واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


ادب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-12-10, 05:14 PM   #1
ادب
مہتاب مہتاب آف لائن ہے 20-12-10, 05:14 PM

اللہ تعالٰی کا ادب

ایک مسلمان کو سب سے پہلے خدا تعالٰی کا ادب کرنا چاہیے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے وقت اپنا سر ننگا رکھنا اور بے ڈھنگے انداز سے کھڑا ہونا گستاخی ہے، حضرت سرکارِانبیاء اللہ تعالٰی کی ہیبت اور خشیت سے سرشار تھے، وحی الٰہی کے وقت آپ کی حالت خدا کے ادبِ کمال کی وجہ سے تبدیل ہو جاتی تھی، عذاب وعتاب والی آیتوں کی تلاوت کرتے تو خوفِ خدا سے لرزہ براندام ہوجاتے تھے، صحابہ کرام نے بھی ادب خدا کا کماحقہ خیال رکھا، ان کی صلح بھی اللہ تعالیٰ کےلئے ہوتی تھی اور ان کی جنگ بھی اللہ تعالٰی کےلئے ہوتی تھی، ان کی محبت اور نفرت، حیات اور موت سب کچھ اللہ تعالٰی کےلئے تھی، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہودیوں کے ایک فرد گستاخ نے اللہ تعالیٰ فقیر اور اپنی قوم کےلئے غنی کا لفظ ادا کیا تو آپ نے غیرت ادب خدا کی وجہ سے اسکو سزادی، اللہ تعالٰی نے آپ کی تائیدو حمایت میں قرآن پاک میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی، لقد سمع اللہ قول الذین کفروا....... بےشک اللہ تعالٰی نے کافروں کی بات سنی ہے جو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی تو فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ اگرہم اللہ تعالٰی کی عبادت کرتے ہیں تو ہمیں تہہ دل سے اسکا ادب واحترام بھی کرنا چاہئے، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ عالم تنہائی میں بھی اپنے سر انور پر عمامہ شریف یا کوئی کپڑا رکھا کرتے تھے، ایک دن کسی خدمتگار نے عرض کیا کہ عالم تنہائی میں تو اس اہتمام کی کوئی ضرورت نہیں، آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی تو دیکھ رہا ہے، گویا ہمیں سب سے زیادہ اللہ تعالٰی کاخیال کرنا چاہیے، حضرت بشر حافی رضی اللہ تعالٰی عنہ توبہ سے پہلے عادی قسم کے شرابی تھے، آپ ایک دن شراب خانے سے باہر نکلے تو دیکھا کہ زمین پر کاغذ کا ایک ٹکڑا پڑا ہے اوراس پر بسم اللہ شریف لکھی ہوئی ہے، آپ نے اس کو ادب و احترام کے ساتھ کسی بلند مقام پر رکھ دیا، اللہ تعالٰی کو ان کی یہ ادائے حسن ادب اس قدر پسند آئی کہ ایک ولی کامل کے ذریعے پیغام بھیجا اے بشر حافی! تو نے میرا نام بلند کیا تو میں نے تیرا نام بلند کردیا، پھر انہیں توبہ کی توفیق نصیب ہوئی اور ولایت کے اعلٰی درجات مقدر ہوئے ، یہ ہے فیضان ادب! حضرت امام ربانی مجددالف ثانی قدس سرہ طہارت خانے میں گئے ، وہاں دیکھا کہ ایک لوٹے پر کسی نے اسم" اللہ"لکھا ہواتھا، آپ نے گھبرا کر لوٹا اُٹھایا، خوب اچھی طرح صاف کیا اوردرویشانِ در سے فرمایا کہ میں جب بھی پینے کےلئے پانی طلب کروں تو مجھے اس لوٹے میں پانی پیش کرنا، آپ نے اس لوٹے کےلئے چبوترے کا اہتمام بھی کیا ، ایک دن الہام ربانی سے سرفراز ہوئے کہ اے احمد سرہندی تونے میرانام اونچا کیا ہے، میں نے تیرا نام اونچا کردیا، تاریخ اسلام میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں، عرفان خدا کی دولت جسے بھی حاصل ہوئی ہے تو اسی ادب کی بدولت حاصل ہوئی ہے، اللہ تعالٰی کو اچھے اچھے ناموں سے یادکرو جو قرآن وحدیث میں وارد ہیں، اس ذات مبارک کے کسی کام پراعتراض نہ کرو اور ہمیشہ اسکی عظمت و رفعت کے ترانے آلاپا کرو


خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے

Last edited by مہتاب; 21-12-10 at 08:49 AM..

 
مہتاب's Avatar
مہتاب
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
شکریہ: 861
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1257
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
sahj (21-12-10), shafresha (21-12-10), کنعان (21-12-10), مفتی (22-12-10), محمدخلیل (21-12-10), بزم خیال (21-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10), عروج (20-12-10), غیاث (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 05:44 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

بہت خوب

جزاک اللہ خیر
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-12-10), کنعان (21-12-10), عروج (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 05:50 PM   #3
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
کمائي: 22,536
شکریہ: 861
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

زارا بہن آپکا بہت شکریہ
مہتاب آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-12-10), کنعان (21-12-10), مفتی (22-12-10), عروج (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 07:54 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ جزائے خیر سے نوازے آپکو۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-12-10), کنعان (21-12-10)
پرانا 20-12-10, 09:08 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے شک با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب

بہت اچھی تحریر پیش کی ہے مہتاب بھائی نے
لیکن سر ننگا کرنے میں ادب کی خلاف ورزی کا پہلو نکالنا میری سمجھ میں نہیں آیا ۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), رضی (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 10:23 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تحریر ادب میں بے احتیاطی

اقتباس:
وحی الہٰی کے وقت آپ کی حالت انتہائی متغیر ہوجاتی تھی،
یہ جملہ شان رسالت ماب کیخلاف ہے۔کیوں کہ وحی الہی کیوقت آپکی حالت متغیر نہ ہوتی تھی بلکہ وہ نزول وحی کی خاص حالت ہوتی تھی۔یہ کیفیت عبادات اور خشوع وخضوع سے مختلف ہوتی تھی۔جس سےصحابہ کرام کونزول وحی کاپتا چلتا تھا۔اس جملےکی تصحیح کردیں۔
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-12-10), محمدخلیل (21-12-10)
پرانا 21-12-10, 08:52 AM   #7
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
کمائي: 22,536
شکریہ: 861
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غیاث مراسلہ دیکھیں
یہ جملہ شان رسالت ماب کیخلاف ہے۔کیوں کہ وحی الہی کیوقت آپکی حالت متغیر نہ ہوتی تھی بلکہ وہ نزول وحی کی خاص حالت ہوتی تھی۔یہ کیفیت عبادات اور خشوع وخضوع سے مختلف ہوتی تھی۔جس سےصحابہ کرام کونزول وحی کاپتا چلتا تھا۔اس جملےکی تصحیح کردیں۔

نشاندہی کا شکریہ ۔ اسکا مطلب تبدیلی ہی ہے لیکن واقعی یہ لفظ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کے لئے موزوں نہیں تھا
آپ کا بہت شکریہ
مہتاب آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-12-10), کنعان (21-12-10), مفتی (22-12-10)
پرانا 21-12-10, 08:57 AM   #8
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,719
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غیاث مراسلہ دیکھیں
یہ جملہ شان رسالت ماب کیخلاف ہے۔کیوں کہ وحی الہی کیوقت آپکی حالت متغیر نہ ہوتی تھی بلکہ وہ نزول وحی کی خاص حالت ہوتی تھی۔یہ کیفیت عبادات اور خشوع وخضوع سے مختلف ہوتی تھی۔جس سےصحابہ کرام کونزول وحی کاپتا چلتا تھا۔اس جملےکی تصحیح کردیں۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
نشاندہی کا شکریہ ۔ اسکا مطلب تبدیلی ہی ہے لیکن واقعی یہ لفظ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کے لئے موزوں نہیں تھا
آپ کا بہت شکریہ
بدقسمتی سے میں‌آپ دونوں حضرات سے متفق نہیں‌ہوں!!

پہلا جملہ بھی درست تھا اور کہیں‌بھی گستاخی کا پہلو نہیں‌نکلتا تھا، اور اب یقینا بہتر ہے!!!
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-12-10, 09:35 AM   #9
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
کمائي: 22,536
شکریہ: 861
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حضرت محمد مصطفٰے کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب

اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب ، دانائے غیوب ، طالب ومطلوب، منزہ عن کل عیوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب و احترام کابار بار حکم صادر فرمایا ہے، اللہ تعالٰی نے اس لفظ کوبھی تبدیل کرنے کاحکم دیا ہے، جس سے کسی نہ کسی طرح کوئی بے ادبی اورگستاخی کا پہلو نکلتا ہے ، مثلاََ صحابہ کرام آپ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کرتے تھے، ’’راعنا‘‘حضور ہماری رعایت فرمائیے ، اس لفظ کو یہودیوں نے ’’راعینا‘ ‘کرکے پڑھنا شروع کردیا جس کا گستاخی والامعنی ہے ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے پوری آیت نازل فرمادی:
یاایھاالذین امنوالا تقولواراعناوقولواانظرناوا سمعواوللکفرین عذاب الیم ہ
اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو حضور ہم پر نظر کرم رکھئے اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کےلئے دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ البقرہ: 104)
معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ہلکا لفظ بولنا حرام ہے اگرچہ توہین کی نیت نہ بھی ہو اور توہین کی نیت سے بولنا کفر ہے، نیز جس لفظ کے دو معنی ہوں، اچھے یا برے تو وہ بھی اللہ تعالٰی اور حضوروالا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلئے استعمال نہ کئے جائیں تاکہ دوسروں کو بد گوئی کا موقعہ نہ ملے،اللہ تعالٰی کو میاں نہ کہو کیونکہ میاں کے معنی مالک بھی ہیں اور خداوند بھی،لہٰذا اب اللہ تعالٰی کو مالک کے معنی میں بھی میاں نہ کہو(نورالعرفان صفحہ 24) اللہ تعالٰی نے اپنی تسبیح و تحمید سے پہلے اپنے محبو ب پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کاحکم دیا ہے، فرمایا ’’وتعزروہ وتوقروہ وتسجوہ بکرۃ واصیلا’’ اور اس رسول کی تعظیم اور توقیر کرو اورصبح وشام اللہ کی پاکی بولو‘‘(سورۃ الفتح آیت :9) اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ تعظیم جو خلاف شر ع نہ ہو ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ادا کی جائے، یعنی ان کو اللہ یا اللہ کی مثل نہ کہا جائے، انہیں سجدہ سر نہ کیا جائے باقی جو احترام کے الفاظ ملیں عرض کردیں، توقیر میں کوئی قید نہیں، حضرت امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے لوگ مدینہ منورہ میں سواری پر سوار نہ ہوا کرتے تھے ، اسی حکم توقیر سے ثابت ہے ، پھر معلوم ہواکہ ادب مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذکرِ خدا سے بھی مقدم ہے، کیونکہ ذکرِ خدا سے مومن اورمنافق کی پہنچان نہیں ہوتی، یہ ادب مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس سے مومن الگ ہوجاتے ہیں اور منافق الگ ہوجاتے ہیں، ذاتِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی لوگوں کے درمیان حد فاضل ہے ، باعث امتیاز ہے، فرق عظیم ہے ، جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہوگیا وہی خدا کا ہوگیا، اللہ تعالٰی نے ان آیات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کا حکم دیا ہے
٭ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو (سورۃ الحجرات1)
٭ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بنانے والے (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے ان کے حضور بات چلاکر نہ کرو ، جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہوکہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر تک نہ ہو (سورۃ الحجرات 2)
٭ ۔ ۔ ۔ بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ، وہ ہیں جن کے دل اللہ نے پرہیز گاری کےلئے پرکھ لیے ہیں، انہی کےلئے بخشش اور بڑا ثواب ہے (سورۃ الحجرات 3)
٭ ۔ ۔ ۔ بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ، ان میں اکثر بے عقل ہیں ( سورۃ الحجرات 4)
٭ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں نہ حاضر ہو، جب تک اذن نہ پاؤ (سورۃ احزاب53)
٭ ۔ ۔ ۔ رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے (سورۃ النور63)
٭ ۔ ۔ ۔ میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو ( سورۃ المائدہ13)
٭ ۔ ۔ ۔ وہ جو اس رسول پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا، وہی بامراد ہوئے (سورۃ الاعراب:157)
٭ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں، انہی کےلئے درناک عذاب ہے( سورۃ التوبہ 61)
٭ ۔ ۔ ۔ بے شک جو لوگ اللہ اوراسکے رسول کو ایذا دیتے ہیں،ان پراللہ تعالٰی کی لعنت دنیا اور آخرت میں (سورۃاحزاب57 )
مہتاب آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-01-11), مفتی (22-12-10)
پرانا 21-12-10, 05:11 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
بدقسمتی سے میں‌آپ دونوں حضرات سے متفق نہیں‌ہوں!!

پہلا جملہ بھی درست تھا اور کہیں‌بھی گستاخی کا پہلو نہیں‌نکلتا تھا، اور اب یقینا بہتر ہے!!!
درجات ایمان الگ الگ ہیں۔
کوئی کہتااےمحمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم عدل کرو یعنی عادل اعظم کو سبق عدل سکھاتاہے۔اوردوسری طرف کسی کواسی بات پرغصہ اورجلال ٓجاتاہے۔ اورقتل کیلیے تلوارنکال لیتاہے۔مگرجب اس تک پہنچتےہیں تونمازمیں دیکھ کرپلٹ آتےہیں۔
کوئی ہاتھ کااشارہ کرتاہےصرف بتانےکیلیےتب بھی اسکےبعدخودہی وضاحت کردیتاہےکہ میرا ہاتھ توویسانہیں۔اور کوئی کافروں کودیئےگیئےاس جواب انماانابشرمثلکم سےیہ دلیل لیتا ہےکہ نبی محتشم میری طرح ہیں۔
کوئی امام مسجدسورہ عبس نمازمیں لگاتار تلاوت کرتاہےاور اسی دورمیں امیرالمؤمنین اسےبغیروضاحت طلب کیےقتل کرادیتے ہیں۔
کوئی ایمان کالیبل لگاکربھی دربار رسالت کےفیصلے کاانکارکرتاہےاورکوئی زمانہ نبوی صٌی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونےکےباوجودبغیراجازت نبی اسکاسرتن سےجدا کردیتاہے۔
یہ ایمان کےدرجات کی چندمثالیں ہیں۔وگرنہ ذخیرہ احادیث ایسےواقعات سے بھراپڑاہے۔
ہر کسی کیلیے اپنا محاسبہ نفس لازم ہے۔ہم کمزور ایمان لوگ ہیں ڈرتے ہیں۔ اللہ تعالی معاف فرمائیں۔

Last edited by غیاث; 22-12-10 at 03:27 PM.
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-12-10, 05:55 PM   #11
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,833
شکریہ: 7,285
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
لَوْ أَنزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
Tahir ul Qadri
اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل فرماتے تو (اے مخاطب!) تو اسے دیکھتا کہ وہ اﷲ کے خوف سے جھک جاتا، پھٹ کر پاش پاش ہوجاتا، اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کر رہے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں
لیکن میرے خیال سے نبی اکرم: با لکل نارمل حالت میں رہتے تھے۔ میرا نہیں خیال کہ ان کی حالت زرا بھی بدلی ہو۔۔۔
واللہ و عالم
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (22-12-10), مہتاب (19-05-11), مرزا عامر (23-01-11)
پرانا 22-12-10, 08:57 AM   #12
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غیاث مراسلہ دیکھیں
کوئی امام مسجدسورہ عبس نمازمیں لگاتار تلاوت کرتاہےاور اسی دورمیں امیرالمؤمنین اسےبغیروضاحت طلب کیےقتل کرادیتاہے۔
سلام وعلیکم

غیاث صاحب میرا خیال ہے امیرالمؤمنین لے لئے "قتل کرا دیتے ہیں" لکھ دیں یہی ادب کا تقاضا ہے


والسلام
مفتی آف لائن ہے   Reply With Quote
مفتی کا شکریہ ادا کیا گیا
غیاث (22-12-10)
پرانا 22-12-10, 03:25 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default احتیاط لازم ہے

اقتباس:
حضرت سرکارِانبیاء اللہ تعالٰی کی ہیبت اور خشیت سے سرشار تھے، وحی الٰہی کے وقت آپ کی حالت خدا کے ادبِ کمال کی وجہ سے تبدیل ہو جاتی تھی، عذاب وعتاب والی آیتوں کی تلاوت کرتے تو خوفِ خدا سے لرزہ براندام ہوجاتے تھے،
بھائی یہ جملہ بھی مناسب نہیں۔ احتیاط طلب جملہ درج زیل طریقے سے آئیگا۔

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسم اللہ تعالی کی عظمت شان،رفعت کمالات،آداب الہی اور خشیت سےسرشارتھے۔عذاب وعتاب والی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے خشیت الہی سےرقت طاری ہوجاتی۔دوران عبادت دنیا و مافیہا سے بے خبرہوجاتے۔نزول وحی کیوقت انواروتجلیات اور آداب ربوبیت کےکمال کی وجہ سے خاص کیفیت طاری ہو جاتی۔
مزیدبہتر تبدیلیاں بھی ممکن ہیں۔جیسا مناسب سمجھیں۔
رب راکھا۔

Last edited by غیاث; 22-12-10 at 09:08 PM.
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
غیاث کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (22-12-10)
پرانا 22-12-10, 03:38 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تصحیح خیالات و تصورات

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
لیکن میرے خیال سے نبی اکرم: با لکل نارمل حالت میں رہتے تھے۔ میرا نہیں خیال کہ ان کی حالت زرا بھی بدلی ہو۔۔۔
واللہ و عالم
بھائی آپ کاخیال احادیث مبارکہ کے خلاف ہے۔وحی کے نزول کیوقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیفیت مختلف ہوتی تھی۔
اس سے مرادگھبراہٹ،خوف،ہیبت یا دہشت کی کیفیت نہیں۔

اوپر مذکور آیت کا انکارنہیں۔مگرمختلف کیفیات کاذکر احادیث مبارکہ سےملتاہے۔

Last edited by غیاث; 22-12-10 at 09:09 PM.
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-12-10), محمدخلیل (22-12-10)
پرانا 22-12-10, 05:14 PM   #15
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,833
شکریہ: 7,285
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکرہیہ بھائی لیکن میرا ایمان ہے کہ ان کی کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔۔۔
محمدخلیل آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (23-12-10)
جواب

Tags
color, پاک, پسند, لوٹے, موت, محبت, اکبر, اللہ, اسلام, حسن, خدا, دل, عالم, عادی, عبادت, عذاب, عرفان, عرض, عظمت, غیرت, غنی, صلح, صاف, صحابہ, صدیق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger