|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,325
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ياسمين فرخ
ميكسيكو كے ايك گاؤں ميں رامون كا باپ سينڈينو مٹي كے برتن بنايا كرتا تھا۔ ان برتنوں كو وہ قريبي قصبے كي ماركيٹ ميں بيچ كر اپنا اور اپنے گھر والوں كا پيٹ پالتا۔ گزر بسر تو مشكل سے ہوتي تھي، مگر زندگي كي گاڑي چل رہي تھي۔ رامون كو اپنے باپ كے كام ميں دلچسپي تھي۔ سينڈينو جب بھي برتن بنانے لگتا، رامون اس كے پاس بيٹھ كر اسے غور سے ديكھتا۔ پھر ايك دن ايسا آيا كہ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے ايك نہايت خوبصورت مرتبان بنا ڈالا۔اور اسے مختلف رنگوں سے سجايا۔ وہ بہت خوش تھا۔ اس كے والدين بھي اپنے بيٹے كے كارنامے پر بہت فخر محسوس كر رہے تھے۔ تب رامون نے سوچا كہ اس اتوار كو جب قصبے ميں بازار لگے گا، وہ بھي اپنا مرتبان بيچنے كي غرض سے لے جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والے پيسوں سے اپني پسند كي چيز خريد لے گا۔ اتوار آنے ميں ابھي تين دن باقي تھے، ليكن اپنے مرتبان كو خوابوں ہي خوابوں ميں بيچ كر وہ نہ جانے، كيا كيا خريد چكا تھا۔ خدا خدا كركے اتوار كا دن آيا۔ رامون كے والد نے اپنے گدھے پر مٹي كے رنگ برنگے برتن ركھے اور بازار كي طرف روانہ ہو گيا۔ رامون بھي اس كے ساتھ تھا۔ اس نے اپنا مرتبان گدھے پر نہيں ركھا، بلكہ تمام راستے اس نے اپنے ہاتھوں ميں پكڑے ركھا كہ كہيں گدھے سے گر كر اس كا مرتبان ٹوٹ ہي نہ جائے اور اس كے سارے سپنے بكھر جائيں۔ باپ بيٹا اگرچہ گھر سے صبح سويرے روانہ ہوئے تھے۔ مگر جب بازار پہنچے تو پورا ميدان سٹالوں سے بھر چكا تھا۔ سبزيوں كے بے شمار سٹال، پھلوں كي ريڑھياں، كپڑے، جوتے، ٹوپياں، خواتين كي زيبائش كا سامان، گوشت كے سٹال، مشروبات، بچوں كے جھولے اور نہ جانے كيا كيا۔ ہرطرف لوگ ہي لوگ اور چيزيں ہي چيزيں تھيں۔ شور اتنا كہ كان پڑي آواز سنائي نہ ديتي تھي۔ رامون كے والد نے بڑي مشكل سے سٹال كے ليے جگہ ڈھونڈي اور اپنے برتن سجانے لگا۔ وہ برتن سازي ميں پورے قصبے ميں مشہور تھا۔ لوگ اس كے ہاتھوں كے بنے برتن بڑے شوق سے خريدتے۔ چنانچہ سٹال لگتے ہي گاہك اكٹھے ہو گئے اور دھڑا دھڑ خريداري كرنے لگے۔ والد كو گاہكوں كے ساتھ مصروف ديكھ كر رامون اپنا مرتبان لے كر وہاں سے كھسك گيا۔ وہ بازار ميں اپني پسند كي چيز تلاش كرنے لگا، تاكہ مرتبان كے بدلے خريد سكے۔ لوگوں كي بھيڑ ميں راستہ بنانا آسان نہيں تھا۔ ليكن وہ بڑي مہارت كے ساتھ مرتبان كو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ مختلف سٹالوں كو بڑے غور سے ديكھ رہا تھا۔ كچھ دور جانے كے بعد اسے ايك جگہ بہت بڑا ہجوم نظر آيا۔ وہ اسي طرف چل پڑا۔ قريب پہنچا تو دائرے كي شكل ميں كھڑے لوگوں كے درميان ميں اسے ايك شخص كي تيز آواز سنائي دي۔ "خوش آمديد صاحبو خوش آمديد دوستو" ديكھيے يہ انمول چيز جو آپ كو پورے بازار ميں كہيں نہيں ملے گي۔ يہي ہے آپ كا خواب۔ آئيے اور ليجيے اپنا خواب نہايت سستے داموں" رامون خواب كا لفظ سن كر بے تاب ہو گيا، اس نے چار پانچ مردوں كو تقريبا دھكيل كر گزرنے كي جگہ بنائي اور ہجوم كے اندر جا گھسا۔ كيا ديكھتا ہے كہ ايك آدمي طوطے كے پنجرے ليے بيٹھا ہے۔ پنجرے بہت خوبصورت تھے اور ان ميں بيٹھے طوطے تو اسے بہت ہي دلكش لگے۔ "آدمي سچ ہي كہہ رہا ہے كہ يہ خواب ہي ہے جو پورا ہو سكتا ہے۔" رامون نے دل ہي دل ميں كہا اور اپنے مرتبان كے بدلے طوطے كا ايك پنجرہ خريدنے كا فيصلہ كر ليا۔ "جناب ميں اس مرتبان كے بدلے آپ سے طوطا اور پنجرہ لينا چاہتا ہوں۔" اس نے آدمي كو اپنا مرتبان دكھاتے ہوئے كہا۔ طوطے والا رامون كي پيش كش پر ايك لمحے كے ليے حيران ہوا، قہقہہ لگا كر ہنسنے لگا۔ رامون اسے اس طرح ہنستا ديكھ كر شرمندہ ہو گيا۔ وہ كچھ دير اسے يونہي ديكھتا رہا، پھر اس نے اپني خواہش دہرائي۔ وہ آدمي ہنستے ہنستے اچانك يوں ركا جيسے گاڑي كو ايمرجنسي بريك لگا دي گئي ہو۔ "ارے پگلے يہ سودا نہيں ہو سكتا۔" اس نے بڑے پيار سے رامون كو جواب ديا۔ "كيوں؟" رامون كا منہ لٹك گيا۔ "كيونكہ ميرا پنجرہ دس سينٹ كا ہے اور تمہار مرتبان صرف دو سينٹ كا۔ اب بتاؤ ايك سستي چيز كے بدلے كوئي اپني مہنگي چيز بھلا كيوں دے گا؟" "مگر يہ مرتبان بہت ناياب ہے۔" "وہ كيسے؟" "يہ مرتبان سينڈيو كے بيٹے كے ہاتھوں كا كمال ہے۔" رامون نے اپني چھاتي پر فخر سے ہاتھ ركھتے ہوئے كہا۔ "بلاشبہ تم ٹھيك كہہ رہے ہو، مگر اس كي قيمت پھر بھي بہت كم ہے۔" يہ بات سن كر رامون كا چہرہ مرجھا گيا۔ اسے اپنا خواب بكھرتا نظر آيا۔ مگر اس نے ہمت نہ ہاري اور ايك كوشش اور كرنے كي ٹھاني۔ اس نے كہا: "اچھا، آپ اس پنجرے كے بدلے ميں مجھ سے كيا لينا پسند كريں گے۔" "پورے دس سينٹ يا۔۔۔۔" اتنا كہہ كر وہ كچھ سوچنے لگا۔ "يا؟" رامون نے بے چيني سے پوچھا۔ "يا پھر تمہارے والد كے اپنے ہاتھوں كے بنے ہوئے دو بڑے مرتبان۔" طوطے والے كي بات سن كر رامون كي رہي سہي اميد بھي جاتي رہي۔ وہ جانتا تھا كہ اس كا والد ايك غريب آدمي ہے۔ وہ اسے دس سينٹ نہيں دے سكے گا، بلكہ دس سينٹ كے بدلے ميں تو وہ گھر كے ليے راشن لے جائے گا۔ رہا سوال دو بڑے مرتبانوں كا، تو يہ مسئلہ بھي حل نہيں ہو سكتا، كيونكہ دو مرتبانوں كي قيمت تقريبا دس سينٹ ہي ہے۔ بات تو پھر بھي وہي رہي۔ يہ سوچ كر رامون وہاں سے چل پڑا۔ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا تھا، جيسے بہت تھكا ہوا ہو۔ اس كے ماتھے پر شكنيں يوں بيٹھ گئي تھيں جيسے پيدايشي ہوں۔ وہ بار بار اپني زبان ہونٹوں پر پھير رہا تھا۔ ايسے ميں اس نے اپنے مرتبان كو ايك نظر ديكھا۔ وہ اسے نہايت بے كار دكھائي ديا۔ آہستہ آہستہ چلتا وہ بچوں كے ايك جھولے كے پاس سے گزرا۔ يہاں بہت سے بچے لكڑي كے گھوڑوں پر بيٹھے تھے اور جھولا گول گول گھوم رہا تھا۔ رامون كي عمر كے دو چھوٹے چھوٹے بچے جھولے كو دھكيل رہے تھے۔ اور انہيں خاصا زور لگانا پڑ رہا تھا۔ رامون كا دل چاہا كہ وہ بھي لكڑي كے گھوڑے پر بيٹھ كر جھولا جھولے، مگر اس كے پاس كوئي پيسہ نہيں تھا۔ صرف ايك مرتبان ہي تھا۔ "شايد جھولے والا بھي اس كا مرتبان پسند نہ كرے، پھر خوامخواہ كي شرمندگي اٹھاني پڑے گي۔" يہ سوچ كر وہ آگے بڑھ گيا۔ راستے ميں اسے ايك سيريپ بيچنے والا نظر آيا۔ (ميكسيكو ميں سيريپ ايك مقبول لباس ہے۔ يہ ايك ايسي گرم شال ہوتي ہے جس كا قميص كي طرح گلا ہوتا ہے۔ ميكسيكو كے لوگ اس شال كو گلے ميں ڈالتے ہيں۔ يقينا آپ نے ريڈ انڈينز كو بھي ايسي شال پہنے ديكھا ہو گا۔) "ميرے ابو كافي عرصے سے سيريپ لينے كا سوچ رہے ہيں، ليكن ان كے پاس اتنے پيسے ہي نہيں بچتے كہ وہ يہ خريد سكيں۔ اسي ليے دو سردياں تو انہوں نے ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے گزار ديں۔ كيوں نا اب ميں ان كے ليے يہ سيريپ خريد لوں۔" يہ خيال آتے ہي رامون كے ذہن نے ايك زبردست منصوبہ بنا ڈالا اور اسي پر عمل كرنے كے ليے وہ واپس جھولے كي طرف مڑا۔ بچے ابھي تك جھولوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور دونوں لڑكے جھولے كو مسلسل دھكيل رہے تھے۔ رامون وہاں پہنچ كر جھولے والے سے مخاطب ہوا: "جناب، اگر ان دو لڑكوں كي بجائے صرف ايك لڑكا يہ كام انجام دے تو يہ آپ كے ليے كيسا رہے گا؟" يہ بات سن كر جھولے والا پہلے تو حيران ہوا، پھر بولا: "كيوں نہيں۔اس طرح ميرا ايك سينٹ بچے گا۔" "تو پھر ميں حاضر ہوں۔" يوں رامون جھولا دھكيلنے لگا۔ ہر چھ چكر گھمانے كے بعد اسے ايك سينٹ مل جاتا وہ مسلسل دو گھنٹے اكيلا جھولا گھماتا رہا يہاں تك كہ تھك كر بے حال ہو گيا۔ آخر جب ٹانگوں اور بازوؤں نے بالكل جواب دے ديا تو اس نے جھولے والے كو خداحافظ كہا۔ وہ اس طرح سے آٹھ سينٹ اكٹھے كر چكا تھا۔ يہ رقم لے كر وہ سيريپ والے كے پاس پہنچ گيا۔ "كتنے كا ہے يہ سيريپ؟" رامون نے تھكے تھكے لہجے ميں پوچھا۔ "دس سينٹ كا" دكاندار نے جواب ديا۔ رامون كا منہ ايك بار پھر لٹك گيا۔ "كيا كچھ كم نہيں كرو گے؟" اس نے اميد بھرے لہجے ميں پوچھا۔ "نہيں، بالكل نہيں۔" دكاندار نے ٹكا سا جواب ديا۔ "ليكن اس نے ہمت نہ ہاري۔ اس نے ايك بار پھر مرتبان كا سودا كرنے كا سوچا۔ "اچھا، ميرے پاس آٹھ سينٹ ہيں اور يہ ايك مرتبان۔ كہو اب كيا كہتے ہو؟" رامون كا انداز بھي كاروباري تھا۔ دكاندار نے رامون كے ہاتھ سے مرتبان ليااور الٹ پلٹ كر ديكھنے لگا، پھر اس ميں نقص نكالنے لگا۔ رامون كو دكاندار كا يہ انداز برا تو لگا مگر چپ رہا۔ آخر كار دكاندار نے حامي بھر لي۔ رامون كا دل بليوں اچھلنے لگا اور جب سيريپ اس كے ہاتھ ميں آيا تو اس كي خوشي كا كوئي ٹھكانا نہ تھا۔ وہ تيز تيز قدم اٹھاتا، بھيڑ كوچيرتا اپنے والد كے سٹال تك جا پہنچا۔ اس كا باپ اس كي راہ تك رہا تھا۔ رامون كو ديكھ كر اس نے پوچھا: "بھئي كہاں آوارہ گردي كر رہے ہو؟" "يہيں تھا۔" رامون نے مختصر سا جواب ديا اور سيريپ باپ كے آگے بڑھا دي۔ اسے ديكھ كر سينڈينو كي آنكھيں چمكنے لگيں۔ "يہ آپ ہي كے ليے ہے۔" رامون نے ادب سے كہا۔ "شكريہ ميرے بيٹے، مگر۔۔۔۔" سينڈينو كچھ كہنا چاہ رہا تھا ليكن رامون نے اس كي بات كاٹتے ہوئے كہا: "اگر مگر چھوڑيں، آپ ميرے ساتھ ايك سودا كريں۔" "كيسا سودا؟" سينڈينو حيران ہو گيا۔ "اس سيريپ كے بدلے ميں آپ مجھے دو بڑے والے مرتبان دے ديں۔" رامون نے ايك طرف كو اشارہ كرتے ہوئے كہا۔ "مگر كيوں؟" تب رامون نے مختصر الفاظ ميں كہاني سنا ڈالي۔ جسے سن كر سينڈينو اپنے بيٹے كي عقل پر حيران بھي ہوا اور اسے اس پر ترس بھي آيا كہ كس طرح محض ايك طوطے والے پنجرے كي خاطر وہ اس قدر پريشان ہوا۔ اس نے يہ سوچ كر دونوں مرتبان رامون كے حوالے كر ديے كہ وہ خود تو اپنے بچے كي خواہشات پوري كرنے كے قابل نہيں، ليكن اگر ان مرتبانوں سے اس كے لعل كا خواب پورا ہوتا ہے تو اس سے زيادہ خوشي كي بات اور كيا ہو سكتي ہے؟" رامون دونوں مرتبان اٹھائے خوشي خوشي طوطے والے كے پاس پہنچا۔ اس نے انہيں دكاندار كے حوالے كيا اور طوطے والا پنجرہ حاصل كر ليا۔ وہ پنجرہ پكڑے واپس اپنے والد كے سٹال كي طرف آرہا تھا تو اسے اپني آنكھوں پر يقين نہيں آيا ۔ كيونكہ اس كي زندگي كا پہلا خواب پورا ہو گيا تھا۔ راستے ميں وہ جھولے والے كے قريب سے گزرا تو اس كا دل چاہا كہ جھولا بھي ليا جائے۔ مگر كيسے؟ "ويسے ہي جيسے يہ طوطا حاصل كيا ہے۔" اس نے خود سے كہا اور ايك بار پھر اس نے جھولے والے كو اپني خدمات پيش كر ديں۔ شديد تھكاوٹ كے باوجود وہ اپنے آپ كو چست محسوس كر رہا تھا۔ چھ چكر گھمانے كے بعد اسے ايك سينٹ ملا اور جھولا لينے كے ليے وہ جب لكڑي كے گھوڑے پر بيٹھا تو اسے ايسا لگا جيسے وہ سچ مچ كے ايك گھوڑے پر بيٹھا ہے اور يہ گھوڑا بادلوں كي طرف اڑا جا رہا ہے۔ اس كا دل خوشي سے جھوم اٹھا۔ آج كا دن تينوں كے ليے بہترين تھا۔ سينڈينو كے تمام برتن بك گئے تھے۔ اور ايك مدت كے بعد اسے سيريپ پہننا بھي نصيب ہوئي تھي۔ رامون طوطے كے پنجرے كے ساتھ بہت خوش تھا۔ ان كا گدھا بھي خوش تھا كيونكہ پہلي بار واپسي پر اس كي كمر پر كوئي وزن نہيں تھا۔ سينڈينو راستے ميں اپنے بيٹے كے كاروباري طريقے پر غور كرتا اور حيران ہوتا رہا۔ اس نے سوچا: "وہ زندگي ميں ايك كامياب شخص ثابت ہوگا۔" پھر ہوا بھي يہی رامون جوان ہوا تو اس نے اپنے باپ كي طرح برتن سازي ہي كو اپنا پيشہ بنايا۔ اس نے اپنے كام ميں اتني محنت كي كہ چند ہي برسوں ميں اس كا كاروبار ميكسيكو بھر ميں پھيل گيا۔ وہ ملك كا ايك مصروف تاجر بن گيا تھا جسے اب خواب بننے كي بھي ضرورت نہيں رہي تھي۔ بلكہ اپني محنت اور لگن كے بل بوتے پر وہ ہر خواب سچا كر ليا۔ اس نے نہ صرف خود كبھي ہمت نہ ہاري بلكہ دوسري كو بھي يہي نصيحت كي كہ انسان كو كبھي مايوس نہيں ہونا چاہيے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,224
شکریہ: 3,271
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت زبر دست شئیرنگ ہے فوٹو بھائی!
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,325
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ جناب
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 268
کمائي: 292
شکریہ: 1
70 مراسلہ میں 92 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا مراسلہ ہے
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,783
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فوٹو, پسند, قدم, لوگ, نظر, منصوبہ, اللہ, انمول, انسان, بھائی, بچوں, تلاش, جواب, حل, حال, خوش, راستہ, سودا, شور, شخص, عقل, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|