| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11) |
|
|
#166 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
When It Was Happened In Hadith Tafseer?
وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (23:50) اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا، پناہ دی تھی ۔ And We made the son of Mary and his mother as a Sign: We gave them both shelter on high ground, affording rest and security and furnished with springs. حضرت عیسیٰ کو اللہ نے صلیب سے بچا کر عزت دی اسکے بعد ان کا طبعی طور پر انتقال ہو گیا۔ کب کہاں چلے گئے ؟ قرآن نے کہا۔ ہم نے ان دونوں کو ‘ ان کی دستبرد سے محفوظ کر کے ایک مرتفع مقام میں پناہ دی‘ جو ان کے اپنے لیے ہر طرح موزوں تھا۔ اس میں صاف اور شفاف پانی کے چشمے رواں تھے جن کی وجہ سے وہ جگہ نہایت سرسبز وشاداب تھی۔ قرآنِ کریم نے اس جگہ کو ربوا (23:50) کہا ہے ۔ ربوا کے معنی ہوتا ہے وہ زمین جس کی سطح مرتفع ذرا اونچی ہو۔ QXP Shabbir Ahemd**And We made the son of Mary and his mother a symbol (of Our Grace). And, We gave them abode on an elevated resort, affording rest and security and fresh water springs. (As they migrated from Canaan after the attempted crucifixion.) |
|
|
|
|
#167 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تفسیر ابن کثیر
اظہارخو دمختاری قتادہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا۔ (Wrong! Because Of Reverse Order Of Verse of Quran.) ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں۔ (Right! Apparently He Was Died Naturally After Some Time After The Attempt Of Killing.) وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا۔ (Right) ) نیند میں تھے بے ہوش ہو گے تھے ۔ ( ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا۔ )نصاریٰ کہتے ہیں پھر ا ٹھا لیا آسمان پر۔ ( (Wrong) وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا۔ (Not in Vertical but Horizontals Direction) وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (23:50) اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا، پناہ دی تھی (23:50) مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کر دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں۔ ) نیند میں تھے بے ہوش ہو گے تھے ۔ ( اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تو فی سے یہاں مراد ان کا رفع ہے۔ )اس آیت میں اللہ تعالی نے رفع اور توفی دونوں ہی الفاظ ایک ساتھ حضرت عیسی کے لئے استعمال کرڈالے۔ اب تو آپ کے لئے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کے مصداق کوئی چارہ ہی نہیں رہ گیا تھا کہ یہاں غلط مطلب لینے کی ضد کرتے کیونکہ رفع کا ترجمہ بھی آپ جسم سمیت اٹھانے پر ضد کررہے تھے اور توفی پر بھی یہی ضد تھی کہ جسم سمیت پورا پورا اٹھا لیا۔ اب اس آیت میں آپ بری طرح پھنس گئے تھے کہ رفع اور توفی دونوں ایک ساتھ یہاں موجود ہیں۔ اب اگر وہی ترجمہ کریں تو دو مرتبہ اٹھانے کا ترجمہ کرنا پڑتا جو کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ یہاں اللہ تعالی نے صرف یہی نہیں کیا کہ رفع اور توفی دونوں ایک ساتھ استعمال کیے بلکہ توفی کو رفع سے پہلے رکھا۔ یعنی آپ کے لئے غلط مطلب کرنے کے تمام راستے اللہ نے بند کردئے۔ کیونکہ اگر رفع کا لفظ توفی سے پہلے ہوتا تو آپ سے قوی امید تھی کہ یہاں آپ فورا توفی کو وفات کے معنوں میں تسلیم کرلیں گے تاکہ یہ کہہ سکیں کہ جناب پہلے رفع یعنی اٹھایا جائے گا پھر زمین پر آکر وفات ہوگی۔ لیکن اللہ تعالی نے توفی کو رفع سے پہلے رکھ کر آپ کے لئے یہ چور دروازہ بھی بند کردیا کہ وفات کے بعد جسمانی اٹھایا جانا ہوہی نہیں سکتا۔ لیکن آفرین ہے کہ آپ پر کہ پچھلی آیت میں تو آپ نے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں لقمہ دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ الفاظ قیامت میں کچھ اور ہو جائیں گے۔ لیکن یہاں آپ نے اللہ تعالی کے منہ میں لقمہ دینے سے بھی دریغ نہیں کیا کہ بس کسی طرح عیسی زندہ ہوجائیں چاہے قرانی الفاظ کو ہی کیوں نہ آگے پیچھے کرنا پڑے۔ اور آپ نے ایک انتہائی بھونڈا حربہ "تقدیم و تاخیر" کا نکالا کہ یہاں اللہ تعالی نے توفی کو رفع سے پہلے رکھ دیا ہے لیکن اصل میں رفع کے بعد توفی ہوگی۔ افسوس کہ عیسی کو زندہ کرنے کے جوش میں آپ نے قرآنی الفاظ کو بھی تختہ مشق بناڈالا۔ جس لفظ کو اللہ نے پہلے رکھا ہے کسی بندے کی کیا مجال کہ اسے کہے کہ اصل میں یہ بعد میں ہوگا۔ ایسا عقیدہ آپ ہی کو مبارک ہو جس کے لئے آپ کو کیا کیا حرکتیں کرنی پڑ رہی ہیں۔ اب یہ بتائیے کیا آپ سے اس مسئلے پر مذید بحث کی کوئی گنجائش ہے۔ جو شخص تمام لغات العرب کے بھی خلاف چلے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو نہ مانے اور اپنا عقیدہ ثابت کرنے کے لئے قرآن کے الفاظ کو بھی آگے پیچھے سمجھنے سے دریغ نہ کرے اس سے کیا بات کی جائے۔ اسطرح تو آپ سبھی کچھ ثابت کرسکتے ہیں اور ثابت کرتے رہیں لیکن ایسا عقیدہ آپ ہی کو مبارک ہو۔( اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ) 6۔الانعام:60) وہ اللہ ذوالمنن جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے آیت (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا) 39۔الزمر:42) یعنی اللہ تعالٰی ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے (حدیث الحمد للہ الذی احیانا بعدما اماتنا ) یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا، اور جگہ فرمان باری تعالٰی وبکفرھم سے شیھدا تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا۔ ) ہوشی کی نیند کی وجہ سے ۔ یا شاید کچھ ایسی کیفیت میں ڈال دیا ۔ ( موتہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ (Right) یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے۔ (Wrong, But Some Accepted the Truth.) ) کچھ اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے۔( جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آرہا ہے۔ (Wrong, Not in Quran!) انشاء اللہ، پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ ) اگر اللہ چاہتا تو سب مسلمان ہو جاتے۔ ایسا تو رسول کی زندگی میں نہیں ہوا ۔ ( کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے۔ (Wrong, Again Against Quran!) نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے۔ (Wrong, Against Quran! Rights of Minorities in Islam?) ابن ابی حاتم میں حضرت حسن سے(آیت انی متوفیک ) کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالٰی نے انہیں اٹھا لیا۔ (Right But Not In Vertical But Horizontal Direction) حضرت حسن فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ (Wrong, Not in Quran!) پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں۔ (Right But Not In Vertical But Horizontal Direction) اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب اللہ تعالٰی نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھا لیا… (Wrong, Not in Quran!) الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (2:22) جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لیے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔ پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ۔ اور تم جانتے تو ہو (2:22) Who has made the earth your couch, and the heavens your canopy; and sent down rain from the heavens; and brought forth therewith Fruits for your sustenance; then set not up rivals unto Allah when ye know (the truth). (2:22) أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا (17:93) یا تو تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں (17:93) "Or thou have a house adorned with gold, or thou mount a ladder right into the skies. No, we shall not even believe in thy mounting until thou send down to us a book that we could read." Say: "Glory to my Lord! Am I aught but a man,- a messenger?" (17:93) (Such Words Not For Prophet Isa In Quran) تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہوگئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالٰی کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالٰی ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے، پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فیلسوف تھا جس کا نام اسطفلین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لئے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سور کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے، غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین اسطفلین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زاید تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی ان کے ہاتھ تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالٰی کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اس لئے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے کی تھی، لہذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا، علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لئے اس آیت کے وعدے کے مطابق اللہ تعالٰی نے کافروں پر اس امت کو غالب کر اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملک کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آگئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تحت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہوگئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضامندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لئے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور انشاء اللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا۔ (Wrong, Again!) اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو (ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں۔ (Right, Do Not Obey After Fake Return of Isa) یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالٰی کے قول پر نظر ڈالیے کہ مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالٰی عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالٰی ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔ پھر فرمایا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت حضرت عیسیٰ کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالٰی نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا ، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالٰی کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہدیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔ |
|
|
|
|
#168 |
|
Senior Member
![]() |
مصنف کتب کے نام اور صفحہ نمبر بھی فراہم کردیجئے۔
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | بلال الراعی (07-09-11) |
|
|
#169 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Ghamidi Denied The Return of Jesus Christ Isa, The Non Quranic Christian Qadiani Faith
Easy QuranWaHadees V3.3, downloaded from internet |
|
|
|
|
#170 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مصنف کتب کے نام اور صفحہ نمبر بھی فراہم کردیجئے۔
دیکھیں آیت ۳:۵۵ کی تفسیر ابن کثیر میں تفسیر۔ |
|
|
|
|
#171 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب رانا عمار صاحب ۔۔۔۔ خوش فہمیوں کا علاج تو کسی کے پاس نہیں ہے۔۔۔۔ یہ یہودیوں کی کارستانیاں ہیں کہ جنہوں نے چند بے وقوفوں کو عقل عقل کہہ کر زیر کیا اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کے لئے چھوڑ دیا۔
یہ جو آپ نے اپنے جوابات کے ساتھ ہیڈنگ میں یہ لکھا ہے "نزول عیسیٰ علیہ السلام غیر قرآنی عیسائی قادیانی عقیدہ" تو جناب یہ آپ جیسے چند عقل سے پیدل حضرات کے عقل کے شاخسانے ہیں ۔۔۔اور کچھ نہیں صرف اتنا مختصر جواب عنایت فرمادیں کہ دنیائے اسلام کی وہ کون سی معتبر ہستیاں ہیں جنہوں نے یہ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا انکار کا) عقیدہ رکھا ؟؟؟ بلکہ معتبر علماء دین کے علاوہ بھی یہ بتائیں کہ سو ڈیڑھ سو سال قبل کن مسلمانوں نے یہ عقیدہ رکھا ؟؟؟ امید ہے کہ اپنی عقل کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے سوال کے مطابق ہی جواب دیں گے |
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#172 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو جناب یہ آپ جیسے چند عقل سے پیدل راویوں کی عقل کے شاخسانے ہیں ۔۔۔اور کچھ نہیں۔
چند نمونے کی روایات اورحاضر ہیں۔ صحیح مسلم کتاب حدیث رضاعت کا بیان کتاب باب بڑے کی رضاعت کے بیان میں 3503حدیث نمبر و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِعَائِشَةَ إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْکِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا لَکِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ قَالَتْ إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْئٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ حَتَّی يَدْخُلَ عَلَيْکِ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1109 حدیث مرفوع مکررات 20 متفق علیہ محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حمید بن نافع، حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا تیرے پاس ایفع (نامی) نوجوان آتا ہے جس کا میں اپنے پاس آنا پسند نہیں کرتی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کیا تیرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ نہیں ہے کہا ابوحذیفہ کی بیوی نے کہا اے اللہ کے رسول سالم میرے پاس آتا ہے حالانکہ وہ نوجوان ہے اور ابوحذیفہ کو اس بارے میں ناگواری ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے دودھ پلا دے جس سے وہ تیرے پاس آسکے گا۔ The Book of Marriage (Kitab Al-Nikah) Muslim :: Book 8 : Hadith 3427 Umm Salama said to 'A'isha (Allah be pleased with her): A young boy who is at the threshold of puberty comes to you. I, however, do not like that he should come to me, whereupon 'A'isha (Allah be pleased with her) said: Don't you see in Allah's Messenger (may peace be upon him) a model for you? She also said: The wife of Abu Hudhaifa said: Messenger of Allah, Salim comes to me and now he is a (grown-up) person, and there is something that (rankles) in the mind of Abu Hudhaifa about him, whereupon Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Suckle him (so that he may become your foster-child), and thus he may be able to come to you (freely). Take Off Veil, Hijab, Niqab, Purdah, Burqa By Breastfeeding Adults Ahadith Based Fatwa (Urdu/English/Arabic) Muslim Scientists Improving Technology to Minimize the Need for Muslim Husbands to Physically Touch Their Wives 43 - انبیاء علیہم السلام کا بیان : (585) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان۔ حدثنا محمد بن بشار حدثنا غندر حدثنا شعبة عن الحکم سمعت أبا وائل قال لما بعث علي عمارا والحسن إلی الکوفة ليستنفرهم خطب عمار فقال إني لأعلم أنها زوجته في الدنيا والآخرة ولکن الله ابتلاکم لتتبعوه أو إياها صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 977 حدیث مرفوع مکررات 6 محمد بن بشار غندر شعبہ حکم حضرت ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی نے عمار اور حسن کو کوفہ روانہ کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو جہاد کے لئے آمادہ کریں تو عمار نے خطبہ پڑھ کر بیان کیا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ یقینا حضرت عائشہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا و آخرت میں بیوی ہیں لیکن خدا نے تمہاری آزمائش کی ہے کہ تم علی کا اتباع کرتے ہو یا عائشہ کی پیروی۔ Narrated Abu Wail: When 'Ali sent 'Ammar and Al-Hasan to (the people of) Kufa to urge them to fight, 'Ammar addressed them saying, "I know that she (i.e. 'Aisha) is the wife of the Prophet in this world and in the Hereafter (world to come), but Allah has put you to test, whether you will follow Him (i.e. Allah) or her." لیکن خدا نے تمہاری آزمائش کی ہے کہ تم علی کا اتباع کرتے ہو یا عائشہ کی پیروی۔ لیکن خدا نے تمہاری آزمائش کی ہے کہ تم ابن عباس کا اتباع کرتے ہو یا قتادہ وغیرہ کی پیروی۔ ابن عباس فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں۔ تیرہ سو سال سے گھڑی ایسی صحیح متفق علیہ روایات سے میں تو باز آیا۔ Sahih Bukhari Says on Sex Matters Dash Dash Dash (ENG) Preservation of Hadith Salute to the Courage of Imam Tabari & Tirmidhi Analysis of Sahih Bukhari Narration on Anal Sex Permissibility Last edited by rana ammar mazhar; 09-09-11 at 06:07 PM. |
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (08-09-11) |
|
|
#173 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رانا صاحب یہ صرف تمہارا ہی مسئلہ نہیں بلکہ اکثر و بیشتر باطل پرستوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ کبھی بھی جواب سوال کے مطابق نہیں دیتے ۔۔۔بلکہ نئی بحث چھیڑ کر موضوع کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ اُن کے باطل عقائد پر ایسے ہی پردہ پڑا رہے۔۔
اگر تو تمہارے پاس ہمارے سوال کا مختصر جواب ہے تو پیش کرو |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا | حیدر (08-09-11), عبداللہ آدم (08-09-11) |
|
|
#174 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قرآن میں آسمان سے زندہ واپس آنے کی آیت نہیں ہے ۔
أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ عیسٰی ( آیت ؟ : سورت ؟ ) ہے تو پیش کریں۔ کسی نئے یا پرانے نبی کی آمد ختم نبوت کے خلاف ہے۔ |
|
|
|
|
#175 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب آیت ہی نہیں تو حدیث میں تفسیر کس بات کی ؟
جب قرآن میں آسمان سے زندہ واپس آنے کی آیت ہی نہیں ہے تو حدیث میں تفسیر کس بات کی ہے ؟ یہ نزول عیسٰی علیہ السلام کی روایات یہودیوں کی تفسیر ہیں کہ جنہوں نے چند بے وقوفوں کو عقل عقل کہہ کر زیر کیا اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کے لئے چھوڑ دیا۔ |
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | بلال الراعی (07-09-11) |
|
|
#176 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#177 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#178 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#179 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#180 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زونگ کا نمبر | ارشد کمبوہ | قہقہے ہی قہقے | 1 | 13-07-11 09:04 AM |
| خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی | گلاب خان | خبریں | 2 | 18-06-11 04:16 PM |
| نزول عذابِ الٰہی کا قانون | عصمت | اسلام اور معاشرہ | 2 | 28-05-11 02:31 AM |
| اچھے عیسٰی ہو، | Wahid Mahmood | امیر مینائی | 5 | 03-12-10 10:32 PM |
| عالم آن موبائیل زونگ | Real_Light | موبائل ہی موبائل | 0 | 04-09-08 12:29 AM |