واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > ازدواجی زندگی



ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی


شادی ایک مذہبی فریضہ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمائشی شو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-10-09, 08:30 AM   #1
شادی ایک مذہبی فریضہ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نمائشی شو
ڈاکٹرنور ڈاکٹرنور آف لائن ہے 05-10-09, 08:30 AM

شادی ۔۔۔۔ شادی ۔۔۔۔
خانہ آبادی۔۔۔
ہر مذ ہب میں شادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے - اسلام میں شادی حکم خداوندی کے ساتھ ساتھ سنت رسول بھی ہے۔
اسلام شادی کو معاشرے کی بنیا د کا پہلا پتھر قرار دیتا ہے ۔ اور قران میں بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ شادی، میاں بیوی کے تعلقات، اور طلاق جیسے معاملات کو بیان کیا گیا ہے۔
شادی جہان ایک مذہبی فریضہ ہے وہیں ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔
ایک مر د یا ایک عورت شا دی کے معاشرے میں عملی کردار ادا کرنے کی ابتدا کرتے ہیں۔
چنانچہ ضروری ہے کہ شادی سے پہلے ہی ہر دو افراد کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کیا جائے جو ایک معاشرے کا فعال رکن بننے کی حیثیت سے ان پر نا فذ ہوتی ہیں۔

ہمارے ماحول میں شادی اب ایک مذہبی فریضے سے زیا دہ ایک نمائشی پروگرام اور ایک نام نہادثقافتی شو بن کر رہ گئی ہے - اسکے پیچھے ایک مکمل تاریخ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برصغیر پاک وہند کا علاقہ اسلام کی روشنی آنے سے پہلے بہت سارے من گھڑت مذاہب کی آماجگا ہ
رہاہے ۔ جن میں سر فہرست ہندو مت ہے۔ ہندو مت بنیادی طور کچھ رسومات اور کچھ توہمات کا ملغوبہ ہے- شادی کے حوالے سے جہیز کا معاملہ سر فہرست ہے۔ ہندووں میں وراثت کے جو قوانین ہیں- ان میں خواتین کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ تاہم اس خامی کو جہیز کی روائت سے درست کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔ چنانچہ ہندو معاشرے میں ایک لڑکی کے والدیں اسے وراثت میں حصے کے بجائے جہیز کی شکل میں متبادل دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اسی طرح لڑکی کے قریبی عزیز اقارب کو ایک نام نہاد رسم کے تحت لڑکی کو جہیز کیلئے حصہ ڈالنے کا پابند بنا یا گیا ہے۔ جسے مختلف علاقوں مختلف نام دیے گئے ہیں ۔ مثلا ننھال کا دین، دوھیال کا دین وغیرہ۔
شادی پر فضول اور بے معنی رسموں کے ذریعے اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے کی لت بھی اسی ہیندوانہ معاشرے کی روائت ہے۔
چونکہ برصغیر میں لڑکی لڑکے کے آزادانہ ملاپ کو صدیوں پہلے سے قابل مذمت سمجھا جا تا تھا لہذا شادی کو لڑکی لڑکے آزادانہ اختلاط کا ذریعہ بھی بنایا گیا۔ اور شادی میں کچھ ایسی رسموں کا اضافہ کیا گیا جس میں ہردو جنس براہ راست شریک ہو سکے۔ اس میں میں مختلف علاقوں میں مختلف انداز اور مختلف ناموں کے ساتھ رسوم ملتی ہیں لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہے۔
شادی پر ڈھول اور ناچ گانا بھی اہم رسم شمار کی جا تی ہے-اس میں پیسے کے ضیاع کو قابل فخر رسم سمجھا جاتا۔ ڈھول باجے بجانے والوں اور ناچ گانا کرنے والوں پر پیسے لٹانا اسی جاہلانہ معاشرےکی نفسیاتی احساس کمتری کا مظہر ہے۔

جہیز بنانا تو پھر بھی سمجھ میں آتا ہے۔ مگر خصوصی طور ایک دن مخصوص کرکے جہیز کی نمائش کرنا بھی صدیوں پرانی رسم ہے ۔ یہ رسم جہاں نام نہاد احساس تفاخر بلکہ تکبر کی نمائندہ ہے وہیں غریب افراد کی دل شکنی کا با عث بھی ہے۔
اسی طرح جہیز مانگ کر لینا، اپنی مطالباتی فہرست دلہن کے والدین کر پیش کرنا اور انکی مالی حیثیت سے بڑھ کر جہیز مانگنا انسانیت کی توہین ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اسے معمولی بات سمجھا جا تا ہے۔یہ روائت بھی تاریخ نے دی ہے۔
اپنی حیثیت سے بڑھ کر بارات بنا کر دلہن کے گھر جانا، ویلیں دینا، اور راستوں میں ناچ گانا، ہلڑبازی کرنا کسی مہذب معاشرے میں رائج نہیں ۔ مگر ہمارے ہاں اسے شادی کا جزو لاینفک گردانا جاتا ہے۔

ولیمہ بھی ایک نمائشی رسم بنا دیا گیا ہے۔ یہاں بھی زیادہ سے زیادہ افراد کو مدعو کرنا، ہوٹلوں میں کھانے کا انتظام کرنا، کھانے کے دوران بے جا بے صبری ، ہلڑبازی، اور کھانے کا ضیا ع جیسی چیزیں ولیمہ کی تقریب کی اسلامی روح سے قطعا مماثلت نہیں رکھتیں۔
بات شادی تک محدود نہیں۔ شادی کے بعد بھی فضول رسومات کی ایک لمی فہرست ہے۔ جو خصوصی طور پر لڑکی کے والدین کو معا شی لحاظ مزید کمزور کرتی ہے۔

دیکھا جائے تو موجودہ رسم و رواج کے سا تھ شادی لڑکی کے والدین کیلئے انکے معاشی قتل کے مترادف ہے۔

مجھے سمجھائیے ہماری شادیوں میں سوائے نکاح کے کونسی چیز اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے؟

 
ڈاکٹرنور's Avatar
ڈاکٹرنور
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 296
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (05-09-11), shafresha (05-10-09), فاروق سرورخان (06-10-09), یاسر عمران مرزا (10-10-09), مرزا محمد فاروق (06-10-09), ابو عمار (06-10-09), حیدر (06-10-09), راجہ اکرام (06-10-09), عبداللہ حیدر (05-10-09)
پرانا 06-10-09, 08:51 AM   #2
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ڈاکٹرصاحب اللہ آپکو جزا دے ، آپ نے حالات کا بڑا مناسب تجزیہ کیا ہے ؎
دراصل جس چیز کو اسلام نے انتہائی آسان بنایا تھا ہماری معاشرتی کمزوریوں، جھوٹی انا اور بے جا تفاخر نے اسے مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے ؎شادی کا مسئلہ بھی انہی مسائل میں سے ہے ۔ اسکے خلاف اب صرف زبانی احتجاج سے کا م نہیں چلے گا بلکہ عملی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے؎
اس لئے میرے خیال سے ہمیں ان بے جا رسموں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرنی چاہیے اور پاک نیٹ کا فورم اس سلسلے میں بارش کا پہلا قطرہ بننا چاہیے ؎
آپ قدم بڑھاہیں ہم آپکے ساتھ ہیں ؎
انشاء اللہ
احمدنواز آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
ڈاکٹرنور (07-10-09), راجہ اکرام (07-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 06-10-09, 09:21 AM   #3
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معذرت خواہ ہوں کہ کچھ ذاتی پریشانیوں کی وجہ سے ٹائم نہیں دے سکا ۔۔
یہ تحریر تشنہ ہے اور اس میں مزیر اضافے کی ضرورت ہے۔ موقع ملا تو اس پر مزید لکھوں گا
آپ سب کی آراء کا انتظار رہے گا۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (05-09-11), راجہ اکرام (07-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 06-10-09, 12:30 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی اس پر کیا بات کریں ۔ فاروق سرور بھائی نے بھی کوئی ارشاد نہیں فرمایا ۔ورنہ ابھی شروع ہو جاتی گرما گرم بحث

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اسلام ان مقامی رسومات کو کہ جو اسلامی احکامات سے ٹکراتی نہ ہوں ،کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم اس اجازت سے ناجائز فائدہ اٹھانا اپنے اوپر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
آپ نے جو بیان کیا ہے شاید ہی کوئی اس سے انکار کرے ۔ ۔ ۔ لیکن بد قسمتی سے ہم لوگ ہر طرف سے جکڑے جاتے ہیں۔ اگر ان رسومات پر عمل کرنے سے انکار کرو تو اکثر ہی شادی بھی کھٹائی میں پڑ جاتی ہے۔ اگر دولہا کہتا ہے کہ میں مہندی یا وری یا دیگر رسومات کی اجاازت نہیں دوں گا تو خود اسکا خآندان ہی اسکی مٹی پلید کر دیتا ہے۔
ایک اور قبیح رسم جو آج کل ماڈرن لوگوں میں چل نکلی ہے وہ ہے لڑکی تلاش کرنا۔ اس رسم نے یا فعل نے لڑکی کی عزت دو کوڑی کی نہیں رہنے دی۔ وہ خود کو بھیڑ بکری سمجھتی ہے کہ جسکو خریدار دیکھنے آتے ہیں پھر نا پسند کر کے چلے جاتے ہیں۔ ہر انکار کے بعد نہ جانے اس لڑکی کے دل پر اور دماغ پر کیا گزرتی ہو گی۔ اور افسوس کی بات ہے کہ لوگ اس فعل کی تباہ کاری کا اندازہ بھی نہیں رکھتے۔ میری امی کو ہمارے ہمسائے نے کہا کہ فلانی جگہ گھر ہے ان کی لڑکی ہے ۔ ۔ ۔ اپنے بیٹے کے لیے دیکھ لیں۔ امی نے کہا کہ بدر فی الوقت بیروزگار ہے تو ابھی نہیں۔ اس نے کہا کہ آپ دیکھ تو لیں ۔ ۔ ۔ پھر انکار کر دینا۔ اس پر وہ امی سے بے عزت ہو گیا۔ امی نے کہا کہ کیا اس لڑکی کی کوئی عزت نفس نہیں کہ جائیں ۔ ۔ ۔ دیکھیں ۔ ۔ ۔ ۔چائے پیئں اور واپس آ کر انکار کر دیں۔ ہمسایہ کہنے لگا کہ اس میں حرج ہی کیا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے گھر میں ان میں سے بیشتر رسومات کا کوئی عمل دخل نہیں۔ بات طے کی ۔ ۔ ۔ جسکو منگنی کہہ لیں ۔ ۔ ۔ ۔پھر شادی سے ایک دن قبل مہندی کر لی ۔ ۔ ۔ پھر ولیمہ کر لیا سادگی سے۔ جہیز کا نہ کبھی سوچا اور نہ کبھی مسئلہ بنا ۔ ۔ ۔ مہندی کی رسم ہوتی ہیں مگر الگ الگ۔ عورتوں اور مردوں کا کوئی بھی ہو فنکشن جُدا جُدا ہوتا ہے۔
تاہم بھائی میرے آپ نے جو رسومات بیان کی ہیں ۔ ۔ ۔ وہ "قابل بیان" ہیں۔ اب جدید تعلیم کی وجہ سے کئی ایسی رسومات ترک کر دی گئی ہیں جو وگرنہ ہوتی تھیں اور اب بھی چھوٹے علاقوں میں ہوتی ہیں،۔ مجھے دیگر اقوام کا نہیں پتا۔ ۔ ۔ میں بلوچ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔تو میں کچھ بلوچی رسومات کو جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔چونکہ پنجاب میں رہتا ہوں تو کچھ پنجابی رسومات کو جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔جو اگر میں یہاں بیان کر دوں تو فحاشی کے ذمرہ میں آ جائیں گی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے جیسے جیسے تعلیم عام ہو رہی ہے ویسے ویسے ان قبیح رسومات سے چھٹکارا حاصل ہوتا جا رہا ہے۔

بھائی ہمارا معاشرہ گندگی کا معاشرہ بنتا جا رہا ہے
یہ عجب معاشرہ ہے کہ اس میں کسی کو زنا کرنا ہو تو یہ تو 200 روپے میں بھی ہو جاتا ہے لیکن اگر کسی نے سنت رسول پر عمل کرنا ہو اور شادی کرنی ہو تو لاکھوں بھی کم ہیں۔

جب تک ہم اپنا فوکس پیسے سے نہیں ہٹائیں گے تب تک انہی مسائل میں پھنسے جائیں گے۔

آپ خود ہی دیکھ لیجیے ۔ ۔ ۔ ۔کچھ زیادہ نہیں صرف 20 سال قبل تک بچوں کی شادیاں جلدی کر دینے کا رحجان تھا۔ جیسے ہی بالغ ہوئے ۔ ۔ ۔ شادی کر دی۔ اب تعلیم اور پیسے کے لالچ نے بیڑا ہی غرق کر دیا ہے۔ پہلے والدین کو شوق ہوتا ہے کہ تعلیم تو مکمل کر لیں۔ اسی چکر میں شادی کی عمر لڑکیوں کے لیے 24 سال تک پہنچ گئی اور لڑکوں کی عمر 26 سے اوپر چلی گئی۔ پھر شیطان نے نئی راہ سجھائی کہ روزگار تو لگے۔ اس میں سونے پر سہاگہ لڑکیوں کی نوکری کے ٹرینڈ نے کیا۔ پھر شوق جاگا کہ کسی اچھے روزگار پر تو لگے۔
اسی چکر میں آج لڑکیاں 26 سال سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں اور لڑکے کی عمر 30 سال تک چلی جاتی ہے۔ اور خآکم بدہن اگر یہی دستور جاری رہا تو وہ دن بھی دیکھنے پڑ سکتے ہیں کہ جب ہمارے میں شادیاں ادھیڑ عمری میں ہوا کریں گی۔
شادیوں کے دیر سے ہونے کے چلن نے مخلوط تعلیم اور مخلوف کام والے اداروں نے اس برائی کو پھیلانے میں مدد دے دی جس سے سے بچنے کی تلقین کئی بار نبئی دو جہاں نے ارشاد کی۔ بے حیائی تیزی سے عام ہوئی، زنا کاری کو رواج ملتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ اور آگے نہ جانے کیا ہو

بھائی رسومات کی فہرست میں ایک اضافہ لڑکی دیکھنے اور دوسرا اضافہ شادی دیر سے کرنے کا بھی کر لیں۔ بے شک انکو نام رسم کا نہیں دیا جاتا لیکن اب رواج پا رہی ہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (05-09-11), ڈاکٹرنور (07-10-09), راجہ اکرام (07-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 06-10-09, 04:14 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
ڈاکٹر صاحب ایک اہم موضوع پر مناسب انداز میں گفتگو کرنے اور اہم ترین مسائل کی نشاندہی کرنے پر شکریہ اور مبارکباد قبول کیجئے۔

شادی اگرچہ ایک انسانی مسئلہ ہے، لیکن ہر مذہب کی اپنی ترجیحات ہیں
اسلام میں نکاح ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔ اور حکم قرآنی ہے کہ (و ما جعل علیکم فی الدین من حرج) جس کا مفہوم ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی، بلکہ ہر انسان دین کے احکامات پر سہولت سے عمل کر سکتا ہے۔
نکاح اور شادی بھی ایک انتہائی سادہ سا معاملہ تھا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور اگر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ نکاح کتنا آسان ہے۔
لیکن تقلید اغیار نے ہمیں ایسے جھمیلوں میں ڈال دیا ہے کہ شادی خوشی کے بجائے وبال جان بن جاتی ہے،
مقابلے میں آکر والدین قرض لے کر بھی بڑا جھیز بناتے ہیں، بے شمار زیورات لیتے ہیں ، اور پھر ساری عمر اس قرض کے بوجھ تلے مر مر کر جیتے ہیں۔

اللہ ہمیں ہدایت کے نور سے نوازے۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ڈاکٹرنور (07-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 07-10-09, 08:46 AM   #6
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی ، راجہ بھائی اور احمد نواز بھائی آپ کی پسندیدگی کا شکریہ
آپ سب بھائیوں نے جو فکر انگیز تبصرے کیے ہیں ۔ یقینا آپ لوگوں کی اس اہم معاملے پر پرخلوص تشویش کا مظہر ہیں۔
جیسا کہ میں نے اوپر بھی تحریر کیا ہے ، یہ بات ابھی تشنہ ہے۔ اور میں وقت کی کمی سے اس کو مکمل نہیں کر سکا۔
تاہم جو بات کی گئی ہے وہ بھی ایک آگاہی اجاگر کر نے میں ممد و معاون ہوگی۔
جیسا بد ر بھا ئی نے تحریر کیا کہ اب علم کی روشنی ہے بہت سی رسموں کو ختم کیا ہے۔ تو امید واثق ہے کہ آہستہ آہستہ
دیگر فضول رسومات بھی ختم ہو سکتی ہیں
ہم میں ہر سخص اپنی اپنی حیثیت میں اپنا کردار ادا کرے تو تبدیلی خارج از امکان نہیں۔۔
اللہ ہم سب کو نیکی کی توفیق دے۔

میں شاہد بھائی سے گذارش کروں گا کہ میں نے یہ تحریر اسلامی سیکشن میں لگا دی۔ تاہم یہاں چونکہ تمام کمنٹس فوری
طور پر شائع نہیں ہوتے ۔ اس لئے اس موضوع کو مناسب توجہ حاصل نہیں ہو سکی ۔
میں گذارش کروں گا کہ اس تحریر کو "بات سے بات" فورم میں ٹرانسفر کردیا جا ئے ۔ شکریہ
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (08-10-09)
پرانا 10-10-09, 06:06 PM   #7
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,639
کمائي: 86,325
شکریہ: 9,608
4,225 مراسلہ میں 12,042 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ڈاکٹر صاحب بہت ہی اچھے موضوع پر لکھا آپ نے،
شادی خاموشی سے نہیں ہونی چاہیے، تاہم سادگی سے ضرور ہونی چاہیے، ہم لوگ عجیب سی عادات میں پڑ گئے ہیں بہت اچھی تحریر ہے ، شکریہ
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-11-09, 01:04 AM   #8
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

اگر پاکستان کے حالات اسی طرح رہے جو نظر آ رہے ہیں۔ ( آٹا، چینی، بجلی ، گیس ، تیل، سونا 36000روپے تولہ وغیرہ وغیرہ) تو وہ دن بھی دور نہیں کہ چند سرمایہ داروں کو چھوڑ کو جو بھی شادیاں پاکستان میں آئیندہ ہونگی اس میں دونوں طرف سے گھر کے افراد ہی شامل ہوا کریں گے اور مسجد میں‌ جا کر نکاح پڑھوا لیا کریں گے۔
نمائش خود بخود کم ہو جائے گی۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
ڈاکٹرنور (23-11-09)
جواب

Tags
فورم, ہندو, کوشش, پاک, قدم, قران, لڑکی, مکمل, موجودہ, مسائل, معذرت, احتجاج, اسلام, اسلامی, بیوی, حکم, خواتین, خصوصی, شادی, طلاق, عورت, علاقہ, عزیز, غریب, صدیوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger