| ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 296
|
||||
| 9 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | mama_shalla (05-09-11), shafresha (05-10-09), فاروق سرورخان (06-10-09), یاسر عمران مرزا (10-10-09), مرزا محمد فاروق (06-10-09), ابو عمار (06-10-09), حیدر (06-10-09), راجہ اکرام (06-10-09), عبداللہ حیدر (05-10-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 865
کمائي: 13,995
شکریہ: 1,237
604 مراسلہ میں 1,513 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ڈاکٹرصاحب اللہ آپکو جزا دے ، آپ نے حالات کا بڑا مناسب تجزیہ کیا ہے ؎
دراصل جس چیز کو اسلام نے انتہائی آسان بنایا تھا ہماری معاشرتی کمزوریوں، جھوٹی انا اور بے جا تفاخر نے اسے مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے ؎شادی کا مسئلہ بھی انہی مسائل میں سے ہے ۔ اسکے خلاف اب صرف زبانی احتجاج سے کا م نہیں چلے گا بلکہ عملی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے؎ اس لئے میرے خیال سے ہمیں ان بے جا رسموں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرنی چاہیے اور پاک نیٹ کا فورم اس سلسلے میں بارش کا پہلا قطرہ بننا چاہیے ؎ آپ قدم بڑھاہیں ہم آپکے ساتھ ہیں ؎ انشاء اللہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
معذرت خواہ ہوں کہ کچھ ذاتی پریشانیوں کی وجہ سے ٹائم نہیں دے سکا ۔۔
یہ تحریر تشنہ ہے اور اس میں مزیر اضافے کی ضرورت ہے۔ موقع ملا تو اس پر مزید لکھوں گا آپ سب کی آراء کا انتظار رہے گا۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی اس پر کیا بات کریں ۔ فاروق سرور بھائی نے بھی کوئی ارشاد نہیں فرمایا ۔ورنہ ابھی شروع ہو جاتی گرما گرم بحث
![]() اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اسلام ان مقامی رسومات کو کہ جو اسلامی احکامات سے ٹکراتی نہ ہوں ،کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم اس اجازت سے ناجائز فائدہ اٹھانا اپنے اوپر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ آپ نے جو بیان کیا ہے شاید ہی کوئی اس سے انکار کرے ۔ ۔ ۔ لیکن بد قسمتی سے ہم لوگ ہر طرف سے جکڑے جاتے ہیں۔ اگر ان رسومات پر عمل کرنے سے انکار کرو تو اکثر ہی شادی بھی کھٹائی میں پڑ جاتی ہے۔ اگر دولہا کہتا ہے کہ میں مہندی یا وری یا دیگر رسومات کی اجاازت نہیں دوں گا تو خود اسکا خآندان ہی اسکی مٹی پلید کر دیتا ہے۔ ایک اور قبیح رسم جو آج کل ماڈرن لوگوں میں چل نکلی ہے وہ ہے لڑکی تلاش کرنا۔ اس رسم نے یا فعل نے لڑکی کی عزت دو کوڑی کی نہیں رہنے دی۔ وہ خود کو بھیڑ بکری سمجھتی ہے کہ جسکو خریدار دیکھنے آتے ہیں پھر نا پسند کر کے چلے جاتے ہیں۔ ہر انکار کے بعد نہ جانے اس لڑکی کے دل پر اور دماغ پر کیا گزرتی ہو گی۔ اور افسوس کی بات ہے کہ لوگ اس فعل کی تباہ کاری کا اندازہ بھی نہیں رکھتے۔ میری امی کو ہمارے ہمسائے نے کہا کہ فلانی جگہ گھر ہے ان کی لڑکی ہے ۔ ۔ ۔ اپنے بیٹے کے لیے دیکھ لیں۔ امی نے کہا کہ بدر فی الوقت بیروزگار ہے تو ابھی نہیں۔ اس نے کہا کہ آپ دیکھ تو لیں ۔ ۔ ۔ پھر انکار کر دینا۔ اس پر وہ امی سے بے عزت ہو گیا۔ امی نے کہا کہ کیا اس لڑکی کی کوئی عزت نفس نہیں کہ جائیں ۔ ۔ ۔ دیکھیں ۔ ۔ ۔ ۔چائے پیئں اور واپس آ کر انکار کر دیں۔ ہمسایہ کہنے لگا کہ اس میں حرج ہی کیا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے گھر میں ان میں سے بیشتر رسومات کا کوئی عمل دخل نہیں۔ بات طے کی ۔ ۔ ۔ جسکو منگنی کہہ لیں ۔ ۔ ۔ ۔پھر شادی سے ایک دن قبل مہندی کر لی ۔ ۔ ۔ پھر ولیمہ کر لیا سادگی سے۔ جہیز کا نہ کبھی سوچا اور نہ کبھی مسئلہ بنا ۔ ۔ ۔ مہندی کی رسم ہوتی ہیں مگر الگ الگ۔ عورتوں اور مردوں کا کوئی بھی ہو فنکشن جُدا جُدا ہوتا ہے۔ تاہم بھائی میرے آپ نے جو رسومات بیان کی ہیں ۔ ۔ ۔ وہ "قابل بیان" ہیں۔ اب جدید تعلیم کی وجہ سے کئی ایسی رسومات ترک کر دی گئی ہیں جو وگرنہ ہوتی تھیں اور اب بھی چھوٹے علاقوں میں ہوتی ہیں،۔ مجھے دیگر اقوام کا نہیں پتا۔ ۔ ۔ میں بلوچ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔تو میں کچھ بلوچی رسومات کو جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔چونکہ پنجاب میں رہتا ہوں تو کچھ پنجابی رسومات کو جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔جو اگر میں یہاں بیان کر دوں تو فحاشی کے ذمرہ میں آ جائیں گی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے جیسے جیسے تعلیم عام ہو رہی ہے ویسے ویسے ان قبیح رسومات سے چھٹکارا حاصل ہوتا جا رہا ہے۔ بھائی ہمارا معاشرہ گندگی کا معاشرہ بنتا جا رہا ہے یہ عجب معاشرہ ہے کہ اس میں کسی کو زنا کرنا ہو تو یہ تو 200 روپے میں بھی ہو جاتا ہے لیکن اگر کسی نے سنت رسول پر عمل کرنا ہو اور شادی کرنی ہو تو لاکھوں بھی کم ہیں۔ جب تک ہم اپنا فوکس پیسے سے نہیں ہٹائیں گے تب تک انہی مسائل میں پھنسے جائیں گے۔ آپ خود ہی دیکھ لیجیے ۔ ۔ ۔ ۔کچھ زیادہ نہیں صرف 20 سال قبل تک بچوں کی شادیاں جلدی کر دینے کا رحجان تھا۔ جیسے ہی بالغ ہوئے ۔ ۔ ۔ شادی کر دی۔ اب تعلیم اور پیسے کے لالچ نے بیڑا ہی غرق کر دیا ہے۔ پہلے والدین کو شوق ہوتا ہے کہ تعلیم تو مکمل کر لیں۔ اسی چکر میں شادی کی عمر لڑکیوں کے لیے 24 سال تک پہنچ گئی اور لڑکوں کی عمر 26 سے اوپر چلی گئی۔ پھر شیطان نے نئی راہ سجھائی کہ روزگار تو لگے۔ اس میں سونے پر سہاگہ لڑکیوں کی نوکری کے ٹرینڈ نے کیا۔ پھر شوق جاگا کہ کسی اچھے روزگار پر تو لگے۔ اسی چکر میں آج لڑکیاں 26 سال سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں اور لڑکے کی عمر 30 سال تک چلی جاتی ہے۔ اور خآکم بدہن اگر یہی دستور جاری رہا تو وہ دن بھی دیکھنے پڑ سکتے ہیں کہ جب ہمارے میں شادیاں ادھیڑ عمری میں ہوا کریں گی۔ شادیوں کے دیر سے ہونے کے چلن نے مخلوط تعلیم اور مخلوف کام والے اداروں نے اس برائی کو پھیلانے میں مدد دے دی جس سے سے بچنے کی تلقین کئی بار نبئی دو جہاں نے ارشاد کی۔ بے حیائی تیزی سے عام ہوئی، زنا کاری کو رواج ملتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ اور آگے نہ جانے کیا ہو بھائی رسومات کی فہرست میں ایک اضافہ لڑکی دیکھنے اور دوسرا اضافہ شادی دیر سے کرنے کا بھی کر لیں۔ بے شک انکو نام رسم کا نہیں دیا جاتا لیکن اب رواج پا رہی ہیں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
ڈاکٹر صاحب ایک اہم موضوع پر مناسب انداز میں گفتگو کرنے اور اہم ترین مسائل کی نشاندہی کرنے پر شکریہ اور مبارکباد قبول کیجئے۔ شادی اگرچہ ایک انسانی مسئلہ ہے، لیکن ہر مذہب کی اپنی ترجیحات ہیں اسلام میں نکاح ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔ اور حکم قرآنی ہے کہ (و ما جعل علیکم فی الدین من حرج) جس کا مفہوم ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی، بلکہ ہر انسان دین کے احکامات پر سہولت سے عمل کر سکتا ہے۔ نکاح اور شادی بھی ایک انتہائی سادہ سا معاملہ تھا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور اگر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ نکاح کتنا آسان ہے۔ لیکن تقلید اغیار نے ہمیں ایسے جھمیلوں میں ڈال دیا ہے کہ شادی خوشی کے بجائے وبال جان بن جاتی ہے، مقابلے میں آکر والدین قرض لے کر بھی بڑا جھیز بناتے ہیں، بے شمار زیورات لیتے ہیں ، اور پھر ساری عمر اس قرض کے بوجھ تلے مر مر کر جیتے ہیں۔ اللہ ہمیں ہدایت کے نور سے نوازے۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | ڈاکٹرنور (07-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی ، راجہ بھائی اور احمد نواز بھائی آپ کی پسندیدگی کا شکریہ
آپ سب بھائیوں نے جو فکر انگیز تبصرے کیے ہیں ۔ یقینا آپ لوگوں کی اس اہم معاملے پر پرخلوص تشویش کا مظہر ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر بھی تحریر کیا ہے ، یہ بات ابھی تشنہ ہے۔ اور میں وقت کی کمی سے اس کو مکمل نہیں کر سکا۔ تاہم جو بات کی گئی ہے وہ بھی ایک آگاہی اجاگر کر نے میں ممد و معاون ہوگی۔ جیسا بد ر بھا ئی نے تحریر کیا کہ اب علم کی روشنی ہے بہت سی رسموں کو ختم کیا ہے۔ تو امید واثق ہے کہ آہستہ آہستہ دیگر فضول رسومات بھی ختم ہو سکتی ہیں ہم میں ہر سخص اپنی اپنی حیثیت میں اپنا کردار ادا کرے تو تبدیلی خارج از امکان نہیں۔۔ اللہ ہم سب کو نیکی کی توفیق دے۔ میں شاہد بھائی سے گذارش کروں گا کہ میں نے یہ تحریر اسلامی سیکشن میں لگا دی۔ تاہم یہاں چونکہ تمام کمنٹس فوری طور پر شائع نہیں ہوتے ۔ اس لئے اس موضوع کو مناسب توجہ حاصل نہیں ہو سکی ۔ میں گذارش کروں گا کہ اس تحریر کو "بات سے بات" فورم میں ٹرانسفر کردیا جا ئے ۔ شکریہ |
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (08-10-09) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ڈاکٹر صاحب بہت ہی اچھے موضوع پر لکھا آپ نے،
شادی خاموشی سے نہیں ہونی چاہیے، تاہم سادگی سے ضرور ہونی چاہیے، ہم لوگ عجیب سی عادات میں پڑ گئے ہیں بہت اچھی تحریر ہے ، شکریہ
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
اگر پاکستان کے حالات اسی طرح رہے جو نظر آ رہے ہیں۔ ( آٹا، چینی، بجلی ، گیس ، تیل، سونا 36000روپے تولہ وغیرہ وغیرہ) تو وہ دن بھی دور نہیں کہ چند سرمایہ داروں کو چھوڑ کو جو بھی شادیاں پاکستان میں آئیندہ ہونگی اس میں دونوں طرف سے گھر کے افراد ہی شامل ہوا کریں گے اور مسجد میں جا کر نکاح پڑھوا لیا کریں گے۔ نمائش خود بخود کم ہو جائے گی۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | ڈاکٹرنور (23-11-09) |
![]() |
| Tags |
| فورم, ہندو, کوشش, پاک, قدم, قران, لڑکی, مکمل, موجودہ, مسائل, معذرت, احتجاج, اسلام, اسلامی, بیوی, حکم, خواتین, خصوصی, شادی, طلاق, عورت, علاقہ, عزیز, غریب, صدیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|