| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11) |
|
|
#601 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نماز جنازہ کی دعا سے بھی کوئی "فوت شدہ" "مردہ" ثابت نہیں ہوتا تو عیسٰی علیہ السلام اکیلے کی تو یہ کوئی خوبی نہیں ہے !!! یا نماز جنازہ کی دعا میں بھی تحریف ہو چکی ہے کیا ؟؟؟ إنما العلم بالتعلم والحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتوق الشر يوقه ::: بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے اور جو کوٕئی خیر کے لیے کوشش کرتا ہے اسے خیر دی جاتی ہے اور جو کوٕئی شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچایا جاتا ہے اور جواب کوئی نہیں ہے آپ کے پاس ؟؟؟ بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے !!! عادل سہیل بھإئی ، اپنی طرف بلند کر لوں گا ، اور اپنے پاس بلند کر لوں گا ، یہ دونوں آپ ہی کے جملے ہیں کیا اب آپ نے بیان بدل لیا ہے !!!
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 06-11-11 at 10:54 AM. |
|
|
|
|
|
#602 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-11-11) |
|
|
#603 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
رانا بھائی ، آپ جس دعا کی بات کر رہے ہیں ، اس کو لکھ کر بتایے ، پھر کچھ بات ہو گی ، اس دعا والے سوال کے علاوہ کا جواب ہو چکا ہے ، غور فرمایے ، اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا تھا ::: إنما العلم بالتعلم والحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتوق الشر يوقه ::: بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے اور جو کوٕئی خیر کے لیے کوشش کرتا ہے اسے خیر دی جاتی ہے اور جو کوٕئی شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچایا جاتا ہے رانا بھائی کچھ ڈھنگ سے بات کرنے کا انداز اپنایے ، آپ نے جس بات کو جس طرح سمجھا ہوتا ہے ضروری نہیں کہ آپ کے بے ربط جملوں کو پڑھنے والا بھی اسے سمجھ سکے ، لہذا جناب صاف صاف مکمل ھوالے کے ساتھ بات کیا کیجیے، بتایے تو کہ میں نے عیسی علیہ السلام کے آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے کے موضوع سے متعلق کہاں وہ لکھا جسے آپ تضاد دکھا رہے ہیں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (07-11-11) |
|
|
#604 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
)اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ( عربوں کی عربی وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ { مُتَوَفِّيكَ } مُمِيتُكَ بالغ مرد و عورت دونوں کی نمازِ جنازہ کے لیے یہ دعا پڑھے :: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ. ’’یا اللہ! تو ہمارے زندوں کو بخش اور ہمارے مردوں کو، اور ہمارے حاضر شخصوں کو اور ہمارے غائب لوگوں کو اور ہمارے چھوٹوں کو اور ہمارے بڑوں کو اور ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو۔ یا اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو ہم میں سے موت دے تو اس کو ایمان پر موت دے۔‘‘ عادل سہیل بھإئی کاعجمی ترجمہ : وَقَالَ عادل سہیل { مُتَوَفِّيكَ } زندہ سلامت یا اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو ہم میں سے زندہ رکھےتو اس کو ایمان پر زندہ رکھے ؟ __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (09-11-11) |
|
|
#605 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
لہذا (((((رَافِعُكَ إِلَيَّ ،،،،، ::: اپنی طرف بُلند کر لوں گا))))) اور (((((رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ::: بلکہ اللہ نے عیسیٰ کو اپنی طرف بلند کر لیا))))) میں اللہ کی طرف بلندیوں میں اٹھائے جانے کی یقینی خبر ہے ، اپنی طرف بلند کر لوں گا ، اور اپنے پاس بلند کر لوں گا ، اس طرف بلند کر لیا کہاں ؟؟؟ When It Was Happened In Hadith Tafseer ? وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ ( 23:50 ) اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا، پناہ دی تھی ۔ And We made the son of Mary and his mother as a Sign: We gave them both shelter on high ground, affording rest and security and furnished with springs. حضرت عیسیٰ کو اللہ نے صلیب سے بچا کر عزت دی اسکے بعد ان کا طبعی طور پر انتقال ہو گیا۔ کب کہاں چلے گئے ؟ قرآن نے کہا۔ ہم نے ان دونوں کو ‘ ان کی دستبرد سے محفوظ کر کے ایک مرتفع مقام میں پناہ دی‘ جو ان کے اپنے لیے ہر طرح موزوں تھا۔ اس میں صاف اور شفاف پانی کے چشمے رواں تھے جن کی وجہ سے وہ جگہ نہایت سرسبز وشاداب تھی۔ قرآنِ کریم نے اس جگہ کو ربوا (23:50) کہا ہے ۔ ربوا کے معنی ہوتا ہے وہ زمین جس کی سطح مرتفع ذرا اونچی ہو۔ QXP Shabbir Ahemd**And We made the son of Mary and his mother a symbol (of Our Grace). And, We gave them abode on an elevated resort, affording rest and security and fresh water springs. (As they migrated from Canaan after the attempted crucifixion.) |
||
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (09-11-11) |
|
|
#606 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
167 - قرب قیامت اور جو شخص مرگیا اس پر قیامت قائم ہوگئی کا بیان : ( 8 ) قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں وعن جابر قا ل سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول قبل أن يموت بشهر تسألوني عن الساعة ؟ وإنما علمها عند الله وأقسم بالله ما على الأرض من نفس منفوسة يأتي عليها مائة سنة وهي حية يومئذ . رواه مسلم مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 80 " اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے ایک مہینہ پہلے یہ فرماتے ہوئی سنا کہ تم لوگ مجھ سے قیامت کا وقت پوچھا کرتے ہو ( کہ پہلا صور کب پھونکا جائے گا اور دوسرا کب ) تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا متعین وقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر ایسا کوئی شخص موجود نہیں ہے جس پر سو سال کا عرصہ گزرے اور وہ اس کے بعد بھی زندہ رہے ۔ " ( مسلم ) تشریح : اس کا متعینہ وقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے " کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا کہ تم لوگ قیامت کبری کے آنے کا وقت مجھ سے کیا پوچھتے ہو ، مجھے تو خود اس کا متعینہ وقت معلوم نہیں ہے کسی کو بھی اس سے باخبر نہیں کیا ہے، صرف وہی جانتا ہے کہ وہ قیامت کب آئے گی ہاں قیامت صغری اور وسطی کے بارے میں جو کچھ مجھے معلوم ہے وہ تمہیں بتائے دیتا ہوں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے بارے میں آگاہ فرمایا ۔ " اس وقت روئے زمین پر ایسا کوئی شخص موجود نہیں ہے الخ " کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت وسطی " کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس وقت میرے زمانہ میں جو لوگ موجود ہیں اور نسل ہمارے سامنے ہے اس کا خاتمہ سو برس کی مدت میں ہو جائے گا اس مدت کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا اس نسل کے خاتمہ کے ساتھ گویا ایک عہد ختم ہو جائے گا اور ایک نئے عہد ( قرآن ) کی ابتداء ہوگی جو آنے والی نسل کا عہد ہوگا ۔ پس پرانی نسل اور پرانے عہد کے خاتمہ اور اس کے بعد نئی نسل اور نئے عہد کی ابتداء کا نام قیامت وسطی ہے اور اسی طرح ہر انسان کی موت اس کے اعتبار سے " قیامت صغری " ہے !واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کی نسل کے خاتمہ کے ذریعہ طبقہ صحابہ کی مدت حیات کی طرف اشارہ فرمایا کہ میرے صحابہ ۔ جیسے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سلمان وغیرہ سو برس سے بھی زائد تک حیات رہے ! اور اگر یہ کہا جائے ، جو زیادہ صحیح بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سو سال کی مدت کا ذکر فرمایا اس کی ابتداء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے وقت سے مانی جانی چاہیے ) جیسا کہ آگے آنے والی حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے تو اس اعتبار سے " اکثر وغالب کی قید کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہے گی چنانچہ بعض حضرات نے اپنی یہ تحقیق بیان کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے وقت جتنے صحابہ حیات تھے یا اس زمانہ میں جو دوسرے اولیاء اللہ پیدا ہوئے وہ سب اس وقت سے ١٠٠ سال پورے ہونے سے پہلے وفات پا گئے تھے ۔ حضرت خضر علیہ السلام اس دنیا میں زندہ ہیں یا نہیں : بعض اکابر علماء نے اس حدیث سے حضرت خضر علیہ السلام کی موت پر استدلال کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس ارشاد گرامی کے وقت روئے زمین پر جو لوگ موجود اور حیات تھے ان میں حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے لہذا مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق یہ ضروری ہے کہ وہ دو سو سال کی اس مدت کے بعد اس دنیا میں زندہ نہ رہے ہوں اور وفات پاگئے ہوں ۔ لیکن دوسرے علماء اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام کا معاملہ بالکل خصوصی نوعیت کا ہے اور ان کی ذات مذکورہ اور ارشاد گرامی کے دائرہ سے باہر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی امت کے بارے میں یہ خبر دی تھی کہ میری امت کے وہ لوگ جو اس وقت موجود وحیات ہیں ١٠٠ سو سال کے اندر وفات پاجائیں گے اور ظاہر ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا تعلق اس امت سے نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی نبی کسی دوسرے نبی کی امت میں سے نہیں ہوتا بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں " علی الارض " ( روئے زمین پر ) کی قید نے حضرت الیاس علیہ السلام کو مذکورہ مفہوم کے دائرے سے باہر کر دیا تھا کیونکہ یہ دونوں اس وقت روئے زمین پر نہیں تھے بلکہ پانی پر تھے ۔ امام بغوی نے تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں سے چار حضرات زندہ ہیں اور ان میں سے دو یعنی حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام تو روئے زمین پر ہیں اور دو یعنی حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں ! یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مشائخ سے تواتر کے ساتھ بعض ایسے واقعات منقول ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام اس دنیا میں زندہ موجود ہیں اگرچہ بعض حضرات نے یہ تاویل کی ہے کہ " خضر " دراصل ایک منصب ہے جس پر ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی ہستی فائز رہتی ہے اور اس کے فرائض میں مخلوق خدا کو مدد و فائدہ پہنچاتا ہے لیکن اولیاء کاملین کے منقولات وحالات سے انہی خضر علیہ السلام کا زندہ موجود ہونا ثابت ہوتا ہے جو بنی اسرائیل میں سے ایک نبی اور حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھی ومصاحب تھے ۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زونگ کا نمبر | ارشد کمبوہ | قہقہے ہی قہقے | 1 | 13-07-11 09:04 AM |
| خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی | گلاب خان | خبریں | 2 | 18-06-11 04:16 PM |
| نزول عذابِ الٰہی کا قانون | عصمت | اسلام اور معاشرہ | 2 | 28-05-11 02:31 AM |
| اچھے عیسٰی ہو، | Wahid Mahmood | امیر مینائی | 5 | 03-12-10 10:32 PM |
| عالم آن موبائیل زونگ | Real_Light | موبائل ہی موبائل | 0 | 04-09-08 12:29 AM |