|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,990
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عجیب سی کشمکش تھی ماحول میں کھنچاؤ تھا ، انہیں ان باتوں سے لڑنے میں مشکل ہو رہی تھی جو انکے ماحول اور انکی اپنی تربیت کے خلاف تھا وہ خود کو ایسی کشتی کا سوار سمجھ رہے تھے جسمیں کبھی بھی سوراخ ہوسکتا تھا اور دونوں میاں بیوی خوفزدہ تھے کہ کسطرح اپنی کشتی کو بچا ئيں اور یہ ہی سوچ اکثر کھنچا ؤ کا باعث بن جاتی تھی ۔ دونوں ہی ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جہاں نہ آزادی تھی اور نہ ہی دقیا نوسیت بلکہ جائز ا ور اچھے کاموں کا کرنا پسندیدہ تھا اور کوشش ہوتی تھی کہ ان باتوں پر سختی سے عمل کیا جائے جو د ین کے دائرے میں رہتے ہوئے دنیا کے فائدے کے لئے بھی ہوں ۔انہیں اپنے ملک سے نکلے پند رہ سال ہو چکے تھے ایک بیٹی سترہ سال کی تھی اور چھوٹیی چھہ سال کی بیچ میں آنے والی دو جانیں دنیا میں آنے سے پہلے ہی اللہ کے پاس جا چکی تھیں اس لئے یہ دونوں بچیّاں انکی ساری متاع تھیں جب وہ نارتھ امریکہ آئے تو انکی ملاقات جن لوگوں سے ہوئی وہ سب انکی سی ہی سوچ رکھتے تھے ماحول بھی ایک جیسا تھا وہ بہت مطمئن تھے مگر جیسے جیسے لوگ بڑھتے گئے روئیے بھی بدلتے گئے اور سوچ میں ٹکراؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا ۔ کیونکہ کچھ لوگ وہ تھے جو حالات میں ڈھل جانے کو عافیت سمجھتے تھے اور کچھ ایسے تھے جو اپنی اقدار پر کوئی مصلحت آڑے نہ آنے دیتے تھے ،انکی سوچ تھی کہ اپنی شناخت کو کسی مصلحت کے لئے ختم کرنا اپنی موت آپ مر جانا ہے اور یہ ہی وہ نکتہ تھا جسپر اختلافات بھی ہو جاتے تھے ،
اب ایسا ہونے لگا کہ لوگ گروپس میں بٹنے لگے کہ سوچ مختلف ہو رہی تھی مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط بڑے انصاف سے کہتے اور سمجھتے تھے لیکن بد قسمتی سے انکی تعداد بہت کم تھی زیادہ تر لوگ وہ تھے جو چھا جانے کی صلاحیت رکھتے ہین اور اپنی غلط سوچ کو بھی بڑی ڈھٹا ئی سے دوسروں پر مسلّط کر د یتے ہیں اور خود بھی کبھی کسی گروپ میں نظر آتے اور کبھی کسی ،خود اپنی راہ کا تعین بھی نہیں تھا اور ان دونوں کا مسئلہ یہ بھی تھا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ رکھیں وہ دونوں اس بات پر متّفق تھے کہ ایسے لوگوں سے صاحب سلامت رکھی جائے اور بس مگر پھر سوچتے کہ یہاں کو ئی اپنا تو ہے نہیں یہ ہی سب اپنے ہیں ان ہی باتوں کی وجہ سے انکا حلقئہ احباب چھوٹا ہوتا جا رہا تھا کیونکہ اپنی اقدار کو قائم رکھنے وانے ماڈرن سوچ جو ایک نظرئے سے تو کسی صورت بھی ماڈرن نہ تھی بلکہ بقول کچھ لوگوں کے تباہی کی پہلی سیڑھی تھی جس پر قدم رکھ رہے تھے بغیر تحقیق کے بغیر یہ سوچے کہ انجام کیا ہوگا ۔ ایک اور عجیب سوچ جو شروع ہو ئی تھی وہ تھی انکے کلچر کو اپنا نا اپنے مطابق ،اور یہ وہ بات تھی جو کسی بھی ہاضمے کی گولی سے ہضم نہیں ہو رہی تھی انکی سوچ تھی کہ ناچنا اگر غلط ہے تو غلط ہے چاہے عورتوں کے سامنے ہو یا مردوں کے ،کہ انہوں نے اسلامی ڈانس کی اصطلاح کہیں نہیں سنی تھی اور یہاں انہوں نے اسکارف پہننے والی خواتین کو بھی ایسا ڈانس کرتے دیکھا تھا کہ روح تک خوفزدہ تھی کہ یہاں کا مقامی ڈانس تو چند قدموں تک محدود ہوتا ہے مگر ہمارے لوگ تو انڈیا کے ڈانسرز کی نقل کرتے ہیں یہ کہاں تک جائز ہے ان دونوں کو پتہ نہیں تھا ایک اور بات تھی جو اسکو بڑی حیرت میں ڈالتی تھی کہ سر تو اسکارف سے ڈھکے ہوتے لیکن سینے کی طرف کسی کی توجہ نہ ہوتی جبکہ حکم کا مفہوم ہے کہ اپنے سر اور سینوں پر اپنی چادریں ڈال لیا کرو اسکو سب سے زیادہ مشکل بیٹی کو سمجھا نے میں ہو تی جو بڑی حد تک سب باتوں کو سمجھتی تھی اور ماں کی پریشانی کو سمجھتی بھی تھی یہ اسکی قربانی کا نتیجہ تھا جو اسکی تربیت پر محنت کرتی تھی وہ ماں کا کہنا مانتی تھی اور انہیں خوش رکھنے کی پوری پوری کوشش بھی کرتی تھی جسکو وہ دونوں اللہ کی رحمت سمجھتے تھے ۔ کبھی کبھی دونوں میاں بیوی سر جوڑ کو بیٹھتے اور سوچتے کہ بیٹیوں کی ذندگی کا سوال ہے اس ماحول کو ہم اپنا نہیں سکتے تو کیوں نہ واپس اپنے ملک چلے چائیں ،مگر وہاں کے حالات قدم روک دیتے جو لوگ ملک سے جا کر آتے وہ ایسے حالات سناتے کہ ہمّت ٹوٹ جاتی وہ دونوں مل کر اپنے ماحول کو خراب نہ کرنے کا عہد کرتے اور اور دل و جان سے پھر اپنے بچوں کے کردار سنوارنے اور انکی مشکلات کو اپنے طور پر حل کرنے میں کوشاں ہو جاتے دوسری بیٹی ابھی چھوٹی تھی اکثر اسکو سمجھانا چیلنج بن جاتا کیونکہ وہ ہر بات میں اتنے سوال کرتی کہ لگتا کو ئی چیستاں ہے کہ بس جواب دئے جاؤ کبھی کبھی ماں کا صبر ساتھ چھوڑنے لگتا مگر اسے اپنی ساس کی بات یاد آ جاتی کہ بچوں کو مطمئن کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اور وہ پھر اسکے جواب دینے کو تیّار ہو جاتی بڑی بیٹی کو ڈرائیونگ سکھا ئی تھی جسکی وجہ سے انہیں یہ آسانی تھی کہ جب کبھی شوہر تھکے ہوئے ہوتے یا کسی خواتین کے پروگرام میں جانا ہوتا تو وہ آسانی سے چلی جا تی تھیں شوہر کی کوشش ہوتی کہ قرضہ کم سے کم ہو تاکہ مصیبتوں میں بھی کمی رہے انکی بیٹی نے بڑی تگ و دو کے بعد انتہا ئی مشکل سے ایک لائبریری میں جاب حاصل کر لی اور اپنی پڑھا ئی جاری رکھی ماں باپ بیٹیوں کو دوستوں کی طرح رکھتے تھے یہ ہی وجہ تھی کہ بیٹی کی ہر بات ماں کے علم میں رہتی تھی وہ بھی بیٹی پر اعتماد کرتی تھی اور بلا وجہ کے شکوک و شبہات سے پرہیز کرتی تھی چھو ٹی کبھی کبھی آؤٹ ہوتی مگر یہ لوگ اسکو سنبھال لیتے تھے وہ جب ایک ساتھ بیٹھتے تو ہر ٹا پک پر با ت چیت کرتے ،کہیں جا نا ہوتا تو کوشش کرتے کہ فیملی کے ساتھ جائیں اگر خواتین کی پارٹی ہوتی تو وہ ہمیشہ بچیوں کے ساتھ ہوتی ۔ وہ زیاوہ تر کوشش کرتی کہ ایسی پارٹیز میں جائے جو انکے ماحول سے مطابقت رکھتی ہو کیونکہ وہ سوچتی تھی کہ یہاں بچوں کی تربیت اپنے ماحول کے مطابق کرنا پل صراط پر چلنا ہے ساتھ ہی وہ یہ بھی سوچتی تھی کہ جتنی تکلیف سے وہ گزر رہی ہے اتنی ہی اسکی بچیاں بھی سختی سے دو چار ہیں وہ سوچتی کہ شاید ہماری یہ قربانیاں ہمارے لئے آخرت کے اجرو ثواب کا باعث ہوں شاید اس کاوش کی وجہ ہی سے ہم وہ مقام حاصل کر لیں جو مقصو د مومن ہے کہ دنیا کی ذندگی تو کچھ سالوں کی ہے اور کما ئی ساری یہاں ہی سے جانا ہے وہاں تو صرف صلہ ہی صلہ ہے انصاف کے ساتھ ،اپنی محنت کا انداذہ تو انسان خود کر لیتا ہے کہ کس پائے کی محنت اسنے کی ہے یہ سوچ اسمیں ایک نئی روح پھونک دیتی اور وہ ایک نئے عزم کے ساتھ چھوٹی کو اسکول سے لانے کے لئے نکل جاتی ۔ آج جب بڑی بیٹی واپس آئی تو ایک نیا ٹاپک کھلا اسنے کہا امّی آ پ نے بتا یا تھا کہ سورۃالفلق میں زکر ہے کہ رات میں کیسی کیسی مخلوق نازل ہوتی ہے جنکا ہمیں علم نہیں "ھاں بیٹی مفہوم یہ ہی تھا " اور آپ نے ایک دن تفسیر سے پڑھکر یہ بھی بتا یا تھا کہ عورتوں کو حکم ہے کہ مفہوم "قرار سے اپنے گھروں میں رہو اور جاہلوں کی طرح باہر نہ پھرو اور نہ اپنی زینت دکھا تی پھرو ' ہا ں بیٹی بتا یا تو تھا مگر آج تمہیں یہ سب کیوں یاد آگیا ؟ اسنے کہا امّی آج مجھے ایک سہیلی نے سلیپ اوور یعنی رات ساتھ گزارنے کے لیئے مدعو کیا اور بتا یا کہ وہاں سب مسلم لڑکیاں ہونگی ،مگر میری سمجھ میں نہیں آیا ، مییں نے اس سے کہا کہ رات بھر رہنے کا کیا تک ہے اسنے کہا تمہیں تو پتہ ہے کہ یہاں کی لڑ کیاں کسی جگہ جمع ہوتی ہیں آپسمیں ملتی ہیں سلیپ اوور کے لئے ایک دوسرے کو جاننے کے لئے اسی لئے مسلم لڑکیوں کے لئے بھی ایسا رکھا ہے تا کہ وہ بھی آپسمیں ملیں ،' مگر ہم لوگ تو دن میں مل سکتے ہیں کچھ وقت ساتھ گزار سکتے ہیں تو ساری رات گھر سے باہر رہنا اور وہ بھی ہم لو گوں کا یہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا ' امی میری بات سن کر وہ یہ کہہ کر چلی گئی کہ ہم لوگ بھی ان کے کلچر کو اپنے کلچر میں شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم ان سے الگ نہ فیل کریں ۔ایلین بن کر نہ رہ جا ئیں ۔ امی میں حیران ہوں کہ ہم تو ان سے الگ ہیں ہی یہاں رہنے کا مقصد تو ہر گز یہ نہیں ہے کہ ہم بھی وہ با تیں اپنا ئیں چاہے کسی بھی صورت ۔ وہ خاموشی سے اپنی بیٹی کی باتیں سن رہی تھی اس نے بیٹی سے کہا 'تم نے خود ہی مجھے ان دونوں احکا مات کا مفہوم بتا یا ہے اب تم خود ہی فیصلہ کر لو کہ تمہیں وہان جانا چاہئے کہ نہیں ؟کیا تم مناسب سمجھتی ہو کہ رات بھر گھر سے باہر رہو سہیلیوں کے ساتھ " نہیں امی میں تو کسی صورت یہ بات ٹھیک نہیں سمجھتی ہم اگر ملنا چاہیں ایک دوسرے کی اچھا ئیاں سیکھنا چا ہیں تو چھٹی کے د ن ، دن کے وقت مل سکتے ہین ،مین نے تو جب سے سورۃالفلق کا ترجمہ پڑھا ہے اور تفسیر ،یقین جا نئے مجھے تو رات دیر میں باہر نکلنا بھی اچھانہیں لگتا چا ہے آپ میرے ساتھ ہوں ۔ تو کیا امی ان لوگوں نے یہ سب نہیں پڑھا ہو گا؟ ۔ ضرور پڑھا ہو گا اسنے خود ہی جواب دیا اور نہ معلوم کیسے اسے محسوس ہوا کہ اسکا دل بیٹی کی با تیں سن کر اللہ کے حضور سجدے پر سجدے کر رہا ہے کہ اسکی محنت رنگ لا ئی ہے اور اسکی بیٹی خود اپنی حفاظت کے لئیے تیار ہو گئی ہے اور اسنے بے ساختہ اپنی بیٹی کا ماتھا چوم لیا ،چھوٹی نے بھی جلدی سے اپنی پیشانی اسکے سامنے کر دی ۔ اسکے شوہر نے بھی بہت مطمئن ہو کر اپنی بیوی کو ستائش بھری نظروں سے دیکھا انہیں لگا کہ وہ یہاں کے طوفان کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ بات صرف محنت کی ہے اور قربانی کی ۔ اسکے کانوں میں اسکی ما ں کی آواز گونجی' صحیح علم حاصل کرنا اور صحیح علم دوسروں تک پہنچا نا ہمیشہ فا ئدہ دیتا ہے پھر چاہے وہ ایک جملہ ہی کیوں نہ ہو ' اور اسے لگا کہ یہ اسکی قربانیوں کا صلہ ہے۔ اور اس کی ماں اور باپ کی تربیت کا جو اسے ان سے ملی تھی جسے اسنے اپنی بیٹی میں منتقل کیا۔ مصنفہ: عالم آرا والسلام
زارا |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,990
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شُکــریہ بھائی ۔۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پسندیدہ, قدم, نظر, موت, مقابلہ, منتقل, ماں, معلوم, آج, اللہ, انسان, امریکہ, اسلامی, بچوں, جواب, حکم, خواتین, خوش, خلاف, رات, سال, شناخت, عہد, عالم, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|