واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > ازدواجی زندگی



ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی


محبت کا اسلامی حل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-08-09, 04:08 PM   #1
محبت کا اسلامی حل
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 12-08-09, 04:08 PM

ٹی وی، کیبل، ڈش اور انٹرنیٹ نے ہماری معاشرتی اقدار کو تیزی سے بدل کر رکھ دیا ہے۔ شہوت انگیز ماحول اور شہوانی فلم، ڈرامے جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ رہی سہی کسر موبائل فون نے پوری کر دی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے منافع کے لیے دلفریب پیکیج پیش کرتی ہیں اور نوجوان نسل میں غلط ذہنیت کو پروان چڑھاتی ہیں۔ اختلاط اور بات چیت کے وسائل عام ہونے کی وجہ سے "محبت" کا مرض عام ہے جس کے نتیجے میں اولاد اپنی پسند کے پیچھے بھاگتی ہے جبکہ والدین اپنی مرضی کرنا چاہتے ہیں، دونوں کے نکتہ نظر میں شدت کی وجہ سے اکثر گھروں میں رشتے طے کرتے وقت ناچاقی اور بے سکونی عام ہوتی جا رہی ہے۔ امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب “الجواب الکافی لم سال عن الدواء الشافی” میں "محبت" کے موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی ہے جس میں اولاد اور والدین دونوں کے لیے سوچنے کا سامان ہے۔ مناسب اضافوں کےساتھ اس کی تلخیص ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔
عشق و محبت کے تین درجے ہوتے ہیں:
ابتدائی درجہ، درمیانی درجہ اور آخری درجہ
ابتدائی درجے میں اس پر قابو پانا بعد کے مراحل سے آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے اس آزمائش میں مبتلا کرے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اسے ہر ممکن طریقے سے دفع کرنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی طرف توجہ کرے اور گناہ کے کاموں کی طرف توجہ کرنے کی بجائے مساجد میں دل لگائے اور صالحین کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر دے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتے ہوئے اس مصیبت سے اسے نجات دے۔لیکن اگر اس کا دل قابو میں نہ ہو اوراس کی رغبت بڑھتی جائے تو اس پر لازم ہے کہ حال دل کو لوگوں کے سامنے افشاء نہ کرے۔ محبوب سے رابطہ کر کے اس کی رسوائی اور بدنامی کا سبب نہ بنے ۔ اس لیے کہ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں کا فلاں کے ساتھ کوئی معاملہ ہے تو ہزار میں سے نو سو ننانوے بلا تحقیق کیے اس کی تصدیق کرنے والے اور اسے پھیلانے والے بن جاتے ہیں اور فریق دوم کی نیک نامی اور عزت بلا وجہ خاک میں مل جاتی ہے۔ ایسا کرنا بڑا ظلم ہے جو بسا اوقات مالی نقصان سے زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے۔
ان لوگوں سے بچے جو معمولی مفادات یا جھوٹی دوستی نباہنے کے لیے محب اور محبوب کے درمیان ناجائز ملاقات کا انتظام کرتے ہیں۔ ایسے منتظمین کو اللہ کا خوف کرنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے کے درمیان واسطہ بننے والے پر لعنت کی گئی ہے تو اس کا حال کیا ہو گا جو حرام ملاقاتوں (Dates)کا انتظام اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس کے اس فعل کی وجہ سے کتنے گھر برباد ہو جاتے ہیں، میاں بیوی، بہن بھائی، باپ بیٹی کا ایک دوسرے پر اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ اس والد کو وہ قیامت کے دن کیا جواب دے گا جس کی اولاد اس کی وجہ سے غلط راستے پر چل پڑی۔
محبت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو اجرو ثواب کا سبب ہے یعنی اپنی بیوی سے محبت کرنا۔ یہ محبت نکاح کے مقاصد کو پورا کرنے میں مددگار ہو نے کی وجہ سے فائدہ مند ہے۔ نظر اور عزت کی حفاظت کا سبب ہے اور دل کو حرام چیزوں کی طرف مائل ہونےروکتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جب کوئی خوبصورت لیکن غیر محرم چہرہ دل میں جگہ بنا لیتا ہے ۔ اگر وہ شخص اسے اپنے تک محدود رکھے تو اس پر کوئی پکڑ نہیں۔ایک شخص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا “امیر المومنین، میں نے ایک خاتون کو دیکھا اور مجھے اس سے عشق ہو گیا ہے” تو انہوں نے جواب دیا “اس امر پر تیرا کوئی قابو نہیں”۔
اس کا بہترین اور جائز حل نکاح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ(صحیح بخاری کتاب النکاح باب من لم یستطع الباءۃ فلیتزوج)
"اے نوجوانوں کے گروہ! تم میں سے جو کوئی قوت رکھتا ہو وہ تو نکاح کرے کیونکہ وہ نظر کو نیچا کرتا ہےاور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے”۔
والدین اور سرپرستوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ صنف مخالف کی کشش اللہ نے فطرت میں رکھی ہے جسے زور زبردستی سے دبانا مزید مفاسد کو جنم دے سکتا ہے۔ معقول وجوہات اور شرعی عذر نہ ہو تو معاملے کو طول دینے کی بجائے دونوں کا نکاح کر دینا ہی مسئلے کا بہترین حل ہے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ کسی راستے سے گزر رہے تھے۔ اتفاق سے کسی خاتون کی آواز ان کے کان میں پڑی جو عشقیہ اشعار پڑھ رہی تھی۔ معلوم ہو اکہ وہ محمد بن قاسم بن جعفر بن ابی طالب سے محبت کرتی ہے تو ان دونوں کے نکاح کا انتظام کر دیا۔ عدالتی نکاح کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بڑا سبب نوجوان نسل کی سرکشی کے علاوہ والدین کی بے جا ضد اور انا پرستی بھی ہے۔نوجوانوں کو سمجھانے والے بہت ہیں اس لیے میں اس پر گفتگو کرنے کی بجائے والدین سے کہنا چاہوں گا کہ اگر کوئی شرعی عذر یا جائز اعتراض موجود نہیں تو اپنی غیرت اور اناکو دین کے تابع کیجیے اور مسئلے کے اسلامی حل یعنی نکاح میں رکاوٹ نہ ڈالیے۔ مفاسد کو رفع کرنے اور اولاد کو ساری زندگی کے ذہنی کرب سے بچانے کا اس سے اچھا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 12-08-09 at 04:23 PM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1348
Reply With Quote
24 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
bashirahmed98 (03-10-10), Bhatti (02-10-10), sahj (12-08-09), shafresha (03-10-10), ھارون اعظم (28-08-10), نورالدین (04-10-10), ملک بھائی (03-09-09), محمد عاصم (03-10-10), محمدمبشرعلی (02-10-10), محمدخلیل (02-10-10), مرزا عامر (02-10-10), ام طلحہ (13-08-09), ابو عمار (12-08-09), احمد نذیر (29-10-10), احمد بلال (03-10-10), تفسیر حیدر (13-08-09), حیدر (29-10-10), حسنین ایوب (31-08-09), راجہ اکرام (03-10-10), سحر (01-09-09), شمشاد احمد (06-10-10), عبدالقدوس (02-10-10), عبداللہ آدم (04-10-10), غلام خان (04-10-10)
پرانا 12-08-09, 04:48 PM   #2
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 66,074
شکریہ: 6,147
2,304 مراسلہ میں 5,840 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عبداللہ بھائی بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔ اللہ ہمیں اسے سمجھنے کی توفیق دیں۔ آمین

ویسے اس کا 'آخری درجہ' کونسا ہے ؟
ابو عمار آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), مرزا عامر (02-10-10), احمد بلال (03-10-10), راجہ اکرام (03-10-10), شمشاد احمد (06-10-10), عبداللہ آدم (04-10-10), عبداللہ حیدر (12-08-09)
پرانا 12-08-09, 05:00 PM   #3
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,428
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ بھائی، آپ نے جو نکتہ اٹھایا ہے اس کا جواب ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے اشارتا دیا ہے کہ مقام ابتداء شروع کی کیفیت ہے، پھر جب محبوب کی طرف سفر کیا جائے تو یہ علامت ہے کہ مرض پہلے سے بڑھ کر درجہ متوسطہ میں پہنچ گیا ہے اور اس کے بعد کی کیفیات آخری درجے میں‌ آتی ہیں۔ امام صاحب نے کتاب کے اس مقام پر مقام انتہاء کی نشانیاں‌بیان نہیں‌کیں۔ اصل عبارت یہ ہے:
مقام ابتداء ومقام توسط ومقام انتهاء فأما مقام ابتدائه فالواجب عليه مدافعته بكل ما يقدر عليه إذا كان الوصول الى معشوقه متعذرا قدرا وشرعا فإن عجز عن ذلك وأبى قلبه إلا السفر الى محبوبه وهذا مقام التوسط والإنتهاء فعليه كتمانه ذلك وأن لا يفشيه الى الخلق ولا يشمت بمحبوبه ولا يهتكه بين الناس
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), مرزا عامر (02-10-10), ابو عمار (12-08-09), احمد بلال (07-09-09), تفسیر حیدر (13-08-09), شمشاد احمد (06-10-10), عبداللہ آدم (04-10-10)
پرانا 31-08-09, 03:37 AM   #4
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھا لکھا ہے شکریہ
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), عبداللہ حیدر (03-09-09)
پرانا 02-10-10, 08:39 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 175
کمائي: 456
شکریہ: 75
56 مراسلہ میں 97 بارشکریہ ادا کیا گیا
Bhatti کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Bhatti کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

bahut acha likha bhai ap ne
esa thory hi log sochty hain
pta nhi kion ham khud ko muslman kehty hain aur apni beti ya behan ki shadi k waqt hamain musalman ki nhi balkeh apny ham qom ki zaroorat hoti hy chahy wo jesa bi ho
ham bechoon ki zindgi bhi khud guzarna chahty hain so apny faislay un per thopty hin
Bhatti آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Bhatti کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), عبداللہ آدم (04-10-10)
پرانا 02-10-10, 09:03 PM   #6
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Bhatti مراسلہ دیکھیں
bahut acha likha bhai ap ne
esa thory hi log sochty hain
pta nhi kion ham khud ko muslman kehty hain aur apni beti ya behan ki shadi k waqt hamain musalman ki nhi balkeh apny ham qom ki zaroorat hoti hy chahy wo jesa bi ho
ham bechoon ki zindgi bhi khud guzarna chahty hain so apny faislay un per thopty hin
السلام علیکم

ان باتوں کا جواب ہر کوئی جب خود 40 سال کی عمر کے بعد اسی منطق تک پہنچتا ھے تو جانتا ھے، اس سے پہلے نہیں، یہ جاننے کے لئے اس وقت تک انتظار فرمائیں۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), مرزا عامر (02-10-10), احمد بلال (03-10-10), شمشاد احمد (06-10-10), عبدالقدوس (02-10-10)
پرانا 02-10-10, 09:49 PM   #7
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,332
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

ان باتوں کا جواب ہر کوئی جب خود 40 سال کی عمر کے بعد اسی منطق تک پہنچتا ھے تو جانتا ھے، اس سے پہلے نہیں، یہ جاننے کے لئے اس وقت تک انتظار فرمائیں۔

والسلام
کیا ہی اچھا ہو اگر آپ ہمارے 40 سال بچا دیں
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), فیصل ناصر (03-10-10), کنعان (02-10-10), محمدمبشرعلی (03-10-10), محمدخلیل (02-10-10), مرزا عامر (02-10-10), احمد بلال (03-10-10), راجہ اکرام (03-10-10), شمشاد احمد (06-10-10), عبداللہ آدم (04-10-10)
پرانا 02-10-10, 10:32 PM   #8
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالقدوس مراسلہ دیکھیں
کیا ہی اچھا ہو اگر آپ ہمارے 40 سال بچا دیں
السلام علیکم بھائی

میں نے اپنے 40 سال والدہ کے فیصلہ پر قربان کر دئے تھے اور الحمد اللہ والدہ کا فیصلہ درست تھا جو ان کی دعاؤں سے اللہ سبحان تعالی نے دنیا کی ہر نعمت سے نوازہ۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), مرزا عامر (02-10-10), احمد بلال (03-10-10), راجہ اکرام (03-10-10), شمشاد احمد (06-10-10)
پرانا 02-10-10, 10:39 PM   #9
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,833
شکریہ: 7,285
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر لڑکا لڑکی کی اپس میں دوستی ہوتی ہے اور وہ ملتے بھی ہیں پر وہ غلط کام نہیں کرتے
تو اسکے بارے مین خیال کیسا ہے؟
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), کنعان (02-10-10), مرزا عامر (02-10-10), احمد بلال (03-10-10)
پرانا 02-10-10, 11:06 PM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم محترم خلیل بھائی

بھائی جن کی نیت صاف (شادی کرنے کی) ہوتی ھے وہ ہمیشہ پاک ہی رہتے ہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر کسی کو کوئی اچھا لگے تو اس کے اس سے اظہار کیا جائے والدین سے اپنی خواہش کا اظہار کیا جاتا ھے وہی بہتر جانتے ہیں کہ اولاد کے حق میں کونسا فیصلہ درست ھے اور ان کے فیصلہ کو سرخم تسلیم کرنا فائدہ مند ہوتا ھے۔
میری فیملی میں میری 3 جگہوں پر دونوں والدین کی مرضی سے دادا جان کے حکم سے بات پکی ہوئی جب میں تعلیمی مراحل سے گزر رہا تھا، اب لڑکیاں چونکہ جلدی جواب ہو جاتی ہیں اور ان کے والدین کو خاندان سے ہی جو مجھ سے بڑے کزن تھے اور برسر روزگار ہوتے گئے تو دادا جان کے ساتھ سارے مسئلوں پر سوچ وچار سے ان کی شادیاں میرے دوسرے کزن سے ہوتی گئیں۔ وہ میری اب بھی بہنیں ہی ہیں اور انہیں بہنیں کہنے میں مجھے کسی طرح سے کوئی شرمندگی نہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), ناصحی (03-10-10), محمدخلیل (02-10-10), مرزا عامر (02-10-10), احمد بلال (03-10-10)
پرانا 03-10-10, 01:11 AM   #11
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس موضوع کو سرورق کے لیے پیش کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), فیصل ناصر (03-10-10), عبداللہ آدم (04-10-10)
پرانا 03-10-10, 01:52 AM   #12
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
میری فیملی میں میری 3 جگہوں پر دونوں والدین کی مرضی سے دادا جان کے حکم سے بات پکی ہوئی [/
میں آپکی situation پر کمنٹ تو نہیں کر سکتا اور نہ ہی سمجھیں کہ میں ایسا کر رہا ہوں لیکن میرے خیال میں اکثرپاکستانی خاندانوں میں بچوں کی شادی Arrange کرنے کے دوران والدین اور خاندان کے دوسرے قریبی رشتہ دار، لڑکے اور لڑکی سے زیادہ اپنے مستقبل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔والدین یا خاندان کے کسی شخص کو غیر خود غرضانہ مدد، ہدایت اور مشورے سے زیادہ داخل اندازی سے گریز کرنا چاہیے۔
__________________

Last edited by ناصحی; 03-10-10 at 03:03 AM. وجہ: Typos correction
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-10), کنعان (03-10-10), احمد بلال (03-10-10), شمشاد احمد (06-10-10), عبداللہ آدم (04-10-10)
پرانا 03-10-10, 02:19 AM   #13
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

جناب میں نے جو اپنی صورت حال لکھی تھی وہ بالکل کلیئر تھی اور اسے پاکستان میں پروان چڑھنے والے آسانی سے سمجھ بھی سکتے ہیں۔ ایک لڑکی اگر اس کے گھر والوں کی طالب علمی کے زمانہ میں کہیں بات ہوئی ہوئی ھے تو اسی دوران اگر لڑکی کے گھر والوں کو کسی برسرروزگار کا رشتہ مل رہا ھے تو پھر وہی اچھا ھے کہ انتظار کیا جائے کہ کب تعلیم مکمل کرے گا اور کب روزگار کے قابل ہو گا اور اکثر روزگار کے قابل ہونے کے بعد بہت سے انکار بھی کر دیتے ہیں پھر اس لڑکی کا کیا ہو گا، ایسے بھی ہوتا ھے۔ یہ خود غرضی نہیں بلکہ وہ خود غرضی ھے جو انتظار کے بعد چھوڑ دے۔ شادی تو میری پھر بھی خاندان میں ہی ہوئی تھی جب برسرروگار ہوا تھا اور وہ بھی والدین اور بزرگوں کی پسند پر۔ والدین جو ساری زندگی اپنی اولاد کی پرورش سے لے کر اسے اعلی مقام دلانے میں وقف کر دیتے ہیں پہلے ان کا حق ھے، اگر آپکی نظر میں یہ خود غرضی ھے تو وہی سہی۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
گلاب خان (03-10-10), نورالدین (04-10-10), مرزا عامر (03-10-10), شمشاد احمد (06-10-10), عبدالقدوس (03-10-10)
پرانا 03-10-10, 02:38 AM   #14
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق پر پیش کردیا گیا
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (06-10-10)
پرانا 03-10-10, 03:12 AM   #15
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,451
کمائي: 93,744
شکریہ: 1,502
2,954 مراسلہ میں 8,194 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم محترم خلیل بھائی

بھائی جن کی نیت صاف (شادی کرنے کی) ہوتی ھے وہ ہمیشہ پاک ہی رہتے ہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر کسی کو کوئی اچھا لگے تو اس کے اس سے اظہار کیا جائے والدین سے اپنی خواہش کا اظہار کیا جاتا ھے وہی بہتر جانتے ہیں کہ اولاد کے حق میں کونسا فیصلہ درست ھے اور ان کے فیصلہ کو سرخم تسلیم کرنا فائدہ مند ہوتا ھے۔
میری فیملی میں میری 3 جگہوں پر دونوں والدین کی مرضی سے دادا جان کے حکم سے بات پکی ہوئی جب میں تعلیمی مراحل سے گزر رہا تھا، اب لڑکیاں چونکہ جلدی جواب ہو جاتی ہیں اور ان کے والدین کو خاندان سے ہی جو مجھ سے بڑے کزن تھے اور برسر روزگار ہوتے گئے تو دادا جان کے ساتھ سارے مسئلوں پر سوچ وچار سے ان کی شادیاں میرے دوسرے کزن سے ہوتی گئیں۔ وہ میری اب بھی بہنیں ہی ہیں اور انہیں بہنیں کہنے میں مجھے کسی طرح سے کوئی شرمندگی نہیں۔

والسلام
مجھے آپ کی بات سے پورا اتفاق ہے، میں اس میں‌ اتنا اضافہ کرتا ہوں کہ والدین کی رضا میں‌ اللہ کی رضا ہوتی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ والدین کی مرضی پر ہاں کردی جائے تو اس سے بہتر کوئی فیصلہ نہیں۔
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
گلاب خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (03-10-10), شمشاد احمد (06-10-10), عبدالقدوس (03-10-10)
جواب

Tags
arabic, color, پسند, نظر, موبائل, ممکن, محبت, معلوم, اللہ, انٹرنیٹ, اسلامی, اشعار, بہترین, بھائی, جواب, حل, حال, رشتے, زندگی, سفر, سال, شخص, عزت, صالحین, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger