| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11) |
|
|
#181 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#182 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#183 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ناصر نعمان صاحب کیا یہ حدیث درست ہے ؟؟
میں کسی نئی بحث کو نہیں چھیڑ رہا بلکے صرف اپنی انفارمیشن اپڈیٹ کررہا ہوں مختصراً جواب عنایت فرمادیں اقتباس:
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (08-09-11) |
|
|
#184 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#185 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#186 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#187 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#188 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#189 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
#190 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہےکہ اتنا مختصر جواب کافی ہے ۔
یا اور دوں ؟ |
|
|
|
|
#191 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی جی میرا سوال ناصر نعمان سے تھا
آپکی پیش کی ہوئی ایک حدیث پر |
|
|
|
|
#192 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اپنے آپ کو میرے حوالہ کردے۔
کیا کوئی شہزادی اپنے آپ کو کسی بازاری کے حوالہ کرسکتی ہے۔ امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے کھجور کے گھر میں اتاری گئی اور اس کے ساتھ ایک نگرانی کرنے والی دایہ تھی۔ امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا، جب وہ آپ کے پاس لائی گئی تو آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، اس نے ناپسند کیا۔ 48 - طلاق کا بیان : (86) اس شخص کا بیان جو طلاق دے اور کیا یہ ضروری ہے کہ مرد اپنی بیوی کی طرف طلاق دیتے وقت متوجہ نہ ہو حدثنا أبو نعيم حدثنا عبد الرحمن بن غسيل عن حمزة بن أبي أسيد عن أبي أسيد رضي الله عنه قال خرجنا مع النبي صلی الله عليه وسلم حتی انطلقنا إلی حائط يقال له الشوط حتی انتهينا إلی حائطين فجلسنا بينهما فقال النبي صلی الله عليه وسلم اجلسوا ها هنا ودخل وقد أتي بالجونية فأنزلت في بيت في نخل في بيت أميمة بنت النعمان بن شراحيل ومعها دايتها حاضنة لها فلما دخل عليها النبي صلی الله عليه وسلم قال هبي نفسک لي قالت وهل تهب الملکة نفسها للسوقة قال فأهوی بيده يضع يده عليها لتسکن فقالت أعوذ بالله منک فقال قد عذت بمعاذ ثم خرج علينا فقال يا أبا أسيد اکسها رازقيتين وألحقها بأهلها وقال الحسين بن الوليد النيسابوري عن عبد الرحمن عن عباس بن سهل عن أبيه وأبي أسيد قالا تزوج النبي صلی الله عليه وسلم أميمة بنت شراحيل فلما أدخلت عليه بسط يده إليها فکأنها کرهت ذلک فأمر أبا أسيد أن يجهزها ويکسوها ثوبين رازقيين صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 239 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 4 ابونعیم، عبدالرحمن بن غسیل، حمزہ بن ابی اسید، ابواسید کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل کر ایک باغ پر پہنچے، جس کو شوط کہا جاتا تھا، جب ہم اس کی دو دیواروں کے درمیان پہنچے تو ہم وہاں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں بیٹھے رہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے، وہاں جونیہ لائی گئی اور امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے کھجور کے گھر میں اتاری گئی اور اس کے ساتھ ایک نگرانی کرنے والی دایہ تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب پہنچے تو فرمایا تو اپنے آپ کو میرے حوالہ کردے، اس نے کہا کیا کوئی شہزادی اپنے آپ کو کسی بازاری کے حوالہ کرسکتی ہے، آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ اس کے سر پر رکھ کر اسے تسکین دیں، اس نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں، آپ نے فرمایا تو نے ایسی ذات کی پناہ مانگی ہے جس کی پناہ مانگی جاتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ابواسید! اس کو دورازقی کپڑے پہنا کر اس کے گھر والوں کے پاس پہنچادے، حسین بن ولید، نیشاپوری نے عبدالرحمن، عباس بن سہل وہ اپنے والد اور ابواسید سے روایت کرتے ہیں، ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا، جب وہ آپ کے پاس لائی گئی تو آپ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا، اس نے ناپسند کیا تو آپ نے ابواسید کو حکم دیا کہ اسے سامان مہیا کردے اور دورازقی کپڑے پہنادے۔ Narrated Abu Usaid: We went out with the Prophet to a garden called Ash-Shaut till we reached two walls between which we sat down. The Prophet said, "Sit here," and went in (the garden). The Jauniyya (a lady from Bani Jaun) had been brought and lodged in a house in a date-palm garden in the home of Umaima bint An-Nu'man bin Sharahil, and her wet nurse was with her. When the Prophet entered upon her, he said to her, "Give me yourself (in marriage) as a gift." She said, "Can a princess give herself in marriage to an ordinary man?" The Prophet raised his hand to pat her so that she might become tranquil. She said, "I seek refuge with Allah from you." He said, "You have sought refuge with One Who gives refuge. Then the Prophet came out to us and said, "O Abu Usaid! Give her two white linen dresses to wear and let her go back to her family." Narrated Sahl and Abu Usaid: The Prophet married Umaima bint Sharahil, and when she was brought to him, he stretched his hand towards her. It seemed that she disliked that, whereupon the Prophet ordered Abu Usaid to prepare her and to provide her with two white linen dresses. (See Hadith No. 541). 54 - مشروبات کا بیان : (66) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالے سے پینے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن کا بیان اور ابوبردہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن سلام نے کہا، کیا میں تمہیں اس برتن میں نہ پلاؤں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاہے حدثنا سعيد بن أبي مريم حدثنا أبو غسان قال حدثني أبو حازم عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال ذکر للنبي صلی الله عليه وسلم امرأة من العرب فأمر أبا أسيد الساعدي أن يرسل إليها فأرسل إليها فقدمت فنزلت في أجم بني ساعدة فخرج النبي صلی الله عليه وسلم حتی جائها فدخل عليها فإذا امرأة منکسة رأسها فلما کلمها النبي صلی الله عليه وسلم قالت أعوذ بالله منک فقال قد أعذتک مني فقالوا لها أتدرين من هذا قالت لا قالوا هذا رسول الله صلی الله عليه وسلم جائ ليخطبک قالت کنت أنا أشقی من ذلک فأقبل النبي صلی الله عليه وسلم يومئذ حتی جلس في سقيفة بني ساعدة هو وأصحابه ثم قال اسقنا يا سهل فخرجت لهم بهذا القدح فأسقيتهم فيه فأخرج لنا سهل ذلک القدح فشربنا منه قال ثم استوهبه عمر بن عبد العزيز بعد ذلک فوهبه له صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 604 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 4 سعید بن ابی مریم، ابوغسان، اباحازم، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید ساعدی کو بھیجا کہ اس کے پاس کسی کو بھیج کر بلائیں، چنانچہ ایک آدمی اس کے پاس بھیجا گیا تو وہ عورت آئی اور بنی ساعدہ کے مکانات میں ٹھہری، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے یہاں تک کہ اس عورت کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ اپنا سرجھکائے ہوئے تھی، جب اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کی تو اس نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ کو پناہ دی، لوگوں نے اس سے پوچھا کیا تو جانتی ہے کہ یہ کون تھے؟ اس نے کہا نہیں، لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جو تمہارے پاس پیغام نکاح لے کر آئے تھے، اس عورت نے کہا کہ میں بدبخت ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن سقیفہ بنی ساعدہ میں تشریف لائے، یہاں تک کہ آپ اور آپ کے ساتھی بیٹھ گئے، پھر فرمایا اے سہل! ہمیں پانی پلاؤ، تو میں یہ پیالہ ان لوگوں کے لئے لے کر آیا اور اسی میں ان سب کو پلایا، راوی کا بیان ہے کہ سہل نے وہی پیالہ نکالا اور ہم نے اس میں پیا، پھر اس کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیزنے وہ پیالہ ان سے مانگا تو انہوں نے وہ پیالہ ان کو ہبہ کردیا۔ Narrated Sahl bin Sad: An Arab lady was mentioned to the Prophet so he asked Abu Usaid As-Sa'idi to send for her, and he sent for her and she came and stayed in the castle of Bani Sa'ida. The Prophet came out and went to her and entered upon her. Behold, it was a lady sitting with a drooping head. When the Prophet spoke to her, she said, "I seek refuge with Allah from you." He said, "I grant you refuge from me." They said to her, "Do you know who this is?" She said, "No." They said, "This is Allah's Apostle who has come to command your hand in marriage." She said, "I am very unlucky to lose this chance." Then the Prophet and his companions went towards the shed of Bani Sa'ida and sat there. Then he said, "Give us water, O Sahl!" So I took out this drinking bowl and gave them water in it. The sub-narrator added: Sahl took out for us that very drinking bowl and we all drank from it. Later on Umar bin 'Abdul 'Aziz requested Sahl to give it to him as a present, and he gave it to him as a present. 38 - پینے کی چیزوں کا بیان : (25 ![]() اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے ۔ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ذُکِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ الْعَرَبِ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَائَهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَکِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا کَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ قَالَ قَدْ أَعَذْتُکِ مِنِّي فَقَالُوا لَهَا أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا فَقَالَتْ لَا فَقَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَکِ لِيَخْطُبَکِ قَالَتْ أَنَا کُنْتُ أَشْقَی مِنْ ذَلِکَ قَالَ سَهْلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّی جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ اسْقِنَا لِسَهْلٍ قَالَ فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِکَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا فِيهِ قَالَ ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَوَهَبَهُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ اسْقِنَا يَا سَهْلُ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 739 حدیث مرفوع مکررات 4 متفق علیہ 4 محمد بن سہل تمیمی، ابوبکر بن اسحاق ، ابوبکر، ابن ابی مریم، محمد بن مطرف، ابوغسان، ابوحازم ، حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابواسید کو حکم فرمایا کہ اس عورت کی طرف جاؤ۔ Sahl b. Sa'd reported: An Arab woman was mentioned before Allah's Messenger (may peace be upon him). He commanded Abu Usaid to send a message to her and he (accordingly) sent a message to her. She came and stayed in the fortresses of Banu Sa'idah. Allah's Messenger (may peace be upon him) went out until he came to her while she was (at that time) sitting with her head downcast. When Allah's Messenger (may peace be upon him) talked to her, she said: I seek refuge with Allah from you. Thereupon he said: I (have decided to) keep you away from me. They (the people near her) said: Do you know who he is? She said: No. They said: He is the Messenger of Allah (may peace be upon him). He came to you in order to give you the proposal of marriage. She said: Then I am the most unfortunate woman because of this (i. e. my defiance). Sahl said: Allah's Messenger (may peace be upon him) then set forth on that day until he sat in the Saqifa of Banu Sa'idah along with his Companions. He then said to Sahl: Serve us drink. He (Sahl) said: I brought out for them this bowl (containing drink) and served them this. Abu Hazim said: Sahl brought out this cup for us and we also drank from that. Then 'Umar b. 'Abd al-'Aziz asked him to give that (cup) as a gift to him and he gave (it to) him as a gift. In the narration of Abu Bakr b. Ishaq (the words) are: "Sahl, serve us drink." 1 - ا ب ج : (26407) حضرت ابواسید ساعدی کی حدیثیں مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 1886 حضرت ابواسید اور سہل سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کے ہمراہ ہمارے پاس سے گذرے میں بھی ہمراہ ہوگیا حتی کہ ہم چلتے چلتے سوط نامی ایک باغ میں پہنچے وہاں ہم بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ایک طرف بٹھا کر ایک گھر میں داخل ہوئے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ جون کی ایک خاتون کو لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ امیمہ بنت نعمان کے گھر میں خلوت کی اس خاتون کے ساتھ سواری کا جانور بھی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس خاتون کے پاس پہنچے تو اس سے فرمایا کہ اپنی ذات کو میرے لیے ہبہ کردو۔ العیاذ باللہ وہ کہنے لگی کہ کیا ایک ملکہ اپنے آپ کو کسی بازاری آدمی کے حوالے کرسکتی ہے میں تم سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسی ذات کی پناہ چاہی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے یہ کہہ کر آپ باہر آگئے اور فرمایا اے ابواسید اسے دوجوڑے دے کر اس کے اہل خانہ کے پاس چھوڑ آؤ بعض راویوں نے اس عورت کا نام امینہ بتایاہے۔ 1 - ا ب ج : (26407) حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی مرویات مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2873 حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ اور سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہمارے پاس سے گذرے میں بھی ہمراہ ہوگیاحتیٰ کہ چلتے چلتے ہم " سوط" نامی ایک باغ میں پہنچے وہاں ہم بیٹھ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک طرف بٹھا کر ایک گھر میں داخل ہوگئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ جون کی ایک خاتون کو لایا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ امیمہ بنت نعمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں خلوت کی ، اس خاتون کے ساتھ سواری کا جانور بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس خاتون کے پاس پہنچے تو اس سے فرمایا کہ اپنی ذات کو میرے لیے ھبہ کردو اس پر (العیاذباللہ ') وہ کہنے لگی کہ کیا ایک ملکہ اپنے آپ کو کسی بازاری آدمی کے حوالے کرسکتی ہے ؟ میں تم سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسی ذات سے پناہ چاہی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آگئے اور فرمایا اے ابواسید! اسے دوجوڑے دے کر اس کے اہل خانہ کے پاس چھوڑآؤبعض راویوں نے اس عورت کا نام امینہ بتایاہے۔ |
|
|
|
|
#193 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رانا عمار صاحب ۔۔۔ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ اور نہ ہی لمبی لمبی غیر متعلقہ پوسٹ کی ضرورت ہے
آپ کے اندر تو اتنی بھی عقل نہیں کہ لفظ "مختصر" اور "دنیائے اسلام کی متعبر ہستیاں" اور" سو ڈیڑھ سو سال قبل کے مسلمان" کے مفہوم سمجھ سکیں آپ سے گذارش ہے اگر آپ کو ان الفاظ کے مفہوم سمجھنے میں کوئی دشواری درپیش ہے تو اپنے ہی کسی ساتھی سے دریافت فرمالیں اور ہمارے سوال کے مطابق "مختصر" جواب عنایت فرمادیں اور جب معتبر علماء دین کے حوالہ جات پیش کریں تو اُن کی اصل عبارتیں اور حوالہ جات ضرور پیش کردیں (ضروری گذارش : عبارتیں اور اپنی تحریر اردو میں پیش کیجیے گا ہماری انگلش اتنی اچھی نہیں) Last edited by ناصر نعمان; 08-09-11 at 01:41 PM. |
|
|
|
|
#194 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا ۔۔۔ یعنی ہر کسی کے لئے عام نہ تھا جیسا کہ دوسری روایت میں دیگر ازواج مطہرات فرماتیں تھیں کہ یہ واقعہ خاص ان ہی کے لئے تھا ہرشخص کے لئے یہ حکم نہیں۔ (ابوداود ،کتاب النکاح :باب من حرم بہ ،ح :2061) اور اسی طرح ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہی مذہب چاروں اماموں ساتوں فقیہوں کل کے کل بڑے صحابہ کرام اور تمام امہات المومنین کا ہے(یعنی بڑے آدمی کے دودھ پینے سے حرمت نہیں ثابت ہوتی) سوائے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اور اس کی دلیل(یعنی بڑے آدمی کے دودھ پینے سے حرمت نہیں ثابت ہوتی) وہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھ لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں .رضاعت اس وقت ہے جب دودھ بھوک مٹاسکتا ہو۔ (بخاری ،کتاب النکاح : باب من قال رارضاع بعد حولین ،ح:5102) مسلم ،کتاب الرضاع :باب انما الرضاعۃ من المجاعۃ ،ح: 1455 امید ہے کہ ان مختصر الفاظ میں آپ کو یہ مسئلہ سمجھ آگیا ہوگا |
|
|
|
|
|
#195 |
|
Senior Member
![]() |
آپ لوگوں نے اتنا اچھا سکالر غامدی صاحب کو ملک سے نکلوا دیا ہے اب کیا چاہیے؟؟؟؟
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زونگ کا نمبر | ارشد کمبوہ | قہقہے ہی قہقے | 1 | 13-07-11 09:04 AM |
| خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی | گلاب خان | خبریں | 2 | 18-06-11 04:16 PM |
| نزول عذابِ الٰہی کا قانون | عصمت | اسلام اور معاشرہ | 2 | 28-05-11 02:31 AM |
| اچھے عیسٰی ہو، | Wahid Mahmood | امیر مینائی | 5 | 03-12-10 10:32 PM |
| عالم آن موبائیل زونگ | Real_Light | موبائل ہی موبائل | 0 | 04-09-08 12:29 AM |