واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




پتھروں کا اِنتظار

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-05-11, 06:01 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,990
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پتھروں کا اِنتظار

پتھروں کا اِنتظار

ایک متمول کاروباری شخص اپنی نئی جیگوار کار پر سوار سڑک پر رواں دواں تھا کہ دائیں طرف سے ایک بڑا سا پتھر اُسکی کار کو آ ٹکرایا۔

اُس شخص نے کار روک کر ایک طرف کھڑی کی اور تیزی سے نیچے اُتر کر کار کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھنا چاہا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہ پتھر مارا کس نے تھا!!

پتھر لگنے والی سمت میں اُسکی نظر گلی کی نکڑ پر کھڑے ایک لڑکے پر پڑی جس کے چہرے پر خوف اور تشویش عیاں تھی۔

آدمی بھاگ کر لڑکے کی طرف لپکا اور اُسکی گردن کو مضبوطی سے دبوچ کر دیوار پر لگاتے ہوئے پوچھا؛ اے جاہل لڑکے، تو نے میری کار کو پتھر کیوں مارا ہے؟ جانتے ہو تجھے اور تیرے باپ کو اِسکی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

لڑکے نے بھرائی ہوئی آنکھوں سے اُس آدمی کو دیکھتے ہوئے بولا؛ جناب میں نے جو کُچھ کیا ہے اُسکا مجھے افسوس ہے۔ مگر میرے پاس اسکے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ میں کافی دیر سے یہاں پر کھڑا ہو کر گزرنے والے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر کوئی بھی رُک کر میری مدد کرنے کو تیار نہیں۔ لڑکے نے آدمی کو گلی کے وسط میں گرے پڑے ایک بچے کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے بتایا؛ وہ میرا بھائی ہے جو فالج کی وجہ سے معذور اور چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔ میں اِسے پہیوں والی کُرسی پر بِٹھا کر لا رہا تھا کہ سڑک پر پڑے ایک چھوٹے گڑھے میں پہیہ اٹکنے سے کُرسی کا توازن بگڑا ا ور وہ نیچے گر گیا۔ میں نے کوشش تو بہت کی ہے مگر اتنا چھوٹا ہوں کہ اُسے نہیں اُٹھا سکا۔ میں آپکی منت کرتا ہوں کہ اُسے اُٹھانے میں میری مدد کیجیئے ۔ میرے بھائی کو گرے ہوئے کافی دیر ہو گئی ہے اِسلئے اب تو مجھے ڈر بھی لگ رہا ہے۔۔۔ اِس کے بعد آپ کار کو پتھر مارنے کے جُرم میں میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہیں گے میں حاضر ہونگا۔ آدمی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، فورا اُس معذور لڑکے کی طرف لپکا، اُسے اُٹھا کر کرسی پر بٹھایا، جیب میں سے اپنا رومال نکال کر لڑکے کا منہ صاف کیا، اور پھر اُسی رومال کو پھاڑ کر ، لڑکے کو گڑھے میں گر کر لگنے والوں چوٹوں پر پٹی کی۔۔

اسکے بعد لڑکے نے آدمی سے پوچھا؛ جی جناب، آپ اپنی کار کے نقصان کے بدلہ میں میرے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں؟

آدمی نے مختصر سا جواب دیا؛ کچھ بھی نہیں بیٹے، مجھے کار پر لگنے والی چوٹ کا کوئی افسوس نہیں ہے۔

آدمی اُدھر سے چلا تو گیا مگر کار کی مرمت کیلئے کسی ورکشاپ کی طرف نہیں، کار پر لگا ہوا نشان تو اُس نے اِس واقعہ کی یادگار کے طور پر ویسے ہی رہنے دیا تھا، اِس انتظار کے ساتھ کہ شاید کوئی اور مجبور انسان اُس کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اُسے ایک پتھر ہی مار دے۔۔۔

*****
خدشات اور پریشانیوں کے اِس دور میں بسنے والے ہم لوگوں کے اپنے اپنے تحفظات اور اپنی اپنی لا متناہی خواہشات ہیں۔ راحت اور آسائشیں بڑھنے سے فرائض اور واجبات کے ساتھ ساتھ خدا بھی بھُولتا جا رہا ہے۔ صحت و تندرستی، مال و زر اور علم و مرتبہ سے بھرپور پُر مسرت اور پُر سکون زندگیاں تو اور بھی زیادہ شُکر کی مُستحق ہوا کرتی ہیں کہ ہم اِن نعمتوں اور مہربانیوں کے شکرگزار ہوں جو ہم پر برس رہی ہیں مگر غفلت نے ہم پر اور ہماری عقلوں پر پردہ ڈال دیا ہوتا ہے۔


اور پھر کبھی کبھی ناگہانی بیماریاں، مصیبتیں اور پریشانیاں شاید ہماری توجہ نعمتوں کے شُکر کی ادائیگی کیلئے، ہمیں سیدھی راہ پر لوٹانے اور ہمیں نعمتوں کے فضل کا احساس دلانے کیلئے نازل ہو ا کرتی ہیں۔


اگر انسان ساری دنیا کی دولت و راحت کما لے مگر اپنے رب سے تعلق اور رابطہ کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ملے گا؟


ہم ہزاروں کاموں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ گاڑی کی ضمانت مل جائے، گھر کی ضمانت دے دی جائے، گھر میں موجود ہر راحت و آسانی کی دستیابی کی ضمانت مِل جائے۔۔۔ مگر کیا دائمی زندگی کی بھی کوئی ضمانت ہے؟

کچھ اِس طرف بھی توجہ ہے ہماری؟

یا کسی پتھر کا انتظار ہے جو ہمیں آ کر لگے اورتب ہی ہم اپنی اِس غفلت سے جاگیں گے؟؟؟

مصنف: نامعلوم
__________________
زارا آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (28-05-11), ابوسعد (28-05-11)
پرانا 28-05-11, 07:48 PM   #2
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,639
کمائي: 86,325
شکریہ: 9,608
4,225 مراسلہ میں 12,042 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پتھر کا انتظار


اور۔۔۔۔

پتھر کا انتظار | Yasir Imran Mirza
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے  
پرانا 28-05-11, 07:55 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,990
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رپورٹ کر دی ہے۔ جزاک اللہ
زارا آف لائن ہے  
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
ہوتا, ہے۔, ہے۔۔۔, کوشش, کرنی, کس, گھر, گئی, پڑی, نظر, منصوبہ, آدمی, انسان, بھائی, توجہ, جواب, جاہل, خدا, دنیا, شخص, طور, علم, غفلت, صاف, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انہی پتھروں پہ چل کر اگر ا سکو تو آؤ عبداللہ آدم شعر و شاعری 5 15-05-11 12:09 PM
قرآن کریم میں بعض قیمتی پتھروں کا ذکر زارا فضیلیت قرآن 0 11-02-11 11:09 AM
میں ہوں راستے کا پتھر رضی گانے 0 16-12-10 12:46 AM
پتھروں کا انسان کی ذندگی پر اثر ہونا naeemuddin مذہبی مسائل اور ان کا حل 0 10-12-09 06:22 AM
پتھروں کے رنگ nsa47 دلچسپ اور عجیب 0 08-11-08 06:15 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger