واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ

اس موضوع کے 0 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 342 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-03-08, 06:54 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 46
مراسلات: 3,021
کمائي: 44,057
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,300
2,183 مراسلہ میں 5,582 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ

::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ

::::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِتباع فرض ہے ::::::

::::: سوال رقم 7 :::::
:::::سوال :::::
اللہ سبحانہُ و تعالیٰ نے ہم پر یہ واضح کر دِیا کہ اُس نے اِنسانوں تک اپنے پیغامات ا ور اَحکامات پہنچانے کے لئیے رسول بھیجے اور ہماری طرف اُس کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم آئے ، اللہ تعالیٰ ، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ، اور اُنکے تمام صحابہ نے یہ گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی ذمہ داری پوری طرح نبھا دی ، اور اللہ کے تمام تر پیغامات اور اَحکامات کِسی کمی کے بغیر سب کے سامنے رکھ دئیے اور اُن پر عمل کر کے سب کو دِکھا دِیا کہ کِس حکم پر کیسے عمل کرنا ہے ، سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اِس وحی میں وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب تک لے جانے والا ہے ؟
:::::جواب ::::: اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے بڑے صاف اور واضح اَلفاظ میں ہمیں یہ بتا یا ہے کہ اُس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے واحد راستہ اُس کی اور اُس کے رسول کی مکمل اَطاعت اور فرمان برداری ہے ، کِسی کمی یا بیشی کے بغیر اور کِسی حیل و حجت کِسی تاویل ، ذاتی تشریحات اور امکانیات کے فلسفوں کے بغیر ۔
::::: قُران سے دلائل :::::
::: دلیل (1) ::: (یٰۤاَ اَیّھَا الذَّینَ اَمَنُوا ادخُلُوا فی السِّلمِ کَآفَۃً وَ لا تَتَّبِعُوا الشَّیطٰنَ اِنَّہُ لَکُم عَدُوٌ مُبِینٌ فَاِن زَلَلتُم مِّن بَعدِ مَا جَآء َتکُمُ البَیِّنَاتُ فَاعلَمُوا اَنَّ اللّٰہ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ) ( اے لوگوں جو اَِیمان لائے ہو پورے کے پورے اِسلام میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے مت چلو ، بے شک وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے ؛؛؛ اور اگر تُم لوگوںتک واضح باتیں آنے کے بعد بھی تُم لوگ گمراہ ہوتے ہو تو جان رکھو کہ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے ) ( سورت البقرۃ / آ ٢٠٨ )
::: دلیل (2) ::: ( یٰۤاَ اَیّھَا الذَّینَ اَمَنُوا اَطِیعوا اللّٰہَ وَ رَسُولَہُ وَ لاتَوَلَّوا عَنہُ وَ اَنتُم تَسمَعُونَ O وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ قَالُواسَمِعنَا وَ ھُم لَا یَسمَعُونَ O اِنَّ شَرَّ الدََّّوَآبِّ عِندَ اللّٰہِ الصّمُ البُکمُ الَّذِینَ لَا یَعقِلُونَ)(اے لوگو جو اَِیمان لائے ہو اللہ اور رسول کی اَطاعت کرو اور سنتے جانتے ہوئے رسول سے منہ نہیں پھیرو O اور اُن لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جو کہتے ہیں کہ ہم سن رہے ہیں لیکن وہ سنتے نہیں O بے شک اللہ کے سامنے سب سے بُرے وہ ہیں جو(عقل کے ) بہرے اور گونگے ہیں اور سمجھتے نہیں ) ( سورت ا لاَنفال / آیات ٢٠ ، ٢١ ، ٢٢ )
::: دلیل (3) ::: ( یٰۤاَ اَیّھَا الذَّینَ اَمَنُوا استَجِیبُوا للّٰہِ وَ لِلرَسُولِ اِذَا دَعَاکُم لِمَا یُحِیکُم وَ اعلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ یَحُولُ بَینَ المَرءِ وَ قَلبِہِ وَ اَنَّہُ اِلِیہِ تحشَرونَ) ( اے لوگو جو اَِیمان لائے ہو جب تمہیں اللہ اور رسول پکاریں تو اُنکی بات اور جان لو کہ اللہ بندے اور اُس کے دِل کے درمیان آڑ بن جایا کرتاہے اور یقینا تم سب کو اللہ کی طرف پلٹایا جانا ہے ) ( سورت ا لاَنفال / آیت ٢٤)
::: دلیل (4) ::: ( یٰۤاَ اَیّھَا الذَّینَ اَمَنُوا اَطِیعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ لَا تُبطِلُوا اَعمَالَکُم ) ( اے ( لوگو) جو اَیمان لائے ہو اللہ کی فرمانبرادری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور اپنے اَعمال ضائع نہ کرو ) (سورت محمد/ آ یت ٣٣ ) یعنی اگر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی فرمانبرداری نہ کی تو تمہارے اعمال ضائع ہیں۔
::: دلیل (5) ::: ( یٰۤاَ اَیّھَا الذَّینَ اَمَنُوا لَا تقدمُوا بَین َ یَدی اللَّّہ و رسَولَہُ و اتَّقُوا اللَّہ اِنَّ اللَّہ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ) ( اےاِیمان لے آنے والو اللہ اور اُس کے رسول سے آگے مت بڑھو اور اللہ سے بچو ( یعنی اُس کے عذاب سے ) بے شک اللہ سنتا اور جانتا ہے ) (سورت / الحجرات آیت، ١ )
::: دلیل (6) ::: ( یٰۤاَ اَیّھَا الذَّینَ اَمَنُوا لَا تَرفَعُوا اَصوَاتَکُم فَوقَ الصَّوتَ النَّبِی وَ تَجھَرُوا لَہُ بِالقَولِ کَجَھرِ بَعضُکُم لِبَعضاَن تَحبَطَ اَعمَالَکُم وَ اَنتُم لَا تَشعُرُونَ ) ( اے ( لوگو) جو اَیمان لائے ہو اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند مت کرو اور نہ ہی اُس سے اونچی آواز میں بات کرو جیسے ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ( ایسا نہ ہو کہ ) تمہارے اَعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو ) (سورت الحجرات / آیت ٢ ) ،
اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے آگے بڑھنے کا مطلب ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فیصلوں اور حکموں کو ماننے اور اُن پر عمل کرنے کی بجائے اپنی یا کِسی اور کی رائے ، فتوے ، خیال یا بہانے بازی کرنا ہے ، اور اِسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دُنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی آواز سے مراد اُنکے فرمان ہیں جو اب تک نقل ہو کر آ رہے ہیں گویا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی آواز سن رہے ہیں اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی آواز سے آواز بلند کرنا اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پکار یا اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے بلائے جانے کو کِسی عام آدمی کی پکار سمجھ کر لاپرواہی کرنا ، اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات کو چھوڑ کر کِسی بھی اور کی بات کو اپنانا حرام ہے ،اور اِسکا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آفت یا عذاب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایاہے کہ،
::: دلیل (7) ::: ( لَاتَجعََلُوا دُعآءَ الرَّسُولِ بَینَکُم کَدُعَآءِ بَعضُکُم بَعضَاً قَد یَعلمَ اللَّہُ الَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنکُم لَوَاذًا فَلیَحذَر الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَن اَمرِہِ اَن تُصِیبَھُم فَتنَۃٌ اَو یُصِیبَھُم عَذَابٌ اَلِیم )( تُم رسول کے بلانے کو ایسا بلانا مت بناؤ جیسا کہ تُم لوگوں کا ایک دوسرے کو بلانا ہوتا ہے ، تُم میں سے اللہ اُنہیں خوب جانتا ہے جو ( رسول کی طرف سے بلاوے پر ) نظر بچا کر چُپکے سے کِھسک جاتے ہیں لہذا جو لوگ اُس ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ خبردار رہیں کہ ( کہیں ) اُن پر کوئی آفت نہ آ پڑے یا ( کہیں ) اُنہیں کوئی عذاب نہ آ پکڑے ) (سورت النور /آ یت ٦٣ )
::: دلیل ( 8 ) ::: (وَ مَا اتاکُم الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَ مَا نَھا کُم عَنہُ فَانتَھُوا ) ( اور رسول جو کچھ تمہیں دے وہ لے لو اور جِس سے منع کرے اُس سے باز آ جاؤ ) (سورت الحشر / آ یت ٧ ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہر حُکم پر عمل کرنے کا اللہ کی طرف سے حُکم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے جِس کام سے باز رہنے کا حُکم ہے اُس سے باز رہنا اللہ کا حُکم ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے کِسی بھی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے حُکم پر عمل نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے ، کِسی حیل و حجت یا تاویل کی گنجائش نہیں ۔
::: دلیل (9) ::: ( قُلَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ فَاِن تَوَلَّوا فَاِنَّمَا عَلِیہِ مَا حُمِّلَ وَ عَلِیکُم مَا حُمِّلتُم وَ اِن تُطِیعُوُہُ تَھتَدُوا وَ مَا عَلَی الرَّسُولِ اِلَّا البَلٰغُ المُبِین ) ( کہیے ( اے رَسُول ) رَسُول کی اِطاعت ( یعنی تابع فرمانی ) کرو اور ا گر تم نے منہ پھیرا ( یعنی رَسُول کی اِطاعت سے منہ پھیرا) تو اس ( یعنی رسول ) پر اپنا ( یعنی اپنے عملوں کا ) بوجھ ہے اور تُم پر تمہاارا بوجھ ہے ( یعنی اپنے اپنے عمل کا انجام پاؤ گے ) اور اگر اسکی تابع فرمانی کرو گے تو ہدایت پاؤ گے ، اور رَسُول پر اِسکے عِلاوہ اور کچھ نہیں ( یعنی کوئی اور ذمہ داری نہیں سِوائے اِس کے ) کہ وہ وضاحت کے ساتھ تبلیغ کر دے (یعنی صاف کھلے اور آسانی سے سمجھ آنے والے طریقے پر ہماری
بات پر اللہ کی بات تُم تک پہنچا دے ) )
( سورت النور / آیت ٥٤ )
::: دلیل (10) ::: ( قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُونِی یُحبِبکُم اللّٰہ ُ وَ یَغفَرلَکُم ذُنُوبَکُم وَ اللّٰہ ُ غُفُورٌ رَّحِیمٌ O ٭ 1 ٭ قُل اَطِیعُوا اللّٰہَ و الرَّسُولَ فَاِن تَوَلَّوا فَاِن اللّٰہَ لَا یُحِبّ الکَفِرِینَ) ( کہو ( اے رسول ) اگر تُم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اَطاعت کرو اللہ تُم لوگوں سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے (١)ض کہو ( اے رسول ) اللہ اور رسول کی تابع فرمانی کرو اور اگر اُنہوں نے منہ پھیرا ( یعنی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تابع فرمانی کرنے سے منہ پھیرا ) تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا (٭ 2 ٭)) (سورت آل عمران / آیت ٣١ ، ٣٢)
(٭ 1 ٭) اِس آیتِ مبارکہ پر غور کرنے سے اِیمان والے دِل کی عجیب کیفیت ہو جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے کتنی بڑی خوشخبری دے رہا ہے کہ اگر اللہ کے رسول کی اطاعت کی جائے گی تو اللہ اطاعت کرنے والوں کے گناہ ہی معاف نہیں کرے گا بلکہ اُن سے محبت کرے گا ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، کتنی بڑی خوشخبری ، کتنا بڑا رتبہ کہ بندہ اللہ کا محبوب ہو جائے ، اور اِس رتبے تک پہنچنے کا راستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تابع فرمانی ہے ، محبت اَلہی کے حصول اور محبوبِ سبحانی ہونے کا ذریعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حُکم برداری میںہے نہ کہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حُکموں کی نافرمانی کر تے ہوئے اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّتِ کے خلاف ، اپنی منطق اپنے فلسفے کی بنیاد پر من گھڑت عباد توں ، چلہ کشیوں ، ذِکر اذکار وغیرہ اور ایسے ہی صحیح دلیل کے بغیر اپنائے ہوئے عقائدمیں ۔
(٭ 2 ٭) دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اَطاعت و تابع فرمانی سے منہ پھیرنے والوں کو کافر قرار دیا ہے ، ذرا غور کیا جائے تو دِل دھل جاتا ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت سے منہ پھیرنے والے اللہ کے ہاں کافروں میں شمار ہوتے ہیں ، جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حُکم کو جاننے کے بعد طرح طرح کی بہانے بازیاں کر کے اُس پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت کی مخالفت کر کے اپنے یا اپنے نام نہاد بزرگوں کے بنائے ہوئے طور طریقے اَپناتے ہیں اُن کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں بھولنا چاہئیے ، اور اچھی طرح سے جان لینا چاہئیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکموں سے منہ پھیر کر اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت کی مخالفت کر کے وہ یا کوئی بھی اور نہ تو اللہ کے ولی بن سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی درجہ پا سکتے ہیں بلکہ اللہ کے ہاں اُن کی گنتی کافروں میں ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مکمل اطاعت والی زندگی اور اِسی پر موت عطا فرمائے ۔

::: دلیل (11) ::: اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اپنی رضا اور خوشی کے راستے کی وضاحت فرماتے ہوئے مزید فرمایا ( وَ مَا کَانَ لِمُؤمِنٍ وَ لَا لِمُؤمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسوُلَہُ اَمراً اَن یَکُونَ لَھُم الخِیرَۃُ مَن اَمرِھِم وَ مَن یَعصِ اللّٰٰہَ وَ رَسُولَہُ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلاً مُبِیناً)( اور جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ کر دیں تو کِسی ایمان والے مرد اور نہ ہی کِسی ایمان والی عورت کے لیئے ان ( اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کے فیصلے میں کوئی اختیار باقی رہتا ہے ، اور جِس نے اللہ اور اُسکے رسول کی نا فرمانی کی تو وہ یقینا کھلی گمراہی میں جا پڑا ) (سورت الاَحزاب/آیت٣٦)
یہ اللہ تعالیٰ کا صاف اور واضح حُکم ہے کہ اِیمان والوں کے لیے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے کِسی حُکم کے بعد کِسی کی بھی کوئی بات ، خیال ،بہانہ ، فلسفہ ، تاویل ، فتویٰ وغیرہ اپنا کر اُس حُکم سے فراراِختیار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔
::: دلیل (12) ::: (یٰۤاَ اَیّھَا الذَّینَ اَمَنُوا اَطِیعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ اُولِی الاَمرِ مِنکُم ، فَاِن تَنَازَعتُم فِی شَیءٍ فَرُدُوہُ اِلَی اللّٰہِ و الرَّسُولِ اِن کُنتُم تُؤمِنُونَ بِاللّٰہِ وَ الیَومِ الاٰخِرِ، ذَلِکَ خَیرٌ وَ اَحسَنُ تَاوِیلاً ) ( اے لوگو جو اَِیمان لائے ہو اللہ کی فرمانبرداری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو لوگ تم میں حُکمران ہیں اُنکی فرمانبرداری کرو ، اور اگر تم لوگوں میں کِسی چیز میںاختلاف ہو جائے تو اگر تم لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر اِیمان رکھتے ہو تو اُسے ( یعنی اختلاف کو حل کرنے کے لیے وہ اِختلاف ) اللہ کی طرف اور رسول کی طرف لوٹاؤ اور یہ ( یعنی اَختلاف کا حل اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اَحکامات سے تلاش کرنا ) بہت خیر والااور اچھے انجام والا ہے ) ( سورت النساء / آیت ٥٩ )
::::::: رواں موضوع سے ہٹ کر ایک اضافی لیکن انتہائی اہم موضوع کی وضاحت :::::::
اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کے حُکم کے ساتھ ساتھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اطاعت کا حُکم دِیا اور پھر صاحبِ اختیار لوگوں یعنی حُکام کی اطاعت کا ، یہاں ایک بات اَچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئیے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اطاعت تو بغیر کِسی شرط کے فرض ہے کیونکہ وہاں حق ہی حق ہے ، لیکن کِسی بھی دوسرے کی اطاعت بلا شرط نہیں بلکہ شرط کے ساتھ ہے ،اور یہ شرط اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے عائد کی گئی ہے ، علی رضی اللہ عنہُ سے ایک واقعہ روایت ہے جِسکے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ( لَا طَاعۃَ فی مَعصِیۃِ اللَّہِ ،اِنَّمَا الطَّاعۃُ فی المَعرُوفِ ) ( اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کِسی کی اطاعت نہیں ہے ، بلکہ کہ اطاعت تو نیکی میں ہے ) صحیح بُخاری /حدیث ٧٢٥٧،، صحیح مسلم/ حدیث ١٨٤٠ ،
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( علَی المَرءِ المُسلمِ السِّمعُ والطاعَّۃُ ، فِیمَا اََحبَ و کُرِہَ ، اِلَّا اََن یُؤمَرَ بَمَعصِیَۃٍ ، فَاِن اَُمِرَ بَمَعصِیَۃٍ فَلا سَمعَ وَ لَا طَاعۃَ ) ( مسلمان پر سننا اور ماننا فرض ہے خواہ اُسے پسند ہو یا نہ ہو ، سوائے اِسکے کہ اُسے نافرمانی کرنے کا حُکم دِیا جائے ، اور اگر اُسے نافرمانی کرنے کا حُکم دِیا جائے تو پھر نہ سننا ہے اور نہ ماننا ) صحیح مسلم/ حدیث ١٨٣٩ ،
اور نواس بن سمعان رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا( لَا طَاعۃَ لِمَخلوُقِ فی مَعصِیۃِ الخَالقِ ) ( خالق ( یعنی ہر ایک چیز کے بنانے والے اللہ ) کی نافرمانی کرتے ہوئے کِسی مخلوق ( یعنی خالق کی بنائی ہوئی کسی بھی چیز ) کی اَطاعت نہیں ہے ) یہ حدیث مشکوۃ المصابیح جسے عام طور پر مشکوۃ شریف کہا جاتا ہے ، میں کتاب الاَمارۃ و القضاء میں ہے ، مشکوۃ میں اِس کا نمبر ٣٦٩٦ ہے اور اِمام الا لبانی نے اسے صحیح قرار دِیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِن مندرجہ بالا اِرشادات کی روشنی میں یہ صاف ہو جاتا ہے کہ صاحبِ اَختیار لوگوں ، یا حُکمرانوں کی اَطاعت کہاں تک اور کِس طرح کی جانا فرض ہے اور کہاں سے یہ فرضیت ساقط ہو جاتی ہے ۔
یہ معاملہ تو مُسلمان حُکمرانوں کا ہے ، اور کافروں کی تابع فرمانی کرنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں اُٹھتا لیکن ، افسوس صد افسوس کہ اب مُسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کافروں کی حُکمرانی ، حُکمرانی میں کافروں کو اختیار کرنے (کافروں کو ووٹ دینے ) جائز قرار دیتے ہیں ، بلکہ یہاں تک کہ اُن کافروں کی اطاعت بھی جائز قرار دی جاتی ہے، اِنا للہ و اِنا اِلیہ راجعون،
::: دلیل (13) ::: مندرجہ بالا آیات سننے پڑہنے جاننے کے بعد بھی اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فیصلے پر مطمئن نہیں ہوتا اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات سُننے کے بعد پھر، اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات کے خِلاف یا اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے صحیح ثابت شدہ واضح دلیل کے بغیر کِسی اور کی منطقیانہ، تشریحات پر مبنی فتوے اور باتیں اُسے سکون و اِطمینان والے محسوس ہوتے ہیں تو یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دِیا ہے اور اپنی ذاتِ لاشریک کی قسم کھا کر فرما دِیا ہے ( فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یؤمِنونَ حَتَّیٰ یحَکِّموکَ فِیمَا شَجَرَ بَینَھم ثمَّ لَا یَجِدونَ فِی اَنفسِھِم حَرَجاً مَمَّا قَضَیتَ وَ یسَلِّموا تَسلِیماً ) ( اور تُمہارے رب کی قسم ، یہ لوگ ہر گِز اُس وقت تک اِیمان والے نہیں ہو سکتے جب تک اپنے اِختلافات میں تمہیں حاکم نہ بنائیں اور پھر ( تمہارے کیئے ہوئے فیصلے کے بارے میں اپنے اندر کوئی پریشانی محسوس نہ کریں اور خود کو مکمل طور پر (تمہارے فیصلوں کے ) سُپرد کر دیں ) (سورت النِساءَ /آیت ٦٥)
اگر اللہ نے قیامت تک رکے رہنے کا معاملہ مقرر نہ فرمادِیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی اِس قسم کو سن کر زمین پھٹ جاتی ، پہاڑ سجدہ ریز ہو جاتے ، آسمان ٹوٹ کر گر پرٹے ، ستارے سیارے ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ، لیکن اِنسان کا دِل نہیں ہلتا سوائے اِیمان والوں کے کہ یقینا اپنے رب کی یہ قسم سن کر اُن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، اور وہ لرزہ براندام ہو جاتے ہیں ، اور اُن کے دِل حلق میں دھڑکنے لگتے ہیں کہ یہ کیسا عظیم ترین معاملہ ہے جِس کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات واحد و لاشریک کی قسم اُٹھا لی ، اللہ احکم الحاکمین ، یعنی سب حکمرانوں کے حاکم نے اپنی قسم اُٹھا کر فیصلہ صادر فرما دِیا کہ ( لَا یؤمِنونَ حَتَّیٰ یحَکِّموکَ فِیمَا شَجَرَ بَینَھم ثمَّ لَا یَجِدونَ فِی اَنفسِھِم حَرَجاً مَمَّا قَضَیتَ وَ یسَلِّموا تَسلِیماً ) ( ہر گِز نہیں ، یہ لوگ اُس وقت تک اِیمان والے نہیں ہو سکتے جب تک اپنے اِختلافات میں تمہیں حاکم نہ بنائیں اور پھر ( تمہارے کیئے ہوئے فیصلے کے بارے میں اپنے اندر کوئی پریشانی محسوس نہ کریں اور خود کو مکمل طور پر (تمہارے فیصلوں کے ) سُپرد کر دیں ) کیا اِس کے بعد بھی کِسی مُسلمان میں یہ جرات رہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فیصلے کو سن کر، اُس فیصلے سے مُطابقت نہ رکھنے والے کِسی عقیدے، عِبادت ، معاملے ، وغیرہ کوصرف اِس لیے اپنائے کہ وہ اُس کے اختیار کردہ فلسفے ، مذہب ، مسلک، بزرگوں ، وغیرہ کی طرف سے اُسے ملا ہے ،
::::: حدیث سے دلائل :::::
::: دلیل (1) ::: ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( کُلُّ اَُمَّتِی یَدْخُلُونَ الجَنَّۃَ اِلا من اََبَی ) قالُوا یا رَسُولَ اللَّہِ وَمَن یَاَبَی ::: قال ( من اََطَاعَنِی دَخل الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ اََبَی )( میرے سارے اُمتی جنّت میں داخل ہوں گے سوائے بات سے اِنکار کرنے والوں کے ) صحابہ رضی اللہ نے پوچھا :: اے اللہ کے رسول ، کون بات سے اِنکار کرنے والا ہو گا ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( جو میری بات پر عمل کرے گا وہ جنّت میں داخل ہو گا اور جو میری بات نہیں مانے گا وہ اِنکار کرنے والا ہے ) ( صحیح البُخاری ، کتاب الاَعتصام بالکتاب و السُنۃ /باب ٢ کی حدیث ، ٥ )
::: دلیل (2) ::: ( لا یؤمِنُ اَحدُکُم حَتیٰ یِکُونُ ھواہُ تَبعاً لِمَا جِئتُ بِہِ ) ( تُم سے کوئی اُس وقت تک اِیمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اُسکی خواہشات میری ساتھ آئی ہوئی چیز ( یعنی کتاب اللہ اور سُنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کے مُطابق نہ ہوں جائیں) ( شرح السُنّہ ، اِمام بغوی،امام النووی نے ''الاربعین'' میں کہایہ حدیث صحیح ہے اور ہم نے اسے '' الحجۃ '' میں نقل کیا ہے '' منقول مِن تخریج المشکاۃ ، للالبانی )
::: دلیل (3) ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (مَن عَمِلَ عَمِلاً لیس علیہِ اَمرُنا فھو ردٌ ) ( جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ کام مردود ہے ) ( صحیح مسلم ،حدیث ١٧١٨)
::: دلیل (4) ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (وَالَّذِی نَفسُ مُحَمَّدٍ بِیَدہِ ، لَو بَدَا لَکُم مُوسَی فَاتَّبَعتُمُوہُ وَتَرَکتُمُونِی لَضَلَلتُم عَن سَوَاء ِ السَّبِیلِ ، وَلَو کَان حَیًّا وَاَدرَکَ نُبُوَّتِی لَاتَّبَعَنِی)( اُس ذات کی قِسم جِس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، اگر موسیٰ تُم لوگوں کے سامنے آ جائیں اور تُم لوگ مجھے چھوڑ کر اُن کی اتباع (پیروی ، تابع فرمانی ) کرنے لگو تو یقینا تُم لوگ دُرست راستے سے بھٹکے ہوئے ہو جاؤ گے ، اور اگر مُوسیٰ میری نبوت کے وقت میں زندہ ہوتے تو یقینا میری اتباع (پیروی ، تابع فرمانی) کرتے ) سنن الدارمی /حدیث ٣٤٥ ، الالبانی ، مشکاۃ ١٩٤،٥٥،
اِس حدیث کی پوری روایت مندرجہ ذیل مضمون میں بیان کی تھی ،
http://forums.com.pk/showthread.php?t=11603
اللہ تبارک و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مندرجہ بالا فرامین و احکامات ہمیں مکمل وضاحت سے ہماری اللہ کی رضا کے ساتھ دُنیا کی کامیابی ، دِین اور آخرت کی یقینی کامیابی کا راستہ (منہج ) سمجھاتے ہیں ، اور یہ بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ وہ راستہ جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ صِرف اور صِرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مکمل غیر مشروط اور کِسی کمی یا زیادتی کے بغیر اطاعت ہے ، اور اِسکے عِلاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب تک لے جانے والا ہے ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

Last edited by عادل سہیل; 15-03-08 at 06:59 PM.
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
مندرجہ ذیل 5 صارفین نے عادل سہیل کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
arslansun (11-03-09), فاروق سرورخان (16-03-08), مون لائیٹ آفریدی (25-08-08), ابن افضل (07-04-08), عُکاشہ (25-08-08)
جواب

Bookmarks

Tags
php, فرض, پسند, نظر, مکمل, موت, محبت, آدمی, اکبر, ایمان, اللہ, تلاش, جواب, حکم, حل, حدیث, خلاف, راستہ, زندگی, سیارے, ستارے, عورت, عقل, عمران, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ::: سوال 3 ::: اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو کیوں بھیجا ؟ ::: عادل سہیل اسلامی عقیدہ 4 19-03-08 06:14 PM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ::: سوال 4 ::: کیا کوئی خفیہ شریعت بھی ہے ؟ ::: عادل سہیل اسلامی عقیدہ 2 19-03-08 06:08 PM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ::: سوال 5 ::: عِبادت کیا ہے ؟ ::: عادل سہیل ایمان 0 15-03-08 06:29 PM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ::: سوال 1 اور 2 ::: عادل سہیل اسلامی عقیدہ 0 15-03-08 06:19 PM
آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ::: پیش لفظ اور پہلے دو سوال عادل سہیل اسلامی نظریہ حیات 0 31-07-07 12:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:43 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger