|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: Karachi - Pakistan
مراسلات: 328
کمائي: 7,016
شکریہ: 50
83 مراسلہ میں 185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر: نعیم احمد بلوچ
وہ منظر تو ہر ایک نے دیکھا تھا مگر اس کا دیکھنا سب سے جدا تھا۔ ایک ایسے شخص کی سچی داستان جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے سبق آموز ہے! پورے مکہ میں ایک عجیب ہل چل مچی ہوئی تھی۔ سبھی کا رخ اس درخت کی طرف تھا جہاں پھانسی کے لیے پھندا جھول رہا تھا۔ مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سبھی نعرے لگاتے ایک تماشا دیکھنے جا رہے تھے۔۔۔۔ ایک خوف ناک تماشا، جسے دیکھنے کی دعوت مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے دی تھی۔ ان لوگوں میں ایک لمبا تڑنگا نوجوان سعید بھی تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ کون سا تماشا دیکھنے جا رہا ہے۔۔۔۔ یہ بات ساری بستی کی طرح اسے بھی معلوم تھی کہ آج قیدی کو پھانسی دی جانے والی ہے۔ یہ قیدی پچھلے کئی مہینوں سے عقبہ کی قید میں تھا۔ اس نے اسے مہنگے داموں خریدا تھا۔ عقبہ آج اسے پھانسی دے کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے والا تھا۔ ایک سال قبل مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے پہلے معرکے "غزوۂ بدر" میں عقبہ کا باپ حارث بن عامر، خبیب کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔ تب سے عقبہ نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ خبیب سے بدلہ ضرور لے گا۔ پھر اسے خبر ملی کہ خبیب ایک جھڑپ میں گرفتار ہو گیا ہے اور جن لوگوں نے اسے گرفتار کیا ہے وہ اسے غلام بنا کر فروخت کر رہے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، عقبہ گیا اور خبیب کو منہ مانگی قیمت دے کر خرید لایا۔ آج کئی مہینوں کی قید کے بعد وہ اسے شہید کرکے اپنے باپ کا انتقام لینے کا فیصلہ کیے ہوئے تھا۔ عامر کو ان سارے واقعات کا علم تھا۔ اس کے جذبات بھی بستی کے دوسرے لوگوں کی طرح تھے۔ وہ سب خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے بدر کے میدان میں اٹھائی گئی ذلت کا غم ہلکا کرنا چاہتے تھے۔ پھانسی والے درخت کے ارد گرد ایک بہت بڑا مجمع اکٹھا ہو چکا تھا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو بری طرح جکڑا ہوا تھا۔ لوگ ان پر آوازے کس رہے تھے۔ گالیاں دے رہے تھے، جس کا ہاتھ پہنچ رہا تھا، وہ مار بھی رہا تھا۔۔۔۔ خاص طور پر بدر کے میدان میں مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں بیوہ ہوجانے والی عورتیں تو غصے سے پاگل ہورہی تھیں۔۔۔۔ اس سب کے باوجود سعید نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے چہرے پر عجیب سکون دیکھا تھا۔ وہ حیران تھا کہ چند لمحوں کے بعد موت کے منہ میں جانے والا یہ انسان اس قدر مطمئن کیوں ہے؟ وہ ان کے چہرے کو قریب سے دیکھنے کی غرض سے آگے بڑھا اور ہجوم سے گزرتا ہوا سامنے کی صف میں سرداران قریش کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو پھانسی کے لیے بنائی گئی مخصوص جگہ پر لایا گیا۔ پھر ان سے اپنی آخری خواہش کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے ایک عجیب اور نرالی فرمایش کی: "اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔" لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور انہیں اجازت دے دی گئی۔ سعید نے دیکھا کہ انہوں نے کعبہ رخ ہو کر دو رکعت نماز پڑھی، بڑے ہی سکون اور اطمینان کے ساتھ۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے لوگوں کی طرف دیکھا اور کہا: "اللہ کی قسم، اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ تم سمجھ بیٹھو گے کہ میں نے نماز کو موت کے ڈرسے لمبا کیا ہے تو میں نماز میں اور زیادہ وقت صرف کرتا!" لگتا تھا حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا ہر لفظ مکہ والوں کو سخت ناگوار گزرا ہے۔ کئی ایک خداؤں کو ماننے والے بھلا ایک اللہ کی عبادت کیسے برداشت کر سکتے تھے؟ اپنے اسی غصے اور دکھ کا اظہار کرنے کے لیے ایک سردار نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "خبیب! تمہارا محمدۖ کے بارے میں کیا خیال ہے؟" "وہ اللہ کے رسول ہیں۔"دل کی گہرائیوں سے جواب ملا: "اچھا اگر تمہارے بجائے وہ یہاں ہوتے اور تمہیں چھوڑ دیا جاتا تو کیسا رہتا؟" "اللہ کی قسم۔۔۔۔ میں تو یہ بھی گوارا نہیں کروں گا کہ ان کو کوئی کانٹا چبھے۔" ان الفاظ نے قریشی سرداروں کو غصے سے دیوانہ کر دیا اور وہ دانت پیسنے لگے۔ انہیں پھر پوچھا گیا: "اگر تمہاری بجائے محمدۖ یہاں ہوتے تو۔۔۔۔؟ جواب ملا: "اللہ کی قسم، میں اپنے اور اپنے تمام گھر والوں کے بدلے، ان کے جسم پر ایک کانٹے کا زخم بھی برداشت نہیں کرسکتا۔" تب آوازیں بلند ہوئیں: "مار ڈالو اسے، قتل کر دو!" قریشی سردار جان چکے تھے کہ ان کا سامنا دنیا کے عجیب و غریب قیدی کے ساتھ ہے۔۔۔۔ شرمندگی سے بچنے کے لیے انہوں نے کوئی اور سوال نہ کیا اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی گردن میں رسی ڈال دی۔ پھانسی کی رسی گلے میں تھی کہ خبیب رضی اللہ عنہ نے آخری وقت منہ آسمان کی طرف کیا اور آخری التجا کی: "اے اللہ، ان سب ظالموں کو شمار کر لے، انہیں تباہی کا مزا چکھا اور ان میں سے کسی کومعاف نہ کر۔" ان کا جملہ ابھی پورا ہی ہوا تھا کہ عقبہ آگے بڑھا اور اس پتھر کو ہٹا دیا، جس پر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاؤں ٹکے ہوئے تھے۔ ان کی گردن کو زور سے جھٹکا لگا۔ کفار مکہ کے آگے نہ جھکنے والی گردن ٹوٹنے کے بعد کچھ اور بلند محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ شہادت کا مرتبہ پا کر قیامت تک کے لیے زندہ ہو گئے اور انہیں موت سے ہم کنار کرنے والوں کا آج پوری دنیا میں کوئی طرف دار نہیں کوئی نام لیوا نہیں! انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجمع شور مچا رہا تھا اور سعید عجیب کیفیت میں انہیں خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ اہل مکہ تو خبیب رضی اللہ عنہ کے خون سے انتقام کی آگ بجھا کر واپس آ گئے لیکن سعید کے لیے یہ واقعہ سوچ کے نئے دروازے کھول گیا۔ ان کی نظروں کے سامنے خبیب رضی اللہ عنہ کا پرسکون چہرہ آجاتا۔ ان کا اطمینان سے دو رکعت نماز پڑھنا یاد آجاتا۔ اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایک سوال بن جاتا۔ وہ سوچتا کیا کسی جھوٹے آدمی سے کوئی یوں محبت و عقیدت رکھ سکتا ہے؟ "نہیں، یقینا" نہیں۔" اس کا ضمیر بڑا واضح جواب دیتا۔ "کیا موت سے چند لمحے پہلے کسی جھوٹ پر قائم شخص کا چہرہ یوں پر اعتماد اور مطمئن ہو سکتا تھا؟" "بالکل نہیں۔" اس کا ضمیر پھر جواب دیتا۔ "کیا ایسے شخص کی بد دعائیں اللہ رد کر سکتا ہے؟ وہ دعائیں جو اس نے اپنے قاتلوں کے لیے مانگی تھیں۔" "ہرگز نہیں۔" ضمیر کے ساتھ اس کے یہ سوال و جواب ایک دفعہ نہیں، کئی دفعہ ہوئے۔ اتنی دفعہ کہ اس کی نیند اچاٹ ہو گئی۔ وہ ان سوالات سے دامن بچانے کی خاطر انہیں بھولنے کی کوشش کرتا تو خبیب رضی اللہ عنہ کا مظلوم مگر پر اعتماد چہرہ سامنے آجاتا۔ اس صورت حال نے اسے بالکل ہلا کر رکھ دیا اور وہ اندر سے بالکل ٹوٹ پھوٹ گیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر کارروائی سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا۔ انہی حالات میں غزوۂ خندق پیش آیا۔۔۔۔ پورے عرب کے کافر اکٹھے ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے لیکن پھر بھی مسلمانوں کا کچھ بگاڑ نہ سکے اور انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ ناکام واپس آ گئے۔ ان کے دل کی دنیا تو خبیب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے کے ساتھ ہی بدل چکی تھی۔ لیکن غزوۂ خندق نے ان کے اندر اتنی طاقت پیدا کر دی کہ انہوں نے مکہ میں سرعام یہ اعلان کر دیا کہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ بتوں کی پوجا میں کوئی سچائی نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ اس اعلان کے بعد وہ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ مدینہ پہنچ کر انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا اور اپنا مستقبل اسلام کے ساتھ وابستہ کر دیا۔ ٭٭٭ زمانہ پر لگا کر اڑتا رہا اور حضرت سعید رضی اللہ عنہ کا کردار اور ایمان آزمایشوں کی بھٹی میں کندن بنتا رہا۔۔۔۔ یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آگیا۔ اسلامی سلطنت دور دور تک پھیل چکی تھی اور حکومت کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایسے لوگوں کی ضرورت رہتی جو حاکم بننے کے بجائے خادم بن کر لوگوں کی خدمت کر سکیں۔ انہی دنوں ایک علاقے حمص کے گورنر حضرت عباس بن غنم رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نئے گورنر کی تلاش ہوئی۔ اس موقعے پر انہیں حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحتیں یاد آگئیں جو انہوں نے خلیفہ بننے پر انہیں کی تھی۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود چل کر حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا: "اے سعید رضی اللہ عنہ، ہم نے تمہیں حمص کا گورنر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔" حضرت سعید رضی اللہ عنہ بولے: "اے عمر رضی اللہ عنہ، اللہ کا واسطہ ہے، مجھے اس آزمایش میں نہ ڈالیے۔" یہ سننا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خفا ہو گئے اور فرمایا: "بڑے افسوس کی بات ہے، تم لوگوں نے خلافت کا بوجھ تنہا میری گردن میں ڈال دیا اور خود الگ تھلگ ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر حضرت سعید رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: "خدا کی قسم سعید، میں تمہارے بارے میں یہی رائے رکھتا ہوں کہ تم اس ذمہ داری کے اہل ہو اور میں تمہیں یہ ذمہ داری سونپے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔" اب حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے لیے فرار کا کوئی راستہ نہ تھا اور انہوں نے رضامندی والی خاموشی اختیار کر لی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا: "اے سعید، رضی اللہ عنہ کیا تمہارے لیے ہم کچھ معاوضہ مقرر کر دیں؟" اس پر حضرت سعید رضی اللہ عنہ بولے: "نہیں اس کی ضرورت نہیں، مجھے بیت المال سے پہلے ہی کچھ رقم ملتی ہے۔ یہ رقم میری ضرورت کے لیے کافی ہے بلکہ اب اور زیادہ ہو جائے گی۔" یوں گورنری کا عہدہ قبول کرنے کے لیے سعید رضی اللہ عنہ حمص کی طرف روانہ ہوگئے۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے اللہ کے دین کا علم حضرت محمدۖ سے حاصل کیا، اس لیے جانتے تھے کہ حکمرانی چاہے پوری ریاست کی ہو یا ریاست کے کسی حصے کی اس کا پہلا اسلامی تقاضا یہ ہے کہ حکمران رہنے سہنے کو ایک عام شخص کی سطح پر لے آئے تاکہ کسی بھی آدمی کو اپنے گورنر یا حکمران سے بات کرنے میں نفسیاتی یا کسی اور قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے دوسرے حکومتی عہدے داروں کی طرح انہوں نے بھی غریبانہ زندگی اختیار کر لی اور عوام کی خدمت میں دن رات مصروف ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد حمص سے ایک وفد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے مدینہ آیا۔ یہ شہر کے اہم لوگ تھے۔ انہوں نے گفتگو کے دوران ایک دستاویز پیش کی۔ یہ دستاویز ان لوگوں کے بارے میں تھی جو شہر کے معزز لوگ تھے لیکن بہت غریب تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہر شہر سے ایسے لوگوں کی فہرستیں منگواتے تھے اور گورنر سے ضروری مشورہ کے بعد ان کے وظائف مقرر کر دیتے۔ اب جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فہرست دیکھی تو ایک نام پڑھ کر چونکے اور کہا: "یہ سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کون ہیں؟" "امیرالمومنین یہ ہمارے گورنر ہیں!" "اچھا ۔۔۔۔ حیرت ہے۔۔۔۔!" "گورنر ۔۔۔۔ اور شہر کے مفلس لوگوں کی فہرست میں!" وفد کے ایک صاحب بولے: "جی ہاں، یہ وہی ہیں اور اللہ کی قسم ان کے چولہے میں کئی کئی دن آگ نہیں جلتی۔" "لیکن میں نے تو ان کا وظیفہ بیت المال سے مقرر کیا تھا اور انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ یہ ان کی ضرورت کے مطابق ہے بلکہ اس سے زیادہ ہے۔" "آپ درست فرماتے ہیں، لیکن ہمارے گورنر اپنے شہر میں کسی مفلس اور غریب کو نہیں دیکھ سکتے۔ وہ بھلا کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کے گھر میں روٹی پکے اور شہر کا کوئی فرد بھوکا سو جائے۔ اسی لیے وہ اپنا سب کچھ ناداروں اور مفلسوں کو دے دیتے ہیں۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اتنا روئے کہ آنسو آنکھوں سے داڑھی تک سفر کرتے ہوئے ٹپ ٹپ زمین پر گرنے لگے۔ ٭٭٭ اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لے گئے۔ ان کا یہ دورہ ملک کے حالات سے خود واقف ہونے کے لیے تھا۔ حمص شام ہی کا ایک علاقہ تھا۔ وہ اس کے دورے پر بھی آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آمد کا سن کر لوگ ان سے ملنے آئے۔ ایک اچھا خاصا ہجوم ہو گیا۔ ان سے جب حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو لوگوں نے جہاں اطمینان کا اظہار کیا وہاں کچھ نے شکایتیں بھی کیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گورنر سے شکایت رکھنے والے صبح آئیں۔ میں ان کی موجودگی میں سعید رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں وضاحت طلب کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ انہیں اپنے گورنر پر بھرپور اعتماد ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ اگلی صبح شکایت کرنے والے بھی موجود تھے اور حضرت سعید رضی اللہ عنہ بھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شکایت کرنے والوں کو حکم دیا کہ اپنا بیان دیں۔ ان میں سے ایک شخص بولا: "اے امیر المومنین! ہمیں گورنر سے سب سے پہلی شکایت یہ ہے کہ یہ دن چڑھے تک گھر سے باہر نہیں نکلتے۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: "ہاں سعید رضی اللہ عنہ، بتاؤ تم اس سلسلے میں کیا کہتے ہو؟" وہ کچھ لمحے خاموش رہے، پھر بولے: "اللہ کی قسم میں اس ضمن میں کچھ بھی کہنا پسند نہیں کرتا لیکن اب آپ کا حکم ہے تو میں ضرور بتاؤں گا۔۔۔۔ دراصل میرے گھر میں کوئی خادم نہیں۔ میں صبح سویرے اٹھتا ہوں اور اہل خانہ کے لیے آٹا گوندھتا ہوں۔ پھر تھوڑی دیر انتظار کرتا ہوں کہ آٹے میں خمیر پیدا ہو جائے۔ اس کے بعد روٹی پکاتا ہوں اور کھانے سے فارغ ہو کر وضو کرکے لوگوں کی خدمت کے لیے نکلتا ہوں۔" دراصل عرب میں کھانا پکانا گھر کی خواتین کا کام نہیں۔ یہی رواج آج تک قائم ہے۔ اس کے لیے خادم رکھے جاتے ہیں۔ خواتین یہ کام کرنا اپنے لیے شرم کا باعث سمجھتی ہیں اور زمانے کے دستور کے مطابق مرد انہیں ایسا کرنے پر مجبور نہیں کرتے تھے تاکہ دوسری خواتین ان کو طعنے نہ دیں کہ تم اپنے خاوند کی بیوی نہیں باندی ہو۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی اس وضاحت کے بعد شکایت کرنے والے خاموش ہو گئے۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دوسری شکایت کرنے کا حکم دیا۔ وہ بولے: "اے امیرالمومنین، رات کے وقت ان کے دروازے ہمارے لیے بند ہوتے ہیں ہمارا خیال ہے کہ گورنر کے دروازے چوبیس گھنٹے عوام کے لیے کھلے رہنے چاہئیں۔" حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: "مجھے اس سوال کا جواب دینا بھی بڑا ناگوار ہے لیکن مجبوراً بتاتا ہوں کہ دن میں نے ان کی خدمت کے لیے رکھا ہے اور رات کو اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ جب دن کو میرے پاس ان کی شکایات اور خدمت کے لیے وقت اور موقع، دونوں میسر ہیں تو پھر میں اپنے پروردگار کا وقت انہیں نہیں دے سکتا۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا یہ عذر بھی قبول کیا۔ تیسری شکایت یوں بیان کی گئی: "یہ مہینے میں ایک دن چھٹی کرتے ہیں اور تقریباً سارا دن باہر نہیں نکلتے۔" حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے امیرالمومنین، میں عرض کر چکا ہوں کہ میرے پاس کوئی خادم نہیں اور جو زندگی میں نے اختیار کی ہے اس کی سختیوں میں، میں اپنی بیوی کو شریک کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس لیے مہینے میں ایک روز میں اپنا واحد جوڑا خود دھوتا ہوں، پھر اس کو سکھاتا ہوں اور دن کے آخری حصے میں اسے پہن کر باہر نکلتا ہوں۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ انہوں نے شکایت کرنے والوں سے پوچھا: "اور کچھ؟" ایک شخص بولا: "یہ مجلس میں بیٹھے بیٹھے بعض اوقات گم صم ہو جاتے ہیں۔ لگتا ہے بے ہوش ہو گئے ہیں، کسی کی طرف متوجہ نہیں رہتے۔ ہم ان کی اس پراسرار بیماری سے بہت تنگ ہیں۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید رضی اللہ عنہ کو اس کی بھی وضاحت کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا: "میں نے حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کی وہ بددعائیں بھی سنی تھیں جو انہوں نے تماشائیوں اور قریشی سرداروں کو دی تھیں۔ میں بھی ایک قریشی ہوں، اس وقت میں بھی ان کا تماشا دیکھ رہا تھا اور ان کی مدد کو آگے نہیں بڑھا تھا۔ وہ لمحات بار بار میرے ذہن میں آجاتے ہیں، جب ان کے جسم کی بوٹیاں نوچی جا رہی تھیں اور انہیں اپنے رسول کی شان میں گستاخی کے لیے کہا جا رہا تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ میں یہ بھی گوارا نہیں کر سکتا کہ ان کے جسم میں ایک کانٹا بھی چبھے۔ اب سوچتا ہوں کہ میرا خبیب رضی اللہ عنہ کی مدد نہ کرنے کا جرم معلوم نہیں اللہ معاف کرے گا یا نہیں۔ بس یہ خیال آتا ہے تو مجھ پر بے خودی طاری ہو جاتی ہے۔" یہ سن کر مجمع پرخاموشی طاری ہو گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: "اللہ کا شکر ہے جس نے سعید رضی اللہ عنہ کے بارے میں میرے اعتماد کو غلط ثابت نہیں ہونے دیا۔" اس کے بعد انہوں نے ایک ہزار دینار ان کی خدمت میں پیش کیے اور فرمایا کہ اس دورے سے مجھے معلوم ہوا کہ شام کے لوگ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے رقم لینے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ میرے لیے گھوڑوں کی آمدنی کافی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی خدمت صرف اللہ کی خاطرکروں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "اے سعید رضی اللہ عنہ، تم پر واجب ہے کہ یہ رقم رکھو۔ کیونکہ ایک مرتبہ خود اللہ کے رسولۖ نے مجھے سمجھایا کہ اگر بغیر سوال کے ملے تو اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے، رد نہیں کرنا چاہیے۔" تب حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے نہ چاہتے ہوئے وہ رقم رکھ لی مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے روانہ ہونے کے بعد اس کا بہت بڑا حصہ چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں تقسیم کیا اور اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ یہ تھیلیاں فلاں فلاں یتیم، فلاں فلاں بیوہ اور فلاں مسکین کو دے آؤ۔ انہوں نے اپنی باقی زندگی اسی طرح گزاری اور آنے والے وقتوں میں مسلمانوں کے لیے سوچنے، غور کرنے اور عمل کرنے کے لیے بہت کچھ چھوڑ گئے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابن ضیاء کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھی شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے صدا سلامت رہیں ماشااللہ- جزاک اللہ خیر خدا حافظ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
| Real_Light کا شکریہ ادا کیا گیا | عروج (14-10-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللّٰہ آپکو اجرعظیم دے۔ سوچوں کے دریچے ً وا ً کرنے پر ۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فروخت, پاگل, پسند, واقعات, لمحوں, نیند, نماز, مکہ, موت, ممکن, محبت, معلوم, آج, آدمی, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, تلاش, جواب, جرم, خواتین, داڑھی, راستہ, عبادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|