| ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2930
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), فیصل ناصر (06-11-11), فاروق سرورخان (10-05-09), پاکستانی (06-05-09), محمدمبشرعلی (02-10-10), شاہد جمیل حفیظ (16-10-09) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مشہور روایت بھی انہی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے متعة النساءاور پالتو گدھوں کے گوشت سے جنگ خیبر میںمنع فرمایا ۔ یہ روایت بخاری میں دو طریقوں سے ہے مسلم میں پانچ روایتیں ہیں ابن ماجہ میں ایک موطا امام مالک میں ایک مسند شافعی میں تین منتقی الاخبار ابن تیمیہ میں ایک ، معالم التزیل میں ایک اور اسی طرح ایک روایت جمع الفوائد میں ہے ۔ ادھر یہ روایات بھی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اس پابندی سے متفق نہ تھے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے متعہ پر عائد کی تھی ۔ ابن جریر طبری نے لکھا ہے ۔ ”حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اگر حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے متعہ سے ممانعت نہ کی ہوتی تو جب تک کسی کی کوئی خاص بدبختی اسے نہ اکساتی وہ زنانہ کرتا“(جامع البیان ج5ص9) کنزالعمال میں ہے ۔ ”حضرت علی نے فرمایا اگر حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے اپنی رائے کے مطابق متعہ سے ممانعت نہ کر دی ہوتی تو میں متعہ کا حکم دیتا اور اس وقت تک کوئی مرتکب زنانہ ہوتا جب تک اس پر بدبختی غالب نہ ہوتی “(کنز العمال ج8ص۴91)طبری کی روایت امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر ج3ص591 پر اور علامہ نےشا پوری نے اپنی تفسیر غرائب القران ج1ص12۴ پر نقل کی ہے اور اس طرح یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ جناب عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے اس اقدام سے متفق نہ تھے ۔ ادھر وہ روایات ہیں جن کا ہم ذکر کر چکے دارقطنی کی ایک روایت میں تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے متعہ کی ممانعت کی علت بھی بیان کی گئی ہے ۔ روایت یوں ہے ۔ ”حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے ممانعت فرمائی اور کہا متعہ ان لو گوں کے لئے تھا جن کے پاس سامان نہ ہو لیکن جب خدا نے نکاح ، طلاق ، عدت اور میراث کے احکام نازل کر دیئے تو متعہ منسوخ ہو گیا“(سنن دار قطنی ج2ص893) ایک اور روایت میں تو متعہ کی حرمت کی بات ہے ۔ ”حضرت علی سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو متعہ کی ممانعت کر تے ہوئے سنا آپ نے فرمایا یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے“ (کنز العمال ج8ص۴92) اسی روایت کو دارقطنی نے افراد میں روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں احمد بن محمد بن عمر وہ راوی ہے جو منفرد ہے ابن عساکر نے بھی یہ روایت نقل کی ہے لیکن اسی احمد بن محمد کے متعلق لکھا ہے ابن ماعد کا قول ہے کہ ”وہ کذاب تھا“ بعض روایات کی شیعہ اور اہل سنت نے اپنے خیال کے مطابق تاویل کی مثلاً صحیح مسلم کی روایت ہے ۔ ”حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو معلوم ہوا کہ ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہ متعہ کے معاملہ میں کچھ کمزوری دکھاتے ہیں تو آپ (حضرت علی ) نے فرمایا خبردار اے ابن عباس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خیبر میں متعہ سے ممانعت کی تھی“(صحیح مسلم ) اہل سنت کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس متعہ کی حرمت میں کمزوری دکھاتے تھے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں ہی اس سے ممانعت کر دی تھی ۔ شیعہ حضرات کہتے ہیں اس کا مطلب ہے حضرت ابن عباس متعہ کو مباح (جائز ) کہنے میں کمزوری دکھاتے تھے تو حضرت علی نے فرمایا متعہ کی ممانعت خیبر میں ہوئی تھی یعنی اس کے بعد جائز ہو گیا ۔ اسی لئے تو حضرت ابن عباس متعہ کی اباحت پر راسخ ہو گئے کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بات بہت مانتے تھے اور ان کے شاگرد کی طرح تھے ۔ چنانچہ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ پوری طرح متعہ کے حامی بن گئے ۔ جہاں تک حضرت ابن عباس کا تعلق ہے ان کی طرف سے متعہ کی حمایت متعدد روایات میں منقول ہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی تحریر کرتے ہیں ۔ ”محدث عبد الرزاق نے اپنی کتاب میں ابن جریج سے اور انہوں نے عطاءسے روایت کی ہے کہ ابن عباس متعہ کو حلال سمجھتے تھے اور کہتے تھے متعہ کا جائز ہونا خدا کی طرف سے ایک رحمت تھا اور اگر حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے ممانعت نہ کی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی “( تفسیر مظہری ص27۶) آگے لکھتے ہیں ۔ ”ابن عبدالبر نے روایت کی ہے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے پو چھا گیا متعہ نکاح ہے یا سفاح انہوں نے کہا سفاح ہے نہ نکاح بلکہ اس کا نام وہی ہے جو خدا نے رکھا ہے یعنی متعہ راوی نے پوچھا اس میں عدت ہے؟ انہوں نے کہا”ہاں“ پھر پو چھا” میراث؟“ انہوں نے کہا”نہیں“ (ایضاً)وہ اپنی اس رائے پر قائم بھی رہے ۔ ”نافع کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن عمر سے متعہ کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا حرام ہے انہوں نے کہا ابن عباس تو اس کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں انہوں نے کہا ابن عباس نے حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں یہ آواز بلندنہ کی اگر کوئی اس الزام میں گرفتار ہوتا تو وہ سنگسار کرنے کا حکم دیتے تھے“ (کنز العمال ص۴92) علامہ ابن قیم نے کہا ہے کہ ابن عباس تو خاص و عام کے مجمع میں متعہ کے جواز پر مناظرانہ دلائل بیان کر تے (زاد المعاد ج1ص۴12) حضرت عروہ بن زبیر نے حضرت ابن عباس سے کہا” آپ متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں اور ابو بکر و عمر دونوں نے اس سے ممانعت کی ہے “ انہوں نے کہا”عجیب بات ہے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر تا ہوں اور یہ شخص ابو بکر و عمر کے اقوال پیش کرتا ہے“ عروہ نے کہا”وہ دونوں تم سے زیادہ جانتے تھے“اس پر ابن عباس نے سکوت کیا(کنز العمال ج8ص 39 2 )زادالمعاد میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے کہا تھا ”تم لوگ باز نہ آﺅگے جب تک خدا تم پر عذاب نازل نہ کرے میں تو احادیث رسول بیان کرتا ہوں اور تم ابو بکر و عمر کے اقوال“ (ص912) ایک اور جگہ ہے انہوں نے کہا تھا”قریب ہے تم پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہو“ (ص512) یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر میں حضرت ابن عباس نے رجوع کر لیا تھا علامہ زمحشری لکھتے ہیں ”کہاجاتا ہے کہ انہوں نے اپنے انتقال کے دن رائے تبدیل کر لی اور کہا خدایا میں اب توبہ کر تا ہوں جو از متعہ کے متعلق اپنے قول سے“ (تفسیر کشاف ج1ص۴82) اب یہ معلوم نہیں کہ علامہ زمحشری کو یہ بات کس نے بتائی تھی انہوں نے اس راوی کا ذکر نہیں کیا جو قریب الموت ابن عباس سے یہ الفاظ سن رہا تھا ۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوع ابن عباس کے جواز متعہ پر لکھتے ہیں ۔ ”حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابن عباس کی پیدائش ہجرت سے دو برس یا ایک برس پہلے ہوئی اور آٹھ یا نوبرس کی عمر تک مکہ معظمہ میں رہے ہجرت کے بعد جو لوگ مکہ معظمہ میں رہ گئے تھے انہیں احکام شرعیہ میں کچھ بھی واقفیت نہ تھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ (کذا) فتح کرنے کے لئے ہجرت سے آٹھویں سال مدینہ منورہ سے نکلے تو حضرت ابن عباس حضرت عباس کے ہمراہ مکہ معظمہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے ہمراہ لے لیا اور حضرت ابن عباس کو باقی ذریات اور مستورات کے ساتھ مدینہ منورہ میں روانہ فرما دیا غزوہ خیبر حضرت ابن عباس کے مدینہ منورہ آنے سے قبل چند سال پہلے ہو چکا تھا اور غزوہ اوطاس کہ اس کو غزوہ حنین بھی کہتے ہیں فتح مکہ کے بعد اسی کے ساتھ واقع ہوا اس غزوہ میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نہ تھے اور نہ ان دونوں غزوات کے واقعات سے انہیں کچھ بھی اپنے طور پر خبر ہو سکی صرف دوسرے صحابہ کرام کی زبانی آپ کو ان دونوں غزوات کا کچھ حال معلوم ہوا ۔ ظاہر ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے بلاوجہ کیوں متعہ کی روایت کی ہو گی جبکہ وہ صرف دو سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے مستفید ہو ئے اور اس عرصہ میں کوئی ایسا واقعہ نہ آیا کہ متعہ کا تذکرہ ہو اور متعہ کی حرمت معلوم ہو حضرت ابن عباس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اس امر کی کچھ بھی اطلاع نہ ہوئی اور حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں اس مسئلہ میں بحث آئی تو حضرت ابن عباس نے سمجھا کہ ان آیات مذکورہ سے متعہ کی حرمت ثابت ہو تی ہے اور آپ کو دوسرے صحابہ کے بیان سے معلوم ہوا کہ غزوہ اوطاس میں متعہ کی اباحت کا حکم ہوا تو انہوں نے سمجھا کہ خاص بوقت ضرورت رفع ضرورت کی غرض سے متعہ مباح کیا گیا تو انہوں نے خیال کیا کہ جب کوئی اشد ضرورت متعہ کی ہو تو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس میں بحالت ضرورت متعہ کے لئے اجازت فرمائی تھی اس واسطے اب بھی جب اشد ضرورت ہو متعہ جائز ہو گا ۔تین دن کے بعد جو متعہ حرام کہا گیا اس کو انہوں نے سمجھا ضرورت باقی نہ رہی اس واسطے متعہ اس وقت پھر حرام کر دیا گیا اور ہر حال میں ہمیشہ کے لئے متعہ حرام نہ ہوا تو حضرت ابن عباس کے مذہب کی بناءاجتہاد پر ہے اس اجتہاد میں خطا ہوئی چنانچہ جب حضرت علی رضہ اللہ تعالی عنہ نے ان کا قول سنا تو آپ نے فرمایا”آپ ایک شخص ہیں کہ صرف رائے سے کچھ کہہ دیتے ہیں“(فتاویٰ عزیزی ص550۔9۴5) متعہ کے مسائل متعہ کے متعلق اسلاف کے خیالات کےسے ہی کیوں نہ ہوں بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت متعہ صرف اہل تشیع کا مسئلہ رہ گیا ہے اہل سنت یعنی حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور اہلحدیث سب اس کے خلاف ہیں اور اگر حنفیوں کے ذیلی فرقوں کو بھی دیکھا جائے تو بریلوی اور دیوبندی بھی اس کے شدید مخالف ہیں ہم ان تمام فرقوں کو اہل تشیع کے مقابلے میں اہل سنت کہتے آئے ہیں ۔ آج جب یہ صرف اہل تشیع کا مسئلہ ہے تو آئیے دیکھیں کہ وہ اس کے اور اس کے متعلقات پر کس انداز سے نظر ڈالتے ہیں ۔ اہل سنت کا ایک اعتراض یہ تھا کہ اللہ نے مسلمانوں کو ”ازواج“ اور ”ماملکت ایمانکم“ کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کی اجازت دی ہے اور زن ممتوعہ ( جس عورت سے متعہ کیا جائے) زوجہ ہے نہ ملک یمین ، اس کے جواب میں اہل تشیع کہتے ہیں چونکہ نکاح متعہ بھی ایک نکاح ہے اس لئے زن ممتوعہ بھی زوجہ ہے علامہ سید عبد الحسین شرف الدین آملی کہتے ہیں ”زن ممتوعہ بھی زوجہ شرعیہ ہے“ (فصول فی تالیف الامہ ص۴5)اسی طرح یہی بات علامہ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاءبھی کہتے ہیں ( اصل الشیعہ واصولہا ص۴9)جب زوجہ شرعیہ تسلیم کر لیا گیا تو سوال پیدا ہوا کہ اس کی عدت بھی ہو گی یا نہیں شیعہ حضرات کہتے ہیں خاوند کے فوت ہونے کی صورت میں عدت دوسری بیوہ عورت کی طرح چار ماہ دس دن ہوگی۔ شیخ الطائفہ محمد بن الحسن الطوسی لکھتے ہیں ۔ ”عبدالرحمن بن حجاج کی روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادقؑ سے دریافت کیا ایک شخص نے نکاح متعہ کیا اور فوت ہو گیا تو کیا ممتوعہ عورت کی مدت ہو گی انہوں نے کہا ہاں عدت ہے چار ماہ اور دس دن “(تہذیب الاحکام ج2ص5۴)اور اگر طلاق ہو جائے تو بھی عدت ہو گی مگر یہاں شیعہ علماءمیں عدت کی مدت میں تھوڑا اختلاف ہے مذکورہ بالا کتاب میں اسی روایت کے سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ امام جعفر صادق نے مطلقہ کی عدت کنیز کی طرح ایک حیض اور نصف بتائی ہے ۔ تفسیر جشاش میں امام محمد باقر سے روایت کی گئی کہ انہوں نے کہا اس کی عدت دو حیض ہے ۔ میرزا حسین نوری اور دیگر علماءامام جعفر صادق کی روایت کو واضح معنی پہنا کر عدت پنتالیس دن بتاتے ہیں۔(مستدرک الوسائل ج2)نکاح میں توزوجین ایک دوسرے کے شرعی وارث ہو تے ہیں ۔ متعہ میں کیا صورت ہو گی اس میں بھی کچھ اختلاف ہے ۔ علم الہدیٰ السید مرتضیٰ علی بن الحسین الموسوی (متوفی ۶3۴ھ) لکھتے ہیں ۔ ”ہمارا مسلک تو یہ ہے کہ نکاح متعہ میں میراث بھی ملتی ہے بشرطیکہ کہ نکاح کرتے ہوئے اس کے نہ ملنے کی شرط نہ رکھی گئی ہو“ (کتاب الانتصار مطبوعہ ایران ص۳۶) شہید ثانی شیخ زین الدین آملی ایسی شرط کے متعلق لکھتے ہیں ۔ ”علماءمیں اختلاف ہے کہ عقد منقطع (متعہ ) شوہر اور بیوی میں باہمی میراث کا حکم ہے یا نہیں؟ اقوال متعددہیں جن میں سے پہلا یہ ہے کہ عقد منقطع (متعہ) میراث میں عقد دائمی جیسا حکم رکھتا ہے یہاں تک کہ اگر میراث ساقط ہونے کی شرط رکھی جائے تو شرط باطل ہوگی جیسے نکاح دائمی میں یہ شرط صحیح نہیں “(مسالک الافہام شرح شرائع الاسلام ج1ص۴3) لیکن شیخ علی بن عبد العالی کرکی لکھتے ہیں ۔ ”زن ممتوعہ کو بہر حال میراث ملنے کا قول قاضی ابن براج کا ہے ۔ لیکن انکا استدلال ضعیف ہے“(جامع المقاصد فی شرح القواعد ج2) محمد بن الحسن تاج الدین الاصفہانی لکھتے ہیں ۔ ”قول مشہور یہی ہے کہ نکاح متعہ کے سبب میاں بیوی میں میراث باہمی کا حکم نہیں ہو گا “ (کشف اللثام ج2)شیخ محمد بن الحسن الحرالعاملی امام جعفر صادق کی ایک طویل روایت درج کرتے ہیں۔ اس کا ایک جملہ یہ بھی ہے ”نکاح متعہ میں زوجین کے درمیان میراث نہیں ہو گی“ (وسائل الشیعہ ج۳)نکاح دوامی میں نان و نفقہ مرد کے ذمہ آجاتا ہے مگر متعہ میں ایسا نہیں ہو گا (متعہ اور اسلام ص35) سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا متعہ کے لئے بھی کوئی شرط ہے کہ کن عورتوں سے کیا جائے؟ شیعہ علماءکہتے ہیں کہ نکاح دائمی کی طرح متعہ بھی مسلمان یا اہل کتاب عورت سے ہو سکتا ہے شیخ حسین بن یوسف بن مطہر علی کہتے ہیں ۔ ”متعہ میں ضروری ہے کہ طرفین کامل ہوں یعنی عاقل اور بالغ ہوں اور زوجہ مسلمان ہو یا اہل کتاب (القواعد) اس کے ساتھ ایک اور شرط بھی ہے علامہ حسن بن یوسف لکھتے ہیں۔ ”واسلام الزوج وایمان ان کا نت السراءة کذلک “ اس کا ترجمہ یوں ہو تا ہے ”اور (نکاح متعہ کی شرائط میں ہے) شوہر کا اسلام اور ایمان اگر عورت بھی ایسی ہو “مگر علامہ سید نقی علی النقوی یہی الفاظ نقل کر کے اس کا ترجمہ لکھتے ہیں”اور شوہر کے لئے مسلمان اور شیعہ ہونا ضروری ہے جبکہ عورت مسلمان و شیعہ ہو“(متعہ اور اسلام ص8۴)گویا ”اسلام اور ایمان“ کے معانی ان حضرات کے نزدیک مسلمان اور شیعہ ہیں ۔ شیعہ حضرات نے اپنے لئے”ایمان“ کا لفظ شاید مخصوص کر لیا ہے عام بول چال میں بھی وہ مومن اور مومنہ کے الفاظ شیعہ مرد اور شیعہ عورت کے لئے استعمال کر تے ہیں جب سوال آیا کہ کن عورتوں سے متعہ نہ کیا جائے ؟تو امام رضا علیہ السلام نے جواب دیا ۔ لاینبغی لک ان تتزوج الا مومنہ (تیرے لئے جائز نہیں کہ تو نکاح (متعہ مراد ہے) کرے مگر مومنہ سے ) بات صاف تھی کہ تو (یعنی اے شیعہ مرد) شیعہ عورت سے ہی متعہ کر سکتا ہے مگر تعجب ہے کہ وہی علامہ علی نقی النقوی جو اپنی کتاب کے صفحہ۷۴ پر اسلام الزوج و ایمان کا ترجمہ لکھ چکے ہیں”شوہر کے لئے مسلمان اور شعیہ ہونا ضروری ہے“ یہاں لکھتے ہیں ۔ ”لاےنبغی لک ان تتزوج الا مومنة “ ”غیر قابل اعتماد عورتوں سے متعہ نہ کرو“(متعہ اور اسلام ص27) معلوم نہیں یہاں مومنہ کا ترجمہ”قابل اعتماد“کیوں کر دیا گیا ۔ علامہ علی نقی النقوی نے اپنی کتاب کے صفحہ۲۷ کا عنوان لکھا ہے ۔ ”بازاری عورتوں سے متعہ کی سخت ممانعت“ اور نیچے لکھتے ہیں ۔ ”ایسی احادیث بکثرت پائی جا تی ہیں جن میں عام بازاری عورتوں سے کہ فسق و فجور میں۔ مشہور و معروف ہیں یا ان عورتوں سے کہ جن کی پاک دامنی اور عفت پر اطمینان نہیں ہے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے“ محمد بن فیض کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا ۔ ”دیکھو تمہیں متعہ میں پر ہیز کرنا چاہیے”کواشف“ سے اور”دواعی“ سے اور ”بغایا“ سے ”کواشف“ وہ ہیں جو کھلم کھلا حرام کا ارتکاب کر تی ہیں اور جن کے گھر مشہور ہیں اور وہاں لوگ جاتے رہتے ہیں اور دواعی وہ کہ جو خود بلاتی ہیں اور فساد و خرابی میں عام بدنام ہیں اور بغایا وہ جو زناکاری کے ساتھ رسوائے زمانہ ہیں نیز ذوات الازواج ہیں یعنی وہ جنہیں صحیح طریقہ پر طلاق نہیں دی گئی“ (فروع کافی) گویا متعہ بھی چونکہ ایک قسم کا نکاح ہے اس لئے شرفاءاور معززین کی بیٹیوں کو تعلیم دی جانی چاہیے کہ وہ اس طرح اپنے جسم پیش کرتی رہیں ۔ متعہ کے جواز پر عقلی دلائل اہل تشیع نے کوشش کی ہے کہ متعہ کے جواز پر عقلی دلائل بھی فراہم کئے جائیں ان دلائل کے سلسلہ میں علامہ سید علی نقی الفتوی کی کتاب ”متعہ اور اسلام“ خصوصی طور پر میرے پیش نظر ہے کیونکہ حضرت علامہ کی وفات ماضی قریب میں ہوئی اسطرح وہ دور جدید کے شیعی مفکرین اسلام میں شمار کئے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے یہ بتایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائے قدوس نے وما ارسلنک الا رحمتہ العالمین کے مطابق تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے اور خدانے دین حق میں لوگوں کے لئے آسانیاں رکھی ہیں مشکلات نہیں رکھیں (ص 71) پھر وہ وضاحت کرتے ہیں کہ کچھ ممنوعات ایسے ہیں جو ضرورت کے تحت بھی مباح نہیں ہوتے جییے کوئی آدمی اپنے شہوانی جذابات سے کتنا ہی مغلوب کیوں نہ ہو وہ اپنی جنسی خواہش محرمات (ماں بہن وغیرہ ) سے پوری نہیں کر سکتانکاح متعہ غیر محرم کے ساتھ ہوتا ہے یعنی یہ بھی ایک نکاح ہے اور نکاح جن عورتوں سے ہو سکتا ہے متعہ بھی انہی عورتوں سے ہوگا۔ ”ضرورت“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ”انسان کے لئے دور مسافرت اتنا ہی کثیر الوقوع ہے جتنا زمانہ اقامت بلکہ اگر معمورئہ عالم کی انسانی آبادی کی ایک خاص وقت میں مردم شماری کی جائے تو ایسے افراد زیادہ ہو نگے جو اپنے شہر سے علیحدہ اور عالم مسافرت میں ہیں اور اکثر ایسے ہو نگے کہ جنہیں اپنی ضروریات زندگی کی بناءپر ایک مقام پر قیام کی نوبت ہی نہیں آئی اور ایک طویل عرصہ کے لئے برابر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا ہے “ (ص 52) یہ پہلی ضرورت ہے کہ غیر ممالک میںقیام کے دوران اگرو ہ زیادہ عرصہ کے لئے ضبط نفس کرتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے کہ (بقول علامہ مذکور ) ”وہ اپنی صحت جسمانی کو خیرباد کہیں اور رفتہ رفتہ اپنے طبعی وقت سے پہلے زندگی کو سلام و ودا ع کر کے منزل فنا کی طرف رہ سپار ہوں “ (ص ۶2) یعنی زیادہ عرصہ تک ضبط نفس کرنا بیماری اور پھر موت کو دعوت دینا ہے تو علامہ صاحب ضروری سمجھتے ہیں کہ حالت مسافرت میں متعہ کر لیا جائے ان کے نزدیک اللہ کی طرف سے پیدا کر دہ آسانی ہے ۔ دوسری ضرورت کے سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں ۔ اور صورت حال جس کا تذکرہ سفرہی سے محضوص نہیں ہے بلکہ کبھی بغیر حالت سفرکے وطن میں اقامت اور حضرکی حالت میں بھی ایسی صورتیں آجایا کرتی ہیں۔ انسان کے لئے شریک زندگی موجودہے لیکن وقتی امراض اور اتفاقی موانع نے محدود لیکن کافی عرصہ کے لئے اسکو بیکار و معطل بنا دیا ہے ۔(ص ۶2072) یعنی اپنی بیوی کی ایسی بیماری کی صورت میں نکاح متعہ کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے آپ کہتے ہیں ”و ہ دوسری شادی کرلے “ علامہ صاحب اسکا جواب دیتے ہیں ۔ ” اب اگر انسان عقد دائمی کرنا چاہے تو مستقل طور پر دوبار گراں اسکے کاندھوں پر آجاتے ہیں جنکو برداشت کرنا قوت صبر و تحمل سے باہراور پھر بلا ضرورت اسلئے کہ اسباب و مواقع محدود زمانہ سے مخصوص اور عارضی حیثیت رکھنے والے تھے ۔ (بیوی کی بیماری عارضی تھی ) اسکے لئے کیا شریعت کی جامعیت و وسعت اور ضروریات زندگی کے لحاظ کا اقتضا ءنہیں ہے کہ وہ انسان کے لئے عقد ازواج کی کسی محدود و موقت قسم (متعہ ) کا بھی نفاذ کرے “ (ص 72 ) یہ اور اسطرح کی دوسری ضروریات کے تحت متعہ کی آسانی بقول علامہ مذکور شریعت میں پیدا کی گئی ہے ۔ مخالفین کے دلائل کا جواب مخالفین کے دلائل کے سلسلہ میں مصنف مذکور یعنی علامہ سید علی نقی انہقوی نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی کتاب تحفہ اثناءعشریہ کی عبارت کا ایک بڑا حصہ نقل کیا ہے ۔جس میں شاہ صاحب نے کہا ”اس عقد فاسد میںخدا کے حکم کی مخالفت کے ساتھ ایسے بی شمار مفاسد ہیں جو خلاف شریعت ہیں ۔ اسطرح تومتعہ کرنے والے شخص کی اولاد ہر ہر شہر اور ہر ہر قریہ میں موجود ہو گی اور ان کا کوئی تربیت کرنے والا بھی نہ ہو گا اور ان میں لڑکیاں بھی موجود ہو نگی کہ جن کی شادی برابر والوں میں نہ ہو سکے گی اور سفر میں ہر منزل پر متعہ ہونے کے بعد ہر منزل میں عورت کو حمل بھی رہیگا اور جو لڑکیاں پیدا ہو نگی ان کے اسے خبر نہ ہوگی۔ اور یہ جب پندرہ بیس بر س کے بعد اس راستے سے گزریگا تو انہی لڑکیوں میں سے کسی سے متعہ یا نکاح کریگا اور اس طرح اپنی بیٹی کے ساتھ نکاح کا مرتکب ہو گا اور جب اسکی اولاد بے شمار و لاتعداد ہے تو میراث کی تقسیم نہیںہو سکتی کیونکہ ورثا ءکی تعداد اور انکے محل سکونت و جائے قیام کا علم نہیں اور اولاد کے انتقال پر ان کی میراث کا تقسیم ہو جانا بھی ممکن نہ ہو گا کیونکہ ان کے باپ بھائی کا تو پتہ نہیں لہذا حاجب اور غیر حاجب کا امتیاز نہیں ہو سکتا یہ ہے نکاح متعہ کہ جس سے تمام شریعت درہم برہم ہو جاتی ہے “ (متعہ اور اسلام ص 053۔۴3۔330) مصنف شاہ صاحب کے ان اعتراضات کا جواب ایک طرح کے استہزا ءسے دیتے ہیں وہ پہلے کہ آئے ہیں کہ ” تعجب تو (خاتم المحدثین ) شاہ عبدالعزیز دہلوی مصنف تحفہ اثناءعشریہ ایسے ذمہ دار شخص پر ہے کہ انہوں نے بھی متعہ کے مسئلہ میں استدلال کر تے ہوئے بے اعتدالی سے کام لیا ہے “ (ص 33 ) اور شاہ صاحب کی عبارت نقل کرنے کے بعد پورے ایک صفحہ میں ایک ہی بات کو طوالت دے کر لکھتے ہیں کہ شاہ صاحب نے تمام بحث مفروضات سے کی ہے دنیا میں ایسے واقعات کبھی رونما ہو ئے نہ ہو نگے ۔ حالانکہ میرے نزدیک یہ کوئی جواب نہیں یہ مفروضات نہیں ممکنات ہیںمصنف کو یہاں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تھا ۔ متعہ کے سلسلہ میں ہی ایک اورچیز ” متعہ دوریہ “ بیان کی جاتی ہے ۔ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی لکھتے ہیں ” یہ متعہ دوریہ “ کو بھی جائز کہتے ہیں ہمارے ملک اور زمانہ کے اثنا عشری گو اسکے جواز کا انکار کرتے ہیں مگر ان کے محقیقن اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ انکی کتابوں میں اسکے جواز کا ثبوت موجود ہے اس متعہ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک پوری جماعت کسی ایک عورت سے متعہ کرلیتی ہے اور ان میں سے ہر ایک شخص اپنی باری مقرر کر لیتا ہے اور اپنی باری میں اس سے جنسی فعل کرتا ہے حالانکہ کسی بھی مذہب میں ایک رحم میں دو نطفوں کو جمع کرنا جائز قرار نہیں دیا گیا ۔(تحفہ اثنا عشریہ مترجمہ مولانا خلیل الرحمن نعمانی ص 505) متعہ دوریہ کی یہی تفصیل بغداد کے عالم اہل سنت علامہ سید محمود شکری آلوسی نے بھی بیان کی ہے ان کا پورا مضمون علامہ رشیدرضا مصری نے مشہور و معروف مجلہ “المنار “ میں شائع کیا تھا شیعی عالم آقا سید عبدالحسین شر ف الدین آملی مقیم صیدا نے اسکا جواب لکھا متعہ دوریہ کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ” محمود شکری آلوسی نے اپنے رسالہ میں انتہائی غلط بیانی اور تہمت طرازی سے کام لیا ہے یہ رسالہ مجلہ المنار کی جلد نمبر 92 شمارہ نمبر ۶ میںمری نظر سے گزرا اور اسکے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس میں شروع سے آخر تک سوائے افتراءبہتان سب وشتم اور بے جا طعن و تشنیع کے کچھ بھی نہیں اس میں لکھا گیا ہے کہ شیعون کے ہاں ایک متعہ دور یہ ہوتا ہے اور اسکے فضائل میں بہت سی احادیث نقل کی جاتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ چند لوگ بو قت و احد ایک ہی عورت سے متعہ کریں اور وہ عورت ان سے اسطرح قرار داد کرے کہ صبح سے چاشت تک فلاں کے متعہ میں چاشت سے دوپہر تک فلاں کے متعہ میں دوپہر سے سہ پہر تک تیسرے کے متعہ میں، سہ پہر سے مغرب تک فلاں کے متعہ میں مغرب سے عشا ءتک پانچویں کے متعہ میں الخ ( المنار جلد 92 ص 1۴۴) کا ش مدیر المنار یا قارئین میں سے کوئی اس افتراءپرواز انسان سے پوچھتا کہ یہ بات شیعون کی کونسی کتاب میںہے “۔(فضول المہمہ فی تالیف الاعہ ص 55) متعہ اور ملک یمین اگرچہ اہل تشیع کے تمام دلائل پچھلے صفحات میں بیان ہو چکے ہیں مگر ہم نے ابتداءمیںکہہ دیا تھا کہ تمام فرقوں کے دلائل نفلی و عقلی پورے شرح و بسط سے بیان کر یں گے اور اپنی طرف سے محاکمہ کرنے کی بجائے بات قارئین پر چھوڑ دینگے اسلئے ایک ممکنہ دلیل اور بھی بیان کئے دیتے ہیں شیعہ حضرات کی طرف سے یہ دلیل ہماری نظر سے نہیں گزری بہر حال دلیل یہ ہے ۔ جس آیت سے متعہ کا جواز اخذ کیا جاتا ہے اس میں صاف یہ کہا گیا ہے کہ محصنین غیر مسافحین (قید نکاح میں لانے والے بنکر مٹی جھاڑنے والے ہو کر نہیں ) اس سے متعہ کی حرمت کے قائلین یہ استداد لال کر تے ہیں کہ نکاح اور سفاح میں واضح فرق کر دیا گیا ہے سفاح محض مستی جھاڑنے اور ” ناپاک پانی گرانے “ کے لئے جو جنسی ملاپ کیا جاتا ہے زنا ہے اور نکاح میں باقاعدہ عمربھر ساتھ رہنے اورساتھ نباہنے کا وعدہ کیا جاتا ہے اور جنسی ملاپ کے تمام عواقب قبول کئے جاتے ہیں یعنی میاں بیوی کا ایک گھر ہو جاتا ہے وہ ایک دوسرے کے اموال میں اور دکھ درد میں شریک ہو جاتے ہیں موت کے بعد ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں اسکے بر عکس متعہ صرف وقتی لذت کے لئے کیا جاتا ہے اسلئے یہ ” نکاح “ نہیں ” سفاح “ ہے ۔ اسکے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام میں ملک یمین یعنی جنگ میںہاتھ آنے والی عورتیں جو لونڈیاں بنا کر تقسیم کر دی جاتی ہیں اور جنکی لمبی چوڑی فقہ مرتب کی گئی ہے ۔ ان سے جنسی تعلق کا کیا جواز ہے ؟ کیا وہ جنسی تعلق بھی محض حصول لذت کے لئے نہیں ۔ ملک یمین کے سلسلہ میںتفصیلی احکام بیان کر نے میں ارباب فقہ نے کئی باب سیاہ کئے ہیں انکی حیثیت کیا ہے ؟ اسکی مختصر اور جامع تصویر عہد حاضر کے مفکر اسلام مولانا مودودی کی تحریروں کے اقتباسات سے سامنے لائی جاتی ہے مولانا مودودی کہتے ہیں ۔ ” جو عورتیں میدان جنگ میں پکڑی آئیں ۔ اور انکے کافرشو ہر دارالحرب میںموجود ہوں وہ حرام نہیں ہیں کیونکہ دارالحرب سے دارالاسلام میںآنے (پکڑکر لائے جانے ) کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے ایسی عورتوں سے نکاح بھی کیا جا سکتا ہے اور جس کی ملک میں وہ ہوں وہ ان سے تمتع بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔لونڈیوں سے تمتع کے معاملہ میںبہت سی غلط فہمیاں لوگوں کے ذہن میں ہیں لہذا حسب ذیل مسائل کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ ۱۔ ایک سپاہی صرف اس عورت سے ہی تمتع کر نے کا مجاز ہے جو حکومت کی طرف سے باقاعدہ اسکی ملک میں دی گئی ہو ۔ 2۔ اسکے ساتھ بھی اس وقت تک مباشرت نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اسے ایک مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں۔ ۳۔ ان کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو ۔ جن کے حصہ میںآئیں وہ ان سے تمتع کر سکتے ہیں ۔ ۴۔ جو عورت جس شخص کے حصہ میں دی گئی ہے صرف وہی اسکے ساتھ تمتع کر سکتا ہے ( دوسرا اسکوہاتھ بھی نہیں لگا سکتا) اس عورت سے جو اولاد ہو گی وہ اسی شخص کی جائز اولاد سمجھی جائیگی جسکی ملک میں وہ عورت ہے اس اولاد کے قانونی حقوق وہی ہو نگے جو شریعت میںصلبی اولاد کے لئے مقرر ہیں صاحب اولاد ہو جانے کے بعد وہ عورت فروخت نہ کی جاسکے گی اور مالک کے مرتے ہی وہ آپ سے آپ آزاد ہو جائیگی۔ 5۔ جو عورت اس طرح کسی شخص کی ملک میں آئی ہو اسے اگر اسکا مالک کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دیدے تو پہلے مالک کو اس سے دوسری تمام خدمات لینے کا حق تو رہتا ہے لیکن شہوانی تعلق کا حق باقی نہیں رہتا“ (تفہیم القران 1 ص 0۴3) متعہ میں مذہب کا بھی خیال رکھا جاتا ہے اور نکاح کے مراسم یعنی ایجاب قبول وغیرہ بھی ہوتے ہیں ملک یمین میںمذہب کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا (مودودی صاحب کی بات گزر چکی ہے ) اور نکاح بھی نہیں ہوتا سوال کیا گیا ”لونڈیوں سے بلا نکاح تمتع محض شہوت رانی ہے اور اسلام کے خلاف ہے “ (تفہیمات حصہ دو م ص 703)اسکا جواب یہ دیا گیا ۔ ” اس میں جو کراہت نظر آتی ہے وہ محض ایک وہمی کراہت ہے چونکہ طبیعتیں نکاح کے عام اور معروف طریقہ کی خوگر ہو چکی ہیں اسلئے لوگ سمجھتے ہیں کہ مرد اور عورت کا صرف وہی تعلق جائز ہے جس میںقاضی صاحب آئیں دو گواہ ہوں ۔ ایجاب و قبول ہو خطبہ نکاح پڑھاجائے اسکے سوا جو صورت ہے وہ شہوت رانی ہے لیکن اسلام کوئی رسمی (Conventional)مذہب نہیںبلکہ ایک عقلی (Rational)مذہب ہے وہ رسم کو نہیں حقیقت کو دیکھتا ہے نکاح سے ایک عورت جو ایک مرد کے لئے حلال ہو تی ہے تو آخر اسی بناءپر تو حلال ہو تی ہے کہ اللہ کے قانون نے اسے حلال کیا ہے اسی طرح اگر ملک یمین کو بھی اللہ کا قانون حلال کر ے تو اس میںکراہت کی کیا بات ہے ؟ “ (ایضاً ص 513) ان لونڈیوں کی خریدوفروخت بھی ہوتی ہے مولانا مودودی صاحب لکھتے ہیں ۔ ” لونڈی غلاموں کو بیچنے کی اجازت دراصل اس معنی میں ہے کہ ایک شخص کو ان سے ۔۔۔ فدیہ وصول کرنے اور فدیہ وصول نہ ہونے تک ان سے خدمت لینے کا جو حق ہے اسکو وہ معاوضہ لیکر دوسرے شخص کی طرف منتقل کر دیتا ہے “ (ایضا ً ص 323) مولانا صاحب نے لکھا ہے کہ ” لونڈی کے ساتھ مباشرت نہیں کی جاسکتی جب تک اسے ایک مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں۔ اوراگر وہ حاملہ ہو تو مولانا نے نہیں بتایا ہاں امام بخاری بتاتے ہیں ۔ ” اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ اپنی حاملہ لونڈی سے شرمگاہ کے علاوہ دوسری جگہ سے مجامعت کر لی جائے “ ( صحیح بخاری ج 2 ص 81 ) مولانا صاحب نے جو لکھا ہے ” اس سے جوا ولاد ہو گی وہ اسی شخص کی جائز اولاد سمجھی جائیگی “ یہ بھی درست ہے لیکن اگر اولاد پیدا کر نے کی خواہش نہ ہو تو عزل (یعنی جماع میںجب انزال قریب ہو تو مادہ منویہ رحم کے اندر نہ گرنے دیا جائے ۔۔۔نکال لیا جائے ) کر سکتا ہے ۔ صحیح بخاری میںہے ۔ ” حضرت ابو سعید حذری سے راویت ہے کہ ایک روز جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے حضور سے عرض کیا ’ ’ ہم قیدی عورتوں (لونڈیوں) سے جماع کرتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وہ حاملہ نہ ہوں کیونکہ ہم انہیں بیچنا چاہتے ہیں تو عزل کرلینے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا تم ایسا کرتے ہوتم پر ایسا کرنے میںکوئی حرج نہیں کیونکہ جو بچہ پیدا ہونے والا خدا نے مقرر کیا ہے وہ پیدا ہو کر رہیگا “ (صحیح بخاری کتاب البیوع ج 2 ص 81 ) تو جب ملک یمین کی صورت میں بلا نکاح ، محض شہوت رانی کے لئے ، لاتعداد عورتوں کے ساتھ اسلام جائز قرار دیتا ہے تو متعہ میںکونسی قباحت آگئی۔ جو علماءاسلام میں غلام اور لونڈیوں کو جائز سمجھتے ہیں انہیں ان سوالات کا جواب دینا چاہیے ۔ متعہ اور جدید مفکرین اسلام یوں تو متعہ کی حرمت کے قائل اہل سنت بھی ہیں اور بلا شبہ اکثریت اسکے مخالف چلی آرہی ہے اور یہ اکثریت اتنی بڑھ گئی ہے کہ متعہ صرف فرقہ شیعہ تک محدود رہ گیا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روایات نے مسئلہ کو بہت ہی مبہم کر رکھا ہے یہ روایات ہی ہیں جن کے باعث قرآن حکیم کے الفاظ سے متعہ کے احکام اخذ کئے جاتے رہے فما تمتعتم میں متعہ کا لفظ پنہاں سمجھا گیا اور اکثر مفسرین انہی روایات کے طومار سے مغلوب ہو کر کہنے لگے کہ سورہ نساءکی اس آیت میںواقعی متعہ کی اجازت دی گئی تھی مگر پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی کس آیت سے منسوخ ہوئی اسکے ناسخ کے طو رپر آیات پیش کی گئیں پھر روایات نے ایک اور الجھا وادی دیا اور زمانہ نزول کی آڑ میں کہا گیا کہ جو آیات اہل سنت بطور ناسخ پیش کرتے ہیں وہ ساری کی ساری مکی ہیں اور جس آیت سے متعہ اخذ کیا جاتا ہے وہ ان سے بعد کی نازل شدہ ہے اور مدنی ہے بعد کی اتری ہوئی آیت پہلے کی نازل شدہ آیات کی ناسخ ہوتی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے پہلے ناسخ آیت نازل ہو اور پھر منسوخ آیت اترے اس کا ایک یہ جواب دیا گیا کہ جس آیت کو ناسخ ٹھہرایا گیا ہے وہ جس سورت میں آئی ہے وہ سورت تو مکی ہے اور ساری کی ساری مکی ہے لیکن وہ ایک آیت مدنی ہے اور جو اسے بھی مکی بتاتے ہیں وہ وہم کا شکار ہیں شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی نے لکھا ۔ ” اگرچہ یہ دونوں سورتیں مکی ہیں لیکن یہ آیت ﴾والذین لفرو جھم حفظین الا علی ازواجھم او ما ملکت ایما نھم ﴿مدنی ہے اور الاتقان میںجو لکھا ہے کہ یہ آیت مدنی نہیں تو اسکا جواب یہ ہے کہ صحابہ اور مشاہیر تابعین ناسخ اور منسوخ کے اور مقدم اور م خر سے زیادہ واقف تھے اور ان لوگوں نے اس آیت سے متعہ کی حرمت ثابت کی ہے تو یہ نہایت قوی دلیل اس امر کے لئے ہے کہ یہ آیت مدنی ہے “ (فتادی عزیزی کامل ص 550) ادھر قائلین متعہ اس بات کی بھی تصنعیف کر دیتے ہیں متعہ کی ممانعت کی بھی روایات آتی ہیں جیسا کہ پچھلے صفحات میںتفصیل آگئی ہے مگر وہ بھی کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچاتیں کہ متعہ کب حرام ہوا ۔ گویا یہاںتک دونوں (اہل سنت اور اہل تشیع ) متفق ہیں کہ متعہ اسلام میں حلال تھا۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے علامہ نیاز فتحپوری لکھتے ہیں۔ ” اس میںکلام نہیں کہ متعہ ابتدائے عہد اسلام میں رائج تھا اور یہ بھی بالکل صحیح ہے کہ علمائے اہل سنت اس وقت تک یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اسکا رواج کب ممنوع قرار دیا گیا “ ( ماہنامہ نگار لکھن ج ۴3 شمارہ نومبر سہ 1933) تاہم ہمیشہ سے کچھ ایسے لوگ بھی موجود رہے ہیں جو قرآن حکیم کو روایات کے اختلاف میں نہیں الجھاتے اور نہ ہی شان نزول اور زمانہ نزول کے چکر میں پڑتے ہیں وہ صاف طور پر اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن حکیم کسی طرح بھی متعہ کی اجازت تسلیم نہیں کرتا۔ شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں ۔ ” سورت مومنوں اور سورہ معارج کی آیت سے متعہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے ایسا ہی شکوة شریف میں مذکور ہے ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضہ اللہ تعالی عنہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے اور یہ امر بیان کی ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور حاکم نے کہا کہ یہ صحیح ہے اور ان لوگوں نے کہا کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضہ اللہ تعالی عنہ سے متعہ کے متعلق پوچھا گیا تو حضرت عائشہ رضہ اللہ تعالی عنہ صدیقہ نے فرمایا ” ہمارے اور تمہارے درمیان میں اللہ تعالی کی کتاب ہے یعنی قرآن شریف موجود ہے اور اس سے متعہ کی حرمت ثابت ہو تی ہے اور یہ آیت پڑھی ۔ ﴾والذین ھم لفرو جھم حفظون الا علی ازواجھم اوماملکت ایما نھم فانہم غیر ملومتین ضمن ابتغی و راء ذلک فاولئک ھم اعا دون ﴿ ”یعنی فلاح اور بہتر ی ان لوگوں کے لئے ہے کہ نگہبانی (حفاظت ) کرتے ہیں اپنی شرمگاہوں کی مگر اپنی بیوی اور شرعی لونڈی سے لحاظ نہیں کرتے وہ قابل ملامت نہیں پس جو شخص اس کے سواکرنا چاہے تو وہ شرع کی حد سے تجاوز کر نے والاہے“ ( فتاوی عزیز ی کامل ص 550) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ رضہ اللہ تعالی عنہ قرآن حکیم کو اس طریقہ سے نہیں بانٹتیں جیسے ہمارے مفسر بانٹ رہے ہیں انہوں نے آیات واحکام کی تقدیم و تاخیر کی کوئی بات نہیں کی انہوں نے قرآن حکیم کا واضح قانون بیان کر دیا کہ مرد عورت کا جنسی ملاپ اپنی ازواج یا لونڈیوں سے قید نکاح میںلا کر ہو سکتاہے اور جو صورت بھی جنسی ملاپ کی ہو گی وہ شرع کی حد سے تجاوز شمار ہو گی۔ واضح رہے کہ ازواج کا لفظ معنی اولاد پیدا کر نے کے لئے ایک دوسرے سے مربوط رہنے والا جوڑا ہے ۔ شیعہ حضرات کہتے ہیں (جیسا کہ ہم لکھ چکے ) کہ زن ممتوعہ پر بھی زوجہ کا اطلاق کیا جاتا ہے ۔ لیکن زوج کے وسیع مفہوم کی گہرائی کی حدود زوج کو بار ور کرنے والا اور بارور ہونے والے جوڑے میں محدود کر دیتی ہیں جبکہ متعہ میں اولاد مقصود ہی نہیں ہوتی صرف جنسی جذبہ کی وقتی تسکین مقصودہوتی ہے ۔ اس عورت کے نان نفقہ کی کوئی ذمہ داری بھی مرد اپنے سر نہیں لیتا پس زن ممتوعہ کو زوجہ کہا جاسکتا ہے نہ ملک یمین یہ ورا ءذلک میںآئی ہے ۔ اسکی مزید وضاحت امام قاسم بن محمد کے قول سے ہوتی ہے ۔ ” جب امام قاسم بن محمد سے متعہ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ” میں جانتا ہوں کہ قرآن شریف میںوہ متعہ مذکور ہے جو حرام ہے اور پھر والذین ھم لفرو جھم ۔۔۔الخ والی آیت مبارکہ پڑھی “ ( مسند عبدالرزاق ۔ سنن ابی داﺅد ) شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں ”ایسا ہی (یعنی جیسا قاسم بن محمد نے کہا ) محمد بن کعب قرطبی ، قتادہ ،سدمی اور عبدالرحمن سلمی وغیرہ مشاہیر تابعین سے بھی روایت ہے ( فتاوی عزیزی ص 550) یہاں نہ روایات کی بات ہوئی ہے نہ ناسخ منسوخ کی۔ جدید مفکرین اسلام کا یہی انداز ہے وہ قرآن سے مطلب رکھتے ہیں روایات کو بھی قرآن ہی کے آئینے میں دیکھتے ہیں جہاں روایات اور قرآن میںاختلاف آتا ہے وہ روایات کو چھوڑ دیتے ہیں اہل سنت قرآن کوروایات کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ( گستاخی معاف ) وہ اکثر روایات کو سنت کہ کر کتاب اللہ پر قاضی تسلیم کرتے ہیں ۔ادھر روایات کا عالم کیا ہے علامہ نیاز فتحپوری لکھتے ہیں۔ ” روایات واحادیث کے دفتر بے پایاں سے ہر شخص اپنے مطلب کی باتیں نکال سکتا ہے میںایسے طریق استدلال کو پسند نہیں کرتا “ ( نگار لکھنﺅ جلد ۴2 شمارہ 51ماہ نومبر 1933) جن دماغوں پر روایات کا غبار سوار نہیں تھا انہوں نے آیہ مبارکہ فما ستمتعتم بہ منھن فاتو ھن اجو ر ھن فریضة ( سورة نساء۴2) کے یہی معنی لکھے ہیں کہ جن عورتوں سے تم انتفاع اور لطف رفاقت حاصل کر و یعنی ازدواجی زندگی کی راحتیں حاصل کر و تو لازمی ہے کہ انہیں انکے حق مہر ادا کرو ۔ علامہ بغوی لکھتے ہیں۔ ” اس آیت کے معانی میں اختلاف ہوا ہے حسن اور مجاہد کا قو ل ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جن عورتوں کے ساتھ تم انتفاع و لذت حاصل کرو نکاح دائمی و صحیح کے ذریعے تو انہیں ان کے مہر ادا کر و “ ( تفسیہ معالم التنزیل ج 1 بر حاشیہ تفسیر خازن مطبوعہ مصر ص 32۴) حسن اور مجاہد کا یہی قول دیگر مفسرین نے بھی نقل کیا ہے ( نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام ازنواب صدیق حسن خان ص 57 ) مگر ساتھ لکھا ہے کہ زیادہ تر مفسرین یا جمہور مفسرین نے اس کو ” آیت متعہ قرار دیا ہے “ اسی ” جمہور “ کے لفظ کو دیکھ کر جدید مفکرین و مفسرین کے سر خیل سرسید احمد خان اپنی تفسیر القران میں لکھتے ہیں ۔ ” یہ آیت بھی منجملہ ان آیتوں کے ہے جن کی تفسیر میں مجھے تمام مفسرین اور علمائے متقدمین سے اختلاف ہے تمام مفسرین اس آیت کو آیت متعہ کہتے ہیں یعنی انکے نزدیک اس آیت میں متعہ کا حکم ہے “ ( تفسیر القران ج 2 ص ۶12) لیکن سر سید کے بعد اکثر مفسرین اہل سنت نے آیت کا ترجمہ لکھتے ہو ئے ادنی سااشارہ بھی نہیں دیا کہ یہ آیت متعہ ہے مثال کے طور پر مولانا احمد رضا خان آیة مذکور کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ” اور جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہران کو دو “ ( قرآن مع ترجمہ کنزالایمان شائع کر دو مکتبہ رضویہ کراچی ص 79 )مولانہ سید ابو علی مودودی لکھتے ہیں۔ “ پھر جواز دواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاﺅ ان کے بدلے انہیں ان کے مہر فرض کے طور پر ادا کرو “ (تفہیم القران ج 1 ص 3۴3) کنز الایمان کے تفسیر ی حاشیے مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے لکھے ہیں اور تفہیم القران کے تفسیری حاشیے مولانا مودودی کے اپنے قلم سے ہیں مگر دونوں حضرات نے ادنی سا اشارہ بھی نہیں لکھا کے اس آیت کو کسی زمانہ کے ” جمہور “ مفسرین آیت متعہ کہتے رہے ہیں۔ ضمناً عرض کر تا چلوں کہ احمد رضا خان کا ترجمہ بہتر ہے کیونکہ انہوں نے استمتاع بروزن استفعال کا خیال بھی رکھا ہے خدا بھلا کرے سرسید کا کہ اس نے بعد میں آنے والے مفسرین کی جان جمہور سے چھڑا دی ہے ۔ بہر حال اس آیت کی تفسیر میں سرسید مرحوم لکھتے ہیں ۔ ” میرے نزدیک علماءمفسرین کا اس آیت سے حکم جواز متعہ پر استدلال کرنا محض غلط ہے بلکہ اس آیت سے علانیہ متعہ کے امتناع کا حکم پایا جاتا ہے تمام تاریخوں اور قدیم کتابوں سے پایا جاتا ہے کہ ہر ایک قوم میںقدیم زمانہ سے اس قسم کی عورتیں تھیں جو یہی پیشہ کرتی تھیں کہ لوگوں سے اجرت ٹھہر ا کر ان کو اپنے ساتھ مباشرت کر نے دیتی تھیں جیسے کہ اس زمانہ میںبھی ایسی عورتیں پائی جاتی ہیں جن کو بہ اعتبار ان کے حالات کے خانگیاں اور کسبیاں کہتے ہیں ، یہودیوں میں ،فارسیوں میںبلکہ تمام قوموں میں اس قسم کی عورتیں تھیں۔ عرب میںبھی قبل اسلام اور ابتدائے اسلام میں اور شاید اس کے بعد بھی ایسی عورتوں کا وجود تھا اور شاید اب بھی ہو یا اسکی ظاہری صورت میں کچھ تبدیلی واقع ہو ئی ہو یہ طریقہ اور یہ فعل صرف اس وجہ سے نکلا تھا کہ مردوں کو اپنی مستی جھاڑنے کا موقع ملے “ ( تفسیر القران ج 2 ص ۶12 ) ذراآگے چل کر تزویج اور متعہ میںفرق بیا ن کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ ” ان دونوں میںجو حقیقاً فرق تھا وہ یہی تھا کہ تزوج سے مقصود اصل ”احصان “ یعنی پاکدامنی اور نیکی تھی اور متعہ سے صرف مستی جھاڑنی کیونکہ اس سے اسکے مرتکب کوبجز ”سفح منی “ کے اور کوئی مقصود نہیں ہوتا پس اسکو خدا تعالی نے منع کیا ہے “ جہاں فرمایا کہ۔ ﴾ان تبتغو ابا مو الکم محصنین غیر مسافحین ﴿ ”یعنی تم بعوض اپنے مال کے آزاد عورتوں کو تلاش کرو اور ان سے نکاح کر نا پاکدامنی رکھنے کی غرض سے ہو نہ مستی جھاڑنے کی غرض سے “ مطلب آیت کا صرف ” محصنین “ کے لفظ پر ختم ہو گیا تھا ” غیر مسافحین “ کا لفظ صرف اسی طریقہ متعہ کو منع کرنے کے لئے کہا گیا ہے جو نہایت بے حیائی اور بداخلاقی سے رائج تھا۔ ﴾انہ کان فاحشة و مقتا و ساءسبیلاً﴿ ” پس اس آیت سے متعہ کا امتناع پایا جاتا ہے نہ کہ اس کا جواز جیسے کہ غلطی سے علمائے امت نے خیا ل کیا ہے “ (تفسیر القران ج 2 ص ۶12) گویا سر سید کے نزدیک متعہ اور زنا میںکوئی فرق نہیں اس لئے وہ اسے خانگیوں اور کسبیوں کے پیشہ سے مماثلت دیتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ طریقہ اسلام سے پہلے رائج تھا لکھتے ہیں ۔ ” ہماری تحقیق کے مطابق متعہ کا طریقہ اسلام نے پیدا نہیں کیا بلکہ وہ قدیم سے جاری تھا اسلام نے اس کو منع کیا گو کہ ابتدائے اسلام میںبھی جاری رہا ہو بہت سے رواج زمانہ جاہلیت کے ایسے تھے کہ جو زمانہ ابتدائے اسلام میں رائج تھے بعد کو ممنوع ہوئے متعہ بھی اس میں شامل ہے “ (ایضا ً) ادھر کتب روایات میں تو ایسی روایات بھی ملتی ہیں کہ متعہ کا شغل عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم عہد صدیق اور عہد فاروق کے بہت سے حصہ میںجاری رہا ۔(یہ روایات پوری تفصیل سے نقل کی جا چکی ہیں )۔ سرسید کی طرح پہلے بھی بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ نکاح دائمی رفاقت کا ایک معاہدہ ہے جسے قرآن ” میثا قاغلیظا ً“ بڑا پختہ معاہدہ کہتا ہے ۔جسے موت تو ڑ سکتی ہے یا پھر طلاق اور وہ بھی آخری چارئہ کار کے طور پر ۔ وگرنہ تو وہ مرد کو برابر ہدایت کرتا ہے کہ عورت چاہے تمہیں ناپسند ہی کیوں نہ ہو معاہدہ نکاح کو نبھا نے کی کوشش کرتے رہو عین ممکن ہے کہ اللہ نے اسی رشتہ میںتمہارے لئے بھلائی رکھی ہو تم مستقل بین نہیں ہو مگر اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ ظاہر ہے یہ وہ ناپسندیدگی ہے جو شادی کے بعد عورت کے کسی رویہ سے مرد کے دل میں پیدا ہوتی ہے وگرنہ یہ شادی پسند سے ہی ہوئی تھی فانکحو اما طاب لکم من النسا ء” نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمیں پسند آئیں “ کے حکم کے پیش نظر یہ شادی ہوئی تھی ۔ تمہیں پورا اختیار د یا گیا تھا کہ سوچ سمجھ کر بقائمی ہوش و حواس اپنی خوشی سے اور اپنی پسند کے مطابق یہ معاہدہ کرو اب تمہیں چاہیے کہ حتی الامکان اسے نبھاﺅ ہاں اگر ایسی صورت حالات غیر متوقع طور پر پیش آجاتی ہے کہ یہ معاہدہ توڑنا پڑتا ہے تو مرد کو طلاق کا حق ہے اور عورت کو خلع کا ۔ یہ طلاق اور خلع دونوں آخری چارئہ کار ہیں ۔ اور خاص طور پر طلاق توبقول ر سول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ﴾البغض المباحات عند اللہ الطلاق ﴿ ” اللہ کے نزدیک جائز ہو جانے والے امور (مباحات )میں سب سے زیادہ ناپسندید چیز ہے طلاق ہے “ کیونکہ معاہدہ نکاح کے وقت تمہاری آنکھوں پر پٹی کسی نے نہیں باندھی تھی ۔ یہ ہے نکاح جو میثاق غلیظ ہے مگر متعہ تو ایسا نہیں ہے یہ تو زندگی بھر کی رفاقت کا معاہدہ نہیں یہ تو محض دفع الوقتی ہے اسے نکاح کہنا لفظ نکاح کی توہین ہے ۔ اسکے لئے صحیح ترین لفظ جو قرآن نے استعمال کیا ” سفاح “ ہے ۔ سفاح کے لغوی معانی ” بہا دینا “ ”گرا دینا “ یعنی ضائع کردینا ہیں ۔ جبکہ نکاح کے معنی ایک دوسرے میںجذب ہو جانا ہیں سر سید نے متعہ کے لئے ” سفاح “ کا لفظ موزوں سمجھا ہے ۔ ہمارے قدیم مفسرین میں امام فخرالدین رازی نے امام ابو بکر رازی کا یہ قول متعہ کے عدم جواز پر لوگوں کے دلائل کے سلسلہ میںنقل کیا ہے۔ ” غیر مسافحین “کے لفظ میںخدا تعالی نے زنا کو ” سفاح “ سے تعبیر کیا ہے اسلئے کہ اس سے صرف ” سفح ما ء“ یعنی رطوبات شہوانیہ کو گرادینا منظور ہوتا ہے اوراس میں حصول اولاد یا دوسرے فوائد نکاح مطلوب نہیں ہوتے اور متعہ میں بھی صرف ” سفح ماء“ منظور ہوا کرتا ہے لہذا وہ بھی سفاح ہے “ (تفسیر کبیر ج 3 طبع مصر ص 791) امام رازی اپنی عادت کے مطابق اس کا جواب دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں ذرا جواب بھی ملاحظہ فرمائیے ”ان کا یہ کہنا کہ زنا سفاح ہے ۔ اسلئے کہ اس سے منظور سفح ما ء“ ہے درست ہے لیکن متعہ میں ایسا کا م یعنی سفح ماءہو تا تو ہے مگر شریعت اور اذن خدا وند ی کے ساتھ ہوتا ہے “ (ایضاً)امام رازی کا یہ جواب کتنا کمزور ہے اسی متعہ پر یہی تو اعتراض ہو رہا ہے کہ یہ شریعت اور اذن خداوند ی نہیں پھر آپ اسی کو دلیل بنا رہے ہیں یہ تو وہی بات ہو ئی کہ کوئی کہ رہا تھا ” رات نہیں “ دوسرے نے کہا ”رات ہے “ جب دوسرے سے دلیل طلب کی گئی تو اس نے کہا ” چونکہ رات ہے اسلئے میںکہ رہا ہو ں کہ یہ رات ہے “ بہرحال ابو بکر رازی اور سرسید کا متعہ پر یہ اعتراض بڑا وقیع ہے اسکے جواب میں شیعہ حضرات نے بہت ہاتھ پاﺅں مارے ہیں اور آخر یہ بھی کہ دیا ہے کہ ممتوعہ عورت کی عدت بھی ہوتی ہے اسلئے اس سے بھی نکاح کی طرح اولاد منظور ہوتی ہے مگر یہی حضرت یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک آدمی کی پہلی بیوی بیمار ہو تو وہ متعہ کریگا دوسرا نکاح دائمی اسلئے نہیں کرتا کہ اس پر بار گراں پڑجائیگا ۔ پھر اگر اولاد اسکے ذمہ لگتی ہے تو کیا اس پر وہی بار گراں نہیں پڑتا اسکے علاوہ شاہ عبدالعزیز صاحب کا وہ اعتراض بھی اپنی جگہ موجود ہے اور بڑا معقول اعتراض ہے کہ مسافر یہاں وہاں متعہ کرتا پھرتا ہے اسکی اولاد کا ریکارڈ کس کے پاس ہو گا اور کون گارنٹی دے گا کہ کل بھائی بہن آپس میں نکاح نہیں کربیٹھیں گے جبکہ ایک شہر میں ایک شخص کی زن ممتوعہ سے لڑکی پیدا ہوئی اور دوسری جگہ لڑکا اور اسکی ضمانت کون دیگا کہ کل وہی شخص خود پھرتا پھراتا اسی شہر میں آجائے جہاں اسکی ممتوعہ عورت بیٹی پیدا کر کے مرگئی تھی تو وہ شخص خود اپنی بیٹی سے متعہ نہیں کریگا ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب علامہ سید علی نقی النقوی نے اپنی کتاب متعہ اور اسلام میںشاہ عبدالعزیز صاحب کے یہ اعتراضات نقل کئے ہیں مگر جواب نہیں دیا مفروضات کہہکر ٹال گئے اور فرمایا ہم شیعوں کو تو کبھی ایسا مسئلہ پیش نہیں آیا۔ جناب نقوی صاحب کے پاس کیا ثبوت ہے کہ ایسا واقعہ ظہور پذیر نہیںہوا۔ جدید مفکرین کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الرجال قوامون علی النساءکے تحت نکاح کے ساتھ ہی عورت اور پھر اولاد کے نان نفقہ کی ذمہ داری مرد پر عائد ہو جاتی ہے مگر متعہ میںکیا ہوگا؟ ایک صاحب نے متعہ کیا وہ چلے گئے ایک دو بچے پیدا ہو گئے یہ زن ممتوعہ پر آگئے۔ ڈیڑھ ماہ کے بعد اور صاحب تشریف لے آئے انہوں نے مستی جھاڑی اور سفر پر روانہ ہو گئے۔ ان کی بھی اولاد اسی عورت کی گردن پر آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔ متعہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بازاری عورتوں سے نہیں شریف زادیوں سے ہوتا ہے معلوم نہیں وہ شریف باپ کہاں رہتے ہو نگے جو اپنی معصوم بیٹیوں کو چندروپوں کے عوض دو چار دن کے لئے غیر مرد کے آگے ڈال دیں گے اور اپنی بیٹی کو داغدار کرکے اسکا مستقبل تاریک کر دینگے کیونکہ اگر ممتوعہ کا بچہ پیدا ہو گیا اور اسکے والد گرامی غائب ہو گئے تو عورت بیچا ری کی ساری عمر تبا ہ ہو جائیگی ۔ اور اسکے سوائے اسکا کوئی چارئہ کار نہیں ہو گا کہ وہ باقی عمر متعہ کرتی رہے پھر اس میں اور بیسوا میںکیا فرق رہیگا اور وہ اتنی اولادیں کیسے پالے گی؟ ان اولاد وں سے بچنے کے لئے وہ کسبیوں کی طرح مانع حمل آلات و ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہو گی یوں ” وہ بازار “ کھل جائینگے جن کا اسلام دشمن ہے ۔ متعہ کے قائل حضرات متعہ کے جواز پر عقلی دلائل اور ” رہنمایاں شریعت حضرات ائمہ معصومین “ کی ہدایات بھی پیش کرتے ہیں سید علی نقی النقوی فرماتے ہیں ” چنانچہ ہم اس وقت روسائے ملت اوررہنمایاں شریعت حضرات ائمہ معصومین کے بعض اقوال وہدایات پیش کرتے ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ کس حد تک ان حضرات نے اس جزو کی حفاظت فرمائی ہے۔ اور بلا ضرورت متعہ کرنے کی ممانعت کی ہے “ (متعہ اور اسلام ص 70) فتح بن یزید کی روایت کے مطابق جناب امام موسی کا ظم نے فرمایا ” وہ شخص جسکی شادی ہوچکی ہے اور متعہ کی اسکو ضرورت باقی نہیںرہی تو اسکے لئے متعہ اس وقت جائز ہو گا جب وہ کہیں سفر میں جائے اور زوجہ ساتھ موجود نہ ہو “ (بحوالہ متبہ اور اسلام ص 17) سفر میں ایک شخص مثلا ً لاہور جاتا ہے وہ” بازاری عورت “ (اگر موجود ہو اول تو آجکل موجود نہیں ) سے متعہ نہیں کرسکتا کیونکہ حضرت وامام علی رضا کا فرمان ہے ۔ ” اگر عورت ایسی ہے کہ زنا کاری میںمشہور ہے تو اس سے نہ نکاح کیا جائے نہ متعہ “ (بحوالہ متعہ اور اسلام ص 3
اب وہ کس شریف زادے کے پاس جائیگا ۔ کیا ایسے ادارے بنائے جائینگے جن میں متعہ کے لئے عورتیں دستیاب ہو نگی جیسے ” شادی دفتر “ کھلے ہوئے ہیں اور اگر ایسے ادارے کھولے جائینگے تو آخر ان میں اور قحبہ خانوں میں کیا فرق ہو گا؟ علامہ نیازفتحپوری لکھتے ہیں ” عہد سعادت (حضورصلی کے عہد میں ) متعہ رائج تھا یا نہیں بعد کو وہ ممنوع قرار دیا گیا یا نہیں ؟ اس سے بحث فضول ہے لیکن یہ ضرو رقابل غور ہے کہ عہد حاضر میںجب کہ آزادی تمام حدودسے گزر جانا چاہتی ہے متعہ کا جواز کہیں آوارہ فحا شی کی صورت تو اختیار نہیں کرلیگا اور سوسائٹی اس کو برداشت کر سکتی ہے یا نہیں ؟ چنانچہ ایران میںجہاں صدیوں سے متعہ کا جواز چلا آرہا تھا رضاشاہ پہلوی نے اس کو بالکل بند کر دیا کیونکہ اس وقت جبکہ عورتوں کا پردہ اٹھتا جارہاہے متعہ کا جواز جو آفتیں ڈھا سکتا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں اور اس کو صرف اس دلیل پر کبھی مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ برا کا م کرنے کا اچھا طریقہ ہے “ (نگار لکھنﺅ نومبر 3391) سناہے ایران میں شیعہ تھیاکریسی نے اسے پھر سے حلال کر دیا ہے ۔علامہ نیاز فتحپوری کے اقتباس کا آخری جملہ پڑھئیے اور پھر درج ذیل روایت پر نظر ڈالیے آپ سمجھ جائینگے کہ انہوں نے کس تناظر میںیہ جملہ لکھا ہے ” محدث عبدالرزاق نے اپنی کتاب میںابن جریح سے اور انہوں نے عطاءسے روایت کی ہے کہ ابن عباس کہا کرتے تھے کہ متعہ کا جائز ہونا خدا کی طرف سے اپنے بندوں پر ایک رحمت کی صورت رکھتا تھا ۔ اور اگر عمر نے ممانعت نہ کی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کی ضرورت نہ ہوتی “ (تفسیر مظہری ص 27۶) حضرت ابن عباس رضہ اللہ تعالی عنہ کو متعہ کا بہت بڑا حامی بلکہ علمبردار ثابت کیا جاتا ہے ان سے متعہ کے جواز کی ایک اور علت بھی بیان کی جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی وقتی ضرورت کے پیش نظر جائز ہوا تھا ” ابن عباس کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضہ اللہ تعالی عنہ نے متعہ سے ممانعت کر دی پھر اسی سلسلہ میںکہا ”حذا وند عالم نے متعہ حلال کیا تھا لوگوں کے لئے عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بناءپر کہ اس زمانہ میں عورتیں کم تھیں “۔ (سنن دار قطنی مطبوعہ دہلی ج 2 ص 893 ) گویا اگر نکاح ہو جائے تو بہت سے مرد بچ جاتے اسلئے اس کا حل نکالاگیا کہ ایک عورت کئی مردوں کے کام آجائے ۔ سر سید احمد خان مرحوم نے متعہ کی روایات پر جو کچھ لکھا ہے وہ بھی دیکھ لیجئے ۔ ” علماءکا اتفاق ہے کہ ابتدائے اسلام میںمتعہ جائز تھا اور اس باب میں کہ وہ بدستور ہے یا ممنوع یا منسوخ ہو گیا ہے اختلاف ہے گروہ کثیرامت کا خیال ہے کہ اس آیت میںتو بلا شبہ جواز متعہ کا حکم ہے لیکن یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے مگرجن آیتوں سے اسکے نسخ کا استدلال کرتے ہیں وہ استدلال میرے نزدیک نہایت ضعیف ہے ۔ اور گروہ قلیل امت کا یہ قول ہے کہ حکم جواز متعہ بدستور بحال و غیرمنسوخ ہے ابن عباس سے اس میں مختلف روایتیں ہیںایک روایت تو جواز متعہ کی ہے بلا کسی قید کے اور ایک روایت میں اسکا جواز بحالت اضطرار بیان ہو ا ہے جیسے کہ مردار اور سﺅر کا گوشت بحالت اضطرار کھالینا جائز ہے اور ایک روایت میںبیان ہو ا ہے کہ ابن عباس نے تسلیم کیا کہ حکم جواز منسوخ ہو گیا ہے عمران بن حصین اسکے جواز کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ جواز متعہ کی آیت قرآن میں موجود ہے اور اسکے بعد کوئی ایسی آیت جس سے حکم جواز متعہ منسوخ ہوا ہو نازل نہیں ہوئی اور شیعہ حضرت علی مرتضیٰ سے جواز متعہ کی بہت سی روایتیں بیان کرتے ہیں مگر اہل سنت کے ہاں حضرت علی مرتضیٰ سے کوئی معتبر روایت جواز متعہ پر منقول نہیں محمد بن جریر طبری نے اپنی تفسیر میںحضرت علی سے یہ روایت لکھی ہے کہ اگر عمر لوگوں کو متعہ کرنے سے منع نہ کرتے تو بجز کسی بدبخت کے کوئی زنانہ کرتا اور محمد بن الحنفیہ جو حضرت علی کے بیٹے ہیںیہ روایت ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ ابن عباس کے پاس گئے جو جواز متعہ کافتوی دیتے تھے اور فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع کیا ہے “ (تفسیر القران ج 2 ص 29، 39، ۴9 شائع کر دہ دوست ایسوسی ایٹس لاہور) ذرا آگے چل کر لکھتے ہیں ۔ ” باقی رہیں روایتیں جن سے بجز اسکے کچھ نہیں پایا جاتا کہ مکہ کی عورتیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے گئے تو بناﺅ سنگار کر کے بیٹھتی تھیں اصحاب رسول طو ل غربت کے باعث انکی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا ” ان عورتوں سے متعہ کر لو “ (تفسیر کبیر ) بن سنور کر بیٹھتی تھیں جیسے اب بھی اس قسم کی عورتیں میلوں اور مجمعوں میں بناﺅ سنگار کر کے بیٹھتی ہیں اور ن سے متعہ کرنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی “ یہ سب روایتیں محض بیہودہ اور لغو ہیںجس قدر حدیثیں جواز متعہ پربیان ہوئی ہیں اور جس قدر کہ ان کی منسوخی یا بحالی کی نسبت منقول ہیں ان میں سے کوئی بھی لائق التفات اور قابل تسلیم نہیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں متعہ پر جو بحث شروع ہوئی ہے وہ اسی آیت کی بناءپر ہوئی ہے ۔ کہ علماءومفسرین نے غلطی سے سمجھا کہ اس آیت سے جواز متعہ نکلتا ہے پھر ایک گروہ اس کا مخالف ہوا اس نے اسکی منسوخی ثابت کر نے پر توجہ کی اور اس کی تائید پر ناسخ حدیثیں موجود ہو گئیں اور اسکے م یدین نے اس کے جواز کی حدیثیں پکڑ بلائیں شیعہ کے پشت پناہ تو جناب علی مرتضیٰ ہیں ہی انہوں نے سچ جھوٹ جو چاہا امام مظلوم علیہ السلام پر تہمت دھروی البتہ اگر اس آیت سے حکم امتناع متعہ تسلیم کیا جائے جو اس زمانہ میں عرب میں مروج تھا تووہ روایتیں جن میںبلا ذکر نسخ صرف حکم امتناع متعہ ہے اس آیت کے قابل ترجیح یا لائق اعتماد مقصود ہو سکیں گی اور خیال ہو سکتا ہے کہ بعد نزول اس آیت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کاامتناع کیا “۔ (ایضا ً ص 99۔79) آخر میں سرسید کہتے ہیں کہ صحابہ سے جواز متعہ کی جوروایات منسوب ہیں ہم انہیں صحیح تسلیم نہیں کرتے اس مسئلہ میں سر سید کے ساتھ جدید مفکرین اسلام بھی متفق ہیں کیونکہ جب اسلام پرحرف آرہا ہو تو روایات کے تقدس کی پاسداری ضروری نہیںرہتی۔ رہی ملک یمین یا کنیزوں کی بات تو جدید مفکرین اسلام کا عقیدہ ہے کہ قرآن حکیم میں ان کا حکم جہاں بھی آیا ہے ۔ صیفہءماضی کے ساتھ آیا ہے ما ملکت ایما نکم ” جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہو ئے“چونکہ اسلام سے پیشتر ایک طویل دور غلامی کا تسلسل آرہا تھا غلام اورلونڈیاں وہ لوگ تھے جو جنگوں میں مغلوب ہونے والے ملکوں اور شہروں سے پکڑ کر لائے جاتے تھے پھرا نہیں آپس میں تقسیم کر لیا جاتا تھا انکی منڈیاں بھی سجتی تھں اور برابر خرید و فروخت ہوتی تھی یہ لوگ عرب معاشرہ کا ایک جزو تھے۔اسلام یہ پیغام لے کر آیا تھا کہ انسان بحیثیت انسان واجب التکریم ہے ولقد کر منا بنی آدم ” اور ہم نے اولاد آدم کو معززومکرم بنایا “ اسلئے غلامی کا طوق اسکے گلے میں ڈالنا زیب نہیں دیتا تھا اسلام تو یہی طوق و سلاسل ، یہی بیڑیاں اور زنجیریں کاٹنے آیاتھا لیضع عنھم اصرھم والا غلال النی کانت علیھم تاکہ وہ انکے بو جھ اتاردے جنہوں نے انکی پیٹھوں کو دوہرا کر رکھا ہے اور وہ طوق کا ٹ دے جنہوں نے انکی گردنوں کو بو جھل کر دیا ہے۔ اگر اسلام تمام غلاموں اور لونڈیوں کو ایک دم آزاد کر دیتا تو معاشرتی مسئلہ پیدا ہو جاتا بے روز گار اور بے سہارا لوگوں کی فوج اچانک نمودار ہو جاتی اور ریاست کا معاشی ڈھانچہ تبا ہ ہو جاتا اسلئے اسلام نے آہستہ آہستہ انہیں آزاد کر نے کی طرف توجہ دلائی ۔ اگر تم سے فلاں جرم سرزد ہو جائے تو کفارہ کے طور پر ایک غلام آزاد کر و۔ اسلامی ریاست کے مالی نظام کی اہم کڑی زکوة و صدقات ہیں مصارف زکوة و صدقات میںا یک اہم مصرف فی الرقاب اور فک رقبہ ” غلاموں کو آزاد کرنا “ تھا ۔ جس کے لئے رقم مختص کر نا پڑتی تھی یعنی غلاموں کو خرید کر آزاد کر دو ۔ اسطرح انفرادی اور اجتماعی طور پر سابقہ غلاموں کو آزاد کر انے کی مہم چلائی گئی ادھر اسلام کے قوانین جنگ میں قرآن نے یہ قانون دیا کہ ﴾حتی اذا اتخنتمو ھم فشد والو ثاق فاما منا بعدو امافداء﴿ ” جنگی قیدیوں کو باندھ لو پھر اسکے بعد یا تو انہیں فدیہ لے کر رہا کر دو یا احسان دھر کر “ فدیہ میں اپنے جنگی قیدیوں سے تبادلہ یا رقم لے کر رہا کر نا دونوں آگئے اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہو سکتی ہوں تو پھر انہیں مرہون احسان کر کے آزاد کر دو گویا اب غلام بنا کر فوجی سپاہیوں میںتقسیم کر دینے کی پرانی روایت ختم ہو چکی تھی ۔ پہلے سے جو کنیز یں مسلمانوں کے پاس تھیں ان سب سے جو مسلمان یا اہل کتاب تھیں ان سے نکاح کر نے کی ترغیب دی گئی کہا گیا کہ جو شخص آزاد مسلمان عورت سے شادی کر نے کی استطاعت نہیں رکھتا وہ کنیز کے ساتھ تعلق زنا شوئی پیدا کرے جس غلام عورت کی اولاد پیدا ہو جاتی وہ اپنے مالک کی بیویوں کی طرح ہو جاتی اور ام ولد کہلاتی اولاد کے قانونی حقوق صلبی اولاد کی طرح ہوتے اب اسے بیچا نہیں جاسکتا تھا کیونکہ بیویوں کو بیچا نہیں جاتا مالک مر جاتا تو ام و لد آزاد ہو جاتی۔ رہی ”عزل “کی بات تو وہ ویسی ہی روایت ہے جس قسم کی روایات کا سر سید نے انکار کیا ہے ایسی باتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر نا نفاست ذوق کے خلاف ہے ۔ گویا جدید مفکرین اسلام متعہ کی کسی صورت کو بھی اسلام قرا ر دینے کے لئے تیار نہیں ۔ یہ خدا اور رسول کی طرف سے مسلمانوں پر نازل کی ہوئی رحمت نہیں بلکہ اسی بے شرم رسم کی بھونڈی نقل ہے جسکے متعلق علامہ نیاز فتحپوری لکھتے ہیں ” بعض اقوام میںعارضی شادی کا بھی رواج ہے یعنی زن و مرد ایک مدت کے لہے عہدو پیمان کر لیتے ہیں اگر اس دوران میںعورت موافق مزاج کے ثابت ہو ئی تو مستقل نکاح بھی کر لیا جاتا ہے ورنہ فریقین میںمفارقت ہو جاتی ہے “ (شہوانیات ص 22) وہ چیز آزمائشی شادیوں کے رواج کی بنیاد بنی اور یہ متعہ مذہب کے نام پر فحاشی کی تجدید ثابت ہوا۔ مگر مولانا مودودی کسی صاحب نے کہا تھا مودودی دو ہیں ایک وہ جو جماعت اسلامی کے نام سے سیاسی جماعت قائم کر نے سے پہلے تھا وہ بے خوف لومة لائم جس بات کو حق سمجھتا تھا کہہ دیتا تھا مگر سیاست میںآنے کے بعد اور بالخصوص یہ فیصلہ کر نے کے بعد کہ جماعت اسلامی انتخابات میںحصہ لیگی بالکل دوسرا مودودی پیدا ہو کیا جسے ووٹ حاصل کر نے کے لئے کچھ نہ کچھ ووٹروں کے جذبات و معتقدات کا خیال بھی رکھنا پڑتا تھا مولانا مودودی صاحب کو چونکہ شیعہ حضرات سے بھی ووٹ لینے تھے اسلئے وہ عجیب عجیب مفروضات قائم کر کے متعہ کے جواز کے پہلو نکالنے لگے چنانچہ لکھتے ہیں ۔ ” فرض کیجئے کہ ایک جہاز سمندر میں ٹوٹ جاتا ہے ایک مرد اور ایک عورت کسی تختے پر لیٹے ہوئے ایسے سنسان جزیرے میںجاپہنچتے ہیں جہاںکوئی آبادی موجود نہ ہو وہ ایک ساتھ رہنے پر بھی مجبور ہیں اور شرعی شرائط کے تحت ان کے درمیان نکاح بھی ممکن نہیں اسی حالت میں انکے لئے اس کے سواچارہ نہیں کہ باہم خود ہی ایجاب و قبول کر کے اسوقت تک کے لئے عارضی نکاح کر لیں جب تک وہ آبادی میں نہ پہنچ جائیں یا آبادی ان تک نہ پہنچ جائے کم و بیش ایسی ہی اضطراری صورتیں اور بھی ہو سکتی ہیں متعہ اسی طرح کی اضطراری حالت کے لئے ہے “ (ترجمان القران اگست 5591) سورئہ مومنون کی آیت نمبر۶5 کی تفسیر میںیہ کچھ فرمایا جارہا ہے میلان انکا متعہ کی تحریم کی طرف ہے مگر پھر شیعہ حضرات کو بھی راضی رکھنا ہے اسلئے عبارت میںعجیب تضاد اور اضطراب آگیا ہے ذرا ملاحظہ فرمائیے آیة نمبر ۶5 والذین ھم الغرو جھم حفظون والی وہی آیت ہے جسے شاہ عبدالعزیز صاحب اور دیگر مفسرین نے ناسخ آیت قرار دیا ہے مودودی صاحب لکھتے ہیں ۔ ” بعض لوگوں نے متعہ کی حرمت بھی اس آیت سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ان کا استدلال یہ ہے کہ ممنوعہ عورت نہ تو بیوی کے حکم میںداخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میںلونڈی تو وہ ظاہر ہے کہ نہیںہے اور بیوی اسلئے نہیں ہے کہ زوحیت کے لئے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا وہ نہ مرد کی وارث ہوتی ہے نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے نہ اس کے لئے عدت ہے نہ طلاق نہ نفقہ نہ ایلا اور ظہار اور لعان وغیرہ بلکہ چار بیویوں کی حد سے بھی وہ مستثنیٰ ہے پس جب وہ بیوی اور لونڈی دونوں کی تعریف میں نہیں آتی تو وہ لامحالہ ” ان کے علاوہ کچھ اور “ میں شمار ہو گی جس کے طالب کو قران حد سے گزرنے والا قرار دیتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ آیت تحریم کے بارے میں صریح بھی نہیں اور اس سے تحریم پر استدلال ان ثابت شدہ احادیث کے بھی خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانہ میں اس کو حرام قرار دیا ہے اگر یہ مان لیا جائے کہ حرمت متعہ کا حکم قرآن کی اس آیت میں ہی آچکا تھا جو ہجرت سے کئی سال پہلے نازل ہوئی تھی تو کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے فتح مکہ تک جائز رکھتے لہذا تسلیم کرنا پڑیگا کہ متعہ کی حرمت قران کے کسی صریح حکم پر نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر مبنی ہے سنت میں اسکی صراحت نہ ہوتی تو محض اس آیت کی بناءپر تحریم کا فیصلہ کر دینا مشکل تھا متعہ کو مطلقا ”حرام قرار دینے یا مطلقا“مباح ٹھہرانے میںسنیوں اور شیعوں کے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے اس میںبحث و مناظرہ نے بیجا شدت پیدا کر دی ہے ورنہ امرحق معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے انسان کو بسا اوقات ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے جن میں نکاح ممکن نہیں ہوتا اور وہ زنا یا متعہ میں سے کسی ایک کو اختیار کر نے پر مجبور ہو جاتا ہے ایسے حالات میںزنا کی نسبت متعہ کر لینا بہتر ہے “ (ماہنامہ ترجمان القران لاہور ماہ اگست 5591) اس عبارت سے مولانا نے متعہ کو حکم خداوندی تو مان لیا اب وہ اس مجاکمہ پر آگئے کہ یہ حکم خداوندی قران کی کسی آیت سے منسوخ ہوا یا حدیث سے وہ فرماتے ہیں ۔ قرآن سے نہیں ہوا ۔ کیوں ؟ اسلئے کہ یہ استدلال قرآنی ان ثابت شدہ احادیث کے خلاف ہے جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانہ میں اسکو حرام قراردیا تھا ۔ یعنی قران کو ثابت شدہ احادیث کے خلاف نہیں ہونا چاہیے غور کیجئے پہلے آپ یہ سنتے آئے تھے کہ حدیث وہی قول رسول ہے جو قرآن کے خلاف نہ ہو اب یہ دوسری اور اسکے متضاد بات مودودی صاحب نے فرماڈالی ۔ پھرو ہ فتح مکہ والی احادیث کو ثابت شدہ کہتے ہیں حالانکہ روایات بالکل مختلف ہیں۔ ۱۔ جنگ خیبر میںمتعہ کو حرام قرار دیا۔ ۲۔ فتح مکہ میںحرام قرار دیا ۔ ۳۔ اوطاس یعنی حنین میںایساہوا ۔ ۴۔ عمرة القضا ءمیں ایسا ہوا۔ ۵۔ حجة الوداع میںایسا ہوا۔ ۶۔ متعہ دو تین بار حلال اور دو تین بار حرام ہوا ۔ یہ مختلف روایات ہیںمگر مودودی صاحب فتح مکہ والی روایت کو ثابت شدہ کہتے ہیں چلو یہ تو معلوم ہوگیا کہ یہ ثابت شدہ ہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول نے اللہ کے حکم کو منسوخ کر دیا اور جسے اللہ نے ابتک حلال کر رکھا تھا اب اسکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام ٹھہرا دیا۔ چلو حرمت تو ثابت ہو گئی مگر اگلے قدم پر ہی پنیترا بدلتے ہیں اور کہتے ہیں مطلقاً حرام بھی نہیں اور مطلقا ً مباح اور حلال بھی نہیں مجبوری کی حالت میں ” حلال “ ہے اور ویسے ” حرام “ ہے ۔ لو سنیوں کے ووٹ بھی مل گئے شیعوں کے بھی اسلام ” نیمے دروں نیمے بروں “ رہ گیا۔ جدید مفکرین اسلام جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ان تمام روایات کو بے معنی سمجھتے ہیں وہ قرآن حکیم پر کسی اورکتاب کو قاضی نہیں مانتے وہ کہتے ہیں قرآن نے بڑی وضاحت سے قوانین نکاح و طلاق بیان کر دیئے ہیں جس آیت کو آیت متعہ بنا دیا گیا ہے اس کو متعہ سے کوئی تعلق نہیں جن لوگوں نے اسے آیت متعہ سمجھا ہے ان کے ذہنوں پر انہی بے سرو پا روایات کا غبار چھایا ہوا تھا ۔ وہ آیت تو جیسا کہ سر سید نے لکھا ہے نکاح اور سفاح میںواضح فرق بیان کر کے متعہ اور اس جیسے دوسر ے حیلوں کی جڑ کاٹ رہی ہے ۔ جنسی تشنگی اور شہوانی بھوک کوئی بھی اضطرار طاری نہیں کرتی یہ قوت خیال کے تابع ہے وہ لوگ بھی یقینا موجود رہے ہیں جنہوں نے صحیح طور پر عمر تجرو میں گزار دی ہے قرآن نکاح کا واضح حکم دیتے ہوئے ایسے فرضی اضطرار کو بھی نگاہ میںرکھتا ہے اور صاف حکم دیتا ہے کہ ﴾ویستعفف الذین لا یجدون نکا حاً حتی یفنیھم واللہ من فضلہ ﴿ ”یعنی اور چاہیے کہ اپنی عفت اور عصمت بچائیں وہ جو نہیں پاتے ہیں مال کہ اس کے ذریعے سے نکاح کر سکیں یعنی مہرا ور نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتے ہوں توچاہیے کہ اپنی عصمت و عفت بچانے میں تکلیف گوارا کریں اسوقت تک کہ حق تعالی ان کو غنی کردے “۔ یہ ترجمہ شاہ عبدالعزیز صاحب کے فتاوی سے لیا گیا ہے وہ اس آیت کو اس فما ستمتتم والی آیت کا ناسخ قرار دیتے ہیں تو شیعہ حضرات اور دوسرے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ آیت مکی ہے اور جس آیت کو آیت متعہ کہا جاتا ہے وہ مدنی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پہلے ناسخ نازل ہو گیا پھر منسوخ نازل ہوا۔ اگر شاہ صاحب پر روایات پرستی سوار نہ ہوتی تو انہیں بے جاتا ویلات کا سہارا نہ لینا پڑتا ۔ یہ راویات اور مکی مدنی کے اور ناسخ منسوخ کے یہ چکر کوئی حقیقت نہیں رکھتے بالکل صاف اور سیدھی بات ہے کہ جو لوگ نکاح سے عائد ہو نے والے دوسرے فرائض یعنی مہرو نا ن نفقہ کی طاقت نہیں رکھتے انہیں قرآن ضبط نفس کا حکم دے رہا ہے اگر متعہ کسی طرح حلال اور جائز کرنا مقصود ہوتا تو یہ موقع تھا کہ متعہ کا حکم دےا جاتا ضبط نفس کا حکم کیوں دیا جاتا۔ شاہ صاحب نے اس آیت سے بالکل اسی طرح کا استدلال کیا ہے لکھتے ہیں ۔ ” اگر متعہ جائز ہوتا تو ممکن ہوتا کہ کسی عورت کو دو چار پیسے یا دو تین آنے ایک رات کا خرچ دیتے اور دو چار مرتبہ جماع کر کے فراغت حاصل کر لیتے عفت بچانے میں تکلیف اور رنج اٹھانے کی ضرورت نہ ہوتی “( فتاوی عزیزی ص 9۴5) مگر پھر ان پر روایت پرستی غالب آتی ہے اور وہ عجیب عجیب تاویلیں کرنے لگتے ہیں ۔ اور عورت متعہ کی بحث ہم نے پوری تفصیل سے لکھی ہے ۔ قائلین متعہ کے دلائل خاص طور پر انتہائی زور دار انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے متعہ کو حرام کہنے والوں کے دلائل بھی اسی طرح پیش کئے ہیں یہ ساری تفاصیل آپ پڑھ چکے ہیں قائلین متعہ نے متعہ کو اللہ تعالی کی طرف سے فراہم کردہ آسانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمتہ اللعالمینی کا ایک رنگ قرار دیا ( دیکھئیے متعہ اور اسلام ص 71 ) اسکے ساتھ ہی انسان کے فطری تقاضوں پر بھی صفحوں کے صفحے سیاہ کئے گئے پھر ان مردوں کا ذکر ہوا جو بیچارے سفر میںہیں اور ان کی بیویاں انکے ساتھ نہیںیا جن مجبوراور بیچارے مردون کی بیویاں بیمار پڑگئیںاور وہ ان سے شہوات نفسانی اور خواہشات جنسی پوری نہیں کر سکتے ان کے حال زار پر آنسوﺅں بھری دلسوزی اور خلوص بھری ہمدردی برسائی گئی مگر ان تمام دفتر ہائے بے پایاں میںکہیں بے چاری عورت کا نام نہیں آیا۔ کیا وہ انسان نہیں ؟ کیا فطرت ان سے کوئی تقاضا نہیںکرتی ؟ کیا انہیں جنسی جذبات مجبور نہیں کرتے شوہر نامدار صاحب سفر پر گئے آپ نے وہاں انکے جذبات کی تسکین کا سامان کر دیا وہ ایک سال رہیں دو تین سال رہیں انہیں کوئی پروا نہیں آپ جیسے ہمدردوں کے ہوتے ہوئے انہیں کیا پروا ہو سکتی ہے انہیں اپنی مرضی کے مطابق سب کچھ مل جائیگا آپ کا خدا بھی ان پر مہربان آپ کا رسول بھی ان پر مہربان ( خدا مجھے معاف کرے ) مگر آپ نے گھر میں بیٹھی ہوئی بیوی کے متعلق کچھ نہیں سوچا آپ کہتے ہیں اسے آپ کی نسل کو مختلط نہیں کرنا چاہیے ۔ اسے آپ کی ناک کا خیال رکھنا چاہیے جب آپ اس کے لئے ذرا سی بھی ہمدردی نہیں رکھتے تو آپ کو کےسے یقین ہے کہ وہ آپ سے ہمدردی رکھیگی آج مانع حمل دوائیاں بآسانی دستیاب ہیںاور نہ ہوں تو ” عزل “ کا اور ” ساتھی “ کا سہارا تو موجود ہے وہ کیوں آپ کی ناک کا خیال رکھے گی جبکہ اسے معلوم ہے کہ آپ باہر گلچھرے اڑارہے ہیں۔ کیوں نہیں آپ اپنی ناک کا خیال رکھتے کہ وہ بھی آپ کی ناک کا خیال رکھے ایک روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضہ اللہ تعالی عنہ رات کے گشت کے دوران دو تین دفعہ ایک مکان کے قریب سے گزرے تو گھر میں ایک عورت کو ہجرو فراق کے حزینہ اشعار گاتے سنا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس عورت کا خاوند کئی ماہ سے جہاد پر گیا ہوا ہے۔ جناب عمرفاروق رضہ اللہ تعالی عنہ نے انتہائی حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے قانون نافد کر دیا کہ کوئی فوجی تین ماہ سے زیادہ گھر سے باہر نہ رکھا جائے تین ماہ کے بعداسے رخصت پر گھر بھیجا جائے۔ غیر ملکی حکومتوں کو خواہ سعودی عرب کی حکومت ہو خواہ امریکہ کی اس قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ اور سفرکے اخراجات میں ملازم کو رعایت دینی چاہیے تاکہ وہ ملک بھی جنسی بد نہادی سے بچ جائے اور ملازم بھی بدکاری میںمبتلا نہ ہو ۔ میں علمائے اہل تشیع کے سامنے بصد ادب یہ تفاصیل پیش کر رہا ہوں برطانوی سیاح خاتون فریا سٹارک (Freya Stark)کو جنوبی عربستان کی سیاحت کے دوران ایک خاتون ملی آگے کی تفصیل فریا سٹاک کی زبانی سنیئے ۔ ” نیچے گاﺅں سے ایک خوبصورت عورت آئی اس کا خاوند شادی کے بعد ہی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا وہ میرے پاس بیٹھی اپنے نوجوان خاوند کی بخیریت واپسی کے لئے ایک نظم گاتی رہی اسکے الفاظ کی ترجمانی اس کی خالہ نے کی ۔ وہ درد بھری آواز میں گا رہی تھی ۔ ” واپس آجا تیرے چچا کی بیٹی ان بے شمار اکیلی راتوں سے گھبرا گئی ہے اسکے آنسو ستاروں سے زیادہ بہہ چکے “ لڑکیاں جوا سے گھر ے ہوئے تھیں کھل کھلا کر ہنس پڑیں ۔ عطیہ (اس لڑکی کا نام ) نے شرماتے ہوئے بڑی سادگی سے پوچھا ” کیوں کیا یہ ٹھیک بات نہیں کیا وہ مرا خاوند نہیں ؟ کیا میں اسے واپس نہ بلاﺅں ؟ کیا مجھے اسکی ضرورت نہیں ؟“ ” وہ کب تک پردیس میں رہیگا؟ ” کون جانتا ہے ؟ شاید د س سال تک جیسے اللہ کی مرضی ہو گی “ پھر سب لڑکیاں سرد آہیں بھرنے لگیں کیونکہ ان وادیوں میں یہ سب کا غم تھا یہ سب کا مشترکہ دکھ تھا ۔ بلا شبہ سب اپنے اپنے خاوند ون کا سوچ رہی تھیں ، سب اپنے زخم کرےد رہی تھیں ۔ سب کے خاوند پردیس چلے گئے تھے۔ شاید انہوں نے وہاں دوسری عورتوں سے شادیاں رچالی ہوں۔ میری خادمہ نور گلو گیر آواز میں بولی ” بی بی ! عورت کے لئے دنیا کی زندگی کتنی سخت ہوتی ہے۔
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), فاروق سرورخان (10-05-09), احمد نذیر (04-09-11), شمشاد احمد (12-08-10), عبداللہ حیدر (05-05-09), غلام خان (21-12-10) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
ترجمہ طاہر القادری اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پرحرام ہیں) سوائے ان (کافروں کی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آجائیں، (ان احکامِ حرمت کو) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے، اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس (مال) کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا مقرر شدہ مَہر ادا کر دو، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مَہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے ترجمہ احمد علی اور خاوند والی عورتیں مگر تمہارے ہاتھ جن کے مالک ہو جائیں یہ الله کا قانون تم پر لازم ہے اور ان کے سوا تم پرسب عورتیں حلال ہیں بشرطیکہ انہیں اپنے مال کے بدلے میں طلب کرو ایسے حال میں کہ نکاح کرنے والے ہو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر ان عورتوں میں سے جسے تم کام میں لائے ہو تو ان کے حق جو مقرر ہوئے ہیں وہ انہیں دے دو البتہ مہر کے مقرر ہو جانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے باہمی کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی گناہ نہیں بے شک الله خبردار حکمت والا ہے احمد رضا خان اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے نہ پانی گراتے تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے، شبیر احمد اور (حرام کی گئی ہیں تم پر) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو (جنگ میں قید ہوکر) ہاتھ آئیں تمہارے یہ قانون ہے اللہ کا (لازم ہے جس کی پابندی) تم پر۔ اور حلال ہیں تمہارے لیے وہ (عورتیں جو علاوہ ہیں ان کے اس طرح کہ حاصل کرو تم اُن کو اپنے مال خرچ کرکے، قید (نکاح) میں لانے کے لیے نہ کہ بدکاری کی خاطر۔ پھر جو لطف اُٹھاؤ تم ان عورتوں میں کسی سے تو ادا کرو انہیں ان کے مہر بطور فرض اور نہیں ہے کچھ گناہ تم پر کسی (سمجھوتے) میں جو باہمی رضا مندی سے طے پاجائے، بعد مہر مقّرر کرنے کے۔ بے شک اللہ ہے ہر بات جاننے والا، بڑی حکمت والا۔ (ترجمہ تفہیم القرآن جلد اول تفسیر خازن) (ان کے ماسوا جتنی بھی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعے سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو ،نہ یہ کہ آزاد شہوات رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھائو ان کے بدلے ان کے مہر بطور فرض کے ادا کرو البتہ مہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتا ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں) شیخ محسن علی نجفی صاحب کا ترجمہ اور شوہر دار عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں، (یہ) تم پر اللہ کا فرض ہے اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں ان عورتوں کو تم مال خرچ کر کے اپنے عقد میں لا سکتے ہو بشرطیکہ (نکاح کامقصد) عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو، پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو البتہ طے کرنے کے بعد آپس کی رضا مندی سے (مہر میں کمی بیشی) کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،یقینا اللہ بڑا جاننے والا، حکمت والا ہے۔ یہ آیات کس حد تک متعہ کا جواز ہے اور کس حد تک متعہ کی ممعانعت کرتی ہے ۔ بس اس آیت پر ہی دلائل دیں۔ باقی کی احادیث اور واقعات پر باری آنے پر بحث کی جائے گی۔ بحث میںحصہ لینے سے پہلے پہلی پوسٹ کے شروع کے الفاظ توجہ سے پڑھ لیں۔ والسلام Last edited by منتظمین; 08-05-09 at 09:42 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (30-10-09), ابرارحسین (20-05-09), شمشاد احمد (12-08-10), علی....Ali (17-10-09), غلام خان (21-12-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
مقبول
|
اس بارے میں شیخ محسن علی نجفی صاحب کا ترجمہ اور انھوں نے جو اس بارے میں حاشیہ میں لکھا ہے وہ آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔
اور شوہر دار عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں، (یہ) تم پر اللہ کا فرض ہے اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں ان عورتوں کو تم مال خرچ کر کے اپنے عقد میں لا سکتے ہو بشرطیکہ (نکاح کامقصد) عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو، پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو البتہ طے کرنے کے بعد آپس کی رضا مندی سے (مہر میں کمی بیشی) کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،یقینا اللہ بڑا جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٢٤۔ فَمَا اِستَمتَعتُم بِہ مِنھُنَّ: یہ آیت متعہ مشہور ہے جس میں متعہ کی تشریع کا نہیں، بلکہ پہلے سے تشریع شدہ متعہ کے مہر کا حکم بیان ہو رہا ہے۔ عقد متعہ سے منکوحہ عورت شرعاً زوجہ شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ عصر رسالت (ص) میں جب متعہ بالاجماع جائز اور رائج تھا تو اس وقت اس کو زوجہ شمار کیا گیا، جبکہ مملوکہ کنیز کا ذکر زوجہ کے مقابلہ میں آیا ہے۔ چنانچہ مکہ میں نازل ہونے والے سورہ مؤمنون آیت ٥، ٦ میں فرمایا: والذین ھم لفروجھم حفظون O الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم ۔ مؤمن اپنی جنسی خواہشات پر قابو رکھتے ہیں سوائے اپنی زوجات اور کنیز کے۔ ظاہر ہے کہ متعہ کی عورت یقینا کنیز نہیں ہے۔ اگروہ زوجہ بھی نہیں ہے تو یہ تیسری عورت ہو گئی، جبکہ نکاح متعہ عہد رسالت میں بالخصوص مکی زندگی میں (بعض کے نزدیک جنگ خیبر اور بعض کے نزدیک فتح مکہ تک) جائز اور رائج تھا، تو اگر عقد متعہ کی عورت زوجہ نہیں ہے تو تیسری قسم کی عورت کے عنوان سے اس کا ذکر آیت میں ضرور آتا۔ چنانچہ امام قرطبی تفسیر ٥ : ١٣٢ میں لکھتے ہیں: لم یختلف العلماء من السلف و الخلف ان المتعۃ نکاح الی اجل لامیراث فیہ۔ علمائے سلف اور بعد کے علماء کو اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ متعہ ایک مدت کا نکاح ہے، البتہ اس (زوجین) میں میراث نہیںہے۔ اصحاب رسول (ص) میں سے حضرت ابن عباس، عمران بن حصین، ابی بن کعب اور عبد اللہ بن مسعود نے روایت کی ہے کہ یہ آیت متعہ کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ ائمہ و اصحاب و تابعین حلیت متعہ کے قائل تھے: ٭ حضرت علی بن ابی طالب (ع) ٭ ابن عباس ٭ عمران بن حصین ٭جابر بن عبد اللہ انصاری ٭ عبداللہ بن مسعود ٭ عبداللہ بن عمر ٭ ابوسعید خدری ٭ ابی بن کعب ٭ ابوذر غفاری ٭ زبیر بن عوام ٭ اسماء بنت ابی بکر ٭ سمرہ بن جندب ٭ سلمہ بن امیہ ٭ معبد ابن امیہ ٭ خالد بن مہاجر ٭ ربیعہ بن امیہ۔ ایک قراء ت اس آیت کی یہ ہے: فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی فاتوھن اجورھن یعنی پھر جن عورتوں سے ایک مقررہ مدت تک تم نے متعہ کیا ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو۔اس قراء ت کو ابن عباس، ابی بن کعب، حبیب بن ثابت، سعید بن جبیر، سدی اور عبد اللہ بن مسعود نے اختیار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو روح المعانی ٥ : ٥، تفسیر طبری ٥ : ٩ ، تفسیر کشاف، قرطبی، شرح صحیح مسلم نووی ٩ : ١٨١ وغیرہ۔ حضرات ابن عباس، ابی بن کعب اور عبد اللہ مسعود جیسے معلمین قرآن کی قراء ت کو شاذہ نہیں کہا جا سکتا۔ غیر امامیہ علماء کا یہ مؤقف ہے کہ قراء ت شاذہ کے مطابق نماز میں قرآن کی تلاوت درست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قراء ت شاذہ سے قرآن ثابت ہو جاتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود متعہ پر پابندی کیوں لگی ہے؟ یہ جانے کے لیے صحیح مسلم، باب نکاح المتعۃ کا مطالعہ کافی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
بابِی اَنتَ وَ اُمی یَا رَسُول اللہ (ص) |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے صرف علی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), علی....Ali (17-10-09) |
|
|
#6 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ میرا اپنا موضوع نہیںہے کسی دوسری جگہ سے منتقل کیا گیا ہے اور مجھے کہیں پر بھی اس سے اچھا غیر جانبدارانہ مضمون اس موضوع پر نہیںملا ہے۔ میںیہ نہیںچاہتا کہ لوگ اپنی جیب سے دلائل لائیں۔ دلائل کہیں سے بھی لائیں ان کے ریفرنس فراہم کریں۔ لیکن کاپی پیسٹ نہیں کریں۔ تاکہ بعد میں یہ عذر نہ رہے کہ یہ میری تحریر نہیں بلکہ فلاں فلاں کتاب میں ایسا لکھا گیا ہے۔ اور الفاط کا چناو ایسے کیا گیا ہے۔ کیا اپ ان علماء میں سے ہیںجو عالم اور عوام میں ایک لکیر کھینچ کر چلتے ہیں۔ نوٹ: یہ سارے غیر ضروری مراسلات ہیں جو میں کچھ عرصے کے بعد ختم کر دوں گا اور بحث بس متعلقہ موضوع کے متعلق ہی رہ جائے گی۔ Last edited by منتظمین; 08-05-09 at 09:52 PM. |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), فاروق سرورخان (10-05-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
منتظمین، سلام۔ شکریہ ایک بہت ہی متنازعہ موضوع پر ایک معلوماتی دھاگہ شروع کرنے کا۔
آپ نے دو بڑے مسئلے پیش کئے ہیں۔ ایک ہے ناسخو منسوخ اور دوسرا ہے متعہ۔ چونکہ یہ دھاگہ متع کے بارے میںہے ، لہذا میں ناسخ و منسوخ سے صرف یہ کہہ کر دور رہوں گا کہ قرآن میں ناسخ منسوخ موجود نہیں۔ جو صاحب اس ضمن میںکوئی بات کرنا چاہیں وہ ایک الگ دھاگہ شروع کرسکتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالی اس پر مناسب معلومات عرض کروں گا۔ اب آئیے متع کی طرف، اس سے پہلے کہ ہم ان آیات پر کوئی بھی تبصرہ کریں۔ یہ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ کوئی بھی جواب دے سکتا ہے۔ کیا اسلام قرآن اور سنت رسول اکرم ہے؟ 1۔ اگر ہاں تو رسول اکرم صلعم نے کتنی بار متع فرمایا؟ کتب روایات سے حوالہ دیجئے تاکہ بات پھر وہاں سے آگے بڑھائی جائے۔ 2۔ عربی لفظ متع کے لغوی معانی کیا ہیں، جس سے "متع" کی اصطلاح بنی ہے؟ والسلام طالب علم قرآن فاروق سرور خان Last edited by فاروق سرورخان; 10-05-09 at 11:19 PM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), فیصل ناصر (10-05-09), چیتا چالباز (11-05-09), محمد عاصم (03-10-10), مرزا عامر (20-11-11), غلام خان (21-12-10) |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہے کہ پہلے بات قرآن کی آئت پر کی جائے۔ جب احادیث آئیںگیں تو یہ سوال وہاں آٹھایا جائے۔ کیا اس آئت سے متعہ کا جواز ملتا ہے۔ کیا یہ منسوخ شدہ ہے اگر ہے تو کس آئت سے؟ منسوخ اور ناسخ کے لیے الگ موضوع باندھ لیں۔
نوٹ: تمام غیر متعلقہ / غیر ضروری مراسلات خذف کر دئے جائیں گے۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), shafresha (16-05-09), فیصل ناصر (10-05-09), Wahid Mahmood (05-01-10), علی ولی (16-05-09), علی....Ali (17-10-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
اس آیت 4:24 میں متع کرنے یعنی (یعنی کسی بھی عورت سے وقتی جنسی فائیدہ اٹھانے کا ) کوئی سراغ دور دور تک نہیںملتا ہے۔ یہاںصرف یہ بتایا گیا ہے کہ شوہر والی عورتیں شادی کرنے کے لئے عموما حرام کی گئی ہیں ، ماسوائے وہ عورتیں جو کسی جنگ کی صورت میں بے سہارا رہ جائیں۔ اسلامی مملکت پر ان کی ذمہ داری عائد ہوتی ہو، جبکہ ان کے شوہر لاپتہ ہوں تو ان سے شادی کرنا مسلمانوں کے لئے جائز قرار دیا گیا۔ کسی ایک آدمی کو یہ سرٹیفکیٹ نہیں دیا جارہا کہ وہ ان سے وقتی فائیدہ اٹھائے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت وقتی شادی سے منع کرتی ہے۔ دیکھئے أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ کہ : تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے - کہ آپ اپنے مال و متاع سے ان کو محصنین یعنی پاکیزہ و پاکیزگی اکتیار کرنے والی بنائیے عفت و عصمت کی حفاظت کرنے والی بنائیے ، اور کوئی سفح (غیر قانونونی یا ناپاک کام ) کرنے والی نہ بنائیے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ محصنین یعنی حصن اور مسافحین یعنی سفح کے الفاظ اللہ تعالی نے کس طرح استعمال کئے ہیں۔ حصن کا لفظ اللہ تعالی نے مریم علیھا السلام جیسی پاکیزہ خاتون کے تذکرہ کے لئے استعمال کیا کہ انہوں نے اپنی عفت کی حفات کی ۔ 21:91 وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ اس (پاکیزہ) خاتون (مریم علیہا السلام) کو (بھی یاد کریں) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسٰی علیہ السلام) کو جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا اب دیکھئے کہ جہاں سؤر اور بہتے ہوئے خون کو مفسوح ی یعنی ناپاک قرار دیا 6:145 قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے ان دو آیات سے حصن اور فسح کی مناسب تعلیم ہم کو ملتی ہے ، اس طرح اس آیت کے اس حصے کو ہم بہت ہی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہاںپر اپنے مال کو بطور مہر استعمال کرتے ہوئے ، خواتین کو حصن، یعنی باعفت ، پاکیزہ طور پر بیوی بنانے کا حکم دیا جارہا ہے اور اس کی خلاف ورزی کو فسح یعنی ناپاک کہا جارہا ہے۔ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً اس مقام سے فما استمتعتم ، قطعا عارضی فائیدہ نہیں بلکہ کہا جارہا ہے کہ جب بیوی بنانے کا فائیدہ اٹھایا تو مہر ادا کرد و کہ جیسا فرضہے۔ اب آپ یہ اعتراضکرسکتے ہیں کہ عارضی عیش یا عارضی شادی کیوں نہیں ہے؟ تو اس کا ایک جواب تو ابھی دیا جاچکا ہے کہ حصن یعنی باعفت اور باعصمت بنانے کے لئے شادی کی جائے نہ فسح یعنی ناپاکی کے لئے۔ قرآن محصنات کا لفظ شادی شدہ خواتین کے لئے استعمال کرتا ہے۔ یعنی روایاتاً شادی شدہ، لہذا یہ کہنا کہ یہاں عارضی شادی کی بات ہورہی ہے درست نہیں۔ اس موضوع کی وضاحت 4:25 میں ایک بار پھر دوسرے الفاظ میں کی گئی ہے اور یہاں متع یعنی وقتی فائیدہ اٹھانے کے بات نہیں کی گئی۔ اگر ہم مہر کی ادائیگی کو عارضی شادی کی دلیل کے لئے استعمال کریں تو پھر تو ہر شادی متع بن جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ لوگوں نے شادیاں خاندان بنانے کے لئے کی ہیں نہ کہ وقتی فائیدہ کے لئے؟ 4:25 وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَن تَصْبِرُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ اور جو نہ رکھتا ہو تم میں سے قدرت اس بات کی کہ نکاح کرسکے آزاد مومن عورتوں سے تو (وہ نکاح کرے) ان سے جو تمہاری مِلک میں ہوں، کنیزیں ایمان والی اور اللہ خُوب جانتا ہے تمہارے ایمان کا حال، تم سب ایک دوسرے میں سے ہو، سو نکاح کرو ان کنیزوں سے، اجازت سے ان کے مالکوں کی۔ اور ادا کرو انہیں ان کے مہر دستور کے مطابق (تاکہ وہ) قیدِ نکاح میں محفوظ رہنے والیاں ہوں نہ جی بدکاری کرنے والیاں اور نہ چوری چھُپے یارانہ گانٹھنے والیاں۔ پھر جب وہ قیدِ نکاح میں محفوظ ہوجائیں تو اگر ارتکاب کریں بدکاری کا تو ان کے لیے ہے نصف اس سزا کا جو ہے آزاد عورتوں کے لیے مقّرر ہ سزا۔ یہ (کنیز سے نکاح کی سہولت) اس کے لیے ہے۔ جسے ڈر ہو بد کاری میں مُبتلا ہونے کا تم میں سے اور یہ کہ صبر سے کام لو تم۔ یہ بہتر ہے تمہارے لیے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ تو جناب ، یہ بات کہ ان کے اجور یعنی مہر دستور کے مطابق ادا کرو تاکہ وہ نکاح کی پابند رہیں صرف اور صرف باقاعدہ شادی میں ہی ممکن ہے ، اگر نکاح کی پابندی نہیں ہے تو پھر اس عمل کو بدکاری اور چوری چھپے یارانہ گانٹھنے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ اسی مضمون کا اعادہ اللہ تعالی نے دوبارا 5:5 میں کیا۔ 5:5 الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا گویا، بنیادی احکامات نکاح کرنے کے لئے یہ بیان کئے گئے کہ 1۔ مہر کی ادائیگی کرو 2۔ باقاعدہ نکاح کرو ، عفت و عصمت کی حفاظت کے لئے 3۔ نہ کہ ناپاک حرکتوں کے لئے 4۔ اور نہ ہی چھپی ہوئی یاری کرنے کے لئے۔ تو ہم کو قرآن سے کسی متع یعنی وقتی فائیدہ اٹھانے کی کوئی روایت نہیں ملتی، بلکہ نکاح کرنے کی ہدایت ملتی ہے پاکی اور تحفظ عفت کی اس کے علواہ سب کچھ سفحیعنی ناپاک قرار دیا گیا ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا نکاح کرنا وقتی طور پر درست ہے (وقتی فائیدہ ، وقتی عیش یا متع) یا یہ کہ نکاح ایک مرد پر اپنی زوجہ اور اپنے خاندان کی ذمہ داری ہے؟ دیکھئے 2:240 وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِيَ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوں اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں ان پر لازم ہے کہ (مرنے سے پہلے) اپنی بیویوں کے لئے انہیں ایک سال تک کا خرچہ دینے (اور) اپنے گھروں سے نہ نکالے جانے کی وصیّت کر جائیں، پھر اگر وہ خود (اپنی مرضی سی) نکل جائیں تو دستور کے مطابق جو کچھ بھی وہ اپنے حق میں کریں تم پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے تو اللہ تعالی کا حکم ہے کہ اگر آپ وقت میں دور جائین یعنی مر جائیں یا فاصلے میں دور جائیں یعنی سفر کریں تو کم از کم ایک سال کا خرچہ اور گھروں میںرہائش ضروری ہے۔ اللہ تعالی نے طلاق دئے جانے کی صورت میں بھی اس حکم کو باقی رکھا۔ 65:1 تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دےبائی دی وے، یہ بھی اللہ کی مقرر کردہ ایک حد ہے ، جسے شرارتی ملا حدود آرڈینینس بناتے ہوئے بالکل بھول جاتے ہیں۔ ااس پر بات بعد میں۔ تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ وقتی عیاشی ممکن ہی نہیں ہے کہ اگر طلاق واقع ہوگئی، چاہے وہ متع سے ہوئی کہ معیادی شادی تھی یا طلاق دینے سے ہوئی یا خلع سے ہوئی، عورت کو اس مکان میں رہنے کا حق ہے جو اس کے شوہر کی ملکیت ہے۔ تو بھائی جو لوگ متع کرنے اور اس سے واقع ہونے والی طلاق کے حق میںہیں وہ اپنی جائیداد سے ہاتھ دھونے کے لئے تیار رہیں ![]() اب دیکھتے ہیں کہ کیا لفظ متع قرآن میں موجود ہے۔ اگر موجود ہے تو پھر ہم کو اس کے وہی معانی لینے چاہئیے ہیں جو متع کے حامی لیتے ہیں کہ وقتی یا معیادی شادی۔ آپ دیکھیں گے کہ میں جونہی متع کے بارے میں آیت لکھوں گا، شرارتی ملا جو استمتعتم کی مثال دیتے نہیں تھکتے ، کہیں گے -- اوہ --- یہ آیت متع کے بارے میں تھوڑی ہے ہے یہ تو کسی اور "متع" کے بارے میں ہے ۔ اس متع کے معانی تو کچھ اور ہیں۔ بھائی صلوۃ کے معانی ایک ہیں ، اللہ کے معانی ایک ہیں تو متع کے معانی بھی ایک ہی ہوئے۔ وقتی عیاشی یعنی متع کے بارے میں یہ آیات دیکھئے - ان آیات میں میں نے لفظ متع کو من و عن رکھا ہے ، اس کا ترجمہ نہیں استعمال کیا ہے ۔ بعض لوگوں نے بعض لوگوں سے متع کیا یعنی معیادی شادی کی تو پھر وہ اپنی معیاد پوری ہونے پر جہنم میںپہنچ گئے ۔ بھائی عبداللہ حیدر اور بھائی عادل سہیل سے عرض ہے کہ اپنی عربی زبان کی مہارت استعمال کرتے ہوئے ہمیںبتائیے کہ یہاں کیا " معیادی متع کرنے والوں " کے بارے میں کہا جارہا ہے؟ اگر ہاں تو پھر یہ "متع " کونسا ہے اور شادی والا متع کونسا ہے؟ کہ شادی والے متع اور اس متع میں کیا فرق ہے؟ 6:128 وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلاَّ مَا شَاءَ اللّهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَليمٌ اور جس دن وہ ان سب کو جمع فرمائے گا (تو ارشاد ہوگا اے گروہِ جنّات (یعنی شیاطین!) بیشک تم نے بہت سے انسانوں کو (گمراہ) کر لیا، اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے معیادی متع کئے اور (اسی غفلت اور مفاد پرستی کے عالم میں) ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرمائی تھی ۔ اﷲ فرمائے گا کہ (اب) دوزخ ہی تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اسی میں رہو گے مگر جو اﷲ چاہے۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہےتو بھائی یہ کونسا استمتع یعنی متع ہے جس کی سزا جہنم ہے ؟ اب دیکھئے 9:69 9:69 كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُواْ أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالاً وَأَوْلاَدًا فَاسْتَمْتَعُواْ بِخَلاَقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُم بِخَلاَقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ بِخَلاَقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُواْ أُوْلَـئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ( تم) ان لوگوں کی مثل ہو جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ پس جب انہوں نے متع کیا جیسے تم متع کررہے ہو جیسے تم سے پہلے لوگوں نے (لذّتِ دنیا کے) لئے متع کیا تھا نیز تم (بھی اسی طرح) باطل میں داخل اور غلطاں ہو جیسے وہ باطل میں داخل اور غلطاں تھے۔ ان لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے اور وہی لوگ خسارے میں ہیں یہ کون لوگ ہیں جن کے متع کی مثال دی جارہی ہے ؟ کہ انہوںنے متع کیا جیسے تم متع کررہے ہو جیسے تم سے پہلے لوگوں نے متع کیا تھا ---- ان کی تو آخرت برباد ہوگئی او یہ تو خسارے میں ہیں۔ یاد رکھئے کہ میں نے لفظ متع کا ترجمہ نہیں کیا ہے ، اس کو من و عن استعمال کیا ہے ۔ ہمارے عربی جاننے والے برادران اس امر کی تصدیق کردیں کہ میں نے ترجمہ میں کوئی تحریف نہیںکی ۔ اور اگر کی ہے تو اس کو درست فرمادیں۔ 16:55 لِيَكْفُرُواْ بِمَا آتَيْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (یہ کفر و شرک اس لئے) تاکہ وہ ان (نعمتوں) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھی ہیں، پس (اے مشرکو! چند روز) متع کر لو پھر تم عنقریب (اپنے انجام کو) جان لو گے 31:24 نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ ہم انہیں (دنیا میں) تھوڑا سا متع کرنے دیں گے پھر ہم انہیں بے بس کر کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے میںواضح کردوں کے متع سے متعلق ان آیات سے میرا مقصد قطعا یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ متع ان آیات سے حرام قرار پاتا ہے ۔ ان آیات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر 4:24 کے اسمتعتم کو آپ متع کے حلال ہونے کے لئے استعمال کرتے ہیں تو پھر متع جہاںجہاںاستعمال ہوا ہے وہاں اس کا ترجمہ کچھ اور کیوں کرتے ہیں۔ کسی عورت سے وقتی فائیدہ اٹھانے کے لئے اللہ تعالی نے بالکل اجازت نہیں دی ہے ۔ ایسی کوئی اجازت قرآن سے ثابت نہیں۔ مزید یہ کہ ایسا کوئی عمل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت نہیں۔ رسول اللہ صلعم کے متع یعنی وقتی شادی کرنے کوئی روایت نہیں۔ نکاح کے مروجہ طریقہ کے علاوہ عفت و پاکیزگی کی کوئی راہ اللہ تعالی نے تجویز نہیں کی۔ سبحان اللہ ! والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 11-05-09 at 01:35 AM. |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), shafresha (11-05-09), فیصل ناصر (11-05-09), کنعان (16-10-09), چیتا چالباز (11-05-09), نورالدین (25-03-10), مرزا عامر (20-11-11), Wahid Mahmood (05-01-10), علی ولی (16-05-09), عبدالقدوس (22-11-11), عبداللہ حیدر (11-05-09) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق بھائی ذرا درج ذیل آیت کی بھی کچھ تشریح فرمادیں
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ [٢٤:٣٣] اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے سورۃ نساء کی آیت 25 کا آخری جملے میں جو کہا گیا یہ بھی مزید توجہ کا طالب ہے اور یہ کہ صبر سے کام لو تم۔ یہ بہتر ہے تمہارے لیے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), فاروق سرورخان (11-05-09), چیتا چالباز (11-05-09), نورالدین (25-03-10), علی ولی (16-05-09), غلام خان (21-12-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
فیصل بھائی ، سلام
آُ پ آیت 24:33 اور 4:25 کے جن حصوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ خود ہی بہت واضح ہیں اور واضح طور پر صبر کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ یہاں اللہ تعالی نے نکاح کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں صرف اور صرف صبر کی ہدایت کرتی ہیں۔ 24:33 میں تو اللہ تعالی نے خود کسی شخص کی باندی کو استعمال کرنے تک کی اجازت نہیں دی ۔ کجا کے ایک شخص جائے اور کسی آزاد عورت سے بناءمہر کسی قسم کا فائیدہ، کسی ناپاک مقصد کے لئے حاصل کرے۔ صبر ، پاک دامنی، عفت و عصمت کو حفاظت اور مناسب طریقہ سے نکاح کرکے خاندان بنانے کا حکم قرآن کی آیات دیتی ہیں۔ یہی ہم پر فرض ہے ۔ اس میں کسی قسم کے عارضی مزے کی تو علامت مجھے دور دور نظر نہیں آتی۔ امید ہے کہ متع کے حق میں جو لوگ لکھتے اور بولتے ہیں وہ قرآن سے اس حرام عمل کی توثیق ڈھونڈنے کے بجائے قرآن سے ہدایت حاصل کریںگے۔ والسلام |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), shafresha (11-05-09), فیصل ناصر (11-05-09), چیتا چالباز (11-05-09), نورالدین (25-03-10), مسافر (29-10-09), Wahid Mahmood (05-01-10), راجہ اکرام (17-06-09), علی ولی (16-05-09), غلام خان (21-12-10) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے سورۃ النساء 3
فاروق بھائی مذکورہ آیت بھی کچھ دلیل رکھتی ہے کیا ؟ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-11-11), فاروق سرورخان (12-05-09), چیتا چالباز (11-05-09), Wahid Mahmood (05-01-10), علی ولی (16-05-09) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام میں ’’ابغض الحلال‘‘ چیز طلاق ہے۔
یعنی حلال ہونے کے باوجود اللہ کو انتہائی نا پسند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں خاندان کے ادارے کو مضبوط کرنا انتہائی اہم ہے جس پر ایک اچھا معاشرہ اور اور اچھی قوم تشکیل پاتی ہے۔ اس صورت میں اسلامی تعلیمات سے متعہ کا جواز کس طرح ثابت ہو سکتا ہے جس میں مذکورہ مدت کے بعد طلاق تک کی نوبت نہیں آتی۔ اس کے علاوہ اس صورت میں پیدا ہونے والی اولاد وہ توجہ حاصل نہیںکر سکتی جو اس کا حق ہے، اگر اس چیز کو جائز قرار دیا جائے تو معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو گا اور لا وارث بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔۔ ۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا اپ نے پہلی پوسٹ پڑھی ہے؟
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (20-11-11) |
|
|
#15 | |||
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 666
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ ایڈمن بھائی صاحب۔ آپ نے ایک اچھا آرٹیکل پوسٹ کیا ہے جس سے ہر فریق کے دلائل بہت حد تک سامنے آ گئے ہیں۔
میں اپنی کم علمی کے باوجود ان صاحب آرٹیکل کے چند شبہات کا جواب دینا چاہوں گی تاکہ کچھ معاملات میں وہ اپنی اصلاح کر لیں۔ پہلا: محدث دہلوی صاحب کے تخیل کی پرواز ان صاحب (منصور آفاق) صاحب کا اس بات پر کافی زور رہا ہے کہ علامہ نقن صاحب نے شاہ عبدالعزیز صاحب کے اس اعتراض کا جواب نہیں دیا ہے کہ: اقتباس:
اقتباس:
برادران اہلسنت کی فقہ کے مطابق کنیز باندی سے اسکا آقا ہمبستری کر سکتا ہے، اور پھر [متعہ کی طرح عارضی و وقتی تعلقات کے بعد] اگلے آقا کو بیچ سکتا ہے جو ایک ماہوراری گذرنے کے بعد اُس کنیز باندی سے ہمبستری کر سکتا ہے، اور پھر اسے تیسرے آقا کو بیچ سکتا ہے۔ پچھلی صدیوں میں اہل تشیع کے ہاں تو عقد متعہ رائج تھا، مگر اہلسنت کے ہاں سوداگروں اور امراء کو طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جس علاقے میں ٹہرتے تھے وہاں کنیزیں خرید کر ہمبستری کرتے تھے اور جاتے ہوئے انہیں آگے بیچ دیتے تھے۔ اب بتلائیے کہ پیچھے اگر ان کنیز باندیوں کی اولادیں ہوتی رہیں تو (۔۔۔۔ تخیل کی وہ پرواز آپ خود پوری کر لیں جو کہ شاہ صاحب عقد متعہ کی صورت میں کر رہے تھے۔۔۔) اب اگر شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی انصاف کی بات کرتے تو انہیں اس چیز میں 100 فیصدی تمام وہی نقائص نظر آ جاتے جو کہ وہ عقد متعہ میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ افسوس کہ انکی تخیل کی پرواز اس صورت میں فقط عقد متعہ پر جا کر رک گئی۔ اور افسوس کہ منصور آفاق صاحب بھی اس مسئلے میں شاہ صاحب کو پکڑ نہ سکے اور اس سادہ اور آسان سے معاملے میں انہوں نے شاہ صاحب کی ہمنوائی کی۔ لوگوں کے شریعت کے اصولوں کے غلط استعمال سے شریعت کے اصول حرام نہیں ہو جاتے سنن ابو داؤد کی یہ روایت دیکھئیے: اقتباس:
[القرآن 24:33]۔۔۔ اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن (یا حفاطتِ نکاح میں) رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہو جانے کے بعد (بھی) بڑا بخشنے والا مہربان ہے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عقد متعہ امت پر اللہ کی رحمت اور احسان تھا کہ جس کی مدد سے انسان اپنے آپ کو گناہ سے بچاتا اور مولا علی علیہ السلام فرماتے رہے کہ اگر اس عقد متعہ کو حرام نہ کر دیا جاتا تو کوئی زنا نہ کرتا سوائے شقی القلب شخص کے۔ چنانچہ اگر کوئی بدبخت شخص اس چیز کا غلط استعمال کرنا چاہتا ہے تو قصوروار وہ شخص بذات خود ہے نہ کہ شریعت کا کوئی اصول۔ |
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مہوش علی کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| فروخت, فرض, کتابوں, کراچی, پاک, پسند, واقعات, قید, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نظر, مکہ, میراث, ماں, ایران, تلاش, تعلیم, خدا, دریافت, طلاق, عورت, عقد, صحابہ, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| :::::تین کاموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے قسم اٹھائی ::::: | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 7 | 14-12-09 02:17 PM |
| ،راہ ھدایت پر وہی شخص ہے جس کا ایمان وعقیدہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان وعقیدہ کے موافق رہے | sahj | اخلاق و آداب | 0 | 18-11-09 02:39 PM |
| ضربِ کلیم (مکمل مجموعہ کلام ( | راجہ صاحب | شعر و شاعری | 28 | 15-04-08 07:07 PM |
| کوئٹہ کے بارونق بازار میں بم دھماکا،نوعمر لڑکا ہلاک ،10افراد زخمی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 18-12-07 07:25 AM |