| ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#46 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی عابد عنایت ، اپنے آخری مراسے کے کوائف ، سائل کے سوال کے مطابق پھر سے دیکھیے ، عابد بھائی ، فقہ حنفی کے مطابق کون سی عدالتوں میں فیصلے کیے جاتے ہیں ، وہ عدالتیں شرعی عدالتیں ہی کہلائیں گی ، رہا میرا یہ کہنا کہ پاکستان کی کورٹس کافروں اور عام انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق چلتی ہیں تو اس میں کسی شرعی عدالت کا ذکر نہیں اور نہ ہی شرعی عدالتوں کے بارے میں یہ بات ہے ، میرے سارے مراسلات کو توجہ سے پڑھیے ، مختلف مسائل میں ائمہ کے حکم دینے کے مختلف انداز کے بارے میں کچھ معلومات لکھنے پر شکریہ ، یہ معلومات بہت کم ہیں ، نصوص کا تعارض ، کتنی قسم کا ہوتا ہے اور اس کو دور کرنے کے کتنے اصول ائمہ نے بنائے ہیں ، ان کی بات ان شاء اللہ پھر سہی ، آپ نے جو کچھ لکھا وہ نصوص کے تعارض کی صورت میں نہیں ، بلکہ ائمہ کے اپنے فہم نصوص میں اختلاف کی صورت میں کیا جانا """ روایت کیا گیا ہے """ دھاگے کے موضوع کو درھم برھم ہونے سے بچانے کے لیے فی الحال یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ """ اذآ حضر الماء بطل التیمم ::: جب پانی آ جائے تو تیمم کرنا باطل ہو جاتا ہے """" پس جب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے صاف صریح احکامات میسر ہو جائیں تو کسی اور کا فیصلہ ان احکامات کے خلاف قابل قبول نہیں ہوتا ، تمام ائمہ رحمہم اللہ نے بھی یہی تعلیم دی ہے اور ایسا ہی کیا ہے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#47 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہن ، اگر والد یا والد کی غیر موجودگی میں کسی اور شرعی ولی کی اجازت سے کسی لڑکی کا نکاح ہوتا ہے تو وہ نکاح جائز ہے ، اس ولی نے خواہ وہ اجازت صرف زبان سے ہی ادا کی ہے اور دل سے راضی نہ ہو ، دلوں کے حال اللہ ہی جانتا ہے اور شریعت کے احکام ظاہری اعمال ہر لاگو ہوتے ہیں ، نکاح کا معاملہ ایسا نازک ہے کہ اس میں زبان سے ادا کی گئی ہر بات کو سنجیدہ مان کر شرعی حکم دیا جائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ((((( ثلاثٌ جِدُّھن جِد و ھزلھُنّ جِد النکاح و الطلاق و الرجعۃ ::: تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مذٓق بھی سنجیدگی ہے اور سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے ، نکاح اورطلاق اور (طلاق کے بعد) واپسی ))))) المستدرک الحاکم ، سنن ابن ماجہ ، سنن ابو داود ، سنن الترمذی و غیرھا ، اقتباس:
ماں کا ، یا کسی عورت کا کسی عورت کے لیے ولی ہونا ایک اختلافی مسئلہ ہے جس میں سے درست بات یہی ہے کہ اس کام کی ولایت عورت کو نہیں دی گئی ، و السلام علیکم۔ |
||
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | پاکستانی لڑکی (07-10-09) |
|
|
#48 |
|
Senior Member
![]() |
جیسا کہ قرآن کی آیت سے واضح کیا گیا کہ کسی دوسرے کی کنیز سے شادی کرتے وقت اس کے اہل خاندان کی اجازت لینا کے ہدایت قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔ کسی آزاد بالغ عورت کے لئے ایسی اجازت حاصل کرنا کم از کم قرآن سے ثابت نہیں۔ البتہ کچھ فرقہ اہل خاندان سے اجازت حاصل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ باہمی کوشی سے ہونے والی شادیاں بہتر اور کامیاب ہوتی ہیں۔ شای کرنے کے لئے والدیں سے قطع تعلق کی نوبت کیوں کر آئے؟ والدین کو بھی سمجھداری کا ثبوٹ دینا چاہئیے اور لڑکے لڑکی کی پسند کا احترام کرنا چاہئیے
عادل سہیل صاحب آیات سے واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو اپنی پسند کی خاتون سے شادی کی اجازت دیتا ہے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | پاکستانی لڑکی (07-10-09) |
|
|
#49 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی[SIZE="5"] فاروق سرورخان/SIZE]مجے بتائو آپ نے کہا نکاح مین قاضی ہوتا ہے کورت میں اور یہ سب مجھے بتاو کہ کیا اسلام یہ کہتا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے جہ کرے کیا اسلام اس بات کو اجازت دیتا ہے پھر بتائو ولی کو کیوں زور دیا گیا۔۔۔۔
بھئی یہ ایک نکاح ہے اس پر آپ کیا رائے دیں گے۔۔۔۔۔ ایک لڑکی لڑکا کورٹ میں جا کر نکاح کرتے ہیں وکیل کو پیسے دے کر اب وکیل سب کرتا ہے گواہ مولوی نکاح خوان مجھے بتاو پھر لا |
|
|
|
|
|
#50 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی[SIZE="5"] فاروق سرورخان/SIZE]مجے بتائو آپ نے کہا نکاح مین قاضی ہوتا ہے کورت میں اور یہ سب مجھے بتاو کہ کیا اسلام یہ کہتا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے جہ کرے کیا اسلام اس بات کو اجازت دیتا ہے پھر بتائو ولی کو کیوں زور دیا گیا۔۔۔۔
بھئی یہ ایک نکاح ہے اس پر آپ کیا رائے دیں گے۔۔۔۔۔ ایک لڑکی لڑکا کورٹ میں جا کر نکاح کرتے ہیں وکیل کو پیسے دے کر اب وکیل سب کرتا ہے گواہ مولوی نکاح خوان مجھے بتاو پھر لا |
|
|
|
|
|
#51 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی افراز اعوان، السلام علیکم۔
نوٹ: طوالت سے بچنے کے لئے، آیات و روایات نہیںلکھ رہا ہوں کہ تمام ضروری آیات و روایات پہلے ہی پیش کی جاچکی ہیں۔ جیسا کہ برادر عزیز عادل سہیل صاحب فرما چکے ہیں کہ وہ شادی جو کہ خفیہ طریقہ سے کی گئی، جس میں صرف ایک وکیل ہو اور کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہو اور ولی بھی موجود نہیں ہو، اسلامی طریقہ سے خفیہ شمار ہوگی، اور ایسا نکاح درست قرار نہیں پائے گا۔ لہذا جب نکاحہی نہیں ہوا تو پھر طلاق بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ طلاق، کسی عورت کو اس وقت ہی دی جاسکتی ہے جب کے نکاح باقاعدگی سے ہوا ہو۔ ایک باقاعدہ شادی شدہ عورت جس کا نکاح ایک شخص کے ساتھ درج ذیل شرائط کے ساتھ ہوا ہو، منکوحہ تصور کی جاتی ہے اور محصنات میں شمار ہوتی ہے ، اگر درج ذیل شرائط پورنہ ہوں تو تمام شرعی حلقہ ایسے نکاح کو باطل قرار دیتے ہیں۔ 1۔ دونوں کے درمیان کوئی ایسا رشتہ نہ ہو جس کی اللہ تعالی اور اس کے رسول نے ممانعت کر رکھی ہو۔ 2۔ ایجاب و قبول ہوا ہو۔ 3۔ لڑکی کاولی موجود ہو۔ (ایسا کرنا احسن ہے، کچھ فرقہ اس کو ضروری قرار نہیںدیتے ہیں، لیکن ایک نیک کام میںوالدین کو شریک نہ کیا جائے یہ بہت ہی نا مناسب ہے) 4۔ شرعی احکام کے مطابق گواہان موجود ہوں۔ 5۔ مہر کی ادائیگی یا کچھ مہر کی مؤخر ادائیگی کا مناسب وعدہ ایک عقد کی شکل میں لکھا گیا ہو۔ اگر یہ شرائط پوری نہ ہوں اور نکاح چاہے کورٹ میں ہو یا مسجد میں یا پھر گھر میں ، شرعی و اسلامی نکتہ نگاہ سے ایسا نکاح نہیں ہوا ، اس بارے میں فرمان نبوی جناب عادل صاحب پیش کرچکے ہیں۔ اس لئے جیسا کہ برادر عادل سہیل صاحب نے فرمایا ، ایسے لوگوں کو یا تو دوبارہ مندرجہ بالاء شرائط پورے کرتے ہوئے نکاحکرنا چاہئے یا پھر فوراً الگ ہوجانا چاہئیے تاکہ مزید گناہ سے بچیں۔ میں نے یہ لکھنے کی ضرورت اس لئے سمجھی کہ ایک تو برادر عادل سہیل صاحب نے جو کچھ فرمایا اس میں کوئی شک پیدا نہ ہو۔ اور دوسرے اس لئے بھی ضروری سمجھا کہ جو اعتراضات میں نے پاکستانی عدالتوں میں ہونے والے نکاحکے درست ہونے کے بارے میں اٹھائے اس سے جناب عادل سہیل صاحب کی فراہم کی ہوئی معلومات میں کوئی فرق نہ پڑے۔ بنیادی طور پر نکاح کی شرائط کے بارے میں جناب عادل سہیل صاحب کی فراہم کردہ معلومات بالکل درست ہیں۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | افرازاعوان (12-10-09) |
|
|
#52 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
http://www.darululoom-deoband.com/ur...orat_Feb07.htm
یہ دیو بند میں شائع ہوا تھا ایک رسالہ میں نکاح پر اب اہل دیوبند کے نزدیک (ابو حنیفہ کے نزدیک بغیر ولی کے طلاق ہو جاتی ہے جبکہ باقی ثلاثہ ائمہ کے نزدیک ایسکو نہیں مانا جاتا اب کیا کریں اگر کیسی نے کر دیا نکاح پھر وہ نکاح نہیں کیوں کہ زیادہ رائے اختلاف ہے کہ ولہ کے بغیر نکاح نہیں اب کیا کرنا ہے کوئی اس کا حال ڈنڈھے کہ کیا ہے کسی مفتی سے |
|
|
|
|
|
#53 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
افراز بھائی ، آپ نے جو لنک دیا ہے ، اس میں موجود مواد میں تو یہ لکھا ہے کہ ::: """ عورت کے لئے نکاح میں رضامندی کے ساتھ ولی (سرپرست) کا ہونا بھی ضروری ہے۔ عورت کا نکاح بغیرولی کے نہیں ہوسکتا چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ”عَنْ اَبِی مُوْسٰی رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ نِکَاحَ اِلاَّ بِوَلِیٍّ“ حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولی کے بدون نکاح نہیں(۱۳)۔ عورت کا شرف اور مقام اسی میں ہے کہ وہ کسی کی سرپرستی میں نکاح کرے۔ اس طرح بہت سی سماجی اور معاشرتی خرابیاں دور ہوجاتی ہیں۔ اس میں بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اگرچہ نکاح کرنے یا نہ کرنے کا اختیار پورا عورت کو حاصل ہے ولی اس کی مرضی اور رائے کے بغیر نکاح نہیں کرسکتا۔ """ اور ہمارے دیو بندی بھائی مسلکاً حنفی ہیں ہیں ، افراز بھائی ذرا توجہ کیجیے ، بغیر ولی کے طلاق ہونے کے مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ، ہو جاتی ہے ، ٓآپ کا سوال بغیر ولی کے نکاح ہونے کے بارے میں تھا ، اس کا جواب مکمل دلائل کے ساتھ دیا جا چکا ہے ، اور یہ بھی عرض کر چکا ہوں کہ جب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا کوئی حکم آ جائے تو اس کے خلاف کسی بھی اور کی بات نہیں مانی جا سکتی ، آپ کی مہیا کردہ معلومات کے مطابق ، اور آپ کے کیے ہوئے سوالات کے مطابق تمام جوابات دیے جا چکے ہیں ، ان کو دھیمے دھیمے بار بار پڑہیے ، ان شاء اللہ ، تسلی ہو گی اور اللہ تعالیٰ حق پر دلی جمعی فرما دے گا ، رہا معاملہ کسی رجسٹرڈ مفتی صاحب سے لکھا ہوا فتویٰ حاصل کرنے کا تو اس کے بارے میں آپ سے کچھ عرض کر چکا ہوں اور اس کے لیے کوشش بھی کر رہا ہوں ، ان شاء اللہ جوں ہی کام مکمل ہوا آپ کو خبر کردوں گا ، آپ کی ذاتی تسلی کے لیے ایک دفعہ پھر عرض کرتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فتووں پر عمل فرمایے ، ان شاء اللہ خیر ہی خیر ہو گی ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (14-10-09), کنعان (14-10-09) |
|
|
#54 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مراسلات: 150
کمائي: 2,753
شکریہ: 83
90 مراسلہ میں 252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ولی کا مطلب تو دوست ہوتا ہے
یہ مطلب ہے نہ ؟؟ تو پھر مشکل کیا ہے ؟؟ بلکہ مشکل کیا رہی باقی؟؟؟؟؟
__________________
علی (ع) مولا ۔ ۔(خدا کے چار صحیفوں میں، جسے آخری قرآن) ۔ ۔ |
|
|
|
| علی....Ali کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (14-10-09) |
|
|
#55 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 666
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
وعن عائشة قالت : كانت عندي جارية من الأنصار زوجتها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " يا عائشة ألا تغنين ؟ فإن هذا الحي من الأنصار يحبون الغناء " . رواه ابن حبان في صحيحه (2/215) 3155 - [ 16 ] ( لم تتم دراسته ) وعن ابن عباس قال : أنكحت عائشة ذات قرابة لها من الأنصار فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : " أهديتم الفتاة ؟ " قالوا : نعم قال : " أرسلتم معها من تغني ؟ " قالت : لا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن الأنصار قوم فيهم غزل فلو بعثتم معها من يقول : أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكم " . رواه ابن ماجه حدیث ١٥) اورحضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک انصاری لڑکی تھی جب میں نے اس کا نکاح کسی سے کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! کیا تم گانے کے لئے کسی سے نہیںکہہ رہی ہو؟ کیونکہ یہ انصا رکی قوم گانے کو بہت پسند کرتی ہے؟ (اس روایت کوا بن حبان نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے) تشریح: یہ لڑکی جو حضرت عائشہ کے پاس رہا کرتی تھی اورجس کا نکاح انہوں نے کیا تھا تو ان کے قرابت داروں میں سے کسی کی تھی جیساکہ آگے آنیوالی حدیث وضاحت کررہی ہے یا پھٰ کوئی یتیمہ رہی ہوگی جسے انہوںنے اپنے یہاں رکھ کرپالاپوسا تھا۔ مشکوۃ کے اصل نسخہ میں لفظ رواہ کے بعد کوئی عبارت نہیں لکھی ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مؤلف مشکوۃ کو اس روایت کے اصل مآخذ کا علم نہیںہوسکاتھا پھر بعد میـں دوسرے علماء نے حاشیہ پر یہ عبارت ابن حبان فی صحیحہ (یعنی اس روایت کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے( لکھدی ہے) ١٦) اورحضرت ابن عباس کہتے ہیںکہ ام المؤمنین حضرت عائشہ نے ایک لڑکی کا نکاح کیا جو انصاری تھی اوران کے قرابتداروں میں سے تھی چنانچہ جب نکا ح کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھرمیں تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا تمن نے اس لڑکی کو کہ جس کا نکاح کیا گیا ہے۔ اس کے خاوند کے گھربھیجدیا؟ گھروالوںنے کہا کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نے اس کے ساتھ کسی گانے والے کو بھی بھیجا ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار ایک ایسی قوم ہے جس میں گانے کا شوق ہے کاش! تم اس کےس اتھ کسی ایسے شخص کو بھیج دیتیں جویہ گاتاہوا جاتا (اتینا کم اتیناکم فحیانا وحیاکم)(یعنی ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے اللہ تعالی ہمیں بھی اورتمہیں بھی سلامتی کے ساتھ رکھے( ابن ماجہ) تشریح: شادی بیاہ کے موقع پرطربیہ اشعار کے ذریعہ خوشی ومسرت کا اظہار ایک قدیم روایت ہے چنانچہ انصار میں بھی یہ روایت جاری تھی اوروہ اسے پسند بہت کرتے تھے اسی وجہ سے جب حضرت عائشہ نے اس انصار یلڑکی کا نکاح کیا اوراس کے ساتھ کسی گانیوالے کو نہیں بھیجا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس خواہش کا اظہارفرمایا کہ اگر اس لڑ کی کے ساتھ کوئی گانیوالا بھی جاتا تو اس موقع پر اس کے طربیہ اشعار لڑکی کے سسرال والوں کے جذبات مسرت وخوشی میں یقینا اضافہ کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طربیہ گیت کا ایک مصرعہ بھی پڑھ کرسنایا جو عرب میں شادی بیاہ کے موقع پرگایا جاتا تھا، چنانچہ وہ پورا شعر یوں ہے۔ (اتینا کم اتیناکم فحیانا وحیاکم ولا الحنطۃ السمراء لم تسمن عذاراکم) ہم تمہارے پاس آئے خداوند تعالی تمہیں بھی اورہمیں بھی سلامتی کے ساتھ رکھے۔ اگر سرخ گیہوںنہ ہوتے تو تہاری کنواریاں گدازبدن والی نہ ہوتیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ دوسرا مصرعہ ولا الحنطۃ کے بجائے یہ ہے ولولا العجوۃ السوداء ماکنا بواواکم اگرسیاہ کھجوریں نہ ہوتیں تو ہم تمہارے مکانوںمیںنہ رہتے (بلکہ بھوک کے مارے کہیں نکل جاتے |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مہوش علی کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (11-02-11), کنعان (11-02-11) |
|
|
#56 |
|
Senior Member
![]() |
بہن مہوش، سلام،
آپ کو اس فورم پر دیکھ کر خوشی محسوس ہورہی ہے۔ والسلام |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فرض, واقعات, لڑکی, نیوز, چین, نظر, ممکن, ماں, مسجد, اللہ, انسان, انشا, اسلامی, بھائی, جواب, حدیث, خلاف, خبر, عورت, عبادت, عشق, صالح, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|