|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
خشک صحرا میں دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ وہ اور اس کا گھوڑا دونوں ہی بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو چکے تھے اور موت آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی۔ قریب تھا کہ وہ گھوڑے سے گر پڑتا کہ اچانک کچھ ہی دور اسے ایک جھونپڑی نظر آئی۔ پہلے تو وہ سمجھا کہ یہ آنکھوں کا فریب ہے لیکن جب دوبارہ ذرا غور سے دیکھا تو آنکھوں میں چمک آگئی۔ وہ تیزی سے گھوڑا دوڑاتا ہوا جھونپڑی کے پاس پہنچا۔
قریب پہنچ کر اس نے بلند آواز میں کہا: "کوئی ہے جو اس مسافر کی مدد کرے؟ کوئی ہے؟" جھونپڑی کا پردہ ہٹا اور ایک شخص باہر آیا۔ اپنے دروازے پر ایک اجنبی کو دیکھ کر اس نے کہا: "خوش آمدید، اے معزز شخص۔" مسافر نے کہا: "کچھ کھانے پینے کو مل جائےگا؟" "کیوں نہیں؟ آپ اندر تشریف لایئے۔" میزبان کے پاس ایک ہی بکری تھی۔ اس نے دودھ دوہ کر اپنے مہمان کو پلایا اور بکری ذبح کرکے بیوی سے کہا کہ اسے پکاؤ۔ کھانا تیار ہوا تو مسافر نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا، میزبان کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا: "بھئی ایک اجنبی کی خاطر تم نے اپنی اکلوتی بکری ذبح کر ڈالی! بھلا یہ مہربانی کیوں؟" میزبان نے کہا: "معزز مہمان، آپ جانتے ہیں کہ عرب اپنے مہمان کی خاطر جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے، یہ تو پھر ایک حقیر سی دعوت تھی۔ میں حنظلہ ہوں اور میرا قبیلہ میزبانی کے لیے مشہور ہے۔" "مجھے جانتے ہو؟" مسافر نے پوچھا۔ "نہیں۔"جواب ملا۔ "میں حیرہ کا بادشاہ "نعمان بن منذر" ہوں۔ شکار کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔ تم نہ ہوتے تو شاید اب تک صحرا کے گدھوں کی خوراک بن چکا ہوتا۔ تمہارا بے حد شکریہ، تم نے میری خوب خدمت کی ہے۔ اس کے لیے میں تمہیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتا ہوں۔" "ضرور آؤں گا۔" میزبان نے جواب دیا۔ بادشاہ نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دھول اڑاتا اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ ٹھیک دو سال بعد حنظلہ کا کسی کام سے حیرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ اپنا کام نپٹا کر اس نے سوچا کہ کیوں نہ نعمان سے بھی مل لیا جائے۔ وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا لیکن یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بادشاہ نے اسے دیکھ کر بالکل خوشی کا اظہار نہیں کیا۔ بادشاہ نے اگرچہ حنظلہ کو دیکھتے ہی پہچان لیا تھا لیکن وہ کچھ دیر تک بالکل خاموش رہا، جیسے کوئی بہت بڑی فکر لگ گئی ہو۔ آخرکار بولا: "تم! تم آج کیوں آئے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج یوم بؤس (منحوس دن) ہے؟ ہمارا قانون ہے کہ آج کے دن جو بھی شخص ہمارے علاقے میں سب سے پہلے داخل ہوتا ہے اسے ہم قربانی کے لیے چن لیتے ہیں، تاکہ اس دن کی نحوست دور کی جا سکے۔" حنظلہ نے کہا: "میرے علم میں یہ بات ہوتی تو میں کبھی آج کے دن آپ کے پاس نہ آتا۔" "آج کے دن تو اگر میرا بیٹا بھی آتا تو میں اس کو قتل کرا دیتا، بہرحال میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔" نعمان نے بے رخی سے جواب دیا۔ ماحول پر سناٹا چھا گیا، پھر بادشاہ کی آواز دوبارہ گونجی: "تم اپنی آخری خواہش بتاؤ اور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ مجھے تمہاری موت کا افسوس تو ہوگا مگر میں مجبور ہوں۔۔۔۔۔ اور ہاں تمہیں تمہارا انعام بھی دے دیا جائے گا۔" حنظلہ نے نعمان بن منذر کے چہرے پر اٹل فیصلہ لکھا دیکھ لیا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو قسمت کے حوالے کیا اور بڑے اعتماد اور وقار سے بولا: "موت کی دہلیز پر کھڑا ہو کر انعام حاصل کرکے میں کیا کروں گا۔۔۔۔۔ مجھے اجازت دیں تو میں اپنے گھر والوں سے مل آؤں اور اپنا انعام انہیں دے آؤں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو بھی وقت آپ مقرر کریں گے، میں اپنی موت کے لیے حاضر ہو جاؤں گا۔" بادشاہ نے کچھ دیر سوچا، پھر کہا: "ٹھیک ہے، اپنا کوئی ضامن لے آؤ۔" حنظلہ نے بادشاہ کے پاس کھڑے شخص کو دیکھا۔ وہ بادشاہ کا وزیر "شریک بن عمرو" تھا۔ حنظلہ نے اسے ضامن بننے کی درخواست کی لیکن اس نے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک اور شخص "قراد" بھی موجود تھا۔ اس نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اس شخص کا ضامن بنتا ہوں (یعنی اگر حنظلہ نہ آیا تو اس کی جگہ میں موت قبول کرلوں گا)۔ حنظلہ نے اس کا شکریہ ادا کیا اور بادشاہ سے اجازت چاہی۔ بادشاہ نے اسے پانچ سو اونٹ بطور انعام دیئے اور کہا ٹھیک ایک سال بعد تم اسی وقت، اسی جگہ ہم سے ملو گے۔" حنظلہ نے اونٹ لیے اور چلا گیا۔ ٭٭٭ ایک سال گزر گیا اور فیصلے کا دن آ پہنچا۔ سب لوگ اس جگہ اکٹھے تھے اور حنظلہ کا انتظار کر رہے تھے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا، لوگوں کے چہروں پر مایوسی پھیل رہی تھی۔ لیکن قراد پورے اطمینان اور سکون کے ساتھ کھڑا تھا۔ اسے یقین تھا کہ حنظلہ ضرور آئے گا۔ مقررہ وقت ختم ہونے پر بادشاہ نے جلاد کو حکم دیا کہ وہ حنظلہ کے بدلے قراد کی گردن اڑانے کی تیاری کرے۔ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک بے گناہ شخص کے قتل پر سب کو افسوس تھا۔ سب نے بادشاہ سے درخواست کی کہ کم از کم سورج غروب ہونے تک حنظلہ کے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ بادشاہ نے یہ بات مان لی۔ پھر سورج کے غروب ہونے کا وقت بھی ہونے لگا اور لوگوں میں بے چینی بڑھنے لگی۔ جب وقت پورا ہوچکا تو بادشاہ نے جلاد کو حکم دیا کہ قراد کی گردن اڑا دی جائے۔ اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف مضبوطی سے باندھ دیئے گئے اور قریب تھا کہ تلوار اس کی گردن تک پہنچتی کہ ایک شخص نے اچانک پکار کر کہا: "ٹھہرو۔۔۔۔۔ وہ دیکھو، کوئی آ رہا ہے!" یہ سن کر سب نظریں اٹھیں۔ دور کوئی شخص دوڑتا ہوا نظر آیا۔ جب وہ قریب آیا تو بادشاہ نے اسے پہچان لیا۔ اس نے فوراً حکم دیا: "تلوار واپس رکھ دو، حنظلہ آ گیا ہے۔" حنظلہ تیز دوڑتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچا۔ اس نے اپنا سانس بحال کیا، اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بڑے ادب سے معذرت کی اور کہا: "میں مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکا۔ پیدل آنے کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔ لیکن اب میں قتل ہونے کے لیے تیار ہوں۔" حنظلہ نے اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا۔ نعمان بن منذر، حنظلہ کے اس کردار سے بہت متاثر ہوا اور پوچھا: "تمہیں کس چیز نے واپس آنے پر مجبور کیا؟" حنظلہ کا چہرہ روشن اور آواز جذبات سے لبریز تھی۔ اس نے بے ساختہ کہا: "ایفائے عہد! میری وجہ سے ایک بے گناہ شخص کی جان چلی جائے یہ مجھے گوارا نہ تھا۔ مجھے عرب قوم کی عزت اور غیرت اپنی جان سے زیادہ پیاری ہے۔ آپ جلاد کو حکم دیں کہ وہ مجھے قتل کر دے۔" حنظلہ کے اس کردار نے بادشاہ کی نظر میں اس کی عزت اور وقار اور بلند کر دیا۔ اچانک اسے وہ دن یاد آگیا جب وہ صحرا میں موت و حیات کی پگڈنڈی پر سوار تھا تو اس شخص نے اپنی بیوی سے لڑ کر اپنی اکلوتی بکری اس پر قربان کر دی تھی۔ آج وہی شخص اپنے قول کو پورا کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ لیے حاضر تھا۔ بادشاہ اٹھا، اس نے حنظلہ کو گلے لگایا اور اسے معاف کر دیا اور یوم بؤس کی اس مکروہ رسم کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا، جو کئی برسوں سے بے گناہ لوگوں کے لیے موت کا پیغام لے کر آتی تھی۔ (قصص العرب۔حصہ اول)
__________________
----------
![]() |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (11-04-08), نیلم خان (04-09-11), نورالدین (23-12-10), بلال الراعی (05-09-11), رضی (04-09-11), زارا (21-12-10), عروج (21-12-10), صبااشرف (21-12-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
بہت اچھا مراسلہ ہے امید ہے آپ مزید مراسلات بھیجتے رہیں گے بہت شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
ہائیں ! ! !
آپ کو یہ مسلمانوں کے دور کا واقعہ لگتا ہے؟ ذرا غور کیجیے اس حصے پر ۔ اقتباس:
کیا مسلمان نحوست سے ڈرنے والے تھے ۔؟ کیا وہ ایسی جہالت کے لیے ایک زندہ انسان کو قتل کرنے کے حق میں ہوتے تھے ۔ نعمان بن منذر کے متعلق آپکو بہت کچھ جاننے کی ضرورت ہے ۔ ادنی طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص سے اعلی طبقے کا کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا اور اس معاملے میں پورا معاشرہ نہایت ہی حساس تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حیرہ کے بادشاہ نعمان بن منذر کو اس بات کا طعنہ دیا جاتا رہا کہ اس کا نانا ایک چمڑہ رنگنے والا تھا۔ Slavery in Pre-Islamic Arabia عرب میں غلامی اور مزید یہ ۔منذر بن السماء کے بعد نعمان بن منذر کے عہد تک حیرہ کی حکمرانی اسی کی نسل میں چلتی رہی، پھر زید بن عدی عبادی نے کسریٰ سے نعمان بن منذر کی جھوٹی شکایت کی ، کسریٰ بھڑک اٹھا اور نعمان کو اپنے پاس طلب کیا۔ نعمان چپکے سے بنو شیبان کے سردار ہانی بن مسعود کے پاس پہنچا اور اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کو اسکی امانت میں دے کر کسریٰ کے پاس گیا، کسریٰ نے اسے قید کردیا اور وہ قید ہی میں فوت ہو گیا۔ ادھر کسریٰ نے نعمان کو قید کرنے کے بعد اسکی جگہ ایاس بن قبیصہ طائی کو حیرہ کا حکمران بنایا اور اسے حکم دیا کہ ہانی بن مسعود سے نعمان کی امانت طلب کرے، ہانی غیرت مند تھا اس نے صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ اعلان جنگ بھی کر دیا۔ پھر کیا تھا ایاس اپنے جلو میں کسریٰ کے لاؤ لشکر اور مرزبانوں کی جماعت لے کر روانہ ہوا اور ذی وقار کے میدان میں فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں بنو شیبان کو فتح حاصل ہوئی اور فارسیوں نے شرمناک شکست کھائی۔ یہ پہلا موقع تھا جب عرب نے عجم پر فتح حاصل کی تھی۔ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے تھوڑے ہی دنوں بعد کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش حیرہ پر ایاس کی حکمرانی کے آٹھویں مہینے میں ہوئی تھی۔ ایاس کے بعد کسریٰ نے حیرہ پر ایک فارسی حاکم مقرر کیا لیکن سنہ 632ء میں لخمیوں کا اقتدار پھر بحال ہو گیا اور منذر بن معرور نامی اس قبیلے کے ایک شخص نے باگ ڈور سنبھال لی، مگر اس کو برسراقتدار آئے صرف آٹھ ماہ ہی ہوئے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کا سیل رواں لے کر حیرہ میں داخل ہوگئے۔ حیرہ کی بادشاہی - URDU MAJLIS FORUM سلاطین حیر ہ میں سے نعمان بن منذر نے جو کسریٰ پرویز کے زمانہ میں تھا۔ عیسوی مذہب قبول کر لیا۔ اور اس تبدیل مذہب پر یا کسی اور سبب سے پرویز نے اس کو قید کر دیا۔ اور قید ہی میں اس نے وفات پائی۔ نعمان نے اپنے ہتھیار وغیرہ ہانی کے پاس امانت رکھوا دیئے جو قبیلہ بکر کا سردار تھا، پرویز نے اس سے وہ چیزیں طلب کیں۔ اور جب اس نے انکار کیا تو ہرمزان کو دو ہزار فوج کے ساتھ بھیجا کہ بزور چھین لائے۔ بکر کے تمام قبیلے ذی وقار ایک مقام میں بڑے سر و سامان سے جمع ہوئے اور سخت معرکہ ہوا۔ فارسیوں نے شکست کھائی۔ اس لڑائی میں جناب رسول اللہ بھی تشریف رکھتے تھے۔ اور آپ نے فرمایا کہ ھذا اول یوم انتصفت العرب من العجم۔ یعنی " یہ پہلا دن ہے کہ عرب نے عجم سے بدلہ لیا۔" عرب کے تمام شعرا نے اس واقعہ پر بڑے فخر اور جوش کے ساتھ قصیدے اور اشعار لکھے۔ - - - - - x - - - -- - ۔خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عراق مے تمام سرحدی مقام فتح کر لئے۔ اور حیرۃ پر علم فتح نصب کیا۔ یہ مقام کوفہ سے تین میل ہے۔ اور چونکہ یہاں نعمان بن منذر نے حوزنق ایک مشہور محل بنایا تھا وہ ایک یادگار مقام خیال کیا جاتا تھا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ زمانہ جاہلیت میں بھی عرب لوگوں میں بعض ایسی خصوصیات تھیں جو انہيں پوری دنیا سے ممتاز رکھتی تھیں ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ Last edited by نورالدین; 23-12-10 at 12:17 PM. |
|
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (04-09-11) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,860
کمائي: 560,183
شکریہ: 25,518
10,377 مراسلہ میں 38,434 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شئیرنگ ہے عدنان بھائ ۔
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,535
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نوٹ: چونکہ یہ مراسلہ میں نے اپنے الفاظ میں تحریر کیا ہے قرآنی آیت کا ترجمہ تھوڑا الفاظ کے لحاظ سے آگے پیچھے ھو سکتا ہے ۔ فتویٰ نہ جڑ دیجیے گا ۔ اللہ رحم کرنے والا ہے۔
__________________
![]() عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟ سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پہچان, وزیر, لوگ, نظر, موت, معلوم, معذرت, آبادی, آج, اللہ, انعام, اجنبی, بھائی, تلاش, جواب, حکم, خوش, درخواست, سال, شخص, عہد, عدنان, عزت, صاف, صحرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دو نقطے اور ایک قوس (: | shafresha | باغی کی شاعری | 8 | 09-02-12 02:25 AM |
| منحوس | gorgeous | قہقہے ہی قہقے | 1 | 24-02-11 01:11 PM |
| بوس تو پھر بوس ہوتا ہے۔ | احمد بلال | دلچسپ اور عجیب | 4 | 05-01-11 04:23 PM |
| روس کی ریل گاڑیاں | ابو عمار | دلچسپ اور عجیب | 1 | 13-11-08 03:08 PM |
| وہ لمحہ جب عبدالقدوس ، قلاباز عبدالقدوس بن گیا۔۔۔۔مگرکیوں | لاسلکی | گپ شپ | 59 | 09-08-08 06:46 PM |