واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > ازدواجی زندگی



ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی


نكاح، طلاق اور حلالہ ۔ بحث كا مختصر خلاصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-10-10, 05:22 PM   #1
نكاح، طلاق اور حلالہ ۔ بحث كا مختصر خلاصہ
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 26-10-10, 05:22 PM

نکاح۔ طلاق اور حلالہ ۔
بحث كا مخصر خلاصہ


نکاح و طلاق کے احکامات پورے قرآن کریم میں بہت سی آیات میں آئے ہیں مگر ان مذکورہ بالا آیات میں طلاق کے معامہ میں اہم ضابطوں کو بیان کیا گیا ہے اس لئے ان کو سمجھنے سے قبل نکاح کی شرعی حیثیت سمجھ لینا مفید رہے گا۔

نکاح کی شرعی حیثیت

نکاح کی ایک حیثیت تو ایک معاملے اور باہمی معاہدے کی سی ہے۔ جیسے عام طور پر دو انسان خرید و فروخت اور لین دین کے معاملات کرتے ہیں۔ اسی طرح نکاح بھی ایک معاملہ ہے۔جو دو انسانوں کے درمیان طے پاتا ہے۔

نکاح کی دوسری حیثیت ایک سنت اور عبادت کی ہے۔ اس پر تو تمام امت کا اتفاق ہے کہ نکاح عام معاملات و معاہدات سے بالاتر ایک شرعی عبادت اور سنت کا درجہ رکھتا ہے۔ فقہاء امت میں سے بہت سے آئمہ حضرات کے نزدیک نکاح میں معاملہ اور معاہدہ کی حیثیت سے زیادہ عبادت اور سنت کی حیثیت غالب ہے اور قرآن و سنت سے اس پر متعدد دلائل موجود ہیں۔

اسی لئے نکاح کے منعقد ہونے کے لئے قرآن و سنت اور اجماع امت کے مطابق کچھ ایسی شرائط ضروری ہیں جو عام خرید و فروخت یا دوسرے معاہدات میں نہیں ہوتی ہیں۔ مثلا۔
(۱)۔۔۔۔۔۔نکاح صرف مرد اور عورت کے درمیان ہی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ مرد کا مرد سے۔ یا عورت کا عورت سے نکاح نہیں ہوتا۔

(۲)۔۔۔۔۔نکاح ہر مرد اور عورت کے درمیان بھی نہیں ہو سکتا۔ اس میں شریعت کے مستقل احکامات ہیں جن کے مطابق بہت سے مردوں کا بہت سی عورتوں سے نکاح نہیں ہو سکتا۔
(۳)۔۔۔۔ دیگر تمام معاملات و معاہدات کے منعقد اور مکمل ہونے کے لئے کوئی گواہی شرط نہیں۔ ان معاملات و معاہدات میں گوای کی ضروت اس وقت پڑتی ہے جب فریقین میں اختلاف ہو جائے۔۔۔ لیکن نکاح ایسا معاملہ ہے کہ اس کے منعقد ہونے کے لئے بھی گواہوں کا سامنے ہونا شرط ہے۔ اور اگر مرد و عورت بغیر گواہوں کے آپس میں نکاح کر لیں، اور دونوں میں کوئی فریق کبھی اختلاف و انکار بھی نہ کرے تب بھی ان کا نکاح شرعا نہیں ہو گا۔ تا وقتیکہ وہ نکاح ( ایجاب و قبول )کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نہ کریں۔ ۔ اس حوالے سے سنت یہ ہے کہ نکاح اعلان عام کے ساتھ کیا جائے اس کو پوشیدہ طور پر نہ کیا جائے اور نہ رکھا جائے۔۔۔غرض اور بھی نکاح کے لئے متعدد شرائط اور آداب ہیں جو معاملہ نکاح کے لئے ضروری یا مسنون ہیں۔۔

قرآن و سنت کی بیان کردہ ان شرائط و آداب کو کما حقہ ملحوظ خاطر رکھنا ایک مسلمان کے لئے لازمی ہے۔۔ لیکن اگر ان تمام امور کو مد نظر رکھا بھی جائے تب اسلامی شریعت کی روس سے نکاح کرنا اس قدر آسان اور سیدھا سادہ عمل ہے کہ غیر مسلم اس پر یقین نہیں کریں۔۔ غیر مسلم کیا، ہو سکتا ہے آج کے مسلمانوں کو اس پر مشکل سے یقین آئے۔۔۔ کیونکہ ایک طرف آج کل شادی بیان میں ہونے والی خرافات اور خود ساختہ رسوم کے شکنجہ میں یہ امت اس طرح جکڑی ہوئی ہے کہ اس کو ان رسومات کی ادائیگی کو کم از کم عملا بہر حال ضروری سمجھتی ہے۔ دوسری طرف اسلامی قوانین اور احکامات سے نا بلد ہوتی جا رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے ۔ جس چیز کو اللہ تعالی نے اتنا آسان اور مبارک بنایا تھا اسی کو ہم نے اپنے لئے وبال جان بنا لیا ہے۔ اور اس سے اس قدر دور نکل آئے ہیں زہ اب وہ ہمیں بیگانہ سی لگتی ہے۔

بہر حال کسی کو یقین آئے یا نہ آئے مگر حقیقیت واقعہ یہی ہے کہ قرآن و سنت کی رو سے صرف دو گواہوں کی موجودگی میں ایک مرد اور عوت بذات خود یا بالواسطہ طور پر ایجاب و قبول کر لیں تو نکاح صحیح ہو جائے گا۔۔ اب وہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے ہیں اور میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔
آج کل کی طرح انہیں کسی لمبی چوڑی کاروائی رسوم و رواج کی ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ ہی انہیں کسی قاضی کی عدالت، مولوی کی رجسٹریشن، وکیل کی وکالت، عدالت کے فیصلے ، ۔۔۔۔ وغیرہ کی ضرورت ہے۔۔ بس نکاح کیا بقدر استطاعت سنت کے مطابق ولیمہ کیا۔ اور بس۔۔

چنانچہ ختلف احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دور میں نکاح بالکل آسان طور پر اور بغیر کسی تیاری کے انتہائی سادگی کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ ادھر رشتہ منظور ہوا ادھر اسی مجلس میں نکاح بھی ہو گیا۔ نہ منگنی کے نام پر رسومات ہیں۔ نہ بارات کے نام پر بدتمیزیاں اور نہ ہی کھانے اور لباس پر اخراجات ہیں۔ اور نہ ہی تمام رشتہ داروں اور دوست ا حبات کی شرکت لازمی ہوتی تھی۔ نہ بریانی کی دیگیں اترتی تھی۔ نہ سلامیاں وصول ہوتی تھیں ۔۔ نہ ہی بوڑھے والدین کو ظالموں کے پاس اپنی جائیداد رہن رکھنی پڑتی تھی اور نہ ہی قرض کے بوجھ تلے بوڑھے کندوں تو مزید نا تواں کیا جاتا تھا۔۔ عہد رسالت ميں اس قسم كے سادہ نكاحوں كي عمام مثاليں ملتي ہيں۔ طولت كے خوف سے ميں ان كا تذكرہ نہيں كرتا۔ بطور نمونہ صرف دو واقعات كا تذكرہ كرنا مناسب سمجھوں گا۔

پہلا واقعہ حضرت عبد ارحمن بن عوف كا ہے جو كے بخاري شريف كي حديث نمبر 1921 ميں درج ہے اور بخاري كتاب النكاح ميں بھي موجود ہے۔۔ بخاري كتاب النكاح ميں ہي حضرت حفصہ رضي اللہ تعالي عنہا كے نكاح كا واقعہ بھي ملتا ہے كہ كس طرح حضرت عمر نے حضرت ابو بكر صديق اور حضرت عثمان سے اس نكاح كا تذكرہ كيا اور كس سادگي سے حضور كا يہ نكاح ہوا۔ اسي طرح حضرت اسم سلمہ كا واقعہ ہميں نسائي شريف ميں ملتا ہے كہ كس طرح سادگي سے حضور صلي اللہ عليہ والہ وسلم سے انھوں نے نكاح كيا۔

عبد الرحمن بن عوف رضي اللہ تعالي عنہ كے نكاح كي سادگي
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ آخَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ إِنِّي أَکْثَرُ الْأَنْصَارِ مَالًا فَأَقْسِمُ لَکَ نِصْفَ مَالِي وَانْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ هَوِيتَ نَزَلْتُ لَکَ عَنْهَا فَإِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِکَ هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيهِ تِجَارَةٌ قَالَ سُوقُ قَيْنُقَاعٍ قَالَ فَغَدَا إِلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَی بِأَقِطٍ وَسَمْنٍ قَالَ ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَمَنْ قَالَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ کَمْ سُقْتَ قَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
ترجمہ:
عبدالعزیز بن عبداللہ ، ابراہمث بن سعد اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہںن حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بانن کاٍ کہ جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ نے مرزے اور سعد بن ربعَ کے درماعن بھائی چارہ کر دیا، سعد بن ربعْ نے کہا مںً انصار مںه زیادہ مالدار ہوں اس لئے مںن اپنا آدھا مال تجھ کو دیتا ہوں اور دیکھ لو مر ی جو بوہی تمہں پسند آئے مںر اس کو تمہارے لئے چھوڑ دوں، جب وہ عدت سے فارغ ہو جائے تو تم اس سے نکاح کر لو، عبدالرحمن نے کہا مجھے اس کی ضرورت نہںَ یہاں کوئی بازار ہے جہاں تجارت ہوتی ہے، انہوں نے کہا قینقاع کا بازار ہے چنانچہ عبدالرحمن وہاں گئے اور پنرل و گھی لے کر آئے پھر برابر صبح کو جانے لگے کچھ دن ہی گزرے، تو عبدالرحمن اس حال مںح آئے کہ ان پر زردی کا اثر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علہے وسلم نے پوچھا کاا تم نے شادی کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! آپ نے پوچھا کس سے؟ کہا کہ ایک انصاری عورت سے، آپ نے پوچھا، مہر کتنا دیا، کہا کہ گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علہٍ وسلم نے فرمایا کہ ولمہر کرو، اگرچہ ایک بکری ہی کونں نہ ہو۔
اس حديث ميں جو سب سے بڑا سبق مل رہا ہے وہ يہ كہ نكاح كے موقع پر دور اور نزديك كے تمام رشتہداروں كو تو دركنار خود اپنے بزرگوں تك كو بلانا بھي ضروري نہيں سمجھا جاتا تھا۔ ورنہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضي اللہ تعالي عنہ جيسے جليل القدر صحابي رسو ل اللہ صلي اللہ عليہ والہ وسلہ كے بغير نكاح كرتے۔۔۔ حضور كو عبد الرحمن كے نكاح كي اطلاع ان كے ہاتھ كي زردي ديكھ كر ہوتي ہے۔

دوسرا واقعہ حضرت ابو درداء رضي اللہ تعالي عنہ كا ہے۔

واقعہ يہ ہے كہ حضرت ابو درداء حضرت سلمان فارسي كے ساتھ ايك قبيلے ميں سلمان فارسي رضي اللہ تعالي عنہ كے نكاح كا پيغام لے كر گئے۔ اور جس گھر ميں رشتہ كرنا تھا اس ميں ابو درداء داخل ہوئے جب كہ سلمان فارسي باہر ہي رہے۔ ابو درداء نے سلمان كے فضائل بيان كئے كہ وہ كس طرح اسلام لائے اور اس سلسلے ميں كيا كيا مشتيں برداشت كيں۔ پھر ان كے پيغام نكاح گھر والوں كو پہنچايا كہ وہ آپ كي فلاں لڑكي سے نكاح كرنا چاہتے ہيں۔ تو انھوں نے كہا كہ ہم اپني لڑكي كا بياہ سلمان كے ساتھ نہيں كر سكتے۔ مگر ہاں تمہارے ساتھ كرنے كے لئے تيار ہيں۔ تو اسي وقت گھر كے اندر ہي فورا نكاح ہو گا۔ پھر وہ باہر نكلے اور سلمان سے كہا كہ اس موقع پر ايك ايسي بات ہو گئي ہے كہ اس كا ذكر كرتے ہوئے ميں شرمندگي محسوس كر رہا ہوں۔ انہوں نے پوچھا كہ آخر بات كيا ہے؟ تو ابو درداء نے واقعہ سنايا اس پر حضرت سلمان فارسي نے كہا كہ ميں اس بات كا زيادہ مستحق ہوں كہ ميں تم سے شرمندگي محسوس كر وں۔كيونكہ پيغام تو ميں نے ديا تھا مگر وہ تمہارے مقدر كي چيز تھي۔ (مجمع الزوائد)
طلاق

نکاح کی اجمالی حقیقت معلوم کررنے کے بعد طلاق کو سمجھنا انشاء اللہ آسان ہو جائے گا۔۔۔ طلاق کا حاصل ۔ یا طلاق کا مطلب کیا ہے؟۔۔۔ طلاق کا مطلب نکاح کے معاملے کو ختم کرنا ہے۔

جس طرح اسلامی شریعت نے نکاح کے معاملے اور معاہدے کو ایک عبادت کی حیثیت دے کر عام معاملات و معاہدات کی سطح سے بلند رکھا ہے اور بہت سی پابندیاں اس پر لگائی ہیں اسی طرح اس معاملہ کا ختم کرنا بھی عام لین دین کے معاملات کی طرح آزاد نہیں رکھا کہ جب جس کا دل چاہا اس معاملہ کو ختم کر دیا اور کسی دوسرے سے نکاح کا معاملہ کر لے۔۔۔ بلکہ اللہ تعالی نے اس نکاح کو ختم کرنے کا ایک خاص حکیمانہ قانون بنایا ہے جس کو طلاق کہتے ہیں۔۔

آج کل جوطلاق کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں بے چینی اختلافات اور انتشار پایا جاتا ہے اس کا حقیقی سبب صرف یہی ہے کہ لوگوں نے اسلام کے نظام طلاق کو اس کے صحیح مفہوم میں سمجھا ہی نہیں اور سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنی جہالت کی بنا پر اپنے لئے مسائل کو خود پیدا کرتے ہیں اور بدنام اسلام اور علماء کو کرتے ہیں۔۔

آج کل کے عام مسلمانوں کو علماء کی یاد محض مردے کو غسل دلوانے، نماز جنازہ پڑھوانے، باپ کے مرنے کے بعد میراث سے حصہ ڈھونڈے کے وقت ہی آتی ہے یا پھر نکاح کے وقت ادب سے مولوی کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ طلاق دینے کے بعد مولوی کے پاؤں پکڑ کر بیٹھنے پر تو آمادہ ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن طلاق دینے سے قبل مولوی سے طلاق دینے کا طریقہ پوچھنے کی زحمت گورا نہیں کرتے۔۔ اور ہي خود سيكھنے كا زحمت برداشت كرتے ہيں۔۔۔۔۔ نتيجہ پھي يہي نكلتا ہے كہ طلاق مغلظہ دے كر در در كے ٹھوكريں كھاتے ہيں۔۔۔ جہالت كے ہاتھوں مجبور ہو كر عزت و ناموس كا جنازہ بھي دھوم سے نكلواتے ہيں اور رحمت عالم صلي اللہ عليہ والہ وسلم كي زبان مبارك سے لعنت كے مستحق قرار بھي پاتے ہيں۔۔

نکاح کے حوالے سے اسلامی تعلیمات یا یوں کہیے کہ منشاء خداوندی یہ ہے نکاح کا معاملہ اور معاہدہ عمر بھر کے لئے ہو، اس کے توڑنے اور ختم کرنے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے۔ کیونکہ نکاح کو ختم کرنے کا اثر صرف میاں بیوی پر ہی نہیں پڑتا، بلکہ ان کی نسل اور اولاد کی تباہی و بربادی اور بعض اوقات خاندانوں اور قبیلوں میں فساد تک پہنچ جاتا ہے۔ اور پورا معاشرہ اس سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

اسی لئے شریعت اسلامیہ جو اساب اور وجوہ اس نکاح کو توڑنے کا سبب بن سکتے تھے ان تمام اسباب کو راہ سے ہٹانے کا پورا انتظام کیا ہے۔ میاں بیوی کے ہر معاملے اور ہر حال کے لئے جو ہدایتیں قرآن و سنت میں مذکو ہیں ان سب کا حاصل یہی ہے کہ یہ رشتہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا چلا جائے۔ ٹوٹنے نہ پائے، میاں بیوی میں نا موافقت کی صورت میں اول افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔۔ مسئلہ حل نہ ہو تو زجر و تنبیہ کی جائے۔۔۔ اور پھر بھی اگر معاملہ حل نہ ہو سکے تو خاندان ہی کے چند افراد کو ثالث بنا کر معاملہ طے کرنے کی تعلیم دی ہے۔

وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا ۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِــيْمًا خَبِيْرًا
اور اگر تم کو معلوم ہو کہ مانں بوعی مں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک منصف عورت کے خاندان مںً سے مقرر کرو وہ اگر صلح کر دییه چاہںو گے تو خدا ان مںب موافقت پدِا کر دے گا کچھ شک نہںن کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

اس آیت میں خاندان ہی کے افراد کو ثالث بنانے کا فرمان کس قدر حکیمانہ ہے کہ اگر میاں بیوی کے اختلاف کا یہ معاملہ خاندان سے باہر گیا تو بات بڑھ جانے اور دلوں میں زیادہ بعد پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے۔

لیکن بسا اوقات ایسی صوتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ اصلاح احوال کی تمام تر کوششیں نا کام ہو جاتی ہیں اور تعلق نکاح کے مطلوبہ ثمرات میاں بیوی ، خاندان اور معاشرے کو حاصل نہیں ہو پاتے۔ اور میاں بیوی کا آپس میں ایک ساتھ رہنا ان دونوں کے لئے ہی نہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کے لئے ایک عذاب بن سکتا ہے یا بن جاتا ہے۔

ایسی حالت میں نکاح کے اس رشتہ کو ختم کرنے میں ہی سب کے لئے راحت اور سلامتی بن سکتا ہے۔ اسی لئے شریعت اسلامیہ نے بعض دیگر مذاہب کی طرح یہ نہیں کہا کہ جب ایک بار نکاح ہو گیا تو اب یہ نا قابل تنسیخ ہے۔۔ بس جو بھی ہے جیسا بھی ہے جہاں بھی ہے اب ساری زندگی ایک ساتھ ہی رہنا ہے۔۔۔ بلکہ شریعت نے طلاق اور فسخ نکاح کا قانون بنایا ہے۔ طلاق کا اختیار مرد کو دیا۔ جس میں عادۃ فکر و تدبر اور تحمل کا مادہ عورت سے زیادہ ہوتا ہے۔۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت کو بالکل اس حق سے محروم کر دیا کہ وہ شوہر کے ظلم و ستم سہنے پر ہی مجبور رہے۔ بلکہ عورت کو یہ حق دیا ہے کہ حاکم شرعی کی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کر کے نکاح فسخ کرا سکے۔

اسی طرح شریعت اسلامیہ کی یہ تعلیم بھی نہیں ہے جس کا جب دل چاہے نکاح ختم کر دے۔ جب چاہا دوبارہ شادی کر لی۔ جیسا کہ یورپ امریکہ وغیرہ میں عموما کیا جا رہا ہے۔ اور یہی بد تہذیبی جمہوریت اور حقوق نسواں کے نام پر دوسروں پر مسلط کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی جار ہی ہے۔
بہر حال مختصر یہ کہ شریعت نے نکاح کو ختم کرنے کا اختیار بہر حال دیا ہے اور یہ اختیار مرد کو بھی حاصل ہے اور عورت کو بھی حاصل ہے۔ مگر شریعت کے بتائے ہوئے طریقہ کار کے مطابق۔ چونکہ ہمارا موضوع اس وقت طلاق ہے جس کا تعلق مرد کے نکاح کو ختم کرنے کے حق سے ہے اس لئے عورت کے نکاح کو ختم کرنے کے حق، تنسیخ نکاح۔ یا خلع سے یہاں بات نہیں کروں گا۔۔۔

شریعت نے مرد کو بوقت ضرورت شدیدہ کے نکاح کو ختم کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام نے مرد کو بعض ہدایات دی ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ اس پر بعض پابندیاں عائد کی ہیں۔

(۱)۔۔۔۔ شریعت نے بتا دیا کہ مرد کا طلاق کا اختیار استعمال کرنا اللہ تعالی کے نزدیک بہت مبغوض اور مکروہ ہے صرف مجبوری کی حالت میں اجازت ہے۔
(۲)۔۔۔حالت غیظ و غضب میں یا کسی وقتی اور ہنگامی نا گواری میں اس طلاق کے اختیار کو استعمال نہ کرے۔۔ لیکن اگر کرے گا تو طلاق تو ہی گی مگر گنان بھی ملے گا۔
(۳)۔۔۔ اسی طرح عورت کے ایام ماہوری میں طلاق دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر دی تو طلاق تو ہو گی مگر گناہ گار ہو گا۔
(۴)۔۔۔ معاملہ نکاح کو ختم کرنے کا طریقہ وہ نہیں رکھا گیا جو عام معاملات کو ختم کرنے کا رکھا گیا ہے ۔ ادھر معاملہ ختم ادھر دونوں فریق آزاد جو مرضی ہے کریں چاہے خود ہی دوبارہ معاملہ کر لیں یا فورا کسی دوسرے سے معاملہ کر لیں۔ بلکہ معاملہ نکاح کو ختم کرنے کے لئے پہلے تو اس کے تین درجے تین طلاقوں کی صورت میں رکھے ہیں۔پھر اس پر عدت کی پابندی لگائی ہے۔عدت پوری ہونے تک معاملا نکاح کے متعدد اثرات باقی رہتے ہیں۔ مثلا عورت دوسرا نکاح دوران عدت نہیں کر سکتی۔ اور مرد ذمہ عورت کا نانفقہ دوران عدت ہو گا۔
(۵)۔۔۔ایک یا دو طلاق صریح الفاظ میں دی ہے تو نکاح نہیں ٹوٹا، عدت ختم ہونے سے قبل مرد رجوع کر سکتا ہے۔
(۶)۔۔۔ لیکن یہ رجوع کا اختیار بھی اللہ تعالی نے مرد کو صرف دو طلاق تک محدود رکھا ہے۔ اس کے بعد تیسری طلاق اگر دے دی تو مرد کو رجوع کا اختیار حاصل نہیں ہو گا۔۔ حکیمانہ قانون اللہ تعالی نے عورت کی حفاظت کے لئے بنا رکھا ہے تا کہ کوئی ظالم اور بے قدرا شخص ہمیشہ طلاق دیتا اور رجوع کرتا ہی نہ رہے۔۔ اور اس کی نظر میں بیوی یا عورت کی کوئی قدر و منزلت ہی نہ ہو۔
طلاق دینے کے درست طریقےحضرات فقہاء نے قرآن و سنت کے نصوص کو سامنے رکھتے ہوئے طلاق کے جائز اور نا جائز ہونے کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں کی ہیں۔۔
(۱)۔۔۔ طلاق احسن
مرد اپنی بیوی کو ایسے طہر ( عورت کی پاکی کی حالت ) میں صرف ایک طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو۔ اور اس کے بعد عورت تین حیض عدت گزراے اس طرح دونوں میاں بیوی کو تقریبا تین ماہ سوچ و بچار کاموقع مل جاتا ہے۔۔ اور اگر اس میں بھی وہ فیصلہ نہیں کر سکتے تو بعد میں جب بھی دونوں یہ فیصلہ کر لیں ایک ساتھ رہنے کا دوبارہ نئے ایجاب و قبول اور نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
(۲)۔۔۔ طلاق حسن
مرد اپنی مدخولہ بیوی ( جس سے نکاح کے بعد جماع کیا جا چکا ہو ) کو تین طہروں میں تین طلاقیں ( متفرق طور ) پر دے۔ یعنی ہر طہر میں جماع کئے بغیر ایک طلاق دے۔۔ یہاں بھی اسی طرح دونوں کو عدت کے تین ماہ غور و فکر کرنے اور فیصلہ کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔۔۔ اور اگر اس میں بھی وہ فیصلہ نہیں کر سکتے تو بعد میں جب بھی دونوں یہ فیصلہ کر لیں ایک ساتھ رہنے کا دوبارہ نئے ایجاب و قبول اور نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
(۳)۔۔۔ طلاق بدعت
یہ ہے کہ عورت کو دو یا تین طلاق بیک لفظ یا ایک ہی طہر میں، یا اس طہر میں جس میں عورت سے جماع کر چکا ہو، یا حالت حیض میں طلاق دے۔۔۔ اگر اس نے طلاق بالفاظ دیگر طلاق مغلظہ کبری دے دی تو اب اس کی بیوی اس کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی اور وہ اس وقت تک اس سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح اور جماع نہ کر لے۔( جس کی تفصیل انشاء اللہ حلالہ کی بحث میں آئے گی۔)
طلاق کی ان اقسام میں سے پہلی دو قسمیں جائز ہیں اور تیسری قسم نا جائز ہے۔ بعض فقہاء کے نزدیک حرام اور بعض کے نزدیک مکروہ ہے۔

اسی طرح حضرات فقہاء نے قرآن و سنت کے نصوص کو سامنے رکھتے ہوئے وقوع کے اعتبار سے طلاق کی تین قسمیں کی ہیں۔ یعنی عدت گزر جانے کے بعد عورت اور مرد کی حیثیت کیا رہے گی۔ گویا کہ طلاق کی یہ تین قسمیں وقوع طلاق کے بعد اس کے اثرات اور ان کے نتائج کو ظاہر کرتی ہیں۔

(۱)۔۔۔ طلاق رجعی
وہ طلاق کہلاتی ہے جس کے بعد عورت کی عدت کے اندر مرد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عورت سے رجوع کر لے۔۔ لیکن مرد کو یہ اختیار صرف ایک یا دو طلاقوں تک رہتا ہے۔

(۲)۔۔۔ طلاق بائن یا بائنہ صغری
اگر عورت کو ایک یا دو طلاق رجعی دے کر عدت کے اند اس سے رجوع نہیں کیا تو عدت گزر جانے کے بعد وہ عورت بائن یعنی جدا ہو جاتی ہے۔دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے اجنبی کی حیثیت اختیار کر گئے۔۔۔ لیکن اگر عدت گزرنے کے بعد۔۔ یا ایک عرصہ گزرنے کے بعد وہ دونوں باہمی رضامندی نکاح کرنا چاہیں تو ان کا دوبارہ سے نکاح نئے ایجاب و قبول اور نئے حق مہر کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس طلاق کو بائنہ صغری یعنی چھوٹی جدائی والی بھی کہا جاتا ہے۔

(۳)۔۔۔ طلاق مغلظہ
وہ ہے جس میں تین طلاقیں تین طہروں میں متواتر دے دی جائیں۔ یا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دی جائیں۔ یا ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں دی جائیں۔۔ ایسی عورت طلاق دینے والے مرد پر فوری طور پر اس وقت تک حرام ہو جاتی ہے جب تک کہ وہ اس طلاق دینے والے شوہر کی عدت گزار کر دوسرے کسی شخص سے نکاح کر کے اس کے ساتھ جماع نہ کر لے۔ اور پھر وہ دوسرا شوہر خود ہی کسی وجہ سے اس کو طلاق دے دے یا وہ فوت ہو جائے۔ تو اس کی طلاق کی یا وفات کی عدت پوری کرنے کے بعد اگر دونوں میاں بیوی چاہیں تو نئے ایجاب و قبول اور نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔۔ چونکہ اس طلاق میں بیوی کی جدائی سابقہ شوہر سے زیادہ ہو جاتی ہے اور عموما خواتین واپس پہلے شوہر سے نکاح نہیں کرتی ہیں اس لئے اس طلاق کو بائنہ کبری بھی کہا جاتا ہے۔

سوال:
یہاں ایک سوال عموما بعض نا واقف حضرات کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے کہ۔ جی طلاق تو مرد نے دی اور سزا عورت کی دی جا رہی ہے؟
جواب:
اسلام بیان کردہ مذکورہ نظام طلاق اور اسلام کی دیگر معاشرتی تعلیمات کو سامنے رکھ کر اگر اس کا جائزہ لیا جائے ہر انصاف پسند شخص پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اصل میں یہ سزا عورت کو نہیں مرد کو دی گئی ہے۔۔

کیونکہ اللہ تعالی نے اس کو بیوی جیسی نعمت عطا کی تھی اور اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کا فریضہ مرد کو سونپا گیا تھا۔ اور اگر حالات کے نا موافق ہونے کی وجہ سے اس کو طلاق دینی ہی تھی تو وہ راستہ اختیار کرتا جو کہ طلاق کی پہلی دو قسموں یعنی طلاق رجعی اور طلاق بائن میں اس کو دکھایا گیا ہے۔۔ اور اس کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔۔۔ لیکن اس نے اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کیا اور طلاق مغلظہ دے کر اپنی بیوی کو ہمیشہ ہمیشہ اپنے سے جدا کر لیا۔۔اب دونوں ایک دوسرے کے لئے دو اجنبیوں کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔۔

اور آپ تھوڑا سا تصور کریں اس اسلامی معاشرہ کا جس میں نکاح ثانی کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا ، جس میں طلاق شدہ اور بیوہ خواتین سے نکاح کوئی برائی نہیں سمجھا جاتا۔ ۔ جس میں بیوہ اور طلاق شدہ عورت کو دوسری، تیسری چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتویں۔۔۔۔۔۔ الخ شادی کرنے پر طعنے دینا یا اس کو برا سمجھنا معیوب اور گناہ سمجھا جاتا ہے۔۔ اس اسلامی معاشرہ میں کیا وہ عورت جس کو اس کے سابقہ شوہر نے حدود اللہ سے تجاوز کرتے ہوئے طلاق بدعت، یا طلا ق مغلظہ دے کر اس کو خود سے جدا کر دیا۔وہ واپس اس سابقہ شوہر کے عقد میں جانا پسند کرے گی۔۔ اور اگر چلی بھی جاتی ہے تو یقیناًوہ یہ دیکھ کر جائے گی کہ اب اس کا مرتبہ و مقام شوہر کی نظر میں پہلے سے بہتر ہو گا۔ تب ہی تو اس نے دوبارہ عقد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔۔

باوجود اس کے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی بیوی رہ چکی ہے۔ ۔۔ اورا گر وہ سمجھتی ہو کہ سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جانا اس کے لئے مفید نہیں ہے۔ تو اس پر جبر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔۔اس کو اسی طرح اپنا نکاح سابقہ شوہر سے کرنے یا نہ کرنے کا حق حاصل ہے جس طرح اس کے کنوارا ہونے کے وقت اس کو حاصل تھا۔۔۔مگر آج کے دور میں جو ہم عورت کو مجبور پاتے ہیں اس میں قصور اسلام کے نظام طلاق کا نہیں ہمارے اس غیر اسلامی معاشرے کا ہے۔۔ اسلام، اس کے قوانین اور احکامات اللہ تعالی کی طرف سے ایک مکمل اور بھر پور پیکج ہیں۔ اس کے تمام لازمات کو ہمارا معاشرہ پورا کرے گا توپھر اس کے ثمرات ہمیں میسر آئیں گے۔۔ ایسا نہیں کہ اس پیکج میں سے جو ہمیں پسند ہے وہ ہم لے لیں اور جو پسند نہیں اس کو یا تو ترک کر دیں۔۔ یا اس میں پیوند کاری شروع کر دیں۔ اور پھر امید اور توقع یہ رکھیں کہ اللہ کے بیان کردہ تمام ثمرات بھی ہمیں میسر آئیں۔۔یاد رکھیں اللہ تعالی کے بیان کردہ ثمرات تب ہی میسر ہوں گے جب ہم اس پیکج کو عملی طور پر دل و جان سے اپنائیں گے۔

تین طلاقوں کے بعد عورت کا دوسرے شوہر سے شادی کرنے کے لازمی ہونے کو جس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے اس کی وجہ اسلام کے نظام طلاق سے عدم واقفیت ۔۔۔۔ ہمارے اس غیر اسلام معاشرے کے رسوم و رواج اور ہماری جہالت کی خرابی ہے۔اس میں اسلامی نظام طلاق کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔۔۔
تین اور ایک طلاق کا مسئلہ
آخر میں ایک اہم نقطے کی طرف توجہ مبذول کرانا ضرور چاہوں گا۔۔۔ وہ یہ کہ اوپر جو میں نے مختصرا اسلام کے نظام طلاق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے اس سے آپ حضرات کو واضح ہوا ہو گا کہ یہ کوئی پہت پیچیدہ اور مشکل مسئلہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسا اختلافی موضوع ہے جس پر ہم مسلمان باہم دست و گریبان ہوں۔۔یہاں میں طلاق کے حوالے سے مشہور و معروف بحث ۔۔۔ کہ کیا تین طلاق تین ہی ہیں یا ایک ہیں۔۔۔ پر مختصر بات ضرور کروں گا۔ مگر ایک الگ انداز میں۔۔۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
عموما لوگ اس مسئلہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جی۔ فلاں مکتبہ فکر کے ہاں۔ تین طلاق ایک شمار کی جاتی ہے۔ اور دوسرے فلاں مکتبہ فکر کے حضرات کے ہاں تین طلاق کو تین ہی شمار کیاجاتا ہے۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے حقیقت میں مسئلہ یوں نہیں ہے۔۔۔ بلکہ مسئلہ میرے خیال میں یہ ہے کہ۔۔

اختلاف اس پر نہیں کہ تین طلاقیں ایک ہوتی ہیں یا تین۔۔۔ بلکہ ایک اور تین کا یہ اختلاف ایک خاص صورت کے حوالے سے ہے۔۔۔ وہ یہ کہ۔۔۔ اگر کسی شخص نے ایک ہی مجلس یا ایک ہی لفظ میں تین طلاق اپنی بیوی کو دی تو کیا وہ تین شمار ہوں گی یا ایک شمار ہو گی۔
حلانکہ تین کو ایک قرار دینے والوں کا مؤقف یہ نہیں کہ ہر صورت میں تین طلاق ایک ہی شمار ہو گی۔ جیسا کہ بہت سے نا واقف حضرات سمجھتے ہیں۔۔۔۔ اور یہ بحث اتنی عام ہو گئی ہے کہ اسی بحث کے تناظر میں اہل سنت ولجماعت کے دو مکتبہ فکر کی پہنچان کی جاتی ہے۔۔ دونوں طرف سے اپنے اپنے دلائل دیے جاتے ہیں۔

میں یہاں یہ بحث نہیں کرنا چاہوں گا کہ طلاق کی اس مخصوص صورت میں تین طلاق ایک ہوتی ہیں یا تین ہوتی ہیں۔۔۔ بلکہ میں ایک اور گذارش بلکہ اپیل کرنا چاہوں گا۔
درد مندارنہ اپیل
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے نظام طلاق کو کتنا آسان اور سہل بنایا ہے کہ طلاق کی اقسام میں سے پہلی دونوں قسموں کے مطابق اگر میاں بیوی طلاق دینے کے برسوں بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان دونوں سے یا کسی ایک سے غلطی ہوئی ہے اور اب وہ دونوں دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ تو بس ایجاب و قبول اور نیا حق مہر مقرر کر کے دونوں ہسیے خوشی رہ سکتے ہیں۔۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا؟؟؟

کیا ہم نے کبھی سوچا آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارا معاشرے طلاق کے حوالے سے انتشار کا شکار کیوں ہے؟
آخر جب ایک جوڑے میں جدائی ہوتی ہے تو ان کے خاندان تو آپس میں دست و گریباں ہوتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ پورے پورے مسلک اور مکتبہ فکر صف آراء ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی محلہ کی دو مساجد میں نمازی باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ راہ چلتے، بازار میں ملتے وقت ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہیں۔۔ دونوں طرف کے کے حضرات اپنے اپنے نظریہ پر کتابوں کی کتابیں مطالعہ کر ڈالتے ہیں۔ اور ہر نماز پر جاتے وقت یا واپسی پر مساجد کے راستوں میں ایک عرصہ تک یہ بحث چلتی رہتی ہے کہ تین طلاق تین ہوتی ہیں یا ایک ہوتی ہے۔

ہم اس مسئلہ کی سنگینی پر قابو پا سکتے ہیں اگر ہم اپنے اپنے مکتبہ فکر کے لوگوں کو تین کو ایک اور ایک کو تین ثابت کرنے کے دلائل سکھانے پر توانائیاں صرف کرنے کے بجائے اس سے آدھی توانائی اس کوشش پر صرف کر دیں کہ ہم ان کو طلاق دینے کا سنت کے مطابق طریقہ سکھا دیں جس میں تین طلاق کی کسی بھی طرح دینے کی نوبت ہی نہیں آتی۔۔۔ اور پھر طلاق کے بعد۔۔ حتی کہ عدت کے بعد بھی میاں بیوی جب چاہیں عزت سے باہمی رضا مندی سے دوبارہ اپنی زندگی شروع کر سکتے ہیں۔ چاہے ہمارا معاشرہ مثالی اسلامی معاشرہ ہو یا نہ ہو۔اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔ جو کہ میرا خیال ہے بہت بڑا ٹاسک نہیں ہے ۔۔۔ تو یقین کریں۔۔۔۔ یہ ایک اور تین کی بحث ان دوسری بہت سی مباحث کے ساتھ علماء کے لئے کتابوں میں ہی دفن ہو کر رہ جائے گی۔۔ جو اہل علم کتابوں میں تو پڑھتے پڑھاتے رہیں گے مگر خارج میں ہمارے گلی محلوں میں ہمارے گھروں میں ان کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔

مذكورہ بالا طلاقوں كا قرآن كريم سے ثبوت
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَآ اَلَّايُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۙ فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ ۭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَاتَعْتَدُوْھَا ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ٢٢٩
فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۭ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَآ اَنْ يَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُھَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ٢٣٠
طلاق رجعی ہے دو بار تک اس کے بعد رکھ لناُ موافق دستور کے یا چھوڑ دینا بھلی طرح سے اور تم کو روا نہںل کہ لے لو کچھ اپنا دیا ہوا عورتوں سے مگر جب کہ خاوند عورت دونوں ڈریں اس بات سے کہ قائم نہ رکھ سکںت گے حکم اللہ پھر اگر تم لوگ ڈرو اس بات سے کہ وہ دونوں قائم نہ رکھ سکںو گے اللہ کا حکم تو کچھ گناہ نہںن دونوں پر اس مں کہ عورت بدلہ دیکر چھوٹ جاوے یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہں سو ان سے آگے مت بڑھو اور جو کوئی بڑھ چلے اللہ کی باندھی ہوئی حدوں سے سو وہی لوگ ہيں ظالم۔
پھر اگر اس عورت کو طلاق دی تيسر ی بار تو اب حلال نہںن اسکو وہ عورت اسکے بعد جب تک نکاح نہ کرے کسی خاوند سے اس کے سوا پھر اگر طلاق دے دے دوسرا خاوند تو کچھ گناہ نہں ان دونوں پر کہ پھر باہم مل جاویں اگر خاال کریں کہ قائم رکھں گے اللہ کا حکم اور یہ حدیں باندھی ہوئی ہںو اللہ بابن فرماتا ہے ان کو واسطے جاننے والوں کے۔

پہلي آيت يہ معلوم ہوتا ہے كہ طلاق ميں رجوع كا صرف دو بار تك مرد كے پاس ہے پھر اس كے بعد يا تو فامساك بمعروف كے مطابق عدت كے اندر بيوي سے رجوع كر كے لوٹا لے۔ يا پھر او تسريح باحسان كے مطابق عورت كو حسن سلوك كے ساتھ چھوڑ دينا ہے۔۔۔ مفسرين اس فقرے كي دو طرح سے تفسيريں كرتے ہيں۔

(1)۔۔۔ يا تو تيسري طلاق دئے بغير عورت كو يوني چھوڑ دے۔
(2)۔۔۔ يا تيسري طلاق دے كر چھوڑ دے۔

پہلے قول كے مطابق اگر صرف ايك يا دو طلاقوں كے بعد چھوڑ ديا تو ايسي عورت بائنہ صغري كہلائے گي۔ جس سے عدت كے بعد باہمي رضامندي سے نئے مہر كے ساتھ پھر دوبارہ نكاح ہو سكتا ہے۔

اس كے بعد دوسري آيت فان طلقہا ميں يہي بتايا گيا ہے كہ تيسري بار اگر طلاق دي تو اس كے بعد عورت اس شخص پر اس وقت تك حرام رہے گي جب تك كہ وہ دوسرے شوہر سے نكا كر كے اس سے ہم جماعت نہ كر لے۔

گويا۔ كہ پہلي آيت ميں۔ الطلاق مرتان ميں طلاق رجعي كا بيان ہے۔۔۔ اور دوسري آيت فان طلقہا ميں طلاق بائن كا ذكر ہے۔۔۔ طلاق كے جو يہ نام حضرات فقہاء كرام عليہم الرحمہ نے بتائے ہيں يہ فقہي اصلاحات ہيں جو قرآن كريم اور حديث كے مفہوم و منشاء كي وضاحت كرنے كے لئے وضع كئے گئے ہيں۔ لہذا اس قسم كي اصطلاحوں كا يہ مطلب نہيں ہوتا ہے كہ وہ بذات خود قرآن كريم ميں اور حديث رسول ميں موجود ان ہي الفاظ كے ساتھ موجود ہوں گي۔


حلالہ كيا ہے؟
مذكورہ بالا سورہ بقرہ كي آيہ نمبر 230 ميں اللہ تعالي نے واضح الفاظ ميں بتا ديا كہ اگر كسي نے تيسري طلاق بھي دے دي تو اس كے بعد وہ عورت اس كے لئے حلال نہيں ہو تي وقيتكہ وہ كسي دوسرے شخص سے شادي كر كے اس كے ساتھ وظيفہ زوجيت ادا كر لے۔۔ اور ايسا كرنے كے بعد اگر كسي وجہ سے ان دونوں ميں جدائي ہوتي ہے۔۔۔ يا شوہر كا انتقال ہو جاتا ہے تو اب اس عورت كو يہ اختيار حاصل ہے كہ اگر وہ اور اس كا سابقہ شوہر دونوں اس بات پر راضي ہوں كہ وہ دوبارہ نكاح كر كے ساتھ رہيں تو ان كو ايسا كرنے كي اجازت ہے۔۔۔ ليكن اگر عورت نے دوسرے شوہر سے ازدواجي تعلقات قائم نہ كئے تو سابقہ شوہر كے لئے حلال نہيں ہوگي۔۔ اسي عمل كو حلالہ كہا جاتا ہے۔۔۔ اور بس۔۔۔ اس سے زائد كو نہيں۔

اس كا يہ مطلب نہيں ہے كہ عورت يا مرد كو يہ ترغيب دي جا رہي ہے كہ وہ طلاق كے بعد ضرور اس عورت كا كسي مسلمان سے نكاح كروا كر پھر اس سے طلاق لي جائے۔۔ بلكہ صرف يہ بتايا جا رہا ہے ۔ چونكہ اللہ تعالي نے مرد كو صرف تين طلاقوں كا اختيار ديا تھا اور تيسري طلاق كے بعد وہ عورت ہميشہ ہميشہ كے لئے اس مرد كے لئے حرام ہو جاتي ہے۔ اور كسي بھي اس مرد كے لئے اس عورت كو نكاح ميں ركھنا جائز نہيں ہو گا۔۔۔۔ اسلام كے نظام طلاق كو سامنے ركھ كر ديكھا جائے تو يہ ايك سزا ہے جو مرد كو دي جا رہي ہے۔ جس كي تفصيل پيچھے گذر چكي ہے۔۔ ليكن چونكہ اللہ تعالي غفور رحيم ہيں اس لئے پھر بھي ايك امكاني درجے ميں ايك راستہ اس مرد كے لئے كھلا چھوڑ ديا مگر اس ميں ركاوٹيں كتني كھڑي كي ہيں۔ وہ ديكھيں۔

(1)۔۔۔ طلاق كے بعد اپني مرضي سے عورت كا دوسري شادي كرنا۔۔ اس پر كوئي جبر نہيں كر سكتا نہ خاندان نہ سابقہ شوہر۔
(2)۔۔۔ دوسرے شوہر سے وظيفہ زوجيت كي ادائيگي كو ضروري قرار ديا گيا۔
(3)۔۔۔ دوسرا شوہر خود ہي كسي وجہ سے اس كو طلاق دے دے يا فوت ہو جائے۔
(4)۔۔۔ اس كي طلاق يا وفات كي عدت اس عورت پر گذارنا ضروري ہو گا۔
(5)۔۔۔ اس كے بعد اب اگر سابقہ شوہر چاہے كہ ميں اس سے دوبارہ شادي كر لوں تو۔ تو وہ ايسا عورت كي مرضي كے بغير نہيں كر سكتا۔
آخر تيسري طلاق كے بعد مرد پر اتني پابندياں كيوں عائد كي گئي ہيں۔۔۔ اس كو سمجھنے كے لئے اسلام ميں عورت كے مقام۔ اسلام ميں نكاح اور نظام طلاق كو سمجھنا بہت ضروري ہے۔۔ اگر وہ آپ سمجھ ليں گے تو پھر خود بخود يہ بات سمجھ ميں آ جائے گي۔ كہ

چونكہ اللہ كے حكم وجہ سے ايك اجنبي عورت اس شخص كي بيوي بن كر دينا كي سب سے قريب ترين ہستي بن جاتي ہے۔ جس كي قدر و منزلت اور اس كے حقوق كا خيال ركھنا اس شخص كا فريضہ قرار ديا گيا ہے۔حتي الامكان اس رشتہ كو قائم ركھنا شريعت ميں مطلوب ہے۔۔۔ ليكن اگر بعض نا گزير حالات كي وجہ سے جدائي كي نوبت آ ہي جائے تب بھي شريعت نے اس كا ايك خاص نظام بنايا ہے جس كو طلاق كا نام ديا گيا ہے۔۔ اس نظام طلاق كے مختلف درجات مقرر كئے گئے ہيں۔ تا كہ وہ اس شخص كو خوب سوچنے سمجھنے كا موقع مل سكے۔۔ اور وہ اللہ كي مقرر كردہ حدود سے تجاوز نہ كر ے۔طلاق كے اللہ نے تين درجات مقرر كئے ہيں۔ان درجات كي تفصيل گذر چكي ہے۔ ان ميں سے دو طلاق تك اس شخص كو اپني بيوي سے رجوع كرنے كا اختيار حاصل ہے۔ عدت كے دوران۔۔جس ميں بيوي كي رضا مندي ضروري نہيں۔ ليكن عدت كے بعد بھي وہ رجوع كر سكتا ہے ليكن اس كے لئے بيوي كي رضا مندي اور نئے نكاح اور نئے حق مہر كا تعين ضروري ہو گا۔۔

اتني رعايت دينے كے باوجود بھي ہمارے اكثر مسلمان بھائي انتہائي اقدام اٹھانا ہي اپني جہالت كي وجہ سے پسند كرتے ہيں۔۔ اور پھر اس كا اثر تو مرتب ہو گا ہي۔۔ وہ اثر اللہ نے يہي بتايا ہے كہ اب وہ عورت ايسے شخص كو دوبارہ كبھي نہيں مل سكتي۔ تا وقتكيہ وہ دوسرے شوہر سے نكاح كر كے اس كي بيوي نہ بن جائے۔۔۔ اور اس كے بعد اگر وہ عورت چاہے تو اس سے دوبارہ نكاح كر سكتي ہے۔۔ مرد كوتنہا اختيار حاصل نہيں ہے۔

ملعون لوگ
اس نظام طلاق ميں اللہ تعالي نے قدم قدم پر عورت كي حفاظت كا حصار قائم كيا ہے۔۔۔ ليكن معاشرے كي بے ديني۔ حدود اللہ كي اہميت كو نظر انداز كر كے اگر طلاق مغلظہ كے بعد بھي كوئي شخص بے غيرتي اور بے شرمي كے ريكارڈ توڑتے ہوئے اپني بيوي كو ايك دن يا چند دن كے لئے كسي كے نكاح ميں ديتا ہے۔۔ ايسا شخص خود تو رحمت عالم صلي اللہ عليہ والہ وسلم كي زبان سے لعنت كے حقدار ٹھہرتا ہي ہے اس كے ساتھ وہ شخص بھي اس لعنت كا مستحق ٹھہرتا ہے۔۔۔ اور وہ عورت بھي گناہ گار ہے جو اسے نا جائز فعل ميں شريك ہوئي۔۔۔ باوجود اس كے كہ اس پر كوئي جبر نہيں تھا۔ ۔۔
واللہ اعلم بالصواب۔۔۔۔۔


چونكہ طلاق كے حوالے سے عموما لوگوں ميں بہت غلط فہمياں پائي جاتي ہيں۔۔ اس لئے يہاں نكاح، طلاق اور حلالہ پر مختصر بحث اور چند نقاط آپ سب كے سامنے‌پيش كئے گئے ہيں۔ بہر حال يہ ساري تحرير كوئي فتوي نہيں اور نہ ہي ميں اس كا مجاز ہوں۔ بس معلوم كا تبادلہ ہے۔ صحيح ہوا تو اللہ كا فضل ورنہ ميري كوہتائي ہے۔ نشاندہي كرنے والے احباب كے لئے دعا گو ہوں۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 26-10-10 at 05:44 PM.. وجہ: املاء كي تصحيح

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2183
Reply With Quote
23 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (27-10-10), bashirahmed98 (30-08-11), dxbgraphics (16-02-11), shafresha (26-10-10), فیصل ناصر (26-10-10), فاروق سرورخان (12-05-11), کنعان (26-10-10), پاکستان دوست (26-10-10), موجو (06-05-11), منتظمین (26-10-10), مرزا عامر (10-05-11), معظم (10-05-11), اویسی (26-10-10), ام غزل (10-05-11), ابوسعد (22-02-11), ابن جمال (10-05-11), ابرارحسین (17-07-11), احمد نذیر (09-09-11), بلال الراعی (01-11-11), حیدر (30-08-11), شھزادباجوہ (18-07-11), عبداللہ آدم (26-10-10), عبداللہ حیدر (27-10-10)
پرانا 26-10-10, 05:42 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ شر میں سے خیر کی عمدہ مثال ہے۔ بہت ہی عمدہ طریقے سے سارے مسلے کو کھول کر پیش کر دیا گیا ہے۔اللہ اپکو جزائے خیر دے۔

سرورق کے لیے پیش کریں۔


والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-10-10), فیصل ناصر (26-10-10), کنعان (26-10-10), اویسی (26-10-10), ام غزل (10-05-11), ابوسعد (22-02-11), رضی (09-09-11), شمشاد احمد (26-10-10), عبداللہ آدم (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 05:43 PM   #3
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,086
کمائي: 19,143
شکریہ: 9,214
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھا مضمون لکھا ہے۔ شکریہ

Last edited by اویسی; 27-10-10 at 05:17 PM.
اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے اویسی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-10-10), فیصل ناصر (26-10-10), کنعان (26-10-10), پاکستان دوست (26-10-10), ابوسعد (22-02-11), شمشاد احمد (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 07:47 PM   #4
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تمام احباب پسند كرنے كا شكريہ۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-10-10), ام غزل (10-05-11)
پرانا 26-10-10, 07:52 PM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
یہ شر میں سے خیر کی عمدہ مثال ہے۔ بہت ہی عمدہ طریقے سے سارے مسلے کو کھول کر پیش کر دیا گیا ہے۔اللہ اپکو جزائے خیر دے۔

سرورق کے لیے پیش کریں۔


والسلام
دعا اور محبت كا شكريہ۔۔۔
اويسي بھائي سبقت لے گئے ہيں۔۔۔ انھوں نے اپلائي كر ديا ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-10-10), فیصل ناصر (26-10-10), اویسی (27-10-10), ام غزل (10-05-11), شھزادباجوہ (18-07-11)
پرانا 26-10-10, 09:29 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم شمشاد بھائی
اچھا موضوع ہے۔ تبصرہ ذرا تفصیل سے پڑھنے کے بعد کروں گا انشاء اللہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-10-10), فیصل ناصر (26-10-10), شمشاد احمد (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 11:11 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 420
کمائي: 13,744
شکریہ: 82
307 مراسلہ میں 833 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاءاللہ ۔جہدک جید ب۔ارک اللہ فی عمرک وعملک
قاسم شاہ آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے قاسم شاہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-10-10), ابوسعد (22-02-11), شمشاد احمد (27-10-10), عبداللہ آدم (26-10-10)
پرانا 26-10-10, 11:18 PM   #8
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہترین کاوش ہے
اللہ اس محنت کو قبول کرے
اور اس میں دئے پیغام کو زیادہ لوگوں تک پھیلائے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-10-10), ام غزل (10-05-11), رضی (25-07-11), شمشاد احمد (27-10-10)
پرانا 26-10-10, 11:50 PM   #9
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

زبردست بھائی جان...................خاص طور پہ یہ دو پیرا گراف::

""کیا ہم نے کبھی سوچا آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارا معاشرے طلاق کے حوالے سے انتشار کا شکار کیوں ہے؟
آخر جب ایک جوڑے میں جدائی ہوتی ہے تو ان کے خاندان تو آپس میں دست و گریباں ہوتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ پورے پورے مسلک اور مکتبہ فکر صف آراء ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی محلہ کی دو مساجد میں نمازی باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ راہ چلتے، بازار میں ملتے وقت ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہیں۔۔ دونوں طرف کے کے حضرات اپنے اپنے نظریہ پر کتابوں کی کتابیں مطالعہ کر ڈالتے ہیں۔ اور ہر نماز پر جاتے وقت یا واپسی پر مساجد کے راستوں میں ایک عرصہ تک یہ بحث چلتی رہتی ہے کہ تین طلاق تین ہوتی ہیں یا ایک ہوتی ہے۔

ہم اس مسئلہ کی سنگینی پر قابو پا سکتے ہیں اگر ہم اپنے اپنے مکتبہ فکر کے لوگوں کو تین کو ایک اور ایک کو تین ثابت کرنے کے دلائل سکھانے پر توانائیاں صرف کرنے کے بجائے اس سے آدھی توانائی اس کوشش پر صرف کر دیں کہ ہم ان کو طلاق دینے کا سنت کے مطابق طریقہ سکھا دیں جس میں تین طلاق کی کسی بھی طرح دینے کی نوبت ہی نہیں آتی۔۔۔ اور پھر طلاق کے بعد۔۔ حتی کہ عدت کے بعد بھی میاں بیوی جب چاہیں عزت سے باہمی رضا مندی سے دوبارہ اپنی زندگی شروع کر سکتے ہیں۔ چاہے ہمارا معاشرہ مثالی اسلامی معاشرہ ہو یا نہ ہو۔اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔ جو کہ میرا خیال ہے بہت بڑا ٹاسک نہیں ہے ۔۔۔ تو یقین کریں۔۔۔۔ یہ ایک اور تین کی بحث ان دوسری بہت سی مباحث کے ساتھ علماء کے لئے کتابوں میں ہی دفن ہو کر رہ جائے گی۔۔ جو اہل علم کتابوں میں تو پڑھتے پڑھاتے رہیں گے مگر خارج میں ہمارے گلی محلوں میں ہمارے گھروں میں ان کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔""


بارک اللہ فی علمک و عملک یا اخی.

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-10-10), فیصل ناصر (26-10-10), فاروق سرورخان (27-10-10), نورالدین (27-10-10), موجو (06-05-11), مرزا عامر (10-05-11), ام غزل (10-05-11), ابوسعد (22-02-11), احمد نذیر (09-09-11), شمشاد احمد (27-10-10), عبداللہ حیدر (27-10-10)
پرانا 27-10-10, 12:09 AM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
زبردست بھائی جان...................خاص طور پہ یہ دو پیرا گراف::

""کیا ہم نے کبھی سوچا آخر ایسا کیوں ہے کہ ہمارا معاشرے طلاق کے حوالے سے انتشار کا شکار کیوں ہے؟
آخر جب ایک جوڑے میں جدائی ہوتی ہے تو ان کے خاندان تو آپس میں دست و گریباں ہوتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ پورے پورے مسلک اور مکتبہ فکر صف آراء ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی محلہ کی دو مساجد میں نمازی باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ راہ چلتے، بازار میں ملتے وقت ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہیں۔۔ دونوں طرف کے کے حضرات اپنے اپنے نظریہ پر کتابوں کی کتابیں مطالعہ کر ڈالتے ہیں۔ اور ہر نماز پر جاتے وقت یا واپسی پر مساجد کے راستوں میں ایک عرصہ تک یہ بحث چلتی رہتی ہے کہ تین طلاق تین ہوتی ہیں یا ایک ہوتی ہے۔

ہم اس مسئلہ کی سنگینی پر قابو پا سکتے ہیں اگر ہم اپنے اپنے مکتبہ فکر کے لوگوں کو تین کو ایک اور ایک کو تین ثابت کرنے کے دلائل سکھانے پر توانائیاں صرف کرنے کے بجائے اس سے آدھی توانائی اس کوشش پر صرف کر دیں کہ ہم ان کو طلاق دینے کا سنت کے مطابق طریقہ سکھا دیں جس میں تین طلاق کی کسی بھی طرح دینے کی نوبت ہی نہیں آتی۔۔۔ اور پھر طلاق کے بعد۔۔ حتی کہ عدت کے بعد بھی میاں بیوی جب چاہیں عزت سے باہمی رضا مندی سے دوبارہ اپنی زندگی شروع کر سکتے ہیں۔ چاہے ہمارا معاشرہ مثالی اسلامی معاشرہ ہو یا نہ ہو۔اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔ جو کہ میرا خیال ہے بہت بڑا ٹاسک نہیں ہے ۔۔۔ تو یقین کریں۔۔۔۔ یہ ایک اور تین کی بحث ان دوسری بہت سی مباحث کے ساتھ علماء کے لئے کتابوں میں ہی دفن ہو کر رہ جائے گی۔۔ جو اہل علم کتابوں میں تو پڑھتے پڑھاتے رہیں گے مگر خارج میں ہمارے گلی محلوں میں ہمارے گھروں میں ان کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔""


بارک اللہ فی علمک و عملک یا اخی.

والسلام


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بہترین کاوش ہے
اللہ اس محنت کو قبول کرے
اور اس میں دئے پیغام کو زیادہ لوگوں تک پھیلائے
خصوصا طلاق دینا کے طریقہ کے حوالے سے تو میری رائے یہ ہے مساجد، میں دروس کے علاوہ کم از کم نکاح کے وقت دلہا کو سکھانا ‌چاہے۔۔۔۔ اس سارے رولے کی جڑ یہی جہالت ہی تو ہے۔۔ کہ لوگوں کو طلاق دینے کا صحیح طریقہ ہی نہیں ‏آتا۔۔۔ اور کام خراب کر کے پھر الجھتے ہیں ایک دوسرے سے۔۔۔۔ اللہ ‏آسانیاں فرمائے ہم سب کے لئے۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-10-10), فیصل ناصر (27-10-10), موجو (06-05-11), ام غزل (10-05-11), ابوسعد (22-02-11), عبداللہ آدم (27-10-10), عبداللہ حیدر (27-10-10)
پرانا 27-10-10, 05:20 PM   #11
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,086
کمائي: 19,143
شکریہ: 9,214
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
دعا اور محبت كا شكريہ۔۔۔
اويسي بھائي سبقت لے گئے ہيں۔۔۔ انھوں نے اپلائي كر ديا ہے۔
نہیں جناب میں نے سبقت لینے کیلئے نہیں کیا مجھے مضمون اچھا لگا میں نے سرورق والے تھریڈ میں لگا دیا۔
شکریہ
__________________

باخدا دیوانہ باشد بامحمد ہوشیار!
طالبان اور امریکہ کا ایک ہی مقصد ۔ مسلم کشی
اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
اویسی کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (10-05-11)
پرانا 27-10-10, 06:12 PM   #12
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں
نہیں جناب میں نے سبقت لینے کیلئے نہیں کیا مجھے مضمون اچھا لگا میں نے سرورق والے تھریڈ میں لگا دیا۔
شکریہ
يار يہي تو عرض عرض كيا كہ نيكي كے كام ميں سبقت لے گئے۔۔۔۔ اچھي اور اعتدال والي بات كو دوسروں تك زيادہ سے زيادہ پہنچانا۔ ميرے تو ذہن ميں ہي نہيں تھا يہ طريقہ۔ عادت نہيں ہے نا۔۔۔۔ آپ نے الحمد للہ اچھا كام كيا۔۔۔خوشي ہوئي۔۔۔

ويسے اس ساري گفتگو ميں اگر كہيں آپ اصلاح يا اضافہ كرنے كے حوالے سے بات كريں تو خوشي ہو گي۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
اویسی (30-10-10), ابوسعد (22-02-11)
پرانا 06-05-11, 09:15 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,515
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ شمشاد بھائی- بہت اچھی معلومات ہیں- جزاک اللہ
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (10-05-11)
پرانا 10-05-11, 12:25 AM   #14
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ كريم كا لاكھ لاكھ شكر ہے كہيں تو آپ كااور ميرا اتفاق ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الحمد للہ۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (10-05-11), شھزادباجوہ (18-07-11)
پرانا 10-05-11, 04:10 AM   #15
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,498
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ نے ہم پر مذہب کو بہت آسان کرکے نازل کیا ، یہ تو ہم ہیں جنہوں نے مذہب اور اس سے جڑے معاملات کو مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے ، یہاں ایک سوال کے کئی جواب اور ان گنت فتوے جاری کردئے جاتے ہیں ، اور پوچھنے والا اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے ،
بہت ہی اہم مسلے کو بے حد آسان اور فہم طریقے سے پیش کرنے پر مبارکباد قبول کیجئے ،
اللہ آپ کو اس کا اجر دے ، آمین ثم آمین۔
شکریہ
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (30-08-11), رضی (09-09-11), شمشاد احمد (12-05-11)
جواب

Tags
فروخت, کتابوں, گذارش, پسند, واقعات, قدم, قرآن, نماز, نظر, مکمل, میراث, مسائل, معلوم, معاشرہ, آج, اللہ, امریکہ, اجنبی, خواتین, دوست, دعا, راستہ, طلاق, عورت, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مختصر تاریخ اسلام آباد گلاب خان اپکے کالم 0 19-02-11 06:04 AM
حج پر ایک مختصر نظر چاچا کمال عمرہ و حج 2 04-12-08 08:43 PM
مختصر مختصر---یورب سے مسٹر گرزلی خبریں 0 22-06-08 03:17 PM
غمِ مختصر میاں شاہد ذاکر دہلوی 0 22-04-08 11:04 AM
طلب تصدیق ,,,,نیر ندیم خرم شہزاد خرم اپکے کالم 0 19-12-07 08:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:51 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger