٹ جائیں مگر سردار کے بیٹوں "ارطغرل" اور "دندار" نے کہا کہ وہ اپنا سفر اسی جانب جاری رکھیں گے جہاں کا ارادہ ان کے والد نے کیا تھا۔ ارطغرل کو اپنا سردار مان لینے والوں کی تعداد صرف چار سو بیس تھی جب کہ باقی قبیلہ منتشر ہو کر ادھر ادھر کے علاقوں میں پھیل گیا اور اب یہی مختصر قافلہ ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) میں پناہ لینے کے لیے رواں دواں تھا۔ ارطغرل کو اس کے والد سلیمان نے بتا رکھا تھا کہ اس دور میں صرف علاؤ الدین سلجوقی ہی وہ مسلمان فرماں روا ہے جو چنگیز خاں اور دوسرے تاتاری فتنے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہ قافلہ سفر کرتے کرتے "انگورہ" کے قریب جا پہنچا۔ اچانک قافلے کو اپنے سامنے گرد و غبار اڑتا ہوا نظر آیا۔ اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ کوئی بہت بڑا قافلہ یا لشکر آ رہا ہے۔ ارطغرل خاں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کوتسلی دی اور خود وہ ایک اونچے ٹیلے کی طرف دوڑا۔ یہ ٹیلا ذرا فاصلے پر تھا۔ ارطغرل خاں نے جب ٹیلے پر چڑھ کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ دو لشکروں کو دیکھ رہا تھا جو آپس میں لڑ رہے تھے۔ تبھی ارطغرل کو اپنے ذہن میں بیٹھے ان دو سوالوں کا جواب مل گیا کہ ان کے چھوٹے سے قافلے کی رفتار تو خاصی کم تھی، پھر وہ اس قدر بڑے قافلے کے قریب کیسے پہنچ گئے؟ اور دوسرا سوال یہ تھا کہ گرد و غبار جتنا زیادہ تھا اس سے تو یہ لگتا تھا کہ یہ قافلہ ابھی ان کے سامنے آجائے گا۔۔۔۔ مگر اب صورت حال واضح تھی کہ یہ قافلہ نہ آ رہا ہے، نہ جا رہا ہے بلکہ دو لشکر ایک جگہ جم کر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ارطغرل خاں کے سامنے اب ایک مشکل فیصلہ تھا۔ کیا وہ اس لڑائی میں کسی ایک کا ساتھ دے یا خاموشی سے اپنی منزل کی طرف بڑھ جائے؟ ارطغرل خاں نے بہت جلد ایک فیصلہ کر لیا۔۔۔۔ وہ فیصلہ ترکوں کی بہادری کی روایت کے عین مطابق تھا۔۔۔۔ اس نے قافلے میں لڑنے والے لوگوں کو علیحدہ کیا اور حکم دیا کہ اس کا ساتھ دیا جائے۔ "مگر ہم کس کے ساتھ لڑیں گے؟ ہمیں کیا خبر ہمارا دشمن کون ہے اور دوست کون؟" "اس کا فیصلہ دونوں لشکروں کے پاس جا کر ہوگا۔۔۔۔ ہم ترکوں کی روایت یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ کمزوروں کی حمایت کرتے ہیں۔۔۔۔ ہم بھی ان فوجوں کے پاس جا کر اندازہ لگائیں کہ کمزور کون ہے؟ اور پھر ان کی مدد کریں گے!" قبیلے والے جانتے تھے کہ ان کے نوجوان سردار نے غلط نہیں کہا۔۔۔۔ چنانچہ اگلے لمحے ایک برق رفتار دستہ گرد کے بادل اڑاتا میدان جنگ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جب ارطغرل خاں اپنے دستے کے ساتھ موقعہ پر پہنچا تو اسے ایک لشکر واضح طور پر شکست کھاتا نظر آیا۔۔۔۔ اس لشکر کی تعداد بھی دوسرے سے کم تھی اور سب سے بڑھ کر انہیں یوں لگا کہ یہ کمزور لشکر مسلمانوں کا ہے اور اس کے مقابلے میں تاتاری ہیں۔ بس پھر کیا تھا، ارطغرل خاں نے حملے کا حکم دیا۔ اس خدائی مدد نے اس لشکر کے قدم ایک مرتبہ پھر جما دیے جو چند منٹ پہلے اکھڑ رہے تھے۔ دوسرا لشکر بھی حیران تھا کہ یہ مدد کہاں سے آگئی؟ اب منظر تیزی سے بدلنے لگا تھا۔ تلواروں اور بھالوں میں ایک نئی شدت آ گئی تھی اور اب گردنوں کی فصل دوسری طرف پکنے لگی تھی۔ چند گھنٹوں میں فیصلہ ہوگیا۔ ارطغرل خاں کی مدد سے شکست، فتح میں تبدیل ہوگئی اور مخالف فوج ساری کی ساری گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالی گئی۔۔۔۔ بہت کم تھے جنہوں نے ہتھیار ڈالے تھے! انگورہ نامی شہر کے قریب ہونے والی اس جنگ کا پانسا ہی نہیں پلٹا تھا بلکہ دنیا کی تاریخ میں ایک عظیم تبدیلی ہو چکی تھی! فاتح فوج کے سپہ سالار نے نازک وقت پر مدد کرنے والے بہادر دستے کے سالار کو بلایا تو ارطغرل خاں حاضر ہوگیا۔ "کون ہو تم بہادر نوجوان!" سپہ سالار نے پوچھا۔ "میں خراسان کے ایک ترک قبیلے "اغز" سے تعلق رکھتا ہوں۔۔۔۔ میرے باپ کا نام سلیمان خاں تھا۔۔۔۔ اور ہم تاتاریوں کے فتنے سے پناہ کے لیے علاؤ الدین سلجوقی کے پاس پناہ لینے جا رہے تھے۔" "تو پھر تم نے راستے میں بغیر سوچے سمجھے ایک شکست کھاتی فوج کی کیوں مدد کی؟" سپہ سالار نے حیرت سے پوچھا۔ "یہ ہم ترک مسلمانوں کی روایت ہے جناب! ہم ہمیشہ کمزور کی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں!" "تو گویا تم ہمیں کمزور سمجھتے ہو؟" سالار نے ناراضی سے کہا۔ "نہیں جناب! میرا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اسے بہادری کے خلاف سمجھتے ہیں کہ طاقت ور فوج کی مدد کی جائے۔۔۔۔ ویسے بھی بہادری کا تعلق تعداد سے نہیں جذبے سے ہے۔" سپہ سالار کو ارطغرل خاں کا جواب پسند آیا اور اس نے قدرے خاموشی کے بعد پوچھا: "تمہیں معلوم ہے کہ تم نے کس کی مدد کی ہے؟ اور کس کی شکست میں فیصلہ کن کردار ادا کیاہے؟" "نہیں جناب۔۔۔۔! ہمیں تو بس یہ معلوم ہے کہ ہم نے تاتاریوں کے خلاف ایک مسلمان بھائی کی مدد کی ہے!" ارطغرل نے سادگی سے کہا۔ "تو پھر جان لو۔۔۔۔ میں ہی علاؤ الدین سلجوقی ہوں۔۔۔۔ اور تم میرے ہی پاس پناہ لینے آ رہے تھے۔۔۔۔ اور اللہ نے تمہاری قابلیت پرکھنے کا مجھے بہت اچھا موقع دیا ہے۔۔۔۔ بے شک اس میں اس کی عظیم مصلحت پوشیدہ لگتی ہے!" ارطغرل خاں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تقدیر اس پر اس قدر جلدی مہربان ہو سکتی ہے۔ علاؤالدین سلجوقی نے واپس شہر پہنچ کر ایک اہم اعلان کیا۔۔۔۔ وہ اعلان یہ تھا کہ ارطغرل کی عظیم اور بے لوث مدد کے بدلے اسے یونان کا سرحدی صوبہ "بیتھینیا" انعام کے طور پر دیا جاتا ہے۔ ارطغرل خاں نے اس صوبے کے شہر "سغوت" کو اپنی ریاست کا صدر مقام بنایا اور سلطنت کو ترقی دینے میں بے پناہ محنت کی۔ یہ ریاست بہت زرخیر اور شاداب تھی۔ اس میں وسیع چراگاہیں تھیں۔ ارطغرل خاں نے بعد میں سلجوقی سلطان کے نائب کی حیثیت سے یونانیوں اور منگولوں کی مشترکہ فوج کو زبردست شکست دی اور اپنی سلطنت کو مزید وسیع کر لیا۔ 1288ء میں جب ارطغرل خاں فوت ہوا تو اس کے پیچھے اس کا ہونہار بیٹا عثمان خاں تھا۔۔۔۔ جس نے عثمانیہ خلافت کی بنیاد رکھی اور تاتاریوں کے خوف ناک حملوں کے بعد اسلامی ریاست کے زوال کو ایک مرتبہ پھر عروج میں بدل دیا۔ عثمانی خلافت کا سورج 600 سال تک پوری آب و تاب کے ساتھ روشن رہا اور اس دور میں عثمانی سلطنت آسٹریا تک پھیل گئی اور دنیا میں اس کے مقابلے کی کوئی دوسری طاقت نہ تھی۔ تاریخ یہی ثابت کرتی ہے کہ ارطغرل خاں کا انگورہ میں علاؤ الدین سلجوقی کی مدد کرنے کا واقعہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا۔۔۔۔ یہ ایک خدائی منصوبہ تھا! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ابن ضیاء کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (26-12-08), Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھی شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے صدا سلامت رہیں ماشااللہ- جزاک اللہ خیر خدا حافظ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, پسند, قدم, نظر, موجودہ, مقابلہ, منصوبہ, معلوم, اللہ, انسان, اسلامی, بھائی, جواب, جلد, حکم, خلاف, خبر, دوست, رفتار, زمانہ, سفر, سردار, شہر, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| چاند کے خوبصورت مناظر | ابو عمار | دلچسپ اور عجیب | 13 | 21-06-11 07:09 PM |
| خوبصورت جانور خوبصورت پوز دیتے ہوئے ۔۔۔۔ | احمد بلال | دلچسپ اور عجیب | 23 | 06-06-11 11:18 PM |
| یہی قصور ھے میرا کہ بے قصور ھوں میں۔۔۔ | چاند | شعر و شاعری | 3 | 19-12-10 12:52 AM |
| مصور منصوراے کا سوئم آج ہوگا | عبدالقدوس | خبریں | 2 | 20-10-10 03:40 PM |
| بے قصور وں کو گرفتار کرانے والا بے قصور ۔۔۔ | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-10-10 10:41 PM |