|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1257
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں بہت خوب جزاک اللہ خیر |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بے شک با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب
بہت اچھی تحریر پیش کی ہے مہتاب بھائی نے لیکن سر ننگا کرنے میں ادب کی خلاف ورزی کا پہلو نکالنا میری سمجھ میں نہیں آیا ۔۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
نشاندہی کا شکریہ ۔ اسکا مطلب تبدیلی ہی ہے لیکن واقعی یہ لفظ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کے لئے موزوں نہیں تھا آپ کا بہت شکریہ |
|
|
|
|
|
|
#8 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
اقتباس:
پہلا جملہ بھی درست تھا اور کہیںبھی گستاخی کا پہلو نہیںنکلتا تھا، اور اب یقینا بہتر ہے!!!
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
||
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
حضرت محمد مصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب ، دانائے غیوب ، طالب ومطلوب، منزہ عن کل عیوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب و احترام کابار بار حکم صادر فرمایا ہے، اللہ تعالٰی نے اس لفظ کوبھی تبدیل کرنے کاحکم دیا ہے، جس سے کسی نہ کسی طرح کوئی بے ادبی اورگستاخی کا پہلو نکلتا ہے ، مثلاََ صحابہ کرام آپ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کرتے تھے، ’’راعنا‘‘حضور ہماری رعایت فرمائیے ، اس لفظ کو یہودیوں نے ’’راعینا‘ ‘کرکے پڑھنا شروع کردیا جس کا گستاخی والامعنی ہے ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے پوری آیت نازل فرمادی: یاایھاالذین امنوالا تقولواراعناوقولواانظرناوا سمعواوللکفرین عذاب الیم ہ اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو حضور ہم پر نظر کرم رکھئے اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کےلئے دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ البقرہ: 104) معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ہلکا لفظ بولنا حرام ہے اگرچہ توہین کی نیت نہ بھی ہو اور توہین کی نیت سے بولنا کفر ہے، نیز جس لفظ کے دو معنی ہوں، اچھے یا برے تو وہ بھی اللہ تعالٰی اور حضوروالا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلئے استعمال نہ کئے جائیں تاکہ دوسروں کو بد گوئی کا موقعہ نہ ملے،اللہ تعالٰی کو میاں نہ کہو کیونکہ میاں کے معنی مالک بھی ہیں اور خداوند بھی،لہٰذا اب اللہ تعالٰی کو مالک کے معنی میں بھی میاں نہ کہو(نورالعرفان صفحہ 24) اللہ تعالٰی نے اپنی تسبیح و تحمید سے پہلے اپنے محبو ب پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کاحکم دیا ہے، فرمایا ’’وتعزروہ وتوقروہ وتسجوہ بکرۃ واصیلا’’ اور اس رسول کی تعظیم اور توقیر کرو اورصبح وشام اللہ کی پاکی بولو‘‘(سورۃ الفتح آیت :9) اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ تعظیم جو خلاف شر ع نہ ہو ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ادا کی جائے، یعنی ان کو اللہ یا اللہ کی مثل نہ کہا جائے، انہیں سجدہ سر نہ کیا جائے باقی جو احترام کے الفاظ ملیں عرض کردیں، توقیر میں کوئی قید نہیں، حضرت امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے لوگ مدینہ منورہ میں سواری پر سوار نہ ہوا کرتے تھے ، اسی حکم توقیر سے ثابت ہے ، پھر معلوم ہواکہ ادب مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذکرِ خدا سے بھی مقدم ہے، کیونکہ ذکرِ خدا سے مومن اورمنافق کی پہنچان نہیں ہوتی، یہ ادب مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس سے مومن الگ ہوجاتے ہیں اور منافق الگ ہوجاتے ہیں، ذاتِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی لوگوں کے درمیان حد فاضل ہے ، باعث امتیاز ہے، فرق عظیم ہے ، جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہوگیا وہی خدا کا ہوگیا، اللہ تعالٰی نے ان آیات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کا حکم دیا ہے ٭ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو (سورۃ الحجرات1) ٭ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بنانے والے (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے ان کے حضور بات چلاکر نہ کرو ، جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہوکہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر تک نہ ہو (سورۃ الحجرات 2) ٭ ۔ ۔ ۔ بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ، وہ ہیں جن کے دل اللہ نے پرہیز گاری کےلئے پرکھ لیے ہیں، انہی کےلئے بخشش اور بڑا ثواب ہے (سورۃ الحجرات 3) ٭ ۔ ۔ ۔ بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ، ان میں اکثر بے عقل ہیں ( سورۃ الحجرات 4) ٭ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں نہ حاضر ہو، جب تک اذن نہ پاؤ (سورۃ احزاب53) ٭ ۔ ۔ ۔ رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے (سورۃ النور63) ٭ ۔ ۔ ۔ میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو ( سورۃ المائدہ13) ٭ ۔ ۔ ۔ وہ جو اس رسول پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا، وہی بامراد ہوئے (سورۃ الاعراب:157) ٭ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں، انہی کےلئے درناک عذاب ہے( سورۃ التوبہ 61) ٭ ۔ ۔ ۔ بے شک جو لوگ اللہ اوراسکے رسول کو ایذا دیتے ہیں،ان پراللہ تعالٰی کی لعنت دنیا اور آخرت میں (سورۃاحزاب57 ) |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کوئی کہتااےمحمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم عدل کرو یعنی عادل اعظم کو سبق عدل سکھاتاہے۔اوردوسری طرف کسی کواسی بات پرغصہ اورجلال ٓجاتاہے۔ اورقتل کیلیے تلوارنکال لیتاہے۔مگرجب اس تک پہنچتےہیں تونمازمیں دیکھ کرپلٹ آتےہیں۔ کوئی ہاتھ کااشارہ کرتاہےصرف بتانےکیلیےتب بھی اسکےبعدخودہی وضاحت کردیتاہےکہ میرا ہاتھ توویسانہیں۔اور کوئی کافروں کودیئےگیئےاس جواب انماانابشرمثلکم سےیہ دلیل لیتا ہےکہ نبی محتشم میری طرح ہیں۔ کوئی امام مسجدسورہ عبس نمازمیں لگاتار تلاوت کرتاہےاور اسی دورمیں امیرالمؤمنین اسےبغیروضاحت طلب کیےقتل کرادیتے ہیں۔ کوئی ایمان کالیبل لگاکربھی دربار رسالت کےفیصلے کاانکارکرتاہےاورکوئی زمانہ نبوی صٌی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونےکےباوجودبغیراجازت نبی اسکاسرتن سےجدا کردیتاہے۔ یہ ایمان کےدرجات کی چندمثالیں ہیں۔وگرنہ ذخیرہ احادیث ایسےواقعات سے بھراپڑاہے۔ ہر کسی کیلیے اپنا محاسبہ نفس لازم ہے۔ہم کمزور ایمان لوگ ہیں ڈرتے ہیں۔ اللہ تعالی معاف فرمائیں۔ Last edited by غیاث; 22-12-10 at 03:27 PM. |
|
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
با لکل نارمل حالت میں رہتے تھے۔ میرا نہیں خیال کہ ان کی حالت زرا بھی بدلی ہو۔۔۔واللہ و عالم
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟ |
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسم اللہ تعالی کی عظمت شان،رفعت کمالات،آداب الہی اور خشیت سےسرشارتھے۔عذاب وعتاب والی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے خشیت الہی سےرقت طاری ہوجاتی۔دوران عبادت دنیا و مافیہا سے بے خبرہوجاتے۔نزول وحی کیوقت انواروتجلیات اور آداب ربوبیت کےکمال کی وجہ سے خاص کیفیت طاری ہو جاتی۔ مزیدبہتر تبدیلیاں بھی ممکن ہیں۔جیسا مناسب سمجھیں۔ رب راکھا۔ Last edited by غیاث; 22-12-10 at 09:08 PM. |
|
|
|
|
| غیاث کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (22-12-10) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,133
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس سے مرادگھبراہٹ،خوف،ہیبت یا دہشت کی کیفیت نہیں۔ اوپر مذکور آیت کا انکارنہیں۔مگرمختلف کیفیات کاذکر احادیث مبارکہ سےملتاہے۔ Last edited by غیاث; 22-12-10 at 09:09 PM. |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, پاک, پسند, لوٹے, موت, محبت, اکبر, اللہ, اسلام, حسن, خدا, دل, عالم, عادی, عبادت, عذاب, عرفان, عرض, عظمت, غیرت, غنی, صلح, صاف, صحابہ, صدیق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|