واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




شہنشاہ اعظم...........ابن حق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-01-08, 06:55 PM   #1
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default شہنشاہ اعظم...........ابن حق

شہنشاہ اعظم...........ابن حق

شہنشاہ اعظم جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح اور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور ہیرے جواہرات کے پھلوں اور سونے کی روٹیوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔

شہنشاہ نے حیرت سے سوال کیا۔ ”کیا آپ کے علاقے میں ہیرے جواہرات اور سونا کھایا جاتا ہے؟“

”معزز شہنشاہ جہاں تک بہترین اور لذیذ ترین غذائوں کا سوال ہے تو وہ شہنشاہ کے اپنے ملک میں بھی میسر آتی ہوں گی لیکن آپ کو جس شے کی طمع نے یہاں تک پہنچایا ہے وہ یہی چیزیں ہیں اور اگر ہم غلط سمجھے ہیں تو کیا شہنشاہ اعظم ہمیں یہ بتائیں گے کہ وہ یہاں کس مقصد سے تشریف لائے ہیں؟“

شہنشاہ نے شرمندہ ہوکر جواب دیا۔ ”مجھے آپ کی دولت سے کوئی دلچسپی نہیں‘ ہم تو آپ کے رسم و رواج کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں؟“

”بہت خوب!“ سردار اس طرح ہنسا گویا اسے شہنشاہ کی بات کا یقین تو نہیں‘ لیکن احتراماً مانے لیتا ہے۔ فراخ دلی سے کہا۔ ”آپ جب تک چاہیں رہیں۔“

ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔

مدعی نے کہا۔ ”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا‘ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔“

مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔ ”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے‘ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے۔“

سردار نے فریقین کے سوال و جواب خود بھی ادا کیے۔ اس طرح وہ دونوں کو یہ یقین دلانا چاہتا تھا کہ اس نے دونوں کی روداد پوری توجہ سے سن لی ہے پھر کچھ غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔ ”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“

”ہاںہے!“

پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔ ”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“

”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے اثبات میں گردن بھی ہلا دی۔

”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے خزانہ ان کے حوالے کردو۔“ اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔

سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“

”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 30-01-08, 06:55 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,169
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شہنشاہ اعظم...........ابن حق

سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“

شہنشاہ نے اپنا سوچا سمجھا فیصلہ سنا دیا۔ ”ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ ما بدولت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“

”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“

”جی ہاں کیوں نہیں؟“

”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“

”بالکل!“

”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“

”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“

”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔“
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (11-04-08)
پرانا 11-04-08, 09:30 AM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,174
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شہنشاہ اعظم...........ابن حق

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے
بہت شکریہ
امید ہے آپ مزید مراسلات ضرور مرحمت فرمائیں گے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, لڑکی, اللہ, بہترین, جواب, دریافت, سردار, شخص, عدالت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger