واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > ازدواجی زندگی



ازدواجی زندگی ازدواجی زندگی


نکاح کے ارکان اوراس کی شروط

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-12-07, 07:38 AM   #1
نکاح کے ارکان اوراس کی شروط
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 17-12-07, 07:38 AM

سوال :
عقد نکاح کے ارکان اوراس کی شروط کیا ہیں ؟


جواب:
الحمد للہ
اسلام میں عقدنکاح کے تین ارکان ہیں :
اول :

خاوند اوربیوی کی موجودگی جن میں مانع نکا ح نہ پایا جائے جوصحت نکاح میں مانع ہو مثلا رضاعت کی وجہ سے محرم وغیرہ ، اوراسی طرح مرد کافر ہو اورعورت مسلمان ہو ۔

دوم :

حصول ایجاب : ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھر اس کے قائم مقام کی طرف سے اس طرح ادا ہوں کہ وہ خاوند کویہ کہے کہ میں نے تیری شادی فلاں لڑکی سے کردی یا اسی طرح کے کوئي اورالفاظ ۔

سوم :

حصول قبول : قبولیت کے الفاظ خاوند یا پھر اس کے قائم مقام سے ادا ہوں مثلا وہ یہ کہے کہ میں نے قبول کیا یا اسی طرح کے کچھ اور الفاظ ۔

صحت نکاح کی شروط :

اول :

زوجین کی تعیین : چاہے یہ تعیین اشارہ یا نام یا پھر صفت بیان کرکے کی جائے ۔

دوم :

خاوند اوربیوی کی دوسرے پر رضامندی :

کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( ایم کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا ، اورکنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی ، صحابہ کرام کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی خاموشی ہی اجازت ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4741 ) ۔

حدیث میں ایم کا لفظ استعمال ہوا ہے ایم اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند سے اس کی موت یا پھر طلاق کی وجہ سے علیحدہ ہوچکی ہو ۔

اورتستامر کا معنی ہے کہ اس سے اجازت کی جائے گی جس میں اس کی جانب سے صراحب ہونا ضروری ہے ، ۔

اورکیف اذنھا : کا معنی ہے کہ کنواری کی اجازت کس طرح کیونکہ وہ تو شرماتی ہے ۔

سوم :

عورت کا نکاح اس کا ولی کرے : کیونکہ اللہ تعالی نے عورت کے نکاح میں ولی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے :

{ اوراپنے میں سے بے نکاح عورتوں اورمردوں کا نکاح کردو } ۔

اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے :

( جس عورت نے بھی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کانکاح باطل ہے ) سنن ترمذی حديث نمبر ( 1021 ) اس کے علاوہ اورمحدیثین نے بھی اسے روایت کیا ہے یہ حدیث صحیح ہے ۔

چہارم :

عقد نکاح کے لیے گواہ : اس لیے کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( ولی اوردو گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) رواہ الطبرانی ۔ دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7558 ) ۔

اورنکاح کی تاکید اوراعلان بھی ہونا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( نکاح کااعلان کرو ) مسنداحمد ، صحیح الجامع میں اسے حسن قراردیا گيا ہے دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 1072 ) ۔

ولی بننے کی شروط :

ولی میں مندرجہ ذيل شروط کا ہونا ضروری ہے :

1 – عقل ۔ یعنی عقلمند ہو بے وقوف ولی نہيں بن سکتا ۔

2 – بلوغت ۔ یعنی بالغ ہو بچہ نہ ہو

3 – حریہ : یعنی آزاد ہوغلام نہ ہو ۔

4 – دین ایک ہو ، اس لیے کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہيں ہوسکتی ، اور اسی طرح مسلمان کسی کافر یا کافرہ کا ولی نہيں بن سکتا ۔

کافرمرد کو کافرہ عورت پر شادی کی ولایت مل سکتی ہے ، چاہے ان کا دین مختلف ہی ہو ، اوراسی طرح مرتد شخص کو بھی کسی پر ولایت نہیں حاصل ہوسکتی ۔

5 – عدالۃ : یعنی عادل ہونا چاہیے یہ عدل فسق کے منافی ہے ، جوبعض علماء کے ہاں تو شرط ہے اوربعض علماء ظاہری طور پر ہی عادل ہونا شرط لگاتے ہیں ، اورکچھ علماء کہتے ہیں کہ اتنا ہی کافی ہے کہ جس کی شادی کا ولی بن رہا ہے اس کی مصلحت حاصل ہونا ہی کافی ہے ۔

6 – ذکورۃ ۔ یعنی وہ مرد ہو ۔

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( کوئي عورت کسی عورت کی شادی نہ کرے ، اورنہ ہی کوئي عورت خود اپنی شادی خود کرے ، جوبھی اپنی شادی خود کرتی ہے وہ زانیہ ہوگی ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1782 ) دیکھیں صحیح الجامع حدیث نمبر ( 7298 ) ۔

7 – رشد ، ایسی قدرت جس سے نکاح کی مصلحت اورکفوکی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔

فقھاء کرام کے ہاں تو تو ترتیب ضروری ہے اس لیے ولی کے نہ ہونے یا اس کی نااہلی کی بنا پر یا پھر اس میں شروط نہ پائے جانے ک صورت میں قریبی ولی کو چھوڑ کر دور والے کو ولی بنانا جائز نہیں ۔

عورت کا ولی اس کا والد ہے اس کے بعد جس کے بارہ میں وہ وصیت کرے ، پھر اس کا دادا ، پڑدادا اوراس کے اوپر تک ، پھر اس کے بعد عورت کا بیٹا ، اورپھر پوتا اوراس سے نيچے تک ، پھر اس کے بعد عورت کا سگا بھائی ، پھر والد کی طرف سے بھائي ، پھر ان دونوں کے بیٹے ، پھر عورت کا سگا چچا ، پھر والد کی طرف سے چچا ، پھر چچا کے بیٹے ، پھر نسب کے لحاظ کے سے قریبی شخص جو عصبہ ہو ولی بنے گا جس طرح کہ وراثت میں ہے ، اورپھر جس کا کوئي ولی نہيں اس کا ولی مسلمان حکمران یا پھر اس کا قائم مقام قاضی ولی بنے گا ۔

واللہ اعلم .
(الشیخ محمد صالح المنجد)

Last edited by عبداللہ حیدر; 16-01-08 at 12:30 AM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 882
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ملک بھائی (15-10-09), محمدمبشرعلی (02-10-10)
پرانا 01-01-08, 07:56 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,606
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: نکاح کے ارکان اوراس کی شروط

اقتباس:
خاوند اوربیوی کی موجودگی جن میں مانع نکا ح نہ پایا جائے جوصحت نکاح میں مانع ہو مثلا نسب یا پھر رضاعت کی وجہ سے محرم وغیرہ ، اوراسی طرح مرد کافر ہو اورعورت مسلمان ہو ۔
بھائی میرے نسب سے کیا مراد ہے اپ کی ۔۔ جناب منجد صاحب کی ہر بات قابل تقلید نہیں‌ہے۔۔ انھی کا ایک فتوئ ہے کہ عورت کا گاڑی چلانا حرام ہے۔۔۔
اپ کوشش کریں کہ کسی مستند عالم کے حوالے دیا کریں

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-09-09, 08:23 AM   #3
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی کیا نکاح ولی کے بغیر نہیں ہو سکتا؟؟؟اگر ہو جاے تو کیا اُس نکاح کو باطل نکا ح کہہ سکتے ہیں ۔اور پاکستان میں کورٹ میرج جو ہو رہی ہے پھر کیوں کرتے ہیں جب کہ ہم کو بہت حدیث نکاح پر ہیں۔اور کورٹ میرج کا کوئی حدیث نہیں‌ نہ ہی کوئی اس طرح کی کوئی حدیث موجود ہے جیس سے ایک لڑکی خود اپنی شادی کرے مجھے اج تک کوئی ثبوت نہیں ملا کسی حدیث سے کہ ایک لڑکی خود شادی کر ساکتی ہے؟؟؟؟؟؟؟یہ شادی پھر نا جائز شادی ہے کورٹ کی پھر اپکی کیا رائے ہے ث
افرازاعوان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 29-09-09, 12:11 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی افراز ، آپ کے اس سوال اور دیگر سوالات کے جوابات """ کیا خفیہ شادی کرنا جائز ہے ؟ """ میں ارسال کیے جا چکے ہیں ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (13-10-09), کنعان (18-10-09)
پرانا 14-10-09, 05:48 PM   #5
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میری طرف سے پرئم منسٹر بننے پر always alone's
کو مبارک باد
افرازاعوان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-10-09, 01:51 PM   #6
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مراسلات: 150
کمائي: 2,753
شکریہ: 83
90 مراسلہ میں 252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ولی کا مطلب ساتھی/دوست ہوتا ہے
تو پھر کسی دوست کے ساتھ ہونے سے نکاح کیوں نہی ہوسکتا ؟؟ ۔ ۔
__________________
علی (ع) مولا ۔ ۔(خدا کے چار صحیفوں میں، جسے آخری قرآن) ۔ ۔
علی....Ali آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-10-09, 02:51 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : علی....Ali مراسلہ دیکھیں
ولی کا مطلب ساتھی/دوست ہوتا ہے
تو پھر کسی دوست کے ساتھ ہونے سے نکاح کیوں نہی ہوسکتا ؟؟ ۔ ۔
السلام علیکم ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
علی بھائی ، """ ولی """ کے مختلف معانی میں سے ایک معنی دوست ہوتا ہے ، لیکن یاد رکھیے کہ اس کا معنی صِرف """ دوست """ نہییں ہوتا ،
اس کے معانی میں """ سرپرست """ ، """ حاکم """ ، """ ذمہ دار """ بھی ہوتا ہے ، اور عام طور پر یہ لفظ انہی معانی میں استعمال ہوتا ہے ، """ دوست """ کے معنی میں اس کا استعمال نادراً ہی ہوتا ہے ،
اللہ تعالی کے فرامین میں سے دیکھیے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین میں سے دیکھیے ، کسی صاحب علم سے دریافت کیجیے ، ان شا تسلی ہو جائے گی ،
اور بھائی میری ایک برادارنہ نصیحت ہر غور فرمایے گا کہ کسی بھی معاملے میں‌ بات کرنے سے پہلے اس کے بارے میں اچھے طور پر معلومات حاصل کیا کیجیے ، اور بالخصوص دینی معاملات میں اپنی رائے یا نامکمل معلومات کی بنا پر کچھ کہنے سے پرہیز کیا کیجیے میرے بھائی ، یقین جانیے ایسا کرنے میں بہت خیر ہے ، ان شا اللہ ، و السلام علیکم ۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (18-10-09)
پرانا 18-10-09, 08:21 AM   #8
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 17
کمائي: 103
شکریہ: 3
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

1-کیا کورٹ کا نکاح کو ہم شرعیہ نکاح قرآن و حدیث کی روشنی میں‌کہہ ساکتے ہیں‌کہ نکاح جائز ہے؟
2-کورٹ نکاح سے پہلے اگر جنسی تعلق رہا ہو۔پھر خفیہ طریقے سے نکاح کرنا
3-یا جب تک اس گناہ کی معافی نہ مانگی جائے توبہ نا کی جائے دل سے کیا اس طرح نکاح جائز ہے؟
4-نکاح لڑکی سے اس شرط پر کرنا کہ تم اگر نکاح نہیں کرتی بدنامی دوں‌گا بدنام ہو جائو گی لڑکی مجبوری سے نکاح کرئے۔
5-نکاح کے بعد جنسی تعلق قائم کرنا اور مہر نا دینا کی نیت سے نکاح کرنا 10 لاکھ مہر طے ہوا مگر دل میں نیت سرف لڑکی کو نکاح پر راضی کرنا۔
6-اب کسی بھی وجہ سے لڑکے نے اس کو 3 طلاق بول دیا میسج سے لکھ دیا لڑکا 17 مہنے سے پاکستان سے باہر تھا ۔
7-اب وہ تو طلاق مان گئے کہ طلاق ہو گئی اب مجھے بتائو جب انہوں نے کچھ مطالعہ کیا تو نکاح کی شرط ملی کی ولی کے بغیر نکاح نہیں یہ وہ بہت سی حدیث۔
اب کیا وہ اب ماں‌باپ کو راضی کر کے اسلامی طریقہ سے نکاح کر ساکتے ہیں کیونکہ اگر ان کا نکاح باطل تھا اسلامی شرعیہ سے پھر اب تو کیا نکاح شرعیہ کر سکتے ہان کے لیئے اچھا ہے یہ بھول جانا اچھا ہے
afraz055@gmail.com
افرازاعوان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-10-09, 06:57 PM   #9
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : افرازاعوان مراسلہ دیکھیں
1-کیا کورٹ کا نکاح کو ہم شرعیہ نکاح قرآن و حدیث کی روشنی میں‌کہہ ساکتے ہیں‌کہ نکاح جائز ہے؟

جناب آپ کو اپ کے شادی کے متعلق تمام سوالوں کے جواب دوسرے دھاگہ میں اور پرائیویٹ میلوں میں مدلل طریقے سے مل چکے ہیں۔

آپ کا بار بار یہی سوال کرنا کہ شرعیت کیا کہتی ھے تو بھائی جب شرعیت پر عمل کرنا ھے تو جو گناہ کئے گئے ہیں ان پر بھی ایک نظر دہراتے ہیں۔

اب آپ کورٹ میرج سے مطمعین نہیں ہیں اور اسلامی شادی کرنے کے خواہشمند ھے ولی کی موجودگی میں سب کی رضامندی سے تو یہ بہت اچھا کام ھے
پر اس سے پہلے آپ کو ایک اور شرعیت پوری کرنے پڑے گی،
بقول آپ کے کہ کورٹ میرج میں ولی موجودگی نہیں تھی اور وہ حرام ھے تو اس پر بھی وہ زنا قرار دیا جائے گا۔

اور جو کورٹ میرج سے پہلے آپ نے جنسی تعلقات رکھے وہ تو زنا ہی ھے اور اس میں شرعیت کیا کہتی ھے اس پر ایک نظر دیکھیں۔




اقتباس:
2-کورٹ نکاح سے پہلے اگر جنسی تعلق رہا ہو ۔ پھر خفیہ طریقے سے نکاح کرنا

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اورتم زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو بلاشبہ یہ ایک فحاشی اوربہت ہی برا راستہ ہے }
الاسراء ( 32 ) ۔

اور ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح ارشاد فرمایا :

{ اوروہ لوگ جو اللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے اللہ تعالی نے قتل کرنا حرام قرار دیا اسے وہ حق کے سوا قتل نہیں کرتے ، اور نہ ہی وہ زنا کا ارتکاب کرتے ہیں اور جوکوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لاۓ گا ۔
اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب دیا جاۓ گا اوروہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی عذاب میں رہے گا
}
الفرقان ( 68 - 69 ) ۔

اسی لیے اللہ تعالی نے زانی کو دنیا و آخرت میں شدید قسم کی سزا دی ہے اوراس کا ارتکاب کرنے والے پر حد واجب کی لھذا کنوارے زانی کی سزا بیان کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

{ زنا کار مرد وعورت میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ ، ان پر اللہ تعالی کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوۓ تمہیں ہر گز ترس نہیں کھانا چاہیے اگرتم اللہ تعالی اورقیامت کےدن پر ایمان رکھتے ہو ، اوران کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے }
النور ( 2 )

اور محصن زانی – جس کی شادی ہو چکی ہو – کی حد قتل ہے امام مسلم رحمہ اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( شادی شدہ کا شادی شدہ کے ساتھ – زنا کی سزا – سو کوڑے اور سنگسار ہے )
صحیح مسلم کتاب الحدود حدیث نمبر ( 3166 ) ۔
[/SIZE]



اقتباس:
3-یا جب تک اس گناہ کی معافی نہ مانگی جائے توبہ نا کی جائے دل سے کیا اس طرح نکاح جائز ہے؟

زید بن اسلم رضی اللہ تعالی سے روایت ہے ایک زانی کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا جو اپنے زنا کا خود اقرار کرتا تھا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا، اے لوگو! اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم باز رہو الله کی حدوں سے، جو شخص اس قسم کا کوئی گناہ کرے تو چاہیے کہ چھپا رہے الله کے پردے میں یعنی توبہ و استغفار کرے اور جو کوئی کھول دے گا اپنے پردے کو تو ہم موافق کتاب الله کے اس پر حد قائم کریں گے۔
(موطا)



اقتباس:
4-نکاح لڑکی سے اس شرط پر کرنا کہ تم اگر نکاح نہیں کرتی بدنامی دوں ‌گا بدنام ہو جائو گی لڑکی مجبوری سے نکاح کرئے۔
بلیک میلنگ ، ثابت ھے کہ پہلے بھی زنا زبردستی کیا گیا تو حد آپ ہر لگے گی عورت اس سے بری الذمہ ھے


ابن عباس رضی اللہ تعالی سے روایت ہے ایک شخص رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو درّے مارنے کی سزا دلوائی پھر عورت کے خلاف شہادتیں طلب کیں عورت نے الله کی قسم کھا کر کہا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم یہ شخص جھوٹا ہے، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دوسری سزا تہمت کی دی اور کوڑے لگوائے۔
(ابوداؤد)

(کوئی شخص کسی مسلمان عورت پر زنا کی تہمت لگائے اور چار گواہوں سے زنا ثابت نہ کرسکے تو اس کے لئے حد قذف یعنی اسّی کوڑے کی سزا مقرر ہے۔)

زنا کی تہمت کی سزا جب کہ چار گواہ نہ لا سکے اسّی کوڑے اور زنا کی سزا سو کوڑے مقرر ہے خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ دونوں کو یعنی زانی اور زانیہ کو سو کوڑے کی سزا ہے۔ زنا بالجبر میں مرد کو سزا ملے گی اور عورت کو حد معاف ہوگی۔

وائل بن حجر رضی اللہ تعالی سے روایت ہے ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو حد سے بری قرار دے کر معاف فرمادیا اور مرد پر حد قائم کی۔
(ترمذی)

عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی سے روایت ہے۔ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قوم میں زنا پھیل جاتا ہے اس قوم کو قحط پکڑ لیتا ہے یا وبا پھیل جاتی ہے۔
(مسند احمد)[/SIZE]
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کورٹ, پاکستان, وصیت, قرآن, لڑکی, موت, اللہ, بھائی, جواب, حدیث, حسن, دوست, دریافت, شادی, شخص, طلاق, عقل, علی, عالم, صفت, صالح, صحیح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:54 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger