واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > ازدواجی زندگی



ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی


متعہ کے بارے میں ایک تحقیقی موضوع۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-05-09, 12:24 AM   #1
متعہ کے بارے میں ایک تحقیقی موضوع۔
منتظمین منتظمین آف لائن ہے 05-05-09, 12:24 AM

متعہ کے بارے میں کافی کچھ سن رکھا تھا لیکن کہیں‌سے بھی کوئی مکمل موضوع نہیں‌مل رہا تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے فقہ کے حساب سے ہی بیان کر رہا تھا۔ مجھے ایک ایک جگہ سے یہ موضوع ملا ہے امید ہے اس پر سیر حاصل بحث انسانیت اور اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئی کی جا سکے گی۔ اس موضوع کی احادیث کی صحت اور واقعات کی سچائی درکار ہوگی۔۔

بھائی میرے میرا موضوع متعہ کا ایک تقابلی حوالہ پیش کرتا ہے اور تقریبا اس پر موجود تمام مہذب مواد ایک ہی جگہ پر پیش کرتا ہے تاکہ ہر ایک کو اس کے بارے میں تشنہ سوالات کے جوابات مل جائیں۔
میرا مقصد متعہ کی حمائت / مخالفت نہیں ہے۔ متعہ کو کوئی پسند کرئے یا نہ کرئے اس کی کوئی اہمیت نہیں‌ہے۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے اور جو احادیث اور واقعات بیان کیے گئے ہیں‌ ان میں سچائی کتنی ہے۔۔۔۔۔ معاشرتی رسوم و رواج میں الجھے بغیر اسلامی نقطہ نظر واضح کریں

اس تھریڈکو ممنکہ انتشار سے بچانے کے لیے میں‌نے ایک اصول واضح کیا ہے کہ اس تھریڈ میں بحث کے لیے میں موضوع میں‌موجود احادیث اور آیات کو باری باری بحث کے لیے پیش کروں گا۔ تاکہ ہر حدیث اور آیت کے ساتھ ساتھ واقعات کی بھی تخریج ممکن ہو سکے۔ اگر اپ کا علم محدود ہے تو براہ مہربانی اس میں حصہ نہ لیں۔ اگر اپ کاپی پیسٹ کے بغیر کام نہیں‌چلا سکتے تو بھی یہ موضوع اپکے لیے نہیں‌ہے براے مہربانی اس سے دور رہیں۔



اصل موضوع

یعقوب علی

قرآن حکیم میں آتا ہے (ان کے ماسوا جتنی بھی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعے سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو ،نہ یہ کہ آزاد شہوات رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھائو ان کے بدلے ان کے مہر بطور فرض کے ادا کرو البتہ مہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتا ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں)(ترجمہ تفہیم القرآن جلد اول تفسیر خازن میں ہےایک گروہ کا خیال ہے کہ اس آیت سے نکاح متعہ مراد ہے۔نکاح متعہ کی تفصیل بتانا آپ پسند کریں گے؟

:منصور آفاق

نکاح متتعہ کے باب میں ایک تتفصیلی بحث درج کر رہا ہوں جس میں مکمل طور پر غیر جانب دار رہنے کی کوشش کی گئی ہے اسلام نے بھی کہا ہے کہ شادی سے پہلے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کو پرکھ لینا چاہیے۔ ظاہر ہے اس سے یہ مرادہے کہ میاں بیوی کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے کردار کے متلعق پوری معلومات حاصل کریں ایک دوسرے کے مزاج سے واقف ہو لیں ،اوراچھی طرح سوچ سمجھ کر نکاح کا معاہدہ کریں۔ لیکن اسلام میں اس پرکھ لینے سے یہ مطلب نہیں لیا جاتا کہ اسلام مختلف ممالک میں رائج آزمائشی شادیوں Trial Marriagesکی اجازت دیتا ہے یہ رسم بدیورپ کے بعض ممالک میں رائج ہے شادی سے پہلے یہ جنسی تعلقات قائم کر لئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ایک تدبیر ہے اس سے نکاح سے قبل ہی آئندہ زندگی کی خوشگواری کا یقین ہو جاتا ہے مختلف علاقوں میں ایسی آزمائشی شادیوں کے لئے مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جیسے ”Jing“”Kilt“”Sittingup“”Court on Beo“”Bundling“اب اگرچہ ان کا رواج کم ہو گیا ہے لیکن کسی زمانہ میں یہ عام تھا۔ اگر فریقین کے درمیان یہ آزمائشی شادی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو باقاعدہ نکاح کر لیا جاتا ہے اور ناکامی کی صورت میں کسی اور کی تلاش شروع کر دی جاتی ہے۔ علامہ نیاز فتحوپوری لکھتے ہیں۔ ”اگر اس طرح (آزمائشی شادی کے دوران) کوئی بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اسے برا نہیں سمجھاجاتااورسوسائٹی میںاس عورت کوذلیل نہیںسمجھاجاتاانگلستان کے علاوہ Staffordshire میں تو یہ رواج بہت عام ہے اور وہاں مشہور ہے کہ ایسی عورتیں(آزمائشی بیویاں) نہایت اچھی رفیق‘ حددرجہ جفاکش بیویاں اور مائیں ثابت ہوتی ہیں“(شہوانیات ص 25) بہرحال اس طرح کی شادیاں کافی عرصہ سے مختلف جگہوں پررواج میں رہی ہیں۔ ایلن کی (Elenkey)نے سویڈن کے متعلق لکھا تھا۔ اس ملک کی غالبا آبادی اس آزمائشی طریقہ نکاح کو پسند کرتی ہے“ (Era lebeund p. 123) ڈنمارک کے متعلق روبین ویسٹر گارڈ(Rubenowester Guard)نے بھی کچھ ایسی ہی معلومات فراہم کرتے ہوئے لکھا تھا“ مرد عورت کے تعلقات قانونی صورت اختیار کرنے نہیں پاتے کہ عورت حاملہ ہوجاتی ہے لیکن اسلام میں محدود مدت کا نکاح (متعہ ) ایک ایسا عمل ہے جس کی بنیاد پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اسلام کسی حد تک نکاح سے پہلے بھی مرد اور عورت آزمائشی مراسم کی اجازت دیتا ہے عربوں میں نکاح قبل از اسلام اسلام سے پہلے عربوں میں شادی کے جو طریقے رائج تھے ان کی تفصیل امام بخاری ”ام المومنین “عائشہ صدیقہ سے منسوب ایک روایت میںلائے ہیں۔ ”ام المومنین عائشہ صدیقہ نے فرمایا جاہلیت کے زمانہ میں عرب لوگ چار طرح پر نکاح کیا کرتے تھے ایک تو اسی طرح جیسے لوگ آج کل کیا کرتے ہیں یعنی ایک مرد دوسرے مرد کو اس کی بیٹی، بھانجی، بھتیجی، بہن کے لئے پیغام بھیجتا وہ اس کا مہر ٹھہرا کر نکاح کر دیتا دوسری صورت یہ تھی کہ شوہر اپنی بیوی سے جب حیض سے پاک ہوتی یوں کہتا تو فلاں مرد کو بلا بھیج اور اس سے لپٹ جا(اس سے بدکاری کرا) جب وہ ایسا کرتی تو اس کا اپنا خاوند اس سے الگ رہنے لگ جاتا حتیٰ کہ اس غیر مرد سے اس عورت کا حمل نمایاں ہو جاتا جب اچھی طرح حمل نمایاں ہو جاتا تو شوہر اگر چاہتا اب اس سے صحبت کرتا اس فعل سے خاوند کا مطلب یہ ہوتا کہ بچہ اچھی نسل کا پیدا ہواور اس کی ناموری کا باعث ہو وہ اپنی بیوی کے لیے انتخاب ہی کسی ایسے مرد کا کرتا۔ تیسری قسم کا نکاح یہ تھا کہ مرد مل کر جنکی تعداد دس سے کم ہوتی ایک عورت رکھ لیتے سب کے سب اس سے صحبت کیا کرتے اس کو حمل ٹھہر جاتا اور بچہ پیدا ہوتا تو کئی راتیں گزر جاتیں وہ ان سب مردوں کو بلا بھیجتی اور ان سب کو آنا پڑتا کیا مجال کہ کوئی نہ آئے یہ عورت ان سے کہتی تمیں معلوم ہے تم نے جو کیا ہے اب میرا بچہ پیدا ہوا ہے یہ تم میں سے فلاں کا بچہ ہے وہ جس کا نام لے لیتی بچہ اس کے ذمہ لگ جاتا، اس کو انکار کی مجال نہ ہوتی کیونکہ سماجی رسم یونہی ٹھہری ہوئی تھی۔ چوتھی صورت رنڈیوں والی تھی ایک عورت کے دروازے پر جھنڈا لگا دیتے جس کا مطلب ہوتا کہ ہر مرد یہاں آسکتا ہے چنانچہ مرد اس کے ہاں آنے جانے لگتے یہاں تعداد کی کوئی قید نہ تھی، اگر اسے حمل ہو جاتا اور بچہ پیدا ہوجاتا تو اس کے پاس آنے جانے والے سب مرد اکٹھے ہوجاتے اور کسی قیافہ شناس کو بلا لاتے قیافہ شناس اپنے علم کی رو سے جو فیصلہ کرتا وہ جس کے ذمے لگاتا۔سب کو قبول کرنا پڑتا“ (صحیح بخاری پارہ 21باب66) نکاح متعہ یہ انتہائی نازک موضوع ہے اور اکثر حضرات جنہوں نے اسلام اور جنسی مسائل پر قلم اٹھایا اس سے کنی کترا گئے، متعہ کی تعریف یہ ہے کہ مرد عورت کو کچھ اجرت کے طور پر ادا کرے اور وقت مقرر یعنی اتنے دن وغیرہ کے لئے اسے جنسی اختلاط کے لیے راضی کر لے اس میں بھی نکاح کی طرح ایجاب و قبول ہوتا ہے مدت ختم ہونے پر طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے عورت کو عدت گزارنی پڑتی تھی تاکہ واضح ہو جائے کہ کہیں حمل تو نہیں ہوگیاعام طور پر متعہ کی عدت کم از کم45دن یعنی دوسری عدت سے نصف سمجھی جاتی ہے۔ لیکن عدت کا معاملہ چونکہ حمل کے اظہار کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے موجودہ میں اس کی کوئی ضرورت نہیں رہی کیونکہ اس بات کا فوری طور پر پتہ چل جاتا ہے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں ۔۔متعہ کے جواز اور عدم جواز کے سلسلہ میں مسلمانوں میں بنیادی طور پر دو مکاتب فکر ہیں:۔ ایک وہ جو متعہ کے قائل ہیں اہل تشیع ہیں:۔ دوسرے وہ جو متعہ کوناجائز سمجھتے ہیں اس میں اہل سنت کہلانے والے گروہ ہیں جن میں حنفی‘ مالکی‘ شافعی‘ حنبلی‘ اہلحدیث اور جدید خیال کے لوگ جو اپنے آپ کو فکر قرانی سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ اس دوسرے گروہ کے پھر دو گروہ ہیں، حنفی، مالکی شافعی، حنبلی اور اہلحدیث کہتے ہیں کہ متعہ اسلام میں جائز تھا حتیٰ کہ جنگ خیبر میں حرام ہوا پھر فتح مکہ یا اس کے متصل بعدغزہ اوطاس میں تین روز کے لئے حلال ہوا پھر دائمی طور پر حرام ہو گیا اب متعہ زنا ہے۔ اور متعہ کرنے والوںکو زنا کی سزاءدی جائے گی فکر قرآنی سے و ابستہ لوگ کہتے ہیں متعہ زنا ہی کی صورت ہے اور یہ اسلام میں کبھی جائز نہیں رہا اس طرح کی جو روایات ہیں وہ دوسری بہت سے روایات کی طرح موضوع ہیں۔ ہم پوری تفصیل کے ساتھ ان تینوں مکاتب فکر کے دلائل بیان کریں گے کوشش کریں گے کے کسی بھی دلیل کو نظر انداز نہ کریں۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ ان تینوں مکاتب فکر کی مستند کتابوں میں بیان کردہ دلائل کا استقصا کر لیں ہماری یہ کوشش بھی رہی ہے کہ حتیٰ الامکان اپنی رائے سے پرہیز کریں اور ہرگروہ کے دلائل بیان کرکے فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیں ۔ پہلے ہم شیعہ اور اہل سنت کے دلائل بیان کرینگے۔ قرآن حکیم اور متعہ سورئہ نساءکی ابتدا میں عورتوں کے مسائل کی بات شروع ہوئی ہے اس سلسلہ میں پہلے یہ کہا گیا : (اے ایمان لانے والو تمہار ے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جائو(یعنی مالک بن جائو) اور نہیں روک کے نہ رکھو اس نیت سے جو کہ مہر ان کو دیا تھا۔ اس میں سے کچھ لے لو مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیائی کا کام کرےں اور ان کے ساتھ اچھا برتائو کرو چاہے وہ تمہیں پسند نہ آئیں بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ نے اسی میں تمہاری لیے بھلائی رکھی ہو بہت بڑی۔(4/19) اس میں بتایا گیا کہ نکاح کے لئے عورت کی رضامندی بھی ضروری ہے جب ایسی صورت حال ہو کہ مرد شادی تو کر لے لیکن عورت اسے ناپسند ہو وہ اس سے الگ ہونا چاہتا ہو لیکن اس کے حق مہر کی ادائیگی کے خوف سے طلاق بھی نہ دیتا ہو یوں وہ یہ رویہ اختیار کرے کہ اسے ستاتا رہے اس پر ظلم کرے تاکہ وہ تنگ آکر خلع کی خواہش مند ہو اور اسے اپنا حق مہر چھوڑنا پڑے یا تنگ آکر اسے طلاق دینے کو کہے اور حق مہر کے کچھ حصہ سے دستبردار ہونے پر بھی تیار ہو جائے قرآن ایسے مردوں کو کہتا ہے عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو چاہیے وہ تمہیں کسی وجہ سے ناپسند بھی ہوں کیونکہ انسان کی سوچ آفاقی نہیں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو اللہ نے اس میں تمہارے لیے خیرکثیر رکھی ہو اسکے بعد یہ کہا گیا اگر تم ایک عورت کی جگہ دوسری عورت لانا چاہتے ہو تو اس کے ساتھ جس حق مہر کا وعدہ کیا ہے چاہیے وہ ڈھیروں مال (قنظار) ہو تو بھی اسے پورا پورا ادا کرو یاد کرو تم نے نکاح کر کے انہیں اپنے لیے حلال کیا تھا اور اس طرح ان عورتوں نے نکاح کی صورت میں تم سے عہد (میثاق غلیظ) لے لیا تھا پھر قرآن محرمات کی طویل فہرست پوری تفصیل سے پیش کرتا ہے کیونکہ جاہلیت میں رشتوں کا یہ احترام موجود نہ تھا اور اس کے بعد کہتا ہے کہ ان محرمات کے سوا باقی عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں مگر یہ بھی یونہی حلال نہیں ہوجاتیں کہ تم نے جس عورت پر ہاتھ کھڑا کیا وہ تمہاری ہو گی ، نہیں اس کے لئے بھی کچھ شرائط ہیں اور وہ یہ ہیں کہ (ان کے ماسوا جتنی بھی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعے سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو ،نہ یہ کہ آزاد شہوات رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاﺅ ان کے بدلے ان کے مہر بطور فرض کے ادا کرو البتہ مہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتا ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں)(ترجمہ تفہیم القرآن جلد اول ص369.341) اس آیت کا ترجمہ ہم نے وہی درج کیا ہے جو مولانا مودودی نے لکھا ہے فَمَااسکے معنی انہوں نے کئے ہیں ”پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھائو“ انہی الفاظ کا ترجمہ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے یہ لکھا”تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو“ (کنز الایمان آیت ھذا)دونوں نے ایک ہی بات کہی ہے۔ لیکن فَمَا اس کے یہی الفاظ ہیں جن سے ”متعہ “کا لفظ نکالا گیا اور اس آیت کے یہ معنی کیے گئے اور جن عورتوں سے تم نے ”متعہ“ کیا شیعہ علماءکہتے ہیں پہلے محرمات کا ذکر کیا گیا پھرکہا گیا۔ ”ان کے سوا جتنی بھی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعے حاصل کرنا تمہارے لئے حلال کر دیا گیا ہے بشرطیکہ حصار نکاح میں لائوجو دائمی ہے اور معروف ہے حق مہر کا ذکر بھی آگیا ، نکاح کا بھی پھر اس معاہدہ کا مقصد بھی آگیا کہ یہ آزادانہ شہوات رانی یا ”پانی گرانا“ نہیں پھر اس کے بعد جس استمبتاع اور حق مہر کا ذکر ہے وہ کیا ہے ان کے نزدیک یہی متعہ ہے اہل سنت کے بعض مفسرین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ اس آیت سے متعہ کا حکم نکلتا ہے۔ تفسیر خازن میں ہے ایک گروہ کا خیال ہے کہ آیت سے نکاح متعہ مراد ہے۔ ( خازن مطبوعہ ج ص 423) تفسیر خازن کے حاشیہ پر تفسیر معالم التزیل طبع ہوئی چنانچہ اسی صفحہ پر تفسیر معالم کے الفاظ ہیں اس آیت کے معانی میں اختلاف ہوا ہے حسن اور مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جن عورتوں کے ساتھ تم نکاح دائمی و صحیح کے ذریعے مہرادا کر کے انتقاع اور لذت حاصل کرو اور دوسرے لوگوں نے کہا اس سے مراد متعہ ہے‘ ”دوسرے لوگوں“کے لفظ استعمال ہوئے تو دوسرے لوگ کون ہیں؟ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ علماءمیں سے ایک جماعت کا یہ خیال ہے کہ استمتاع سے مراد ”متعہ “ ہے تفسیر مظہری ص 572)یہ علماءقلیل ہیں یا کثیر ؟تواہل سنت میں سے ہی علماءنے کہا یہ بہت سے ہیں بلکہ ان کے لئے”جمہور“ کا لفظ استعمال کیا جو بڑی اکثریت کے معنوں میں آتا ہے نواب صدیق حسن خا ن جو اہل حدیث حضرات کے مدار المہام ہیں لکھتے ہیں۔ اس آیت کے معنی میںاہل علم میں اختلاف ہوا ہے حسن مجاہد و غزہ کا قول ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جن عورتوں سے تم نفع اٹھائو اور لذت حاصل کرواور جمہور کا خیال ہے کہ اس آیت سے مراد متعہ ہے۔ (نیل المرام میں تفسیر آیات الاحکام ص 75) دوسری جگہ اس کتاب کے ص 76پر بھی اسی طرح قائلین متعہ کے لئے جمہور کا لفظ استعمال کیا ہے۔ انہی نواب صدیق حسن خان نے اپنی ایک دوسری کتاب میں بتایا ہے کہ فقہ حنفی کی کتاب فتح القدیر میں بھی یہی کہا گیا ہے ”جمہور گویند مراد بایں نکاح متعہ است“ (افادہ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ ص 37) سر سید احمد خان اگرچہ متعہ کے مخالف ہیں لیکن وہ بتاتے ہیں کہ اکثر مفسرین اور علمائے متقدمین اس آیت سے”متعہ“ مراد لیتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں ”یہ آیت بھی منجملہ ان آیتوں کے ہے جس کی تفسیر میں مجھکو تمام مفسرین اور علمائے متقدمین سے اختلاف ہے تمام مفسرین اس آیت کو آیت متعہ کہتے ہیں“ (تفسیر القران ج 2ص216) سرسید مرحوم نے تمام مفسرین اسلئے لکھدیا کہ جس مجاہد کا اختلاف نقل کیا جاتا ہے اس سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ وہ اسے نکاح متعہ کی آیت کہتے تھے حافظ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ”مجاہد سے روایت ہے کہ فَمَااس سے مراد نکاح متعہ ہے (تفسیر جامع البیان 5 ص 9)“ اس طرح یہاں تک شیعہ علما اور اکثر علمائے اہل سنت متفق ہیں کہ متعہ کا جواز قرآن کی مذکورہ بالاآیت سے ملتا ہے۔ قرآن کی آیت میں اضافی الفاظ وہ مفسرین بھی ہیں جنہوں نے ”فمااستمتعتم“کے معنی ہی یہی کئے ہیں کہ حصول لذت کے لئے نکاح کرنا چنانچہ پہلے باقاعدہ مفسراور باقاعدہ مورخ حافظ محمد بن جریر طبری نے اس آیت کی تفسےر میں جب یہاں سے متعہ کی اجازت اخذ کرنے والے لوگوں کے اقوال لکھے ہیں تو ابتدا یوں کی ہے۔ ”دوسرے اشخاص نے کہا ہے اس آیت کے معنی ہیں کہ جن عورتوں سے تم اجرت دے کر لذت حاصل کرنے کے لئے متعہ کرو“(جامع البےان المعروف تفسےر طبری مطبوعہ مصر قرآن حکیم کے ایسے نسخے بھی تلاش کر لئے گئے جن میں فمااستمتعتم بہ منھنکے بعد الی اجل مسمی (یعنی جن سے تم مدت مقرر تک کے لئے نکاح کرو) کے الفاظ بھی لکھے ہوئے تھے چنانچہ ”ابو ثابت کا بےان ہے کہ حضرت ابن عباس نے مجھے ایک مصحف دیا اور کہا کہ یہ حضرت ابی کی قرات کے مطابق مصحف ہے ۔ یحییٰ بن عیسی جواس روایت کے ناقل ہیں کہتے ہیں میں نے نصیر کے پاس وہ مصحف دےکھا اس میں فمااستمتعتم بہ مھننکے بعد الی اجل مسمی کے الفاظ لکھے ہوئے تھے“۔ ابو نضرہ کی روایت ہے میں نے ابن عباس سے متعہ النساءکے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا تم قرآن میں سورہ نساءکی تلاوت نہیں کرتے کہ اس میں فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی لکھا ہوا ہے میں نے کہا نہیں اگر اس طرح لکھا ہوا پڑھتا تو آپ سے کیوں پوچھتا انہوں نے کہا تو تمہیں معلوم ہو نا چاہیے کہ اصل آیت یونہی ہے ۔ ایک اور روایت میں یہی راوی ابو نضرہ کہتا ہے میں نے ابن عباس کے سامنے آیت پڑھی تو انہوں نے اس میں ”وہی الی اجل مسمی و الا اضافہ کر دے کہا میں تو اس طرح نہیں پڑھتا انہوں نے کےا خدا کی قسم خدا نے یہ آیت اسی طرح نازل کی ہے“(اےضاً) کہا گےا کہ ابی بن کعب کی قرات یونہی ہے ۔ ممکن ہے بعض لوگوں نے اپنی ذاتی رائے کے مطابق اپنے مصحف میں تفسیری الفاظ کے طور پر کچھ اضافہ کر دےا ہو مگر آج پوری دنےا جس کتاب کو قرآن مانتی ہے جو اہل تشیع اور اہل سنت اور سب فرقوں کے نزدیک متفق علیہ ہے اس میں کہیں یہ الفاظ نہیں ۔ کیا یہ آیت منسوخ ہے؟ قرآن حکیم کی بعض آیات کو منسوخ بھی سمجھاجاتا ہے جہاں تک ہمیں معلوم ہے پرانے زمانہ میں معتزلہ اور خاص طور پر ابو مسلم اصفہانی اور جدید دور کے بعض مفسرین کے سوا سبھی لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کے بعض احکام منسوخ ہو چکے ہیں پھر منسوخ کی قسمیں بےان کی گئی ہیں کہ 1۔کچھ وہ احکام تھے جن کی تلاوت منسوخ ہو گئی یعنی قرآن میں تھے نکال دیئے گئے اب ان احکام کے الفاظ قرآن میں موجود نہیں مگر ان کا حکم باقی ہے ۔ اس سلسلہ میں شادی شدہ زانی زانیہ کو سنگسار کر دےنے کا حکم لایا جاتا ہے کہاجاتا ہے کہ ”آیہ رحم “قرآن میں تھی پھر خدا نے منسوخ التلاوت کر دی مگر حکم باقی ہے ۔ اس عجیب بات کا مفہوم ہم تو نہیں سمجھ سکے کہ جب حکم باقی رکھنا تھا تو قرآن سے آیت کو خارج کردےنے کی کیا ضرورت تھی ۔ 2۔کچھ احکام تھے جن کی تلاوت بھی منسوخ ہو گئی حکم بھی منسوخ ہو گےا یعنی قرآن سے ان آیات کو نکال دیا گیا ۔ 3۔کچھ آیات ہیں جن کی تلاوت تو ہوتی ہے مگر حکم منسوخ ہو چکا ہے ۔ ایسی آیات کے متعلق کہاجاتا ہے کہ انہیں یا قرآن سے منسوخ کیا گیا ہے اور دوسری آیت لائی گئی ہے اور یا پھر حدیث سے قرآن کا حکم منسوخ ہو گیا ہے ۔ آج اہل سنت چونکہ متعہ کا انکار کر تے ہیں ذہن پر روایات کا غلبہ بھی ہے اس لئے آیت زیر بحث سے متعہ کا مفہوم بھی اخذ کرتے ہیں وہ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے اب سوال اٹھا کہ اگر یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے تو اس کی ناسخ کونسی آیت ہے؟اس میں بھی اختلاف ہوا ذرا یہ تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔ ”امام شافعی کہتے ہیں آیت متعہ کی ناسخ یہ آیت ہے والذین ھم لفرو جھم حافظون الا علی ازواجھم اوماعلکت اےمانھم الخ(اور مسلمان وہ لوگ ہیں جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں سوا اس کے کہ وہ اپنی بیوی یا ملک یمین یعنی لونڈی کے پاس جائیں کہ اس میں ملامت نہیں اور جو اس کے سوا کوئی راستہ تلاش کریں تو ایسے لوگ حد سے گزرنے والے ہیں)اس میں حلال ہونے کا انحصار اس پر ہے کہ عورت یا بیوی ہو یا شرعی لونڈی، اور متعہ کی عورت نہ بیوی ہو تی ہے نہ ملک یمین“(لباب التاویل المعروف تفسیر خازن علامہ ابو عبد اللہ محمد بن حزم بھی امام شافعی سے یہی بات روایت کرتے ہیں دیکھئے معرفة الناسخ والمنسوخ مطبوعہ مصر بر حاشیہ تنویر المقیاس صفحہ،علامہ ابن حزم بڑے یقین سے بھی کہتے ہیں کہ ”سب متفق ہیں کہ زن ممتوعہ نہ زوجہ ہے نہ ملک یمین“ نواب صدیق حسن خان بھی اسی آیت کو ناسخ قرار دیتے ہیں اور پھر لکھتے ہیں ۔ ”عائشہ اور قاسم بن محمد اسی آیت کو ناسخ اس لئے قرار دیتے ہیں کہ زن ممتوعہ نہ زوجہ ہے ، نہ ملک یمین اور نہ وراثت حاصل کرسکتی ہے“ شاہ عبد العزیز صاحب بھی اسی آیت سے حرمت متعہ کے لئے استدلال کر تے ہیں اور پھر کہتے ہیں ۔ ”ظاہر ہے کہ جس عورت کے ساتھ متعہ کیا جائے اس کو نہ شیعہ زوجہ کہتے ہیں نہ ان کے مخالفین اور کوئی حکم جو زوجہ کے بارے میں ہے اس عورت کے بارے میں نہیں نہ نان نفقہ ، نہ رہنے کا مکان ، نہ طلاق، نہ عدت ، نہ میراث“(فتاویٰ عزیزی کا مل شائع کردہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی طبع جدید ان دلائل کے جواب میں شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ ان کے ہاں زن ممتوعہ کو زوجہ کہاجاتا ہے رہی میراث تو ضروری نہیں کہ ہر زوجہ میراث پائے مثال کے طور پر وہ زوجہ جو اپنے شوہر کو قتل کرے میراث سے محروم ہو جا تی ہے اور بعض علماءشیعہ کے نزدیک تو جب پہلے سے شرط نہ کر لی گئی ہو اسے میراث ملے گی کہ متعہ اگر نکاح تسلیم کیاجائے تو عورت یقیناً زوجہ ہو گئی ۔ اس لئے وہ آیت مذکورہ بالا کو ناسخ نہیں مانتے ادھر صاحب تفسیر کشاف علامہ جاراللہ زنحشری بھی ان کے ہمنوا ہیں لکھتے ہیں ۔ ”اگر تم دریافت کرنا چاہو کہ اس آیت(وہی مذکورہ آیت) میں حرمت متعہ کی کوئی دلیل ہے میں کہونگا نہیں ، کیونکہ نکاح متعہ صحیح قرار دیا جائے تو وہ عورت ازواج میں داخل ہو جاتی ہے“ (تفسیر کشاف مطبوعہ بولاق مصر) ناسخ آیت کو منسوخ کے بعد نازل ہونا چاہیے مگر یہاں کیا کیفیت ہے ؟مذکورہ بالا آیت سورہ مومنون اور سورہ معارج میں آئی ہے اور مفسر حضرات کہتے ہیں یہ دونوں سورتیں تمام کی تمام مکی ہیں جبکہ فمااستمتعتم والی آیت جس سے متعہ کا استدلال کیا گیا ہے بالاتفاق مدنی ہے ۔ شاہ عبد العزیز صاحب اس کے جواب میں کہتے ہیں ۔ ”اگرچہ یہ دونوں سورتیں مکی ہیں مگر یہ آیت (جسے ناسخ کہا گیا ہے ) مدنی اور ”اتقان“ میں جو یہ لکھا ہے کہ مدنی نہیں تو جواب اس کا یہ ہے کہ صحابہ اور مشاہیر تابعین ناسخ منسوخ اور مقدم موخر سے زیادہ واقف تھے ۔ جب انہوں نے اس آیت کو ناسخ کہا ہے تو یہ قوی دلیل اس امر کی ہے کہ یہ آیت مدنی ہے“ (فتاویٰ عزیزی حضرت ابن عباس جن سے متعہ کی حلت کی بہت سی روایات ہیں ایک روایت اس کی حرمت کی بھی ہے عطاءخراسانی روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس کہتے تھے آیت طلاق متعہ والی آیت کی ناسخ ہے(تفسیر خازن بغدادی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جس آیت سے متعہ ثابت کیا جاتا ہے وہ قرآن سے نہیں حدیث سے منسوخ ہے خیال رہے کہ امام شافعی اس کے قائل نہیں کہ حدیث قرآن کی آیت کو منسوخ کر سکتی ہے ۔وہ لوگ اس سلسلہ میں مختلف روایات بےان کر تے ہیں ۔ حدیث اور متعہ اب ان احادیث کو دیکھئے جن میں متعہ کی اجازت دی گئی ہے ۔ ”حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائیوں پر جایاکرتے تھے اور ہمارے لئے کوئی سامان نہ ہوتا تھا ( جس سے جنسی خواہش پوری کی جاتی ) تو ہم نے کہا ہم خصی نہ ہو جائیں ( اعضائے شہوانی کو بےکار نہ کر الیں ) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور ہمیں اجازت دی کہ ہم عورتوں سے کچھ لباس( کپڑے ) وغیرہ کے عوض متعہ کر لیا کریں“ (صحیح بخاری مطبوعہ مصر ج3ص۶۴1) یہی روایت صحیح مسلم میں تین طریقے سے موجود ہے یہی جمع الفوائد، مسند امام شافعی میں بھی معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ نقل ہوئی ۔ علامہ ابن تیمیہ نے ”منتقی الاخبار“ میں یہی روایت نقل کی ہے اور اسے متفق علےہ قرار دیا ہے ۔ اس کی تائیدی روایت حضرت قیس سے بھی مروی ہے جسے ”کنز العمال “ میں نقل کیا گیا ہے ۔ جابر بن عبد اللہ اور سلمہ بن الاکوع سے روایت میں بتایا گیا ہے کہ وہ کسی لشکر میں تھے اور حضور کی طرف سے ایک آدمی نے آکر کہا ”متعہ کی اجازت ہے “(صحیح بخاری ج3ص50۱ ، صحیح مسلم ص50۴) صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور خود آئے اور انہوں نے متعہ کی اجازت کی بات کی۔ انہی سلمہ بن الاکوع سے ایک اور روایت میں بتایا گیا کہ آپ نے فرمایا متعہ کی مدت تین دن ہونی چاہیے (صحیح بخاری ج3ص051) صحیح مسلم میں سلمہ بن الاکوع بتاتے ہیں کہ یہ اجازت اوطاس والے سال ہوئی تھی (صحیح مسلم ص15۴) ”سبرہ جہنی کی روایت ہے کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کی اجازت دی میں اور ایک دوسرا شخص ساتھ ساتھ گئے ہم بنو عامر کی ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا اس نے اجرت کے متعلق دریافت کیا میں نے اپنی چادر اور میرے ساتھی نے اپنی چادر کی پیشکش کی اس آدمی کی چادر مجھ سے بہتر تھی مگر میں اس کی نسبت بہتر جوان تھا عورت کبھی مجھے دیکھتی کبھی اسے چادر پر نظر ڈالتی تو اس کی طرف راغب ہوتی چہروں پر نظر ڈالتی تو مجھے پسند کرتی پھر اس نے میرے حق میں فیصلہ دیا اور کہا تمہاری چادر میرے لئے کافی ہے میں تین روز تک اس کے ساتھ رہا“۔ (صحیح مسلم ص15۴) اس کے بعد انہی سبرہ جہنی کی یہ روایت بھی دیکھئے اس میں کچھ اور تفصیلات بھی ہیں ”سبرہ جہی کا بےان ہے کہ فتح مکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پورے پندرہ دن مکہ میں رہنا پڑا تو آپ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی میں اور میری ہی قوم کا ایک شخص دونوں ایک ساتھ نکلے میں اپنے ساتھی کی نسبت خوبصورت تھاوہ ذرا بدصورت تھا مگر میری چادر پرانی تھی اور اسکی نئی یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے آخری حصہ میں پہنچے تو ایک عورت ہم کو نہایت حسین و جمیل ملی ہم نے اس سے متعہ کی خواہش کی اس نے اجرت کا سوال کیا ہم دونوں نے اپنی اپنی چادر پھیلا دی اس نے ہم دونوں کے چہروں پر نظر ڈالی میرے ساتھی نے کہا دیکھو اس کی چادر پرانی ہے اور میری بالکل نئی ہے عورت نے کہا اس کی چادر مجھے منظور ہے یہ الفاظ اس نے دو یا تین بار کہے اور میں نے اس سے متعہ کیا“(ایضاً) یہاں سے ہمیں معلوم ہوا کہ یہ اجازت فتح مکہ کے دوران ہوئی اور یہ عجیب بات بھی سامنے آئی کہ صرف”پندرہ دن“ہوئے تھے اور اجازت ہوئی یہ روایات اور طرق سے بھی صحیح مسلم میں آئی ہے انہی سبرہ سے کنزالعمال میں یوں روایت ہے کہ ”ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجة الوداع کے لئے مدینہ سے نکلے اور مکہ معظمہ پہنچے کعبہ کا طواف کیا صفا اور مروہ کے درمیانی سعی کرچکے اس کے بعد ہمیں متعہ کی اجازت دی گئی ہم نے پھر آکر عرض کی کہ عورتیں متعہ کے لئے راضی نہیں ہوتیں جب تک میعاد نہ مقرر کر لی جائے آپ نے فرمایا میعاد مقرر کر کے متعہ کرو“(کنز العمال ص۴92) اس سے اگلی روایت میں راوی نے وضاحت کی کہ انہی مکہ کی عورتوں سے متعہ کی اجازت دی گئی تھی ۔ ہم غیر جانبدار رہتے ہوئے یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ صحابہ کے متعلق تقویٰ اور تقدس کے جو جذبات ہمارے دل میں موجود ہیں ایسی روایات سے انہیں بہت ٹھیس پہنچتی ہے کیا یہ لوگ پندرہ روز تک بھی صبر نہیں کر سکتے تھے؟(خدا ہمیں معاف کرے) حرمت متعہ کی روایات عام خیال یہی ہے کہ متعہ جاہلیت کی ایک رسم تھی جسے اسلام نے بھی عرصہ تک گوارا کیے رکھا حتیٰ کہ اس کی حرمت کے واضح احکام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دیئے شاہ عبد العزیز محدث دہلوی لکھتے ہیں ۔ ”ابتدائے اسلام میں حلال و حرام کے احکام رفتہ رفتہ نازل ہوئے تھے چنانچہ شراب اور سود کی حرمت کا حکم نبوت کے اکیسویں سال میں صادر ہوا اور ہجرت سے آٹھویں سال میں ہوا تھا ایسا ہی جب تک متعہ کے بارے میں حکم نازل نہ ہوا تھا اس وقت تک جاہلیت کی عادت کے موافق متعہ کیا کرتے تھے خیبر کی لڑائی میں متعہ حرام ہوا ۔ چنانچہ یہ روایت حضرت امیر المومنین علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے صحیح طور پر ثابت ہے اور وہ وقت ساتواں سال ہجرت کا تھا پھر اس کے بعد آٹھویں سال کے آخر میں جنگ اوطاس میں تین دن تک متعہ کی شرعاً اجازت دی اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے واسطے مکہ تشریف لے آئے تو کعبہ شریف سے تشریف لے جانے کا ارادہ ہوا تو کعبہ شریف کے دروازہ کے دونوں بازو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر فرمایا کہ ”متعہ قیامت تک کے لئے ہمیشہ کے واسطے حرام کیا گیا ۔ یہ کلام مبارک رات کے وقت فرمایا کہ کم لوگ حاضر تھے یہ حکم جیسا کہ چاہیے تھا مشتہر نہ ہونے پایا تھا“ (فتاویٰ عزیزی کا مل طبع جدید 80۴۱ھ ص7۴5) اس عبارت میں شاہ صاحب واضح طور پر لکھ رہی ہیں کہ ”آٹھویں سال کی آخر میں جنگ اوطاس میں تین دن تک شرعاً اجازت رہی“ لیکن وہی شاہ صاحب اپنے اسی فتویٰ میں چند صفحے آگے جا کر یہ الفاظ لکھتے ہیں ۔ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے وقت اشد ضرورت کی حالت میں اجازت فرمائی تھی کہ”نکاح موقت کیا جائے اور اس وقت بھی“ متعہ کے لئے اجازت نہ فرمائی تھی چنانچہ اس کی تصریح عمران ابن حصین اور ابو موسیٰ اشعری وغیرہ کی روایت میں ہے جو کہ صحیح مسلم وغیرہ کتب صحاح میں مذکور ہے قدرخصی لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام اوطاس ان تنکحو المراة بالتوب والی اجل ترجمہ: یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کے لئے غزوہ اوطاس کے سال بوجہ ضرورت اجازت فرمائی تھی کہ عورت کے ساتھ کپڑے کے عوض کسی وقت تک کے لئے نکاح کر لیا جائے اس سے صراحةً معلوم ہو تا ہے کہ نکاح موقت کے لئے اجازت فرمائی تھی اور متعہ کے لئے اجازت نہ فرمائی تھی“ (فتاویٰ عزیزی کامل ۴55) اوپر شاہ صاحب اسے متعہ لکھ چکی ہیں اب اسے ”نکاح موقت“قرار دے کر بات کو پھیرنا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ شیعہ حضرات جو متعہ کو نکاح شمار کر تے ہیں ایک دلیل اسی روایت کو بھی بناتے ہیں دوسرے اس میں شاہ صاحب نے لکھا ہے حضور نے یہ اجازت اشد ضرورت کے تحت دی تھی یہ وضاحت نہیں کی کہ خدانخواستہ وہ کونسی ایسی اشد ضرورت پیش آگئی تھی روایت لکھ کر ترجمہ میں بھی مترجم نے بھی ”اشد ضرورت“ تو نہیں لکھا ”بوجہ ضرورت“ لکھ دیا جو روایت کے کسی لفظ کا ترجمہ نہیں ذرا آگے چل کر شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضور نے اجتہادی طور پر نکاح موقت کو جائز سمجھ لیا تھا بعد میں وحی نے صراحت کر دی کہ یہ نکاح جائز نہیں وہی ناک کو گردن کے پیچھے سے ہاتھ گھما کر پکڑنے والی بات ہے بہر حال اس روایت سے معلوم ہوا کہ متعہ جنگ خیبر میں حرام کیا گیا ۔ یہی بات حضرت علی سے بھی منسوب ہے امام مالک اپنی سند سے روایت لاتے ہیں ۔ ”حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز متعہ سے منع کیا اور پالتو گدھوں کے گوشت سے “ (موطا امام مالک مطبع مجتہائی پاکستان ص705) قیس کی روایت میں بھی خیبر میں ممانعت کر دینے کی بات کی گئی ہے (کنز العمال ج8ص2۴9) سبرہ جہنی کی ایک روایت میں ممانعت فتح مکہ سے متعلق کی گئی (صحیح مسلم مطبوعہ دہلی ص15۴) اور ایک دوسری روایت میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ حجة الوداع میں ہوا یہ روایت ہم پوری درج کئے دیتے ہیں کیونکہ باقی روایتوں میں صرف متعہ کی ممانعت ( نہیٰ) کا ذکر ہے لیکن اس میں حرمت کی بات آئی ہے اور اسی سے باقی روایات کی ممانعت کو بھی حرمت سمجھا گیا روایت ہے کہ حجة الوداع کے موقع پر ”صبح ہوئی میں مسجد میں گیا تو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے ہیں میں نے سنا آپ نے فرمایا جس نے کسی عورت کو کسی خاص مدت تک کے لئے اپنی زوجیت میں لے وہ اس کو اس کی مقررہ اجرت ادا کرے اور جو کچھ دے چکا ہے اس میں سے کچھ واپس نہ لے خدا نے اب اس متعہ کو تم پر قیامت تک کے لئے حرام کر دیاہے“ (کنزالعمال ج8ص۴92) اسحاق بن راشد نے حضرت علی سے منسوب یہ قول روایت کیا ہے کہ علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ ”رسول اکرم نے متعہ سے جنگ تبوک میں منع فرمایا“(نووی شرح مسلم ج1ص50۴) حسن بصری سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے کہا”متعہ کبھی حلال نہیں ہوا سوائے عمرہ القضاءکے “ سلمہ بن اکوع کی روایت میں بتایا گیا ہے کہ ”متعہ کی ممانعت جنگ اوطاس والے سال تین دن کی اجازت دینے کے بعد ہوئی“ (صحیح مسلم ص15۴) علامہ نووی نے قاضی عیاض سے یہی مختلف روایات نقل کر کے یہ فیصلہ دیا ہے ۔ ”قول مجتارا اور صحیح بات ہمارے نزدیک یہ ہے کہ متعہ کی ممانعت اور اس کی اباحت دو مرتبہ ہوئی ۔ یہ خیبر سے پہلے حلال تھا خیبر کے روز اس کی ممانعت ہوئی پھر وہ فتح مکہ کے دن جسے یوم اوطاس بھی کہا جا تا ہے اس لئے کہ دونوں متصل ہیں مباح کیا گیا پھر تین دن کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے حرام ہو گیا اور اس کے بعد سے حرمت باقی رہی (نووی شرح صحیح مسلم ج۱ص50۴،15۴) علامہ نووی نے قاضی عیاض کی جو طویل عبارت نقل کی ہے اس میں قاضی صاحب تمام روایات بےان کر نے کے بعد کہتے ہیں کہ اصل میں متعہ کی ممانعت جنگ خیبر کے روز ہوئی تھی باقی مواقع پر صرف اسی ممانعت کی تجدید وتاکید ہو تی رہی مگر امام نووی نے کہا کہ خیبر کے بعد اس کے جواز کی روایات بھی آئی ہیں اس لئے تمام روایات کو تطبیق اسی طرح دی جا سکتی ہے کہ تسلیم کر لیا جائے متعہ دو مرتبہ مباح ہوا اور دومرتبہ اس کی ممانعت آئی اےسی ہی رائے پہلے امام شافعی نے بھی قائم کی تھی قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں ۔ ”امام شافعی کا قول تھا کہ مجھے اسلام میں کسی چیز کا علم نہیں جو ایک مرتبہ حلال تھی پھر حرام ہوئی پھر حلال ہوئی پھر حرام ہوئی سوائے متعہ کے کہ یہ اسی طرح ہوتا رہا بعض علماءنے کہا وہ تین دفعہ منسوخ ہوا بعض نے کہا اس سے زیادہ دفعہ ایسا ہوا ہے“ (تفسیر مظہری ص۲۷۵) بخاری کے مشہور شارح علامہ ابن حجر عسقلانی نے تمام روایات پر طویل بحث کی ہے مگر آخر یہی نتیجہ اخذہوتا ہے کہ متعہ دو دفعہ مباح ہوا اور دو دفعہ ممنوع (فتح الباری شرح صحیح بخاری مطبوعہ مصر ج9 ص331) علامہ ابن قیم جوزی تمام روایات نقل کر کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ”صحیح یہ ہے کہ متعہ فتح مکہ والے سال حرام ہوا ہے اس لئے کہ صحیح مسلم سے ثابت ہے کہ صحابہ نے فتح مکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حضرت کی اجازت سے متعہ کیا اور اگر ممانعت خیبر میں ہو چکی تھی تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ متعہ دو مرتبہ منسوخ ہوا اور یہ ایسی بات ہے جس کی نظیر شرع میں ملنا ناممکن ہے اور ایسا شریعت میں ہوتا بھی نہیں نیز خیبر میں مسلمان عورتیں نہیں تھیں اور اہل کتاب سے نکاح اس وقت جائز نہیں ہوا تھا“ (زادالمعاد مطبوعہ مصرج1ص2۴۴) متعہ اور جناب عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں روایات نے اس نتیجہ پر پہنچایا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر فتح مکہ میں متعہ ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دے دیا ۔ روایات یہیں تک آئیں تو بھی قابل اعتراض تھیں مگر انہوں نے تو بات کو آگے بڑھا دیا اور بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کے باوجود متعہ ہوتا رہا تاآنکہ جناب فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ختم کیا اور یہ سب کچھ شیعہ حضرات کے ہاں نہیں خود اہل سنت کی کتابوں میں ہے ۔ سب سے پہلے صحیح مسلم کی روایات ملاحظہ فرمائیے۔ عطا کی روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ عمرہ کے ارادہ سے مکہ معظمہ آئے تو ہم ان کی ملاقات کو گئے مختلف لوگوں نے ان سے مختلف مسائل دریافت کئے پھر متعہ کا ذکر چل نکلا انہوں نے کہا ”ہم لوگوں نے(صحابہ کرام ) عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر ابو بکرو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں برابر متعہ کیا ہے“ (صحیح مسلم ج۱ص15۴) ایک اورروایت میں ہے کہ انہی حضرت جابر بن عبد اللہ نے کہا ۔ ”ہم لوگ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد ابو بکر میں مٹھی بھر جو یا آٹے کے بدلے متعہ کرتے رہے ہیں حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرو بن حریث والے واقعہ میں اس سے ممانعت کر دی“ (صحیح مسلم ج۱ص۴52،جمع الفوائد ج۱ص323) حضرت جابر بن عبد اللہ سے اس طرح کی اور روایات کنزل العمال ج۸ص۳۹۲۔۴۹۲ پر مذکور ہوئی ہیں ۔ ایک دوسرے مقتدر صحابی حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا”ہم میں سے جب کوئی چاہتا پیالہ بھر ستوکے عوض متعہ کر لیاکرتا“ (کنزالعمال ج8ص592،فتح الباری ج9ص88 1 ) کنز العمال کی اگلی روایت میں حضرت ابو سعید خدر ی نے پیالہ بھر ستو کی جگہ کپڑے کے عوض متعہ کرنا بیان کیا ہے ۔ اب ایک نظر ان روایات کو دیکھئے جن میں بتایا گیا ہے کہ متعہ کے نتائج بھی برآمد ہوئے اور حضرت عمر فاروق ناراض بھی ہونے لگے ۔ ”سلمہ بن امیہ نے ایک عورت سے متعہ کیا یہ خبر حضرت عمر کو پہنچی تو انہوں نے اس کی تہدیدکی“ (بحوالہ تفسیر مظہری ص275،فتح الباری ج9ص831) ”سلمہ نے حکیم بن امیہ کی کنیز سے متعہ کیا تھا اور اس سے لڑکا پیدا ہو گیا“(اصابہ فی معرفة صحابہ ج6ص3۶) ”محدث عبد الرزاق نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ معاویہ نے طائف میں ایک عورت سے متعہ کیا“(تفسیر مظہری ص275) اب ایک تفصیلی روایت دیکھئے ۔ ”ام عبد اللہ بن ابی خیثمہ کی ایک روایت ہے کہ ایک بزرگ (صحابی) شام سے تشریف لائے اور ان کے مکان پر قیام کیا اور ان سے کہا”عورت کے بغیر مجھے بڑی تکلیف ہے میرے لئے عورت تلاش کر لاﺅ جس سے میں متعہ کروں“ وہ کہتی ہیں اس نے ایک عورت کا پتہ دیا اور انہوں نے اس سے متعہ کیا اور کچھ عادل لوگوں کو گواہ ٹھہرایا ایک طویل عرصہ تک اس کے ساتھ رہے پھر شام چلے گئے کسی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دی انہوں نے مجھے بلایا اور واقعہ کی تصدیق چاہی میں نے تصدیق کر دی انہوں نے فرمایا اب یہ صاحب آئیں تو مجھے اطلاع دینا پھر جب وہ آئے تو میں نے حضرت عمر کو اطلاع دی انہوں نے انہیں بلوابھیجا اور پوچھا”تم نے کیا کیا تھا“ انہوں نے کہا”میں نے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تھا انہوں نے منع نہ فرمایا پھر یہاں تک کہ انتقال فرمایا پھر حضرت ابو بکر کے زمانہ میں ایسا ہوا اور انہوں نے منع نہ کیا پھر آپ کے زمانہ میں ایسا ہوتا رہا اور آپ نے منع نہ کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا قسم اس خدا کی جس کے قبضہ میری جان ہے اگر میں پہلے سے ممانعت کر چکا ہوتا تو تمہیں سنگسار کردیتا اچھا اب جدائی کر لو تا کہ نکاح اور زنا میں فرق رہے“(کنز العمال ص۴92) روایات تو بات کو یہاں تک لے گئی ہیں کہ متعہ معززگھرانوں کی خواتین تک سے ہوتا رہا ۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں ۔ ”نسائی اور صحاوی نے روایت کیا کہ حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں متعہ کیا“(تفسیر مظہری ص۶75) ہم لکھ آئی ہیں کہ حضرت ابن عباس تو اس آیت میں جس سے متعہ کی بات چلی ہے اضافی الفاظ پڑھتے تھے اور کہتے تھے آیت یونہی نازل ہوئی یعنی متعہ کے بہت زیادہ قائل تھے ان سے حضرت عروہ رضہ اللہ تعالی عنہ بن زبیررضہ اللہ تعالی عنہ نے کہا ”تمہیں خدا کا خوف نہیں متعہ کی اجازت دیتے ہو تو ابن عباس نے کہا اے عروہ اپنی ماں سے پو چھ اور جب انہوں نے اپنی والدہ حضرت اسماءسے پو چھا تو آپ نے وہی جملہ ارشاد فرمایا جو اوپر لکھا جاچکا ہے“(زاد المعاد ابن قیم ج1ص912) بعض روایات کے الفاظ ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ سے ممانعت کا فیصلہ پہلے نہیں ہوا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی طرف سے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے۔ ”حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فاروق نے فرمایا“ دو قسم کے متعے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں موجود تھے ۔ میں ان دونوں سے ممانعت کر تا ہوں ایک عورتوں سے متعہ کرنا اور دوسرے متعة الحج“ (کنز العمال ج8ص392)”ابو قلابہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر نے کہا دو قسم کے متعے حضور کے زمانہ میں تھے اورمیں ان سے ممانعت کر تا ہوں اور ان کے کرنے والوں کو سزا دلواﺅنگا “(ابن جریر ، ابن عساکر ، کنز العمال ج8ص۴92 ، تفسیر کبیر ج3ص591) اسی طرح کی روایت زاد المعادج 1ص3۴2 پر بھی ہے اور علامہ توشجی نے شرح تجرید میں بھی ایسی ہی روایت بیان کی ہے ۔ ان روایات سے استدلال کرتے ہوئے شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ متعہ سے حضور نے منع نہیں کیا تھا یہ حضرت عمر کا تعزیری حکم تھا جو آپ نے وقتی طور پر بعض مفاسد دیکھ کر نا فذ فرمایا تھا اور وہ مفاسد یہ تھے کہ ”سلمہ بن امیہ نے حکیم بن امیہ اسلمی کی کنیز سے متعہ کیا ار اس کے لڑکے پیدا ہو گیا مگر سلم نے لڑکے سے انکار کیا یہ خبر حضرت عمر کو پہنچی تو انہوں نے ممانعت فرمائی“ (اصابہ فی معرفة صحابہ ج2ص3۶) ”عمرو بن زبیر کی روایت ہے کہ خولہ بنت حکیم حضرت عمر کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ ربیعہ نے ایک کمسن لڑکی سے متعہ کیا اور وہ حاملہ ہو گئی یہ سن کر حضرت عمر پریشان ہو گئے اور گھبراہٹ میں اپنی چادر گھسیٹتے باہر آئے اورکہا یہ ہوتا ہے متعہ؟اگر میں پہلے سے ممانعت کر چکا ہوتا تو سنگسار کرنے کا حکم دے دیتا“ (موطاامام مالک مطبوعہ مصرج۲ص30) عہد رسالت کے بعد متعہ کیوں؟ سوال پیداہوتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ممانعت فرما چکے تھے بلکہ ایک روایت کے مطابق حرام کر چکے تھے تو پھر متعہ عملاً کیوں چلتا رہا حتیٰ کہ حضرت عمر کے زمانہ میں بھی ہورہا تھا اور آپ نے اس کی ممانعت کی اس کے جواب میں شیعہ حضرات کے نمائندہ عالم جناب سید علی نقی النقوی رقمطراز ہیں ۔ ”حضرت (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو وقتی ومصالح کے لحاظ سے ہر چیز کا اسی وقت حکم دینا ممکن تھا جب اس کی ضرورت ہو اور اسی وقت تک جب تک اس کی ضرورت باقی رہی،اس بنا ءپر متعہ کے حکم میں بھی اس خصوصیت کو مد نظر رکھنا ضروری تھا لہذا جب کوئی سفر ہوا اور ضرورت پیش آئی تو حضرت کی جانب سے صحابہ کرام کو اجازت متعہ کی دی گئی اور جب روانگی کا موقع آیا اور وہ ضرورت محدود ہونے کے باعث ختم ہو گئی تو حضرت کی جانب سے متعہ کو ترک کر نے کی ہدایت ہوئی“(متعہ اور اسلام ص151) اگر بات اتنی کچھ تھی تو پھر یہ روایات کیوں وارد ہوئی ہیں؟ اس کے جواب میں علامہ نقویٰ صاحب لکھتے ہیں ۔ ”بعض راویوں کو دھوکا ہوا اور بیان کرنے میں کچھ کا کچھ ہو گیا اباحت کو ایک مستقل حکم بنادیا اور ممانعت کو اس حکم کی منسوخیت اور حرمت شرعی کا اعلان قرار دے دیا اور بعض غیر محتاط راویوں نے اس میں ”حرمہ علےکم الی ےوم القےامة کا فقرہ بڑھا کر ( اپنی طرف سے ) جو کچھ کسر باقی تھی اسے تحریم ابدی کی شکل میں پورا کر دیا اور ان تمام مشکلات کا باعث ہو گئے جو ایک خلاف واقعہ غلط فہمی سے پیدا ہو سکتے ہیں“(ایضاً ص251) گویا ان کی تحقیق کے مطابق متعہ کبھی حرام نہیں ہوا تھا راویوں نے غلطی سے حرام کا لفظ استعمال کر دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ضرورت دیکھی متعہ کی اجازت دےدی جب دیکھا کہ ضرورت ختم ہو گئی متعہ سے منع کر دیا اسی لئے آپ کے بعد بھی صحابہ متعہ کرتے رہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب دیکھا کہ اس کے برے نتائج ظاہر ہونے لگے ہیں تو وقتی طور پر اس پر پابندی عائد کر دی اب اسی سوال کا جواب(کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کے بعد بعض صحابہ سے متعہ کے جاری رہنے کی روایات کیوں آتی ہیں )اہل سنت سے سنئے شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی لکھتے ہیں ۔ ”خیبر کی لڑائی میں متعہ حرام ہوا چنانچہ یہ روایت امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے صحیح طور پر ثابت ہے اور وہ وقت ساتواں سال ہجرت کا تھا پھر اس کے بعد آٹھویں سال کے آخر میں جنگ اوطاس کا واقعہ ہوا اور اس میں تین دن تک متعہ کی شرعا اجازت رہی اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مکہ تشریف لے آئے تو کعبہ شریف سے تشریف لے جانے کا ارادہ ہوا تو کعبہ شریف کے دروازہ کے دونوں بازو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر فرمایا کہ متعہ قیامت تک کے لئے ہمیشہ کے واسطے حرام کیا گیا“(یہ تفصیل ہم پہلے لکھ چکے ہیں اب سوال کا جواب شروع ہو تا ہے شاہ صاحب سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں”یہ کلام مبارک (حرمت کا حکم ) رات کے وقت فرمایا کم لوگ حاضر تھے یہ حکم جیسا چاہیے تھا مشتہر نہ ہونے پایا تھا کہ بعض لوگوں نے ناواقفیت میں حضرت عمر کی خلافت میں اس فعل کا ارتکاب کیا جب حضرت عمر امیر المومنین کو یہ خبر پہنچی تو آپ منبر پر چڑھے اور خطبہ فرمایا کہ متعہ گاہ گاہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا تھا لیکن آخر میں اس کی حرمت ثابت ہوئی ہے چونکہ میں نے اس سے قبل یہ حکم نہ دیا تھا ۔ لہذا اس مرتبہ درگذر کرتا ہوں لیکن اب اگر کوئی ایسی حرکت کرے گا تو اس پر زنا کی حد جاری کرونگا جس سے پھر یہ کام موقوف ہو گیا“(فتاویٰ عزیزی کامل ص7۴5) شاہ صاحب کا جواب آپ نے پڑھ لیا اس سے مزید کچھ اشکالات پیدا ہو تے ہیں ۔ ۱۔ یہ حکم جنگ اوطاس 8ھ کے معاً بعد صادر ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بقول علامہ شبلی ربیع الاول ۱۱ھ میں ہوئی اس کے بعد حضرت صدیق کا عہد خلافت تقریباً دو سال رہا پھر حضرت عمر فاروق کا دور آیا حلال و حرام کی بات ہے اور خود صحابہ کرام میں سے بعض مقتدر لوگ اس سے اتنے سال لا علم رہیں یہ بات ناقابل فہیم ہے انہی صحابہ کے توسط سے حضور کی زندگی کا ایک ایک لمحہ محفوظ ہو گیا ۔ ۲۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر میں یہ باتیں ”متعہ گاہ گاہ “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا تھا لیکن آخر میں اس کی حرمت ثابت ہوئی ہے “ شاہ صاحب کے اپنے شامل کردہ الفاظ ہیں کسی روایت میں یوں نہیں ۔ ۳۔اگر حرمت ثابت ہو چکی تھی تو قانون بھی وجود میں آگیا ہو گا پھر یہ کہنا کہ” میں نے اس سے قبل یہ حکم نہ دیا تھا لہذا اس مرتبہ درگذر کرتا ہوں“ یہ الفاظ بھی عجیب معلوم ہو تے ہیں جب ایک چیز ۵،۶ سال پہلے حرام کردی گئی اور ایسی حرام کہ آج حضرت عمر اس پر زنا کی سزا دے رہے ہیں اس پر اتنا عرصہ خاموشی کیوں ؟اور پھر یہ درگذر کیسا؟عام اصول ہے ۔ Ignorance of law is no excuse قانون سے لاعلمی کوئی بہانہ نہیں ۔ ۴۔پھر یہ کہ حضور جب حکم دے چکے حضرت عمر کا حکم کیسا؟علامہ ابن قیم جوزی نے بھی سوال کا تفصیلی جواب دیا ہے ان کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے ۔ ”اگر کوئی دریافت کر ے کہ کیا صراحت کرو گے اس روایت کے متعلق جو مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن تعالیٰ عنہ عبد اللہ سے نقل کی ہے کہ ہم ایک مٹھی خرمے اور آٹے کے عوض میں برابر متعہ کرتے رہے حضور کے زمانہ میں پھر حضرت صدیق رضہ اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں یہاں تک کہ عمر نے اس سے ممانعت کی عمرو بن حریث کے سلسلہ میں اور اس روایت کے بارے کیا کرو گے جو حضرت عمررضہ اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا ” عہد رسول میں دو متعے تھے متعة النساءاور متعة الحج اور میں ان سے ممانعت کر تا ہوں“ تو جواب میں کہا جائے گا کہ لوگ اس کے متعلق دو گروہوں میں منقسم ہیں ایک گروہ کا خیال ہے حضرت عمر ہی ہیں جنہوں نے متعہ کو حرام کیا اور اس سے منع کیا اور جناب سرور انبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھاکہ ” میری اور خلفائے راشدین کی سنتوں پر عمل کرو“(پس حضرت عمررضہ اللہ تعالی عنہ کا حکم واجب العمل ہوا) اس گروہ کے نزدیک سبرہ بن معبد کی روایت جو بتائی ہے کہ ”فتح مکہ میں متعہ حرام ہوا“صحیح السند نہیں اس لئے کہ وہ عبد الملک بن ربیع بن سمرہ کے واسطے سے ہے اور اس کے متعلق ابن معین نے کلام کیا ہے اور امام بخاری نے ان کی روایت کو اپنی صحیح میں درج نہیں کیا حالانکہ بہت سخت ضروری تھا کیونکہ یہ سیاسی حکم تھا اور اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو وہ ضرور اسے اپنی کتاب میں نقل کر تے نیز اگر سبرہ کی روایت صحیح ہوئی تو حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مخفی نہ ہو تی اور وہ یہ روایت نہ کرتے کہ صحابہ نے متعہ کیا اور نہ وہ آیہ مبارکہ لا تحر مو الطیبات مارحل اللہ لکم سے استدلال کرتے نیز اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو حضرت عمر نہ کہتے کہ متعہ حضور کے زمانہ میں ہوتا تھا اور میں ممانعت کرتا ہوں نیز اگر وہ صحیح ہوتی تو حضرت صدیق رضہ اللہ تعالی عنہ کے دور میں جو حقیقی معنوں میں خلافت رسول کا دورتھا متعہ نہ کیا جاتا اور دوسرا گروہ وہ ہے کہ جس کی نظر میں سبرہ کی حدیث صحیح ہے اور اگر وہ صحیح نہیں تو حضرت علی کی حدیث تو صحیح ہے کہ حضور نے متعہ حرام قرار دیا لہذا جابر رضہ اللہ تعالی عنہ کی روایت کو اس بات پر محمول کرنا ضروری ہے کہ وہ صحابہ جن کے متعلق روایت کی گئی کہ وہ متعہ پر قائم رہے ان کو اس حرام ہونے کی اطلاع نہیں ہوئی تھی اور حضور کی ممانعت کو حضرت عمررضہ اللہ تعالی عنہ کے دور تک شہرت نہ ہوئی تھی لےکن جب حضرت عمر کے زمانہ میں اختلاف سامنے آیا تو حرمت کا انکشاف ہوا اور اس کو شہرت ملی“(زاد المعاد مطبوعہ مصرج1ص3۴3) اسی طرح کی بات علامہ شوکافی نے بھی نیل و الاوطار مطبوعہ مصر ج6ص7۴،8۴ پر لکھی ہے ۔ حضرت عمر نے یہ فرمایا کہ ” اب اگر کوئی متعہ کرنے والا میرے پاس لایا گیا تو میں اسے سنگسار کرونگا“ اس پر معروف مفسر قرآن امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں ۔ ”اگر کوئی شخص کہے کہ روایت میں بھی آیا ہے کہ حضرت عمر رضہ اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میرے پاس اب جو متعہ کرنے والا لایا جائے گا تو میں اسے سنگسار کردونگا حالانکہ یقیناً سنگسار کرنا جائز نہیں ، باوجود اس کے صحابہ نے اعتراض نہیں کیا جس سے معلوم ہو تا ہے کہ صحابہ باطل کے اوپر اعتراض کرنے سے خاموش رہتے تھے اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ بظاہر جناب عمررضہ اللہ تعالی عنہ نے یہ بات بطور تہدید اور سےاست و انتظام کہی تھی اور انتظامی و سیاست کے طور پر ایسے امور حاکم کے لئے جائز ہیں“(تفسیر کبیر ج3ص۶91 مطبوعہ مصر) علامہ نےشا پوری لکھتے ہیں ۔ ”کہا جائے گا کہ حضرت عمررضہ اللہ تعالی عنہ نے متعہ کرنے والے کو سنگسار کر دینے کی جوبات کی اس پر صحابہ نے کیوں اعتراض نہیں کیا باوجودیکہ متعہ کے لئے سنگسار کرنا جائز نہیں تو عین ممکن ہے کہ حضرت عمر رضہ اللہ تعالی عنہ نے بطور سےاست و انتظام کہا ہو اور حاکم کے لئے بوقت ضرورت یہ بات جائز ہے“(تفسیر غرائب القرآن و رغائب الفرقان ص12۴) ان حضرات کا خیال ہے کہ حاکم بوقت ضرورت کسی مباح سے روک سکتا ہے ۔ بعض صحابہ اور متعہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے ۔ ”ابن جزم نے کہا ہے کہ حضور کے بعد بھی جواز متعہ پر بعض صحابہ مثلاً عبد اللہ رضہ اللہ تعالی عنہ بن مسعود ، معاویہ رضہ اللہ تعالی عنہ اور ابو سعیدرضہ اللہ تعالی عنہ خدری اور ابن عباس رضہ اللہ تعالی عنہ اور سلمہ رضہ اللہ تعالی عنہ اور معبد اور جابر اور عمرو بن حریث قائم رہے ۔ امام شو کافی نے اس فہرست میں ان ناموں کا اضافہ کیا ہے حضرت اسماءبنت ابی بکر، عمران بن حصین ، ابی بن کعب( نیل الاوطارج۶ص۴۴)جناب علی المرتضیٰ سے متعہ کے متعلق متضاد روایات بیان ہوئی ہیں ۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!

Last edited by منتظمین; 07-05-09 at 09:09 PM..

 
منتظمین's Avatar
منتظمین
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2930
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), فیصل ناصر (06-11-11), فاروق سرورخان (10-05-09), پاکستانی (06-05-09), محمدمبشرعلی (02-10-10), شاہد جمیل حفیظ (16-10-09)
پرانا 05-05-09, 12:27 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مشہور روایت بھی انہی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے متعة النساءاور پالتو گدھوں کے گوشت سے جنگ خیبر میںمنع فرمایا ۔ یہ روایت بخاری میں دو طریقوں سے ہے مسلم میں پانچ روایتیں ہیں ابن ماجہ میں ایک موطا امام مالک میں ایک مسند شافعی میں تین منتقی الاخبار ابن تیمیہ میں ایک ، معالم التزیل میں ایک اور اسی طرح ایک روایت جمع الفوائد میں ہے ۔ ادھر یہ روایات بھی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اس پابندی سے متفق نہ تھے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے متعہ پر عائد کی تھی ۔ ابن جریر طبری نے لکھا ہے ۔ ”حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اگر حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے متعہ سے ممانعت نہ کی ہوتی تو جب تک کسی کی کوئی خاص بدبختی اسے نہ اکساتی وہ زنانہ کرتا“(جامع البیان ج5ص9) کنزالعمال میں ہے ۔ ”حضرت علی نے فرمایا اگر حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے اپنی رائے کے مطابق متعہ سے ممانعت نہ کر دی ہوتی تو میں متعہ کا حکم دیتا اور اس وقت تک کوئی مرتکب زنانہ ہوتا جب تک اس پر بدبختی غالب نہ ہوتی “(کنز العمال ج8ص۴91)طبری کی روایت امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر ج3ص591 پر اور علامہ نےشا پوری نے اپنی تفسیر غرائب القران ج1ص12۴ پر نقل کی ہے اور اس طرح یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ جناب عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے اس اقدام سے متفق نہ تھے ۔ ادھر وہ روایات ہیں جن کا ہم ذکر کر چکے دارقطنی کی ایک روایت میں تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے متعہ کی ممانعت کی علت بھی بیان کی گئی ہے ۔ روایت یوں ہے ۔ ”حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے ممانعت فرمائی اور کہا متعہ ان لو گوں کے لئے تھا جن کے پاس سامان نہ ہو لیکن جب خدا نے نکاح ، طلاق ، عدت اور میراث کے احکام نازل کر دیئے تو متعہ منسوخ ہو گیا“(سنن دار قطنی ج2ص893) ایک اور روایت میں تو متعہ کی حرمت کی بات ہے ۔ ”حضرت علی سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو متعہ کی ممانعت کر تے ہوئے سنا آپ نے فرمایا یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے“ (کنز العمال ج8ص۴92) اسی روایت کو دارقطنی نے افراد میں روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں احمد بن محمد بن عمر وہ راوی ہے جو منفرد ہے ابن عساکر نے بھی یہ روایت نقل کی ہے لیکن اسی احمد بن محمد کے متعلق لکھا ہے ابن ماعد کا قول ہے کہ ”وہ کذاب تھا“ بعض روایات کی شیعہ اور اہل سنت نے اپنے خیال کے مطابق تاویل کی مثلاً صحیح مسلم کی روایت ہے ۔ ”حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو معلوم ہوا کہ ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہ متعہ کے معاملہ میں کچھ کمزوری دکھاتے ہیں تو آپ (حضرت علی ) نے فرمایا خبردار اے ابن عباس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خیبر میں متعہ سے ممانعت کی تھی“(صحیح مسلم ) اہل سنت کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس متعہ کی حرمت میں کمزوری دکھاتے تھے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں ہی اس سے ممانعت کر دی تھی ۔ شیعہ حضرات کہتے ہیں اس کا مطلب ہے حضرت ابن عباس متعہ کو مباح (جائز ) کہنے میں کمزوری دکھاتے تھے تو حضرت علی نے فرمایا متعہ کی ممانعت خیبر میں ہوئی تھی یعنی اس کے بعد جائز ہو گیا ۔ اسی لئے تو حضرت ابن عباس متعہ کی اباحت پر راسخ ہو گئے کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بات بہت مانتے تھے اور ان کے شاگرد کی طرح تھے ۔ چنانچہ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ پوری طرح متعہ کے حامی بن گئے ۔ جہاں تک حضرت ابن عباس کا تعلق ہے ان کی طرف سے متعہ کی حمایت متعدد روایات میں منقول ہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی تحریر کرتے ہیں ۔ ”محدث عبد الرزاق نے اپنی کتاب میں ابن جریج سے اور انہوں نے عطاءسے روایت کی ہے کہ ابن عباس متعہ کو حلال سمجھتے تھے اور کہتے تھے متعہ کا جائز ہونا خدا کی طرف سے ایک رحمت تھا اور اگر حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے ممانعت نہ کی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی “( تفسیر مظہری ص27۶) آگے لکھتے ہیں ۔ ”ابن عبدالبر نے روایت کی ہے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے پو چھا گیا متعہ نکاح ہے یا سفاح انہوں نے کہا سفاح ہے نہ نکاح بلکہ اس کا نام وہی ہے جو خدا نے رکھا ہے یعنی متعہ راوی نے پوچھا اس میں عدت ہے؟ انہوں نے کہا”ہاں“ پھر پو چھا” میراث؟“ انہوں نے کہا”نہیں“ (ایضاً)وہ اپنی اس رائے پر قائم بھی رہے ۔ ”نافع کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن عمر سے متعہ کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا حرام ہے انہوں نے کہا ابن عباس تو اس کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں انہوں نے کہا ابن عباس نے حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں یہ آواز بلندنہ کی اگر کوئی اس الزام میں گرفتار ہوتا تو وہ سنگسار کرنے کا حکم دیتے تھے“ (کنز العمال ص۴92) علامہ ابن قیم نے کہا ہے کہ ابن عباس تو خاص و عام کے مجمع میں متعہ کے جواز پر مناظرانہ دلائل بیان کر تے (زاد المعاد ج1ص۴12) حضرت عروہ بن زبیر نے حضرت ابن عباس سے کہا” آپ متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں اور ابو بکر و عمر دونوں نے اس سے ممانعت کی ہے “ انہوں نے کہا”عجیب بات ہے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر تا ہوں اور یہ شخص ابو بکر و عمر کے اقوال پیش کرتا ہے“ عروہ نے کہا”وہ دونوں تم سے زیادہ جانتے تھے“اس پر ابن عباس نے سکوت کیا(کنز العمال ج8ص 39 2 )زادالمعاد میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے کہا تھا ”تم لوگ باز نہ آﺅگے جب تک خدا تم پر عذاب نازل نہ کرے میں تو احادیث رسول بیان کرتا ہوں اور تم ابو بکر و عمر کے اقوال“ (ص912) ایک اور جگہ ہے انہوں نے کہا تھا”قریب ہے تم پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہو“ (ص512) یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر میں حضرت ابن عباس نے رجوع کر لیا تھا علامہ زمحشری لکھتے ہیں ”کہاجاتا ہے کہ انہوں نے اپنے انتقال کے دن رائے تبدیل کر لی اور کہا خدایا میں اب توبہ کر تا ہوں جو از متعہ کے متعلق اپنے قول سے“ (تفسیر کشاف ج1ص۴82) اب یہ معلوم نہیں کہ علامہ زمحشری کو یہ بات کس نے بتائی تھی انہوں نے اس راوی کا ذکر نہیں کیا جو قریب الموت ابن عباس سے یہ الفاظ سن رہا تھا ۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوع ابن عباس کے جواز متعہ پر لکھتے ہیں ۔ ”حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابن عباس کی پیدائش ہجرت سے دو برس یا ایک برس پہلے ہوئی اور آٹھ یا نوبرس کی عمر تک مکہ معظمہ میں رہے ہجرت کے بعد جو لوگ مکہ معظمہ میں رہ گئے تھے انہیں احکام شرعیہ میں کچھ بھی واقفیت نہ تھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ (کذا) فتح کرنے کے لئے ہجرت سے آٹھویں سال مدینہ منورہ سے نکلے تو حضرت ابن عباس حضرت عباس کے ہمراہ مکہ معظمہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے ہمراہ لے لیا اور حضرت ابن عباس کو باقی ذریات اور مستورات کے ساتھ مدینہ منورہ میں روانہ فرما دیا غزوہ خیبر حضرت ابن عباس کے مدینہ منورہ آنے سے قبل چند سال پہلے ہو چکا تھا اور غزوہ اوطاس کہ اس کو غزوہ حنین بھی کہتے ہیں فتح مکہ کے بعد اسی کے ساتھ واقع ہوا اس غزوہ میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نہ تھے اور نہ ان دونوں غزوات کے واقعات سے انہیں کچھ بھی اپنے طور پر خبر ہو سکی صرف دوسرے صحابہ کرام کی زبانی آپ کو ان دونوں غزوات کا کچھ حال معلوم ہوا ۔ ظاہر ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے بلاوجہ کیوں متعہ کی روایت کی ہو گی جبکہ وہ صرف دو سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے مستفید ہو ئے اور اس عرصہ میں کوئی ایسا واقعہ نہ آیا کہ متعہ کا تذکرہ ہو اور متعہ کی حرمت معلوم ہو حضرت ابن عباس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اس امر کی کچھ بھی اطلاع نہ ہوئی اور حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں اس مسئلہ میں بحث آئی تو حضرت ابن عباس نے سمجھا کہ ان آیات مذکورہ سے متعہ کی حرمت ثابت ہو تی ہے اور آپ کو دوسرے صحابہ کے بیان سے معلوم ہوا کہ غزوہ اوطاس میں متعہ کی اباحت کا حکم ہوا تو انہوں نے سمجھا کہ خاص بوقت ضرورت رفع ضرورت کی غرض سے متعہ مباح کیا گیا تو انہوں نے خیال کیا کہ جب کوئی اشد ضرورت متعہ کی ہو تو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس میں بحالت ضرورت متعہ کے لئے اجازت فرمائی تھی اس واسطے اب بھی جب اشد ضرورت ہو متعہ جائز ہو گا ۔تین دن کے بعد جو متعہ حرام کہا گیا اس کو انہوں نے سمجھا ضرورت باقی نہ رہی اس واسطے متعہ اس وقت پھر حرام کر دیا گیا اور ہر حال میں ہمیشہ کے لئے متعہ حرام نہ ہوا تو حضرت ابن عباس کے مذہب کی بناءاجتہاد پر ہے اس اجتہاد میں خطا ہوئی چنانچہ جب حضرت علی رضہ اللہ تعالی عنہ نے ان کا قول سنا تو آپ نے فرمایا”آپ ایک شخص ہیں کہ صرف رائے سے کچھ کہہ دیتے ہیں“(فتاویٰ عزیزی ص550۔9۴5) متعہ کے مسائل متعہ کے متعلق اسلاف کے خیالات کےسے ہی کیوں نہ ہوں بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت متعہ صرف اہل تشیع کا مسئلہ رہ گیا ہے اہل سنت یعنی حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور اہلحدیث سب اس کے خلاف ہیں اور اگر حنفیوں کے ذیلی فرقوں کو بھی دیکھا جائے تو بریلوی اور دیوبندی بھی اس کے شدید مخالف ہیں ہم ان تمام فرقوں کو اہل تشیع کے مقابلے میں اہل سنت کہتے آئے ہیں ۔ آج جب یہ صرف اہل تشیع کا مسئلہ ہے تو آئیے دیکھیں کہ وہ اس کے اور اس کے متعلقات پر کس انداز سے نظر ڈالتے ہیں ۔ اہل سنت کا ایک اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے مسلمانوں کو ”ازواج“ اور ”ماملکت ایمانکم“ کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کی اجازت دی ہے اور زن ممتوعہ ( جس عورت سے متعہ کیا جائے) زوجہ ہے نہ ملک یمین ، اس کے جواب میں اہل تشیع کہتے ہیں چونکہ نکاح متعہ بھی ایک نکاح ہے اس لئے زن ممتوعہ بھی زوجہ ہے علامہ سید عبد الحسین شرف الدین آملی کہتے ہیں ”زن ممتوعہ بھی زوجہ شرعیہ ہے“ (فصول فی تالیف الامہ ص۴5)اسی طرح یہی بات علامہ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاءبھی کہتے ہیں ( اصل الشیعہ واصولہا ص۴9)جب زوجہ شرعیہ تسلیم کر لیا گیا تو سوال پیدا ہوا کہ اس کی عدت بھی ہو گی یا نہیں شیعہ حضرات کہتے ہیں خاوند کے فوت ہونے کی صورت میں عدت دوسری بیوہ عورت کی طرح چار ماہ دس دن ہوگی۔ شیخ الطائفہ محمد بن الحسن الطوسی لکھتے ہیں ۔ ”عبدالرحمن بن حجاج کی روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادقؑ سے دریافت کیا ایک شخص نے نکاح متعہ کیا اور فوت ہو گیا تو کیا ممتوعہ عورت کی مدت ہو گی انہوں نے کہا ہاں عدت ہے چار ماہ اور دس دن “(تہذیب الاحکام ج2ص5۴)اور اگر طلاق ہو جائے تو بھی عدت ہو گی مگر یہاں شیعہ علماءمیں عدت کی مدت میں تھوڑا اختلاف ہے مذکورہ بالا کتاب میں اسی روایت کے سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ امام جعفر صادق نے مطلقہ کی عدت کنیز کی طرح ایک حیض اور نصف بتائی ہے ۔ تفسیر جشاش میں امام محمد باقر سے روایت کی گئی کہ انہوں نے کہا اس کی عدت دو حیض ہے ۔ میرزا حسین نوری اور دیگر علماءامام جعفر صادق کی روایت کو واضح معنی پہنا کر عدت پنتالیس دن بتاتے ہیں۔(مستدرک الوسائل ج2)نکاح میں توزوجین ایک دوسرے کے شرعی وارث ہو تے ہیں ۔ متعہ میں کیا صورت ہو گی اس میں بھی کچھ اختلاف ہے ۔ علم الہدیٰ السید مرتضیٰ علی بن الحسین الموسوی (متوفی ۶3۴ھ) لکھتے ہیں ۔ ”ہمارا مسلک تو یہ ہے کہ نکاح متعہ میں میراث بھی ملتی ہے بشرطیکہ کہ نکاح کرتے ہوئے اس کے نہ ملنے کی شرط نہ رکھی گئی ہو“ (کتاب الانتصار مطبوعہ ایران ص۳۶) شہید ثانی شیخ زین الدین آملی ایسی شرط کے متعلق لکھتے ہیں ۔ ”علماءمیں اختلاف ہے کہ عقد منقطع (متعہ ) شوہر اور بیوی میں باہمی میراث کا حکم ہے یا نہیں؟ اقوال متعددہیں جن میں سے پہلا یہ ہے کہ عقد منقطع (متعہ) میراث میں عقد دائمی جیسا حکم رکھتا ہے یہاں تک کہ اگر میراث ساقط ہونے کی شرط رکھی جائے تو شرط باطل ہوگی جیسے نکاح دائمی میں یہ شرط صحیح نہیں “(مسالک الافہام شرح شرائع الاسلام ج1ص۴3) لیکن شیخ علی بن عبد العالی کرکی لکھتے ہیں ۔ ”زن ممتوعہ کو بہر حال میراث ملنے کا قول قاضی ابن براج کا ہے ۔ لیکن انکا استدلال ضعیف ہے“(جامع المقاصد فی شرح القواعد ج2) محمد بن الحسن تاج الدین الاصفہانی لکھتے ہیں ۔ ”قول مشہور یہی ہے کہ نکاح متعہ کے سبب میاں بیوی میں میراث باہمی کا حکم نہیں ہو گا “ (کشف اللثام ج2)شیخ محمد بن الحسن الحرالعاملی امام جعفر صادق کی ایک طویل روایت درج کرتے ہیں۔ اس کا ایک جملہ یہ بھی ہے ”نکاح متعہ میں زوجین کے درمیان میراث نہیں ہو گی“ (وسائل الشیعہ ج۳)نکاح دوامی میں نان و نفقہ مرد کے ذمہ آجاتا ہے مگر متعہ میں ایسا نہیں ہو گا (متعہ اور اسلام ص35) سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا متعہ کے لئے بھی کوئی شرط ہے کہ کن عورتوں سے کیا جائے؟ شیعہ علماءکہتے ہیں کہ نکاح دائمی کی طرح متعہ بھی مسلمان یا اہل کتاب عورت سے ہو سکتا ہے شیخ حسین بن یوسف بن مطہر علی کہتے ہیں ۔ ”متعہ میں ضروری ہے کہ طرفین کامل ہوں یعنی عاقل اور بالغ ہوں اور زوجہ مسلمان ہو یا اہل کتاب (القواعد) اس کے ساتھ ایک اور شرط بھی ہے علامہ حسن بن یوسف لکھتے ہیں۔ ”واسلام الزوج وایمان ان کا نت السراءة کذلک “ اس کا ترجمہ یوں ہو تا ہے ”اور (نکاح متعہ کی شرائط میں ہے) شوہر کا اسلام اور ایمان اگر عورت بھی ایسی ہو “مگر علامہ سید نقی علی النقوی یہی الفاظ نقل کر کے اس کا ترجمہ لکھتے ہیں”اور شوہر کے لئے مسلمان اور شیعہ ہونا ضروری ہے جبکہ عورت مسلمان و شیعہ ہو“(متعہ اور اسلام ص8۴)گویا ”اسلام اور ایمان“ کے معانی ان حضرات کے نزدیک مسلمان اور شیعہ ہیں ۔ شیعہ حضرات نے اپنے لئے”ایمان“ کا لفظ شاید مخصوص کر لیا ہے عام بول چال میں بھی وہ مومن اور مومنہ کے الفاظ شیعہ مرد اور شیعہ عورت کے لئے استعمال کر تے ہیں جب سوال آیا کہ کن عورتوں سے متعہ نہ کیا جائے ؟تو امام رضا علیہ السلام نے جواب دیا ۔ لاینبغی لک ان تتزوج الا مومنہ (تیرے لئے جائز نہیں کہ تو نکاح (متعہ مراد ہے) کرے مگر مومنہ سے ) بات صاف تھی کہ تو (یعنی اے شیعہ مرد) شیعہ عورت سے ہی متعہ کر سکتا ہے مگر تعجب ہے کہ وہی علامہ علی نقی النقوی جو اپنی کتاب کے صفحہ۷۴ پر اسلام الزوج و ایمان کا ترجمہ لکھ چکے ہیں”شوہر کے لئے مسلمان اور شعیہ ہونا ضروری ہے“ یہاں لکھتے ہیں ۔ ”لاےنبغی لک ان تتزوج الا مومنة “ ”غیر قابل اعتماد عورتوں سے متعہ نہ کرو“(متعہ اور اسلام ص27) معلوم نہیں یہاں مومنہ کا ترجمہ”قابل اعتماد“کیوں کر دیا گیا ۔ علامہ علی نقی النقوی نے اپنی کتاب کے صفحہ۲۷ کا عنوان لکھا ہے ۔ ”بازاری عورتوں سے متعہ کی سخت ممانعت“ اور نیچے لکھتے ہیں ۔ ”ایسی احادیث بکثرت پائی جا تی ہیں جن میں عام بازاری عورتوں سے کہ فسق و فجور میں۔ مشہور و معروف ہیں یا ان عورتوں سے کہ جن کی پاک دامنی اور عفت پر اطمینان نہیں ہے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے“ محمد بن فیض کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا ۔ ”دیکھو تمہیں متعہ میں پر ہیز کرنا چاہیے”کواشف“ سے اور”دواعی“ سے اور ”بغایا“ سے ”کواشف“ وہ ہیں جو کھلم کھلا حرام کا ارتکاب کر تی ہیں اور جن کے گھر مشہور ہیں اور وہاں لوگ جاتے رہتے ہیں اور دواعی وہ کہ جو خود بلاتی ہیں اور فساد و خرابی میں عام بدنام ہیں اور بغایا وہ جو زناکاری کے ساتھ رسوائے زمانہ ہیں نیز ذوات الازواج ہیں یعنی وہ جنہیں صحیح طریقہ پر طلاق نہیں دی گئی“ (فروع کافی) گویا متعہ بھی چونکہ ایک قسم کا نکاح ہے اس لئے شرفاءاور معززین کی بیٹیوں کو تعلیم دی جانی چاہیے کہ وہ اس طرح اپنے جسم پیش کرتی رہیں ۔ متعہ کے جواز پر عقلی دلائل اہل تشیع نے کوشش کی ہے کہ متعہ کے جواز پر عقلی دلائل بھی فراہم کئے جائیں ان دلائل کے سلسلہ میں علامہ سید علی نقی الفتوی کی کتاب ”متعہ اور اسلام“ خصوصی طور پر میرے پیش نظر ہے کیونکہ حضرت علامہ کی وفات ماضی قریب میں ہوئی اسطرح وہ دور جدید کے شیعی مفکرین اسلام میں شمار کئے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے یہ بتایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائے قدوس نے وما ارسلنک الا رحمتہ العالمین کے مطابق تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے اور خدانے دین حق میں لوگوں کے لئے آسانیاں رکھی ہیں مشکلات نہیں رکھیں (ص 71) پھر وہ وضاحت کرتے ہیں کہ کچھ ممنوعات ایسے ہیں جو ضرورت کے تحت بھی مباح نہیں ہوتے جییے کوئی آدمی اپنے شہوانی جذابات سے کتنا ہی مغلوب کیوں نہ ہو وہ اپنی جنسی خواہش محرمات (ماں بہن وغیرہ ) سے پوری نہیں کر سکتانکاح متعہ غیر محرم کے ساتھ ہوتا ہے یعنی یہ بھی ایک نکاح ہے اور نکاح جن عورتوں سے ہو سکتا ہے متعہ بھی انہی عورتوں سے ہوگا۔ ”ضرورت“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ”انسان کے لئے دور مسافرت اتنا ہی کثیر الوقوع ہے جتنا زمانہ اقامت بلکہ اگر معمورئہ عالم کی انسانی آبادی کی ایک خاص وقت میں مردم شماری کی جائے تو ایسے افراد زیادہ ہو نگے جو اپنے شہر سے علیحدہ اور عالم مسافرت میں ہیں اور اکثر ایسے ہو نگے کہ جنہیں اپنی ضروریات زندگی کی بناءپر ایک مقام پر قیام کی نوبت ہی نہیں آئی اور ایک طویل عرصہ کے لئے برابر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا ہے “ (ص 52) یہ پہلی ضرورت ہے کہ غیر ممالک میںقیام کے دوران اگرو ہ زیادہ عرصہ کے لئے ضبط نفس کرتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے کہ (بقول علامہ مذکور ) ”وہ اپنی صحت جسمانی کو خیرباد کہیں اور رفتہ رفتہ اپنے طبعی وقت سے پہلے زندگی کو سلام و ودا ع کر کے منزل فنا کی طرف رہ سپار ہوں “ (ص ۶2) یعنی زیادہ عرصہ تک ضبط نفس کرنا بیماری اور پھر موت کو دعوت دینا ہے تو علامہ صاحب ضروری سمجھتے ہیں کہ حالت مسافرت میں متعہ کر لیا جائے ان کے نزدیک اللہ کی طرف سے پیدا کر دہ آسانی ہے ۔ دوسری ضرورت کے سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں ۔ اور صورت حال جس کا تذکرہ سفرہی سے محضوص نہیں ہے بلکہ کبھی بغیر حالت سفرکے وطن میں اقامت اور حضرکی حالت میں بھی ایسی صورتیں آجایا کرتی ہیں۔ انسان کے لئے شریک زندگی موجودہے لیکن وقتی امراض اور اتفاقی موانع نے محدود لیکن کافی عرصہ کے لئے اسکو بیکار و معطل بنا دیا ہے ۔(ص ۶2072) یعنی اپنی بیوی کی ایسی بیماری کی صورت میں نکاح متعہ کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے آپ کہتے ہیں ”و ہ دوسری شادی کرلے “ علامہ صاحب اسکا جواب دیتے ہیں ۔ ” اب اگر انسان عقد دائمی کرنا چاہے تو مستقل طور پر دوبار گراں اسکے کاندھوں پر آجاتے ہیں جنکو برداشت کرنا قوت صبر و تحمل سے باہراور پھر بلا ضرورت اسلئے کہ اسباب و مواقع محدود زمانہ سے مخصوص اور عارضی حیثیت رکھنے والے تھے ۔ (بیوی کی بیماری عارضی تھی ) اسکے لئے کیا شریعت کی جامعیت و وسعت اور ضروریات زندگی کے لحاظ کا اقتضا ءنہیں ہے کہ وہ انسان کے لئے عقد ازواج کی کسی محدود و موقت قسم (متعہ ) کا بھی نفاذ کرے “ (ص 72 ) یہ اور اسطرح کی دوسری ضروریات کے تحت متعہ کی آسانی بقول علامہ مذکور شریعت میں پیدا کی گئی ہے ۔ مخالفین کے دلائل کا جواب مخالفین کے دلائل کے سلسلہ میں مصنف مذکور یعنی علامہ سید علی نقی انہقوی نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی کتاب تحفہ اثناءعشریہ کی عبارت کا ایک بڑا حصہ نقل کیا ہے ۔جس میں شاہ صاحب نے کہا ”اس عقد فاسد میںخدا کے حکم کی مخالفت کے ساتھ ایسے بی شمار مفاسد ہیں جو خلاف شریعت ہیں ۔ اسطرح تومتعہ کرنے والے شخص کی اولاد ہر ہر شہر اور ہر ہر قریہ میں موجود ہو گی اور ان کا کوئی تربیت کرنے والا بھی نہ ہو گا اور ان میں لڑکیاں بھی موجود ہو نگی کہ جن کی شادی برابر والوں میں نہ ہو سکے گی اور سفر میں ہر منزل پر متعہ ہونے کے بعد ہر منزل میں عورت کو حمل بھی رہیگا اور جو لڑکیاں پیدا ہو نگی ان کے اسے خبر نہ ہوگی۔ اور یہ جب پندرہ بیس بر س کے بعد اس راستے سے گزریگا تو انہی لڑکیوں میں سے کسی سے متعہ یا نکاح کریگا اور اس طرح اپنی بیٹی کے ساتھ نکاح کا مرتکب ہو گا اور جب اسکی اولاد بے شمار و لاتعداد ہے تو میراث کی تقسیم نہیںہو سکتی کیونکہ ورثا ءکی تعداد اور انکے محل سکونت و جائے قیام کا علم نہیں اور اولاد کے انتقال پر ان کی میراث کا تقسیم ہو جانا بھی ممکن نہ ہو گا کیونکہ ان کے باپ بھائی کا تو پتہ نہیں لہذا حاجب اور غیر حاجب کا امتیاز نہیں ہو سکتا یہ ہے نکاح متعہ کہ جس سے تمام شریعت درہم برہم ہو جاتی ہے “ (متعہ اور اسلام ص 053۔۴3۔330) مصنف شاہ صاحب کے ان اعتراضات کا جواب ایک طرح کے استہزا ءسے دیتے ہیں وہ پہلے کہ آئے ہیں کہ ” تعجب تو (خاتم المحدثین ) شاہ عبدالعزیز دہلوی مصنف تحفہ اثناءعشریہ ایسے ذمہ دار شخص پر ہے کہ انہوں نے بھی متعہ کے مسئلہ میں استدلال کر تے ہوئے بے اعتدالی سے کام لیا ہے “ (ص 33 ) اور شاہ صاحب کی عبارت نقل کرنے کے بعد پورے ایک صفحہ میں ایک ہی بات کو طوالت دے کر لکھتے ہیں کہ شاہ صاحب نے تمام بحث مفروضات سے کی ہے دنیا میں ایسے واقعات کبھی رونما ہو ئے نہ ہو نگے ۔ حالانکہ میرے نزدیک یہ کوئی جواب نہیں یہ مفروضات نہیں ممکنات ہیںمصنف کو یہاں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تھا ۔ متعہ کے سلسلہ میں ہی ایک اورچیز ” متعہ دوریہ “ بیان کی جاتی ہے ۔ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی لکھتے ہیں ” یہ متعہ دوریہ “ کو بھی جائز کہتے ہیں ہمارے ملک اور زمانہ کے اثنا عشری گو اسکے جواز کا انکار کرتے ہیں مگر ان کے محقیقن اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ انکی کتابوں میں اسکے جواز کا ثبوت موجود ہے اس متعہ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک پوری جماعت کسی ایک عورت سے متعہ کرلیتی ہے اور ان میں سے ہر ایک شخص اپنی باری مقرر کر لیتا ہے اور اپنی باری میں اس سے جنسی فعل کرتا ہے حالانکہ کسی بھی مذہب میں ایک رحم میں دو نطفوں کو جمع کرنا جائز قرار نہیں دیا گیا ۔(تحفہ اثنا عشریہ مترجمہ مولانا خلیل الرحمن نعمانی ص 505) متعہ دوریہ کی یہی تفصیل بغداد کے عالم اہل سنت علامہ سید محمود شکری آلوسی نے بھی بیان کی ہے ان کا پورا مضمون علامہ رشیدرضا مصری نے مشہور و معروف مجلہ “المنار “ میں شائع کیا تھا شیعی عالم آقا سید عبدالحسین شر ف الدین آملی مقیم صیدا نے اسکا جواب لکھا متعہ دوریہ کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ” محمود شکری آلوسی نے اپنے رسالہ میں انتہائی غلط بیانی اور تہمت طرازی سے کام لیا ہے یہ رسالہ مجلہ المنار کی جلد نمبر 92 شمارہ نمبر ۶ میںمری نظر سے گزرا اور اسکے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس میں شروع سے آخر تک سوائے افتراءبہتان سب وشتم اور بے جا طعن و تشنیع کے کچھ بھی نہیں اس میں لکھا گیا ہے کہ شیعون کے ہاں ایک متعہ دور یہ ہوتا ہے اور اسکے فضائل میں بہت سی احادیث نقل کی جاتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ چند لوگ بو قت و احد ایک ہی عورت سے متعہ کریں اور وہ عورت ان سے اسطرح قرار داد کرے کہ صبح سے چاشت تک فلاں کے متعہ میں چاشت سے دوپہر تک فلاں کے متعہ میں دوپہر سے سہ پہر تک تیسرے کے متعہ میں، سہ پہر سے مغرب تک فلاں کے متعہ میں مغرب سے عشا ءتک پانچویں کے متعہ میں الخ ( المنار جلد 92 ص 1۴۴) کا ش مدیر المنار یا قارئین میں سے کوئی اس افتراءپرواز انسان سے پوچھتا کہ یہ بات شیعون کی کونسی کتاب میںہے “۔(فضول المہمہ فی تالیف الاعہ ص 55) متعہ اور ملک یمین اگرچہ اہل تشیع کے تمام دلائل پچھلے صفحات میں بیان ہو چکے ہیں مگر ہم نے ابتداءمیںکہہ دیا تھا کہ تمام فرقوں کے دلائل نفلی و عقلی پورے شرح و بسط سے بیان کر یں گے اور اپنی طرف سے محاکمہ کرنے کی بجائے بات قارئین پر چھوڑ دینگے اسلئے ایک ممکنہ دلیل اور بھی بیان کئے دیتے ہیں شیعہ حضرات کی طرف سے یہ دلیل ہماری نظر سے نہیں گزری بہر حال دلیل یہ ہے ۔ جس آیت سے متعہ کا جواز اخذ کیا جاتا ہے اس میں صاف یہ کہا گیا ہے کہ محصنین غیر مسافحین (قید نکاح میں لانے والے بنکر مٹی جھاڑنے والے ہو کر نہیں ) اس سے متعہ کی حرمت کے قائلین یہ استداد لال کر تے ہیں کہ نکاح اور سفاح میں واضح فرق کر دیا گیا ہے سفاح محض مستی جھاڑنے اور ” ناپاک پانی گرانے “ کے لئے جو جنسی ملاپ کیا جاتا ہے زنا ہے اور نکاح میں باقاعدہ عمربھر ساتھ رہنے اورساتھ نباہنے کا وعدہ کیا جاتا ہے اور جنسی ملاپ کے تمام عواقب قبول کئے جاتے ہیں یعنی میاں بیوی کا ایک گھر ہو جاتا ہے وہ ایک دوسرے کے اموال میں اور دکھ درد میں شریک ہو جاتے ہیں موت کے بعد ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں اسکے بر عکس متعہ صرف وقتی لذت کے لئے کیا جاتا ہے اسلئے یہ ” نکاح “ نہیں ” سفاح “ ہے ۔ اسکے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام میں ملک یمین یعنی جنگ میںہاتھ آنے والی عورتیں جو لونڈیاں بنا کر تقسیم کر دی جاتی ہیں اور جنکی لمبی چوڑی فقہ مرتب کی گئی ہے ۔ ان سے جنسی تعلق کا کیا جواز ہے ؟ کیا وہ جنسی تعلق بھی محض حصول لذت کے لئے نہیں ۔ ملک یمین کے سلسلہ میںتفصیلی احکام بیان کر نے میں ارباب فقہ نے کئی باب سیاہ کئے ہیں انکی حیثیت کیا ہے ؟ اسکی مختصر اور جامع تصویر عہد حاضر کے مفکر اسلام مولانا مودودی کی تحریروں کے اقتباسات سے سامنے لائی جاتی ہے مولانا مودودی کہتے ہیں ۔ ” جو عورتیں میدان جنگ میں پکڑی آئیں ۔ اور انکے کافرشو ہر دارالحرب میںموجود ہوں وہ حرام نہیں ہیں کیونکہ دارالحرب سے دارالاسلام میںآنے (پکڑکر لائے جانے ) کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے ایسی عورتوں سے نکاح بھی کیا جا سکتا ہے اور جس کی ملک میں وہ ہوں وہ ان سے تمتع بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔لونڈیوں سے تمتع کے معاملہ میںبہت سی غلط فہمیاں لوگوں کے ذہن میں ہیں لہذا حسب ذیل مسائل کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ ۱۔ ایک سپاہی صرف اس عورت سے ہی تمتع کر نے کا مجاز ہے جو حکومت کی طرف سے باقاعدہ اسکی ملک میں دی گئی ہو ۔ 2۔ اسکے ساتھ بھی اس وقت تک مباشرت نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اسے ایک مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں۔ ۳۔ ان کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو ۔ جن کے حصہ میںآئیں وہ ان سے تمتع کر سکتے ہیں ۔ ۴۔ جو عورت جس شخص کے حصہ میں دی گئی ہے صرف وہی اسکے ساتھ تمتع کر سکتا ہے ( دوسرا اسکوہاتھ بھی نہیں لگا سکتا) اس عورت سے جو اولاد ہو گی وہ اسی شخص کی جائز اولاد سمجھی جائیگی جسکی ملک میں وہ عورت ہے اس اولاد کے قانونی حقوق وہی ہو نگے جو شریعت میںصلبی اولاد کے لئے مقرر ہیں صاحب اولاد ہو جانے کے بعد وہ عورت فروخت نہ کی جاسکے گی اور مالک کے مرتے ہی وہ آپ سے آپ آزاد ہو جائیگی۔ 5۔ جو عورت اس طرح کسی شخص کی ملک میں آئی ہو اسے اگر اسکا مالک کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دیدے تو پہلے مالک کو اس سے دوسری تمام خدمات لینے کا حق تو رہتا ہے لیکن شہوانی تعلق کا حق باقی نہیں رہتا“ (تفہیم القران 1 ص 0۴3) متعہ میں مذہب کا بھی خیال رکھا جاتا ہے اور نکاح کے مراسم یعنی ایجاب قبول وغیرہ بھی ہوتے ہیں ملک یمین میںمذہب کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا (مودودی صاحب کی بات گزر چکی ہے ) اور نکاح بھی نہیں ہوتا سوال کیا گیا ”لونڈیوں سے بلا نکاح تمتع محض شہوت رانی ہے اور اسلام کے خلاف ہے “ (تفہیمات حصہ دو م ص 703)اسکا جواب یہ دیا گیا ۔ ” اس میں جو کراہت نظر آتی ہے وہ محض ایک وہمی کراہت ہے چونکہ طبیعتیں نکاح کے عام اور معروف طریقہ کی خوگر ہو چکی ہیں اسلئے لوگ سمجھتے ہیں کہ مرد اور عورت کا صرف وہی تعلق جائز ہے جس میںقاضی صاحب آئیں دو گواہ ہوں ۔ ایجاب و قبول ہو خطبہ نکاح پڑھاجائے اسکے سوا جو صورت ہے وہ شہوت رانی ہے لیکن اسلام کوئی رسمی (Conventional)مذہب نہیںبلکہ ایک عقلی (Rational)مذہب ہے وہ رسم کو نہیں حقیقت کو دیکھتا ہے نکاح سے ایک عورت جو ایک مرد کے لئے حلال ہو تی ہے تو آخر اسی بناءپر تو حلال ہو تی ہے کہ اللہ کے قانون نے اسے حلال کیا ہے اسی طرح اگر ملک یمین کو بھی اللہ کا قانون حلال کر ے تو اس میںکراہت کی کیا بات ہے ؟ “ (ایضاً ص 513) ان لونڈیوں کی خریدوفروخت بھی ہوتی ہے مولانا مودودی صاحب لکھتے ہیں ۔ ” لونڈی غلاموں کو بیچنے کی اجازت دراصل اس معنی میں ہے کہ ایک شخص کو ان سے ۔۔۔ فدیہ وصول کرنے اور فدیہ وصول نہ ہونے تک ان سے خدمت لینے کا جو حق ہے اسکو وہ معاوضہ لیکر دوسرے شخص کی طرف منتقل کر دیتا ہے “ (ایضا ً ص 323) مولانا صاحب نے لکھا ہے کہ ” لونڈی کے ساتھ مباشرت نہیں کی جاسکتی جب تک اسے ایک مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں۔ اوراگر وہ حاملہ ہو تو مولانا نے نہیں بتایا ہاں امام بخاری بتاتے ہیں ۔ ” اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ اپنی حاملہ لونڈی سے شرمگاہ کے علاوہ دوسری جگہ سے مجامعت کر لی جائے “ ( صحیح بخاری ج 2 ص 81 ) مولانا صاحب نے جو لکھا ہے ” اس سے جوا ولاد ہو گی وہ اسی شخص کی جائز اولاد سمجھی جائیگی “ یہ بھی درست ہے لیکن اگر اولاد پیدا کر نے کی خواہش نہ ہو تو عزل (یعنی جماع میںجب انزال قریب ہو تو مادہ منویہ رحم کے اندر نہ گرنے دیا جائے ۔۔۔نکال لیا جائے ) کر سکتا ہے ۔ صحیح بخاری میںہے ۔ ” حضرت ابو سعید حذری سے راویت ہے کہ ایک روز جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے حضور سے عرض کیا ’ ’ ہم قیدی عورتوں (لونڈیوں) سے جماع کرتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وہ حاملہ نہ ہوں کیونکہ ہم انہیں بیچنا چاہتے ہیں تو عزل کرلینے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا تم ایسا کرتے ہوتم پر ایسا کرنے میںکوئی حرج نہیں کیونکہ جو بچہ پیدا ہونے والا خدا نے مقرر کیا ہے وہ پیدا ہو کر رہیگا “ (صحیح بخاری کتاب البیوع ج 2 ص 81 ) تو جب ملک یمین کی صورت میں بلا نکاح ، محض شہوت رانی کے لئے ، لاتعداد عورتوں کے ساتھ اسلام جائز قرار دیتا ہے تو متعہ میںکونسی قباحت آگئی۔ جو علماءاسلام میں غلام اور لونڈیوں کو جائز سمجھتے ہیں انہیں ان سوالات کا جواب دینا چاہیے ۔ متعہ اور جدید مفکرین اسلام یوں تو متعہ کی حرمت کے قائل اہل سنت بھی ہیں اور بلا شبہ اکثریت اسکے مخالف چلی آرہی ہے اور یہ اکثریت اتنی بڑھ گئی ہے کہ متعہ صرف فرقہ شیعہ تک محدود رہ گیا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روایات نے مسئلہ کو بہت ہی مبہم کر رکھا ہے یہ روایات ہی ہیں جن کے باعث قرآن حکیم کے الفاظ سے متعہ کے احکام اخذ کئے جاتے رہے فما تمتعتم میں متعہ کا لفظ پنہاں سمجھا گیا اور اکثر مفسرین انہی روایات کے طومار سے مغلوب ہو کر کہنے لگے کہ سورہ نساءکی اس آیت میںواقعی متعہ کی اجازت دی گئی تھی مگر پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی کس آیت سے منسوخ ہوئی اسکے ناسخ کے طو رپر آیات پیش کی گئیں پھر روایات نے ایک اور الجھا وادی دیا اور زمانہ نزول کی آڑ میں کہا گیا کہ جو آیات اہل سنت بطور ناسخ پیش کرتے ہیں وہ ساری کی ساری مکی ہیں اور جس آیت سے متعہ اخذ کیا جاتا ہے وہ ان سے بعد کی نازل شدہ ہے اور مدنی ہے بعد کی اتری ہوئی آیت پہلے کی نازل شدہ آیات کی ناسخ ہوتی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے پہلے ناسخ آیت نازل ہو اور پھر منسوخ آیت اترے اس کا ایک یہ جواب دیا گیا کہ جس آیت کو ناسخ ٹھہرایا گیا ہے وہ جس سورت میں آئی ہے وہ سورت تو مکی ہے اور ساری کی ساری مکی ہے لیکن وہ ایک آیت مدنی ہے اور جو اسے بھی مکی بتاتے ہیں وہ وہم کا شکار ہیں شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی نے لکھا ۔ ” اگرچہ یہ دونوں سورتیں مکی ہیں لیکن یہ آیت ﴾والذین لفرو جھم حفظین الا علی ازواجھم او ما ملکت ایما نھم ﴿مدنی ہے اور الاتقان میںجو لکھا ہے کہ یہ آیت مدنی نہیں تو اسکا جواب یہ ہے کہ صحابہ اور مشاہیر تابعین ناسخ اور منسوخ کے اور مقدم اور م خر سے زیادہ واقف تھے اور ان لوگوں نے اس آیت سے متعہ کی حرمت ثابت کی ہے تو یہ نہایت قوی دلیل اس امر کے لئے ہے کہ یہ آیت مدنی ہے “ (فتادی عزیزی کامل ص 550) ادھر قائلین متعہ اس بات کی بھی تصنعیف کر دیتے ہیں متعہ کی ممانعت کی بھی روایات آتی ہیں جیسا کہ پچھلے صفحات میںتفصیل آگئی ہے مگر وہ بھی کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچاتیں کہ متعہ کب حرام ہوا ۔ گویا یہاںتک دونوں (اہل سنت اور اہل تشیع ) متفق ہیں کہ متعہ اسلام میں حلال تھا۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے علامہ نیاز فتحپوری لکھتے ہیں۔ ” اس میںکلام نہیں کہ متعہ ابتدائے عہد اسلام میں رائج تھا اور یہ بھی بالکل صحیح ہے کہ علمائے اہل سنت اس وقت تک یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اسکا رواج کب ممنوع قرار دیا گیا “ ( ماہنامہ نگار لکھن ج ۴3 شمارہ نومبر سہ 1933) تاہم ہمیشہ سے کچھ ایسے لوگ بھی موجود رہے ہیں جو قرآن حکیم کو روایات کے اختلاف میں نہیں الجھاتے اور نہ ہی شان نزول اور زمانہ نزول کے چکر میں پڑتے ہیں وہ صاف طور پر اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن حکیم کسی طرح بھی متعہ کی اجازت تسلیم نہیں کرتا۔ شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں ۔ ” سورت مومنوں اور سورہ معارج کی آیت سے متعہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے ایسا ہی شکوة شریف میں مذکور ہے ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضہ اللہ تعالی عنہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے اور یہ امر بیان کی ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور حاکم نے کہا کہ یہ صحیح ہے اور ان لوگوں نے کہا کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضہ اللہ تعالی عنہ سے متعہ کے متعلق پوچھا گیا تو حضرت عائشہ رضہ اللہ تعالی عنہ صدیقہ نے فرمایا ” ہمارے اور تمہارے درمیان میں اللہ تعالی کی کتاب ہے یعنی قرآن شریف موجود ہے اور اس سے متعہ کی حرمت ثابت ہو تی ہے اور یہ آیت پڑھی ۔ ﴾والذین ھم لفرو جھم حفظون الا علی ازواجھم اوماملکت ایما نھم فانہم غیر ملومتین ضمن ابتغی و راء ذلک فاولئک ھم اعا دون ﴿ ”یعنی فلاح اور بہتر ی ان لوگوں کے لئے ہے کہ نگہبانی (حفاظت ) کرتے ہیں اپنی شرمگاہوں کی مگر اپنی بیوی اور شرعی لونڈی سے لحاظ نہیں کرتے وہ قابل ملامت نہیں پس جو شخص اس کے سواکرنا چاہے تو وہ شرع کی حد سے تجاوز کر نے والاہے“ ( فتاوی عزیز ی کامل ص 550) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ رضہ اللہ تعالی عنہ قرآن حکیم کو اس طریقہ سے نہیں بانٹتیں جیسے ہمارے مفسر بانٹ رہے ہیں انہوں نے آیات واحکام کی تقدیم و تاخیر کی کوئی بات نہیں کی انہوں نے قرآن حکیم کا واضح قانون بیان کر دیا کہ مرد عورت کا جنسی ملاپ اپنی ازواج یا لونڈیوں سے قید نکاح میںلا کر ہو سکتاہے اور جو صورت بھی جنسی ملاپ کی ہو گی وہ شرع کی حد سے تجاوز شمار ہو گی۔ واضح رہے کہ ازواج کا لفظ معنی اولاد پیدا کر نے کے لئے ایک دوسرے سے مربوط رہنے والا جوڑا ہے ۔ شیعہ حضرات کہتے ہیں (جیسا کہ ہم لکھ چکے ) کہ زن ممتوعہ پر بھی زوجہ کا اطلاق کیا جاتا ہے ۔ لیکن زوج کے وسیع مفہوم کی گہرائی کی حدود زوج کو بار ور کرنے والا اور بارور ہونے والے جوڑے میں محدود کر دیتی ہیں جبکہ متعہ میں اولاد مقصود ہی نہیں ہوتی صرف جنسی جذبہ کی وقتی تسکین مقصودہوتی ہے ۔ اس عورت کے نان نفقہ کی کوئی ذمہ داری بھی مرد اپنے سر نہیں لیتا پس زن ممتوعہ کو زوجہ کہا جاسکتا ہے نہ ملک یمین یہ ورا ءذلک میںآئی ہے ۔ اسکی مزید وضاحت امام قاسم بن محمد کے قول سے ہوتی ہے ۔ ” جب امام قاسم بن محمد سے متعہ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ” میں جانتا ہوں کہ قرآن شریف میںوہ متعہ مذکور ہے جو حرام ہے اور پھر والذین ھم لفرو جھم ۔۔۔الخ والی آیت مبارکہ پڑھی “ ( مسند عبدالرزاق ۔ سنن ابی داﺅد ) شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں ”ایسا ہی (یعنی جیسا قاسم بن محمد نے کہا ) محمد بن کعب قرطبی ، قتادہ ،سدمی اور عبدالرحمن سلمی وغیرہ مشاہیر تابعین سے بھی روایت ہے ( فتاوی عزیزی ص 550) یہاں نہ روایات کی بات ہوئی ہے نہ ناسخ منسوخ کی۔ جدید مفکرین اسلام کا یہی انداز ہے وہ قرآن سے مطلب رکھتے ہیں روایات کو بھی قرآن ہی کے آئینے میں دیکھتے ہیں جہاں روایات اور قرآن میںاختلاف آتا ہے وہ روایات کو چھوڑ دیتے ہیں اہل سنت قرآن کوروایات کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ( گستاخی معاف ) وہ اکثر روایات کو سنت کہ کر کتاب اللہ پر قاضی تسلیم کرتے ہیں ۔ادھر روایات کا عالم کیا ہے علامہ نیاز فتحپوری لکھتے ہیں۔ ” روایات واحادیث کے دفتر بے پایاں سے ہر شخص اپنے مطلب کی باتیں نکال سکتا ہے میںایسے طریق استدلال کو پسند نہیں کرتا “ ( نگار لکھنﺅ جلد ۴2 شمارہ 51ماہ نومبر 1933) جن دماغوں پر روایات کا غبار سوار نہیں تھا انہوں نے آیہ مبارکہ فما ستمتعتم بہ منھن فاتو ھن اجو ر ھن فریضة ( سورة نساء۴2) کے یہی معنی لکھے ہیں کہ جن عورتوں سے تم انتفاع اور لطف رفاقت حاصل کر و یعنی ازدواجی زندگی کی راحتیں حاصل کر و تو لازمی ہے کہ انہیں انکے حق مہر ادا کرو ۔ علامہ بغوی لکھتے ہیں۔ ” اس آیت کے معانی میں اختلاف ہوا ہے حسن اور مجاہد کا قو ل ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جن عورتوں کے ساتھ تم انتفاع و لذت حاصل کرو نکاح دائمی و صحیح کے ذریعے تو انہیں ان کے مہر ادا کر و “ ( تفسیہ معالم التنزیل ج 1 بر حاشیہ تفسیر خازن مطبوعہ مصر ص 32۴) حسن اور مجاہد کا یہی قول دیگر مفسرین نے بھی نقل کیا ہے ( نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام ازنواب صدیق حسن خان ص 57 ) مگر ساتھ لکھا ہے کہ زیادہ تر مفسرین یا جمہور مفسرین نے اس کو ” آیت متعہ قرار دیا ہے “ اسی ” جمہور “ کے لفظ کو دیکھ کر جدید مفکرین و مفسرین کے سر خیل سرسید احمد خان اپنی تفسیر القران میں لکھتے ہیں ۔ ” یہ آیت بھی منجملہ ان آیتوں کے ہے جن کی تفسیر میں مجھے تمام مفسرین اور علمائے متقدمین سے اختلاف ہے تمام مفسرین اس آیت کو آیت متعہ کہتے ہیں یعنی انکے نزدیک اس آیت میں متعہ کا حکم ہے “ ( تفسیر القران ج 2 ص ۶12) لیکن سر سید کے بعد اکثر مفسرین اہل سنت نے آیت کا ترجمہ لکھتے ہو ئے ادنی سااشارہ بھی نہیں دیا کہ یہ آیت متعہ ہے مثال کے طور پر مولانا احمد رضا خان آیة مذکور کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ” اور جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہران کو دو “ ( قرآن مع ترجمہ کنزالایمان شائع کر دو مکتبہ رضویہ کراچی ص 79 )مولانہ سید ابو علی مودودی لکھتے ہیں۔ “ پھر جواز دواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاﺅ ان کے بدلے انہیں ان کے مہر فرض کے طور پر ادا کرو “ (تفہیم القران ج 1 ص 3۴3) کنز الایمان کے تفسیر ی حاشیے مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے لکھے ہیں اور تفہیم القران کے تفسیری حاشیے مولانا مودودی کے اپنے قلم سے ہیں مگر دونوں حضرات نے ادنی سا اشارہ بھی نہیں لکھا کے اس آیت کو کسی زمانہ کے ” جمہور “ مفسرین آیت متعہ کہتے رہے ہیں۔ ضمناً عرض کر تا چلوں کہ احمد رضا خان کا ترجمہ بہتر ہے کیونکہ انہوں نے استمتاع بروزن استفعال کا خیال بھی رکھا ہے خدا بھلا کرے سرسید کا کہ اس نے بعد میں آنے والے مفسرین کی جان جمہور سے چھڑا دی ہے ۔ بہر حال اس آیت کی تفسیر میں سرسید مرحوم لکھتے ہیں ۔ ” میرے نزدیک علماءمفسرین کا اس آیت سے حکم جواز متعہ پر استدلال کرنا محض غلط ہے بلکہ اس آیت سے علانیہ متعہ کے امتناع کا حکم پایا جاتا ہے تمام تاریخوں اور قدیم کتابوں سے پایا جاتا ہے کہ ہر ایک قوم میںقدیم زمانہ سے اس قسم کی عورتیں تھیں جو یہی پیشہ کرتی تھیں کہ لوگوں سے اجرت ٹھہر ا کر ان کو اپنے ساتھ مباشرت کر نے دیتی تھیں جیسے کہ اس زمانہ میںبھی ایسی عورتیں پائی جاتی ہیں جن کو بہ اعتبار ان کے حالات کے خانگیاں اور کسبیاں کہتے ہیں ، یہودیوں میں ،فارسیوں میںبلکہ تمام قوموں میں اس قسم کی عورتیں تھیں۔ عرب میںبھی قبل اسلام اور ابتدائے اسلام میں اور شاید اس کے بعد بھی ایسی عورتوں کا وجود تھا اور شاید اب بھی ہو یا اسکی ظاہری صورت میں کچھ تبدیلی واقع ہو ئی ہو یہ طریقہ اور یہ فعل صرف اس وجہ سے نکلا تھا کہ مردوں کو اپنی مستی جھاڑنے کا موقع ملے “ ( تفسیر القران ج 2 ص ۶12 ) ذراآگے چل کر تزویج اور متعہ میںفرق بیا ن کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ ” ان دونوں میںجو حقیقاً فرق تھا وہ یہی تھا کہ تزوج سے مقصود اصل ”احصان “ یعنی پاکدامنی اور نیکی تھی اور متعہ سے صرف مستی جھاڑنی کیونکہ اس سے اسکے مرتکب کوبجز ”سفح منی “ کے اور کوئی مقصود نہیں ہوتا پس اسکو خدا تعالی نے منع کیا ہے “ جہاں فرمایا کہ۔ ﴾ان تبتغو ابا مو الکم محصنین غیر مسافحین ﴿ ”یعنی تم بعوض اپنے مال کے آزاد عورتوں کو تلاش کرو اور ان سے نکاح کر نا پاکدامنی رکھنے کی غرض سے ہو نہ مستی جھاڑنے کی غرض سے “ مطلب آیت کا صرف ” محصنین “ کے لفظ پر ختم ہو گیا تھا ” غیر مسافحین “ کا لفظ صرف اسی طریقہ متعہ کو منع کرنے کے لئے کہا گیا ہے جو نہایت بے حیائی اور بداخلاقی سے رائج تھا۔ ﴾انہ کان فاحشة و مقتا و ساءسبیلاً﴿ ” پس اس آیت سے متعہ کا امتناع پایا جاتا ہے نہ کہ اس کا جواز جیسے کہ غلطی سے علمائے امت نے خیا ل کیا ہے “ (تفسیر القران ج 2 ص ۶12) گویا سر سید کے نزدیک متعہ اور زنا میںکوئی فرق نہیں اس لئے وہ اسے خانگیوں اور کسبیوں کے پیشہ سے مماثلت دیتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ طریقہ اسلام سے پہلے رائج تھا لکھتے ہیں ۔ ” ہماری تحقیق کے مطابق متعہ کا طریقہ اسلام نے پیدا نہیں کیا بلکہ وہ قدیم سے جاری تھا اسلام نے اس کو منع کیا گو کہ ابتدائے اسلام میںبھی جاری رہا ہو بہت سے رواج زمانہ جاہلیت کے ایسے تھے کہ جو زمانہ ابتدائے اسلام میں رائج تھے بعد کو ممنوع ہوئے متعہ بھی اس میں شامل ہے “ (ایضا ً) ادھر کتب روایات میں تو ایسی روایات بھی ملتی ہیں کہ متعہ کا شغل عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم عہد صدیق اور عہد فاروق کے بہت سے حصہ میںجاری رہا ۔(یہ روایات پوری تفصیل سے نقل کی جا چکی ہیں )۔ سرسید کی طرح پہلے بھی بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ نکاح دائمی رفاقت کا ایک معاہدہ ہے جسے قرآن ” میثا قاغلیظا ً“ بڑا پختہ معاہدہ کہتا ہے ۔جسے موت تو ڑ سکتی ہے یا پھر طلاق اور وہ بھی آخری چارئہ کار کے طور پر ۔ وگرنہ تو وہ مرد کو برابر ہدایت کرتا ہے کہ عورت چاہے تمہیں ناپسند ہی کیوں نہ ہو معاہدہ نکاح کو نبھا نے کی کوشش کرتے رہو عین ممکن ہے کہ اللہ نے اسی رشتہ میںتمہارے لئے بھلائی رکھی ہو تم مستقل بین نہیں ہو مگر اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ ظاہر ہے یہ وہ ناپسندیدگی ہے جو شادی کے بعد عورت کے کسی رویہ سے مرد کے دل میں پیدا ہوتی ہے وگرنہ یہ شادی پسند سے ہی ہوئی تھی فانکحو اما طاب لکم من النسا ء” نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمیں پسند آئیں “ کے حکم کے پیش نظر یہ شادی ہوئی تھی ۔ تمہیں پورا اختیار د یا گیا تھا کہ سوچ سمجھ کر بقائمی ہوش و حواس اپنی خوشی سے اور اپنی پسند کے مطابق یہ معاہدہ کرو اب تمہیں چاہیے کہ حتی الامکان اسے نبھاﺅ ہاں اگر ایسی صورت حالات غیر متوقع طور پر پیش آجاتی ہے کہ یہ معاہدہ توڑنا پڑتا ہے تو مرد کو طلاق کا حق ہے اور عورت کو خلع کا ۔ یہ طلاق اور خلع دونوں آخری چارئہ کار ہیں ۔ اور خاص طور پر طلاق توبقول ر سول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ﴾البغض المباحات عند اللہ الطلاق ﴿ ” اللہ کے نزدیک جائز ہو جانے والے امور (مباحات )میں سب سے زیادہ ناپسندید چیز ہے طلاق ہے “ کیونکہ معاہدہ نکاح کے وقت تمہاری آنکھوں پر پٹی کسی نے نہیں باندھی تھی ۔ یہ ہے نکاح جو میثاق غلیظ ہے مگر متعہ تو ایسا نہیں ہے یہ تو زندگی بھر کی رفاقت کا معاہدہ نہیں یہ تو محض دفع الوقتی ہے اسے نکاح کہنا لفظ نکاح کی توہین ہے ۔ اسکے لئے صحیح ترین لفظ جو قرآن نے استعمال کیا ” سفاح “ ہے ۔ سفاح کے لغوی معانی ” بہا دینا “ ”گرا دینا “ یعنی ضائع کردینا ہیں ۔ جبکہ نکاح کے معنی ایک دوسرے میںجذب ہو جانا ہیں سر سید نے متعہ کے لئے ” سفاح “ کا لفظ موزوں سمجھا ہے ۔ ہمارے قدیم مفسرین میں امام فخرالدین رازی نے امام ابو بکر رازی کا یہ قول متعہ کے عدم جواز پر لوگوں کے دلائل کے سلسلہ میںنقل کیا ہے۔ ” غیر مسافحین “کے لفظ میںخدا تعالی نے زنا کو ” سفاح “ سے تعبیر کیا ہے اسلئے کہ اس سے صرف ” سفح ما ء“ یعنی رطوبات شہوانیہ کو گرادینا منظور ہوتا ہے اوراس میں حصول اولاد یا دوسرے فوائد نکاح مطلوب نہیں ہوتے اور متعہ میں بھی صرف ” سفح ماء“ منظور ہوا کرتا ہے لہذا وہ بھی سفاح ہے “ (تفسیر کبیر ج 3 طبع مصر ص 791) امام رازی اپنی عادت کے مطابق اس کا جواب دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں ذرا جواب بھی ملاحظہ فرمائیے ”ان کا یہ کہنا کہ زنا سفاح ہے ۔ اسلئے کہ اس سے منظور سفح ما ء“ ہے درست ہے لیکن متعہ میں ایسا کا م یعنی سفح ماءہو تا تو ہے مگر شریعت اور اذن خدا وند ی کے ساتھ ہوتا ہے “ (ایضاً)امام رازی کا یہ جواب کتنا کمزور ہے اسی متعہ پر یہی تو اعتراض ہو رہا ہے کہ یہ شریعت اور اذن خداوند ی نہیں پھر آپ اسی کو دلیل بنا رہے ہیں یہ تو وہی بات ہو ئی کہ کوئی کہ رہا تھا ” رات نہیں “ دوسرے نے کہا ”رات ہے “ جب دوسرے سے دلیل طلب کی گئی تو اس نے کہا ” چونکہ رات ہے اسلئے میںکہ رہا ہو ں کہ یہ رات ہے “ بہرحال ابو بکر رازی اور سرسید کا متعہ پر یہ اعتراض بڑا وقیع ہے اسکے جواب میں شیعہ حضرات نے بہت ہاتھ پاﺅں مارے ہیں اور آخر یہ بھی کہ دیا ہے کہ ممتوعہ عورت کی عدت بھی ہوتی ہے اسلئے اس سے بھی نکاح کی طرح اولاد منظور ہوتی ہے مگر یہی حضرت یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک آدمی کی پہلی بیوی بیمار ہو تو وہ متعہ کریگا دوسرا نکاح دائمی اسلئے نہیں کرتا کہ اس پر بار گراں پڑجائیگا ۔ پھر اگر اولاد اسکے ذمہ لگتی ہے تو کیا اس پر وہی بار گراں نہیں پڑتا اسکے علاوہ شاہ عبدالعزیز صاحب کا وہ اعتراض بھی اپنی جگہ موجود ہے اور بڑا معقول اعتراض ہے کہ مسافر یہاں وہاں متعہ کرتا پھرتا ہے اسکی اولاد کا ریکارڈ کس کے پاس ہو گا اور کون گارنٹی دے گا کہ کل بھائی بہن آپس میں نکاح نہیں کربیٹھیں گے جبکہ ایک شہر میں ایک شخص کی زن ممتوعہ سے لڑکی پیدا ہوئی اور دوسری جگہ لڑکا اور اسکی ضمانت کون دیگا کہ کل وہی شخص خود پھرتا پھراتا اسی شہر میں آجائے جہاں اسکی ممتوعہ عورت بیٹی پیدا کر کے مرگئی تھی تو وہ شخص خود اپنی بیٹی سے متعہ نہیں کریگا ۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), فاروق سرورخان (10-05-09), علی....Ali (17-10-09)
پرانا 05-05-09, 12:27 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب علامہ سید علی نقی النقوی نے اپنی کتاب متعہ اور اسلام میںشاہ عبدالعزیز صاحب کے یہ اعتراضات نقل کئے ہیں مگر جواب نہیں دیا مفروضات کہہکر ٹال گئے اور فرمایا ہم شیعوں کو تو کبھی ایسا مسئلہ پیش نہیں آیا۔ جناب نقوی صاحب کے پاس کیا ثبوت ہے کہ ایسا واقعہ ظہور پذیر نہیںہوا۔ جدید مفکرین کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الرجال قوامون علی النساءکے تحت نکاح کے ساتھ ہی عورت اور پھر اولاد کے نان نفقہ کی ذمہ داری مرد پر عائد ہو جاتی ہے مگر متعہ میںکیا ہوگا؟ ایک صاحب نے متعہ کیا وہ چلے گئے ایک دو بچے پیدا ہو گئے یہ زن ممتوعہ پر آگئے۔ ڈیڑھ ماہ کے بعد اور صاحب تشریف لے آئے انہوں نے مستی جھاڑی اور سفر پر روانہ ہو گئے۔ ان کی بھی اولاد اسی عورت کی گردن پر آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔ متعہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بازاری عورتوں سے نہیں شریف زادیوں سے ہوتا ہے معلوم نہیں وہ شریف باپ کہاں رہتے ہو نگے جو اپنی معصوم بیٹیوں کو چندروپوں کے عوض دو چار دن کے لئے غیر مرد کے آگے ڈال دیں گے اور اپنی بیٹی کو داغدار کرکے اسکا مستقبل تاریک کر دینگے کیونکہ اگر ممتوعہ کا بچہ پیدا ہو گیا اور اسکے والد گرامی غائب ہو گئے تو عورت بیچا ری کی ساری عمر تبا ہ ہو جائیگی ۔ اور اسکے سوائے اسکا کوئی چارئہ کار نہیں ہو گا کہ وہ باقی عمر متعہ کرتی رہے پھر اس میں اور بیسوا میںکیا فرق رہیگا اور وہ اتنی اولادیں کیسے پالے گی؟ ان اولاد وں سے بچنے کے لئے وہ کسبیوں کی طرح مانع حمل آلات و ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہو گی یوں ” وہ بازار “ کھل جائینگے جن کا اسلام دشمن ہے ۔ متعہ کے قائل حضرات متعہ کے جواز پر عقلی دلائل اور ” رہنمایاں شریعت حضرات ائمہ معصومین “ کی ہدایات بھی پیش کرتے ہیں سید علی نقی النقوی فرماتے ہیں ” چنانچہ ہم اس وقت روسائے ملت اوررہنمایاں شریعت حضرات ائمہ معصومین کے بعض اقوال وہدایات پیش کرتے ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ کس حد تک ان حضرات نے اس جزو کی حفاظت فرمائی ہے۔ اور بلا ضرورت متعہ کرنے کی ممانعت کی ہے “ (متعہ اور اسلام ص 70) فتح بن یزید کی روایت کے مطابق جناب امام موسی کا ظم نے فرمایا ” وہ شخص جسکی شادی ہوچکی ہے اور متعہ کی اسکو ضرورت باقی نہیںرہی تو اسکے لئے متعہ اس وقت جائز ہو گا جب وہ کہیں سفر میں جائے اور زوجہ ساتھ موجود نہ ہو “ (بحوالہ متبہ اور اسلام ص 17) سفر میں ایک شخص مثلا ً لاہور جاتا ہے وہ” بازاری عورت “ (اگر موجود ہو اول تو آجکل موجود نہیں ) سے متعہ نہیں کرسکتا کیونکہ حضرت وامام علی رضا کا فرمان ہے ۔ ” اگر عورت ایسی ہے کہ زنا کاری میںمشہور ہے تو اس سے نہ نکاح کیا جائے نہ متعہ “ (بحوالہ متعہ اور اسلام ص 3 اب وہ کس شریف زادے کے پاس جائیگا ۔ کیا ایسے ادارے بنائے جائینگے جن میں متعہ کے لئے عورتیں دستیاب ہو نگی جیسے ” شادی دفتر “ کھلے ہوئے ہیں اور اگر ایسے ادارے کھولے جائینگے تو آخر ان میں اور قحبہ خانوں میں کیا فرق ہو گا؟ علامہ نیازفتحپوری لکھتے ہیں ” عہد سعادت (حضورصلی کے عہد میں ) متعہ رائج تھا یا نہیں بعد کو وہ ممنوع قرار دیا گیا یا نہیں ؟ اس سے بحث فضول ہے لیکن یہ ضرو رقابل غور ہے کہ عہد حاضر میںجب کہ آزادی تمام حدودسے گزر جانا چاہتی ہے متعہ کا جواز کہیں آوارہ فحا شی کی صورت تو اختیار نہیں کرلیگا اور سوسائٹی اس کو برداشت کر سکتی ہے یا نہیں ؟ چنانچہ ایران میںجہاں صدیوں سے متعہ کا جواز چلا آرہا تھا رضاشاہ پہلوی نے اس کو بالکل بند کر دیا کیونکہ اس وقت جبکہ عورتوں کا پردہ اٹھتا جارہاہے متعہ کا جواز جو آفتیں ڈھا سکتا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں اور اس کو صرف اس دلیل پر کبھی مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ برا کا م کرنے کا اچھا طریقہ ہے “ (نگار لکھنﺅ نومبر 3391) سناہے ایران میں شیعہ تھیاکریسی نے اسے پھر سے حلال کر دیا ہے ۔علامہ نیاز فتحپوری کے اقتباس کا آخری جملہ پڑھئیے اور پھر درج ذیل روایت پر نظر ڈالیے آپ سمجھ جائینگے کہ انہوں نے کس تناظر میںیہ جملہ لکھا ہے ” محدث عبدالرزاق نے اپنی کتاب میںابن جریح سے اور انہوں نے عطاءسے روایت کی ہے کہ ابن عباس کہا کرتے تھے کہ متعہ کا جائز ہونا خدا کی طرف سے اپنے بندوں پر ایک رحمت کی صورت رکھتا تھا ۔ اور اگر عمر نے ممانعت نہ کی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کی ضرورت نہ ہوتی “ (تفسیر مظہری ص 27۶) حضرت ابن عباس رضہ اللہ تعالی عنہ کو متعہ کا بہت بڑا حامی بلکہ علمبردار ثابت کیا جاتا ہے ان سے متعہ کے جواز کی ایک اور علت بھی بیان کی جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی وقتی ضرورت کے پیش نظر جائز ہوا تھا ” ابن عباس کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضہ اللہ تعالی عنہ نے متعہ سے ممانعت کر دی پھر اسی سلسلہ میںکہا ”حذا وند عالم نے متعہ حلال کیا تھا لوگوں کے لئے عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بناءپر کہ اس زمانہ میں عورتیں کم تھیں “۔ (سنن دار قطنی مطبوعہ دہلی ج 2 ص 893 ) گویا اگر نکاح ہو جائے تو بہت سے مرد بچ جاتے اسلئے اس کا حل نکالاگیا کہ ایک عورت کئی مردوں کے کام آجائے ۔ سر سید احمد خان مرحوم نے متعہ کی روایات پر جو کچھ لکھا ہے وہ بھی دیکھ لیجئے ۔ ” علماءکا اتفاق ہے کہ ابتدائے اسلام میںمتعہ جائز تھا اور اس باب میں کہ وہ بدستور ہے یا ممنوع یا منسوخ ہو گیا ہے اختلاف ہے گروہ کثیرامت کا خیال ہے کہ اس آیت میںتو بلا شبہ جواز متعہ کا حکم ہے لیکن یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے مگرجن آیتوں سے اسکے نسخ کا استدلال کرتے ہیں وہ استدلال میرے نزدیک نہایت ضعیف ہے ۔ اور گروہ قلیل امت کا یہ قول ہے کہ حکم جواز متعہ بدستور بحال و غیرمنسوخ ہے ابن عباس سے اس میں مختلف روایتیں ہیںایک روایت تو جواز متعہ کی ہے بلا کسی قید کے اور ایک روایت میں اسکا جواز بحالت اضطرار بیان ہو ا ہے جیسے کہ مردار اور سﺅر کا گوشت بحالت اضطرار کھالینا جائز ہے اور ایک روایت میںبیان ہو ا ہے کہ ابن عباس نے تسلیم کیا کہ حکم جواز منسوخ ہو گیا ہے عمران بن حصین اسکے جواز کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ جواز متعہ کی آیت قرآن میں موجود ہے اور اسکے بعد کوئی ایسی آیت جس سے حکم جواز متعہ منسوخ ہوا ہو نازل نہیں ہوئی اور شیعہ حضرت علی مرتضیٰ سے جواز متعہ کی بہت سی روایتیں بیان کرتے ہیں مگر اہل سنت کے ہاں حضرت علی مرتضیٰ سے کوئی معتبر روایت جواز متعہ پر منقول نہیں محمد بن جریر طبری نے اپنی تفسیر میںحضرت علی سے یہ روایت لکھی ہے کہ اگر عمر لوگوں کو متعہ کرنے سے منع نہ کرتے تو بجز کسی بدبخت کے کوئی زنانہ کرتا اور محمد بن الحنفیہ جو حضرت علی کے بیٹے ہیںیہ روایت ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ ابن عباس کے پاس گئے جو جواز متعہ کافتوی دیتے تھے اور فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع کیا ہے “ (تفسیر القران ج 2 ص 29، 39، ۴9 شائع کر دہ دوست ایسوسی ایٹس لاہور) ذرا آگے چل کر لکھتے ہیں ۔ ” باقی رہیں روایتیں جن سے بجز اسکے کچھ نہیں پایا جاتا کہ مکہ کی عورتیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے گئے تو بناﺅ سنگار کر کے بیٹھتی تھیں اصحاب رسول طو ل غربت کے باعث انکی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا ” ان عورتوں سے متعہ کر لو “ (تفسیر کبیر ) بن سنور کر بیٹھتی تھیں جیسے اب بھی اس قسم کی عورتیں میلوں اور مجمعوں میں بناﺅ سنگار کر کے بیٹھتی ہیں اور ن سے متعہ کرنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی “ یہ سب روایتیں محض بیہودہ اور لغو ہیںجس قدر حدیثیں جواز متعہ پربیان ہوئی ہیں اور جس قدر کہ ان کی منسوخی یا بحالی کی نسبت منقول ہیں ان میں سے کوئی بھی لائق التفات اور قابل تسلیم نہیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں متعہ پر جو بحث شروع ہوئی ہے وہ اسی آیت کی بناءپر ہوئی ہے ۔ کہ علماءومفسرین نے غلطی سے سمجھا کہ اس آیت سے جواز متعہ نکلتا ہے پھر ایک گروہ اس کا مخالف ہوا اس نے اسکی منسوخی ثابت کر نے پر توجہ کی اور اس کی تائید پر ناسخ حدیثیں موجود ہو گئیں اور اسکے م یدین نے اس کے جواز کی حدیثیں پکڑ بلائیں شیعہ کے پشت پناہ تو جناب علی مرتضیٰ ہیں ہی انہوں نے سچ جھوٹ جو چاہا امام مظلوم علیہ السلام پر تہمت دھروی البتہ اگر اس آیت سے حکم امتناع متعہ تسلیم کیا جائے جو اس زمانہ میں عرب میں مروج تھا تووہ روایتیں جن میںبلا ذکر نسخ صرف حکم امتناع متعہ ہے اس آیت کے قابل ترجیح یا لائق اعتماد مقصود ہو سکیں گی اور خیال ہو سکتا ہے کہ بعد نزول اس آیت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کاامتناع کیا “۔ (ایضا ً ص 99۔79) آخر میں سرسید کہتے ہیں کہ صحابہ سے جواز متعہ کی جوروایات منسوب ہیں ہم انہیں صحیح تسلیم نہیں کرتے اس مسئلہ میں سر سید کے ساتھ جدید مفکرین اسلام بھی متفق ہیں کیونکہ جب اسلام پرحرف آرہا ہو تو روایات کے تقدس کی پاسداری ضروری نہیںرہتی۔ رہی ملک یمین یا کنیزوں کی بات تو جدید مفکرین اسلام کا عقیدہ ہے کہ قرآن حکیم میں ان کا حکم جہاں بھی آیا ہے ۔ صیفہءماضی کے ساتھ آیا ہے ما ملکت ایما نکم ” جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہو ئے“چونکہ اسلام سے پیشتر ایک طویل دور غلامی کا تسلسل آرہا تھا غلام اورلونڈیاں وہ لوگ تھے جو جنگوں میں مغلوب ہونے والے ملکوں اور شہروں سے پکڑ کر لائے جاتے تھے پھرا نہیں آپس میں تقسیم کر لیا جاتا تھا انکی منڈیاں بھی سجتی تھں اور برابر خرید و فروخت ہوتی تھی یہ لوگ عرب معاشرہ کا ایک جزو تھے۔اسلام یہ پیغام لے کر آیا تھا کہ انسان بحیثیت انسان واجب التکریم ہے ولقد کر منا بنی آدم ” اور ہم نے اولاد آدم کو معززومکرم بنایا “ اسلئے غلامی کا طوق اسکے گلے میں ڈالنا زیب نہیں دیتا تھا اسلام تو یہی طوق و سلاسل ، یہی بیڑیاں اور زنجیریں کاٹنے آیاتھا لیضع عنھم اصرھم والا غلال النی کانت علیھم تاکہ وہ انکے بو جھ اتاردے جنہوں نے انکی پیٹھوں کو دوہرا کر رکھا ہے اور وہ طوق کا ٹ دے جنہوں نے انکی گردنوں کو بو جھل کر دیا ہے۔ اگر اسلام تمام غلاموں اور لونڈیوں کو ایک دم آزاد کر دیتا تو معاشرتی مسئلہ پیدا ہو جاتا بے روز گار اور بے سہارا لوگوں کی فوج اچانک نمودار ہو جاتی اور ریاست کا معاشی ڈھانچہ تبا ہ ہو جاتا اسلئے اسلام نے آہستہ آہستہ انہیں آزاد کر نے کی طرف توجہ دلائی ۔ اگر تم سے فلاں جرم سرزد ہو جائے تو کفارہ کے طور پر ایک غلام آزاد کر و۔ اسلامی ریاست کے مالی نظام کی اہم کڑی زکوة و صدقات ہیں مصارف زکوة و صدقات میںا یک اہم مصرف فی الرقاب اور فک رقبہ ” غلاموں کو آزاد کرنا “ تھا ۔ جس کے لئے رقم مختص کر نا پڑتی تھی یعنی غلاموں کو خرید کر آزاد کر دو ۔ اسطرح انفرادی اور اجتماعی طور پر سابقہ غلاموں کو آزاد کر انے کی مہم چلائی گئی ادھر اسلام کے قوانین جنگ میں قرآن نے یہ قانون دیا کہ ﴾حتی اذا اتخنتمو ھم فشد والو ثاق فاما منا بعدو امافداء﴿ ” جنگی قیدیوں کو باندھ لو پھر اسکے بعد یا تو انہیں فدیہ لے کر رہا کر دو یا احسان دھر کر “ فدیہ میں اپنے جنگی قیدیوں سے تبادلہ یا رقم لے کر رہا کر نا دونوں آگئے اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہو سکتی ہوں تو پھر انہیں مرہون احسان کر کے آزاد کر دو گویا اب غلام بنا کر فوجی سپاہیوں میںتقسیم کر دینے کی پرانی روایت ختم ہو چکی تھی ۔ پہلے سے جو کنیز یں مسلمانوں کے پاس تھیں ان سب سے جو مسلمان یا اہل کتاب تھیں ان سے نکاح کر نے کی ترغیب دی گئی کہا گیا کہ جو شخص آزاد مسلمان عورت سے شادی کر نے کی استطاعت نہیں رکھتا وہ کنیز کے ساتھ تعلق زنا شوئی پیدا کرے جس غلام عورت کی اولاد پیدا ہو جاتی وہ اپنے مالک کی بیویوں کی طرح ہو جاتی اور ام ولد کہلاتی اولاد کے قانونی حقوق صلبی اولاد کی طرح ہوتے اب اسے بیچا نہیں جاسکتا تھا کیونکہ بیویوں کو بیچا نہیں جاتا مالک مر جاتا تو ام و لد آزاد ہو جاتی۔ رہی ”عزل “کی بات تو وہ ویسی ہی روایت ہے جس قسم کی روایات کا سر سید نے انکار کیا ہے ایسی باتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر نا نفاست ذوق کے خلاف ہے ۔ گویا جدید مفکرین اسلام متعہ کی کسی صورت کو بھی اسلام قرا ر دینے کے لئے تیار نہیں ۔ یہ خدا اور رسول کی طرف سے مسلمانوں پر نازل کی ہوئی رحمت نہیں بلکہ اسی بے شرم رسم کی بھونڈی نقل ہے جسکے متعلق علامہ نیاز فتحپوری لکھتے ہیں ” بعض اقوام میںعارضی شادی کا بھی رواج ہے یعنی زن و مرد ایک مدت کے لہے عہدو پیمان کر لیتے ہیں اگر اس دوران میںعورت موافق مزاج کے ثابت ہو ئی تو مستقل نکاح بھی کر لیا جاتا ہے ورنہ فریقین میںمفارقت ہو جاتی ہے “ (شہوانیات ص 22) وہ چیز آزمائشی شادیوں کے رواج کی بنیاد بنی اور یہ متعہ مذہب کے نام پر فحاشی کی تجدید ثابت ہوا۔ مگر مولانا مودودی کسی صاحب نے کہا تھا مودودی دو ہیں ایک وہ جو جماعت اسلامی کے نام سے سیاسی جماعت قائم کر نے سے پہلے تھا وہ بے خوف لومة لائم جس بات کو حق سمجھتا تھا کہہ دیتا تھا مگر سیاست میںآنے کے بعد اور بالخصوص یہ فیصلہ کر نے کے بعد کہ جماعت اسلامی انتخابات میںحصہ لیگی بالکل دوسرا مودودی پیدا ہو کیا جسے ووٹ حاصل کر نے کے لئے کچھ نہ کچھ ووٹروں کے جذبات و معتقدات کا خیال بھی رکھنا پڑتا تھا مولانا مودودی صاحب کو چونکہ شیعہ حضرات سے بھی ووٹ لینے تھے اسلئے وہ عجیب عجیب مفروضات قائم کر کے متعہ کے جواز کے پہلو نکالنے لگے چنانچہ لکھتے ہیں ۔ ” فرض کیجئے کہ ایک جہاز سمندر میں ٹوٹ جاتا ہے ایک مرد اور ایک عورت کسی تختے پر لیٹے ہوئے ایسے سنسان جزیرے میںجاپہنچتے ہیں جہاںکوئی آبادی موجود نہ ہو وہ ایک ساتھ رہنے پر بھی مجبور ہیں اور شرعی شرائط کے تحت ان کے درمیان نکاح بھی ممکن نہیں اسی حالت میں انکے لئے اس کے سواچارہ نہیں کہ باہم خود ہی ایجاب و قبول کر کے اسوقت تک کے لئے عارضی نکاح کر لیں جب تک وہ آبادی میں نہ پہنچ جائیں یا آبادی ان تک نہ پہنچ جائے کم و بیش ایسی ہی اضطراری صورتیں اور بھی ہو سکتی ہیں متعہ اسی طرح کی اضطراری حالت کے لئے ہے “ (ترجمان القران اگست 5591) سورئہ مومنون کی آیت نمبر۶5 کی تفسیر میںیہ کچھ فرمایا جارہا ہے میلان انکا متعہ کی تحریم کی طرف ہے مگر پھر شیعہ حضرات کو بھی راضی رکھنا ہے اسلئے عبارت میںعجیب تضاد اور اضطراب آگیا ہے ذرا ملاحظہ فرمائیے آیة نمبر ۶5 والذین ھم الغرو جھم حفظون والی وہی آیت ہے جسے شاہ عبدالعزیز صاحب اور دیگر مفسرین نے ناسخ آیت قرار دیا ہے مودودی صاحب لکھتے ہیں ۔ ” بعض لوگوں نے متعہ کی حرمت بھی اس آیت سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ان کا استدلال یہ ہے کہ ممنوعہ عورت نہ تو بیوی کے حکم میںداخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میںلونڈی تو وہ ظاہر ہے کہ نہیںہے اور بیوی اسلئے نہیں ہے کہ زوحیت کے لئے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا وہ نہ مرد کی وارث ہوتی ہے نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے نہ اس کے لئے عدت ہے نہ طلاق نہ نفقہ نہ ایلا اور ظہار اور لعان وغیرہ بلکہ چار بیویوں کی حد سے بھی وہ مستثنیٰ ہے پس جب وہ بیوی اور لونڈی دونوں کی تعریف میں نہیں آتی تو وہ لامحالہ ” ان کے علاوہ کچھ اور “ میں شمار ہو گی جس کے طالب کو قران حد سے گزرنے والا قرار دیتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ آیت تحریم کے بارے میں صریح بھی نہیں اور اس سے تحریم پر استدلال ان ثابت شدہ احادیث کے بھی خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانہ میں اس کو حرام قرار دیا ہے اگر یہ مان لیا جائے کہ حرمت متعہ کا حکم قرآن کی اس آیت میں ہی آچکا تھا جو ہجرت سے کئی سال پہلے نازل ہوئی تھی تو کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے فتح مکہ تک جائز رکھتے لہذا تسلیم کرنا پڑیگا کہ متعہ کی حرمت قران کے کسی صریح حکم پر نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر مبنی ہے سنت میں اسکی صراحت نہ ہوتی تو محض اس آیت کی بناءپر تحریم کا فیصلہ کر دینا مشکل تھا متعہ کو مطلقا ”حرام قرار دینے یا مطلقا“مباح ٹھہرانے میںسنیوں اور شیعوں کے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے اس میںبحث و مناظرہ نے بیجا شدت پیدا کر دی ہے ورنہ امرحق معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے انسان کو بسا اوقات ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے جن میں نکاح ممکن نہیں ہوتا اور وہ زنا یا متعہ میں سے کسی ایک کو اختیار کر نے پر مجبور ہو جاتا ہے ایسے حالات میںزنا کی نسبت متعہ کر لینا بہتر ہے “ (ماہنامہ ترجمان القران لاہور ماہ اگست 5591) اس عبارت سے مولانا نے متعہ کو حکم خداوندی تو مان لیا اب وہ اس مجاکمہ پر آگئے کہ یہ حکم خداوندی قران کی کسی آیت سے منسوخ ہوا یا حدیث سے وہ فرماتے ہیں ۔ قرآن سے نہیں ہوا ۔ کیوں ؟ اسلئے کہ یہ استدلال قرآنی ان ثابت شدہ احادیث کے خلاف ہے جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانہ میں اسکو حرام قراردیا تھا ۔ یعنی قران کو ثابت شدہ احادیث کے خلاف نہیں ہونا چاہیے غور کیجئے پہلے آپ یہ سنتے آئے تھے کہ حدیث وہی قول رسول ہے جو قرآن کے خلاف نہ ہو اب یہ دوسری اور اسکے متضاد بات مودودی صاحب نے فرماڈالی ۔ پھرو ہ فتح مکہ والی احادیث کو ثابت شدہ کہتے ہیں حالانکہ روایات بالکل مختلف ہیں۔ ۱۔ جنگ خیبر میںمتعہ کو حرام قرار دیا۔ ۲۔ فتح مکہ میںحرام قرار دیا ۔ ۳۔ اوطاس یعنی حنین میںایساہوا ۔ ۴۔ عمرة القضا ءمیں ایسا ہوا۔ ۵۔ حجة الوداع میںایسا ہوا۔ ۶۔ متعہ دو تین بار حلال اور دو تین بار حرام ہوا ۔ یہ مختلف روایات ہیںمگر مودودی صاحب فتح مکہ والی روایت کو ثابت شدہ کہتے ہیں چلو یہ تو معلوم ہوگیا کہ یہ ثابت شدہ ہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول نے اللہ کے حکم کو منسوخ کر دیا اور جسے اللہ نے ابتک حلال کر رکھا تھا اب اسکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام ٹھہرا دیا۔ چلو حرمت تو ثابت ہو گئی مگر اگلے قدم پر ہی پنیترا بدلتے ہیں اور کہتے ہیں مطلقاً حرام بھی نہیں اور مطلقا ً مباح اور حلال بھی نہیں مجبوری کی حالت میں ” حلال “ ہے اور ویسے ” حرام “ ہے ۔ لو سنیوں کے ووٹ بھی مل گئے شیعوں کے بھی اسلام ” نیمے دروں نیمے بروں “ رہ گیا۔ جدید مفکرین اسلام جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ان تمام روایات کو بے معنی سمجھتے ہیں وہ قرآن حکیم پر کسی اورکتاب کو قاضی نہیں مانتے وہ کہتے ہیں قرآن نے بڑی وضاحت سے قوانین نکاح و طلاق بیان کر دیئے ہیں جس آیت کو آیت متعہ بنا دیا گیا ہے اس کو متعہ سے کوئی تعلق نہیں جن لوگوں نے اسے آیت متعہ سمجھا ہے ان کے ذہنوں پر انہی بے سرو پا روایات کا غبار چھایا ہوا تھا ۔ وہ آیت تو جیسا کہ سر سید نے لکھا ہے نکاح اور سفاح میںواضح فرق بیان کر کے متعہ اور اس جیسے دوسر ے حیلوں کی جڑ کاٹ رہی ہے ۔ جنسی تشنگی اور شہوانی بھوک کوئی بھی اضطرار طاری نہیں کرتی یہ قوت خیال کے تابع ہے وہ لوگ بھی یقینا موجود رہے ہیں جنہوں نے صحیح طور پر عمر تجرو میں گزار دی ہے قرآن نکاح کا واضح حکم دیتے ہوئے ایسے فرضی اضطرار کو بھی نگاہ میںرکھتا ہے اور صاف حکم دیتا ہے کہ ﴾ویستعفف الذین لا یجدون نکا حاً حتی یفنیھم واللہ من فضلہ ﴿ ”یعنی اور چاہیے کہ اپنی عفت اور عصمت بچائیں وہ جو نہیں پاتے ہیں مال کہ اس کے ذریعے سے نکاح کر سکیں یعنی مہرا ور نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتے ہوں توچاہیے کہ اپنی عصمت و عفت بچانے میں تکلیف گوارا کریں اسوقت تک کہ حق تعالی ان کو غنی کردے “۔ یہ ترجمہ شاہ عبدالعزیز صاحب کے فتاوی سے لیا گیا ہے وہ اس آیت کو اس فما ستمتتم والی آیت کا ناسخ قرار دیتے ہیں تو شیعہ حضرات اور دوسرے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ آیت مکی ہے اور جس آیت کو آیت متعہ کہا جاتا ہے وہ مدنی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پہلے ناسخ نازل ہو گیا پھر منسوخ نازل ہوا۔ اگر شاہ صاحب پر روایات پرستی سوار نہ ہوتی تو انہیں بے جاتا ویلات کا سہارا نہ لینا پڑتا ۔ یہ راویات اور مکی مدنی کے اور ناسخ منسوخ کے یہ چکر کوئی حقیقت نہیں رکھتے بالکل صاف اور سیدھی بات ہے کہ جو لوگ نکاح سے عائد ہو نے والے دوسرے فرائض یعنی مہرو نا ن نفقہ کی طاقت نہیں رکھتے انہیں قرآن ضبط نفس کا حکم دے رہا ہے اگر متعہ کسی طرح حلال اور جائز کرنا مقصود ہوتا تو یہ موقع تھا کہ متعہ کا حکم دےا جاتا ضبط نفس کا حکم کیوں دیا جاتا۔ شاہ صاحب نے اس آیت سے بالکل اسی طرح کا استدلال کیا ہے لکھتے ہیں ۔ ” اگر متعہ جائز ہوتا تو ممکن ہوتا کہ کسی عورت کو دو چار پیسے یا دو تین آنے ایک رات کا خرچ دیتے اور دو چار مرتبہ جماع کر کے فراغت حاصل کر لیتے عفت بچانے میں تکلیف اور رنج اٹھانے کی ضرورت نہ ہوتی “( فتاوی عزیزی ص 9۴5) مگر پھر ان پر روایت پرستی غالب آتی ہے اور وہ عجیب عجیب تاویلیں کرنے لگتے ہیں ۔ اور عورت متعہ کی بحث ہم نے پوری تفصیل سے لکھی ہے ۔ قائلین متعہ کے دلائل خاص طور پر انتہائی زور دار انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے متعہ کو حرام کہنے والوں کے دلائل بھی اسی طرح پیش کئے ہیں یہ ساری تفاصیل آپ پڑھ چکے ہیں قائلین متعہ نے متعہ کو اللہ تعالی کی طرف سے فراہم کردہ آسانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمتہ اللعالمینی کا ایک رنگ قرار دیا ( دیکھئیے متعہ اور اسلام ص 71 ) اسکے ساتھ ہی انسان کے فطری تقاضوں پر بھی صفحوں کے صفحے سیاہ کئے گئے پھر ان مردوں کا ذکر ہوا جو بیچارے سفر میںہیں اور ان کی بیویاں انکے ساتھ نہیںیا جن مجبوراور بیچارے مردون کی بیویاں بیمار پڑگئیںاور وہ ان سے شہوات نفسانی اور خواہشات جنسی پوری نہیں کر سکتے ان کے حال زار پر آنسوﺅں بھری دلسوزی اور خلوص بھری ہمدردی برسائی گئی مگر ان تمام دفتر ہائے بے پایاں میںکہیں بے چاری عورت کا نام نہیں آیا۔ کیا وہ انسان نہیں ؟ کیا فطرت ان سے کوئی تقاضا نہیںکرتی ؟ کیا انہیں جنسی جذبات مجبور نہیں کرتے شوہر نامدار صاحب سفر پر گئے آپ نے وہاں انکے جذبات کی تسکین کا سامان کر دیا وہ ایک سال رہیں دو تین سال رہیں انہیں کوئی پروا نہیں آپ جیسے ہمدردوں کے ہوتے ہوئے انہیں کیا پروا ہو سکتی ہے انہیں اپنی مرضی کے مطابق سب کچھ مل جائیگا آپ کا خدا بھی ان پر مہربان آپ کا رسول بھی ان پر مہربان ( خدا مجھے معاف کرے ) مگر آپ نے گھر میں بیٹھی ہوئی بیوی کے متعلق کچھ نہیں سوچا آپ کہتے ہیں اسے آپ کی نسل کو مختلط نہیں کرنا چاہیے ۔ اسے آپ کی ناک کا خیال رکھنا چاہیے جب آپ اس کے لئے ذرا سی بھی ہمدردی نہیں رکھتے تو آپ کو کےسے یقین ہے کہ وہ آپ سے ہمدردی رکھیگی آج مانع حمل دوائیاں بآسانی دستیاب ہیںاور نہ ہوں تو ” عزل “ کا اور ” ساتھی “ کا سہارا تو موجود ہے وہ کیوں آپ کی ناک کا خیال رکھے گی جبکہ اسے معلوم ہے کہ آپ باہر گلچھرے اڑارہے ہیں۔ کیوں نہیں آپ اپنی ناک کا خیال رکھتے کہ وہ بھی آپ کی ناک کا خیال رکھے ایک روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضہ اللہ تعالی عنہ رات کے گشت کے دوران دو تین دفعہ ایک مکان کے قریب سے گزرے تو گھر میں ایک عورت کو ہجرو فراق کے حزینہ اشعار گاتے سنا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس عورت کا خاوند کئی ماہ سے جہاد پر گیا ہوا ہے۔ جناب عمرفاروق رضہ اللہ تعالی عنہ نے انتہائی حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے قانون نافد کر دیا کہ کوئی فوجی تین ماہ سے زیادہ گھر سے باہر نہ رکھا جائے تین ماہ کے بعداسے رخصت پر گھر بھیجا جائے۔ غیر ملکی حکومتوں کو خواہ سعودی عرب کی حکومت ہو خواہ امریکہ کی اس قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ اور سفرکے اخراجات میں ملازم کو رعایت دینی چاہیے تاکہ وہ ملک بھی جنسی بد نہادی سے بچ جائے اور ملازم بھی بدکاری میںمبتلا نہ ہو ۔ میں علمائے اہل تشیع کے سامنے بصد ادب یہ تفاصیل پیش کر رہا ہوں برطانوی سیاح خاتون فریا سٹارک (Freya Stark)کو جنوبی عربستان کی سیاحت کے دوران ایک خاتون ملی آگے کی تفصیل فریا سٹاک کی زبانی سنیئے ۔ ” نیچے گاﺅں سے ایک خوبصورت عورت آئی اس کا خاوند شادی کے بعد ہی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا وہ میرے پاس بیٹھی اپنے نوجوان خاوند کی بخیریت واپسی کے لئے ایک نظم گاتی رہی اسکے الفاظ کی ترجمانی اس کی خالہ نے کی ۔ وہ درد بھری آواز میں گا رہی تھی ۔ ” واپس آجا تیرے چچا کی بیٹی ان بے شمار اکیلی راتوں سے گھبرا گئی ہے اسکے آنسو ستاروں سے زیادہ بہہ چکے “ لڑکیاں جوا سے گھر ے ہوئے تھیں کھل کھلا کر ہنس پڑیں ۔ عطیہ (اس لڑکی کا نام ) نے شرماتے ہوئے بڑی سادگی سے پوچھا ” کیوں کیا یہ ٹھیک بات نہیں کیا وہ مرا خاوند نہیں ؟ کیا میں اسے واپس نہ بلاﺅں ؟ کیا مجھے اسکی ضرورت نہیں ؟“ ” وہ کب تک پردیس میں رہیگا؟ ” کون جانتا ہے ؟ شاید د س سال تک جیسے اللہ کی مرضی ہو گی “ پھر سب لڑکیاں سرد آہیں بھرنے لگیں کیونکہ ان وادیوں میں یہ سب کا غم تھا یہ سب کا مشترکہ دکھ تھا ۔ بلا شبہ سب اپنے اپنے خاوند ون کا سوچ رہی تھیں ، سب اپنے زخم کرےد رہی تھیں ۔ سب کے خاوند پردیس چلے گئے تھے۔ شاید انہوں نے وہاں دوسری عورتوں سے شادیاں رچالی ہوں۔ میری خادمہ نور گلو گیر آواز میں بولی ” بی بی ! عورت کے لئے دنیا کی زندگی کتنی سخت ہوتی ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), فاروق سرورخان (10-05-09), احمد نذیر (04-09-11), شمشاد احمد (12-08-10), عبداللہ حیدر (05-05-09), غلام خان (21-12-10)
پرانا 05-05-09, 05:04 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

ترجمہ طاہر القادری
اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پرحرام ہیں) سوائے ان (کافروں کی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آجائیں، (ان احکامِ حرمت کو) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے، اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس (مال) کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا مقرر شدہ مَہر ادا کر دو، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مَہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے

ترجمہ احمد علی
اور خاوند والی عورتیں مگر تمہارے ہاتھ جن کے مالک ہو جائیں یہ الله کا قانون تم پر لازم ہے اور ان کے سوا تم پرسب عورتیں حلال ہیں بشرطیکہ انہیں اپنے مال کے بدلے میں طلب کرو ایسے حال میں کہ نکاح کرنے والے ہو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر ان عورتوں میں سے جسے تم کام میں لائے ہو تو ان کے حق جو مقرر ہوئے ہیں وہ انہیں دے دو البتہ مہر کے مقرر ہو جانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے باہمی کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی گناہ نہیں بے شک الله خبردار حکمت والا ہے

احمد رضا خان
اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے نہ پانی گراتے تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،

شبیر احمد
اور (حرام کی گئی ہیں تم پر) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو (جنگ میں قید ہوکر) ہاتھ آئیں تمہارے یہ قانون ہے اللہ کا (لازم ہے جس کی پابندی) تم پر۔ اور حلال ہیں تمہارے لیے وہ (عورتیں جو علاوہ ہیں ان کے اس طرح کہ حاصل کرو تم اُن کو اپنے مال خرچ کرکے، قید (نکاح) میں لانے کے لیے نہ کہ بدکاری کی خاطر۔ پھر جو لطف اُٹھاؤ تم ان عورتوں میں کسی سے تو ادا کرو انہیں ان کے مہر بطور فرض اور نہیں ہے کچھ گناہ تم پر کسی (سمجھوتے) میں جو باہمی رضا مندی سے طے پاجائے، بعد مہر مقّرر کرنے کے۔ بے شک اللہ ہے ہر بات جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

(ترجمہ تفہیم القرآن جلد اول تفسیر خازن)
(ان کے ماسوا جتنی بھی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعے سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو ،نہ یہ کہ آزاد شہوات رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھائو ان کے بدلے ان کے مہر بطور فرض کے ادا کرو البتہ مہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتا ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں)

شیخ محسن علی نجفی صاحب کا ترجمہ
اور شوہر دار عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں، (یہ) تم پر اللہ کا فرض ہے اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں ان عورتوں کو تم مال خرچ کر کے اپنے عقد میں لا سکتے ہو بشرطیکہ (نکاح کامقصد) عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو، پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو البتہ طے کرنے کے بعد آپس کی رضا مندی سے (مہر میں کمی بیشی) کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،یقینا اللہ بڑا جاننے والا، حکمت والا ہے۔

یہ آیات کس حد تک متعہ کا جواز ہے اور کس حد تک متعہ کی ممعانعت کرتی ہے ۔ بس اس آیت پر ہی دلائل دیں۔ باقی کی احادیث اور واقعات پر باری آنے پر بحث کی جائے گی۔
بحث میں‌حصہ لینے سے پہلے پہلی پوسٹ کے شروع کے الفاظ توجہ سے پڑھ لیں۔

والسلام

Last edited by منتظمین; 08-05-09 at 09:42 PM.
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (30-10-09), ابرارحسین (20-05-09), شمشاد احمد (12-08-10), علی....Ali (17-10-09), غلام خان (21-12-10)
پرانا 08-05-09, 05:34 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
صرف علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: Karachi
عمر: 30
مراسلات: 143
کمائي: 2,507
شکریہ: 10
58 مراسلہ میں 100 بارشکریہ ادا کیا گیا
صرف علی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں صرف علی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس بارے میں شیخ محسن علی نجفی صاحب کا ترجمہ اور انھوں نے جو اس بارے میں حاشیہ میں لکھا ہے وہ آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔

اور شوہر دار عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں، (یہ) تم پر اللہ کا فرض ہے اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں ان عورتوں کو تم مال خرچ کر کے اپنے عقد میں لا سکتے ہو بشرطیکہ (نکاح کامقصد) عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو، پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو البتہ طے کرنے کے بعد آپس کی رضا مندی سے (مہر میں کمی بیشی) کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،یقینا اللہ بڑا جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٢٤۔ فَمَا اِستَمتَعتُم بِہ مِنھُنَّ: یہ آیت متعہ مشہور ہے جس میں متعہ کی تشریع کا نہیں، بلکہ پہلے سے تشریع شدہ متعہ کے مہر کا حکم بیان ہو رہا ہے۔
عقد متعہ سے منکوحہ عورت شرعاً زوجہ شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ عصر رسالت (ص) میں جب متعہ بالاجماع جائز اور رائج تھا تو اس وقت اس کو زوجہ شمار کیا گیا، جبکہ مملوکہ کنیز کا ذکر زوجہ کے مقابلہ میں آیا ہے۔ چنانچہ مکہ میں نازل ہونے والے سورہ مؤمنون آیت ٥، ٦ میں فرمایا: والذین ھم لفروجھم حفظون O الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم ۔ مؤمن اپنی جنسی خواہشات پر قابو رکھتے ہیں سوائے اپنی زوجات اور کنیز کے۔ ظاہر ہے کہ متعہ کی عورت یقینا کنیز نہیں ہے۔ اگروہ زوجہ بھی نہیں ہے تو یہ تیسری عورت ہو گئی، جبکہ نکاح متعہ عہد رسالت میں بالخصوص مکی زندگی میں (بعض کے نزدیک جنگ خیبر اور بعض کے نزدیک فتح مکہ تک) جائز اور رائج تھا، تو اگر عقد متعہ کی عورت زوجہ نہیں ہے تو تیسری قسم کی عورت کے عنوان سے اس کا ذکر آیت میں ضرور آتا۔ چنانچہ امام قرطبی تفسیر ٥ : ١٣٢ میں لکھتے ہیں: لم یختلف العلماء من السلف و الخلف ان المتعۃ نکاح الی اجل لامیراث فیہ۔ علمائے سلف اور بعد کے علماء کو اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ متعہ ایک مدت کا نکاح ہے، البتہ اس (زوجین) میں میراث نہیںہے۔
اصحاب رسول (ص) میں سے حضرت ابن عباس، عمران بن حصین، ابی بن کعب اور عبد اللہ بن مسعود نے روایت کی ہے کہ یہ آیت متعہ کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ ائمہ و اصحاب و تابعین حلیت متعہ کے قائل تھے: ٭ حضرت علی بن ابی طالب (ع) ٭ ابن عباس ٭ عمران بن حصین ٭جابر بن عبد اللہ انصاری ٭ عبداللہ بن مسعود ٭ عبداللہ بن عمر ٭ ابوسعید خدری ٭ ابی بن کعب ٭ ابوذر غفاری ٭ زبیر بن عوام ٭ اسماء بنت ابی بکر ٭ سمرہ بن جندب ٭ سلمہ بن امیہ ٭ معبد ابن امیہ ٭ خالد بن مہاجر ٭ ربیعہ بن امیہ۔
ایک قراء ت اس آیت کی یہ ہے: فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی فاتوھن اجورھن یعنی پھر جن عورتوں سے ایک مقررہ مدت تک تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو۔اس قراء ت کو ابن عباس، ابی بن کعب، حبیب بن ثابت، سعید بن جبیر، سدی اور عبد اللہ بن مسعود نے اختیار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو روح المعانی ٥ : ٥، تفسیر طبری ٥ : ٩ ، تفسیر کشاف، قرطبی، شرح صحیح مسلم نووی ٩ : ١٨١ وغیرہ۔ حضرات ابن عباس، ابی بن کعب اور عبد اللہ مسعود جیسے معلمین قرآن کی قراء ت کو شاذہ نہیں کہا جا سکتا۔ غیر امامیہ علماء کا یہ مؤقف ہے کہ قراء ت شاذہ کے مطابق نماز میں قرآن کی تلاوت درست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قراء ت شاذہ سے قرآن ثابت ہو جاتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود متعہ پر پابندی کیوں لگی ہے؟ یہ جانے کے لیے صحیح مسلم، باب نکاح المتعۃ کا مطالعہ کافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
بابِی اَنتَ وَ اُمی یَا رَسُول اللہ (ص)
صرف علی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے صرف علی کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), علی....Ali (17-10-09)
پرانا 08-05-09, 09:46 PM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : صرف علی مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم
منتظمین صاحب آپ کی کوشش اچھی ہے مگر آخر میں آکر آپ نے صرف ایک فرقہ کہ عقیدے کے مطابق بحث کو تمام کیا ہے اگر آپ واقع چاہتے ہیں کہ یہ بحث ہو تو آپ کو چاہیے تھا کہ تمام دلائل کو نقل کرتے پھر نتیجے کو لوگوں کے اوپر چھوڑ دیتے یہ ایک عقلی بات ہوتی مگر آپ نے آخر میں آکر ایک فرقہ کے نظریہ کو لوگوں کو قبول کرنے کے لئے دلائل عقلی لاکر یہ ثابت کیا کہ آپ ایک بحث کو نہیں چہتے ہیں بلکہ جس نظریہ کہ آپ قائل ہیں اس کو لوگ قبول کرے ۔
دوسری بات آپ چہتے ہیں کہ لوگ اپنی جیب سے دلائل لئے کر آئے ایک اسلامی حکم کے بارے میں یعنی قیاس کرے کہ اگر ایسا ہے تو یہ کیوں نہیں اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کیوں نہیں ۔اصل میں تو یہ بحث کرنا کہ یہ اسلام میں ہے یا نہیں عوام کا کام نہیں ہے اس بارے میں بحث علماء اکرام کر کرنی چاہیے کہ اس بارے میں درست کیا ہے اگر ہر مسئلہ عوام کے ہاتھ میں دئے گئے تو وہ اس کا کچومر نکال دے گئے ۔
سب سے پہلے اپکا فراہم کردہ ترجمہ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔
یہ میرا اپنا موضوع نہیں‌ہے کسی دوسری جگہ سے منتقل کیا گیا ہے اور مجھے کہیں پر بھی اس سے اچھا غیر جانبدارانہ مضمون اس موضوع پر نہیں‌ملا ہے۔
میں‌یہ نہیں‌چاہتا کہ لوگ اپنی جیب سے دلائل لائیں۔ دلائل کہیں سے بھی لائیں ان کے ریفرنس فراہم کریں۔ لیکن کاپی پیسٹ نہیں کریں۔ تاکہ بعد میں یہ عذر نہ رہے کہ یہ میری تحریر نہیں بلکہ فلاں فلاں کتاب میں ایسا لکھا گیا ہے۔ اور الفاط کا چناو ایسے کیا گیا ہے۔
کیا اپ ان علماء میں سے ہیں‌جو عالم اور عوام میں ایک لکیر کھینچ کر چلتے ہیں۔

نوٹ: یہ سارے غیر ضروری مراسلات ہیں جو میں کچھ عرصے کے بعد ختم کر دوں گا اور بحث بس متعلقہ موضوع کے متعلق ہی رہ جائے گی۔

Last edited by منتظمین; 08-05-09 at 09:52 PM.
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
پرانا 10-05-09, 10:53 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منتظمین، سلام۔ شکریہ ایک بہت ہی متنازعہ موضوع پر ایک معلوماتی دھاگہ شروع کرنے کا۔

آپ نے دو بڑے مسئلے پیش کئے ہیں۔ ایک ہے ناسخ‌و منسوخ اور دوسرا ہے متعہ۔ چونکہ یہ دھاگہ متع کے بارے میں‌ہے ، لہذا میں ناسخ و منسوخ سے صرف یہ کہہ کر دور رہوں گا کہ قرآن میں ناسخ منسوخ موجود نہیں۔ جو صاحب اس ضمن میں‌کوئی بات کرنا چاہیں وہ ایک الگ دھاگہ شروع کرسکتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالی اس پر مناسب معلومات عرض کروں گا۔

اب آئیے متع کی طرف، اس سے پہلے کہ ہم ان آیات پر کوئی بھی تبصرہ کریں۔ یہ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ کوئی بھی جواب دے سکتا ہے۔
کیا اسلام قرآن اور سنت رسول اکرم ہے؟‌
1۔ اگر ہاں تو رسول اکرم صلعم نے کتنی بار متع فرمایا؟ کتب روایات سے حوالہ دیجئے تاکہ بات پھر وہاں سے آگے بڑھائی جائے۔
2۔ عربی لفظ متع کے لغوی معانی کیا ہیں، جس سے "متع" کی اصطلاح بنی ہے؟

والسلام
طالب علم قرآن
فاروق سرور خان

Last edited by فاروق سرورخان; 10-05-09 at 11:19 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), فیصل ناصر (10-05-09), چیتا چالباز (11-05-09), محمد عاصم (03-10-10), مرزا عامر (20-11-11), غلام خان (21-12-10)
پرانا 10-05-09, 11:26 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے کہ پہلے بات قرآن کی آئت پر کی جائے۔ جب احادیث آئیں‌گیں تو یہ سوال وہاں آٹھایا جائے۔ کیا اس آئت سے متعہ کا جواز ملتا ہے۔ کیا یہ منسوخ شدہ ہے اگر ہے تو کس آئت سے؟ منسوخ اور ناسخ کے لیے الگ موضوع باندھ لیں۔

نوٹ: تمام غیر متعلقہ / غیر ضروری مراسلات خذف کر دئے جائیں گے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), shafresha (16-05-09), فیصل ناصر (10-05-09), Wahid Mahmood (05-01-10), علی ولی (16-05-09), علی....Ali (17-10-09)
پرانا 11-05-09, 01:31 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس آیت 4:24 میں متع کرنے یعنی (‌یعنی کسی بھی عورت سے وقتی جنسی فائیدہ اٹھانے کا ) کوئی سراغ دور دور تک نہیں‌ملتا ہے۔ یہاں‌صرف یہ بتایا گیا ہے کہ شوہر والی عورتیں شادی کرنے کے لئے عموما حرام کی گئی ہیں ، ماسوائے وہ عورتیں جو کسی جنگ کی صورت میں بے سہارا رہ جائیں۔ اسلامی مملکت پر ان کی ذمہ داری عائد ہوتی ہو، جبکہ ان کے شوہر لاپتہ ہوں تو ان سے شادی کرنا مسلمانوں کے لئے جائز قرار دیا گیا۔ کسی ایک آدمی کو یہ سرٹیفکیٹ نہیں دیا جارہا کہ وہ ان سے وقتی فائیدہ اٹھائے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت وقتی شادی سے منع کرتی ہے۔ دیکھئے

أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ
کہ : تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے - کہ آپ اپنے مال و متاع سے ان کو محصنین یعنی پاکیزہ و پاکیزگی اکتیار کرنے والی بنائیے عفت و عصمت کی حفاظت کرنے والی بنائیے ، اور کوئی سفح (غیر قانونونی یا ناپاک کام ) کرنے والی نہ بنائیے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ محصنین یعنی حصن اور مسافحین یعنی سفح کے الفاظ اللہ تعالی نے کس طرح استعمال کئے ہیں۔

حصن کا لفظ اللہ تعالی نے مریم علیھا السلام جیسی پاکیزہ خاتون کے تذکرہ کے لئے استعمال کیا کہ انہوں نے اپنی عفت کی حفات کی ۔
21:91 وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ
اس (پاکیزہ) خاتون (مریم علیہا السلام) کو (بھی یاد کریں) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسٰی علیہ السلام) کو جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا

اب دیکھئے کہ جہاں سؤر اور بہتے ہوئے خون کو مفسوح‌ ی یعنی ناپاک قرار دیا
6:145 قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

ان دو آیات سے حصن اور فسح کی مناسب تعلیم ہم کو ملتی ہے ، اس طرح اس آیت کے اس حصے کو ہم بہت ہی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں‌پر اپنے مال کو بطور مہر استعمال کرتے ہوئے ، خواتین کو حصن، یعنی باعفت ، پاکیزہ طور پر بیوی بنانے کا حکم دیا جارہا ہے اور اس کی خلاف ورزی کو فسح یعنی ناپاک کہا جارہا ہے۔

أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً

اس مقام سے فما استمتعتم ، قطعا عارضی فائیدہ نہیں بلکہ کہا جارہا ہے کہ جب بیوی بنانے کا فائیدہ اٹھایا تو مہر ادا کرد و کہ جیسا فرض‌ہے۔

اب آپ یہ اعتراض‌کرسکتے ہیں کہ عارضی عیش یا عارضی شادی کیوں نہیں ہے؟
تو اس کا ایک جواب تو ابھی دیا جاچکا ہے کہ حصن یعنی باعفت اور باعصمت بنانے کے لئے شادی کی جائے نہ فسح یعنی ناپاکی کے لئے۔ قرآن محصنات کا لفظ شادی شدہ خواتین کے لئے استعمال کرتا ہے۔ یعنی روایاتاً شادی شدہ، لہذا یہ کہنا کہ یہاں عارضی شادی کی بات ہورہی ہے درست نہیں۔

اس موضوع کی وضاحت 4:25 میں ایک بار پھر دوسرے الفاظ میں کی گئی ہے اور یہاں متع یعنی وقتی فائیدہ اٹھانے کے بات نہیں کی گئی۔ اگر ہم مہر کی ادائیگی کو عارضی شادی کی دلیل کے لئے استعمال کریں تو پھر تو ہر شادی متع بن جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ لوگوں نے شادیاں خاندان بنانے کے لئے کی ہیں نہ کہ وقتی فائیدہ کے لئے؟

4:25 وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَن تَصْبِرُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اور جو نہ رکھتا ہو تم میں سے قدرت اس بات کی کہ نکاح کرسکے آزاد مومن عورتوں سے تو (وہ نکاح کرے) ان سے جو تمہاری مِلک میں ہوں، کنیزیں ایمان والی اور اللہ خُوب جانتا ہے تمہارے ایمان کا حال، تم سب ایک دوسرے میں سے ہو، سو نکاح کرو ان کنیزوں سے، اجازت سے ان کے مالکوں کی۔ اور ادا کرو انہیں ان کے مہر دستور کے مطابق (تاکہ وہ) قیدِ نکاح میں محفوظ رہنے والیاں ہوں نہ جی بدکاری کرنے والیاں اور نہ چوری چھُپے یارانہ گانٹھنے والیاں۔ پھر جب وہ قیدِ نکاح میں محفوظ ہوجائیں تو اگر ارتکاب کریں بدکاری کا تو ان کے لیے ہے نصف اس سزا کا جو ہے آزاد عورتوں کے لیے مقّرر ہ سزا۔ یہ (کنیز سے نکاح کی سہولت) اس کے لیے ہے۔ جسے ڈر ہو بد کاری میں مُبتلا ہونے کا تم میں سے اور یہ کہ صبر سے کام لو تم۔ یہ بہتر ہے تمہارے لیے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔

تو جناب ، یہ بات کہ ان کے اجور یعنی مہر دستور کے مطابق ادا کرو تاکہ وہ نکاح کی پابند رہیں صرف اور صرف باقاعدہ شادی میں ہی ممکن ہے ، اگر نکاح کی پابندی نہیں ہے تو پھر اس عمل کو بدکاری اور چوری چھپے یارانہ گانٹھنے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔

اسی مضمون کا اعادہ اللہ تعالی نے دوبارا 5:5 میں کیا۔
5:5 الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا

گویا، بنیادی احکامات نکاح کرنے کے لئے یہ بیان کئے گئے کہ
1۔ مہر کی ادائیگی کرو
2۔ باقاعدہ نکاح کرو ، عفت و عصمت کی حفاظت کے لئے
3۔ نہ کہ ناپاک حرکتوں کے لئے
4۔ اور نہ ہی چھپی ہوئی یاری کرنے کے لئے۔

تو ہم کو قرآن سے کسی متع یعنی وقتی فائیدہ اٹھانے کی کوئی روایت نہیں ملتی، بلکہ نکاح کرنے کی ہدایت ملتی ہے پاکی اور تحفظ عفت کی اس کے علواہ سب کچھ سفح‌یعنی ناپاک قرار دیا گیا ہے۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا نکاح کرنا وقتی طور پر درست ہے (‌وقتی فائیدہ ، وقتی عیش یا متع) یا یہ کہ نکاح ایک مرد پر اپنی زوجہ اور اپنے خاندان کی ذمہ داری ہے؟ دیکھئے

2:240 وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِيَ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوں اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں ان پر لازم ہے کہ (مرنے سے پہلے) اپنی بیویوں کے لئے انہیں ایک سال تک کا خرچہ دینے (اور) اپنے گھروں سے نہ نکالے جانے کی وصیّت کر جائیں، پھر اگر وہ خود (اپنی مرضی سی) نکل جائیں تو دستور کے مطابق جو کچھ بھی وہ اپنے حق میں کریں تم پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے

تو اللہ تعالی کا حکم ہے کہ اگر آپ وقت میں دور جائین یعنی مر جائیں یا فاصلے میں دور جائیں یعنی سفر کریں تو کم از کم ایک سال کا خرچہ اور گھروں میں‌رہائش ضروری ہے۔

اللہ تعالی نے طلاق دئے جانے کی صورت میں بھی اس حکم کو باقی رکھا۔
65:1 تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے

بائی دی وے، یہ بھی اللہ کی مقرر کردہ ایک حد ہے ، جسے شرارتی ملا حدود آرڈینینس بناتے ہوئے بالکل بھول جاتے ہیں۔ ااس پر بات بعد میں۔

تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ وقتی عیاشی ممکن ہی نہیں ہے کہ اگر طلاق واقع ہوگئی، چاہے وہ متع سے ہوئی کہ معیادی شادی تھی یا طلاق دینے سے ہوئی یا خلع سے ہوئی، عورت کو اس مکان میں رہنے کا حق ہے جو اس کے شوہر کی ملکیت ہے۔ تو بھائی جو لوگ متع کرنے اور اس سے واقع ہونے والی طلاق کے حق میں‌ہیں وہ اپنی جائیداد سے ہاتھ دھونے کے لئے تیار رہیں

اب دیکھتے ہیں کہ کیا لفظ متع قرآن میں موجود ہے۔ اگر موجود ہے تو پھر ہم کو اس کے وہی معانی لینے چاہئیے ہیں جو متع کے حامی لیتے ہیں کہ وقتی یا معیادی شادی۔ آپ دیکھیں گے کہ میں جونہی متع کے بارے میں آیت لکھوں گا، شرارتی ملا جو استمتعتم کی مثال دیتے نہیں تھکتے ، کہیں گے -- اوہ --- یہ آیت متع کے بارے میں تھوڑی ہے ہے یہ تو کسی اور "متع"‌ کے بارے میں ہے ۔ اس متع کے معانی تو کچھ اور ہیں۔ بھائی صلوۃ کے معانی ایک ہیں ، اللہ کے معانی ایک ہیں تو متع کے معانی بھی ایک ہی ہوئے۔

وقتی عیاشی یعنی متع کے بارے میں یہ آیات دیکھئے - ان آیات میں میں نے لفظ متع کو من و عن رکھا ہے ، اس کا ترجمہ نہیں استعمال کیا ہے ۔

بعض لوگوں نے بعض لوگوں سے متع کیا یعنی معیادی شادی کی تو پھر وہ اپنی معیاد پوری ہونے پر جہنم میں‌پہنچ گئے ۔ بھائی عبداللہ حیدر اور بھائی عادل سہیل سے عرض ہے کہ اپنی عربی زبان کی مہارت استعمال کرتے ہوئے ہمیں‌بتائیے کہ یہاں کیا " معیادی متع کرنے والوں "‌ کے بارے میں کہا جارہا ہے؟ اگر ہاں تو پھر یہ "متع " کونسا ہے اور شادی والا متع کونسا ہے؟ کہ شادی والے متع اور اس متع میں کیا فرق ہے؟

6:128 وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلاَّ مَا شَاءَ اللّهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَليمٌ
اور جس دن وہ ان سب کو جمع فرمائے گا (تو ارشاد ہوگا اے گروہِ جنّات (یعنی شیاطین!) بیشک تم نے بہت سے انسانوں کو (گمراہ) کر لیا، اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے معیادی متع کئے اور (اسی غفلت اور مفاد پرستی کے عالم میں) ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرمائی تھی ۔ اﷲ فرمائے گا کہ (اب) دوزخ ہی تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اسی میں رہو گے مگر جو اﷲ چاہے۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے

تو بھائی یہ کونسا استمتع یعنی متع ہے جس کی سزا جہنم ہے ؟

اب دیکھئے 9:69
9:69 كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُواْ أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالاً وَأَوْلاَدًا فَاسْتَمْتَعُواْ بِخَلاَقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُم بِخَلاَقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ بِخَلاَقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُواْ أُوْلَـئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
( تم) ان لوگوں کی مثل ہو جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ پس جب انہوں نے متع کیا جیسے تم متع کررہے ہو جیسے تم سے پہلے لوگوں نے (لذّتِ دنیا کے) لئے متع کیا تھا نیز تم (بھی اسی طرح) باطل میں داخل اور غلطاں ہو جیسے وہ باطل میں داخل اور غلطاں تھے۔ ان لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے اور وہی لوگ خسارے میں ہیں

یہ کون لوگ ہیں جن کے متع کی مثال دی جارہی ہے ؟ کہ انہوں‌نے متع کیا جیسے تم متع کررہے ہو جیسے تم سے پہلے لوگوں نے متع کیا تھا ---- ان کی تو آخرت برباد ہوگئی او یہ تو خسارے میں ہیں۔ یاد رکھئے کہ میں نے لفظ متع کا ترجمہ نہیں کیا ہے ، اس کو من و عن استعمال کیا ہے ۔ ہمارے عربی جاننے والے برادران اس امر کی تصدیق کردیں کہ میں نے ترجمہ میں کوئی تحریف نہیں‌کی ۔ اور اگر کی ہے تو اس کو درست فرمادیں۔

16:55 لِيَكْفُرُواْ بِمَا آتَيْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(یہ کفر و شرک اس لئے) تاکہ وہ ان (نعمتوں) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھی ہیں، پس (اے مشرکو! چند روز) متع کر لو پھر تم عنقریب (اپنے انجام کو) جان لو گے

31:24 نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
ہم انہیں (دنیا میں) تھوڑا سا متع کرنے دیں گے پھر ہم انہیں بے بس کر کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے


میں‌واضح کردوں کے متع سے متعلق ان آیات سے میرا مقصد قطعا یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ متع ان آیات سے حرام قرار پاتا ہے ۔ ان آیات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر 4:24 کے اسمتعتم کو آپ متع کے حلال ہونے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو پھر متع جہاں‌جہاں‌استعمال ہوا ہے وہاں اس کا ترجمہ کچھ اور کیوں کرتے ہیں‌۔

کسی عورت سے وقتی فائیدہ اٹھانے کے لئے اللہ تعالی نے بالکل اجازت نہیں دی ہے ۔ ایسی کوئی اجازت قرآن سے ثابت نہیں۔ مزید یہ کہ ایسا کوئی عمل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت نہیں۔ رسول اللہ صلعم کے متع یعنی وقتی شادی کرنے کوئی روایت نہیں۔ نکاح کے مروجہ طریقہ کے علاوہ عفت و پاکیزگی کی کوئی راہ اللہ تعالی نے تجویز نہیں کی۔ سبحان اللہ !

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 11-05-09 at 01:35 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), shafresha (11-05-09), فیصل ناصر (11-05-09), کنعان (16-10-09), چیتا چالباز (11-05-09), نورالدین (25-03-10), مرزا عامر (20-11-11), Wahid Mahmood (05-01-10), علی ولی (16-05-09), عبدالقدوس (22-11-11), عبداللہ حیدر (11-05-09)
پرانا 11-05-09, 02:19 AM   #10
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق بھائی ذرا درج ذیل آیت کی بھی کچھ تشریح فرمادیں

وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ [٢٤:٣٣]
اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے

سورۃ نساء کی آیت 25 کا آخری جملے میں جو کہا گیا یہ بھی مزید توجہ کا طالب ہے

اور یہ کہ صبر سے کام لو تم۔ یہ بہتر ہے تمہارے لیے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), فاروق سرورخان (11-05-09), چیتا چالباز (11-05-09), نورالدین (25-03-10), علی ولی (16-05-09), غلام خان (21-12-10)
پرانا 11-05-09, 02:48 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فیصل بھائی ، سلام

آُ پ آیت 24:33 اور 4:25 کے جن حصوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ خود ہی بہت واضح ہیں اور واضح طور پر صبر کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالی نے نکاح کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں صرف اور صرف صبر کی ہدایت کرتی ہیں۔ 24:33 میں تو اللہ تعالی نے خود کسی شخص کی باندی کو استعمال کرنے تک کی اجازت نہیں دی ۔ کجا کے ایک شخص جائے اور کسی آزاد عورت سے بناء‌مہر کسی قسم کا فائیدہ، کسی ناپاک مقصد کے لئے حاصل کرے۔ صبر ، پاک دامنی، عفت و عصمت کو حفاظت اور مناسب طریقہ سے نکاح کرکے خاندان بنانے کا حکم قرآن کی آیات دیتی ہیں۔ یہی ہم پر فرض ہے ۔ اس میں کسی قسم کے عارضی مزے کی تو علامت مجھے دور دور نظر نہیں آتی۔

امید ہے کہ متع کے حق میں جو لوگ لکھتے اور بولتے ہیں وہ قرآن سے اس حرام عمل کی توثیق ڈھونڈنے کے بجائے قرآن سے ہدایت حاصل کریں‌گے۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), shafresha (11-05-09), فیصل ناصر (11-05-09), چیتا چالباز (11-05-09), نورالدین (25-03-10), مسافر (29-10-09), Wahid Mahmood (05-01-10), راجہ اکرام (17-06-09), علی ولی (16-05-09), غلام خان (21-12-10)
پرانا 11-05-09, 07:08 PM   #12
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے سورۃ النساء 3

فاروق بھائی مذکورہ آیت بھی کچھ دلیل رکھتی ہے کیا ؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), فاروق سرورخان (12-05-09), چیتا چالباز (11-05-09), Wahid Mahmood (05-01-10), علی ولی (16-05-09)
پرانا 17-06-09, 09:27 AM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام میں ’’ابغض الحلال‘‘ چیز طلاق ہے۔
یعنی حلال ہونے کے باوجود اللہ کو انتہائی نا پسند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں خاندان کے ادارے کو مضبوط کرنا انتہائی اہم ہے جس پر ایک اچھا معاشرہ اور اور اچھی قوم تشکیل پاتی ہے۔
اس صورت میں اسلامی تعلیمات سے متعہ کا جواز کس طرح ثابت ہو سکتا ہے جس میں مذکورہ مدت کے بعد طلاق تک کی نوبت نہیں آتی۔
اس کے علاوہ اس صورت میں پیدا ہونے والی اولاد وہ توجہ حاصل نہیں‌کر سکتی جو اس کا حق ہے، اگر اس چیز کو جائز قرار دیا جائے تو معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو گا اور لا وارث بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔۔

۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), فیصل ناصر (19-06-09), Wahid Mahmood (05-01-10)
پرانا 17-06-09, 11:03 AM   #14
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا اپ نے پہلی پوسٹ پڑھی ہے؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (20-11-11)
پرانا 05-10-09, 12:59 AM   #15
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 666
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ ایڈمن بھائی صاحب۔ آپ نے ایک اچھا آرٹیکل پوسٹ کیا ہے جس سے ہر فریق کے دلائل بہت حد تک سامنے آ گئے ہیں۔

میں اپنی کم علمی کے باوجود ان صاحب آرٹیکل کے چند شبہات کا جواب دینا چاہوں گی تاکہ کچھ معاملات میں وہ اپنی اصلاح کر لیں۔

پہلا: محدث دہلوی صاحب کے تخیل کی پرواز

ان صاحب (منصور آفاق) صاحب کا اس بات پر کافی زور رہا ہے کہ علامہ نقن صاحب نے شاہ عبدالعزیز صاحب کے اس اعتراض کا جواب نہیں دیا ہے کہ:

اقتباس:
از شاہ عبدالعزیز:
”اس عقد فاسد میںخدا کے حکم کی مخالفت کے ساتھ ایسے بی شمار مفاسد ہیں جو خلاف شریعت ہیں ۔ اسطرح تومتعہ کرنے والے شخص کی اولاد ہر ہر شہر اور ہر ہر قریہ میں موجود ہو گی اور ان کا کوئی تربیت کرنے والا بھی نہ ہو گا اور ان میں لڑکیاں بھی موجود ہو نگی کہ جن کی شادی برابر والوں میں نہ ہو سکے گی اور سفر میں ہر منزل پر متعہ ہونے کے بعد ہر منزل میں عورت کو حمل بھی رہیگا اور جو لڑکیاں پیدا ہو نگی ان کے اسے خبر نہ ہوگی۔ اور یہ جب پندرہ بیس بر س کے بعد اس راستے سے گزریگا تو انہی لڑکیوں میں سے کسی سے متعہ یا نکاح کریگا اور اس طرح اپنی بیٹی کے ساتھ نکاح کا مرتکب ہو گا اور جب اسکی اولاد بے شمار و لاتعداد ہے تو میراث کی تقسیم نہیںہو سکتی کیونکہ ورثا ءکی تعداد اور انکے محل سکونت و جائے قیام کا علم نہیں اور اولاد کے انتقال پر ان کی میراث کا تقسیم ہو جانا بھی ممکن نہ ہو گا کیونکہ ان کے باپ بھائی کا تو پتہ نہیں لہذا حاجب اور غیر حاجب کا امتیاز نہیں ہو سکتا یہ ہے نکاح متعہ کہ جس سے تمام شریعت درہم برہم ہو جاتی ہے “
تو شیعہ فقہ کے مطابق اسکا جواب ذیل میں موجود ہے:

اقتباس:


Q6: If the husband leaves the town after the expiration of Mut'a marriage, is it incumbent upon him to later inquire whether the union was fruitful, and take the custody of his child?



When a man goes to a journey and temporarily marries, it is incumbent upon him to provide some information to that woman about his original place and how he can be reached, so that in the case of pregnancy, the father is informed, and he should provide all the financial means for his child. This goes for permanent marriage too. If a man divorces his wife, and immediately leaves the town for another place, it is incumbent upon him to provide information to his ex-wife as how he can be reached in the case of pregnancy. In both cases, the child is the legal heir of his father and his mother.
لنک یہ ہے اور اس سے قبل تین دفعہ w لگا لیں۔
al-islam.org/ENCYCLOPEDIA/chapter6a/8.html
کیا شاہ عبدالعزیز صاحب کنیز عورت کے ساتھ لڑکی پیدا ہونے پر بھی تخیل کی یہ پرواز کریں گے؟

برادران اہلسنت کی فقہ کے مطابق کنیز باندی سے اسکا آقا ہمبستری کر سکتا ہے، اور پھر [متعہ کی طرح عارضی و وقتی تعلقات کے بعد] اگلے آقا کو بیچ سکتا ہے جو ایک ماہوراری گذرنے کے بعد اُس کنیز باندی سے ہمبستری کر سکتا ہے، اور پھر اسے تیسرے آقا کو بیچ سکتا ہے۔ پچھلی صدیوں میں اہل تشیع کے ہاں تو عقد متعہ رائج تھا، مگر اہلسنت کے ہاں سوداگروں اور امراء کو طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جس علاقے میں ٹہرتے تھے وہاں کنیزیں خرید کر ہمبستری کرتے تھے اور جاتے ہوئے انہیں آگے بیچ دیتے تھے۔ اب بتلائیے کہ پیچھے اگر ان کنیز باندیوں کی اولادیں ہوتی رہیں تو (۔۔۔۔ تخیل کی وہ پرواز آپ خود پوری کر لیں جو کہ شاہ صاحب عقد متعہ کی صورت میں کر رہے تھے۔۔۔)

اب اگر شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی انصاف کی بات کرتے تو انہیں اس چیز میں 100 فیصدی تمام وہی نقائص نظر آ جاتے جو کہ وہ عقد متعہ میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ افسوس کہ انکی تخیل کی پرواز اس صورت میں فقط عقد متعہ پر جا کر رک گئی۔

اور افسوس کہ منصور آفاق صاحب بھی اس مسئلے میں شاہ صاحب کو پکڑ نہ سکے اور اس سادہ اور آسان سے معاملے میں انہوں نے شاہ صاحب کی ہمنوائی کی۔

لوگوں کے شریعت کے اصولوں کے غلط استعمال سے شریعت کے اصول حرام نہیں ہو جاتے

سنن ابو داؤد کی یہ روایت دیکھئیے:

اقتباس:
[سنن ابو داؤد، کتاب 12، روایت 2304]:
جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے:
کسی انصاری کی ایک کنیز رسول ص کے پاس آئی اور کہا: میرا مالک مجھے بدکاری پر مجبور کرتا ہے۔ اس پر اللہ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: اور اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ عفت و پاکدامنی چاہتی ہیں۔(القرآن 24:33)
آپ نے دیکھا کہ اسلام نے اگرچہ کہ مالکوں کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنی کنیز باندیوں کا نکاح حق مہر کے عوض کسی دوسرے شخص سے کر دیں [اور یہ حق مہر اس صورت میں مالک کے قبضے میں جاتا تھا]، اور پھر یہ مالک کچھ روز کے بعد اس نکاح کو ختم کر دیتا تھا اور ایک ماہواری ختم ہونے کے بعد اپنی اسی کنیز باندی کا نکاح کسی تیسرے شخص سے کر کے حق مہر کے نام پر پیسہ حاصل کرتا تھا۔ بہرحال، اس چھوٹ کو بزنس کی شکل دے دینا بالکل غلط تھا اور اس پر اللہ تعالی نے قرآن میں آیت نازل فرمائی:

[القرآن 24:33]۔۔۔ اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن (یا حفاطتِ نکاح میں) رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہو جانے کے بعد (بھی) بڑا بخشنے والا مہربان ہے

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عقد متعہ امت پر اللہ کی رحمت اور احسان تھا کہ جس کی مدد سے انسان اپنے آپ کو گناہ سے بچاتا اور مولا علی علیہ السلام فرماتے رہے کہ اگر اس عقد متعہ کو حرام نہ کر دیا جاتا تو کوئی زنا نہ کرتا سوائے شقی القلب شخص کے۔

چنانچہ اگر کوئی بدبخت شخص اس چیز کا غلط استعمال کرنا چاہتا ہے تو قصوروار وہ شخص بذات خود ہے نہ کہ شریعت کا کوئی اصول۔
مہوش علی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مہوش علی کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-11-11), علی....Ali (17-10-09), غلام خان (21-12-10), صرف علی (09-10-09)
جواب

Tags
فروخت, فرض, کتابوں, کراچی, پاک, پسند, واقعات, قید, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نظر, مکہ, میراث, ماں, ایران, تلاش, تعلیم, خدا, دریافت, طلاق, عورت, عقد, صحابہ, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
:::::تین کاموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے قسم اٹھائی ::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 7 14-12-09 02:17 PM
،راہ ھدایت پر وہی شخص ہے جس کا ایمان وعقیدہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان وعقیدہ کے موافق رہے sahj اخلاق و آداب 0 18-11-09 02:39 PM
ضربِ کلیم (مکمل مجموعہ کلام ( راجہ صاحب شعر و شاعری 28 15-04-08 07:07 PM
کوئٹہ کے بارونق بازار میں بم دھماکا،نوعمر لڑکا ہلاک ،10افراد زخمی عبدالقدوس خبریں 0 18-12-07 07:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger