واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > اردو کہانیاں




پچھتاوا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-02-11, 01:21 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,990
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پچھتاوا

پچھتاوا

انڈیا سے اُسکی بیٹی کا فون تھا ،وہ رو رہی تھی ، اُس کی ہچکیاں اسے بولنے نہیں دے رہی تھیں ۔وہ حیران تھا اور پچھتا بھی رہا تھا ۔اُسکی بیٹی کو طلاق ہو گئی تھی ۔وہ رو رہی تھی وہ کہہ رہی تھی ،”آپ نے ایسے وعدے کیوں کئے تھے بابا جو ٓپ پورے نہیں کر سکتے تھے ۔“آپ نے کیوں سنہرے سپنے دکھائے تھے ،جن کی تعبیر ٓپ کے اختیار میں نہیں تھی ،آپ کیوں جھوٹ بولتے رہے با با “ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی ۔
”با با انہوں نے بچے بھی رکھ لئے “اور اُس کی ہچکیاں بے قابو ہوگئیں ۔وہ خاموش فون سے کان لگائے آنسو بہا رہا تھا ۔کہ اس حادثے پر وہ خود کو کبھی معاف نہیں کر سکتا تھا ۔
اُسکی بیٹی انڈیا میں تھی ۔اور وہ خود اپنی دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ امریکہ میں یہ اُس کی پہلی بیوی سے بیٹی تھی ،جس کی شادی اس نے انڈیا ہی میں کر دی تھی ۔اُس نے شادی کے وقت اپنے داماد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُسے امریکہ بلا لے گا ۔۔اس شادی کو اب تین سال ہوگئے تھے اس کی بیٹی مان بھی بن گئی تھی ،اب اس دباﺅ تھا کہ وہ داماد کو امریکہ بلا لے ۔جب اس کی بیٹی روتی تو وہ اسے تسلی دیتا کہ کہ وہ کوشش کر رہا ہے اور جلد اُن لوگوں کو بلا لے گا ۔اس کے کہنے سے معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ۔لیکن کچھ دنوں بعد پھر بیٹی روتی کہ ٓپ انہیں بلا لیں ،ٓپ نے وعدہ کیا تھا وہ پھر حسبِ عادت اُسے تسلی دیتا کہ وہ کوشش کر رہا ہے ۔اب حالات مشکل ہورہے تھے ۔اور وہ اپنے داماد کو بلانے میں کچھ دلچسپی بھی نہیں لے رہا تھا ۔وہ سوچ رہا تھا کہ بیٹی کے آنے سے اسکی زمے داری بڑھ جائیگی اور اس کی زندگی میں مشکلات بڑھ جائینگی ۔گو وہ خود اچھا کما بھی رہا تھا اور اچھی طرح رہ بھی رہا تھا ،مگر اپنی بیوی اور بچوں پر بھروسہ نہیں کر رہا تھا ۔اور خود پر مزید باجھ ڈالنے کو تیار نہ تھا ۔اور شاید اپنی بیوی سے بھی ڈرتا تھا کہ وہ اپنی سوتیلی بیٹی داماد کے ساتھ کیا رویہ رکھے گی ۔
اس دفعہ اُسکی بیٹی نے جب اپنے دیور کی شادی کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہا کہ وہ اپنے سسر کے پاس آسٹریلیا چلا جائیگا تو اُسے تھوڑا سا خوف محسوس ہوا تھا کہ کہیں اس کا داماد اپنے بھائی کے جانے کی وجہ سے دوبارہ امریکہ آنے پر زور نہ دینے لگے ۔اور وہ ہی ہوا ۔اب اس کی بیٹی کے رونے اور اس خواہش کے اسرار میں اضافہ ہوگیا تھا ،کہ اس کا شوہر اب بہت بے صبرہ ہورہا ہے اور چاہتا ہے کہ اُسے جلد از جلد امریکہ بلا لیا جائے ۔جیسا کہ اس سے شادی کے وقت وعدہ کیا گیا تھا ،اس کے ساس سسر بھی اب طعنوں تشنوں پر اتر آئے تھے ۔
اُس نے سوچا کہ میں داماد کو کچھ پیسے بھیجدوں تاکہ یہ معاملہ کچھ وقت کے لئے ٹھنڈا ہو جائے ،اور ایسا ہی ہوا بھی کہ کچھ دن کے لئے سکون ہوگیا ۔لیکن یہ اس حقیقت سے بے خبر رہا یا جان بوجھ کر پہلو تہی کرتا رہا کہ اندر اندر جو لاوا پک رہا ہے وہ کب اُبل پڑے گا پتہ نہیں ۔اور ہوا یوں کہ اس کی بیٹی کی زندگی کو ایک دوسرے باپ نے باہر کا ٹکٹ دے کر اپنی بیٹی کے لئے خرید لیا اور اُس کا داماد باہر جانے کی چاہت میں بِک گیا کہ وہ باہر جانے کا بہت شوقین تھا اُس پر بھوت سوار تھا باہر جانے کا جسے وہ ہر قیمت پر پورا کرنا چاہتا تھا ۔لہذٰا اُس نے پانچ سال کے تعلق کو ایک جھٹکے سے توڑ پھینکا اور اُس کی بیٹی کو طلاق دے دی اور بچے بھی یہ کہہ کر رکھ لئے کہ وہ وعدہ خلاف اور جھوٹے لوگوں میں اپنی اولاد کو نہیں چھوڑے گا ۔یہ بات بھی اُس کے لئے حیرت کا باعث تھی اور اس کی بیٹی کی لئے انتہائی دکھ اور تکلیف کا باعث ۔
وہ رو رہی تھی ” با با میں زندہ نہیں رہ پاﺅنگی ،با با میرے بچے ، با با میرے بچے ۔ با با آپ نے اپنے جھوٹے وعدوں اور تسلیوں سے میری زندگی ختم کر دی مجھے دکھ کی آگ میں جھونک دیا ،با با آپ نے ایسا کیوں کیا ؟آپ نے وہ وعدے کیوں کئے جو آپ پورے نہیں کر سکتے تھے ۔با با آپ نے میری زندگی میں زہر گھول دیا ،اب میں کس کے سہارے زندہ رہوں با با ،آپ نے مجھے ایک بار پھر جہنم میں جھونک دیا ،بابا پہلے میری ماں کو چھوڑ کر اور اب میجھے میرے بچوں سے چھڑا کر ، میں کیا کروں با با ۔“
اُس نے اپنی بیٹی کو تسلی دی ”میں تمہیں جلدی یہاں بلا لونگا “ دوسری طرف سے انتہائی ہسٹریائی انداز میں چیخنے کی آواز آئی نہیں با با نہیں میں اس ملک میں کبھی نہیں آﺅنگی جس کی خاطر میرا شوہر میرے بچے چھن گئے نہیں با با میں وہاں ہر گز نہیں آﺅنگی ،بس خدا را اب آپ کسی سے جھوٹے وعدے نہ کیجئے گا ،کسی کا سودا نہ کیجئے گا خدا کے لئے ۔اور ہاں با با ایک بات اور “ انتہائی پتھریلے اور سخت لہجے میں کہا گیا
”با با اب نہ میں آپ کو فون کرونگی نہ آپ یہ جاننے کی کوشش کیجئے گا کہ میں کہاں ہوں ۔جس طرح میں اپنے بچوں کو ترسوں گی اب آپ بھی مجھے ترسئے گا “ اور اس کا جواب سنے بغیر فون بند ہوگیا ۔
وہ سخت زرمندہ تھا اور اپنے کہے پر پچھتا بھی رہا تھا ،وہ سوچ رہا تھا کہ کاش میں اپنے داماد سے غلط بیانی نہ کرتا کاش میں اس کی خواہش کو پورا کرتا یا کاش میں اس سے کہہ سکتا کہ اس کا بلانا میرے بس میں نہیں ہے ۔اے کاش کہ کوئی بھی بیٹی کا باپ مصلحتاََ غلط بیانی سے بیٹیوں کی زندگی خراب نہ کرے ۔نہ جھوٹے وعدے کرے اور نہ ہی جھوٹی تسلیاں دے ۔کہ یہ رشتے جتنے مضبوط ہیں اتنے ہی نازک بھی ،اور پچھتاوا تو زندگی بھر ساتھ نہیں چھوڑتا ۔اللہ ایسے پچھتاوں سے سب کو بچاتا رکھے ۔اس نے دل سے دعا کی ۔
وہ بیوی کی آواز پر کھانے کی ٹیبل پر جا بیٹھا ،جہاں اس کے بچے کھانے پر اس کے منتظر تھے ۔اور شاید کسی کو بھی اس حادثے پر زیادہ دیر دکھ کرنے کا حوصلہ نہ تھا یا شاید یہ اس ملک کی روایات کا اثر تھا کہ ایسی باتوں پر کوئی زیادہ دیر دکھی نہیں رہتا ۔”اسے اپنے لئے کوئی دوسرا ساتھی ڈھونڈھ لینا چاہئے ۔“ اس کے بیٹے نے لا پرواہی سے کہا ۔ وہ خاموش رہا ۔
وہ سب اپنے آپ میں مست تھے ۔ اُن کے لئے یہ کوئی بڑی بات نہ تھی ۔
پچھتاوا صرف اس کے لئے تھا ۔

مصنفہ: عالم آرا

والسلام
زارا
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-02-11, 01:35 PM   #2
Junior Member
اجنبی
 
عازب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: کراچی
عمر: 23
مراسلات: 22
کمائي: 616
شکریہ: 13
19 مراسلہ میں 45 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کچھ لوگ اپنی ھٹھ دھرمی اور انا کے باعث دوسروں کی زندگیاں برباد کر دیتے ھیں-
عازب آف لائن ہے   Reply With Quote
عازب کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (01-04-11)
پرانا 26-02-11, 11:48 PM   #3
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی شیئرنگ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (01-04-11)
پرانا 01-04-11, 07:18 PM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,990
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ دونوں کا شُـــکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (01-04-11)
جواب

Tags
کوشش, کس, ماں, امریکہ, بھائی, بیوی, بچوں, جھوٹ, جواب, جلد, خلاف, خبر, خدا, دعا, رشتے, زندگی, سودا, سال, شوہر, شادی, طلاق, عالم, عادت, غلط, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پڑھتا جا شرماتا جا قاسم شاہ گپ شپ 5 02-03-11 02:16 PM
خطا کو دیکھتا ہوں اور سزا کو دیکھتا ہوں عبدالقدوس شعر و شاعری 2 02-11-10 07:05 PM
::: لیاری سے 7 سالہ بچہ پراسرار طور پر لاپتا::: ابو کاشان خبریں 0 03-01-08 12:25 PM
کپتانی کے لیے مشروط آمادگی محمدعدنان کرکٹ 0 17-12-07 03:22 AM
سلمان بٹ نئے نائب کپتان زبیر کرکٹ 11 06-08-07 02:32 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger