| ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
صبر کی تلقین تو ہر کوئی کرتا ہے مگر اسپر عمل کون کرتا ہے؟ جب صحیح راہ نہیں ملی گی تو بے راہ روی تو پھیلے گی۔ وسلام |
|
|
|
|
|
#17 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی بات یہ ہے کہ میں نے پوچھا تھا کے ایسا اگر ممکن نا ہو تو فرض کرو ایک بحری جہاز سمندر میں ڈوب جاتا ہے صرف ایک لڑکی اور لڑکا بچتے ہیں اور وہ دونوں ایک جزیرے میں ہوتے ہیںجہاں کسی انسان کے آنے کی امید نہیں ہے وہ دونوںشادی کرنا چاہتے ہیں تو پھر وہ کیا کرے گے یہ سوال فرضی ہے
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
بھائی متنظمین ، میں نے لکھا تھا """ اور اپنا معاملہ قاضی کے پاس لے جائیں یا اگر قران و صحیح سنـت ہر عمل کرنے والا کوئی اسلامی حکمران ہو تو اُس کے پاس لے جائیں """ بھائی قاضی صرف اُسے ہی کہا جائے گا جو مسلمانوں کے معاملات کو شریعت اسلامی کے مطابق حل کرے نا کہ غیر اسلامی قوانین کی روشنی میں ، اُردو میں تو یہ بات بالکل ہی واضح ہے ، غیر اسلامی قوانین کے مچابق فیصلے کرنے والی عدالتوں کے حاکموں کو کبھی بھی قاضی نہیں کہا گیا ، اور عرب میں بھی جہاں ایسی غیر اسلامی عدالتیں پایہ جاتی ہیں وہاں کے حاکمون کو قاضی قانونی ، یا حاکم قانونی کہا جاتا ہے اور اسلامی عدالتوں کے قاضیوں کو قاضی شرعی کہا جاتا ہے ، بھائی عرفان حیدر ، صبر کی تلقین اور اس پر عمل ہر کسی کو کرنا ہی چاہیئے ، اور صحیح راہیں مسلم معاشرے کے افراد ہی ایک دوسرے کو مہیا کریں گے ، اور یہ اسی وقت ہو گا جب ہم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو سن کر مان لینے کی روش اپنائے گے ، اور واقعات کو ان احکامات کے مطابق تبدیل کریں گے نا کہ واقعات کے مطابق احکاات کی تبدیلی کی کوشش میں مصروف رہیں گے ، بھائی فوٹو ٹیک ، آپ نے یہ فرضی حالت جہاں سے پڑہی یا سنی ، وہاں یہ حالت لکھنے والے نے اُس کا ایسا حل بھی لکھا ہے جو صحیح احادیث کی روشنی میں ممنوع اور حرام قرار دیا جا چکا ہے ، میں آپ سے گذارش کرتا ہوں کہ آپ اس بات اُس جگہ پوری طرح پڑہیئے اور پھر اُس کے حوالے کے ساتھ اپنے سوال کو ؔگے بڑہائیے ، انشا اللہ اس طرح بات زیادہ واضح ہو جائے گی ، بلکہ ایک اور اہم مسئلہ کھل کر سامنے آ جائے گا ، میرا مشورہ یہ بھی ہے کہ اگر اُس موضوع پر سوال کیا جائے تو اُسے ایک الگ دھاگے پر شروع کیا جائے۔ |
|
|
|
|
|
#19 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک طرف تو ہم جب مغربی اقوام کے لیے اسلامی لٹریچر لکھتے ہیں تو اس میں عورت کے حقوق کے بارے میں لکھتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہی بات ہم اپنے معاشرے کے بارے میں سوچتے ہیں تو فورا معاملات بدل جاتے ہیں۔ کیا یہ منافقت نہیںہے؟
حضرت عائشہ (رضی) کے بارے میں مختلف جگہوں پر آیا ہے کہ انھوں نے مختلف عورتوں کی شادیاں کروائیں تھیں جن میں وہ ولی تھیں۔ اس بارے میں اپکا کیاخیال ہے؟ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُاللہ و برکاتہُ
بھائی منتظمین آپ کی اس بات کا جواب کہ ’’’’ ایک طرف تو ہم جب مغربی اقوام کے لیے اسلامی لٹریچر لکھتے ہیں تو اس میں عورت کے حقوق کے بارے میں لکھتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہی بات ہم اپنے معاشرے کے بارے میں سوچتے ہیں تو فورا معاملات بدل جاتے ہیں۔ کیا یہ منافقت نہیںہے؟ ‘‘‘‘‘ تو بہتر طور پر انشا اللہ اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب آپ کوئی ایسی بات سامنے لائیں جس پر منافقت کا حُکم لگایا جا سکے ، یا کم از کم جسے آپ منافقت سمجھ رہے ہیں ، رہا معاملہ عورت کی عزت و احترام کا تو وہ ، وہ نہیں جسے مغربی معاشرہ عزت قرار دیتا ہے ، کہ عورت سوائے ہوس رانی اور تجارت کے ذریعہ کے اور کچھ سمجھی نہیں جاتی ، عورت کی عزت و احترام یقینا وہ ہے جو اللہ نے اپنے دِین میں اُسے مہیا فرمائی ، اور ہم اُسی عزت و احترام اور حق کی بات کرتے ہیں جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر شدہ حدود میں رہتے ہوئے ہی میسر ہے ، شو پیس بننے میں ، معاشرتی و خاندانی و انسانی حدود کو پامال کرتے ہوئے ، صرف اپنی خوہشات کو پورے کرنے کی آزادی کسی کے لیے بھی عزت ، احترام ، تحفظ و محبت مہیا نہیں کر سکتا ، ہو سکتا ہے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ اُس کا جواب نہ ہو جو آپ نے کہا ہے ، لیکن میں جو سمجھ پایا اُسی کے مطابق یہ مختصر سی بات پیش کر دی ہے ، اور جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے ، کہ ، اگر آپ اس بات کو کچھ واضح کریں تو انشا اللہ فائدہ مند طور پرواضح جواب دیا جا سکتا ہے ، اور یہ جو آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نکاح کروانے کا لکھا ہے یہ پڑھ کر میں کافی حیران ہوا ہوں کیونکہ پہلی دفعہ یہ پڑہا ہے اور کبھی سنا بھی نہیں ، یہ بات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے خلاف نظر آتی ہے اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی ہستی سے ایسی مخالفت کی توقع بھی کی جا سکتی ، اگر کسی ایسے صحابی یا صحابیہ کے بارے میں روایت ہوتی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھوڑی سی صحبت حاصل کی ہو تو بھی شاید والی ہوتی ، چہ جائیکہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایسی بات مانی جا سکے اور خاص طور پر جبکہ وہ خود بغیر ولی کے نکاح باطل ہونے ، اور جس کا ولی نہ ہو حاکم وقت اُس کا ولی ہونے کی حدیث روایت کرنے والی ہیں ، کیا اُن سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنیں اُسے دوسروں تک پہنچائیں اور پھر اُس کے خلاف کام کریں ، اسی دھاگے کے پچھلے صفحے میں جو جواب ارسال کیا تھا اُس میں وہ روایت بھی تھی ، اللہ آپ کا بھلا کرے ، آپ نے ایک نئی بات سامنے لا کر مجھے کافی بے چین کر دیا ہے ، کچھ مدد کیجیئے کہ میں اس موضوع کا مطالعہ کر سکوں اور وہ یوں کہ اگر اس خبر کا کوئی حوالہ میسر ہو جائے تو انشا اللہ ، کچھ تحقیق کر سکوں ، السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ |
|
|
|
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
تعجب ہے ہم نے عورت کے ہاتھ پیر بالکل باندھ دیے ہیں۔ وہ کسی قسم کا کوئی فیصلہ ہی نہیں کرسکتی۔عورت کے خاموش رہنے کورضامندی سمجھا جاتا ہے اور مرد پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنے منہ سے بولے ہاں یا ناں۔ وسلام |
|
|
|
|
|
#22 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عورت کی خاموشی کو رضامندی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرار فرمایا ہے ، کیا آپ اس پر معترض ہیں ؟؟؟ اور ایسا کیوں کیا گیا ہے ، اِس کی اور عورت کی آزدی اور تحفظ حقوق کی معلومات مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیے ، http://forums.com.pk/showthread.php?t=8429 اور پھر بتائیے کیا عورت کے ہاتھ پاوں بندھے ہوئے ہیں ؟؟؟ یا اُسے گھر اور خاندان کے باعزت اور محفوظ ماحول سے نکالنے کے لیے مجبور محض اور مقید اور مظلوم بنایا جاتا ہے ؟؟؟؟ ازداواجی معاملات میں مرد و عورت کے حقوق کا احترام اور تحفظ ہماری شریعت سے بڑھ کے کہیں نہیں ، اور ازدواجی و معاشرتی معاملات میں مرد و عورت میں فرق کیوں ہے ، ہماری طرف سے ہے یا خالق و مالک معبود حقیقی """ اللہ """ کی طرف سے مندرجہ ذیل لنکز ملاحظہ فرمائیے ، http://forums.com.pk/showthread.php?t=8424 http://forums.com.pk/showthread.php?t=8425 السلام علیکم ۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | ایکسٹو (11-02-11) |
|
|
#23 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#24 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ ہم سب کو صیح اور سچ بات سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ والسلام |
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | ایکسٹو (11-02-11) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
بھائی فوٹو ٹیک ، بھائی عرفان حیدر کے تعجب کا سبب لا علمی یوں کہ اگر اُنہیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عورت کو دئیے گئے حقوق کا علم ہوتا تو وہ ایسے تعجب کا اظہار نہ فرماتے ، اسی لیے میں نے اُن کو جواب میں کچھ مراسلات کے لنکز بھی دئیے تھے کہ اُن مراسلات کا مطالعہ فرمائیں انشا اللہ ان کا تعجب رفع ہو جائے گا ، بھائی منتظمین ، اللہ آپ کو دُنیا اور آخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے ، اور اسی طرح ہم سب کو ہمت و توفیق عطا فرمائے کہ ہم غیر صحیح بات کا اظہار کر کے اور صحیح کا اعتراف کر کے خود کو اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کو دُنیا اور آخرت کے نقصان سے بچانتے رہیں ، اللہ آپ کے اس عمل کو قبول فرمائے اور اپنی شان کے مطابق دِین دُنیا اور آخرت میں اجر و ثواب سے نوازے ۔ السلام علیکم و رحمۃُاللہ و برکاتہُ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | کنعان (01-10-09), خرم شہزاد خرم (06-02-08) |
|
|
#26 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھئی مجھے بتاو کہ پاکستان میں جو لوگ کورٹ میں جا کر شادی کرتے ہیں پھر کیا وہ شادی نا جائز ہوتی ہے اُسکو نہٰین مان ساکتے؟؟؟اور اگر یہ شادی جائز نہیں لوگ کیس طرح کرتے ہیں۔
اور اگر ولی کی شرط ہے اُسکے بغیر شادی ہوتی نہیں جہ کورٹ میں جاتے ہیں پھر ولی تو نہیں جاتا۔۔۔قاضی سلطان اگر ولی ہے جبکہ اُس ک ماں باپ بھئی زندہ ہیں پھر؟؟؟؟مھربانی کر ک اسکا جواب جلدی دٰین-اس شادی کا فتوی کہاں سے مل سکتا ہے |
|
|
|
|
|
#27 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی میرے اج کل جو کورٹ میں شادی کی جاتی ہے اُس پعر اپ سئب کی کیا رائے ہے۔کیا وہ شادی جائز ہے۔اُس کو مانا جا سکتا ہے ک یہ جائز ہے پھر اگر اُس کو نا مانا جائے تو پھر کیا کرنا چایئے نکاح پھر کر سکتے ہیں ماں باپ کی مرضی سے اگر وہ طلاق بول دے کیا پھر نکا ح ہو ساکتا ہے اگر پہلا نکاح نا جائز ہے تو طلاق بھی نہیں ہو گی مہربانی سے مدد کرو
|
|
|
|
|
|
#28 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی افراز اعوان صاحب ، آپ کے سوالات کا جواب سابقہ مراسلات میں موجود ہے ، ایک دفعہ یہاں مزید کچھ ایسی تفصیل لکھتا ہوں ان شا اللہ جو خاص طور آپ کے سوالات سے متعلق ہے ، بھائی ، بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے باطل قرار فرمایا ہے ، لہذا ایسا کوئی نکاح جو بغیر ولی کی اجازت کے ہو اسلامی شریعت میں ناجائز ہے اور شرعی طور پر وہ نکاح ہوتا ہی نہیں ، لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں ، اس کا سب سے درست جواب تو یہی ہے کہ اسلامی احکام سے نا واقفیت کی بنا ہر ، اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اپنے جذبات کی پیروی کرتے ہوئے شرعی احکام سے نظر پوشی کرتے ہوئے ، ہمارے ہاں مروج نظام حکومت اور ہمارے ہاں پائے جانے والی حکمران نامی مخلوق کسی بھی طور شرعاً ولی کے حُکم میں نہیں آتے ، حدیث پاک میں بتایا گیا """ سلطان یعنی حاکم وقت """ وہ """ سلطان """ ہے جو اسلامی شریعت کا پابند ہو اور اسلامی شرعیت کے احکام کے مطابق اپنی سلطنت چلاتا ہو اور اسلامی شریعت کے احکام کے مطابق تمام معاملات کا فیصلہ کرتا ہو ، نہ وہ """ سلطان """ جو کافروں کے قوانین کے مطابق اپنی سلطنت چلاتا ہو ، اور اسلامی شریعت کے احکام کا اس کی زندگی اور اس کے امور سلطنت میں کوئی نام نہ ہو یا اگر ہو بھی تو چند گنے چنے معاملات کو چالو رکھا ہو ، اور وہ بھی مجبوراً جیسا کہ ہمارے ہاں تقریباً سارے ہی حکمران تھے اور ہیں ، انا للہ و انا الیہ راجعون و الی الی اشتکی ، اسی طرح """ قاضی """ بھی اسلامی علوم کا عالم ، صحیح عقیدے والا صاحب تقویٰ اور ایک سچا باعمل مسلمان ہونا ضروری ہے ، اسلامی شرعی عدالت کا """ قاضی """ اور کافروں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق چلنے والی عدالتوں کے """ جج """ میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ دوری ہے ، ایسے ججوں کو کسی بھی طور وہ """ قاضی """ نہیں سمجھا جا سکتا جو """ سلطان """ کے حکم میں آتے ہیں ، ::::::: جی ::::::: اگر کسی لڑکی یا عورت کا ولی زندہ اور موجود ہے اور اپنے ہوش و حواس میں ہے اور کسی شرعی عذر کے بغیر لڑکی یا عورت کو اُس کی پسند کے مطابق شادی کرنے سے روکتا ہو تو ایسی صورت میں لڑکی """ سلطان """ یا """ قاضی """ کے پاس اپنی شکایت لے جا سکتی ہے ، اور وہ """ سلطان """ یا """ قاضی """ اس کا نکاح کروا سکتا ہے ، یہاں ایک مثال دیتا ہوں جس سے اسلامی """ سلطان """ اور قاضی """" اور کسی بھی """ سلطان """ یا """ جج """ کے عمل کا فرق اور نقصان ان شاء اللہ مزید اچھی طرح واضح ہو گا ، ::::::: مثال ::::::: ایک لڑکی کا ولی اس کی پسند کے مطابق اس کا نکاح نہیں کرتا ، ولی کی نا پسندیدگی کی وجہ لڑکے میں پائی جانے والی ایسی عادات ہیں جو شرعاً گناہ کے زمرے میں آتی ہیں ، مثلاً لڑکا سگریٹ پیتا ہے ، نماز نہیں پڑھتا ، داڑھی مونڈھتا ہے ، فلم بینی کا شوقین ہے ، موسیقی کا دلدادہ ہے ، اب اگر لڑکی موجودہ """ سلطان """ یا """ قاضی یعنی جج """ کے پاس جاتی ہے تو وہ ایسی کسی بات کو دیکھے سنے جانچے پڑتالے بغیر ان دونوں کا نام نہاد نکاح کروا دیتا ہے ، کیونکہ یہ مذکورہ بالا گناہ اب ہمارے بلکہ عام مسلم معاشرے میں گناہ تو کیا برائی بھی نہیں سمجھے جاتے بلکہ اچھی صفات سمجھے جاتے ہیں ، اسلامی شرعی عدالت کے """ قاضی ""' اور اسلامی قوانین کے مطابق سلطنت چلانے والا ""' سلطان """ بھی ولی کے اعتراضات کا جائزہ لے کر ہی کسی لڑکی یا عورت کا نکاح کروا سکتا ہے ، یعنی اگر ولی کی طرف سے نکاح پر راضی ہونے کا سبب یا اسباب ایسے ہوں جو شرعی طور پر نکاح سے روکنے کے لیے جائز اسباب نہ ہوں ، مثلاً ، اگر کسی لڑی یا عورت کا ولی اس کی پسند کے مطابق نکاح کرنے سے اس لیے روکتا ہے کہ لڑکا یا مرد غریب ہے ، کسی بڑے خاندان سے تعلق نہیں رکھتا ، خوبصورت نہیں ، ذات پات کی تقسیم یا اونچ نیچ کی وجہ سے ، وغیرہ ، تو افراز بھائی ، ایسے """ سلطان ""' یا ""' قاضی ""' لڑکی یا عورت کے نکاح میں کسی طور ولی کے قائم مقام نہیں ہو سکتے جو اسلامی شریوعت کی بجائے کافرانہ قوانین یا انسانوں کے بنائے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے ہوں ، بغیر ولی کی اجازت کے ان لوگوں کا کروایا ہوا نکاح باطل ہے ، خواہ اس میں لڑکی اور لڑکے کی پسند شامل ہو ، یہاں اس مسئلے کے دوسرے پہلو پر بھی خوب نظر رکھنی چاہیے کہ کسی ولی کو بھی یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ بغیر کسی شرعی سبب کے کسی ایسی لڑکی یا عورت کو نکاح سے روکے جس کا وہ ولی ہے ، اس کا ذخر میں اپنے سابقہ مراسلات میں کر چکا ہوں ، یہ کام بھی اسی سبب سے کیا جاتا ہے جس سبب سے کورٹ میرجز کی جاتی ہیں ، یعنی اپنی شریعت کے احکام سے لا علمی ، اور ان سب ، اور ہمارے سب مسائل کا واحد حل اپنے دِین کو سیکھنا اور اسی طرح سیکھنا ہے جس طرح اللہ نے اسے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہر نازل فرمایا ، اور اس میں کسی منطق فلسفے ، اگر مگر ، یوں ہو سکتا ہے تو یوں بھی ہو سکتا ہے وغیرہ جیسی تاویلات کے بغیر سمجھنا ہے ، اللہ تعالی ہم سب کو اس کی تقفیو عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sjk (30-09-09), عبداللہ حیدر (26-09-09) |
|
|
#29 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم بھائی افراز اعوان ، دین کے معاملات کسی کی رائے کے مطابق نہیں سمجھے جاتے ، بلکہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے مطابق سمجھے جاتے ہیں اگر کسی معاملے میں بالکل اسی معاملے کے مطابق کوئی مثال یا حکم نہ ملے تو اس کی قریبی ترین صفت کے مطابق کسی اور معاملے کے حکم والی نصوص پر قیاس کیا جاتا ہے اور اسی کو اجتھاد بھی کہا جاتا ہے ، اورعقیدےاور عبادت سے متعلقہ معاملات میں کسی اجتھاد یا قیاس کی گنجائش نہیں ، یہاں ہم جس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ معاملات میں سے ہے اور اس کے بارے میں صحیح ثابت شدہ قولی اور فعلی سنت مبارکہ میں واضح احکام موجود ہیں ، کسی اجتہاد اور قیاس کی ضرورت نہیں ، آپ کے سابقہ مراسلے والے سوالات کا جواب ارسال کر چکا ہوں ، و للہ الحمد ، اور اب اس مراسلے کے سوالات کا جواب لکھتا ہوں ان شاء اللہ ، بھائی افراز ، سابقہ مراسلات میں صحیح ثابت شدہ قولی اور فعلی سنت مبارکہ کے دلائل کے ساتھ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہمارے ہاں مروج کافرانہ قوانین اورانسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلے کرنے والے کورٹس میں ، ولی کی اجازت کے بغیر کیے اور کروائے جانے والے نکاح کی کوئی شرعی حیثیت نہیں وہ اللہ کے رسول کے فرمان کے مطابق واقع ہی نہیں ہوتا ، اور جب واقع ہی نہیں ہوا تو اس میں طلاق کی کوئی ضرورت نہیں ، بلکہ ایسی کورٹ میرج والوں کو فی الفور الگ ہو جانا چاہیے کہ وہ بغیر نکاح کے میاں بیوی جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں اور یہ کبیرہ گناہ ہے ، جسے عرف عام میں زنا کہا جاتا ہے ، لڑکی اپنے ولی کی اجازت سے دوسرا نکاح کر لے ، یا اگر اپنے ولی کو اسی شخص کے لیے راضی کر سکتی ہے جس کے ساتھ کورٹ میرج کر بیٹھی تو ولی کی رضا مندی سے اس ولی کی موجودگی میں مروجہ شرعی دستور کے مطابق نکاح کرے اور اسی طرح مرد یا لڑکے نے جس کے ساتھ کورٹ میرج کی فی الفور اس سے الگ ہو جائے اور کسی اور لڑکی یا عورت کے ساتھ اس لڑکی یا عورت کے ولی کی اجازت سے صحیح اسلامی نکاح کرے ، اور اگر ممکن ہو تو اسی لڑکی یا عورت کے ولی کو رضا مند کرے اور پھر اسی کے ساتھ صحیح اسلامی نکاح کرے ، ایک دفعہ پھر کہتا چلوں کہ ہمارے ہاں مروج کافرانہ قوانین اورانسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلے کرنے والے کورٹس میں ، ولی کی اجازت کے بغیر کیے اور کروائے جانے والے نکاح کی کوئی شرعی حیثیت نہیں وہ اللہ کے رسول کے فرمان کے مطابق واقع ہی نہیں ہوتا ، لہذا گناہ کی زندگی گذار کر اپنی آخرت تباہ کرنے اور معاشرتی ذلت اٹھانے کی بجائے ہمیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی میں زندگی بسر کرنا چاہیے جس میں پماری آخرت کی بھی خیر ہی خیر ہے اور دُنیا میں بھی عزت ہے ، ضروری نہیں کہ زندگی بسر کرنے کے لیے اپنی ذاتی پسند کی چیزیں میسر ہو سکیں ، بلکہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی ضروری بلکہ فرض ہے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (26-09-09) |
|
|
#30 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھئی میرے آپ نے بھت اچھے الفاظ میں لکھا ہے۔
مجھے بتائو اس بات پر فتوٰ ی کہاں سے میلے گا کس سے فتوی لیں۔ میرے ایک دوست نے کورت نکا ح کیا اُسکی تفصیل اس طرح ہے۔ غلط کام کیا تھا انہوں نے (زنا پھر انہوں نے چھپ کر نکا ح کیا کورٹ میں اور اس کے بعد پھر جماع بھی کیا۔اور لڑکا پاکستان سے کسی دوسرے ملک چلا گیا -اب لڑکی نے بھت کوشش کی رشتہ مگر نہیں ہو سکا کیوں کہ لڑکی اپنے گھر ہی رہتی تھی۔لڑکی نے راظی کر دیا گھر والوںکو تو کچھ ڈیمانڈ رکھی گھر والوں نے کہ وہ لڑکا یہ ڈیمانڈ پوری کرے گا پھر شادی تو لڑکے نے انکار کیا اور لڑکے نے لڑکی کو 3 سے زیادہ طلاق بول دیا کہ مجھے اس طرح شادی نہیں کرنی۔۔۔۔اب وہ چاہتے ہیں ایک ساتھ رہنا شادی کرنا مگر لاعلمی کی وجہ سے وہ کھبی حلالہ کا سوچھتے ہیں میں نے ان کو بولا حلالہ حیرام ہے۔ اب لڑکے کے گھر والے بھی اُس لڑکی پر خوش نہیں لڑکا لڑکی کی کوئی خاص ااپس میں سمجوتہ بھی نہیں شادی کا بھی سوچتے ہیں اب اُن کو کیا کرنا چاہیے۔8 سال سے پیار کرتے ہیں اپ مدد کرو اور فتوی لینا چاہتے ہیں عرب امارات میں جو فتوی ہے اُس میںبھی کعھتے ہیں وہ نکاح نہین اآپ پاکستان سے فتوی لو کیا کرا ھے اپ مدد کرو ،،،،، |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فرض, واقعات, لڑکی, نیوز, چین, نظر, ممکن, ماں, مسجد, اللہ, انسان, انشا, اسلامی, بھائی, جواب, حدیث, خلاف, خبر, عورت, عبادت, عشق, صالح, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|