|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
وہ آہستہ آہستہ پہاڑی پر چڑھتا رہا۔ رفتہ رفتہ اس کا چہرہ بالکل صاف نظر آنے لگا۔ وہ ایک لمبا سا چوغا پہنے ہوئے تھا۔ اس کا تھوڑا سا‘ سامان اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا اور وہ بیساکھیوں کی مدد سے آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ اس کا الٹا پائوں گھٹنے کے قریب سے غائب تھا۔ پرانیفوجی ٹوپی اس کے آدھے چہرے کو چھپائے ہوئے تھی۔ اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور اس کے چہری پر تھکاوٹ نظر آرہی تھی۔ وہ ہر دس قدم کے بعد رک کر دم لیتا اور اس فاصلے کو ناپتا جو اس کے اور گائوں کے پہلے گھر کے درمیان رہ جاتا۔
ایک مرتبہ پھر اس نے گائوں کے چاروں طرف غور سے دیکھا‘ مگر کہرے کی وجہ سے سب کچھ صاف طور پر نہ دیکھ سکا۔ وہ جلدی جلدی چل کر کہرے سے باہر نکل جانا چاہتا تھا تاکہ گائوں اور اس کی چیزون کو اچھی طرح دیکھ سکے۔ گھر‘ ان کی دیواریں‘ باغ‘ سڑک کے کنارے لگے ہوئے درخت‘ یہ تمام چیزیں سترہ سال کی مدت کے بعد اس کو اچھی طرح سے یاد تھیں مگر اس کے ساتھ اسے ایک ناقابل بیان اجنبیت کا احساس ہورہا تھا۔ انسان اس وقت کا انتظار کرتا ہے جب اس کے گائوں کی ہوا طویل مدت کے بعداس کا استقبال کرے گی۔ ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا اس کو گدگدائے گی‘ جہاں پر اس کا کوئی دشمن نہیں ہوگا۔ ہر چیز میں اسے دوستی اور محبت دکھائی دے گی مگر ان تمام چیزوں کے بجائے اس کی نظر دو لمبے شیشم کے درختوں پر جاکر رک گئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے ہوئے دعا مانگ رہے ہوں۔ درختوں کے نیچے اسے بھورے رنگ کا پتھر نظر آیا۔ یہ پتھر ایک دم اس کے سامنے آگیا جیسے وہ جنگ کا پیغام بر ہو۔ وہ ڈر کر رک گیا۔ اس نے شبہے کی نظروںسے چاروں طرف غور سے دیکھا۔ واقعی کیا یہ وہ جگہ ہے جہاں پر وہ اپنے بچپن میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ وہ پتھر اس کو کسی غلطی کا نتیجہ دکھائی دیا۔ اس کے قریب جاکر اس نے اس پر لکھی ہوئی عبارت کو پڑھنا شروع کردیا۔ ”ان فوجیوں کی یاد میں جو جنگ 1971ء میں کام آئے۔“ اس کے نیچے مرمر کے پتھر پر تاریخ پیدائش کے ساتھ تین نام لکھے ہوئے تھے۔ عمران آدم ۔ ٢٨ ۔١ ۔ ١٩٤٢ ‘١٠۔٦۔١٩٧١ سلمان۔ ١٠۔٤۔١٩٤٢ ‘ ٣۔٨۔١٩٧١ انور علی۔ ١٩۔٢۔١٩٥٢ اس کی نظر اپنی جگہ پر جم کر رہ گئی۔ اس کو چکر سا آگیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ بیساکھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر گر گئی۔ اس کے ہوش و حواس غائب ہوگئے۔ تھوڑی سی ہمت کرکے وہ ایک قدم آگے بڑھا اور اس نے اپنے نام پر انگلی پھیرنی شروع کردی۔ اسے ایسا احساس ہوا جیسے وہ واقعی مر گیا ہو۔ اس وقت جبکہ اس نے اپنے نام پر انگلی پھیری‘ وہ مرگیا صرف انہی لوگوں کے لیے نہیں جنہوں نے اس قبر کے پتھر پر اس کا نام لکھا تھا بلکہ اپنے لیے بھی انور علی ایک منٹ میں ختم ہوگیا۔ وہ اس دنیا سے کہیں دور بہت دور چلا گیا۔ وہ اس قبر کے سامنے کھڑا تھا جس پر اس کا بھی نام لکھا ہوا تھا مگر اس کی یادیں پیچھے کی طرف جارہی تھیں۔ وہ انور علی نہیں ہے۔ وہ تو کوئی بھولا بھٹکا انجان ہے جو بغیر کسی اطلاع کے یہاں آگیا ہے۔ اس نے ایک مرتبہ پھر مڑکر چاروں طرف غور سے دیکھا۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (11-04-08), عروج (09-12-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کہرا اب بہت دھندلا پڑگیا تھا۔ وہ اٹھ کر پہاڑی کے دامن میں چلا گیا۔ گائوں کے مکان اب اس کے بہت قریب آگئے تھے اور وہ ان کو صاف دیکھ سکتا تھا۔ وہ غور سے دیکھ رہا تھا۔ اسے کسی بات کا انتظار تھا۔ جیسے سپاہی اپنے افسر کے حکم کا انتظار کرتا ہے۔
نہیں یہ سب کچھ جھوٹ ہے۔ اس کا نام قبر کے پتھر پر کسی بہت بڑی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اس پتھر پر اس کا نام! اس کو جلد از جلد ختم کردینا چاہیے۔ وہ ابھی تک زندہ ہے۔ وہ سترہ سال بعد اپنے گھر واپس آرہا ہے‘ اپنی بیوی اور بچوں کے پاس تاکہ وہ پھر کھیتی باڑی کرے‘ ہل چلائے‘ بیج بوئے اور وہ کام جو انسان نے مدت پہلے شروع کیا ہے اس کو جاری رکھے۔ وہ جلدی جلدی بیساکھی کی مدد سے چلا۔ وہ پھر اپنی جگہ آگیا۔ اس نے اپنا ہاتھ ماتھے پر پھیرا‘ جیسے وہ اپنے ذہن کو صاف کرنے کی کوشش کررہا ہو۔ وہ انور علی ہے جو اب سے ٧١ سال پہلے اتوار کے دن جنگ پر گیا تھا۔ جنگ میں اس کی ٹانگ کٹ گئی اور وہ بے ہوش ہوگیا۔ اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے۔ جنگ میں ایک سپاہی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ وہ انور علی ایک مدت کے بعد اپنے گھر واپس آرہا ہے تاکہ اس نے سوچنا شروع کردیا۔ انور علیانور علی کیا واقعی وہ انور علی ہے‘ جو سرخ و سفید رنگ کا صحت مند نوجوان تھا‘ جس کا سینہ چوڑا اور بال بھورے تھے‘ ١٤ سال کا‘ اس کی نوجوان چھوٹے قد کی بیوی تھی۔ جنگ پر جانے سے ایک سال پہلے اس کے لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ وہ آدمی جو آج جنگ سے اپنے گھر واپس آرہا ہے وہ مسافر‘ فقیر‘ بھوک اور بیماری کا پیغام ہے۔ وہ آدمی نہیں ہے۔ انور علی مرگیا‘ وہ کھو گیا‘ وہ اس دنیا سے بہت دور چلا گیا۔ اس کے نام کا کتبہ لگا ہوا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ بوجھل دماغ کے ساتھ راستے پر چل پڑا۔ وہ پل پار کرکے میلے کے قریب پہنچ گیا اور تھوڑی دیر کے لیے وہاں بیٹھ گیا۔ یہ میرا مکان ہے۔ اس نے اپنے مکان کو بغیر کسی احساس کے اجنبیوں کی طرح دیکھا۔ اس کو گزرے ہوئے دن یاد آنے لگے۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں ایک عجیب قسم کا درد محسوس کیا۔ باغ میں درختوں پر چڑیوں کے گھونسلے‘ گھر کے اندر اس کی بیوی‘ اس کی خوب صور ت ہنسی‘ جو تمام دکھ درد کو بھلا دیتی تھی۔ یہ تھا انور علی کا مکان۔ وہ چپکے سے چوروں کی طرح مکان کے قریب پہنچ گیا۔ اس نے اس بات کا خیال رکھا کہ کوئی چیز حرکت نہ کرسکے۔ اس نے دیوار کو آہستہ سے پکڑ کر دروازہ کھولا۔ ٹھنڈا کمرا اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھ گیا۔جانی پہچانی چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ آہستہ سے کھل گیا۔ گھر کے اندر چولہے میں آگ جل رہی تھی اور چولہے پر ہانڈی رکھی ہوئی تھی اور اس کی بیوی اس کے پاس کھڑی تھی۔ وہ بہت خاموشی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوگیا۔ اس کی بیوی چولہے کے پاس کھڑی تھی اور اس کا چہرہ آگ کی روشنی میں لال ہورہا تھا۔ وہ اب بھی پہلے کی طرح خوب صورت اور مضبوط تھی۔ اس کا نام انور علی کی زبان پر انگارے کی طرح جل رہا تھا۔ اس کے نام سے اس نے اسے پکارنا چاہا مگر اس کی آواز حلق میں گھٹ کر رہ گئی۔ اس کی بیوی نے ایک دم مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور فوراً اس سے سوال کیا۔ ”تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟“ |
|
|
|
| محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (11-04-08) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
وہی پرانی محبت بھری آنکھیں‘ وہی پرانے انداز‘ جب وہ کبھی اسے مارنے کی دھمکی دیتا تھا‘ اس کو یاد آیا‘ تو وہ کہتی تھی۔ ”لوذرا مار کر تو دیکھو پھر“
”تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟“ اس نے سوال کو دہرایا۔ ”خدا تمہارا بھلا کرے۔“ اس نے نظریں نیچی کرلیں۔ ”تین دن سے کچھ نہیں کھایا۔ خدا تمہارا بھلا کرے۔“ یہ الفظ اس کی زبان سے اس طرح نکل گئے جیسے وہ انہیں روز کہنے کا عادی ہو۔ اس کے بعد وہ چپکے چپکے اسے دعائیں دینے لگا۔ بیوی نے اسے پریشان نظروں سے دیکھا اور کہا۔ ”تمہیں کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا۔ ابھی کھانا تیار نہیں ہے۔“ وہ اسی طرح سے کھڑا انتظار کرنے لگا۔ ”بیٹھ جائو‘ ایک ٹانگ پر اس طرح کب تک کھڑے رہو گے؟“ وہ ایک نیچی کرسی پر بیٹھ گیا جو اس وقت گھر میں نہیں تھی‘ جبکہ وہ جنگ پر گیا تھا۔ وہ چور نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ اس کا ادھر ادھر گھومنا اور اس کی ہر حرکت اسے ایک خواب کی طرح معلوم ہوئی۔ وہ ننگے پیر تھی اور اس کی آستینیں کہنی تک چڑھی ہوئی تھیں۔ وہ مستقل بہت غور سے اسے دیکھتا رہا۔ بلی اس کے پائوں سے الجھتی رہی۔ ”یہ میری بیوی ہے۔“ اس نے سوچا۔ ”یہ انور علی کی بیوی ہے؟“ اس کا نام پھر اس کی زبان پر کانٹوں کی طرح چبھنے لگا۔ ”تم کہاں سے آئے ہو؟“ گفتگو جاری رکھنے کے لیے سوال کیا۔ ”بہت دور سے!“ ”کہاں۔ بہت دور سے؟“ ”بلتستان سے۔“ اس نے انھیں شک کی نظروں سے دیکھا جیسے اسے یقین نہ آیا ہو۔ ”یہاں کیا تمہارے کوئی رشتے دار نہیں؟“ ”یہاں نگر ہوپر میں؟ نہیں پہلے رہتے تھے‘ اب یہاں میرا کوئی نہیں ہے۔“ اس نے اپنی ٹوپی میز پر رکھ دی۔ اس کی نظر کارنس کی طرف چلی گئی جہاں پر کونے میں مکڑی اپنا جالا بن رہی تھی۔ اس کے بعد اس کی نظریں پھر اپنی بیوی کی طرف چلی گئیں۔ اس نے سر سے ننگے پیروں تک اس کو آہستہ آہستہ دیکھا۔ ” آپ کے شوہر کہاں ہیں؟ کیا گھر پر نہیں ہیں؟“ اس نے سوال کیا۔ ”وہ گلگت گئے ہوئے ہیں۔“ اس نے ” گلگت گئے ہوئے ہیں؟“ فقرے کو سوال کی طرح دہرایا۔ ”گلگت میں اناج بیچنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔“ ”گلگت گیا ہوا ہے۔“ وہ اس طرح خاموش ہوگیا جیسے گھنٹے کی آواز بج کر ختم ہوجاتی ہے مگر تھوڑی تھوڑی دیر سے آواز آتی رہتی ہے‘ جیسے کسی اور جگہ سے کسی اور وقت۔ ”کیا تم ان کو جانتے ہو؟“ ”نہیں میں کسی کو نہیں جانتا۔ میں اس گائوں کے انور علی کو جانتا تھا مگر اب وہ بھی مجھے اچھی طرح یاد نہیں ہیں۔“ ”تم انور علی کو جانتے ہو؟“ اس کی آواز کانپنے لگی۔ ”وہ میرے پہلے شوہر تھے۔“ اس کی آواز ایک بھولی ہوئی یاد کی طرح تھی‘ جو کبھی واپس نہیں آتی‘ ایسی یاد جسے ہمیشہ کے لیے بھلایا جاچکا ہو۔ ”تم ان سے کب اور کہاں پر ملے تھے؟“ ”ڈھاکا کینٹ میں۔ میری شکل ان سے کچھ حد تک ملتی تھی اس لیے انھوں نے مجھے بھائی بنا لیا تھا۔“ انور علی نے یہ بہت خاموشی کے ساتھ آہستہ آہستہ کہہ دیا۔ جیسے کہ یہ ایک بہت پرانی بات ہو‘ جس کی اب کوئی اہمیت نہ رہ گئی ہو۔ اسے لگا جیسے وہ ایک بہت اونچے ریت کے پہاڑ کے نیچے دب گیا ہو۔ اس کا دم گھٹنے لگا۔ وہ اس وقت کولہوں پر ہاتھ رکھے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ ”واقعی تمھاری شکل بہت حد تک اس سے ملتی ہے۔کیا تم اس کے ساتھ اسپتال میں تھے؟ بتائو۔“ اس کے لہجے میں نرمی آگئی۔ ”ہاں میرا پلنگ اسپتال میں ان کے پلنگ کے برابر میں تھا۔ چار دن انہیں سخت تکلیف رہی۔ وہ مستقل آ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (11-04-08), عروج (09-12-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے بہت شکریہ امید ہے آپ مزید مراسلات ضرور مرحمت فرمائیں گے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| قدم, لڑکی, چور, نظر, محبت, معلوم, اللہ, انسان, بھائی, بچپن, بچوں, جھوٹ, جلد, حکم, دیکھو, داڑھی, دعا, دعائیں, رشتے, سال, علی, صاف, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| واہ کیا قیادت ہے؟ کاش ہمیں بھی نصیب ہو جائے۔ | قاسم شاہ | خبریں | 0 | 21-12-10 09:20 AM |
| پاکستان کو دولخت کرنے والی اندراگاندھی سمیت 100 شخصیات کا انعام | جاویداسد | خبریں | 5 | 24-08-10 02:40 PM |
| آندھی ہے تلاطم ہے مصیبت ہے بلا ہے | wajee | شعر و شاعری | 0 | 14-12-09 07:22 PM |
| وی آئی پی شخصیات کی نقل و حرکت کے دوران سگنلز بند نہیں ہونگے ‘ وزیر اعلیٰ | ابن جلال | خبریں | 0 | 12-04-08 06:14 PM |
| چیف جسٹس کا یورپی پارلیمنٹ اور دیگر بین الاقوامی شخصیات کو خط | شیخ ہمدان | سیاست | 0 | 31-01-08 01:45 PM |