|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: Karachi - Pakistan
مراسلات: 328
کمائي: 7,016
شکریہ: 50
83 مراسلہ میں 185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تحریر: نعيم احمد بلوچ
بہادر گھڑ سواروں کا دستہ خندق پار کر گیا تھا۔ اب ان کے سامنے شہر کی حفاظت کی خاطر بنائی گئی عظیم دیوار تھی۔ انہوں نے اسے پھلانگنا تھا۔ مگر جیسے ہی وہ دیوار کے قریب آئے، تیروں کی ایک بوچھاڑ آئی، مگر یہ بہادر بھی تیار تھے۔ انہوں نے فوراً اپنی ڈھالوں کی آڑ لی۔ دشمن کا وار خالی گیا۔ اب وہ تیزی سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ مگر پھر دشمن نے ایک خوفناک ہتھیار استعمال کیا اور ان بہادروں پر لوہے کی زنجیریں پھینکیں۔ ان زنجیروں کے سروں پر لوہے کی کنڈیاں لگی ہوئی تھیں۔ انگاروں کی طرح دہکتی خونی کنڈیاں۔۔۔۔۔جس پر بھی یہ کنڈی لگتی، فوراً اس کے جسم میں داخل ہو جاتی۔ پھر دشمن زنجیرکو تیزی سے کھینچتا تو اس کا شکارتڑپ کر دیوار سے نیچے جا گرتا اور شہید ہو جاتا۔ دشمن کی کارروائی اس قدر تیز، اچانک اور نشانے کے مطابق تھی کہ جلد ہی اسلامی لشکر کے یہ بہادر سپاہی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ اسلامی فوج کے سپہ سالار ابو موسی اشعری اس صورت حال سے سخت پریشان تھے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس شہر کو فتح کیے بغیر فارس فتح نہیں ہو سکتا۔ شہر میں اس وقت ایرانیوں کا مشہور سپہ سالار ہرمزان قلعہ بند تھا۔ اس سے پہلے وہ ہرمزان کے ساتھ چھوٹے بڑے اسی(80) کے قریب معرکے لڑ چکے تھے۔ ہر معرکے میں اللہ نے انہیں فتح دی تھی مگر اس دفعہ ہرمزان کو شکست دینا بالکل ناممکن لگ رہا تھا۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ یہ بھی سوچ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس مہم کو سر کرنے کا خاص حکم دیا تھا اور ان کے لشکر میں بڑے بہادر اور عظیم صحابہ رضی اللہ عنہم موجود ہیں۔ان حالات میں جب ناکامی کی خبر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچے گی تو وہ کیا سوچیں گے؟ اسی پریشانی کے عالم میں وہ قلعے کی دیوار کی طرف دیکھ رہے تھے، جو ان کے لیے ناکامی اور شکست کا نشان بنتی جا رہی تھی۔ انہوں نے اللہ سے دعا مانگنی شروع کی۔ دعا کے الفاظ ان کی زبان میں جاری تھے کہ ایک تیر ان کے قدموں میں آ کر گرا۔ تیر اگر چند فٹ آگے گرتا تو وہ زخمی ہو جاتے۔ مگر جیسے ہی انہوں نے تیر کی طرف غور سے دیکھا تو وہ حیران رہ گئے! تیر کے ساتھ کوئی چیز بندھی ہوئی تھی، کپڑے یا چمڑے کا ٹکڑا۔وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔ یہ چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ انہوں نے جلدی سے اسے تیر سے علیحدہ کیایہ ایک خط تھا۔ ایک پراسرار خط۔ اس میں لکھا تھا: "اے توحید کے ماننے والے مسلمانو! مجھے معلوم ہے کہ تم وعدے کے پابند ہو۔ اگر تم میری جان ، مال، بیوی بچوں اور رشتے داروں کو پناہ دو تو میں تمہیں ایسا خفیہ راستہ بتاؤں گا، جس کے ذریعے سے تم شہر میں داخل ہو سکتے ہو۔۔۔۔۔اگر تم یہ وعدہ کرتے ہو تو اسی تیر پر پیغام لکھ کر واپس پھینکو!" دعا کے اس قدر جلدی قبول ہوجانے پر حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کے جسم کا رواں رواں اللہ کی تسبیح کرنے لگا۔ انہوں نے فوراً چمڑے کے ایک ٹکڑے پر پناہ دینے کا وعدہ لکھا، اپنی مہر لگائی اور اندازہ لگانے لگے کہ تیر کہاں سے آیا تھا۔ وہ اس وقت اکیلے دعا مانگنے میں مصروف تھے، اس لیے انہیں کوئی بتا بھی نہیں سکتا تھا کہ تیر کس جانب سے آیا- مگر وہ خود بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ انہوں نے تیر گرنے کی جگہ سے اس کے چھوڑنے جانے کی جگہ کا اندازہ لگایا، پیغام تیر سے باندھ کر اللہ کا نام لیا اور چھوڑ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اس تمام واقعے سے آگاہ کیا اور اس پراسرار شخص کے جواب کا انتظار کرنے لگے، جس نے ان سے یوں رابطہ کیا تھا۔ انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ قلعے کی دیوار سے ایک شخص نیچے اترا ہے اور وہ اسلامی فوج کے سپہ سالار سے بات کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس شخص کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ آنے والا کوئی عام شخص نہیں لگ رہا تھا، البتہ اس کے چہرے پر خوف ضرور چھایا ہوا تھا۔ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا: "میں ایران کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، لیکن ایرانی سپہ سالار ہرمزان نے میرے خاندان پر بڑے ظلم کیے ہیں۔ میرے بڑے بھائی کو قتل کرکے اس کا سارا روپیہ پیسہ لوٹ لیا۔ اب وہ مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، کیوں کہ میں اس کے جرائم کو جان چکا ہوں۔ اس لیے اگر آپ مجھ سے انصاف کا وعدہ کریں تو میں آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔" حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے کہا: "ہم تمہارے ساتھ انصاف کریں گے اور تمہارے خاندان کی حفاظت کریں گے!" "تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔۔آپ میرے ساتھ ایک ایسے شخص کو روانہ کریں جو تیراکی کا ماہر ہو۔ بہادری اور ذہانت میں اس جیسا کوئی دوسرا نہ ہو۔۔۔۔۔میں اسے ایک خفیہ راستہ دکھاؤں گا۔" حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے اپنے خاص دوست حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ بن ثور کو بلایا۔ یہ بھی ایک صحابی تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خاص طور پر حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تھا۔ انہوں نے کر کہا: "آپ مجھ پر اعتماد کر سکتے ہیں یہ مہم مجھے سونپ دیں!" حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ بہت قیمتی آدمی ہیں، اس خطرناک مہم کے لیے ان کا روانہ ہونا شاید مناسب نہ ہو۔ انہیں سوچ میں دیکھ کر حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ بولے: "آپ مجھے جانے دیں۔ مجھے اپنے اللہ سے کامیابی کی پوری امید ہے!" چناں چہ فیصلہ ہوگیا۔۔۔۔۔حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ کو اس ایرانی سردار کے ساتھ روانہ کر دیا گیا۔ ٭٭٭ رات کی تاریکی میں دو سایے قلعے کے اردگرد تعمیر کردہ خندق کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک خاص مقام پر وہ خندق کے اندر اتر گئے۔ خندق کے اس حصے میں پانی تھا۔ پانی کے اندر تیرتے ہوئے وہ ایک سرنگ میں پہنچے۔ یہی سرنگ قلعے کے اندر جاتی تھی۔ سرنگ کہیں سے بہت تنگ ہو جاتی اور کہیں کھلی۔ کہیں اس میں اتنا گہرا پانی آجاتا کہ تیرنے کی ضرورت پیش آتی۔ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ بڑی احتیاط سے ایرانی سردار کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ آخر سرنگ میں روشنی کا چھوٹا سا دھبہ نظر آیا- حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ یہی ان کی منزل ہے۔ قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ ایک بہت بڑا سوراخ ہے۔ ایرانی سردار اس سوراخ کے قریب آ کر رک گیا اور حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ کو بالکل خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ کچھ دیر رکنے کے بعد ایرانی سردار نے اشارہ کیا تو وہ سوراخ کے بالکل قریب آ کر باہر جھانکنے لگے۔ باہر کا منظر دیکھ کر حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ وہ ایرانی سپہ سالار ہرمزان کو دیکھ رہا تھا۔ یہ سوراخ شاید اس کی آرام گاہ تک جاتا تھا۔ ہرمزان کو سامنے دیکھ کر ان کے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ نیزہ مار کر اس موذی کا ابھی کام تمام کر دوں مگر پھر انہیں اپنے سپہ سالار کی نصیحت یاد آئی کہ یہ مہم صرف راستہ دیکھنے کے لیے ہے، کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ اسی دوران ایرانی نے انہیں واپس ہونے کا اشارہ کیا۔ واپسی پر حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ نے راستے کی نشانیاں اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیں۔ جب وہ واپس خندق تک پہنچے تو فجر کی نماز کی اذان گونج رہی تھی۔ ایرانی سردار وہیں سے واپس ہو گیا اور حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کی طرف چل دیے۔ ٭٭٭ اگلی رات خندق کے اسی مقام پر تین سو اسلامی مہم جو پانی میں اتر رہے تھے۔ ان سب نے بڑا ہلکا لباس پہنا ہوا تھا۔ ایک ایک تلوار انہوں نے بدن کے ساتھ باندھی ہوئی تھی۔ اس کے سوا کوئی ہتھیار ان کے ہمراہ نہیں تھا۔ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ ان کی رہنمائی کر رہے تھے۔ مہم کے دوران یہ بات طے کر لی گئی تھی کہ کسی جگہ رکنا نہیں، ہر بہادر نے اپنی حفاظت خود کرنی ہے، پیچھے رہ جانے والے کو خود ہی دوسروں سے ملنا ہوگا اورکوئی کسی کا انتظار نہیں کرے گا۔ اس مہم میں بعض ایسے مجاہدین بھی شامل تھے جو اچھے تیراک نہیں تھے۔ اسی لیے جب سرنگ میں گہرا پانی آیا تو ان کے لیے بڑی مشکل پیدا ہو گئی۔ جس جگہ سرنگ تنگ ہوتی وہاں سے ایک آدمی کا گزرنا بھی مشکل ہوجاتا۔ اس حصے میں پانی گردن سے بھی زیادہ ہو جاتا تھا۔ پھر اندھیرے کے باعث کوئی یہ نہیں جان سکتا تھا کہ کون ڈوب رہا ہے اور کون خیریت سے تیر رہا ہے۔ بہادروں کا قافلہ ابھی منزل تک نہیں پہنچا تھا کہ اچانک پانی کا ایک خوف ناک ریلا آیا۔ اس صورت حال کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ ریلا اس قدر طوفانی تھا کہ اس کی طاقت ور لہروں نے کئی مجاہدوں کو سرنگ کی دیواروں کے ساتھ پٹخ دیا۔ جو بھی مجاہد دیوار سے ٹکرایا، سنبھل نہ سکا اور پانی کا شکار ہو گیا۔ ہر کوئی پانی کی ظالم لہروں سے مقابلہ کر رہا تھا۔ ریلا گزرا توقافلہ پھر منزل کی طرف رواں دواں ہو گیا۔ سرنگ کے دھانے پر پہنچ کر حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بہادروں کا جائزہ لیا تو کانپ کر رہ گئے۔ تین سو میں سے صرف 80 افراد زندہ سلامت بچے تھے، باقی دو سو بیس طوفانی موجوں اور گہرے پانی کا شکار ہو چکے تھے۔ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ افراد مشن کی تکمیل کے لیے بہت کم ہیں۔ لیکن واپسی اور ناکامی کا لفظ انہیں شدید ناپسند تھا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے اپنی مہم کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ منصوبے کے مطابق انہوں نے مجاہدوں کو سرنگ کے سوراخ سے باہر نکلنے کا حکم دیا۔ وہ اب ہرمزان کے کمرے میں تھے۔ انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ صرف اس شخص کا مقابلہ کریں جو ان کے سامنے آئے، ورنہ خاموشی کے ساتھ قلعے کے دروازے پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ ہرمزان کے خاص کمرے میں بالکل سکون تھا۔ کمرا خالی تھا، اس لیے سارے مہم جو مجاہد خاموشی سے آگے بڑھ گئے۔ ایرانی سردار کے بتائے ہوئے راستے سے یہ لوگ دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔ ایک جگہ پہرے دار سو رہے تھے۔ مجاہدین خاموشی سے ان کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھے، مگر چند ایک کے کپڑوں سے پانی کے قطرے پہرے دار پر گر پڑے، وہ اٹھ بیٹھا۔ پھر کیا تھا۔۔۔۔۔شور مچ گیا۔ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ کچھ لوگ ان سے مقابلہ کریں اور باقی قلعے کے دروازے تک پہنچیں۔ دس مجاہد وہیں ڈٹ گئے، باقی قلعے کے دروازے کی طرف لپکے۔ جاگنے والے پہرے داروں کی تعداد تین تھی۔ ان سے نپٹنا تو اتنا مشکل نہیں تھا لیکن ان کے شور سے دشمن ہر طرف سے ان مجاہدوں پر ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر مجاہدوں نے بڑی دانش مندی کا ثبوت دیا۔ وہ لوگ فوراً دو دو، تین تین کی ٹولیوں میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ایک مجاہد پرکئی کئی دشمن ٹوٹ پڑے۔ اس سے ان کی توجہ بٹ گئی اور کوئی بھی قلعے کے دروازے کی طرف جانے والے مجاہدوں کی طرف نہ گیا۔ تمام مجاہد تلوار زنی کے ماہر تھے۔ ایک ایک مجاہد تین تین، چار چار دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کر رہا تھا۔ ان کا اصل مقصد ان کو اپنے ساتھ الجھائے رکھنا تھا تاکہ دروازے کی طرف جانے والوں کو زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے۔ اس ترکیب میں وہ ابھی تک مکمل کامیاب تھے۔ کچھ ہی دیر میں حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ قلعے کے دروازے تک جا پہنچے۔ پہرے دار بالکل بے خبر سو رہے تھے، مگر جیسے ہی وہ قریب پہنچے، پاؤں کی آہٹ پا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ مگر مجاہدوں نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور چند ہی منٹوں میں ان کا صفایا کر دیا۔ پھر انہوں نے قلعے کا دروازہ کھول دیا۔ دروازہ کھلتے ہی حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ نے بھرپور آواز سے نعرہ تکبیر بلند کیا، ساتھ ہی دوسری طرف سے اللہ اکبر کی آواز سنائی دی۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ اپنے خاص فوجی دستے کے ساتھ پہلے ہی قلعے کے دروازے کے سامنے حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ کے نعرے کا انتظار کر رہے تھے۔ دروازہ کھلتے ہی وہ اندر داخل ہو گئے۔ اسلامی فوج اب شہر کے گلی کوچوں میں پھیل چکی تھی۔ ایرانی فوج نے بھی ہمت نہ ہاری اور ہتھیار ڈالنے کے بجائے مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔ مگر ان کی بہادری انہیں بڑی مہنگی پڑ رہی تھی۔ اسلامی فوجیں انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی تھیں۔ اسلامی فوج کے ایک دستے کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ وہ قلعے کے اوپر کھڑے محافظوں کو سب سے پہلے ختم کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ مجاہدین قلعے میں داخل ہو جائیں۔ اس دستے نے آن کی آن میں تمام محافظوں کا صفایا کر دیا۔ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ اپنی مہم کی کامیابی پر بہت خوش تھے۔ وہ اس وقت ہرمزان کی تلاش میں تھے۔ آخر انہوں نے اس موذی کو ڈھونڈ نکالا۔ اپنی بڑی سی تلوار کے ساتھ وہ ایک مسلمان سپاہی کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ وہ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے مگر ٹھیک اس لمحے دشمن کے کچھ سپاہیوں کی نظر بھی حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ پر پڑگئی۔ وہ اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی طرف لپکے۔ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ کواب کئی دشمنوں سے مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا۔ ان کو گھرا دیکھ کر کچھ مجاہد مدد کو لپکے۔ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ نے بڑی بہادری کے ساتھ دشمنوں پر قابو پا لیا اور دوبارہ ہرمزان کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے دور سے اسے للکارا۔ ہرمزان ان کی للکار سن کر ان کی طرف لپکا اور اب دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ اگرچہ بڑی مہارت سے لڑ رہے تھے لیکن سرنگ کے خوف ناک پانی میں تیرنے اور پھر نہ جانے کتنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے بعد ان کی طاقت میں بہت کمی آچکی تھی۔ اسی لیے جب انہوں نے ہرمزان پر موقع پا کر وار کیا تو اس نے پھرتی سے اپنے آپ کو اس وار سے بچا لیا اور اس تیزی سے جوابی وار کیا کہ حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ سنبھل نہ سکے اور زخمی ہو کر گر پڑے۔ عین اس موقعے پر کئی دوسرے مجاہدوں نے ہرمزان کو گھیر لیا۔ جب اس نے دیکھا کہ اب لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تو تلوار پھینک دی۔ مگر ایک مجاہد اس مہم کے ہیرو حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ کو زخمی زمین پر پڑا دیکھ کر ضبط نہ کر سکا اور تیزی سے آگے بڑھا۔ لیکن اس کے ساتھیوں نے اسے روک دیا اور کہا کہ اسلام ہمیں ہتھیار پھینک دینے والے دشمن پر وار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یوں ان مجاہدوں نے اپنے سالار کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا مگر اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی گوارا نہ کی۔ انہوں نے ہرمزان کو گرفتار کر لیا۔ اس کی گرفتاری کی خبر جیسے جیسے شہر میں پھیلتی گئی، دشمن ہتھیار پھینکتا چلا گیا۔ تستر کا شہر فتح ہو چکا تھا۔ ہرمزان ایک ہارے ہوئے سپہ سالار کی حیثیت سے حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہیں یہ بھی بتا دیا گیا کہ ہرمزان ہی نے حضرت مجزاہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہے لیکن ہتھیار ڈال دینے کی وجہ سے اسے زندہ چھوڑنا پڑا۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کو ہرمزان پر شدید غصہ تھا، لیکن اسلامی جنگی اصولوں نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے تھے۔ انہوں نے اپنے غصے اور انتقام کے جذبے پر قابو پایا اور اسے قتل نہ کیا۔ شہر میں امن و امان قائم کرکے وہ ہرمزان کوقیدی بنا کر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہرمزان کوخلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کرکے یہ ثابت کر دیا کہ اسلامی جہاد محض جنگ نہیں بلکہ اللہ کے قائم کردہ اصولوں اور ضابطوں پر عمل کرنے کا نام ہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابن ضیاء کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھی شئرنگ ہے امید ہے آپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے صدا سلامت رہیں ماشااللہ- جزاک اللہ خیر خدا حافظ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سبحان اللّٰہ ،کاش ھم ان مسلمانوں جیسا بننے میں فخر محسوس کریں ۔
Last edited by عروج; 23-12-10 at 10:53 AM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| لوگ, نماز, نظر, مکمل, مقابلہ, معلوم, آدمی, اکبر, اللہ, اسلامی, بھائی, بچوں, توحید, تلاش, تعارف, جواب, حال, خوش, خبر, دوست, دعا, راستہ, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|