| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1705
|
||||
| 14 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (07-08-10), کنعان (08-08-10), گلاب خان (19-12-10), ننھا بچہ (12-06-11), مہتاب (20-12-10), محمد عویدص (18-12-10), محمدخلیل (09-08-10), محسن بٹ (26-07-11), مرزا عامر (12-06-11), ziamurtaza (08-08-10), اویسی (10-08-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر Rehan (11-06-11), شعبان نظامی (06-05-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مقدمہ اسلام علیکم معزز قارئین کرام تمام مسلمانوں کا ایمان و عقیدہ ہے اللہ واحد و یکتا ہے اور جیسا وہ اللہ ہے ویسا اور کوئی نہیں نہ تو کوئی اسکی ذات میں اسکے ہمسر ہے اور نہ ہی کوئی اسکی صفات میں اس جیسا اور نہ ہی وہ اللہ پاک اپنی ذات و صفات میں خود مخلوق جیسا بلکہ وہ پاک و منزہ و مبرا ہے مخلوق کی صفات سے اور مخلوق کی صفات کا اللہ میں ہونا محال ہے اور جو شخص نعوذ باللہ من ذالک خالق کے لیے مخلوق کی صفات کا اثبات کرئے وہ کائنات کا بدترین کافر و مشرک ہے کہ اس نے اللہ کی قدر نہ پہچانتے ہوئے خالق کو درجہ سے گرا کر مخلوق کا درجہ دے دیا لہزا قارئین کرم اصول یہ ہے کہ کسی بھی ذات کی عظمت کا شعور اسکی صفات سے واقفیت حاصل کیے بغیر نا ممکن ہے جب اللہ پاک کی ذات کی معرفت کی بات کی جاتی ہے تو اصل میں اسکی صفات ہی کی معرفت ہوتی ہے کہ جس سے ہم اسکی ذات کا کسی حد تک ادراک و شعور پاتے ہیں۔لہذا امام غزالی علیہ رحمہ عقیدۂ توحید کی وضاحت میں فرماتے ہیں إنه في ذاته واحدٌ لا شريکَ له، فَردٌ لا مَثِيلَ له، صَمَدٌ لا ضِدَّ له، منفرد لا نِدَّ له، وأنه واحدٌ قديمٌ لا أوَّلَ لهُ، أزليٌّ لا بِدايَةَ له، مُسْتَمِرُّ الوجُود لا آخرَ له، أبَديٌّ لا نِهايَةَ له، قَيُومٌ لا انقِطَاعَ له، دَائِمٌ لا انصِرامَ له، لم يزل موصوفًا بنعُوت الجلال، لا يُقْضَي عليه بالانقِضَاء، والانْفِصَال، بتَصَرُّم الآباد وانقِرَاض الآجال، بل هو الأوَّلُ والآخِرُ، والظاهِرُ والباطنُ، وهو بکل شيء عَلِيْمٌ ترجمہ:- ’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا ہے جس کی مثل کوئی نہیں، بے نیاز ہے جس کی ضد نہیں، منفرد ہے جس کی مانند کوئی نہیں، وہ ایسا واحد اور قدیم ہے جس کا اوّل کوئی نہیں، وہ ازل سے ہے جس کی کوئی ابتداء نہیں، اس کا وجود ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس کا کوئی آخر نہیں، وہ ابدی ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں، ہمیشہ قائم اور باقی رہنے والا ہے جس میں کوئی انقطاع نہیں، وہ جلالت کی صفت سے متصف رہا ہے، مدتوں کے خاتمہ اور زمانوں کی ہلاکت کے باعث اس فنائیت اور انجام کے سبب اس کے خلاف فیصلہ نہیں ہو سکتا، بلکہ وہی اوّل ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ غزالي، قواعد العقائد : 50 - معرفت توحید شریعت کی اصطلاح میں یہ عقیدہ رکھنا توحید ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جملہ اوصاف و کمالات میں یکتا و بے مثال ہے، اس کا کوئی ساجھی یا شریک نہیں، کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔‘‘ امام ابو جعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ ( 321ھ) عقیدۂ توحید کی تشریح کرتے ہوئے اس کے شرعی و اصطلاحی مفہوم کو درج ذیل الفاظ میں بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی ذات یکتا و یگانہ ہے اُس کے ساتھ کوئی شریک نہیں، کوئی شے اُس کی مثل نہیں اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو کمزور اور عاجز نہیں کر سکتی، اُس کے سواء کوئی لائقِ عبادت نہیں۔ وہ قدیم ہے جس کے وجود کے لئے کوئی ابتداء نہیں، وہ زندۂ جاوید ہے جس کے وجود کے لئے کوئی انتہاء نہیں۔ اُس کی ذات کو فنا اور زوال نہیں۔ اُس کے ارادہ کے بغیر کچھ بھی ہو نہیں سکتا۔ اُس کی حقیقت فکرِ اِنسانی کی رسائی سے بلند ہے اور اِنسانی عقل و فہم اُس کے ادراک سے قاصر ہے۔ اس کی مخلوق کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں ہے۔ وہ ازل سے زندہ ہے جس پر کبھی موت وارد نہیں ہوگی اور ہمیشہ سے قائم رہنے والا ہے جو نیند سے پاک ہے۔ وہ بغیر کسی حاجت کے خالق ہے، وہ بغیر کسی محنت کے رازق ہے۔ بغیر کسی خوف و خطر کے وہ موت دینے والا ہے۔ وہ بغیر کسی مشقت کے دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کرنے سے قبل ہی اپنی صفاتِ کاملہ سے متصف تھا۔ اُس نے مخلوق کے وجود سے کوئی ایسی صفت حاصل نہیں کی جو اُسے پہلے سے حاصل نہ تھی۔ جس طرح ازل میں وہ صفاتِ اُلوہیت سے متصف تھا اُسی طرح ابد تک بلا کم و کاست اِن سے متصف رہے گا۔ اُس نے اپنے لئے خالق اور باری کا نام مخلوقات اور کائنات کی پیدائش کے بعد حاصل نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کو ربوبیت کی صفت اُس وقت بھی حاصل تھی جب کوئی مربوب یعنی پرورش پانے والا نہ تھا اور اُسے خالق کی صفت اُس وقت بھی حاصل تھی جب کسی مخلوق کا وجود ہی نہ تھا۔ جس طرح وہ مُردوں کو زندہ کرنے والا انہیں زندہ کرنے کے بعد کہلایا حالانکہ وہ انہیں زندہ کرنے سے پہلے بھی اِس نام کا مستحق تھا اِسی طرح مخلوق کی ایجاد سے پہلے بھی وہ خالق کے نام کا مستحق تھا۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، ہر چیز اُس کی محتاج ہے، ہر امر کا کرنا اس پر آسان ہے اور وہ خود کسی کا محتاج نہیں، اُس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔ اُس نے مخلوق کو اپنے علم کے مطابق پیدا کیا ہے، اُس نے مخلوق کے لئے ہر ضروری چیز کا اندازہ اور مقدار پہلے سے مقرر اور متعین کر دی ہے اور اُس نے اُن کی موت کے اوقات مقرر کر دئیے ہیں۔ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے بھی اُس سے کوئی شے پوشیدہ نہیں تھی، اُسے ان کی تخلیق سے قبل ہی علم تھا کہ یہ لوگ (پیدا ہونے کے بعد) کیا کریں گے۔ اُس نے انہیں اپنی اطاعت کا حکم دیا اور اپنی نافرمانی و سرکشی سے منع کیا۔ ہر چیز اُس کی مشیت اور تقدیر کے مطابق چلتی ہے اور اسی کی مشیت و ارادہ نافذ ہوتا ہے۔ بندوں کی (اپنی) کوئی مشیت و ارادہ نہیں ہوتا مگر جو وہ ان کے لئے چاہے پس جو وہ ان کے لئے چاہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا۔ وہ جسے چاہے اپنے فضل سے ہدایت کی توفیق دیتا ہے، نافرمانی سے بچاتا ہے اور معاف کرتا ہے، اور وہ جسے چاہے اپنے عدل کی بناء پر گمراہ کرتا ہے، رسوا ٹھہراتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ تمام لوگ اُس کی مشیت کے اندر اُس کے فضل اور عدل کے درمیان گردش کرتے رہتے ہیں۔ نہ کوئی اُس کا مدِّمقابل ہے اور نہ کوئی شریک۔ اُس کے فیصلہ کو کوئی رد کرنے والا نہیں، اُس کے حکم کے آگے کوئی پس و پیش کرنے والا نہیں اور کوئی اس کے امر پر غالب آنے والا نہیں۔ ہم اِن تمام باتوں پر ایمان لا چکے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اُس کی طرف سے ہے۔ امام عمر بن محمد النسفی( 537ھ) مفہومِ توحید کے بیان میں لکھتے ہیں : ’’عالم کو سب سے پہلے وجود عطا کرنے والی ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے، جو کہ واحد ہے، قدیم ہے، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، قدرت رکھنے والا ہے، جاننے والا ہے، سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے، چاہنے والا ہے، ارادہ کرنے والا ہے، وہ عرض نہیں ہے نہ جسم، نہ جوہر ہے نہ اسکی شکل و صورت، نہ محدود ہے نہ معدود (جس کو شمار کیا جا سکے)، نہ حصوں کی شکل میں ہے نہ جزء کی صورت میں، نہ مرکب ہے نہ متناہی، نہ اسے ماہیت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے نہ ہی کیفیت کے ساتھ، وہ نہ کسی مکان میں متمکن ہے نہ ہی کوئی زمانہ اس پر جاری ہے، کوئی چیز بھی اس سے مشابہت نہیں رکھتی، اور کوئی چیز بھی اس کی قدرت اور اس کے علم سے خارج نہیں (ہر چیز اس کے احاطے میں ہے لیکن اس کی ذات ہر چیز سے ما ورا ہے)۔ ’’اس کی صفات ازلی ہیں جو اس کی ذات سے قائم ہیں اور یہ صفات نہ ہی وہ (ذاتِ باری تعالیٰ) ہے اور نہ ہی اس کا غیر ہیں۔‘‘ نسفي، العقيدة النسفية حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق منقول ہے کہ ان کے سامنے کسی شخص کے زُہد و تقویٰ کی تعریف اِن الفاظ میں کی گئی کہ ’’وہ جانتا تک نہیں ہے کہ گناہ کیا ہے‘‘ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ایسے آدمی کے گناہ میں مبتلا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔‘‘ چنانچہ ’’تُعرَفُ الأشياء بأضدادها‘‘ (یعنی اشیاء کی صحیح معرفت اُن کی اضداد کی پہچان سے ہوتی ہے) کے اُصول کے تحت عقیدۂ توحید کی معرفت کے لئے ضروری ہے کہ شرک اور اُس کی جملہ اقسام کو سمجھا جائے۔ توحید خدائے واحد کو لاشریک اور یکتا و یگانہ ماننے کا نام ہے اور کسی کو اس کا ساجھی، حصہ دار یا برابر کا شریک ٹھہرانے کا نام شرک ہے۔ شرک کا لُغوی معنی :- لفظِ ’’شرک‘‘ شرکت سے بنا ہے جس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات میں اوروں کو شریک مانا جائے۔ صاحبِ لسان العرب لکھتے ہیں : الشِّرْکةُ والشَرِکةُ سواءٌ : مخالَطَةُ الشريکين. يقال : اشترَکنا بمعني تشارکنا، وقد اشترک الرّجلانِ و تشارکا و شارکَ أحدهُما الآخر. ’’شِرْکَۃٌ اور شَرِکَۃٌ کا معنی دو شریکوں کا ایک چیز میں ملنا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہم شریک ہوئے یعنی آپس میں ہماری شراکت ہوئی اور دو شخص باہم شریک ہوئے یعنی دونوں میں شراکت ہوگئی اور ایک دوسرے کے ساتھ شریک بن گیا۔‘‘ ابن منظور، لسان العرب، 10 : 448 شرک کا شرعی اور اصطلاحی مفہوم :- ائمہ علم الکلام اور ائمہ لغت نے شرک کا شرعی و اصطلاحی مفہوم درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے : علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : الإشراک هو اثبات الشريک في الألوهية، بمعني وجوب الوجود کما للمجوس أو بمعني استحقاق العبادة کما لعبدة الأصنام. ’’مجوس کی طرح کسی کو واجب الوجود سمجھ کر الوہیت میں شریک کرنا یا بتوں کی پوجا کرنے والوں کی طرح کسی کو مستحق عبادت سمجھنا، اشراک کہلاتا ہے۔‘‘ تفتازاني، شرح عقائد نسفي : 61 توحید اور شرک کے باب میں ضروری وضاحت توحید اور شرک دونوں ایک دوسرے سے متضاد اور مخالف تصورات ہیں۔ توحید ہر اُس چیز کی نفی کرتی ہے جو شرک ہے لہٰذا توحید اور شرک دو اصطلاحات ہیں، دو واضح عقیدے اور دو الگ الگ تصور ہیں جو آپس میں متقابل اور متخالف ہیں۔ اگر کوئی موضوع، کوئی عقیدہ یاعمل توحید ہے تو شرک اس کی عین نفی ہو گی مثلاً توحید سے مراد دن ہو تو رات شرک کہلائی گی، اگر توحید کی علامت ٹھنڈک ہو تو حرارت عین شرک ہو گی، توحید کی علامت طہارت ہو تو شرک عین نجاست ہو گی، توحید کی علامت نور ہو تو شرک عین تاریکی و ظلمت ہو گی۔ اِسی طرح اگر توحید کی علامت جنت ہے تو شرک عین جہنم ہے گویا توحید کا تضاد شرک ہے اور شرک کا تضاد توحید ۔ غلط فہمی کی بناء پر بعض اوقات کسی ناجائز فعل کو بھی شرک تصور کر لیا جاتا ہے، اِسی جہالت نے بہت سی اُلجھنوں کو پیدا کیا ہے۔ توحید اور شرک آپس میں دو متضاد و متقابل تصورات ہیں جن کا آپس میں اتحاد اور اشتراک اسی طرح ناممکن ہے جس طرح ایمان اور کفر کا اتحاد ناممکن ہے۔ اِس لئے ضروری ہے کہ شرک کی اصطلاح کو کبھی بھی عمومی رنگ نہ دیا جائے، نہ ہی اِس کا اطلاق بے دریغ کرکے فتویٰ بازی کا بازار گرم کیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-12-10), کنعان (08-08-10), گلاب خان (19-12-10), ننھا بچہ (12-06-11), محمد عویدص (18-12-10), محمدمبشرعلی (07-08-10), محمدخلیل (09-08-10), ziamurtaza (08-08-10), اویسی (10-08-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر Rehan (11-06-11), شعبان نظامی (06-05-12), عرفان مسلم (23-09-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مقدمہ ذات باری تعالٰی اور صفات باری تعالٰی کی مزید معرفت جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ کسی بھی ذات کی عظمت کا شعور اسکی صفات سے واقفیت حاصل کیے بغیر نا ممکن ہوتا ہے لہذا جب اللہ پاک کی ذات کی معرفت کی بات کی جاتی ہے تو اصل میں اسکی صفات ہی کی معرفت کی بات ہوتی ہے اور ہمارے لیے ذات باری تعالٰی کو اسکی صفات کی معرفت کہ توسط سے ہی جاننا اور ماننا ممکن ہے کہ ذات باری تعالٰی تو اغیاب الغیوب میں سے ہے لیکن نقطہ یاد رہے کہ اللہ پاک کی ذات کی طرح اسکی صفات بھی لامتناہیہ ہیں لہذا ہر مخلوق کے لیے صفات باری تعالٰی کا ادراک بھی محض ایک حد تک ہی ممکن ہے وہاں تک کہ جہاں تک ہماری محدود عقلیں اور ہماری ذہنی استعداد ، لہذا جب ہماری محدود عقلیں اللہ کی صفات کی معرفت کے باب میں جواب دے جائیں تو ہمیں اپنی محدود عقلوں کی بنا پر معاذ اللہ یہ گمان نہیں کرلینا چاہیے کہ اللہ کی صفت بھی بس یہیں تک تھی کہ جہاں تک ہمیں ادراک ہوا بلکہ عقیدہ یہ رکھنا چاہیے کہ ہماری عقلیں محدود ہیں اور صفات باری تعالٰی لا محدود و لامتناہی ہیں ۔ ۔ اللہ کی صفت وجود :- یعنی اللہ تعالٰی موجود ہے اور اسکا موجود ہونا اسی کی شان کے لائق تمام تر صفات سے متصف ہوکر ہے ۔ صفت قدرت :- قدرت کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو فعل انجام دینا چاہے اور اسے بخوبی دے سکے اور جو نہ دینا چاہے اسے انجام نہ دے ۔۔یہاں یہ نقطہ بھی یاد رہے کہ قدرت کا تعلق ممکنات سے ہوتا ہے لہزا اس اجمالی اصول کی تفصیل یہ ہے کہ وجود کو موجود ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اول واجب الوجود :- ایسی ذات کہ جس کا ہمیشہ اور ہر حال میں پایا جانا ضروری ہو اور اس کا عدم محال ہو ۔ ۔ ۔ ۔ دوم ممتنع الوجود :- اس سے مراد وہ وجود ہے کہ جس کا کبھی بھی کہیں بھی پایا جانا ناممکن ہو جیسے اللہ پاک کے لیے شریک کو ثابت کرنا کہ حقیقت میں کوئی اللہ کا شریک ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ واجب الوجود ہے لہذا واجب الوجود ہونے کی حیثیت سے صرف وہی مستحق عبادت ہے مگر مشرکین مختلف حیلوں بہانوں سے غیر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے اور یوں غیر اللہ کی عبادت کرکے دوسرے لفظوں انھے واجب الوجود تسلیم کرلیا کرتے تھے یا پھر جیسے مجوس مستقل طور پر دو خدا مانتے تھے ایک نیکی کا اور ایک برائی کا یاپھر جیسے بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ جھوٹ بولنے پر قادر ہے وغیرہ ۔ ۔ ۔ ۔ سوم ممکن الوجود:- اس سے مراد وہ وجود ہے کہ جس کا پایا جانا اور نہ پایا جانا دونوں برابر ہوں یعنی اسکی دونوں حیثیتیں ثابت ہوں یعنی عدم اور وجود کبھی وہ عدم ہو تو واجب الوجود اسے وجود بخش کر عدم سے وجود میں لے آئے اور کبھی اسکے وجود کو واجب الوجود، وجود سے عدم میں منتقل کردے اور اس سے مراد تمامی مخلوقات ہیں ۔ مزید وضاحت :- ان تینوں حصوں کی وضاحت کے بعد یہ عرض کردوں کہ اصول یہ ہے کہ اللہ پاک کی قدرت کا تعلق واجب الوجود اور ممتنع الوجود کے ساتھ نہیں ہوتا یعنی اللہ پاک کی قدرت کا بحیثیت واجب الوجود کہ اپنی ذات و صفات کے ساتھ اس اعتبار سے کوئی تعلق نہیں کہ وہ اپنی کسی صفت کو ختم یا معطل کردے البتہ وہ اپنی صفت قدرت کے زریعے اپنی ذات و صفات کا اظہار ضرور کرتا ہے اور بالکل اسی طرح اللہ کی قدرت کا ممتنع الوجود سے کوئی تعلق نہیں کہ یہ اس کے لیے محال ہے کہ وہ خود کو معدوم کردے لہزا ثابت یہ ہوا کہ اللہ کی صفت قدرت کا تعلق فقط ممکن الوجود سے ہے لہذا عقلی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو اللہ کی قدرت پر ایمان لانا بہت ضروری یے کیونکہ ممکن ایک ایسا وجود ہے کہ جس کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے لہزا اسے عدم سے اٹھا کر وجود میں لانا بغیر قدرت کے ممکن نہیں لہزا یہ بات ذہن نشین رہے کہ اللہ پاک کی قدرت کا تعلق کائنات کے ہر حصہ کے ہر ہر جز کو لاحق ہوکر اس جز کے بھی ذیلی اجزاء کو بالتفصیل شامل ہے اور اس اعتبار سے ہر ممکن و محدود ذات کو اسکی صفت لامحدود و لامتناہی طریق سے شامل ہے نیز یہ بھی یاد رہے کہ اللہ کی قدرت کا تعلق اسکی مشیت کے ساتھ ہوتا ہے لہذا اپنی مشیت کو نافذ کرنے میں وہ کسی بھی غیر وجود کا محتاج نہیں نیز ہر ممکن و محدود ذات پر اللہ پاک کی صفت قدرت فقط اس ممکن و محدود ذات کی محدودیت تک ہی محدود نہیں اور نہ ہی اس ممکن کی موجودہ صورت میں منحصر ہے جیسا کہ مثلا ہر انسان کو اللہ پاک نے دو دو ہاتھ دو آنکھیں اور دو کان اور ایک منہ دیا مگر اسکی قدرت ان سب اشیاء کی اس قدر عطا میں محدود و مجبور نہیں وہ چاہے تو کسی کو دو منہ ایک کان تین ہاتھ اور چار ٹانگیں دے کر انسان کی اس ظاہر میں نظر آنے والی شکل کو تبدیل کردے لہزا اگر اس اصول کو سامنے رکھا جائے تو بہت سے مسائل کا حل ہوسکتا ہے بعض لوگ اس زمانہ میں عقل کے زیر اثر ہوکر لاشعوری طور پر اس بات کے معتقد ہوجاتے ہیں کہ اللہ کی قدرت وہیں تک ہیں کہ جہاں تک ہمیں دکھائی اور سجھائی دیتی ہے اور اسی طرح وہ اپنی عقل سے مغلوب ہوکر بظاہر ناممکن نظر آنے والی اشیاء کہ بارے میں دوسروں کے اعتقادات پر کفر و شرک کا فتوٰے جڑتے رہتے ہیں نعوذباللہ من ذالک ۔ ۔ ۔ اللہ کی صفت علم اگرچہ مخلوق کے لیے جس چیز کو علم کہا جاتا ہے اس کی کیفیت مخلوق کی ہی خصوصیت ہے لیکن اللہ پاک کے لیے جس صفت علم کا اثبات کیا جاتا ہے وہاللہ کی ہی شان کے لائق ہے چناچہ مخلوق کے لیے ثابت شدہ علم کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس سے پہلے اس کا عدم یعنی جہالت ثابت کی جائے یا اس میں جہالت پائی جائے بالکل مخلوق کے اپنے وجود کی طرح کہ وہ بھی پہلے عدم تھا بعد میں وجود میں آیا مگر خالق کا علم ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہے گا جیسے اس کا وجود ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا نیز مخلوق کا علم احساسات اور مختلف قسم کے ظاہری و باطنی احوال مدرکات کا مرہون منت ہوتا ہے جبکہ خالق کا علم ان وسائط سے مارواء ہوتا ہے مخلوق کا علم عطائی ہوتا ہے بالکل اسی طرح سے کہ جس طرح مخلوق کا وجود عطائی ہوتا ہے جبکہ خالق کا علم اس کے وجود کی طرح ذاتی، مخلوق کا علم کا اس کے وجود کی طرح محدود ہوتا ہے جبکہ خالق کا علم اس کے وجود کی شان کے لائق لامحدود و لامتناہی مخلوق کا علم فی نفسہ فانی ہوتا ہے اور جہالت کی صورت میں اس کا عدم بھی ممکن ہوتا ہے نیز محدود ہونے کی وجہ سے اس میں تغیر و تبدل بھی جائز ہے جبکہ خالق کا علم ازلی اور ابدی اور سرمدی ہوتا ہے نیز خالق کا علم ہر محدود ذات کے ساتھ لامحدود وجوہ کے اعتبار سے ہونے کے تغیر و تبدل سے پاک ہوتا ہے ۔ خالق کے علم کے ازلی و ابدی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے سے پہلے اسے اس واقعہ کا ہرہر اعتبار و ہر ہر وجوہ سے علم ہوتا ہے اسی طرح خالق کو اس بات پر قدرت ہے کہ مخلوق کے کسی ایک فرد کو دیگر مخلوقات کے وجود میں آنے سے پہلے ان مخلوقات کے بارے میں جملہ علوم سے آگاہ کردے جیسے لوح و قلم کا علم کہ یہ دونوں مخلوق ہیں اور انکو دیگر مخلوق کے بارے میں اللہ نے ان مخلوقات کی تخلیق سے قبل علم دیا نیز خالق کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ اسکا علم اپنی مخلوقات کی تمام تر جزئیات ہر محیط ہو اور اللہ پاک کے علم کے بارے میں آخری بات یہی ہے کہ اس کے علم کی کوئی حد نہیں اور اسکا علم ہر ظاہر و باطن ،موجود و معدوم،عدد و شکل،کل اور جز ،غرضیکہ ہر نوع ہر جنس اور ہر فصل بلکہ ہر ذات اور تمام ممکنات کو محیط ہے۔ مخلوق سے متعلق جملہ علوم اور معلومات کو اللہ کے علم کے سامنے وہ حیثیت بھی نہیں جو کہ ایک بحر بیکراں کے سامنے پانی کے ایک قطرہ کو ہوتی ہے اگرچہ اللہ کے علم کو اجزاء میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا مگر اس کے بے انتہاء علوم کا تعلق خود اسکی ذات و صفات و کمالات کے ساتھ بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غیر مسلم فلسفیوں کا خیال یہ ہے کہ جزئیات کا علم اللہ کو نہیں ہوتا (معاذاللہ) کیونکہ تمام جزئیات مسلسل تغیر پذیر ہیں اور ہر آن و ہر گھڑی ان میں تغیر و تبدل واقع ہورہا ہے اور جب اللہ کا علم قدیم ہے تو ثابت ہوا کہ زمانہ قدیم میں جب جزئیات میں یہ تغیر واقع نہ ہوا تھا تو اس وقت اللہ کو اس کا علم بھی نہ تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بلا شبہ اللہ کا علم قدیم ہے مگر جزئیات میں ہونے والی یہ تبدیلی اس کے علم سے باہر نہیں کہ یہ تبدیلی بااعتبار مخلوق کہ ہے وگرنہ اللہ پاک کے علم کے اعتبار سے تو یہ تمام تبدیلیاں پہلے سے طے شدہ ہیں نیز یہ بنیادی اصول ہے کہ معلوم کے متغیر ہونے سے علم کا تغیر لازم نہیں آتا لہذا خالق کے علم کو ہرگز مخلوق کے علم پر قیاس نہیں کرنا چاہیے کہ خالق کا علم لیس کمثلہ شئی کی رو سے مخلوق کے علم پر قیاس کیے جانے سے کہیں بلند تر ہے ۔ ۔ ۔۔ توحید فی العلم :- توحید فی العلم یہ ہے کہ ذاتی قدیم و ازلی اور لامحدود علم کا مالک فقط اللہ پاک ہے اور اس کا علم جملہ مخلوقات کو بتفصیل تام محیط اور بالاستیعاب محیط تفصیلی ہے ۔۔ جیسا کہ فاضل بریلوی نے فرمایا کہ ۔ ۔ العلم ذاتی مختص بالمولٰی سبحٰنہ وتعالٰی لایمکن لغیرہ ومن اثبت شیئامنہ ولوادنٰی من اَدنٰی من ادنٰی من ذرۃ لاحد من العٰلمین فقد کفر واشرک علمِ ذاتی اﷲ عزوجل سے خاص ہے اس کے غیر کے لیے محال ہے، جو اس میں سے کوئی چیز اگرچہ ایک ذرّہ سے کمتر سے کمتر غیر خدا کے لیے مانے وہ یقیناً کافرو مشرک ہے۔ باقی تمام مخلوق کا علم اللہ ہی کا عطا کردہ ہے اور اسکی صفت عطا کا مظہر ہے ۔ اللہ کا علم اسکا اپنا ذاتی یعنی از خود جاننے سے مستقل ازلی و ابدی و لامحدود و لامتناہی ہوتا ہے جبکہ مخلوق کا علم عطائی حادث ، محدود ، ممکن و متغیر ہوتا ہے لہذا جس طرح مخلوق کے لیے ذاتی علم ثابت کرنا شرک ہے بالکل اسی طرح خالق کے لیے بھی عطائی علم ثابت کرنا شرک ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگلا مراسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں طعن کرنے والوں کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے فاضل بریلوی کہ دور کے چند فتنہ پروروں کے ذکر پر منتج ہوگا والسلام ۔ ۔ ۔ جاری ہے Last edited by آبی ٹوکول; 08-08-10 at 01:36 AM. |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-12-10), کنعان (08-08-10), ننھا بچہ (12-06-11), محمد عویدص (18-12-10), محمدمبشرعلی (07-08-10), محمدخلیل (09-08-10), ziamurtaza (08-08-10), اویسی (10-08-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر Rehan (11-06-11), شعبان نظامی (06-05-12), عرفان مسلم (23-09-11) |
| کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 08-08-10 | ziamurtaza | سبحان اللہ | 100 |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ذات و صفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرنے والوں کی تاریخ و حقیقت اسلام علیکم معزز قارئین کرام ! پچھلے مراسلات میں آپ اچھی طرح سے جان چکے کہ عام طور پر جس چیز کو علم قرار دیا جاتا ہے اسکی دو بنیادی قسمیں ہیں ایک معلومات اور دوسرا شعور ، معلومات کے اعتبار سے علم کا حقیقی مصدر و مرجع فقط اللہ پاک کی ذات ہے اور اس اعتبار سے علم فقط اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے رہ گیا وہ علم جو مخلوق کا خاصہ ہے تو اس کا تعلق عقل و شعور فہم و خرد کے ساتھ ساتھ خدا داد صلاحیت و استعداد سے بھی ہے لہذا اس اعتبار سے انبیاء کو جو علم حاصل ہوتا ہے وہ اول تو بلا کسب ہوتا ہے اور بذریعہ وحی ہوتا ہے لہذا اللہ پاک اپنی وحی کے ذریعہ سے اپنی معلومات کا بعض ان تک منتقل کرتا ہے لہذا وہ خارجی زرائع سے ماوراء ہونے کی وجہ سے علم غیب ہی کہلاتا ہے اور اسی اعتبار سے پیغبر کو نبی کہا جاتا ہے کہ نبی کہتے ہی اصل میں غیب کی خبر دینے والے کو ہیں یعنی جو غیب کی خبر بلا کسب اور تمام خارجی زرائوں سے ہٹ کر بذریعہ وحی کہ دے اس ہستی پر نبی کا اطلاق کیا جاتا ہے ۔ اب آپ پر یہ اچھی طرح سے روشن ہوگیا کہ نبی کون ہوتا ہے اور اسکی اصل تعریف کیا ہے ؟ نبی کہتے ہی اس ہستی یا ذات کو ہیں کہ جسے اللہ پاک اپنے خصوصی علوم سے بذریعہ وحی نوازے اور پھر انھے دوسری تمام مخلوقات پر فضیلت دے چناچہ جب ہم انسانی تاریخ کی ابتداء پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں انسانی تاریخ کے سب سے پہلا مرحلہ پر ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جب اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا اور اپنے خصوصی علم سے انھے نواز کر تمام مخلوقات پر انھے فضیلت دی تو ابلیس لعین سے یہ برادشت نہ ہوسکا اور اس نے بشر بشر کی رٹ لگا کر تعظیم آدم علیہ السلام سے انکار کردیا اس خبیث کی نظر بھی فقط نبی کی شان بشریت تک رہی اس نور کو وہ نہ دیکھ سکا کہ جسے اللہ پاک نے خود آدم علیہ السلام میں پھونکا تھا اور جس کے بعد بذریعہ علم انکے مرتبہ کو دیگر مخلوقات پر بلندکیا تھا لہذا ہر دور میں اللہ کے انبیاء پر طعن کرنے والے موجود رہے اور وہ ابلیس کے اسی بشریت والے راگ کو ہر دور میں الاپتے رہے کبھی یہ کہہ کر اب کیا ہمیں یہ بشر ہدایت دیں گے یا ہماری ہدایت کے لیے فقط یہ بشر ہی بچے تھے یا پھر یہ تو فقط ہماری طرح ہی کے بشر ہیں تمام افعال ہماری طرح ہی انجام دیتے ہیں پھر ان سے ہدایت کا حصول کیسا ؟ وغیرہ چناچہ ہم دیکھتے ہیں نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم پر یہی اعتراضات مختلف صورتوں میں ہوئے چناچہ روایات میں جا بجا ملتا ہے کہ منافقین مخلتف حیلوں بہانوں سے آپکی ذات و صفات پر اعتراضات کیا کرتے تھے انہی میں سے ایک روایت ہے کہ ۔ ۔ عربی متن :- قال السدی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرضت علی امتی افی صورھا فی الطین کما عرضت علی آدم و اعلمت من یومن بی و من یکفر بی مبلغ ذلک المناقین فقالوا استہزائً زعم محمدانہ یعلم من یومن بہ و من یکفربہ ممن لم یخلق بعد و نحن معہ وما یعرفنا مبلغ ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم و قام علی المنبر محمد اللہ تعالیٰ داشنی علیہ ثم قال ما بال اقوام طنعوا فی علمی لا تسالونی عن شی فیما بینکم و بین الساعۃ الا بناتکم بہ فقام عبد اللہ بن خذافہ السنہمی فقال من ابی یا رسول اللہ فقال حذافۃ فقام عمر فقال یا رسول اللہ رضینا باللہ ربا وابالاسلام دینا و بالقرآن اماماً ربک نبیا فاعف عنا فاللہ عنک فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھل انتم منتھون فھل انتم منتھون ۔ (خازن ص ۳۸۲، جلد اوّل) روایت کا مفھوم و خلاصہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میرے سامنے میری اُمت کو پیش کیا گیا جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا گیا تھا ۔ جب میرے سامنے اُمت کو پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا علم بھی عطا کر دیا جو ایمان لائیں گے اور ان کا علم بھی دے دیا جو ایمان نہیں لائیں گے ۔ جب یہ بات منافقین تک پہنچی تو انہوں نے اس کا مذاق اڑ ایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ گمان کرتے ہیں کہ جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ۔ ان میں سے بھی وہ مومن اور غیر مومن کو جانتے ہیں حالانکہ ہم تو ان کے پاس رہتے ہیں ہمیں وہ نہیں جانتے ۔ جب منافقین کی یہ بات حضور علیہ الصلوٰہ والسلام تک پہنچی تو آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا اقوام کو کیا حق پہنچتا ہے کہ میرے علم پر طعن کریں ۔ آپ نے فرمایا قیامت تک کے سوالات مجھ سے پوچھ لو میں ہر شیٔ کے بارے میں تمہیں خبر دوں گا ۔ حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی نے اپنے والد کی خبر پوچھی ۔ حضور علیہ السلام نے ان کو ان کے والد کی خبر دے دی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑ ے ہوئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ تعالیٰ کو رب اور سلام کو دین مانتے ہیں اور قرآن کو امام مانتے ہیں اور آپ کو نبی مانتے ہیں ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا بیان جاری رکھا اور فرمایا کیا تم میرے علم پر طعن کرنے سے باز نہیں آؤ گے اس روایت کو امام خازن نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 179 کے شان نزول میں رقم فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ فائدہ :- اس روایت سے یہ صاف طور پر واضح ہوا کہ منافقین نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب پر طعن کیا کرتے تھے اور یہ انکا وطیرہ تھا لہزا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی برا لگا اور آپ نے صاف صاف فرمایا کہ لوگوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ میرے علم پر طعن کریں یعنی تم میں سے کسی کا یہ منصب ہی نہیں کہ میرے علم میں کلام کرو اور پھر ہر شئے کہ پوچھنے کا سر عام چیلنج دیا اور بار بار فرمایا سلونی عما شئتم لہذا پھر لوگوں نے غیبی خبریں پوچھیں کسی نے ماکان کی خبر کو اپنے نطفہ کی حقیقت کے حوالہ سے پوچھا تو کسی نے مایکون کی خبر کو اپنے اخروی ٹھکانہ کی حیثیت سے پوچھا اور میرے سچے رسول برحق نے سب کو ٹھیک ٹھیک بتلادیا اور پھر جو سچے اور مومن صحابہ تھے کہ جیسے بعض روایات میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جلال مبارک کو دیکھ کر گھٹنوں کے بل آپکے سامنے جھک گئے اور عرض کی یارسول اللہ ہم اللہ کے رب ہونے آپ کا سچے نبی ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں ہمیں معاف فرمادیجئے تو تب جاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال مبارک کم ہوا ۔ معزز قارئین کرام جیسا کہ آپ جان چکے کہ انبیاء پر طعن کرنے والوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے کہ جتنی تاریخ انسانی لہذا وہ پہلا مردود کہ جو اس طعن کا بانی تھا وہ ابلیس ٹھرا اور پھر اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر ہر زمانہ میں لوگ آتے رہے جو کہ مختلف حیلوں بہانوں سے انبیاء کرام پر طعن کرتے رہے انہی میں سے ایک سلسلہ کے بانی کا قصہ اول قرآن پاک پھر روایات میں کچھ یوں آیا ہے ۔ ۔ ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ۔ ۔ ۔ وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُواْ مِنْهَا رَضُواْ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْاْ مِنهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَO وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَا آتَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ سَيُؤْتِينَا اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللّهِ رَاغِبُونَO ترجمہ : اور ان میں کوئی وہ ہے جو صدقے بانٹنے میں تم پر طعن کرتا ہے توا گر ان میں سے کچھ ملے تو راضی ہو جائیں اور نہ ملے تو جب ہی وہ ناراض ہیں اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا اور کہتے اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول ہمیں اللہ کی طرف رغبت ہے۔ یہ آیت ذوالخویصرہ تمیمی کے حق میں نازل ہوئی اس شخص کا نام حرقوص بن زہیر ہے یہی خوارج کی اصل بنیاد ہے بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ذوالخویصرہ نے کہا یا رسول اللہ عدل کیجئے ! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے خرابی ہو میں نہ عدل کروں گا تو عدل کون کرےگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن ماردوں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دواس کے اور بھی ہمراہی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر دیکھو گے وہ قرآن پڑھیں گے اور ان کے گلوں سے نہ اترے گا وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکارسے۔ دین میں داخل ہو کربے دین ہونےوالوں کی ابتدا ایسے ہی لوگوں سے ہوتی ہے جو نماز روزہ اور دین کے سب کام کر نے والے تھے لیکن اس کے باوجودانہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستا خی کی اور بے دین ہو گئے حضوراقدس کی شان مبارک میں توہین کر نے والے ذوالخو یصرہ کے جن ہمراہیوں کاذکر حدیث میں آیا ہے ان سے مراد وہی لوگ ہیں جنہوں نے ذوالخویصرہ کی طرح حضور علیہ الصلواۃ والتسلیم کی شان رسالت میں گستا خیاں کیں اسلام میں یہ پہلا گر وہ خار جیوں کا ہے یہی گر وہ اہل حق کو کافرو مشرک کہہ کر ان سے قتال وجدال کو جاتز قرارد یتا ہے چنانچہ سب سے پہلے حضرت علی اور آپ کے ہمراہیوں کو خازجیوں نے معاذ اللہ کا فر قرار دیا اور خلیفہ ء بر حق سے بغاوت کی اوراہل حق کے ساتھ جدال وقتال کیا حتیٰ کہ عبد الر حمٰن بن ملجم خارجی کے ہاتھوں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکر یم شہید ہو ئے اسی بد بخت گروہ کے فتنوں کی خبر زبان رسالت نے سر ز میں نجد میں ظا ہر ہونے کے متعلق دی اور فر مایا کہ ھناک الزلال والفتن وبھا یطلع قرن الشیطن ( رواہ البخاری ، مشکواۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص 582) اور تاریخ اسلام سے ادنٰی سا شغف رکھنے والا انسان بھی جانتا ہے کہ نجد کی سرزمین میں سے ایسے ایسے فتنے پھوٹے کہ امت انھی کے لگائے ہوئے زخم یوں چاٹ رہی ہے کہ آج تک انکی وجہ سے رخنہ اندازی کا شکار ہے لہزا ان فتنوں نے اپنی نام نہاد ابلیسی توحید کی آڑ میں پیغمبر اکرم کی شان میں دل کھول کر گستاخیاں کیں اور ایسی ایسی دل ازار کتابیں لکھیں انکے زمانہ کے اہل سنت علماء نے بھی ان کا بھرپور رد کیا مگر انھوں نے نصارٰی کے ساتھ ملکر مسلمانوں کی شوکت کو توڑا اور اپنے سوا تمام مسلمانوں کے خون کو مباح جانا اور ان سے قتل و غارت گری کی اور یوں اقتدار کی طاقت سے اپنے نظریات کو پھیلایا اور آج بھی پھیلا رہے ہیں چنا نچہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق اس فتنہ نے نجد میں جنم لیکر جب بڑے زور و شور سے اپنے عقائد و نظریات کا پرچار کیا یہاں تک کے پھر ہندوستان بھی اسکی زد میں آنے سے نہ رہ سکا چناچہ پھر اسی فتنہ کو ہندوستان میں فالو کیا گیا اور مولوی اسماعیل دہلوی نے اپنے مقتداء محمد بن عبدالوہاب کی پیروی اور جانشینی کا خوب حق ادا کرتے ہوئے اسی کی کتاب التوحید کا ترجمہ تقویۃ الایمان کی صورت میں کیا کہ جسکی تصدیق وتوثیق تمام علماء دیوبند نے کی جیسا کہ فتاویٰ رشید یہ جلد اص۲۰ پر مرقوم ہے۔ پھر جس طرح محمد بن عبد الوہاب کے خلاف اُس زمانہ کے علماء اہل سنت نے آواز اٹھائی اور اس کارد کیا اسی طرح مولوی اسمٰعیل دہلوی مصنف تقویۃالایمان کے خلاف اس دور کے علماء حق نے شدیداحتجاج کیا اور ان کے مسلک پر سخت نکتہ چینی کی۔ تقویہ الایمان کے رد میں کی رسالے شائع ہوئے مولانا شاہ فضل امام، حضرت شاہ احمد سعید دہلوی شاگردرشید مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ ، مولانا فضل حق خیر آبادی ، مولانا عنایت احمد کا کوروی مصنف علم الصیغہ ، مولانا شاہ رؤف احمد نقشبندی مجددی تلمیذ رشید حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے مولوی اسماعیل دہلوی اور مسائل تقویہ الایمان کا مختلف طریقوں سے ردفرمایا حتیٰ کہ شاہ رقیع الدین صاحب محدث دہلوی نے اپنے فتاویٰ میں بھی کتاب التوحید اور مسائل تقویہ الایمان کے خلاف واضح اور روشن مسائل تحریر فرما کر امت مسلمہ کو اس فتنہ سے بچانے کی کوشش کی لیکن علماء دیوبنداور ان کے بعض اساتذہ نے مولوی اسماعیل اور ان کی کتاب تقویہ الایمان کی تصدیق وتوثیق کر کے اس فتنے کا دروازہ مسلمانوں پر کھول دیا علماء دیوبندنے نہ صرف تقویہ الایمان اور اس کے مصنف مولوی اسماعیل دہلوی کی تصدیق پراکتفاء بلکہ خود محمد بن عبدالوہاب کی تائید وتوثیق سے بھی دریغ نہ کیا، ( ملاحظہ فرمائیے فتاوٰی رشیدیہ جلد 1 ص 111 مصنف مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی ) لیکن چونکہ تمام روئے زمین کے احناف اور اہل سنت ، محمد بن عبد الوہاب کے خارجی اور باغی ہونے پر متفق تھے اس لئے فتاویٰ رشیدیہ کی وہ عبارت جس میں محمد بن عبد الوہاب کی توثیق کی گی تھی علماء دیوبند کے مذہب ومسلک کو اہل سنت کی نظروں میں مشکوک قرار دینے لگی اور اہل سنت فتاویٰ رشیدیہ میں محمد بن عبدالوہاب کی توثیق پڑھ کر یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے کہ علماء دیوبندکا مذہب بھی محمد بن عبدالوہاب سے تعلق رکھتا ہے اس لئے متاخرین علماء دیوبند نے اپنے آپ کو چھپا نے کی غرض سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کرنا شروع کر دیا بلکہ مجبوراً اسےخارجی بھی لکھ دیا تا کہ عامتہ امسلمین پر ان کا مذہب واضح نہ ہونے پائے ۔ لیکن علماء اہل سنت برابر اس فتنے کے خلاف نبرد آزمارہے۔ ان علماء حق میں مذکورین صدر حضرات کے علاوہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حضرت مولانا عبد السمیع صاحب رامپوری مئولف انوار ساطعہ ، حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب رامپوری ، حضرت مولانا احمد رضا صاحب بریلوی، حضرت مولانا انوار اللہ صاحب حید ر آبادی، حضرت مولانا عبدالقدیر صاحب بدایونی وغیر ہم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان علماءِ اہلسنت کا امتِ مسلمہ پر احسان عظیم ہے کہ ان حضرات نے حق وباطل میں تمیز کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں توہین کرنے والے خوارج سے مسلمانوں کو آ گاہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے Last edited by آبی ٹوکول; 10-08-10 at 03:36 AM. |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-12-10), کنعان (15-08-10), ننھا بچہ (12-06-11), محمد عویدص (18-12-10), ziamurtaza (11-08-10), اویسی (10-08-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر Rehan (11-06-11), شعبان نظامی (06-05-12) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ذات و صفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرنے والوں کی تاریخ و حقیقت گذشتہ سے پیوستہ ۔ معززقارئین کرام چونکہ ہمارا اصل موضوع فقط علم غیب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے لہذا اس تاریخی فتنہ کی دیگر گستاخانہ عبارتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے فقط وہی عبارات یہاں پیش کی جائیں گی جو کہ ایک تو ان فتنوں کے اصل عقیدہ کو ظاہر کرنے والی ہیں اور دوسرے علم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پرحقیقی طعن و گستاخی پر مشتمل ہیں نیز جو اصل وجوہات تھیں کہ جنکی وجہ سے فاضل بریلوی علیہ رحمہ نے جہاں ایک طرف تو انکا بھرپور رد کیا تو وہیں دوسری طرف اصل عقیدہ اہل سنت کو علم غیب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے باب میں ہر دو طریق یعنی قطعی (بطور اجمال) اور ظنی (بطور تفصیل) کے باب میں واضح کیا۔ ۔ ۔ ۔ لہذا جب تقویہ الایمان جیسی مردود کتاب میں یہاں تک لکھ دیا گیا کہ ۔۔۔ ۔ ۔ غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے رسول کو غیب کی کیا خبر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ کہ نبی کو تو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر اس سے بھی بڑھ کر تقویۃ الایمان میں یہاں تک کہہ دیا گیا کہ ۔ ۔۔ نبی کے علم غیب کو ہر دو طرح سے علم غیب ماننا شرک چاہے ذاتی ہو یا عطائی یعنی ذاتی علم غیب جو کہ فقط ذات باری کا خاصہ کو شرک قرار دے دینے کے ساتھ ساتھ عطائی علم غیب جو کہ فقط مخلوق کا خاصہ ہے اسکو بھی اللہ کے لیے خاص مانکر شرک قرار دے دیا گیا ۔ ۔ انا للہ وانا الیہ راجعو ن اسکے بعد جب مولوی رشید احمد گنگوہی نے علم غیب پر رسالہ لکھا تو اس میں اطلاع علی الغیب کا بھی نبی کے حق میں انکار کردیا چناچہ وہ لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ مذاہب اربعہ کے فروع عملیہ میں نہ اصول اعتقادیہ میں پس اس میں ہر چہار ائمہ مذاہب و جملہ علماء متفق ہیں کہ انبیاء علیھم السلام غیب پر مطلع نہیں ہیں ۔ لہذا ان کتابوں کی رو سے علم غیب کے قطعی عقیدہ کا انکار اس طرح سے کیا گیا کہ نبی کا علم جو کہ وحی الٰہی پر مشتمل ہوتا ہے کا غیب ہونے سے ہی انکار کردیا گیا یوں درحقیقت نبی کے منصب رسالت کا ہی انکار کردیا گیا پھر نبی کو جو علم غیب بطور خبر یا بطور اطلاع کے عطا کیا جاتا تھا اسکا بھی انکار بطور خبر بالغیب کے انکار اور اطلاع علی غیب کے انکار کی صورت میں کردیا گیا اور یوں ذاتی و عطائی کی تقسیم کا بھی انکار کردیا گیا تو ضروری ہوا کہ علماء اہل سنت اصل عقیدہ کو واضح کریں چناچہ امام احمد رضا نے رسالہ اِنبآءُ المصطفٰی بحال سِرّ و اخفٰی لکھا کہ جس میں علم غیب کے قطعی عقیدہ یعنی عطائی علم غیب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بے شمار دلائل سے ثابت کیا گیا لہذا چاہیے تو یہ تھا کہ مخالفین رجوع لاتے اور نبی کے علم میں طعن کرنے سے توبہ کرتے مگر انھوں نے اپنی حیلہ سازیوں اور مکر فریبیوں کو جاری رکھا لہذا جس طرح سے انھوں نے پہلے اخبار الغیب اور اطلاع الغیب کا انکار کیا تھا اس پر فاضل بریلوی کی گرفت سے بچنے کے لیے نیز لوگوں کی توجہ اس اصل مسئلہ سے ہٹانے کے لیے ایک اور چال چلی کہ مولوی اشرف علی تھانوی کو میدان میں اتارا اور اس سے کتاب حفظ الایمان لکھوائی کہ جس میں اصل مسئلہ کہ جس کا علمائے دیو بند کو انکار تھا یعنی عطائی طور پر اخبار علی الغیب اور اطلاع علی الغیب کی رو سے نبی کو غیب کا علم ماننا اس سے نظر ہٹا کر کل علم غیب اور بعض علم غیب کی بحث کو چھیڑا گیا اور پھر اس طرح سے مولوی اشرف علی تھانوی نے خود نبی کی ذات کے لیے بعض علوم غیبیہ کو مانکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان علوم غیبیہ کو تمام پاگلوں صبی مجنون اور جانوروں چوپائیوں وغیرہ کے علم سے تشبیہ دے کر نبی کی شان کریمہ میں سنگین گستاخی کی اصل عبارت درج زیل ہے ۔ ۔ پھر اشرف علی تھانوی ان سب سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھتے ہوئے اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکھتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب یہ امر ہے کہ غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کیا تخصیص ہے ۔ایسا علم غیب تو زید وعمر و بلکہ ہر صبی (بچہ )مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ (بحوالہ :کتاب حفظ الایمان ص8کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند مصنف :اشرف علی تھانوی ) پھر باری آئی مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کی جو کہ گنگوہی کہ معتمد خاص تھے نے اپنی کتاب میں لکھا کہ۔ ۔ ۔ ۔ شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کاحصّہ ہے شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ۔فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ۔ فائدہ :- مطلب یہ کہ سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک سے شیطان وملک الموت کے علم کو زیادہ بتایا گیا مولوی خلیل احمد کی اس کتاب کی دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی نے تصدیق بھی کی ۔(بحوالہ :کتاب :براہین قاطعہ صفحہ نمبر 51مطبوعہ بلال ڈھور ،مصنف :مولوی خلیل احمد ابنیٹھوی مصدّقہ ،مولوی رشیداحمد گنگوہی ) قارئین کرام یہ تھی انتہائی مختصر طور پر ذات نبوی اور صفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرنے والوں اجمالی تاریخ تفصیل دیکھنی ہو تو قرآن و سنت کی معتبر تفاسیر و شروح سے رجوع کیا جائے نیز تاریخ کے حوالہ سے اصل دیوبندی اور بریلوی نزاع کا مطالعہ کیا جائے ۔ ۔ ۔ نوٹ :- قارئین کرام جیسے جیسے علمائے اہل سنت نے علمائے دیوبند کا تعاقب کیا ویسے ویسے ہی انکی کتابیں عقائد کے باب میں تضادات کا مجموعہ بنتی گئیں تفصیل دیکھنا ہو تو دیوبندی مذہب ، زلزلہ ۔زیر و زبر ، کڑوا سچ اور حقائق نامی کتب کا مطالعہ کیجیئے ۔ ۔ معزز قارئین کرام آج تو عامۃ الناس سے اصل عقیدہ کی مخفیت کے لیے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے مخالفین بڑے طمطراق سے یہ لکھ دیتے کہ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب ،انبا ءالغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطاءنہیں،اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ۔ ۔ ۔ مگر اوپر کی مختصر تاریخ جاننے کے بعد ہر انصاف قاری یہی کہے گا یہ محض دعوٰی ہی ہے جبکہ اصل عقیدہ وہی ہے جو کہ اوپر دیوبندی اکابرین کی عبارات کی مد میں ظاہر ہوا یعنی ۔ ۔ ۔ رسول کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔ رسول کو غیب کی کیا خبر ۔ ۔۔ انبیاء غیب پر مطلع نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ رسول کے لیے عطائی علم غیب کا اطلاق کرنے والا بھی مشرک ہے ۔ ۔ نیز نبی کو جو بعض علم غیب ہوتا ہے اس میں نبی کی کیا تخصیص ایسا علم غیب تو زید وعمر و بلکہ ہر صبی (بچہ )مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ ۔ نیز شیطان اور ملک الموت کے علم کا ساری زمین کو محیط ہونا اور نبی کریم سے زیادہ ہونا نص قطعی سے ثابت ہوتا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی وسعت کی کوئی نص نہیں کہ آپکے علم کو محیط بر زمین جانکر کر شرک کا اثبات کیا جائے ۔ ۔ ۔۔ تو قارئین کرام آپ بتلایئے اور دل پر ہاتھ رکھ کر بتلایئے کہ اوپر والی ساری عبارات کو جانکر آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ خوش ہوئے ہونگے یا پھررررر آپ نے وہی ارشاد نہ فرمایا ہوگا کہ ۔ ۔ اقوام کو کیا حق پہنچتا ہے کہ میرے علم پر طعن کریں اور کیا تم میرے علم میں طعن کرنے سے بعض نہیں آؤ گے ۔ ۔ ۔ جاری ہے ۔ ۔ ۔ Last edited by آبی ٹوکول; 10-08-10 at 03:57 AM. |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-12-10), کنعان (15-08-10), ننھا بچہ (12-06-11), مہتاب (23-01-11), محمد عویدص (18-12-10), ziamurtaza (11-08-10), اویسی (10-08-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر Rehan (11-06-11), شعبان نظامی (06-05-12) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم معزز قارئین کرام !
آئیے آج سے ایک بار پھر ٹوٹی ہوئی کڑیوں کو ملانے کا آغاز کرتے ہوئے اپنے اس سلسلہ کو جہاں سے توڑا تھا وہیں سے دوبارہ جوڑتے ہوئے شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے دلی معذرت قبول فرمایئے کہ پردیس میں فکر معاش کی وجہ سے جہاں اس عرصہ کہ دوران دو بار کام چھوٹا وہیں دو بار ہی رہائش بھی تبدیل کرنا پڑی سو اسی غم روزگار کی نذر یہ سارا سلسلہ بھی ہوتا چلا گیا کوشش کرتے ہیں کہ آج سے اس کے تسلسل میں کوئی کمی نہ آنے پائے مگر تاہم بندہ بشر ہونے کے ناطے سے آئندہ کی کسی بھی کوتاہی کے لیے پیشگی معذرت قبول فرمایئے ۔ ۔ ۔ تو آئیے آج سے اپنے اس نا مکمل مقالہ کے پہلے مکمل حصے یعنی " تمہید اور مقدمہ "کے مکمل ہوجانے کہ بعد سے اپنے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے اس مقالہ کے دوسرے مگر انتہائی اہم اور خاص حصہ کی طرف اپنی ہمت کو لگاتے ہیں یعنی اصل نفس مسئلہ "علم غیب نبی " پر کام کا آغاز کرتے ہیں لہزا اسے اپنے مقالہ کا دوسرا مگر انتہائی اہم اور آخری حصہ قرار دیتے ہوئے کوشش کریں گے کہ اول اس حصہ میں نبی کے علم غیب کی بابت جمہور اہل سنت کہ اصل عقیدہ کی تفھیم بااعتبار قطعی اور ظنی دلائل دونوں طرح سے ہو نیز علم غیب نبی کے ساتھ ساتھ اس عقیدہ میں جو فاضل بریلوی علیہ رحمہ کا اصل عقیدہ ہے اسکی بھی قطعی اور ظنی دونوں ابواب میں تقسیم کو خود فاضل بریلوی علیہ رحمہ کی اصل عبارات سے واضح کیا جائے نیز خود انکے کلام سے انکے اس عقیدہ پر متقدمین اکابر فقہائے امت کی تصریحات بطور تائید بھی پیش کردی جائیں تاکہ احباب پر ایک تو یہ واضح ہوکہ فاضل بریلوی اس باب میں منفرد نہیں نیز انکی موافقت میں اس باب میں کون کونسی جید ہستیاں موجود ہیں وغیرہ ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ہم آخر میں کوشش کریں گے کہ اُن تمام اعتراضات کا بھی ازالہ کردیا جائے کہ جنکو بطور شکوک و شبہات وقتا فوقتا پیش کیا گیا ہے ۔ لیکن تب تک کے لیے آپ سب احباب سے وہی پہلے والی گذارش ہوگی کہ خاموشی سے ہمارے دلائل سنیئے اور جب مقالہ کمپلیٹ ہوجائے تو اپنی رائے سے بصورت اختلاف و اتفاق نوازیئے تب تک کے لیے والسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ جاری ہے ۔ ۔ Last edited by آبی ٹوکول; 18-12-10 at 04:38 AM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-12-10), کنعان (18-12-10), ننھا بچہ (12-06-11), محمد عویدص (18-12-10), شعبان نظامی (06-05-12) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علم غیب نبی سب سے پہلے لیتے ہیں علم کو علم کی لغوی تعریف:- مفردات اما راغب میں ہے کہ ۔ ۔ ۔ علم: العلم إدراك الشيء بحقيقته؛ کہ علم اشیاء کی حقیقت کہ ادراک کا نام ہے المنجد میں بھی ہے یہی تعریف مذکور ہے کہ کسی شئے کی حقیقت کو جان لینا‘ اور ‘یقین اور معرفت‘ کو علم کہتے ہیں ۔ علم کی اصطلاحی تعریف کسی شئے کو اس کی حقیقت کے حوالے سے جان لینا علم ہے۔ (امام راغب اصفہانی ، المفردات ) یعنی کسی شئے کو اس کی حقیقت و ماہیت کے حوالے سے کہ جس پر وہ قائم ہے جان لینا علم کہلاتا ہے یا پھر ایسا پختہ نظریہ علم کہلاتا ہے جو کہ عین امر واقعہ ہو ۔ اب آتے ہیں غیب کی طرف غیب کی لغوی تعریف مشھور امام لغت امام أبو الفضل جمال الدين محمد بن مكرم ( ابن منظور) الافریقی اپنی مایہ ناز تصنیف لسان العرب میں فرماتے ہیں کہ :- والغيب : كل ما غاب عنك . أبو إسحاق في قوله تعالى : يؤمنون بالغيب أي يؤمنون بما غاب عنهم ، مما أخبرهم به النبي ، صلى الله عليه وسلم ، من أمر البعث والجنة والنار . وكل ما غاب عنهم مما أنبأهم به ، فهو غيب ؛ وقال أبو الأعرابي : يؤمنون بالله . قال : والغيب أيضا ما غاب عن العيون ، وإن كان محصلا في القلوب جو چیز بھی تم سے پوشیدہ (مخفی) ہو وہ غیب ہے ۔ امام ابو اسحاق نے ‘یومنون بالغیب’ کی تفسیر میں کہا ہے کہ مومنین ان حقائق پر ایمان لاتے ہیں کہ جو اصلا ان پر مخفی ہوتے ہیں مگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کی خبر دی سو وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں جیسے مرنے کے بعد اٹھنا ، جنت ، دوزخ ، اور ہر وہ حقیقت جو ان سے محفی و پوشیدہ تھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کی خبر دی وہ غیب ہی ہے۔ أبو الأعرابي نے کہا : کہ غیب وہ بھی ہے کہ جو آنکھوں سے پوشیدہ ہو مگر دلوں میں حاصل ہو ۔ فائدہ :- یعنی( اے انسان) جو کچھ بھی تجھ سے پوشیدہ ہے یعنی تیرے زرایع علم سے پوشیدہ ہے وہ غیب ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ ایسی شئے پر ایمان لاتے ہیں کہ جو ان سے پوشیدہ ہے یعنی مخفی ہے یہاں انسان سے پوشیدہ ہونے سے مراد اسکی تمام ظاہری زرایع علم اور اسکے تمام خارجی زریعوں کی پہنچ سے دور ہونا ہے جیسے عقل ۔حواس اور ظاہری و باطنی آلات علم وغیرہ ۔ امام قرطبی اپنی مشھور تصنیف تفسير الجامع لاحكام القرآن/ القرطبي (ت 671 هـ) میں ایس غیب کی اصطلاحی تعریف میں آیت الذین یومنون بالغیب کہ تحت رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔ الثانية: قوله تعالى: { بِٱلْغَيْبِ } في كلام العرب: كل ما غاب عنك ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ کلام عرب میں ہر وہ شئے جو (اے انسان) تجھ سے اوجھل ہو وہ غیب ہے پھر آگے چل کر اس غیب کہ اطلاقات کا بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ الثالثة: وٱختلف المفسرون في تأويل الغيب هنا؛ فقالت فرقة: الغيب في هذه الآية: الله سبحانه. وضعّفه ٱبن العربي. وقال آخرون: القضاء والقدر. وقال آخرون: القرآن وما فيه من الغيوب. وقال آخرون: الغيب كل ما أخبر به الرسول عليه السلام مما لا تهتدي إليه العقول من أشراط الساعة وعذاب القبر والحشر والنشر والصراط والميزان والجنة والنار. قال ٱبن عطية: وهذه الأقوال لا تتعارض بل يقع الغيب على جميعها ۔ ۔ ۔ کہ مفسرین کا اس کہ (یعنی غیب کہ) حقیقی اطلاقات پر اختلاف ہے ایک فرقہ نہ کہا کہ اس آیت میں غیب سے مراد اللہ سبحان و تعالٰی بھی ہے بعض نے کہا اس مراد قضا و قدر بھی ہے اور بعض نے کہا کہ خود قرآن بھی غیوبات میں شامل ہے پھر کہا گیا کہ جس چیز کی بھی خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیں اور جن پر عقل کی زریعے رہنمائی نہ ملتی ہو وہ سب غیب ہیں جیسے ساعت قیامت ،عذاب قبر و حشر ،صراط و میزان اور جنت اور و دوزخ وغیرہ اور ابن عطیہ نے کہا کہ ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں یہ سبھی اطلاقات غیب ہیں یعنی ان سب پر غیب ہی کا اطلاق ہوگا ۔ ۔ ۔ فائدہ :- قارئین کرام آپ نے نوٹ کیا مذکورہ بالا تعریف میں کتنی صراحت سے آگیا کہ نبی تو نام ہی اس ہستی کا ہے جو کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے غیب پر مطلع ہوتا ہے یعنی اطلاع یافتہ ہوتا ہے اور پھر اتنا ہی نہیں وہ آگے مخلوق کو بھی اسکی (یعنی غیب کی اطلاع بصورت) خبر دیتا ہے یعنی نبی کہتے ہی اُسے ہیں کہ جو غیب کی خبر دے اسی لیے تو اوپر کہا کہ جو بھی نبی (بذریعہ وحی) کہ خبر دیتا ہے وہ سب غیب ہیں ۔۔ اب لوگوں کے اس قول کی مضحکہ خیزی کا کیا عالم ہے کہ جو نبی کو نبی تو مانتے ہیں مگر غیب پر مطلع یعنی غیب جاننے والا نہیں مانتے اور جو جانتا نہیں وہ خبر کیسے دیتا ہے پھررررررررر ؟؟؟؟؟ قارئین کرام آپ پر خوب روشن ہوچکا کہ غیب کیا ہے بالکل اسی طرغ دیگر معتبر تفاسیر میں بھی غیب کی یہی تعریف رقم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی محاورہ عرب میں غیب وہ ہے جو آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہو۔ (امام قرطبی الجامع الاحکام القرآن ) غیب وہ ہوتا ہے جو حواس خمسہ میں نہ آسکے اور نہ ہی عقل کی تیزی اس کا ادراک کرسکے اور وہ صرف انبیاء علیھم السلام کی خبر سے معلوم ہو۔ (امام راغب اصفہانی ، المفردات فی غریب القرآن ) غیب سے مراد ہر وہ مخفی شئے ہے جس کا ادراک نہ تو حواس کرسکیں اور نہ ہی وہ عقل کی سریع الفہمی کے دائرے میں آسکے۔ (قاضی ناصر الدین بیضاوی ، انوار التنزیل ، ) غیب وہ ہے جو حواس خمسہ سے غائب ہو۔ (امام فخرالدین رازی ، التفسیر الکبیر ) غیب سے مراد وہ امور ہیں جو حواس اور عقل سے مکمل طور پر اس طرح پوشیدہ ہوں کہ ابتداء بدیہی طور پر ان کا ادراک کسی کو نہ ہوسکے۔ (شیخ اسماعیل حقی ، تفسیر روح البیان ) اب آگے بڑھتے ہوئے لفظ نبی کی تعریف معلوم کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ نبی کا لغوی معنٰی امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ وقال بعض العلماء: هو من النبوة، أي: الرفعة، وسمي نبيا لرفعه محله عن سائر الناس المدلول عليه بقوله: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً} [مريم:57]. ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔. والنبوة والنباوة: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بعض علماء نے کہا کہ نبی نبوۃ سے مشتق ہے جس کا معنٰی رفعت و بلندی کہ ہیں لہذا نبی کو نبی اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا مقام تمام لوگوں سے بلند ہوتا ہے جس پر اللہ پاک کا قول: {وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً} دلالت کرتا ہے اور لغت میں نبوۃ اور نباوۃ کے معنٰی ارتفاع کہ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لفظ نبی کے مادہ نباء پر لفظ نبوۃ کہ حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ اصفہانی لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ والنبوة: سفارة بين الله وبين ذوي العقول من عباده لإزاحة عللهم في أمر معادهم ومعاشهم. والنبي لكونه منبئا بما تسكن إليه العقول الذكية، وهو يصح أن يكون فعيلا بمعنى فاعل لقوله تعالى: {نَبِّىءْ عِبَادِي} [الحجر:49]، {قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ} [آل عمران:15]، وأن يكون بمعنى المفعول لقوله: {نَبَّأَنِيَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْخَبِيرُ} [التحريم:3 یعنی نبوۃ اللہ پاک اور اسکے ذوی العقول بندوں کے درمیان سفارت کا نام ہے جو ان (عامۃ الناس) کے تمام دنیوی اور اخروی امور سے ہر قسم کی خرابی دور کرنے کے لیے ہوتی ہے،اور اسکو نبی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ایسی خبریں دیتے ہیں کہ جس کی وجہ سے پاکیزہ عقول کو تسکین و طمانیت حاصل ہوتی ہے ۔ لفظ نبی کا فعیل بمعنی فاعل ہونا بھی حق ہے کہ جسکی دلیل یہ دو آیات ہیں ۔ ۔ {نَبِّىءْ عِبَادِي} کہ میرے بندوں کو خبر دیجیئے [الحجر:49]، {قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ} فرما دیجیئے کیا میں تمہیں خبر دوں [آل عمران:15] اور لفظ نبی مفعول بھی ہوسکتا ہے کہ جسکی دلیل درج زیل آیت ہے ۔ ۔ نَبَّأَنِيَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْخَبِيرُ یعنی علیم و خبیر نے مجھے خبر دی ۔ ۔ ۔ امام لغت صاحب قاموس لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ اللہ کی طرف سے خبر دینے والے کو نبی کہتے ہیں اور ہمزہ کا ترک مختار ہے اس کی جمع انبیاء ونباء وانباء اور النبیون ہے اور اسم النبوۃ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی طرح دیگر ائمہ لغت و تفسیر نے بھی لفظ نبی کہ یہی معنٰی بیان کیئے ہیں ۔ جیسا کہ متعدد ائمہ نے لکھا کہ لفظ نبوۃ خود انباۃ سے ماخوذ ہے اور لفظ نبی کا ماخذ نباء ہے اور اسکے معنٰی ہیں خبر دیا ہوا یا خبر دینے والا اور اسکا رتبہ بلند اس لیے ہوتا کہ وہ اللہ کی طرف سے مخبر (با کہ رفع کہ ساتھ ) یا مخبر (با کہ کسرہ کہ ساتھ) ہوتا ہے اب آئیے دیکھیئے فریق مخالف کہ مسلمہ امام ابن تیمیہ َاس لفظ نبوۃ کے بارے میں کیا تحقیق فرماتے ہیں ۔ ۔ ۔ امام ابن تیمیہ رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔ وھو من النباء واصلہ الھمزہ وقد قری بہ وھی قرآۃ نافع یقراء النبی لکن لکثیرۃ استعمالہ لینت ھمزۃکما فعل مثل ذالک فی الذریۃ وفی البریۃ وقد قیل ھو من النبوۃ وھو العلو فمعنٰی النبی المعلی الرفیع المنزلۃوالتحقیق ان ھذا المعنٰی داخل فی الاول فمن انباءہ اللہ منباء عنہ فلا یکون الا رفیع القدر علیا ۔ (کتاب النبواۃ) نبی نباء سے ماخوذ ہے، اسکی اصل ہمزہ ہے اور ہمزہ ہی کے ساتھ اسے پڑھا بھی گیا ہے جیسا کہ نافع کی قراۃ جو کہ اسے ہمزہ کہ ساتھ نبی پڑھتے تھے لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے اسکے ہمزہ کو لین کے ساتھ یعنی نبیء کی بجائے نبی پڑھا جاتا ہے جیسے زریہ اور بریہ دونون کہ ہمزہ یا کہ ساتھ پڑھے گئے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ لفظ نبی نبوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنٰی بلندی ہیں ایسی صورت میں لفظ نبی کے معنٰ اونچا اور بلند مرتبہ کہ ہونگے اور تحقیق یہ ہے کہ یہ معنی پہلے والے معنی میں داخل ہیں کیونکہ جسے اللہ نے خبر دی اسے اپنی طرف سے خبر دینے والا بنایا وہ وہی ہوتا ہے جو کہ بلند رتبہ اور اونچا ہو ۔ ۔ ۔ فائدہ :- قارئین کرام آپ لفظ نبی کا جو بھی مادہ لیں وہ ہر اعتبار اسی پر دلالت ضرور کرئے گا کہ نبی اپنی اصل میں وہ بلند رتبہ ہستی ہے جو کہ اللہ سے غیب کا علم حاصل کرتی ہے اور اسکے بندوں تک بصورت خبر پہنچاتی ہے کیونکہ نبی کے لفظ کا بنیادی ماخذ لفظ نباء قرآن پاک میں اکثر مقامات پر مطلقا خبر کہ معنٰی میں نہیں بلکہ غیب (یعنی پوشیدہ و مخفی امور ) کی خبر کہ معنٰی کے بطور آیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ قارئین کرام اب آپکو ہمارے دھاگے کا عنوان صحیح سمجھ میں آگیا ہوگا کہ ہم نے اسکا عنوان علم غیب نبوی کیوں رکھا ۔ ۔ علم :- علم کہ معنٰی ہیں جاننا ۔۔ غیب :- کہ معنٰی ہے ہر وہ شئے جو عقول و حواس سے پوشیدہ ہو اور نبی :- نبی کہتے ہی اس مبارک ہستی کو ہیں جو غیب کی خبروں کو اللہ پاک کی ذات سے بطور علم کہ اخذ کرکے آگے امت تک منتقل کرے ۔۔ ۔ ۔ فائدہ :- جیسا کہ امام قرطبی نے فرمایاکہ۔ ۔ الغيب كل ما أخبر به الرسول عليه السلام مما لا تهتدي إليه العقول ۔ ۔ ہر وہ چیز جسی کی خبر یا ہر وہ مخفی حقیقت کہ جسکی خبر نبی دے اور انسانی عقول اس سے عاجز ہوں وہ غیب ہے آپ نے دیکھا قارئین کرام کہ غیب کی تعریف ہی یہ ہے یعنی غیب کہتے ہی اسے ہیں کہ جسکی خبر انسانوں کو نبی کے زریعہ سے معلوم پڑے اب اس پر کوئی یہ کہہ دے کہ نبی کو غیب کا علم نہیں یا خبر نہیں یا غیب پر اطلاع نہیں کتنی عجیب اور مضحکہ خیز بات ہوگئی کہ جس کا عقل و فہم شعور و ہدایت کہ ساتھ کوئی دور کا بھی واسطہ نہ ہوگا کہ نبی تو نام ہی اس ہستی کا ہے جو اللہ کی طرف سے غیب پر مطلع ہوکر پھر انسانوں کو اس سے خبردار کرتا ہے تو معلوم ہوا کہ غیب اور نبی تو آپس میں اس طرح سے لازم و ملزوم ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کہ عین یک دگر ہیں کہ ان دونوں کو ہرگز ایک دوسرے سے جدا ہی نہیں کیا جاسکتا کہ نبی کہتے ہی اسے ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے مامور ہوکر اخذ فیض علم کرکے بطور غیب کی اخبار لوگوں تک پہنچائے تو پھر دونوں یعنی نبی اور غیب کو آپس میں کس طرح سے جدا کیا جاسکتا ہے کیا کبھی کسی نے یہ کہا کہ یہ پانی ہے مگر گیلا نہیں یہ آگ ہے مگر جلاتی نہیں ؟؟؟ یعنی نبی ایک ایسا عہدہ ہے کہ جس کے لیے (اللہ کی طرف سے غیب پر مطلع ہونا) اسکی لازمی صفت قرار پاتی ہے یعنی نبی ذات ہے اور غیب اسکی صفت اور صفت بھی ایسی کہ جسے اسکے موصوف سے ہرگز جدا نہ کیا جاسکے ۔ ۔ ۔ والسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے Last edited by آبی ٹوکول; 18-12-10 at 03:21 AM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-12-10), کنعان (18-12-10), مہتاب (23-01-11), محمد عویدص (18-12-10), حیدر Rehan (11-06-11), شعبان نظامی (06-05-12), عرفان مسلم (23-09-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عقیدہ اہل سنت والجماعت
گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ علامہ احمد سعید کاظمی علیہ رحمہ اپنا مقالہ علم غیب النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں عقیدہ اہل سنت کی وضاحت میں رقم طراز ہیں کہ ۔ حضورسید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علوم غیبیہ جزئیہ (بعض علوم غیب) ثابت ہونے میں آج تک کسی مسلمان نے اختلاف نہیں کیا حتٰی کہ مولوی اشرف علی تھانوی صاحب بھی تغییر العنوان میں یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ ۔ ۔ ۔ " یہاں اس میں کلام ہی نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم غیبیہ جزئیہ کمالات نبوت میں داخل ہیں اسکا کون انکار کرسکتا ہے " معلوم ہوا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بعض علوم غیبیہ ماننا متفق علیہ مسئلہ ہے ۔البتہ اہل سنت اور معتزلہ کا اس میں اختلاف ہے کہ انبیاء علیھم الصلوٰۃ والتسلیم کے واسطہ سے اولیاء اللہ کو بھی علوم غیب سے کچھ حصہ ملتا ہے یا نہیں ؟معتزلہ اس کے منکر ہیں جبکہ اہل سنت اس کے قائل ہیں۔ اہل سنت اس امر پر بھی متفق ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوبوں خصوصا سید المحبوبین آقا نامدارحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو غیوب خمسہ میں سے بہت سے جزئیات کا علم (بھی) عطا فرمایاجو شخص یہ کہے کہ کسی فرد کا علم کسی کو نہ دیا گیا وہ ہمارے نزدیک بد مذہب خائب و خاسر ہے ۔ نیز عقیدہ اہل سنت کی وضاحت میں مزید لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ اب اس مسلک کو لیجیئے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا استثناء جمیع جزئیات خمسہ کا علم (جس میں تعیین وقت قیامت کا علم بھی شامل ہے) اور روز اول سے آخر تک ما کان ومایکون (یعنی جوکچھ ہوچکا اور جو کچھ ہونے والا تھا کا علم بھی اور ) مندرجہ لوح محفوظ اور اس سے بہت زائد کا علم اللہ پاک نے عطا فرمایا ۔اہل سنت کہ درمیان مختلف فیہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کہ علم اقدس کے بارہ میں ہمارا مسلک یہ ہے کہ اللہ پاک جل مجدہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو روز اول سے روز آخر تک کا علم دیا اور تمام علوم مندرجہ لوح محفوظ نیز اپنی ذات وصفات کی معرفت سے متعلق بہت سے بے شمار علوم عطا فرمائے ۔جمیع جزئیات خمسہ کا علم دیا جس میں خاص وقت قیامت کا علم بھی شامل ہے ۔احوال جمیع مخلوقات تمام ما کان وما یکون کا علم (بتدریجا) عطا فرمایا لیکن بایں ہمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم عطائی ہونے کی وجہ سے حادث ہے اور اللہ پاک علم ذاتی و قدیم ہے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم ہرگز اللہ پاک کے علم کے مساوی نہیں ۔ مشھور دیوبندی عالم شیخ سلیم اللہ خان فاضل بریلوی علیہ رحمہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم مبارکہ کو علم تفصیلی محیط اور عالم الغیب ماننے کا الزام لگاتے ہوئے اپنی کتاب کشف الباری میں رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مولوی احمد رضا خان بریلوی نے مختلف کتابوں میں جو کچھ تحریر کیا ہے، اسکی رو سے انکا مسلک یہ ہے کہ ابتداء آفرینش عالم سے لیکر ہنگامہ محشر (حساب و کتاب وغیرہ) کے اختتام یا بالفاظ دیگر جنت و نار تک کہ تمام واقعات جزئیہ کلیہ دینیہ و دنیویہ کا علم تفصیلی محیط حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا گیا ۔ ۔ ۔۔ نیز لکھتے ہیں کہ ۔ ۔۔ اگر اللہ تعالٰی کے تمام غیوب و جزئیات غیب پر مطلع کردینے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہہ سکتے ہیں تو پھر آپکے حضرات صحابہ کرام کے سامنے ان تمام امور کو بیان کردینے سے ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا عالم الغیب ہونا بھی تو لازم آئے گا،پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تخصیص کیوں ۔۔ (کشف الباری ) ( بحوالہ تفھیم البخاری جلد اول ص 276 از علامہ غلام رسول سعیدی) توجہ طلب نکتہ :- یہی عقلی دلیل بطور اعتراض ہمارے جواب میں جناب محترم ناصر نعمان صاحب نے بھی اپنے مقالہ میں دی تھی کہ جس کا رد ہم نے اول قرآن پھر دوم عقل سلیم سے کردیا تھا پھر دہرائے دیتے ہیں کہ یہ اعتراض چند وجوہ سے باطل ہے اول قرآن پاک میں علم غیب عطا کردینے کہ بعد بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہ حق میں اس کو علم غیب کے جاننے سے ہی تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ پاک فرمان پاک میں فرماتا ہے : ذٰلک من انباء الغیب نُوحیہ الیک یہ غیب کی (ہی تو) خبریں ہیں جو ہم آپکی طرف وحی فرماتے ہیں ۔ فائدہ : معلوم ہوا اللہ پاک بذریعہ وحی علم غیب نبی کو بتلا دینے کہ باوجود اس پر غیب ہی کا اطلاق فرماتا ہے ۔ ریا یہ سوال کہ جن جن غیبی امور کی خبریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتلائیں تو پھر چاہیے کہ صحابہ کرام پر بھی ان پر مطلع ہونے کہ بعد علم غیب کے جاننے والے کا اطلاق کیا جائے؟؟؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ نہیں کیونکہ صحابہ کرام کو وہ خبریں زبان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے معلوم پڑیں اور زبان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ایک خارجی زریعہ ہے علم کے حصول کا سو اس زریعہ سے حاصل کیا گیا علم ،علم تو کہلائے گا اور اس پر غیب کی خبر کا اطلاق بھی ہوگا مگر چونکہ حاصل کرنے والے نے اس علم غیب کو براہ راست اللہ تعاٰلی سے بذریعہ وحی کے حاصل نہیں کیا بلکہ وحی والی زبان یعنی زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا جو کہ علم قطعی کا ایک ظاہری واسطہ اور وسیلہ و سورس ہے ۔ لہذا اس زریعہ کہ واسطہ و توسط سے حاصل کیے گئے علوم پر اس شخص کہ حق میں علم غیب کے جاننے والے کا اطلاق نہیں ہوگا ، وجہ اسکی بہت واضح ہے کہ اس شخص نے وہ علم ایک ظاہری واسطہ یعنی زبان نبوت و رسالت سے حاصل کیا جبکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ علم براہ راست اللہ پاک سے بذریعہ وحی (جو کہ ایک الہامی سورس ہے) کہ حاصل کیا نیز اللہ پاک نے وحی کردینے کہ بعد بھی ان خبروں پر نبی کے حق میں غیب ہی کا اطلاق فرمایا ہے سو اس نبی کہ حق میں اسے علم غیب سے ہی تعبیر کیا جائے گا ۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ وحی کتنا علم لیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانے اور دینے ولا خدا جانے یہ معاملہ مجہول ہے امت فقط اتنا ہی جانتی ہے کہ جتنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو خبر دی لہذا محض نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ خبر دینے کو ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کل علم سمجھنا جہالت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنا بھی علم دیا گیا ہو اس سارے کہ سارے علم کا بتلا دینا نبی پر فرض نہیں ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے مراسلہ میں ہم فاضل بریلوی علیہ رحمہ پر لگائے جانے والے شیخ سلیم اللہ خان دیوبندی کے اعتراض کا جواب خود فاضل بریلوی کے فتاوٰی سے دیتے ہوئے ان پر لگائے جانے والے چند مزید اعتراضات اور انکا جواب خود انکی زبانی انکے عقیدہ کی وضاحت کے بطور نقل کریں گے تب تک کے لیے والسلام |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (19-12-10), کنعان (19-12-10), مہتاب (20-12-10), حیدر Rehan (11-06-11), شعبان نظامی (06-05-12) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔ جیساکہ پچھلی نشست میں ہم عرض کرچکے کہ مشھور دیوبندی عالم شیخ سلیم اللہ خان نے فاضل بریلوی علیہ رحمہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم مبارکہ کو علم تفصیلی محیط اور عالم الغیب ماننے کا الزام لگاتے ہوئے اپنی کتاب کشف الباری میں فرماتا تھا کہ ۔ ۔ ۔ مولوی احمد رضا خان بریلوی نے مختلف کتابوں میں جو کچھ تحریر کیا ہے، اسکی رو سے انکا مسلک یہ ہے کہ ابتداء آفرینش عالم سے لیکر ہنگامہ محشر (حساب و کتاب وغیرہ) کے اختتام یا بالفاظ دیگر جنت و نار تک کہ تمام واقعات جزئیہ کلیہ دینیہ و دنیویہ کا علم تفصیلی محیط حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا گیا ۔ ۔ ۔۔ نیز لکھتے ہیں کہ ۔ ۔۔ اگر اللہ تعالٰی کے تمام غیوب و جزئیات غیب پر مطلع کردینے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہہ سکتے ہیں تو پھر آپکے حضرات صحابہ کرام کے سامنے ان تمام امور کو بیان کردینے سے ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا عالم الغیب ہونا بھی تو لازم آئے گا،پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تخصیص کیوں ۔۔ (کشف الباری ) اس عبارت میں میں انکی بیان کردہ عقلی دلیل کا جواب ہم نے پہلے عرض کردیا اب رہ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم کو علم تفصیلی محیط ماننا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر لفظ عالم الغیب کی اصطلاح کا استعمال تو اسکی بابت ہم فاضل بریلوی کا اصل عقیدہ خود انکے فتاوٰی سے بیان کرتے ہوئے اوپر لگائے گئے اس الزام کا جھوٹا یا بے بنیاد ہونا ثابت کریں گے ۔۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ فاضل بریلوی علیہ رحمہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہتے ہیں یا مانتے ہیں اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ لیے علم تفصیلی محیط کو ثابت مانتے ہیں بلکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ لیے اللہ پاک کے علوم میں سے بعض کہ عطا کیئے جانے کے قائل ہیں تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بعض کل مخلوق کے علم سے بہت زیادہ ہیں اسی لیے وہ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔بعض بعض میں بھی فرق ہے پانی کی بوند بھی بعض ہے اور سمندر کے سامنے دریا بھی بعض ہی کی حیثیت رکھتا ہے تو بعض، بعض میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہوا لہذا مخالفین جو بعض مانتے ہیں وہ بغض و توہین والا ہے کہ انکو اپنے بعض کی قلت پر اصرار ہے جبکہ ہم جو بعض مانتے ہیں وہ عزت و تمکین والا ہے کہ اس میں کثرت پر اعتبار ہے ۔ ۔ ۔ آئیے اس مسئلہ میں فاضل بریلوی کہ اپنی عبارات ملاحظہ فرمائیے ۔ جب اسی قسم کا ایک سوال ان سے پوچھا گیا کہ آیا عالم الغیب کی اصطلاح کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اطلاق درست ہے تو انھوں نے کیا جواب دیا آئیے ملاحظہ کیجیئے ۔ ۔ الجواب : اس مسئلہ میں بفضلہ تعالٰی یہاں سے متعدد کتابیں تصنیف ہوئیں۔ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ پر اکابر علمائے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ وغیرہ ہا بلادِ اسلامیہ نے مہریں کیں،گرانقدر تقریظیں لکھیں۔ خالص الاعتقاد دس سال سے شائع ہوا ۔ انباء المصطفٰی بیس سال سے ہزار کی تعداد میں بمبئی و بریلی و مراد آباد میں چھپ کر تمام ملک میں شائع ہوا اور بحمدہ تعالٰی سب کتابیں آج تک لاجواب ہیں، مگر وہابیہ اپنی بے حیائی سے باز نہیں آتے۔ ۔۔ ۔ علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ یعلم الغیب وارد ہے جیسا کہ ملا علی قاری کی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں ہے۔ بلکہ خود حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما میں سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت ارشاد ہے :کان رجلا یعلم علم الغیب ۔ وہ مرد کامل ہیں جو علمِ غیب جانتے ہیں۔ مگر ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عزجلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اُس سے عرفاً علم بالذات متبادر ہے۔ کشاف میں ہے: المراد بہ الخفی الذی لاینفذ فیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر ولہذا لایجوزان یطلق فیقال فلان یعلم الغیب ۔ اس سے مراد پوشیدہ شے ہے جس تک ابتداءً (بالذات ) سوائے باریکی جاننے والے یا خبیر ( اﷲ تعالٰی) کے کسی کے علم کی رسائی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علی الاطلاق یوں کہنا کہ فلاں غیب جانتا ہے جائز نہیں ۔ تسھیل :- یعنی ہمارے نزدیک اس اصطلاح یعنی عالم الغیب کا مطلقا استعمال فقط ذات باری تعالٰی کے لیے خاص ہے کیونکہ جب یہ لفظ یعنی عالم الغیب بولا جائے تو اس سے عرفا ایسا علم مراد ہوتا ہے جو کہ ذاتی ہو ۔یہی وجہ ہے کہ کشاف میں آیا کہ مطلقا یوں کہنا کہ فلاں غیب جانتا ہے درست نہیں کیونکہ ایسا کہنے سے جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ بالذات ابتداءً جاننے والا ہے حالانکہ ایسا فقط علیم الخبیر ذات کے ساتھ ہی خاص ہے ۔ ۔(آبی ٹوکول) نیز فاضل بریلوی فرماتے ہیں ۔ ۔ اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آتا۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قطعاً بے شمار غیوب و ماکان مایکون کے عالم ہیں مگر عالم الغیب صرف اﷲ عزوجل کو کہا جائے گا جس طرح حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قطعاً عزت جلالت والے ہیں تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل ہے نہ ہوسکتا ہے مگر محمد عزوجل کہنا جائز نہیں بلکہ اﷲ عزوجل و محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ غرض صدق وصورت معنی کو جواز اطلاق لفظ لازم نہیں نہ منع اطلاق لفظ کو نفی صحت معنی۔ امام ابن المنیر اسکندری کتاب الانتصاف میں فرماتے ہیں: کم من معتقدلایطلق القول بہ خشیۃ ایہام غیرہ ممالا یجوز اعتقادہ فلا ربط بین الاعتقاد والاطلاق ۔ بہت سے معتقدات ہیں کہ جن کے ساتھ قول کا اطلاق اس ڈر سے نہیں کیا جاتا کہ ان میں ایسے غیر کا ایہام ہوتا ہے جس کا اعتقاد جائز نہیں، لہذا اعتقاد اور اطلاق کے درمیان کوئی لزوم نہیں۔ ( الانتصاف ) یہ سب اس صورت میں ہے کہ مقید بقید اطلاق اطلاق کیا جائے یابلا قید علی الاطلاق مثلاً عالم الغیب یا عالم الغیب علی الاطلاق اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ بالواسطہ یا بالعطاء کی تصریح کردی جائے تو وہ محذور نہیں کہ ایہام زائل اور مراد حاصل ۔ علامہ سید شریف قدس سرہ حواشی کشاف میں فرماتے ہیں: وانما لم یجزالاطلاق فی غیرہ تعالٰی لانہ یتبادر منہ تعلق علمہ بہ ابتداء فیکون تنا قضا واما اذا قید وقیل اعلمہ اﷲ تعالٰی الغیب اواطلعہ علیہ فلا محذور فیہ ۔۔ علم غیب کا اطلاق غیر اﷲ پر اس لیے ناجائز ہے کہ اس سے غیر اللہ کے علم کا غیب کے ساتھ ابتداء ( بالذات ) متعلق ہونا متبادر ہوتا ہے تو اس طرح تناقض لازم آتا ہے لیکن اگر علم غیب کے ساتھ کوئی قید لگادی جائے اور یوں کہا جائے کہ اللہ تعالٰی نے اس کو غیب کا علم عطا فرمادیا ہے یا اس کو غیب پر مطلع فرمادیا ہے تو اس صورت میں کوئی ممانعت نہیں۔ ( حاشیہ سید الشریف علی الکشاف تحت آیۃ ۲/۳ انتشارات آفتاب تہران ۱/ ۲۸) (فتاوی رضویہ جلد 29) نیز فاضل بریلوی فرماتے ہیں کہ: علم مافی الغد یعنی کل کا علم کے بارہ میں ام المومنین کا قول ہے کہ جو یہ کہے کہ حضور کو علم مافی الغد تھا یعنی آنے والے کل کا علم تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر اس قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ اس سے مطلقا علم کا انکار نکالنا محض جہالت ہے کیونکہ علم جبکہ مطلق بولا جاے خصوصا جبکہ غیب کی خبر کی طرف اسکی اضافت ہو تو (یعنی مطلقا علم غیب کہا جائے) تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا کہ جسکی تصریح ہم نے حاشیہ میر سید شریف کے حوالہ سے اوپر کردی ہے اور یہ یقینا حق کہ کوئی شخص کسی بھی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے تو وہ یقینا کافر ہے ۔ (ملفوظات) فاضل بریلوی علیہ رحمہ کہ نزدیک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ لیے علم تفصیل محیط ماننا جائز نہیں ۔ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ثمّ اقول: وباﷲ التوفیق (پھرمیں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔) مفصلاً حق واضح کو واضح ترکروں۔ اصل یہ ہے کہ کسی علم کی حضرت عزت عزوجل سے تخصیص اوراس کی ذات پاک میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقاً نفی چند وجوہ پر ہے: اوّل علم کا ذاتی ہونا کہ بذات خود بے عطائے غیر ہو۔ دوم علم کاغنا کہ کسی آلہ جارحہ و تدبیر و فکرو نظر و التفات و انفعال کااصلاً محتاج نہ ہو۔ سوم علم کا سرمدی ہوناکہ ازلاً ابداً ہو۔ چہارم علم کا وجوب کہ کبھی کسی طرح اس کاسلب ممکن نہ ہو۔ پنجم علم کا اثبات واستمرار کہ کبھی کسی وجہ سے اس میں تغیر وتبدل فرق تفاوت کاامکان نہ ہو۔ ششم علم کااقصٰی غایات کمالات پر ہونا کہ معلوم کی ذات ذاتیات اعراض احوال لازمہ مفارقہ ذاتیہ اضافیہ ماضیہ آیۃ موجودہ ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ پر مخفی نہ ہوسکے۔ ان چھ وجوہ پر مطلق علم حضرت احدیت جل وعلا سے خاص اور اس کے غیر سے قطعاً مطلقاً منفی یعنی کسی کو کسی ذرہ کا ایسا علم جوان چھ وجوہ سے ایک وجہ بھی رکھتا ہو حاصل ہونا ممکن نہیں جو کسی غیرالٰہی کے لئے عقول مفارقہ ہوں خواہ نفوس ناطقہ ایک ذرے کا ایساعلم ثابت کرے یقینا اجماعاً کافرمشرک ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 26) فاضل بریلوی کے علم غیب نبوی کی بابت افکار کا خلاصہ انکی اپنی تحریروں کی شکل میں درج زیل ہے ۔ 1:- علم ذاتی محیط اللہ پاک کے ساتھ خاص : جبکہ علم عطائی غیر محیط مخلوق کے ساتھ خاص۔ 2:-علم الٰہی غیر متناہی : جبکہ علم مخلوقات متناہی فائدہ :- دونوں میں نسبت بھی محال کجا کہ مساوی ہونے کا دعوٰی کیا جائے ۔ 3:-علم ذاتی واجب للذات :جبکہ علم عطائی ممکن و حادث 4:-علم الٰہی ازلی / علم مخلوق حادث علم الٰہی غیر مخلوق /جبکہ علم مخلوق خود مخلوق علم الٰہی واجب البقاء / جبکہ علم مخلوق جائز الفناء علم الٰہی کا تغیر محال/جبکہ علم مخلوق کا تغیر جائز 5:- علم کل اللہ کو سزا وار ہے /جبکہ رسول اللہ کو علم بعض 6:- مگر بعض بعض میں بھی فرق ہے پانی کی بوند بھی بعض ہے اور سمندر کے سامنے دریا بھی بعض ہی کی حیثیت رکھتا ہے تو بعض بعض میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہوا لہذا مخالفین کو ،بغض و توہین والے بعض پر اصرار جبکہ ہمیں عزت و تمکین والے بعض پر ناز کہ جسکی حقیقی قدر دینے والا جانے یا لینے والا ۔ 7:- جس طرح علم ذاتی پر ایمان لانا ضروری ہے بالکل اسی طرح علم عطائی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم دونوں اقسام کہ علوم کی خبر دی لہزا دونوں میں سے کسی ایک کی تصدیق نہ کرنے والا پورے قرآن پر ایمان نہ لانے والا کہلائے گا کہ جسکا حکم سب پرا واضح ۔ نیز فرماتے ہیں کہ کسی عالم کے علم کہ محض اس وجہ سے نفی نہیں کی جاسکتی کہ اس کا علم استادوں کے پڑھانے کی وجہ سے ہے ایسا کرنے والا کم عقل کہلائے لہزا ہر صاحب عقل استادوں سے پڑھے ہوئے عالم کے علم کا اعتراف کرئے گا نہ کہ یہ کہہ کر اس کے علم کو ہلکا کرے گا کہ یہ تو استادوں کے پڑھائے سے پڑھا ہے اس میں اسکی کیا خوبی ؟ ۔ ۔۔۔۔ والسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے Last edited by آبی ٹوکول; 19-12-10 at 07:35 AM. |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | Ferozi (11-06-11), shafresha (19-12-10), کنعان (23-01-11), ننھا بچہ (12-06-11), مہتاب (20-12-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر Rehan (11-06-11), شعبان نظامی (06-05-12), عمر فاروقی (23-01-11) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں انتظامیہ سے ایک بار پھر گذارش کروں گا کہ میری مندرجہ بالا گذارش کو مد نظر رکھتے ہوئے اس موضوع سے تمام فالتو مراسلات جو کہ موضوع سے ہٹ کر بھی ہیں کو حذف کردیا جائے تو بڑی مہربانی ہوگی یہ موضوع ہم نے ایک ناصر نعمان بھائی کہ جواب میں شروع کیا تھا اور ناگزریت کی وجہ سے ہمیں شروع کرنا پڑا تھا وگرنہ ہم اختلافی مسائل پر اقدامی اعتبار سے لکھنے کہ قائل نہیں ہم یہ طے کرچکے تھے کہ اس موضوع پر مزید نہیں لکھیں گے کیونکہ ناصر نعمان صاحب بھی اپنی حرکتوں سے باز آگئے تھے سو ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ معاملہ ٹھپ ہی رہنے دیا جائے مگر چند احباب پھر سے اس موضوع کو سرد خانے نکال کر میدان میں لاکھڑا کیا ہے اب اگر احباب چاہتے ہیں کہ ہم اس موضوع کو مکمل کریں تو برائے مہربانی کوئی بھی نیا مراسلہ یہاں رقم نہ ہو اور جو ہوچکے ہیں انھے ڈیلیٹ کردیا جائے یا کہیں اور منتقل کردیا جائے مثلا اس موضوع کا جو مراسلہ باعث بنا یعنی ناصر نعمان بھائی کا مراسلہ وہاں منتقل کردیا جائے تو بہتر رہے گا ۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عابد بھائی کی درخوست پر ان کے شروع کردہ اس تھریڈ ª!ª علم غیب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ª!ª
کے کچھ مراسلے یہاں سے منتقل کردئے گئے ہیں نئے تھریڈ کا لنک یہ ہے "علم غیب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم "کے منتقل شدہ مراسلے عابد بھائی کا مقالہ مکمل ہونے تک احباب چاھیں تو اپنی بحث یہاں جاری رکھ سکتے ہیں زحمت کی معذرت
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں Last edited by فیصل ناصر; 13-06-11 at 01:08 AM. |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امید ہے عابد بھائی بھی اپنا مضمون جلد مکمل کرکے اراکین کو اس پر رائے دینے کے لئے کہیں گے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, کلی, کتابوں, گذارش, پاک, چین, مکمل, آج, اللہ, اسلام, بھائی, بچوں, تحریر, جواب, دعا, عالم, عابد, عاجزانہ, عدم, عزت, عظمت, غیب, صفات, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان اور غیر رمضان میں رات کا قیام۔ | میاں شاہد | صحیح البخاری | 0 | 13-08-10 08:11 PM |
| مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم | سحر | متفرقات | 12 | 03-03-10 11:30 PM |
| عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم غیروں کی نظر میں | طارق راحیل | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 1 | 17-12-09 01:50 AM |
| بغیر ہڈی انگلی | ام طلحہ | قہقہے ہی قہقے | 43 | 12-04-09 12:58 AM |
| بغیر ہڈی کے جانور | بھائی | عمومی سائنس | 22 | 07-10-08 08:21 PM |