| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 404
|
||||
| مجاہد حسین کا شکریہ ادا کیا گیا | منتظمین (08-03-08) |
|
|
#2 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
خالص اور حقیقی تعریف اکیلے اللہ کے لیے ہے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد پر جِنکے بعد کوئی نبی اور معصوم نہیں ، اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ، اور مقدس بیگمات پر اور تمام اصحاب پر اور جو اُن سب کی ٹھیک طرح سے مکمل پیروی کریں اُن سب پر ، السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، محترم بھائی مجاہد حیسن صاحب ، آپ کا پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے شریعت مکمل فرما دی ، اور مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دُنیا سے جانے کے بعد وحی کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ، لہذا کِسی کے لیے اِس بات کی بھی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ شریعت کے احکام میں سے کچھ کم یا اُن میں کچھ زیادہ کر سکے ، کیونکہ ایسا صِرف اور صِرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذریعہ سے ہی ہو سکتا تھا اور وہ ذریعہ اللہ نے بند فرما دِیا ، پس اللہ نے اور اللہ کے حُکم سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے جِس جِس جُرم اور گناہ کے لیے جو جو حُدود (سزائیں) مُقرر فرما دِی ہیں اُن میں کہیں کِسی کے لیے کوئی خاص رعایت نہیں ، نہ کِسی خاندانی رُتبے و رشتہ سے ، نہ کِسی حسب و نسب کی وجہ سے ، نہ کِسی معاشرتی یا معاشی برتری کی وجہ سے ، نہ ہی کِسی عِلمی یا عملی برتری کی وجہ سے ، آپ نے جِس حدیث کا حوالہ دِیا ہے وہ بالکل صحیح ہے ، کیونکہ اِس کی ایک روایت تو متفق علیہ ہے جو صحیح البُخاری ، کتاب الانبیاء ، اور صحیح مُسلم کی کتاب الحدود میں ہے ، اور اُس روایت میں اِیمان والوں کی والدہ محترمہ ، ہم سب کی ماں ، امی عائشہ رضی اللہ عنھا و ارضاھا ، نے بتایا ہے کہ ''''' ایک مخزومیہ (یعنی قبیلہ مخزوم کی ) عورت نے چوری کی تو قُریش کو اُس کی سزا کے بارے میں پریشانی ہوئی تو اُنہوں نے سوچا کہ کِسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس سفارش کے لیے بھیجا جائے ، سوچ و بچار کے بعد اُنہوں نے اُسامہ بن زید ( رضی اللہ عنہُ ) کو اختیار کِیا کہ صِرف وہ ہی ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ایسی بات کر سکتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اُن سے بہت محبت کرتے ہیں ، لہذا( قُریشوں کے کہنے پر) اُسامہ (بن زید رضی اللہ عنہُ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ سے اُس عورت کی سفارش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( اَتَشفَعُ فی حَدٍّ من حُدُودِ اللَّہِ ) ( کیا تُم اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میںسے کِسی سزا میں (رعایت کے لیے) سفارش کر رہے ہو ؟ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطاب فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ( اِنما اَہلَکَ الَّذِینَ قَبلَکُم اَنَّہُم کَانُوا اِذا سَرَق َ فِیھِم الشَّرِیف َ تَرَکُوہُ واِذا سَرَق َ فِیہِم الضَّعِیف ُ اَقَامُوا عَلِیہِ الحَدَّ واَیمَ اللَّہِ لو اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَت لَقَطَعتُ یَدَہَا )( تُم سے پہلے والے اِسی لیے تباہ و برباد ہوئے کہ جب اُن میں سے کوئی (معاشی و معاشرتی طور پر ) عِزت دار چوری کرتا تو اُسے وہ لوگ چھوڑ دِیا کرتے تھے اور اگر کوئی (معاشی و معاشرتی طور پر )کمزور چوری کرتا تو اُس پر حد (سزا) جاری کرتے ، اور اللہ کی قسم اگر( مُجھ) محمد(صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں یقینا اُس کا ہاتھ بھی کاٹوں گا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کے اِس فرمان مُبارک میں جہاں یہ بات بہت ہی واضح ہے کہ اللہ کی مُقرر فرمائی ہوئی سزاؤں میں کِسی کے لیے کوئی رعایت نہیں ، خواہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کی اولاد ہی ہو ، وہاں ہمارے لیے ایک بہت بڑی نصیحت بھی ہے ، کہ سابقہ اُمتوں کی ہلاکت و تباہی کے اسباب میں سے ایک سبب اللہ کے احکام کومکمل طور پر نافذ نہ کرنا بھی ہے ، اور اگر ہم بھی یہ کام کریں گے تو اُن سابقہ اُمتوں کی طرح ہلاکت و تباہی کا شکار ہو کر ہی رہیں گے ، اور یہ آج ہم اپنے مُسلم معاشرے میں سیکھ ہی رہے ہیں کہ اللہ کے احکامات پر عمل کرنے سے بچنے کے لیے ہمارے ہی صفوں میں نظر آنے والے اپنے دِین کے خانوں میں اِسلام لکھنے اور لکھوانے والے طرح طرح کے بہانے بناتے اور پھیلاتے ہیں اور اللہ کے عِلاوہ دوسروں کے احکامات کو بہتر جانتے اور منوانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں ، اِس فِکری اور نظریاتی جنگ کی تاریخ ہماری اکثریت نہیں جانتی ، اور کافروں اور مشرکوں کے بار بار کیے گئے واروں کا نشانہ بنتی جاتی ہے ، جِس کے نتیجے میں اُمت دو انتہائی کناروں پر اکٹھی ہوتی جا رہی ہے ، ایک کنارہ اِسلامی سے دُوری اور کافروں کے سامنے معذرتیں پیش کرنا ہے اور دوسرا کنارہ ، شریعت کی حدود کا خیال رکھے بغیر اِنسانوں کے جان مال و عِزت پر حملہ آور ہونا ہے ، جیسا کہ آج کل ہمارے پاکِستان میں ہو رہا ہے ، اِس موضوع پر بات اِنشاء اللہ ایک الگ مضمون کی صورت میں اِرسال کروں گا ، دُعا کیجیئے اللہ تعالیٰ وہ کہنے اور کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اُسے پسند ہو ، اور یقینا اُسی میں ہم سب کی دِین دُنیااور آخرت کی بھلائی ہے ، آپ کے پہلے سوال کا اجمالی جواب یہ ہوا کہ اُمت میں سے کِسی کے لیے کہیں کوئی ایسی رعایت نہیں کہ اللہ کی مقرر کردہ حدود اُس پر واقع نہیں ہوں گی یا کم ہوں گی ، اور ایسا کہنے والا گمراہ ہے ، دِین حق سے ہٹا ہوا ہے ، اقتباس:
مجاھد بھائی ، آپ کے دوسرے سوال گو کہ مختصر لیکن بہت سے معاملات کو گھیرے ہوئے ہے اور جواباً بہت سی تفصیلات کا طلبگار ہے ، جنہیں لکھتے لکھتے مجھ جیسے کو کم از کم ایک ماہ لگ جائے گا ، کیونکہ مجھے اپنی دِینی پڑہائی لکھائی کے لیے چوبیس گھنٹے میں سے بمشکل تمام ڈیڑھ دو گھنٹے ہی ملتے ہیں ، اور وہ بھی مہینے میں سے تقریباً پندرہ سولہ دِن ، بہر حال کوشش کرتا ہوں کہ آپ کے سوال کا جواب کچھ اِس طرح اختصار کے ساتھ تیار ہو جائے جو اِنشاء اللہ تشفی بخش ہو ، سب سے اہم اور بُنیادی بات یہ ہے کہ کوئی بھی مُسلمان جو کِسی بھی قِسم کی قولی یا قولی بدعت ، شرک یا کفر کا شِکار نظر آتا ہو ، اور ایسا مُسلمان جو اِن کاموں کا شِکار ہونے کے ساتھ ساتھ اِن کی تبلیغ بھی کرتا ہو ، اور لوگوں کو اپنے اِن اقوال و افعال کی درستگی پر قران و حدیث بھی پیش کرتا ہو ، اُس جیسے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( اَفَرَاَیتَ مَنِ اتَّخَذَ اِِلَہَہُ ہَوَاہُ وَاَضَلَّہُ اللَّہُ عَلَی عِلمٍ وَخَتَمَ عَلَی سَمعِہِ وَقَلبِہِ وَجَعَلَ عَلَی بَصَرِہِ غِشَاوَۃً فَمَن یَہدِیہِ مِن بَعدِ اللَّہِ اَفَلَا تَذَکَّرُونَ ) ( کیا تُم نے اُسے دیکھا ہے جو اپنے نفس کی تعلیمات کو معبود بنا لیتا ہے اور (پھر) اللہ اُسے اُس کے پاس عِلم ہونے کے باوجود گمراہ کر دیتا ہے اور اُس کے کانوں اور دِل پر مہر لگا دیتا ہے اور اُس کی بصارت پر پردہ ڈال دیتا ہے تو بھلا کون ہے جو اللہ کے (گمراہ کر دینے کے )بعد کِسی کو ہدایت دے دے تو کیا (یہ) لوگ سوچتے نہیں ) سورت الجاثیہ / آیت ٢٣ ، پس ، وہ شخص جوبظاہر قران و حدیث کا عِلم بھی رکھتا ہے لیکن بات اور کام خِلافِ حق کرتا ہے وہ اُن میں سے ہے جِن کے بارے میں مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے ، ایسے شخص کو عالِم تو کہا جائے گا کیونکہ اللہ نے اُسے عِلم دِیا ہے ، لیکن اُسے عالمِ سوء کہا جائے گا ، یعنی برائی والا عالِم کیونکہ اُس کا قول و فعل خِلاف حق ہے ، اور قران و حدیث سنانے میں اُس کا منشاء سننے والوں کو اپنا مذہب و مسلک درست بتانا ہے ، جو لوگ اُس کے بارے میں یہ جانتے ہیں کہ اِس شخص کے اقوال و افعال خِلافِ سّنّت اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور اُن کے بعد بھی تابعین تبع تابعین کے خِلاف ہیں تو اُن لوگوں کو اُس کی بات نہیں سننا چاہیئے ، سوائے اِس کے کہ وہ اُس کی بات سُن کر اُس میں غلط کی نشاندہی کریں ، اور جو لوگ اُس شخص کی حقیقت نہیں جانتے اُن کو سمجھاتے رہیں ، اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ شخصیت کا نام لیے بغیر غلط قول یا عمل کی غلطی ثابت کریں ، اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اور اپنے ہر کلمہ گو بھائی بہن کے لیے ہدایت کی دُعا بھی کرتے رہیں ، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، ( اِِنَّکَ لَا تَہدِی مَن اَحبَبتَ وَلَکِنَّ اللَّہَ یَہدِی مَن یَشَاء ُ وَہُوَ اَعلَمُ بِالمُہتَدِینَ ) ( (اے رسول ) جِسے آپ چاہیں اُسے ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جِسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ سب سے زیادہ جاتا ہے کہ ہدایت پانے والے کون ہیں) سورت الجاثیہ / آیت ٥٦، جی ہاں آپ نے دُرست کہا ہر شخص کے پاس یہ استطاعت نہیں ہوتی کہ وہ ایسے لوگوں کی باتوں کی درستگی کو جان سکے ، ایسے لوگوں کے بارے میں یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جب کِسی سے قران اور حدیث کے حوالے کے ساتھ کوئی بات سنیں تو اُس حوالہ کی بنیاد پر اُس کو اپنائیں ، اور اللہ سے ہمیشہ دُعا کرتے رہیں اور صدقِ دِل سے دُعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں حق عطا جاننے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اپنی نیک نیتی سے ، اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات پر عمل کریں ، جیسے بھی اُن تک پہنچی ، اِنشاء اللہ اگر غلط معنیٰ و مفہوم میں اُن تک پہنچائی گئی تو اصل مجرم وہ ہیں اور اللہ کے ہاں بھی ہوگا جو عالِم ، مُفتی ، حضرت ، شیخ الحدیث ، شیخ القران ، مجدد عصر ، مجتہدِ زماں ، اور پتہ نہیں کیا کیا کہلاتے ہیں ، اور اللہ کی قسم اگر اِن سے اِن علوم کے بارے میں چند بنیادی باتیں پوچھ لی جائیں تو اُن سے جواب نہیں بن پڑتا ، ایسے القابات ، اب مُسلمانوں کے ہاں کچھ رٹے پِٹے سبق پڑھ سن لینے پر ملتے ہیں ، لہذا واقعتا کوئی کوئی ہی نظر آتا ہے جو اِن میں سے کِسی لقب کا حق دار ہو ، عِلم اُٹھایا جا رہا ہے ، اور '''عُلماء ''' بڑہتے جا رہے ہیں ، فی الحال اپنی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس فرمان مُبارک پر ختم کرتا ہوں (اِِنَّ اللَّہَ لَا یَنتَزِعُ العِلمَ من الناس انتِزَاعًا وَلَکِن یَقبِضُ العُلَمَاء َ فَیَرفَعُ العِلمَ مَعَہُم ویبقی فی الناس رؤسا جُہَّالًا یُفتُونَہُم بِغَیرِ عِلمٍ فَیَضِلُّونَ وَیُضِلُّونَ )( اللہ تعالیٰ لوگوں میں سے عِلم کھینچ کر نہیں نکال لے گا بلکہ صاحبِ عِلم لوگوں کو اُٹھا لے گا اور اُن کے ساتھ عِلم بھی اُٹھا لیا جائے گا اور لوگوں میں جاھل لوگوں راہبر بن جائیں گے جو لوگوں کو بغیر عِلم کے فتوے دیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے اور خود بھی گمراہ ہوں گے ) صحیح مسلم /کتاب العِلم ، پس میرے بھائی ، یہ حالت عام مُسلم معاشروں میں نظر آ رہی ہے ، عُلماء بہت ہیں عِلم نہیں ، فقہ یعنی عِلم کی سمجھ بوجھ نہیں ، اسی موضوع پر ایک اور حدیث بھی مجھے یاد آ رہی ہے جو سنن الدارمی میں عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہُ کی روایت ہے ، لیکن بات کو طوالت سے بچانے کے لیے اُسے ذِکر نہیں کر رہا ہوں ، اُمید ہے اللہ تعالیٰ اِس جواب کو کافی حد تک آپ کی تسلی و تشفی کا سبب بنا دے گا ، آخر میں یہ بات کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ ایسے عُلماء سُو کو ، اور اُن کی گمراہ کُن تاویلات و تشریحات پر عمل کرنے والوں کو ہم بدعتی ، مُشرک یا کافر نہیں کہیں گے ، جب تک اُن پر اتمام حُجت کا قرینہ یایقین ثابت نہ ہو جائے ، ورنہ ہر دوسرا مُسلمان، بدعتی ، مُشرک یا معاذ اللہ کافر قرار پائے گا اور اُمتِ مُحمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ و السلام نامی کوئی چیز نہیں رہے گی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر غلطی اور گناہ سے ، لا عِلم ، مُسلمانوں کے لیے دِل میںکینہ و غضب رکھنے سے محفوظ رکھے ، طلبگارِ دُعا ، آپکا بھائی ، عادِل سُہیل ظفر ،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (11-03-08), عبداللہ حیدر (14-07-08) |
![]() |
| Tags |
| color, پسند, قرآن, قران, نظر, مکمل, ماں, محبت, آج, اللہ, بھائی, جواب, حکم, حال, حدیث, دُعا, شخص, عورت, عالم, صحیح, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میری طبیعت بہت خراب ہے۔ | فرحان دانش | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 17 | 09-01-11 12:58 PM |
| رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت | Hina4malik | کتاب گھر | 1 | 30-12-10 04:26 PM |
| شریعت اور طریقت۔۔۔ معارض یا معاون | راجہ اکرام | اسلامی نظریہ حیات | 45 | 21-12-10 12:42 PM |
| رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت | ابن آدم | شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات | 13 | 01-12-10 05:14 PM |