واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




دشمن مر جائے تو خوش نہ ہوں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-06-09, 09:51 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,049
شکریہ: 5,185
5,035 مراسلہ میں 11,453 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دشمن مر جائے تو خوش نہ ہوں

دشمن مر جائے تو خوش نہ ہوں

ایک شخص بالکل مفلس تھا۔ کسی طر ح پٹواری بھرتی ہو گیا ترقی کر تے کر تے تحصیل دار بن گیا مو صوف بہت سمجھ دار، جہاں دیدہ اور خالص دنیا دار تھا۔ زمینوں کے کاغذات اور اتار چڑھاﺅ میں واقعی مہارت رکھتا تھا۔ بڑے بڑے سمجھ دار اس سے مشورے لیتے۔ گھر میں روپے پیسے کی ریل پیل تھی جس سے جتنا چاہتے وصول کرتے جس سے جتنا تا وان طے کرتے اسے دینا پڑتا۔ جس کی زمین اپنے نام کاغذات میں کر لیتے کسی کی جرات نہیں ہوتی تھی کہ ان سے لے سکے۔ اس طرح ان کی زمین جا ئیداد بڑھتی گئی اور خوب بڑھی حتی کہ شہر بھر میں بہت ہی زیادہ بزنس جائیداد اور زمینیں بن گئیں۔
بتانے لگے کہ ایک شخص کی زمین کا مسئلہ تھا وہ حق دار تھا یہ وہ زمین اپنے نام کرنا چاہتے تھے۔ اس دور میں اس شخص نے کھا د کی بوری نوٹوں سے بھری اور لا کر ان کے سامنے الٹ دی اور منت کی میری زمین کو کچھ نہ کہے۔ واقعی و ہ جائیداد زمین کا مجازی خدا تھا۔ اس کے ڈر کی صورت حال یہ تھی لو گ گھنٹوں انتظار کرتے کہ ان کی قسمت کا فیصلہ کیسے ہو تا ہے؟ یونہی دن رات گزرتے گئے اور ظلم و ستم اور استبداد کی کہا نی بڑھتی چلی گئی۔ قدرت کا حلم اپنی حالت پر قائم رہا ۔ تقدیر کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے آخر کا ر موت نے ساری کا ئنا ت لوٹ لی۔ جنا زے پر بہت لو گ تھے۔ایک شخص میت کے قریب آیا منہ دیکھا اور پھر دھاڑیں مار ما رکر رویا اور کہا کہ وہ میرا ایکڑ زمین کا ساتھ لیکر جا رہا ہے ۔ اور سنا کہ کچھ لو گ اس کی قبر پر جوتے مار کر آئے کہ ہماری جا ئیداد ساتھ لے گیا ۔ اس کے علا قے میں اس کا ایک مقابل بھی تھا اس کا کردار اسی کی طرح صرف قبضہ کرنا اور زمین بڑھانا تھا۔ جب یہ شخص مر گیا تو وہ بہت خو ش ہوا اور ہر شخص کو مبارک باد دے رہا تھا کہ میرا دشمن مر گیا لیکن قدرت کو کچھ اور منظورتھا ۔ وہ اس طرح کہ یہ کسی کی زمین پر قبضہ کر رہے تھے، وہ مالک آگیا اور گریبان سے پکڑ ا جھنجوڑا کہ ظالم یہ زمین تو میری ہے تجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ اس پر اپنا قبضہ جما رہاہے اور ہلکا سا دھکا دیا۔ یہ گرا اور وہیں مر گیا ۔ بس اس کا دشمن چند ماہ قبل مرا اور یہ مبارک باددینے والا چند ماہ بعد مر گیا ۔ کیا خیال ہے قارئین! دشمن مر جائے تو دوست کو خوش ہو نا چاہئے میرے خیال میں ہر گز نہیں بلکہ اس کے انجا م سے یہ بے خبر نہ ہو بلکہ اس کے برے انجام سے اپنا انجام بہتر کرنے کا سامان کر لے۔ (سانس باقی محفل باقی)
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
موت, حال, خوش, خبر, خدا, دوست, شہر, شخص, ظالم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار زارا گپ شپ 2 18-01-11 09:49 AM
ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے Wahid Mahmood شعر و شاعری 1 11-03-10 11:10 PM
ہوں تو خفا اُس سے gorgeous شعر و شاعری 0 09-11-09 03:02 PM
ججوں کو بحال کر نے کی کوشش کی گئی تو اپنا فیصلہ کر وں گا،صدر پرویز عبدالقدوس خبریں 0 21-02-08 02:23 AM
::: اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی - احمد ندیم قاسمی::: ابو کاشان شعر و شاعری 2 24-01-08 09:33 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:14 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger