![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مدرسّے کی باجی نے فَرخَندہ کے متعلّق یُوں بتایا'' اس عورت کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق ھی نہیں جنون ھے۔ اَن پڑھ ھونے کے باوجود یہ سبق توجہ اَور دِل لگا کر یاد کرتی ھے۔
مَیں نے اِسے شاباش دی تو کہنے لگی کہ مَیں تو بُہت گُناھگار ھوں اَبھی تو بُہت مشقّت کرلوں تو بھی کم ھے پھر اُس نے اپنی کہانی یوں بتائی کہ میرا باپ مِستری تھا دنیا داری میں ھی مُتوجہ رھے۔ مَیں جوان ھوئی تو عام سا مگر خوبصورت جوان سے شادی کر دی گئی،وہ بہت محبت کرنے والا ثابت ھؤا۔ وہ دینی و دنیاوی تعلیم سے بے بہرہ تھا یہی میری بدقسمتی تھی۔ مَیں ایک بیٹے کی ماں بن گئی مگر میرا شوھر نشہ کرنے لگ گیا مَیں سمجھاتی رھی مگر نشہ نہ چُھٹنا تھا نہ چُھٹا اور میرےدنیاوی بُرے دن شروع ھوگئے ۔ میرے گھر میں فاقے شروع ھو چکے تھے اللہ نے انہیں دنوں دوسرا بیٹا ھوگیا شوھر گھرآ تا ، روتا ،معافیاں مانگتا اور آخر کار کہہ دیا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ اور مَیں تمہیں طلاق دے دیتا ھوں کیونکہ مَیں تمہیں خوش دیکھنا چاھتا ھوں۔ آخرکار مُجھے آمادہ ھونا پڑا اور ھم روتے ھوئے ایک دوسرے سے جُدا ھو گئے۔ ایک روز طلاق کے بعد میری ساس آئی اور کہنے لگی کہ ابھی تو تمہارے بیٹے تمہارے پاس رھیں مگر ذرا بڑے ھَو جانے پر مَیں انہیں لے جاؤں گی ۔ مجھے دُکھ ھؤا اور اپنے ابُّو جی سے کہنے لگی کہ اگر یہی کَل ھونا ھے ابھی ھو جائے۔ اس فیصلے پر مَیں مطمئن ھوگئی ،سَاس آئی اور میرے بیٹے ،میرے جگر کے ٹکڑے مجھ سے چھین کر لے گئی۔ اب مجھ پر دوسری شادی کے لیے دباؤ شروع ھو گیا ،مَیں جو اپنے محبت کرنے والے شوھر کو اور اس کی بے بسی کو نہ بھلا پا رھی تھی ۔ ایک روز میرے والد اپنی بیماری، میری جوان ھوتی بہنوں اور چھوٹے بھائیوں کی بابت بات کر کے مجھے رضا مند کرنے میں کامیاب ھوگئے۔ ان دو ھی سالوں میں ھمارے گھر کچھ دینی فضا بننا شروع ھو چکی تھی سو میرا سارا دھیان آخرت بنانے اور اپنی کوتاھیاں دُور کرنے میں لگا تھا۔ ایک روز میرے والد ھی کی عمر کے باریش ،ترویج ِدین کے دلدادہ استاد میرے والد کے ساتھ ھمارا نیا گھر دیکھنے آئے ،جب انکے اکیلے ھونے کا پتہ مجھے چلا تو مَیں نے امی سے رشتے کے لیے بات کی ،ھاں ھو جانے پر چند ماہ میں سنّت کے مطا بق شادی ھو گئی ۔ ان صاحب نے منہ دکھائی میں حج کا وعدہ کیا جو میری بساط سے بڑھ کر تھا۔ اسی سال ھم حج پر گئے ،شرعی پردہ بھی انہیں کی توسطّ سے نصیب میں ھؤا۔ دنیاوی اشیا پر خرچ کی بجائے ترویج ِ دین کے لیےھم چالیس روز کے ساتھ ساتھ پندرہ روز اورتواتر سے تین روز کے چِلّے پر خرچ کرکے جاتے۔ اب پہلی شادی کے سات سال کی قضا نمازیں پوری کر رھی ھوں ،تہجّد پر بھی پابندی اسی بندہ ِخدا کے توسط سے ھوئی وہ خود انتہا کے سادہ مزاج مگر سنتوں پرعمل کے دلدادہ ھیں انکا کھانا بغیر گھی اور لذتوں سے پاک بناتی ھوں مگر مجھ پر کوئی پابندی نہیں۔ آج دین کا علم حاصل کر کے مَیں بہت مطمئین ھوں بے شک مجھے اپنے بیٹے یہی دو کیا؟ دس بھی اس علم کے بدلے دینے پڑتے تو پرواہ نہیں۔ جب بیٹے تھے تب دین سے دوری بھی تو تھی۔اگر جنت پالی تو سب کچھ مل گیا ورنہ جہنم ملے اور دنیا میں بیٹوں کی خوشیاں تو ایسی دنیا کا فائدہ؟ میری زندگی کے دو حصے تھے یہی میرا امتحان ھے کہ کیا پسند کرتی۔ '' از۔۔۔عروج۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | قاسمی (16-10-11), مرزا عامر (16-10-11), راجہ اکرام (16-10-11), سیفی خان (16-10-11), عبداللہ آدم (19-10-11) |
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کہانی, گھر, پاک, پسند, یوں, لذتوں, ماں, محبت, اللہ, امتحان, استاد, بے, توجہ, تعلیم, خوش, دنیا, ذرا, روتا, رشتے, زندگی, شادی, شروع, طلاق, عورت, علم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|