واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > ازدواجی زندگی



ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی


:::::: عورتوں سے عمومی سلوک کا طریقہ ::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-09-11, 02:09 AM   #1
:::::: عورتوں سے عمومی سلوک کا طریقہ ::::::
عادل سہیل عادل سہیل آن لائن ہے 24-09-11, 02:09 AM

٦ ٦ ٦قران و سُنّت کے سایے میں ٥ ٥ ٥
:::::: عورتوں سے عمومی سلوک کا طریقہ ::::::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيم ِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ،،،،،:::اے لوگو اپنے رب (کی ناراضگی اور عذاب )سے بچو (وہ رب)جس نے تُم سب لوگوں کو ایک( ہی) جان سے تخلیق کیا ہے ،،،،، سورت النساء / پہلی آیت،
انسانوں کی ابتداء ان کے اکیلے لا شریک خالق و مالک نے ایک ہی جان سے کی ہے ، اس لیے عربی میں کہا جاتا ہے کہ “““ النِساء شقائق الرجال:::عورتیں مردوں سے نکالی گئی ہیں””” یعنی اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنی بے عیب قدرت و حِکمت سے عورت کو مَرد میں سے بنایا،
ابھی ابھی ذِکر کی گئی آیت مبارکہ کے اگلے حصے میں اللہ تبارک و تعالیٰ ﴿وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا :::اوراسی (جان) میں سے اس کے جوڑے(کی عورت)کو بنایا ،
اور اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مبارک سے خبر فرمایا ﴿اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَىْءٍ فِى الضِّلَعِ أَعْلاَهُ ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ :::تُم لوگ ایک دوسرے کو عورتوں کے ساتھ احسان والے رویے کی نصیحت کیا کرو ، کیونکہ عورت کو (مرد کی)پسلی(کی ہڈی) میں سے بنایا گیا ہے اور پسلی میں سب سے اوپر والی(ہڈی)سب سے زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے ، لہذا اگر تُم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تُم اسے توڑ دو گے، اور اگر تُم اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی ، لہذا تُم لوگ ایک دوسرے کو عورتوں کے ساتھ احسان والے رویے کی نصیحت کیا کروصحیح البخاری /کتاب الأنبیاء/باب2، صحیح مُسلم /کتاب الرضاع /باب18،
عورت کو گو کہ مرد میں سے بنایا گیا اور دونوں کے بلکہ ساری ہی مخلوق کے اکیلے لا شریک خالق و مالک نے اپنی اس مخلوق “عورت”کی طبیعت اور فطرت میں بہت کچھ ایسا رکھا جو مَردوں سے مختلف ہے مگر عورتوں کے بالکل دُرسُت اور مناسب ہے، لیکن شرعی طور پر اجر و ثواب ، سزا و عذاب میں دونوں ایک ہی جیسے ہیں ، جو جیسا اور جتنا عمل کرے گا اس کے مطابق نتیجہ حاصل کرے گا ،
(اس موضوع پر ایک مضمون پہلے نشر کیا جا چکا ہے، معاشرتی زندگی کے بارے میں اب یہاں صرف )یاد دھانی اور ایک فائدہ مند معلومات کے طور پر علامہ ابن عُثیمین رحمہ ُ اللہ کا یہ قول ذکر کرتا ہوں کہ “““عورتوں اور مردوں کی برابری والی بات کوئی مشکل سے سمجھ آنے والی نہیں، (بس اس کی وضاحت کی چاہیے کہ )حق بات یہ ہے کہ جو لوگ (معاشرتی زندگی میں)مردوں اور عورتوں کی برابری نا ممکن ہے ، جو لوگ اس برابری کا مطالبہ کرتے ہیں وہ عقل اور حقیقت اور فطرت کے خلاف مطالبہ کرتے ہیں ”””،
شرعی احکام میں بھی دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے سوائے ایسے چند احکامات کے جو اپنی اپنی جگہ پر دونوں یعنی مَردوں اور عورتوں کے لیے الگ ہیں،
اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کی وحی کے مطابق اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ان فرامین کی روشنی میں یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اللہ نے حوا علہیہا السلام کو آدم علیہ السلام کی پسلی میں سےتخلیق فرمایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بڑی وضاحت سے یہ سمجھایا کہ پسلی کی ہڈی ٹیڑھی ہونے کے باوجود لچک دار ہوتی ہے ، لہذا تم لوگ اس ہڈی کو سختی سے سیدھا کرنے کی کوشش مت کرنا ورنہ یہ ہڈی ٹوٹ جائے گی ، بلکہ احسان والے رویے سے اس کا ٹیڑھا پن دُور کرنے کی کوشش کرنا ، تا کہ اللہ نے تم لوگوں کا جو جوڑا بنایا ہے اس کی ازدواجی اور معاشرتی زندگی سکون سے بسر ہو ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان میں کہ ﴿وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا :::اوراسی (جان) میں سے اس کے جوڑے(کی عورت)کو بنایا یہ بالک واضح ہے کہ عورت کو مرد میں سے بنایا گیا ہے ، اور یہ اس امر کی طرف اشارہ کناں ہے کہ عورت کی زندگی کا محور مرد ہے ، فطری طور پر عورت کی سوچ و فکر مستقل طور پر مرد سے متعلق رہتی ہے جب کہ مردکا معاملہ الگ ہوتا ہے کہ وہ مستقل طور پر عورت کے لیے فکر مند نہیں ہوتا بلکہ اسے اور بھی بہت سے غم ہوتے ہیں ، میری اس بات یہ نہ سمجھا جائے کہ عورتیں بس مَردوں کی ہی فِکر میں رہتی ہیں ، بلکہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی ہر سوچ و فِکر کا مدار ان کی تکمیل کا ذریعہ کوئی نہ کوئی مرد ہی ہوتا ہے ، جبکہ مَردوں کی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا ، اللہ کی عطاء کردہ قوت و قدرت سے وہ نہ صِرف اپنی بلکہ اپنی زندگی میں پائی جانی والی عورتوں کی سوچوں اور فِکروں کی تکمیل کا ذریعہ ہوتے ہیں ، اور یہ بات عورت کی فطرت کے عین مطابق ہے ، کہ وہ ایک مضبوط سہارے کی ضرورت مند ہوتی ہیں ، ایسا سہارا جو ان کا نگہباں ہو ، ان کی ضروریات پوری کرنے والا ہو اور انہیں درست راہ پر رکھنے والا ہو، بس ہمیں اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دی ہوئی اس ہدایت پر عمل پیرا رہنا چاہیے اور حتیٰ الامکان یہ کوشش کرنا چاہیے کہ ہم پسلی کی ہڈی کو سختی سے سیدھا کرنے کا عمل نہ کریں ، کیونکہ یہ خلاف فطرت ہو گا اور اس کا نتیجہ ایک مسلم گھرانے کی تباہی کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بتایا ہے کہ ﴿ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلاَقُهَا :::بے شک عورت کو پسلی (کی ہڈی ) میں سے تخلیق کیا گیا ہے وہ تمہارے لیے کبھی بھی ایک طریقے پر قائم نہیں رہ سکتی ، لہذا اگر تُم اس سے(ازدواجی اورمعاشرت طور پر )فائدہ اٹھا سکتے ہو تو اسی ٹیڑھے پن کے ساتھ فائدہ اٹھاؤ اور اگر تُم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے اور اس کا ٹوٹنا اس کی طلاق ہے صحیح مُسلم /کتاب الرضاع /باب18،
لہذا اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے کے لیے اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھیے اور اگر اس زندگی میں آپ کی شریک حیات کی طرف سے ، اور معاشرتی زندگی میں کسی اور عورت کی طرف سے کوئی ناروا ، تکلیف دہ یا نقصان والا عمل ہوتا ہے تو جہاں تک ممکن ہو اس عمل کو اور وہ عمل کرنے والی کو نرمی ، احسان اور حِکمت سے درست کرنے کی کوشش کیجیے ، تا کہ ہڈی ٹوٹنے نہ پائے ، اور اگر معاملات ایسے ہوں جائیں جن میں سختی کی اجازت ہے تو سختی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ واللہ أعلم ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 306
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (24-09-11), مرزا عامر (24-09-11), احمد نذیر (24-09-11)
پرانا 24-09-11, 03:27 AM   #2
Senior Member
 
Miss Khan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,514
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

JazakAllah, Beshaq Allah k har kaam main hikmat huti hai ,kitni khobsurti se ourat ki fitrat ko waziha kya gaya hai aur us se kis andaz main sulook kya hai woh bhi bata dya hai, JazakAllah, boht achi post hai aap ki, khush rahain !
Miss Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
arabic, color, unicode, کوشش, وضاحت, قران, ممکن, اللہ, بے, حیات, خلاف, خبر, دی, زندگی, طلاق, عورتیں, عورتوں, عقل, علامہ, عمومی, عذاب, عربی, غم, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مجاھدین کے خلاف ہندو عورتوں کی فوج ALI-OAD خبریں 1 31-12-10 02:55 PM
عورتوں کا عالمی دن ALIA عمومی بحث 8 27-08-10 10:36 AM
عورتوں کی نسبت مرد Wahid Mahmood دلچسپ اور عجیب 1 29-12-09 11:28 AM
عورتوں کو ہر حال میں شوہر کا حکم ماننا چاہئیے؟ Zullu230 گپ شپ 3 05-12-07 08:45 AM
حاملہ عورتوں کے لئے متلی اور قے سے بچاو کے طریقے پاکستانی شعبہ طب 0 24-08-07 07:53 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger