واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


غامدی :نزول عیسٰی علیہ السلام

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-09-09, 03:53 PM  
غامدی :نزول عیسٰی علیہ السلام
sahj sahj آف لائن ہے 30-09-09, 03:53 PM

__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 14781
24 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (09-09-10), Miss Khan (26-10-11), کاشف اکرم وارثی (11-09-11), یاسر عمران مرزا (03-10-09), قاسمی (28-09-11), نورالدین (02-03-10), نبیل خان (08-09-11), مون لائیٹ آفریدی (06-09-11), مباح (06-01-10), محمد عاصم (02-10-10), محمدمبشرعلی (02-01-10), مرزا عامر (10-09-10), ابوسعد (23-08-11), احمد نذیر (07-09-11), جان جی (25-11-11), حیدر (08-10-09), حیدر Rehan (02-01-10), شھزادباجوہ (08-09-11), شمشاد احمد (20-09-11), شاہد جمیل حفیظ (07-10-09), عبداللہ آدم (10-09-10), عبداللہ حیدر (07-10-09), عروج (02-10-10), غلام خان (20-06-11)
پرانا 06-11-11, 08:48 AM   #601
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اور جواب کوئی نہیں ہے آپ کے پاس ؟؟؟ بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
رانا بھإئی ،
اپنی طرف بلند کر لوں گا ، اور
اپنے پاس بلند کر لوں گا ،
اللہ سُبحانہ‌ُ و تعالیٰ کی ذات پاک کی نسبت سے یہ دونوں بہت ہی مختلف کیفیات ہیں ،
لیکن ،،،،،،،،،،،،،، إنما العلم بالتعلم والحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتوق الشر يوقه ::: بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے اور جو کوٕئی خیر کے لیے کوشش کرتا ہے اسے خیر دی جاتی ہے اور جو کوٕئی شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچایا جاتا ہے ،
و السلام علیکم ۔
ہر آدمی جو گزر جاتا ہے اس کے جنازہ پر "فوت" والی دعا پڑھی جاتی ہے اور آپ کے عقیدہ کے مطابق وہ "فوت" مطلب "زندہ" ہی ہوتا ہے !!!

نماز جنازہ کی دعا سے بھی کوئی "فوت شدہ" "مردہ" ثابت نہیں ہوتا تو عیسٰی علیہ السلام اکیلے کی تو یہ کوئی خوبی نہیں ہے !!!


یا نماز جنازہ کی دعا میں بھی تحریف ہو چکی ہے کیا ؟؟؟

إنما العلم بالتعلم والحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتوق الشر يوقه ::: بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے اور جو کوٕئی خیر کے لیے کوشش کرتا ہے اسے خیر دی جاتی ہے اور جو کوٕئی شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچایا جاتا ہے

اور جواب کوئی نہیں ہے آپ کے پاس ؟؟؟ بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے !!!

عادل سہیل بھإئی ،
اپنی طرف بلند کر لوں گا ، اور
اپنے پاس بلند کر لوں گا ،

یہ دونوں آپ ہی کے جملے ہیں کیا اب آپ نے بیان بدل لیا ہے !!!
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 06-11-11 at 10:54 AM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
پرانا 06-11-11, 09:43 PM   #602
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,646
کمائي: 28,552
شکریہ: 7,152
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
علم حاصل کرنے سے ملتا ہے ۔ بردباری کرنے سے آتی ہے ۔
اس کا کیا تعلق ہے ۔۔۔۔ وفات سے اور حضرت عیسی کے آسمانوں میں جانے سے؟؟؟ کیا زبردستی دو الگ الگ باتوں کو ملایا جارہا ہے ؟؟؟؟ یہ بہت ہی بڑا مسئلہ ہے کچھ لوگوں کے ساتھ کہ بے ربط بات درج کر کے اور لاتعقلق ریفرنس فراہم کرکے سمجھتے ہیں‌کہ کوئی بہت ہی بڑی بات کہہ دی۔۔۔ اعوذ باللہ من شیطن الرجیم
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (07-11-11)
پرانا 07-11-11, 12:14 AM   #603
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
رانا بھائی ، آپ جس دعا کی بات کر رہے ہیں ، اس کو لکھ کر بتایے ، پھر کچھ بات ہو گی ،
اس دعا والے سوال کے علاوہ کا جواب ہو چکا ہے ، غور فرمایے ،
اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا تھا :::
إنما العلم بالتعلم والحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتوق الشر يوقه ::: بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے اور جو کوٕئی خیر کے لیے کوشش کرتا ہے اسے خیر دی جاتی ہے اور جو کوٕئی شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچایا جاتا ہے
رانا بھائی کچھ ڈھنگ سے بات کرنے کا انداز اپنایے ، آپ نے جس بات کو جس طرح سمجھا ہوتا ہے ضروری نہیں کہ آپ کے بے ربط جملوں کو پڑھنے والا بھی اسے سمجھ سکے ، لہذا جناب صاف صاف مکمل ھوالے کے ساتھ بات کیا کیجیے،
بتایے تو کہ میں نے عیسی علیہ السلام کے آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے کے موضوع سے متعلق کہاں وہ لکھا جسے آپ تضاد دکھا رہے ہیں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (07-11-11)
پرانا 07-11-11, 10:32 AM   #604
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عادل سہیل بھإئی کا عجمی ترجمہ : وَقَالَ عادل سہیل { مُتَوَفِّيكَ } زندہ سلامت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
رانا بھائی ، آپ جس دعا کی بات کر رہے ہیں ، اس کو لکھ کر بتایے ، پھر کچھ بات ہو گی ،
اس دعا والے سوال کے علاوہ کا جواب ہو چکا ہے ، غور فرمایے ،
اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا تھا :::
إنما العلم بالتعلم والحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتوق الشر يوقه ::: بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے اور جو کوٕئی خیر کے لیے کوشش کرتا ہے اسے خیر دی جاتی ہے اور جو کوٕئی شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچایا جاتا ہے
رانا بھائی کچھ ڈھنگ سے بات کرنے کا انداز اپنایے ، آپ نے جس بات کو جس طرح سمجھا ہوتا ہے ضروری نہیں کہ آپ کے بے ربط جملوں کو پڑھنے والا بھی اسے سمجھ سکے ، لہذا جناب صاف صاف مکمل ھوالے کے ساتھ بات کیا کیجیے،
بتایے تو کہ میں نے عیسی علیہ السلام کے آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے کے موضوع سے متعلق کہاں وہ لکھا جسے آپ تضاد دکھا رہے ہیں ، و السلام علیکم۔
قرآن میں کچھ الفاظ ہیں جو خود عربوں کی سمجھ میں نہیں آتے عجمی اثر سے !

)اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ(

عربوں کی عربی وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ { مُتَوَفِّيكَ } مُمِيتُكَ

بالغ مرد و عورت دونوں کی نمازِ جنازہ کے لیے یہ دعا پڑھے ::


اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ.

’’یا اللہ! تو ہمارے زندوں کو بخش اور ہمارے مردوں کو، اور ہمارے حاضر شخصوں کو اور ہمارے غائب لوگوں کو اور ہمارے چھوٹوں کو اور ہمارے بڑوں کو اور ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو۔ یا اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو ہم میں سے موت دے تو اس کو ایمان پر موت دے۔‘‘


عادل سہیل بھإئی کاعجمی ترجمہ : وَقَالَ عادل سہیل { مُتَوَفِّيكَ } زندہ سلامت

یا اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو ہم میں سے زندہ رکھےتو اس کو ایمان پر زندہ رکھے ؟
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 07-11-11, 06:52 PM   #605
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default خود ہی لکھا خود ہی بھول گئے !!! اپنی طرف "آسمان" کیسے ہوا ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
::::: تیسرے اعتراض کا دوسرا جواب ::::::
اسی تیسرے اعتراض کے آغاز میں بھائی نے لکھا ہے :::
""""" اگر ہم رفع الیہ کا ترجمہ اس طرح کریں کہ اللہ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو آسمانوں میں اٹھا لیا تو ہم اللہ کی بادشاہت اور قدرت کو اور اس کے وجود کو صرف آسمان تک محدود کر دیتے ہیں ۔ جبکہ اللہ جس طرح آسمانوں میں قائم ہے اس طرح زمین پر بھی- """""
اسی بات کے بارے میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ یہ اعتراض خلافء قران قران فہمی پر مبنی ہے ،
جی ہاں ، کیونکہ اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ نہ تو آسمانوں میں قائم ہے اور نہ زمین پر ،
جی ہاں ، اللہ العلی ، الاعلیٰ ، اپنے تمام تر مخلوق سے الگ ، جُدا ، بلند اپنے عرش سے اُوپر مستوی ہے ،
لہذا (((((رَافِعُكَ إِلَيَّ ،،،،، ::: اپنی طرف بُلند کر لوں گا)))))
اور (((((رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ::: بلکہ اللہ نے عیسیٰ کو اپنی طرف بلند کر لیا)))))
میں اللہ کی طرف بلندیوں میں اٹھائے جانے کی یقینی خبر ہے ،
میرے بھائی نےہماری دلیل والی آیات کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہر جگہ قائم یا موجود ہونے کی غلط فہمی کے مطابق سمجھتے ہوئے یہ اعتراض وارد کیا ہے ، جو کہ درست نہیں ہے ،
میں یہاں اس موضوع پر بات نہیں کروں گا کہ اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کی ذات مبارک ، وجود پاک کہاں ہے ؟ کیونکہ اس طرح ہمارے زیر مطالعہ موضوع سے انحراف واقع ہو جائے گا ،
بس فی الحال ، اِن شاء اللہ صرف اس مذکورہ بالا اعتراض کی منطق کے مطابق ایک بات کہتاہوں کہ اگر بھائی کے اعتراض کی منطق کے مطابق یہ تصور کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود جس طرح آسمانوں میں ہے اسی طرح زمین میں قائم ہے ، تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان یوں ہونا چاہیے تھے کہ
(((((انشرُكَ إِلَيَّ ،،،،، ::: اپنی طرف منتشر کر لوں گا)))))
اور (((((نشرَہُ اللَّهُ إِلَيْهِ::: بلکہ اللہ نے عیسیٰ کو اپنی طرف منتشر کر لیا)))))
کیونکہ ان کی منطق کے مطابق ، معاذ اللہ ، اللہ عزّ و جلّ کا وجود تو آسمانوں اور زمین میں منتشر قرار پاتا ہے ،
میں نے پہلےایک اور تھریڈ میں بھی ایک مراسلے میں لکھا تھا ، ایک دفعہ پھر یاد دہانی کرواتا ہوں کہ اس موضوع پر میری ایک کتاب """ اللہ کہاں ہے ؟ """ الحمد للہ تقریباً مکمل ہو چکی ہے ، اس موضوع کو سمجھنے کے لیے تمام قارئین کرام اس کا مطالعہ ضرور فرمائیں ، اِن شاء اللہ ،اگلے ایک دو مہینوں میں ہی اسے سب کے لیے قابل تنزیل میسر کردوں گا ، باذن اللہ ،
حاصل کلام یہ ہوا کہ اُن بھائی صاحب نے جس منطق کو اپنا کر اعتراضات وارد کیے ہیں وہ منطق ہی سِرے سے غلط ہے ، خلافء قران ہے ، صحیح ثابت شدہ احادیث ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین ، تبع تابعین اور امت کے اماموں رحمہم اللہ جمعیاً کے اقوال کے خلاف ہے ، لہذا س کے مطابق اخذ کردہ ترجمہ یا مفہوم بھی نا دُرُست ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان شاء اللہ اس کے بعد تیسرے اعتراض کا تیسرا جواب بھی پیش کروں گا ، پس ،
میری بات ابھی جاری ہے ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
رانا بھإئی ،
اپنی طرف بلند کر لوں گا ، اور
اپنے پاس بلند کر لوں گا ،
اللہ سُبحانہ‌ُ و تعالیٰ کی ذات پاک کی نسبت سے یہ دونوں بہت ہی مختلف کیفیات ہیں ،
لیکن ،،،،،،،،،،،،،، إنما العلم بالتعلم والحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتوق الشر يوقه ::: بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے اور جو کوٕئی خیر کے لیے کوشش کرتا ہے اسے خیر دی جاتی ہے اور جو کوٕئی شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچایا جاتا ہے ،
و السلام علیکم ۔
خود ہی لکھا خود ہی بھول گئے !!! اپنی طرف "آسمان" کیسے ہوا ؟؟؟

لہذا (((((رَافِعُكَ إِلَيَّ ،،،،، ::: اپنی طرف بُلند کر لوں گا)))))
اور (((((رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ::: بلکہ اللہ نے عیسیٰ کو اپنی طرف بلند کر لیا)))))
میں اللہ کی طرف بلندیوں میں اٹھائے جانے کی یقینی خبر ہے ،

اپنی طرف بلند کر لوں گا ، اور

اپنے پاس بلند کر لوں گا ،

اس طرف بلند کر لیا کہاں ؟؟؟

When It Was Happened In Hadith Tafseer ?

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ ( 23:50 )

اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا، پناہ دی تھی ۔

And We made the son of Mary and his mother as a Sign: We gave them both shelter on high ground, affording rest and security and furnished with springs.

حضرت عیسیٰ کو اللہ نے صلیب سے بچا کر عزت دی اسکے بعد ان کا طبعی طور پر انتقال ہو گیا۔

کب کہاں چلے گئے ؟ قرآن نے کہا۔


ہم نے ان دونوں کو ‘ ان کی دستبرد سے محفوظ کر کے ایک مرتفع مقام میں پناہ دی‘ جو ان کے اپنے لیے ہر طرح موزوں تھا۔ اس میں صاف اور شفاف پانی کے چشمے رواں تھے جن کی وجہ سے وہ جگہ نہایت سرسبز وشاداب تھی۔ قرآنِ کریم نے اس جگہ کو ربوا (23:50) کہا ہے ۔ ربوا کے معنی ہوتا ہے وہ زمین جس کی سطح مرتفع ذرا اونچی ہو۔

QXP Shabbir Ahemd**And We made the son of Mary and his mother a symbol (of Our Grace). And, We gave them abode on an elevated resort, affording rest and security and fresh water springs.
(As they migrated from Canaan after the attempted crucifixion.)
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 07-11-11, 07:05 PM   #606
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,613
شکریہ: 6,996
954 مراسلہ میں 1,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بےشک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُردباری کرنے سے آتی ہے انبیاء علیہم السلام میں سے چار حضرات زندہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا تھا :::
إنما العلم بالتعلم والحلم بالتحلم ومن يتحر الخير يعطه ومن يتوق الشر يوقه ::: بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے اور جو کوٕئی خیر کے لیے کوشش کرتا ہے اسے خیر دی جاتی ہے اور جو کوٕئی شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچایا جاتا ہے
بے شک علم حاصل کرنے سے ملتا ہے اور بُرد باری کرنے سے آتی ہے : انبیاء علیہم السلام میں سے چار حضرات زندہ ہیں

167 - قرب قیامت اور جو شخص مرگیا اس پر قیامت قائم ہوگئی کا بیان : ( 8 )
قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں

وعن جابر قا ل سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول قبل أن يموت بشهر تسألوني عن الساعة ؟ وإنما علمها عند الله وأقسم بالله ما على الأرض من نفس منفوسة يأتي عليها مائة سنة وهي حية يومئذ . رواه مسلم

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 80
" اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے ایک مہینہ پہلے یہ فرماتے ہوئی سنا کہ تم لوگ مجھ سے قیامت کا وقت پوچھا کرتے ہو ( کہ پہلا صور کب پھونکا جائے گا اور دوسرا کب ) تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا متعین وقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر ایسا کوئی شخص موجود نہیں ہے جس پر سو سال کا عرصہ گزرے اور وہ اس کے بعد بھی زندہ رہے ۔ " ( مسلم )

تشریح :
اس کا متعینہ وقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے " کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا کہ تم لوگ قیامت کبری کے آنے کا وقت مجھ سے کیا پوچھتے ہو ، مجھے تو خود اس کا متعینہ وقت معلوم نہیں ہے کسی کو بھی اس سے باخبر نہیں کیا ہے، صرف وہی جانتا ہے کہ وہ قیامت کب آئے گی ہاں قیامت صغری اور وسطی کے بارے میں جو کچھ مجھے معلوم ہے وہ تمہیں بتائے دیتا ہوں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے بارے میں آگاہ فرمایا ۔
" اس وقت روئے زمین پر ایسا کوئی شخص موجود نہیں ہے الخ " کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت وسطی " کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس وقت میرے زمانہ میں جو لوگ موجود ہیں اور نسل ہمارے سامنے ہے اس کا خاتمہ سو برس کی مدت میں ہو جائے گا اس مدت کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا اس نسل کے خاتمہ کے ساتھ گویا ایک عہد ختم ہو جائے گا اور ایک نئے عہد ( قرآن ) کی ابتداء ہوگی جو آنے والی نسل کا عہد ہوگا ۔ پس پرانی نسل اور پرانے عہد کے خاتمہ اور اس کے بعد نئی نسل اور نئے عہد کی ابتداء کا نام قیامت وسطی ہے اور اسی طرح ہر انسان کی موت اس کے اعتبار سے " قیامت صغری " ہے !واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کی نسل کے خاتمہ کے ذریعہ طبقہ صحابہ کی مدت حیات کی طرف اشارہ فرمایا کہ میرے صحابہ ۔ جیسے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سلمان وغیرہ سو برس سے بھی زائد تک حیات رہے ! اور اگر یہ کہا جائے ، جو زیادہ صحیح بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سو سال کی مدت کا ذکر فرمایا اس کی ابتداء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے وقت سے مانی جانی چاہیے ) جیسا کہ آگے آنے والی حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے تو اس اعتبار سے " اکثر وغالب کی قید کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہے گی چنانچہ بعض حضرات نے اپنی یہ تحقیق بیان کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے وقت جتنے صحابہ حیات تھے یا اس زمانہ میں جو دوسرے اولیاء اللہ پیدا ہوئے وہ سب اس وقت سے ١٠٠ سال پورے ہونے سے پہلے وفات پا گئے تھے ۔
حضرت خضر علیہ السلام اس دنیا میں زندہ ہیں یا نہیں :
بعض اکابر علماء نے اس حدیث سے حضرت خضر علیہ السلام کی موت پر استدلال کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس ارشاد گرامی کے وقت روئے زمین پر جو لوگ موجود اور حیات تھے ان میں حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے لہذا مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق یہ ضروری ہے کہ وہ دو سو سال کی اس مدت کے بعد اس دنیا میں زندہ نہ رہے ہوں اور وفات پاگئے ہوں ۔ لیکن دوسرے علماء اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام کا معاملہ بالکل خصوصی نوعیت کا ہے اور ان کی ذات مذکورہ اور ارشاد گرامی کے دائرہ سے باہر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی امت کے بارے میں یہ خبر دی تھی کہ میری امت کے وہ لوگ جو اس وقت موجود وحیات ہیں ١٠٠ سو سال کے اندر وفات پاجائیں گے اور ظاہر ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا تعلق اس امت سے نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی نبی کسی دوسرے نبی کی امت میں سے نہیں ہوتا بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں " علی الارض " ( روئے زمین پر ) کی قید نے حضرت الیاس علیہ السلام کو مذکورہ مفہوم کے دائرے سے باہر کر دیا تھا کیونکہ یہ دونوں اس وقت روئے زمین پر نہیں تھے بلکہ پانی پر تھے ۔
امام بغوی نے تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں سے چار حضرات زندہ ہیں اور ان میں سے دو یعنی حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام تو روئے زمین پر ہیں اور دو یعنی حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں ! یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مشائخ سے تواتر کے ساتھ بعض ایسے واقعات منقول ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام اس دنیا میں زندہ موجود ہیں اگرچہ بعض حضرات نے یہ تاویل کی ہے کہ " خضر " دراصل ایک منصب ہے جس پر ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی ہستی فائز رہتی ہے اور اس کے فرائض میں مخلوق خدا کو مدد و فائدہ پہنچاتا ہے لیکن اولیاء کاملین کے منقولات وحالات سے انہی خضر علیہ السلام کا زندہ موجود ہونا ثابت ہوتا ہے جو بنی اسرائیل میں سے ایک نبی اور حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھی ومصاحب تھے ۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
پاک, ویب, قدم, قرآن, موت, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اسلام, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, دجال, زمانہ, سال, شخص, عمران, غامدی, صلیب, صحیح, صحابہ, صداقت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زونگ کا نمبر ارشد کمبوہ قہقہے ہی قہقے 1 13-07-11 09:04 AM
خود پر گزرنے والی کیفیت کو گانوں میں بیان کرتا ہوں،عطاءاللہ عیسٰی خیلوی گلاب خان خبریں 2 18-06-11 04:16 PM
نزول عذابِ الٰہی کا قانون عصمت اسلام اور معاشرہ 2 28-05-11 02:31 AM
اچھے عیسٰی ہو، Wahid Mahmood امیر مینائی 5 03-12-10 10:32 PM
عالم آن موبائیل زونگ Real_Light موبائل ہی موبائل 0 04-09-08 12:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:12 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger