واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


استعانت غیر اللہ پر چند مغالطے اور اُن کی وضاحتیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-03-11, 04:51 PM   #1
استعانت غیر اللہ پر چند مغالطے اور اُن کی وضاحتیں
ناصر نعمان ناصر نعمان آن لائن ہے 13-03-11, 04:51 PM


بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
محترم قارئین کرام جیسا کہ اسی سیکشن میں "غیر اللہ سے مدد" کے حوالے سے ایک طویل دھاگہ چل رہا ہے ۔۔۔۔ جس میں مراسلوں کے تعداد 250 کے لگ بھگ ہوچکی ہے.... لیکن اس طویل گفتگو کے باوجود ابھی تک بات چیت کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی ہے ۔۔۔۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اُس دھاگہ میں ہر شخص اپنے اپنے موقف پر اپنی اپنی سمجھ کے مطابق دلائل پیش کررہا ہے ۔۔۔۔ جبکہ اصولی طور پر ہونا یہ چاہیے تھا کہ ایک دوسرے کے دلائل کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے پیش کئے دلائل میں موجود غلط فہمیوں نشادہی کی جاتی ۔۔۔ تاکہ بات الجھنے کے بجائے سلجھنے کی طرف چلتی ۔
لہذا جس کی وجہ سے اتنی طویل گفتگو ہونے کے باوجود بات چیت اُسی مقام پر ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی ۔
اور یہ بات بھی درست ہے کہ جس نے نہیں ماننا اُس کو کتنے ہی دلائل کیوں نہ پیش کردئیے جائیں وہ نہیں مانے گا ۔۔۔۔ لیکن کم از کم اتنا ضرور ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے پیش کردہ دلائل کی وضاحتوں کے بعد صورتحال اتنی واضح ضرور ہوجاتی ہے کہ کوئی بھی غیر جانبدار حق کا متلاشی "حق اور باطل" میں باآسانی تمیز کر سکتا ہے۔
اس کے بعد یہ ہر شخص کا اپنا اپنا اختیار ہے کہ وہ کون سی راہ منتخب کرتا ہے ۔۔۔۔ ہم سب کی نیت اصلاح ہے ۔۔۔۔کسی کی ہار چیت نہیں ۔۔۔۔ اور ہم سب کا مقصد خالص اللہ تعالیٰ کی رضا ہے ۔۔۔۔ اپنے نفس کی تسکین نہیں ۔۔۔۔۔ اور ہمارا کام "حق" کو واضح کرنا ہے ۔۔۔۔ اور ہدایت دینا اللہ رب العزت کے اختیار میں ہے۔

اس مختصر تمہید کے بعد عرض یہ ہے کہ اُسی دھاگہ میں ہماری بات چیت عابد عنایت صاحب سے چل رہی تھی جو کہ کثرت مراسلات کی وجہ سے منتشر ہوگئی ہے ۔۔۔۔ اور بیچ بیچ میں مراسلات موجود ہونے کی وجہ سے کسی نئے آنے والے قاری کے لئے ہماری اور عابد صاحب کی بات چیت کے نتائج جاننا بہت دشوار ہوگیا ہے ۔۔۔۔ لہذا ہم اپنی اور عابد صاحب کے بات چیت کے مراسلات یہاں اس نئے دھاگے میں جمع کررہے ہیں ۔
اور تمام ساتھیوں سے خصوصی درخواست ہے کہ وہ اس دھاگہ میں مختصرا اپنی آراء اور اپنے تبصرے ضرور شامل فرمائیں ۔۔۔۔ لیکن پلیز پلیز پلیز یہاں اس دھاگے میں اُس دھاگے کی طرح دلائل اور مباحثہ سے اجتناب فرمائیں تاکہ جو حضرات سنجیدگی سے اس موضوع پر سمجھنا سمجھانا چاہتے ہیں اُن کے لئے اس موضوع میں ربط بھی بنا رہے اور وہ باآسانی دونوں فریقین کے دلائل کا موازنہ بھی کرسکیں ۔ان شاء تعالیٰ ہم عابد صاحب کے پیش کئے گئے ان تمام نکات کی یک دیگرے بعد وضاحتیں پیش کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔۔۔۔ جن کے متعلق عابد صاحب کو ابھی تک تشنگی محسوس ہوتی ہے۔
امید ہے تمام قارئین کرام ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں گے ۔جزاک اللہ
آپ سب سے دعاوں کی درخواست ہے .
والسلام
ناصر نعمان
(نوٹ : ہم یہاں خود وہ تمام بات چیت جو اب تک ہماری اور عابد صاحب کے درمیان ہوچکی ہے یک دیگرے بعد پیش کریں گے ۔۔۔۔ لہذا اگر قارئین کرام اُس وقت تک بیچ میں اپنی رائے اور تبصرے شامل نہ فرمائیں تو مہربانی ہوگی اور دھاگے کہ ربط میں بھی خلل نہیں واقع ہوگا)
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
اور ہم نے جو عقیدہ بیان کیا ہے اس کی نقلی اور عقلی تردید خود قرآن و سنت سے کیجئے
کہ کیونکہ ہمارے اصل دلائل اس ضمن میں قرآن و سنت سے ہی ہیں آپ کی سہولت کے لیے اپنا عقیدہ ایک بار پھر پیش خدمت کیے دیتا ہوں
اگر جناب کو اس پر کوئی اعتراض تو شوق سے وارد کیجئے ۔ ۔
میرا عقیدہ ہے کہ تمام قسم کے امور میں چاہے ظاہری ہوں باطنی ہوں ماتحت الاسباب ہوں یا ما فوق الاسباب ہے امور عادیہ ہوں یا غیر عادیہ ان سب میں حقیقی مددگار فقط اللہ پاک ہی ہے اور ان میں سے کسی بھی امر پر جب بندوں سے مدد طلب کی جائے چاہے وہ بندہ سامنے موجود ہو یا نہ ہو چاہے امر ماتحت الاسباب کے ہو یا ما فوق الاسباب کہ چاہے امور عادیہ میں سے ہو یا غیر عادیہ میں سے جب بھی کسی بندے سے مدد طلب کی جائے گی تو اس کا اسنا بطور مجاز کے ظاہری طور پر بندے کی طرف ہوگا جبکہ حقیقی مددگار اور مستغاث حقیقی صرف باری تعالی ہے سو اسناد حقیقی فقط اللہ ہی کو سزاوار ہے ۔ ۔
اگر میرے اس عقیدہ پر جناب کو کوئی اعتراض ہو تو پیش فرمائیے

جناب عابد صاحب ہمیں آپ کے پیش کئے مذکورہ عقیدے پر کچھ اشکالات ہیں ۔۔۔۔ امید ہے آپ افہام و تفیہم کے ساتھ مختصرا وضاحت فرمائیں گے
جیسا کہ آپ نے اپنے عقیدے میں واضح فرمایا ہے کہ"ماتحت الاسباب ہوں یا ما فوق الاسباب ہے امور عادیہ ہوں یا غیر عادیہ ان سب میں حقیقی مددگار فقط اللہ پاک ہی ہے"
ہمیں اس پر کوئی اختلاف نہیں
لیکن اختلاف اس بات پر ہے کہ آپ (مجازا)غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد اور امور غیر عادیہ مدد مانگنے کے قائل ہیں
کیا آپ اپنے دعوی (غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد مانگنا) پر قرآن پاک سے کوئی دلیل پیش فرماسکتے ہیں ؟؟؟
(ان شاء اللہ تعالیٰ احادیث سے دلائل پر ہم اگلے مرحلے میں بات کریں گے)

(چھوٹی سی گذارش عرض یہ ہے کہ دلیل پیش کرتے وقت اپنے دعوی کو ضرور مد نظر رکھیے گا ایسا نہ ہو کہ دعوی کچھ ہو دلیل کچھ ہو ۔۔۔۔ نیز بات چیت کو طول دینے سے اجتناب فرمائیے گا اور اگر سوال کے مطابق جواب دینے کی کوشش کریں گے تو ایک طرف بات چیت الجھے گی نہیں اور دوسری طرف ہمیں اور قارئین کرام کو بھی مسئلہ سمجھنے میں آسانی رہے گی )

ناصر نعمان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2226
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-03-11), shafresha (13-03-11), ھارون اعظم (13-03-11), نورالدین (25-03-11), محمد عاصم (02-04-11), مرزا عامر (13-03-11), آبی ٹوکول (14-03-11), شکاری (27-02-12)
پرانا 13-03-11, 05:13 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ڈسپنسر اور ڈاکٹر میں فرق، شعبہ ایک ہی ھے مگر تعلیمی اعتبار سے دونوں میں ایک نیم حکیم خطرہ جان
لیکن جب پہلے ہی کوئی ڈسپنسر مستند ڈاکٹرز کے پیش کردہ نسخوں کے برخلاف عوام کا خطرناک علاج کررہا ہو تو ایسے وقت میں دوسرا ڈسپنسر مستند ڈاکٹرز کے تجویز کردہ نسخوں سے عوام کو پہلے ڈسپنسر کے خطرناک علاج کی نشادہی کرتا ہے تو یہ خطرہ نہیں بلکہ خطرہ کی نشادہی کہلائے گی

ہاں البتہ اگر دوسرے ڈسپنسر کی مستند ڈاکٹرز کے تجویز کردہ نسخوں کو سمجھنے میں کوئی کوتاہی ہو تو ہر وقت نشادہی کی درخواست ہے۔
والسلام

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں


عابد صاحب کی طرف سے جواب


انتہائی مختصر طور پر فقط ایک ہی آیت نقل کرتا ہوں قرآن پاک میں سے ما فوق الاسباب امور غیر اللہ سے امداد طلب کرنے کی ۔ ۔ ۔ سورۂ نمل میں سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنے درباریوں کے ساتھ ہونے والے مکالمے میں اِرشاد فرمایا :
قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَo
38. (سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: اے دربار والو! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجائیںo
39. قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌo
39. ایک قوی ہیکل جِن نے عرض کیا: میں اسے آپ کے پاس لاسکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں اور بیشک میں اس (کے لانے) پر طاقتور (اور) امانت دار ہوںo
40. قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌo
40. (پھر) ایک ایسے شخص نے عرض کیا جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے (یعنی پلک جھپکنے سے بھی پہلے)، پھر جب (سلیمان علیہ السلام نے) اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا (تو) کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر گزاری کرتا ہوں یا نا شکری، اور جس نے (اللہ کا) شکر ادا کیا سو وہ محض اپنی ہی ذات کے فائدہ کے لئے شکر مندی کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو بیشک میرا رب بے نیاز، کرم فرمانے والا ہےo
اب آپ ہی بتائیے ملکہ سبا کا وہ تحت جو قریبا 1000 میل کی مسافت پر تھا جو کہ حضرت سلمان علیہ السلام کے درباریوں سے یقینا عالم غائب میں تھا پھر ایسے میں حضرت سلمان علیہ السلام کا اپنے درباریوں سے ایک غائب اور نہایت بڑی اور قوی شئے کو فی الفور حاضر کرنے کا سوال کرنا چہ معنٰی دارد؟؟ سوائے اس کے حضرت سلمان علیہ السلام کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ بظاہر مافوق الاسباب امور میں بھی اللہ پاک نے اپنے خاص بندوں کو قوت دے رکھی ہے لہذا اسی وجہ سے انھوں نے مافوق الاسباب طریق سے اس تخت کو اپنے دربار میں حاضر کرنے کی خواہش ظاہر کی اگر حضرت سلیمان علیہ السلام غیراﷲ یعنی مخلوق کے لئے دُور کی شے کو جاننے اور لا سکنے کی طاقت اور قدرت کا اِعتقاد نہ رکھتے تو وہ ہرگز ایسا سوال نہ کرتے، بلکہ درباری بھی بول پڑتے کہ اَے حضرت سلیمان علیک السلام ! مخلوق کے لئے ایسا کام سراِنجام دینا کیسے ممکن ہے؟ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں، صرف وُہی اِس ما فوق الفطرت اَمر پر قدرت رکھتا ہے۔ مگر درباریوں میں سے کسی ایک کو بھی ایسے گستاخانہ کلام کی جرات نہ ہوئی بلکہ جواب میں ایک جن اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا :
أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌo
میں اُسے آپ کے پاس لاسکتا ہوں قبل اِس کے کہ آپ اپنے مقام سے اُٹھیں اور بے شک میں اُس (کے لانے) پر طاقتور (اور) اَمانتدار ہوںo
سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اُس جن کی پیشکش قبول نہ فرمائی۔ پھر اِنسانوں میں سے ایک ایسا بندہ اُٹھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ وہ صاحبانِ علم و رُوحانییّن میں سے تھا۔ اُس نے کھڑے ہوکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضور یوں عرض کی :
أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي.
میں اُسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اِس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے (یعنی پلک جھپکنے سے بھی پہلے) پھر جب (سلیمان علیہ السلام نے) اُس (تخت) کو اپنے سامنے رکھا ہوا دیکھا تو کہا یہ میرے ربّ کا فضل ہے۔
باقی ماننے والوں کے لیے ایک یہی آیت کافی ہے کہ مخلوق سے ما فوق الاسباب میں بھی سوال اور مدد مانگی جاسکتی ہے اور جنھوں نے نہیں ماننا تو انھوں نے بخاری و مسلم کی متفق علیہ احادیث کو بھی نہیں ماننا کہ جس میں تمام خلائق کا قیامت کی سختی ٹالنے کے لیے حضور پرنور شافع یوم النشور کے حضور استغاثہ کرنا مذکور ہے اس دین جو کہ یوم الدین اور یوم توحید ہوگا اس دن بھی اللہ کی مخلوق غیر اللہ سے استغاثہ کرے گی جبکہ اس دن تو اللہ پاک سب کے سامنے پورے جاہ جلال کے ساتھ جیسا اسکی شان کے لائق ہے موجود ہوگا ۔ ۔فاعتبروا یااولی الابصار ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام

Last edited by ناصر نعمان; 14-03-11 at 03:02 PM.
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (14-03-11)
پرانا 13-03-11, 05:14 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default




عابد عنایت صاحب جیسا کہ آپ نے اپنے دعوی (غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد مانگنا) پر آصف برخیا کی مثال پیش فرمائی
اس چیز سے آپ بھی متفق ہوں گے کہ آصف برخیا کا ملکہ بلقیس کا تخت لانا کرامات میں سے ہے

تو اس حوالہ سے مختصر عرض یہ تھی کہ شاید آپ کے علم میں ہو کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے معجزات اور اولیاء کرام کی کرامات مطلقا مافوق الاسباب کے زمرے میں نہیں آتیں بلکہ متکلمین حضرات نے یہ نکتہ واضح فرمایا ہے کہ معجزات اور کرامات میں غیر مادی اور غیر ظاہری اورمخفی اسباب ہوتے ہیں

چناچہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ "کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے عجیب و غریب واقعات صادر ہوتے رہتے ہیں جن کا ہم مشاہدہ کرتے رہتے ہیں سو ان کے امکان کا کسی طرح انکار کرنا مناسب نہیں ہے اور نہ ان کے محال ہونے کا فیصلہ درست ہے اور اسی طرح مردہ کا زندہ کرنا اور لاٹھی کا سانپ بنادینا اسی طریق پر ممکن ہے کہ چونکہ مادہ ہر چیز کو قبول کرلیتا ہے ... مثلا مٹی اور جملہ دیگر عناصر نباتات کی شکل میں نمودار ہوجاتے ہین اور ان ہی سبزیوں اور ترکاریوں کو جب جاندار کھاتے ہیں تو ان میں خون پیدا ہوتا ہے اور یہ نباتات خون کی صورت اختیار کرلیتی ہیں پھر یہی خون منی کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور یہ منی جب رحم میں پہنچتی ہے تو اس سے جاندار کی شکل تیار ہوتی ہے اور یہ تبدیلیاں عادتا کافی زمانہ میں پایہ تکمیل تک پہنچتی ہیں .... پس مخالف کیوں محال سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بات داخل ہو کہ وہ مادہ کو ان مختلف حالات میں بہت ہی مختصر سے وقت میں اس قابل بنادے کہ وہ معہود وقت سے کم میں یہ تبدیلیاں قبول کرلے اور جب اس سے قرب وقت میں ایسا ہونا ممکن ہے تو اقل کے لئے کوئی حد ہی نہیں ہے لہذا جب یہ قوتیں بڑی عجلت سے اپنی کاروائی پایہ تکمیل کو پہنچادیں گی تو اس سے نبی کا معجزہ حاصل ہوجائے گا (تہافت فلاسفہ للغزالی ص 68 طبع مصر

حضرت امام غزالی رحمہ اللہ کی یہ عبارت اس بات کو واشگاف کرتی ہے کہ معجزہ دراصل فی الجملہ مادہ اورعلت و سبب سے وابستہ ہے یہ الگ بات ہے کہ عام طور پر جتنا وقت غیر خارق عادات امور کے لئے درکار ہوتا ہے وہ وقت خرق عادات اور معجزہ کے لئے ضروری نہیں ہے اور اس اقل وقت کی کوئی حد نبندی نہیں کی جاسکتی ... امام موصوف کے اس اشارہ کا سائنس کے اس ترقی یافتہ اور ایٹمی دور میں کسیے انکار کیا جاسکتا ہے ؟جب آنا فانا مصنوعی بادلوں سے مینہ برسایا جاسکتا ہے اور ایٹمی آلات اور سائنس کی قوت سے بہت مختصر وقت میں فصلیں پکائی جاسکتیں ہیں اور مصنوعی طریقہ پر بڑی سرعت کے ساتھ چوزے حاصل کئے جاسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ

علامہ ابن رشد ابو لید محمد بن احمد الاندلسی المالکی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 595 ھ) لکھتے ہیں :
جس چیز کا کہنا واجب اور ضروری ہے وہ یہ ہے کہ معجزات کے مبادی الہی امور ہیں جو انسانی عقول سے بالاتر ہیں سو ان کے اسباب معلوم نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ تم قد ماء میں سے کسی کو نہ پاو گے جس نے معجزات میں کلام کیا ہو حالانکہ معجزات سب عالم میں منتشر اور ظاہر ہوچکے ہیں (تہافت فلاسفہ لابن رشد (ص 124 طبع مصر)

اس عبارت میں علامہ موصوف نے تسلیم کیا ہے کہ معجزات کے اسباب کی نفی نہیں بلکہ عام عقول کو ان سے جہل ہے اور عدم علم عدم شئے کو مستلزم نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔

بس اس مختصر وضاحت کا مقصد یہی نکتہ واضح کرنا تھا کہ کہ معجزات اور کرامات مطلقا مافوق الاسباب نہیں ہوتے بلکہ معجزات اور کرامات میں غیر مادی اور غیر ظاہری اورمخفی اسباب بھی ہوتے ہیں.

برحال بجائے اس کے کہ ہم اس نکتہ پر بات کرکے کسی پیچیدگی کی طرف جائیں ... بہتر یہ ہے کہ ہم آسان اور سہل راستہ اختیار کرتے ہیں ....

اب آپ سے آسان سوال ہے کہ کیا آپ معجزات اور کرامات کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کا فعل سمجھتے ہیں ؟؟؟

نیز یہ بھی فرمائیے گا کہ کیا آپ معجزات اور کرامات پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کا تصرف اور اختیار سمجھتے ہیں ؟؟؟(یعنی جب چاہا جیسے چاہا معجزہ و کرامات ظاہر فرمادی ؟؟؟)
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-03-11), آبی ٹوکول (14-03-11)
پرانا 13-03-11, 05:16 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں

عابد صاحب کی طرف سے جواب

جی تو اسکا آسان سا جواب یہ ہے کہ جی ہاں بطور کسب معجزات و کرامات انبیاء اولیاء کا فعل ہی ہوا کرتی ہیں اور انھے اس امر پر بطور کسب کے بھرپور قدرت حاصل ہوتی ہے بالکل اسی طرح سے کہ جیسے عام مادی زندگی میں ہمیں اپنے تمام تر افعال پر بطور کسب کے تو قدرت حاصل ہے مگر ان کسائب پر مرتب ہونے والے اخروی اور حتمی نتائج اللہ پاک کے فعل خلق و ایجاد کے ہی رہین ہوتے ہیں فرق فقط اتنا ہے کہ ایک عام انسان کا اکتساب فقط امور عادیہ کے بطور ہی نتیجہ خیز ہوتا ہے جبکہ انبیاء و اولیاء کا کسب معجزہ و کرامت امور غیر عادیہ کے بطور نتیجہ خیز ہوا کرتا ہے لہذا ان دونوں امور میں بطور کسب و اختیار کے کوئی فرق نہیں سوائے اس کے انبیاء و اولیاء کے فعل کسب میں ایک خاص ملکی قوت اللہ پاک نے رکھ دی ہوتی ہے اور جب وہ اس قوت کو بطور کسب کے استعمال کرتے ہیں تو نتیجتا اللہ پاک ان کے ہاتھوں پر امور غیر عادیہ کی صورت میں افعال کو تخلیق کرتا ہے کہ جسے عموم میں خرق عادت یا معجزہ یا کرامت کہہ دیا جاتاہے ۔۔۔
لہذا ثابت یہ ہوا کہ جس طرح ہم اور ہمارے اعمال بحیثیت کسب ہمارے افعال کہلاتے ہیں مگر ہمارے ان افعال کے جو نتائج ہوتے ہیں وہ رہین ہوتے ہیں اللہ کے فعل خلق و ایجاد کے یعنی ہمارے کسائب سے جو نتائج مرتب ہوتے ہیں وہ مرہون منت ہیں اللہ کے فعل خلق و ایجاد کے بالکل اسی طرح معجزہ اور کرامت میں* بھی اولیاء اللہ کا خصوصی کسب ہی زیر قدرت انبیاء و الیاء کے ہوتا ہے نیز اس پر بھی نتائج بطور حتمی نتیجہ کے بارگاہ الہٰی سے ہی بطور خلق و ایجاد کے مرتب ہوتے ہیں امید ہے آپکو آپکے دونوں سوالوں کا جواب مل گیا ہوگا اور ابکی بار آپ بغور عبارت پڑھ کر ہی کوئی سوال کریں گے ہمیشہ کی طرح لایعنی اور بے جا طوالت والی پوسٹنگ کرکے ہمیں بور نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام

ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (14-03-11)
پرانا 13-03-11, 05:16 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


معزز قارئین کرام!
اس سے قبل ہم عابد صاحب کے موقف کی وضاحت کریں ۔۔۔۔۔ ضروری ہے کہ آپ حضرات کے سامنے لفظ "معجزہ" کی وضاحت پیش کردی جائے
معجزہ لغةً عجز سے مشتق ہے جو قدرت کی ضد ہے ۔
معجزہ کے اند ر عجز کو پیدا کرنے والا اور فی الحقیقت منکروں کو عاجز کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔۔۔اور معجزہ صرف اللہ تعالیٰ کا فعل ہے نبی کے ہاتھ پر صادر ہوتا ہے ،مگر نبی کا اس میں کچھ عمل دخل نہیں ہوتا ۔
چناچہ ملاعلی قاری ر حمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ” معجزہ عجز سے (مشتق ) ہے جو قدرت کی ضد ہے اور تحقیقی بات صرف یہ ہے کہ معجزہ وہ ہے جو غیر کے اندر عجز کا فعل پیدا کرے اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس ہے“(مرقاة ہامش مشکوة ج 2 ص 350)
ابن حجرعسقلانی ر حمتہ اللہ علیہ (المتوفی 852ھ) کہتے ہیں کہ ”اور معجزہ کو اس لئے معجزہ کہا جاتا ہے کہ جن کے پاس وہ پیش کیا جاتا ہے وہ اس کے معارضہ سے عاجز آجائے
نیز فرماتے ہیں کہ ”آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا مشہور ترین معجزہ قرآن کریم ہے “(فتح الباری ج 6 ص 424)
حافظ کمال الدین ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”معجزہ جب ایسی چیز ہے کہ اُس کے صادر کرنے سے مخلوق عاجز ہے تو معجزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہوگا “(المسائرہ ج 2 ص 89 مع المسامرہ)
رئیس متکلمین قاضی ابو بکر ابن الطیب الباقلانی ر حمتہ اللہ علیہ (المتوفی 403ھ) لکھتے ہیں کہ ”فعل معجزہ کی حقیقت میں ہمارے اس قول کا مطلب کہ قرآن معجز ہے ہمارے اس اصول پر ہے کہ بندے اس پر قادر نہیں ہیں اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ معجزہ جو صدق نبی پر دلالت کرتا ہے اس کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ بندوں کی قدرت کے تحت داخل ہے بلکہ معجزہ کی قدرت پر صرف اللہ تعالیٰ ہی منفرد ہے بھلا یہ کیسے جائز اور صحیح ہے جو یہ کہا جائے کہ بندے اس چیز سے عاجز ہوگئے جس پر ان کا قادر ہونا ہی محال ہے (پھر آگے فرمایا ) اور یہی حال تمام انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام کے معجزات کا (کہ وہ بھی داخل تحت قدرة العباد نہیں ) اعجاز القرآن (برہامش التقان ج 2 ص 186
علامہ قاضی عیاض بن موسیٰ بن عیاض المالکی ر حمتہ اللہ علیہ (المتوفی 544ھ) لکھتے ہیں کہ ”جاننا چاہیے کہ جو (خرق عادت ) چیز انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام کے ہاتھ پر صادر ہوتی ہے اس کو اس لئے معجزہ کہتے ہیں کہ مخلوق اس کے ظاہر کرنے سے عاجز ہوتی ہے اور جب مخلوق اس سے عاجز ہوتی ہے تومعلوم ہوا کہ معجزہ خالص خدا تعالیٰ کا فعل ہی ہوگا جو نبی کی صداقت کی واضح دلیل ہے (پھر آگے فرمایا) جیسے مردوں کا زندہ کرنا اور لاٹھی کوسانپ بنا دینا اور پتھر سے اوٹنی کا نکالنا اور درخت کا کلام کرنا اور انگلیوں سے پانی کا ابل پڑنا اور چاند کا پھٹ جانا (وغیرہ ) یہ ایسی چیزیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی اور سے ان کا ہونا ممکن ہی نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو نبی کے ہاتھ پر صادر ہوتا ہے اور نبی علیہ السلام نے مکذبین کو چیلنج کر کے ان کو اس فعل کے صادر کرنے سے عاجز کردیا “(شفاءص 122)
بزرگوں کے یہ تمام اقوال صراحت سے اس چیز کو واضح کرتے ہیں کہ معجزہ نبی کا فعل نہیں بلکہ خالص اللہ رب العزت کا فعل ہے ۔۔۔جو نبی کی صداقت کی دلیل کے طور پر انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام کے ہاتھ پر صادر ہوتے ہیں ۔۔۔۔اور اگر بالفرض عابد عنایت صاحب کا سمجھنا درست سمجھ بھی لیا جائے کہ” معجزہ کو نبی کا فعل کہہ سکتے ہیں اور ان کا فعل و اختیار سے صادر ہوتا ہے “
تو اس لحاظ سے کہ جیسا کہ حافظ ابن حجر ر حمتہ اللہ علیہ وغیرہم نے آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے مشہور ترین معجزہ ”قرآن کریم “ کا ذکرفرمایا ۔۔تو لازم آئے گا کہ (معاذ اللہ ) قرآن کریم جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسب و فعل اور اختیارسے بنایا تھا ؟؟
جبکہ اس چیز کا فریق مخالف خود بھی قائل نہیں ۔۔۔لہٰذا یہ بات اوپر پیش کئے گئے بزرگوں کے اقوال اور قرائن سے واضح طور پر صاف ہوجاتی ہے کہ ”معجزہ “ نبی کا فعل نہیں ۔۔۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو نبی کی صداقت کے طور پر نبی کے ہاتھ پر صادر ہوتاہے ۔

معزز قارئین کرام !
اوپر پیش کی گئیں بزرگوں کی عبارتیں اپنی وضاحتیں خود کررہی ہیں ۔۔۔۔ جن سے عابد صاحب کے موقف کی واضح طور پر نفی ہورہی ہے ۔۔۔۔ لیکن جیسا کہ عابد صاحب اپنی عادت شریفہ کے مطابق قلابازیاں کھا کر ’’ذاتی عطائی‘‘ یا ’’حقیقی مجازی‘‘ کے الفاظوں کو لے کر اپنے فلسفہ سے مفہوم الٹ پلٹ فرمائیں بہتر یہ ہوگا کہ ہم حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ واضح اور صریح قول بھی پیش کردیں جس سے عابد صاحب کو قلابازیاں کھانے کا موقعہ نہ ملے سکے
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ ”معجزہ نبی کا فعل نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جس کو نبی کے ہاتھ پر وہ ظاہر کرتا ہے بخلاف دیگر افعال کے کہ ان میں کسب بندہ کی طرف سے ہوتا ہے مگر معجزہ میں کسب بھی بندہ کی طرف سے نہیں ہوتا (مدارج النبوة ج 2 ص 114)
معزز قارئین کرام ! ان شاء اللہ تعالیٰ اگلے مرحلے میں ہم معجزات اور کرامات پر اختیار کے حوالے سے وضاحت پیش کریں گے سردست ہمیں عابد صاحب کی طرف سے جواب کا انتظار رہے گا

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-03-11), ارشد کمبوہ (15-03-11)
پرانا 13-03-11, 05:18 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


معزز قارئین کرام !
ہماری اوپر والی پوسٹ کے جواب میں عابد صاحب نے (ہمارے سوال سے)چند غیر متعلقہ نکات بھی شامل پوسٹ فرمادئیے تھے ۔۔۔۔ جو ہم نہیں پوسٹ کررہے۔۔۔ باقی جو جواب ہمارے سوال پر عابد صاحب نے دیا وہ ہم پوسٹ کررہے ہیں:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
[B]

پھر وہی فضول کی لایعنی بحث جبکہ ہمارا ایسا کوئی دعوٰی ہی نہیں تھا کہ ہم پر یہ ساری تفصیلات بطور اعتراضات کے پیش کی جاتیں ۔۔ ۔ آپ تو فقط معجزہ کی بات کرتے ہیں جبکہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ ایک عام آدمی جو بھی فعل کرتا ہے اس کا حصہ اس فعل میں فقط بطور کاسب ہے کہ ہے لہذا اس کے اس فعل کو بطور کسب کہ انجام دینے تک تو اس کا عمل دخل ہے کہ اسکو اسکا اختیار دیا گیا ہے لیکن اس پر اثرات اور نتیجتا فعل کے اپنے انجام کو پہنچنے کا جو عمل ہے وہ اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے کہ وہ ہی اپنی قدرت سے مخلوق کے کسب کیئے گئے ان افعال پر اثرات مرتب فرماتا ہے لہزا یہی وجہ تھی کہ آپکے اس سوال کہ۔۔
۔۔۔۔
اب آپ سے آسان سوال ہے کہ کیا آپ معجزات اور کرامات کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کا فعل سمجھتے ہیں ؟؟؟
نیز یہ بھی فرمائیے گا کہ کیا آپ معجزات اور کرامات پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کا تصرف اور اختیار سمجھتے ہیں ؟؟؟(یعنی جب چاہا جیسے چاہا معجزہ و کرامات ظاہر فرمادی ؟؟؟


کہ جواب میں ہم نے صاف صاف عرض کردی تھی کہ ۔۔۔
جی تو اسکا آسان سا جواب یہ ہے کہ جی ہاں بطور کسب معجزات و کرامات انبیاء اولیاء کا فعل ہی ہوا کرتی ہیں اور انھے اس امر پر بطور کسب کے بھرپور قدرت حاصل ہوتی ہے بالکل اسی طرح سے کہ جیسے عام مادی زندگی میں ہمیں اپنے تمام تر افعال پر بطور کسب کے تو قدرت حاصل ہے مگر ان کسائب پر مرتب ہونے والے اخروی اور حتمی نتائج اللہ پاک کے فعل خلق و ایجاد کے ہی رہین ہوتے ہیں فرق فقط اتنا ہے کہ ایک عام انسان کا اکتساب فقط امور عادیہ کے بطور ہی نتیجہ خیز ہوتا ہے جبکہ انبیاء و اولیاء کا کسب معجزہ و کرامت امور غیر عادیہ کے بطور نتیجہ خیز ہوا کرتا ہے لہذا ان دونوں امور میں بطور کسب و اختیار کے کوئی فرق نہیں سوائے اس کے انبیاء و اولیاء کے فعل کسب میں ایک خاص ملکی قوت اللہ پاک نے رکھ دی ہوتی ہے اور جب وہ اس قوت کو بطور کسب کے استعمال کرتے ہیں تو نتیجتا اللہ پاک ان کے ہاتھوں پر امور غیر عادیہ کی صورت میں افعال کو تخلیق کرتا ہے کہ جسے عموم میں خرق عادت یا معجزہ یا کرامت کہہ دیا جاتاہے ۔۔۔لہذا ثابت یہ ہوا کہ جس طرح ہم اور ہمارے اعمال بحیثیت کسب ہمارے افعال کہلاتے ہیں مگر ہمارے ان افعال کے جو نتائج ہوتے ہیں وہ رہین ہوتے ہیں اللہ کے فعل خلق و ایجاد کے یعنی ہمارے کسائب سے جو نتائج مرتب ہوتے ہیں وہ مرہون منت ہیں اللہ کے فعل خلق و ایجاد کے بالکل اسی طرح معجزہ اور کرامت میں* بھی اولیاء اللہ کا خصوصی کسب ہی زیر قدرت انبیاء و الیاء کے ہوتا ہے نیز اس پر بھی نتائج بطور حتمی نتیجہ کے بارگاہ الہٰی سے ہی بطور خلق و ایجاد کے مرتب ہوتے ہیں امید ہے آپکو آپکے دونوں سوالوں کا جواب مل گیا ہوگا اور ابکی بار آپ بغور عبارت پڑھ کر ہی کوئی سوال کریں گے ہمیشہ کی طرح لایعنی اور بے جا طوالت والی پوسٹنگ کرکے ہمیں بور نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔

اب آپ ہی بتلایئے کہ اس ساری بحث میں کہاں ہم نے معجزہ کو فعل مخلوق کہا ہے کہ جس پر آپ نے اتنی لایعنی پوسٹنگ کردی ہم نے تو صاف صاف عرض کردی تھی کے معجزہ یا کرامت کے ظہور میں بطور نتائج کے انبیاء و اولیاء کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بالکل اسی طرح کہ جس طرح عام زندگی میں مادی امور کے تحت انجام دیئے گئے ہمارے افعال میں نتائج کے ظہور پذیر ہونے کہ اعتبار سے ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں اقسام کے معاملات میں نتائج کا ظہور فقط اللہ ہی کے فعل خلق و ایجاد و قدرت کے زیر تسلط ہے فقط فرق یہ ہے کہ عام انسان مادی امور میں بطور کاسب کے شامل فعل ہوتا ہے لہذا اس پر اس فعل میں شمولیت پر بطور مجاز اطلاق کیا جاتا ہے کہ فعل اس نے انجام دیا بالکل اسی طرح انبیاء و اولیاء معجزہ یا کرامت کے ظہور میں بطور کاسب کے شامل فعل ہوتے ہیں اور ان پر بطور مجاز کے بحیثیت کاسب اس فعل کا اسناد کردیا جاتا ہے کہ جیسے کہ اوپر قرآن کی آیت اور حدیث مبارکہ سے بھی ہم اپنے اس دعوٰی کا ثبور دے چکے ۔ ۔ ۔لہذا اب جو یہ کہے کہ معجزہ یا کرامت میں نبی یا ولی کے کسب کو بھی دخل نہین ہوتا اس کا ایسا کہنا قرآن اور سنت کے صریحا خلاف ہے اور کوئی بڑی ہستی ایسا کہہ رہی ہے یا تو اس کی عبارت کو سمجھنے میں ہم سے تسامح ہوا ہے یا پھر ان سے اس مسئلہ میں تسامح ہوا ہے ۔ ۔ کیونکہ اس پر بطور کاسب قرآن و سنت سے بے شمار نصوص واضح ہیں ۔۔۔

ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (14-03-11)
پرانا 13-03-11, 05:19 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معزز قارئین کرام !
ہمیں غیر ضروری لایعنی پوسٹ کے طعنے دینے والے صاحب نے اپنی اس آخری پوسٹ(پوسٹ نمبر 174 اور 175 صفحہ نمبر 12) میں کیا کمالات پیش فرمائے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے۔
ہمیں یاد دلاتے رہے کہ اصل نزاعی مسئلہ کیا ہے ؟؟؟ اور خود بھول بیٹھے کہ اس وقت کس نکتہ پر بات ہورہی ہے .... اور غیر ضروری طوالت اختیار کرتے ہوئے غیر متعلقہ نکات کو شامل پوسٹ فرمالیا؟؟؟
جبکہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ جب جس نکتہ کی باری آئے گی اُسی موقعہ پر بات ہوگی لیکن ہمیں ناسمجھی کا طعنہ دینے والے کی سمجھ ملاحظہ فرمائیں ؟؟؟
لہذا ہم (ہماری پچھلی پوسٹ کے نکات سے)غیر متعلقہ نکات پر سوال جواب کرکے بات چیت کو غیر ضروری طور پر طول دینے کے بجائے ٹو دی پوائنٹ اپنے مطلوبہ سوال پر عابد صاحب کے جواب کی وضاحت کردیتے ہیں....باقی پچھلی پوسٹ سے غیر متعلقہ نکات لیکن جو اصل موضوع سے متعلقہ ضرور ہیں اُن کی وضاحت ان شاء اللہ مناسب موقعہ پر پیش کردیں گے.... سردست ہمارے پچھلی پوسٹ سے متعلقہ نکات پر عابد صاحب کے دئیے گئے جواب کی وضاحت پیش خدمت ہے.
(یہ انتہائی اہم ترین وضاحت پر مشتمل ہے اس لئے تفصیل سے وضاحت کرنا ناگزیر تھا اس لئے ایڈوانس معذرت)

معزز قارئین کرام !
جیسا کہ ہم نے اپنے سابقہ تجربہ کی بنیاد پر عابد صاحب کی قلابازیوں پر پہلے ہی پیشن گوئی کردی تھی ۔۔۔۔۔ تمام قارئین کرام عابد صاحب کی اس پوسٹ کے بعد باآسانی ہماری پیشن گوئی کی صداقت کو ملاحظہ فرماسکتے ہیں ۔۔۔۔ جس سے یقینا تمام غیر جانبدار قارئین کرام کو عابد صاحب کے دلائل کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہوگی۔۔۔۔۔ کہ ایک شخص کے لئے لفظوں کے جال بچھا کر دوسروں کو جاہل،لایعنی،بھونڈہ ناسمجھ وغیرہ کہہ کر ادھر ادھر بھاگنا کتنا آسان ہے

معزز قارئین کرام !
جیسا کہ عابد صاحب کا کہنا ہے کہ
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں

"ایک عام آدمی جو بھی فعل کرتا ہے اس کا حصہ اس فعل میں فقط بطور کاسب ہے کہ ہے لہذا اس کے اس فعل کو بطور کسب کہ انجام دینے تک تو اس کا عمل دخل ہے کہ اسکو اسکا اختیار دیا گیا ہے لیکن اس پر اثرات اور نتیجتا فعل کے اپنے انجام کو پہنچنے کا جو عمل ہے وہ اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے
اسی طرح عابد صاحب معجزات اور کرامات کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کا فعل سمجھتے ہیں اور حتمی نتائج کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں۔

عابد صاحب کے اس جواب میں کون سی ایسی خاص بات ہے جس کو ہم اپنے سوال کی وضاحت سمجھیں ؟
جب یہ بات پہلے ہی طے شدہ ہے... اور بالکل عام ہے .... نہ جس پر کوئی نزاع ہے اور نہ ہی موضوع بحث ہے....تو پھر عابد صاحب "حقیقی مجازی" سے کیا ثابت فرماناچاہتے ہیں ؟
ہمارا تو نزع ہی یہ ہے کہ عابد صاحب "معجزات اور کرامات" کو انبیاء کرام کا فعل سمجھتے ہیں (گر چہ مجازا ہی کیوں نہ ہو)اور عابد صاحب "معجزات اور کرامات کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے کسب اور اختیار و قدرت کا حاصل سمجھتے ہیں ۔
اور یہی ہمارا عابد صاحب سے اصل اختلاف ہے ۔۔۔۔ جس کی وضاحت میں ہم نے اپنی پچھلی پوسٹ میں بزرگان دین کے حوالاجات پیش کئے ۔۔۔۔۔ پھر عابد صاحب نے ہماری وضاحت کا کیا جواب دیا آپ کے سامنے ہے

ملاحظہ فرمائیں دنیا کو ناسمجھی کا طعنہ دینے والے کی سمجھ

معزز قارئین کرام!
یہاں ہم یہ واضح کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارا نزع "معجزات" یا "کرامات" کا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کے ہاتھوں پر صدور ہونے پر نہیں ہے ۔۔۔۔ بلکہ ہمارا اصل نزاع "معجزات" اور "کرامات" کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کا فعل سمجھنے اور ان پر اختیار و قدرت رکھنے پر ہے ۔۔۔۔ چاہے کوئی "مجازا" ہی کیوں نہ کہتا ہو۔
اور اسی نکتہ پر ہم نے عابد صاحب سے سوالات کئے جس پر جب عابد صاحب کے اقرار کے بعد ہم نے بزرگوں کے حوالاجات سے عابد صاحب کی غلط فہمی کی نشادہی کی تو جوابا عابد صاحب نے ہمارا نکتہ نظر اور اختلاف سمجھے بغیر کچھ غیر متعلقہ نکات کو شامل پوسٹ فرما کر ہمارے اصل نکتہ کا محض اتنا جواب دیا کہ:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں

اب آپ ہی بتلایئے کہ اس ساری بحث میں کہاں ہم نے معجزہ کو فعل مخلوق کہا ہے کہ جس پر آپ نے اتنی لایعنی پوسٹنگ کردی ہم نے تو صاف صاف عرض کردی تھی کے معجزہ یا کرامت کے ظہور میں بطور نتائج کے انبیاء و اولیاء کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بالکل اسی طرح کہ جس طرح عام زندگی میں مادی امور کے تحت انجام دیئے گئے ہمارے افعال میں نتائج کے ظہور پذیر ہونے کہ اعتبار سے ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں اقسام کے معاملات میں نتائج کا ظہور فقط اللہ ہی کے فعل خلق و ایجاد و قدرت کے زیر تسلط ہے فقط فرق یہ ہے کہ عام انسان مادی امور میں بطور کاسب کے شامل فعل ہوتا ہے لہذا اس پر اس فعل میں شمولیت پر بطور مجاز اطلاق کیا جاتا ہے کہ فعل اس نے انجام دیا بالکل اسی طرح انبیاء و اولیاء معجزہ یا کرامت کے ظہور میں بطور کاسب کے شامل فعل ہوتے ہیں اور ان پر بطور مجاز کے بحیثیت کاسب اس فعل کا اسناد کردیا جاتا ہے
یعنی عابد صاحب نے معجزات اور کرامات کو مخلوق کا فعل کہا تھا تو مجاز کے طورپر جبکہ بطور نتائج کے انبیاء کرام اور اولیاء کرام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔(جس کی مزید تصریح اس طرح فرماتے ہیں) جیسا کہ عام زندگی میں مادی امور کے تحت انجام دئیے گئے ہمارے افعال میں نتائج کا ظہور پذیر ہونے کے اعتبار سے ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا"
جس کے بعد ہر قاری ہی عابد صاحب کا موقف باآسانی سمجھ سکتا ہے (ہاں یہ الگ بات ہے کہ اگلی پوسٹ میں عابد صاحب پھر قلابازیاں نہ کھائیں)

معزز قارئین کرام !
یہ تکلف بھی عابد صاحب نے اس لئے فرمایا کیوں کہ ہم نے بزرگان دین کے اقوال پیش کئے جن میں صراحت سے یہ بات واضح تھی کہ "معجزات" خالص اللہ تعالیٰ کا فعل ہے ۔
لیکن عابد صاحب یہ بھول گئے کہ ہم سے سینکڑوں گنا زیادہ علم رکھنے والے یہ بزرگان دین "مجازی اور حقیقی" کا فرق ہم سے بہت بہتر طور پر سمجھتے تھے ۔۔۔۔ پھر بزرگوں نے معجزات کے لئے خاص طور پر خالص اللہ تعالیٰ کا فعل بیان فرما کر کون سا نکتہ سمجھانے کی کوشش کی ہے ??۔

محترم قارئین کرام .... بات بالکل واضح ہے کہ بزرگوں نے معجزات کو خاص اللہ تعالیٰ کا فعل بیان فرما کر یہ نکتہ واضح فرمایا ہے کہ "معجزات" میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا کسب و اختیار شامل نہیں .... جیسے عام زندگی میں لوگوں کا افعال میں کسب و اختیار ہوتا ہے۔
اسی چیز کی وضاحت حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے صراحت کے ساتھ بیان فرمائی کہ "معجزہ نبی کا فعل نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جس کو نبی کے ہاتھ پر وہ ظاہر کرتا ہے بخلاف دیگر افعال کے کہ ان میں کسب بندہ کی طرف سے ہوتا ہے مگر معجزہ میں کسب بھی بندہ کی طرف سے نہیں ہوتا (مدارج النبوة ج 2 ص 114)
جس پر عابد صاحب نے آسان جواب فرمادیا کہ یا تو ان سے مسئلہ سمجھنے میں تسامح ہوا ۔۔۔۔ یا پھر شیخ صاحب کی عبارت سمجھنے میں تسامح ہوا ہے

لیکن بڑی دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ دوسری طرف اسی سے ملتا جلتاعابد صاحب کے اعلیٰ حضرت بھی فرماتے ہیں :
عرض : کسی کی کرامت کسبی بھی ہوتی ہے
ارشاد : کرامت سب کی وہبی ہوتی ہے اور وہ جو کسب سے حاصل ہو بھان متی کا تماشہ ہے لوگوں کو دھوکہ دینا ہے
(بلفظ ملفوظات حصہ چہارم ص 13اولڈ ایڈیشن)
(یہاں واضح رہے کہ "فی شرح العقائد ص 60 میں لکھا ہے کہ "ولکسب مقدور وقع فی محل قدرتہ "یعنی کسب اس مقدور کا نام ہے جو محل قدرت میں واقع ہو)

ہوسکتا ہے کہ اعلیٰ حضرت صاحب کو بھی سمجھنے میں تسامح ہوا ہو ؟؟؟؟۔۔۔ لیکن عابد صاحب کا موقف ہر قیمت پر درست ہے جس میں ہرگز غلطی نہیں ہوسکتی
بہرحال عابد صاحب کم از کم ہمیں اور قارئین کرام کو یہ ضرور واضح فرمادیں کہ بزرگوں کا "معجزات" کو خالص اللہ تعالیٰ کا فعل بیان فرما کر کون سے نکتہ واضح فرمانے کی کوشش کی ہے ؟؟؟

معزز قارئین کرام !
ہم نے اپنی وضاحت کے دوران یہ بھی لکھا تھا کہ:
اگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے معجزات کو نبی کا فعل کہا جاسکتا ہے اور نبی کو معجزات میں کسب اختیار و قدرت رکھنے کا نظریہ درست تسلیم کر بھی لیا جائے ۔۔۔۔ تو اس لحاظ سے کہ جیسا کہ حافظ ابن حجر ر حمتہ اللہ علیہ وغیرہم نے آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے مشہور ترین معجزہ ”قرآن کریم “ کا ذکرفرمایا ۔۔تو لازم آئے گا کہ (معاذ اللہ ) قرآن کریم جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسب و فعل اور اختیارسے بنایا تھا ؟؟
جبکہ اس چیز کا فریق مخالف خود بھی قائل نہیں ۔۔۔لہٰذا یہ بات اوپر پیش کئے گئے بزرگوں کے اقوال اور قرائن سے واضح طور پر صاف ہوجاتی ہے کہ ”معجزہ “ نبی کا فعل نہیں ۔۔۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو نبی کی صداقت کے طور پر نبی کے ہاتھ پر صادر ہوتاہے ۔

اس کا عابد صاحب کے پاس کیا جواب ہے نہ پوچھیے

بہرحال یہ گھتیاں تو عابد صاحب ہی سلجھائیں گے

لیکن کم از کم یہ بات تو واضح ہے کہ عابد صاحب معجزات اور کرامات کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کے لئے بطور کسب ایسا سمجھتے ہیں جیسا کہ عام زندگی میں لوگ امور عادیہ کے تحت اپنے افعال پر قدرت رکھتے ہیں

آئیے چند مثالیں دیکھتے ہیں کہ آیا کہ "معجزات" میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ*والسلام کے کسب کا عمل دخل ہے یا نہیں ؟؟؟
(1)
ایک مخصوص واقعہ کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگا کا گلزار ہونا ۔۔۔۔ یہ ان کا معجزہ تھا مگر اُس کے ٹھنڈا اور گلزار کرنے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کوئی اثر اور دخل نہ تھا بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل اور احسان تھا جو اللہ تعالیٰ نے ظاہر اور صادر فرمایا ۔۔۔۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ الخ الانبیاء 69 یعنی ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر
یعنی تکوینا آگ کو حکم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی ہوجا لیکن اس قدر ٹھنڈی نہیں کہ ٹھنڈ سے تکلیف پہنچے بلکہ ایسی معتدل اور خوشگوار ٹھنڈک جو جسم و جان کو سرور پہنچائے
قرآن کریم کی یہ آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آگ کا ٹھنڈا کرنا اللہ تعالیٰ کا کام تھا ،اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کوئی دخل نہ تھا ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "اگر اللہ تعالیٰ "وسلما" کا حکم صادر نہیں فرماتا تو آگ کی ٹھنڈک سے حضرت ابراھیم علیہ السلام کو اذیت پہنچتی (تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 284)
معلوم ہوا کہ نہ تو آگ کو ٹھنڈا کرنا حضرت ابراھیم علیہ السلام کا کام تھا اور نہ ٹھنڈک کو اعتدال پر قائم رکھنا ان کا کام تھا بلکہ بحکم خدا تھا۔

(2)
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام جو معجزات کو جو معجزات عطاء فرمائے اُن میں ایک معجزہ "عصا" بھی تھا ۔۔۔۔ چناچہ اسی مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ " وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ الخ یعنی اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا
یعنی پہلے لاٹھی پتلا سانپ بن جاتی اور بڑھتے بڑھتے اژدہا کی شکل اختیار کرلیتی تھی جیسا کہ دوسرے مقام پر "ثعبان مبین"(بڑا اژدہا)کے الفاظ آئے ہیں ۔۔۔۔ یا کوہ طور پر پتلا سانپ اور فرعون کے پاس بڑا اژدہا ہوکر وہ لاٹھی نمودار ہوائی کچھ بھی ہو مطلب بالکل واضح اور صاف ہے ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر معجزہ نبی کا فعل اپنا ہوتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کبھی خوف سے نہ بھاگتے ،کیوں کہ اگر خود ہی انہوں نے اپنی لاٹھی کا سانپ بنایا ہوتا تو اپنے فعل کی تاثیر اور اُس کے نتیجہ سے بخوبی واقف ہوتے اور ڈرنے بھاگنے کی ہرگز ضرورت نہ پیش آتی ۔۔۔ مگر حضرت موسی علیہ السلام اس پہلے موقع پر سانپ سے خوفزدہ ہوکر بھاگ نکلے حتی کہ ارشاد ہوا کہ :قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا الْأُولَىٰ الخ (طہ 21 )یعنی فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کام اور فعل صرف یہی تھا کہ اس اژدہا کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کو پہلی حالت پر لاٹھی بنادینا یہ خدا تعالیٰ کا کام تھا اور اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کچھ بھی دخل نہ تھا

(3)
۔آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم جب اسراء اور معراج کے سفر سے واپس تشریف لائے اور اس کی اطلاع ہر خاص و عام کو ہوئی تو مشرکین مکہ نے امتحانا آپ سے بیت المقدس کی چند علامتیں دریافت کیں ۔آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہ تھیں اور نہ میںان کو گننے کے لئے گیا تھا اور نہ میرے اس سفر کی غرض و غایت ہی یہ تھی ۔آپ نے فرمایا کہ میں اس موقع پر اتنا پریشان ہوا کہ اتنا پریشان کبھی نہیں ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو اٹھا کر میرے سامنے پیش کردیا مجھے سے وہ جو کچھ بھی پوچھتے جارہے تھے میں دیکھ کر بتلاتا جارہا تھا (مسلم ج 1 ص 96) (ابو عوانہ ج 1 ص 131)
اور بخاری شریف میں یوں آتا ہے :
آپ نے فرمایا کہ جب قریش نے میری تکذیب کی تو میں مقام حجر میں کھڑا ہوگیا پس اللہ تعالیٰ نے بیت القدس میرے سامنے روشن طور پر پیش کردیا وہ مجھ سے جو کچھ بھی سوال کرتے جاتے تھے اس کو دیکھ دیکھ کر ان کو بتلاتا جاتا تھا (بخاری ج 2 ص 684) (بخاری ج 1 ص 54
بیت المقدس کا حسی یا مثالی طور پر آپ کے سامنے پیش کئے جانا آپ کا واضح ترین معجزہ تھا ۔۔۔ اگر یہ آپ کا اپنافعل ہوتا اور اس میں آپ کے کسب و اختیار کا کچھ دخل ہوتا تو آپ کو اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت تھی ?
اور پریشانی بھی معمولی نہیں بلکہ ایسی کھلی اور عیاں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ "ایسی پریشانی مجھے کبھی نہیں پیش آئی "۔۔۔۔ اس سے بھی بالکل معاملہ صاف ہوتا ہے کہ معجزہ نبی کا اپنا اختیاری فعل نہیں ہوتا

(4)
۔ حضرت آصف برخیا کی کرامت :
امام جلال الدین رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ "یعنی میں لادوں گا وہ تخت اس سے قبل کہ آپ کی طرف پھر آئے نگاہ آپ کی یعنی جب آپ کسی چیز کو دیکھیں تو آپ کی نگاہ واپس نہیں لوٹے گی کہ تخت آپ کے سامنے ہوگا ۔۔آصف نے کہا آسمان کو دیکھیے انہوں نے نگاہ اٹھائی اور پھر نگاہ واپس کی تو تخت ان کے پاس رکھا ہوا تھا جس وقت انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو آصف نے اس وقت اسم اعظم سے دعا کی کہ یا اللہ وہ تخت لادے چناچہ وہ قدرت خداوندی سے زمین کے نیچے سے چلتا ہوا حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے پاس آٹکا (جلالین ص 321)
اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ آصف کا لانا بایں معنی تھا کہ انہوں نے اسم اعظم کی برکت سے بارگاہ ایزدی میں التجا کی تھی اور اللہ رب العزت کی جناب میں اس دعا کو شرف قبولیت حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے وہ تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے پاس لاکھڑا کیا۔
اورحافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ آصف نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو یمن کی طرف جس میں وہ مطلوب تخت تھا دیکھنے کو کہا پھر آصف کھڑا ہوا اور وضو کرکے اللہ تعالیٰ سے دعاکی ۔۔۔۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آصف نے ان الفاظ سے دعا کی تھی اے ذوالجلال والاکرام اور زہری کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ اے ہمارے الہ اور ہر چیز کے الہ تو ہی تنہا الہ اور مشکل کشا ہے بلقیس کا تخت ہمیںلادے چناچہ دیکھا تو تخت سامنے موجود تھا ۔۔۔۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ ابن اسحق رحمتہ اللہ علیہ زہیر بن محمدرحمتہ اللہ علیہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ آصف نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور یہ سوال کیا کہ بلقیس کا تخت ان کو لادے اور وہ تخت ملک یمن میں تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام بیت المقدس میں تھے چناچہ وہ تخت وہاں سے غائب ہوکر زمین کے نیچے چلتا ہو حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے آموجود ہوا (تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 364)
اس سے صاف ظاہر ہوا کہ یہ کرامت بلا شک حضرت آصف کے ہاتھ پر صادر ہوئی تھی مگر تخت کا لانا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے حاضر کردینا صرف اللہ تعالیٰ کا کام تھا.

معزز قارئین کرام !
اسی طرح اس کی قرآن اورحدیث سے بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتیں ہیں ۔۔۔۔ ہم طوالت کے خوف سے انہیں پر اکتفا کرتے ہیں ....
اور اب آجائیں اس نکتہ کے سب سے اہم پہلو کی طرف ...جیسا کہ عابد صاحب ”معجزات“ پر اختیار اور قدرت رکھنے کے حوالے سے ہمارے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
"جی ہاں بطور کسب معجزات و کرامات انبیاء اولیاء کا فعل ہی ہوا کرتی ہیں اور انھے اس امر پر بطور کسب کے بھرپور قدرت حاصل ہوتی ہے بالکل اسی طرح سے کہ جیسے عام مادی زندگی میں ہمیں اپنے تمام تر افعال پر بطور کسب کے تو قدرت حاصل ہے مگر ان کسائب پر مرتب ہونے والے اخروی اور حتمی نتائج اللہ پاک کے فعل خلق و ایجاد کے ہی رہین ہوتے ہیں "
یعنی عابد صاحب کے نزدیک انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو "معجزات" پر قدرت و اختیار ایسے ہی ہے جیسا کہ عام زندگی میں لوگوں کو اپنے افعال پر اختیار و قدرت ہوتی ہے ؟؟؟
لیکن میرے محترم بھائیوں اور دوستو۔۔۔۔۔عابد صاحب کے موقف کے برعکس قرآن کریم میں صریح ارشادات سے انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام کا"معجزات" پر بے اختیار ہونا ثابت ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ الخ الانعام 109 پارہ 7
ترجمہ : ( آپ ان سے )کہدیں کہ نشانیاں (اور معجزات )تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مشرکین نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور حضرت ثمود علیہ السلام نے اوٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم بھی جو معجزہ ہمیں کہیں دکھادیں ،واللہ ہم سب آپ کی نبوت مان لیں گے ،آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا معجزہ دیکھنا چاھتے ہو ? انہوں نے کہا کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنادیں ۔۔۔ پھر تو اللہ کی قسم ہم سب آپ کو سچا جاننے لگیں گے ۔آپ کو ان کے کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ نے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی ۔وہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے سنئے اگر آپ چاہیں تو اللہ تعالیٰ اس صفا پہاڑ کو سونے کا کردے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کردے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ۔ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آجائیں ۔۔۔آپ نے فرمایا کہ نہیں میں اللہ تعالیٰ میں سونا نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر ان میں سے جسے چاہ ہدایت نصیب فرما۔۔۔اسی پر یہ آیتیں "ولکن اکثر ھم یجھلون" تک نازل ہوئیں ۔

ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزات ہمیں دکھادئیے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہوجائیں ۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ آپ کہدیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے ۔
معزز قارئین کرام یہ آیت مبارکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے معجزات پر بے اختیار ہونے پر قطعی الدلالت ہے (یعنی جس میں کوئی احتمال نہیں)

اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا ﴿٩١﴾ أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا ﴿٩٢﴾ أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا الخ بنی اسرائیل 90,94 پارہ 15
”ترجمہ :اور وہ بولے ہم نہ مانیں گے تیرا کہا جب تک تو نہ جاری کردے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ یا ہوجائے تیرے واسطے ایک باغ کجھوراور انگور کا پھر بہائے تو اُس کے بیج نہریں چلا کر ۔یا گرادے آسمان ہم پر جیسا کہ تو کہا کرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے ۔یا ہوجائے تیرے لئے ایک گھر سنہرا یا چڑھ جائے تو آسمان میں اور ہم نہ مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک کتاب جس کو پڑھیں ۔آپ کہدیں سبحان اللہ میں تو نہیں ہوں مگر بشر رسول “

تفسیر طبری میں اس آیت مبارکہ کے شان نزول میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک طویل روایت ہے .... جس کا خلاصہ ہے کہ ایک روز سورج غروب ہوجانے کے بعد قریش کے چند سردار کعبۃ اللہ کے پیچھے جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ بھئی کسی کو بھیج کر محمد(صلیٰ اللہ علیہ وسلم) کو بلوالو اور اس سے کہہ سن کر آج فیصلۃ کرلو تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے چناچہ یہ قاصد گیا اور خبر دی کہ آپ کی قوم کے اشراف لوگ جمع ہوئے ہیں اور آپ کو یاد کیا ہے ۔۔۔۔چونکہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کا ہروقت خیال رہتا تھا ،آپ کے جی میں آئی کہ بہت ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح سمجھ دے دی ہو اور یہ راہ راست پر آجائیں اس لئے آپ فورا ہی تشریف لائے۔
پھر ان فریش کے سرداروں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے مختلف مطالبہ کئے کہ اپنے رب سے دعا کیجے کہ فلاں پہاڑ ہٹادے تاکہ ہمارا علاقہ کشادہ ہوجائے،شہروں کو وسعت ہوجائے اس میں نہریں چشمے دریا جاری ہوجائیں جیسا کہ شام و عراق میں ہیں ۔۔۔۔ یا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ ایک فرشتہ آپ کے پاس بھیجے جو آپ کی باتوں کی سچائی اور تصدیق کردے اور آپ اس سے کہہ کر اپنے لئے باغات اور خزانے اور سونے چاندی کے محل بنوالیجیے تاکہ خود آپ کی حالت سنور جائے ۔۔۔۔پھر کہنے لگے کہ اچھا ہم کہتے ہیں جاو اپنے رب سے کہہ کر ہم پر آسمان گروادو تم تو کہتے ہی ہو کہ اللہ چاہے تو ایسا کردے تو ہم کہتے ہیں بس ڈھیل نہ کرو ۔۔۔۔آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار کی بات ہے جو وہ چاہے کرے جو نہ چاہے نہ کرے ۔۔۔۔ مشرکین نے کہا سنئے ،کیا اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہم تیرے پاس بیٹھے گے اور تجھ سے یہ چیزیں طلب کریں گے اور اس قسم کے سوالات کریں گے تو چاہیے تھا کہ وہ تجھے پہلے سے مطلع کردیتا اور یہ بھی بتادیتا کہ تجھے کیا جواب دینا چاہیے اور جب ہم تیری نہ مانیں تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ? سنئے ہم نے تو سنا ہے کہ آپ کو یہ سب کچھ یمامہ کا ایک شخص رحمان نامی ہے وہ سکھا جاتا ہے ،اللہ کی قسم ہم تو رحمان پر ایمان لانے کے نہیں ناممکن ہے کہ ہم اسے مانیں ہم نے آپ سے سبکدوشی حاصل کرلی جو کہناسننا تھا ،کہہ سن چکے ۔۔۔۔ پھر مجلس برخاست ہوئی عبد اللہ بن ابی،امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن مخزوم جو آپ کی پھوپھی حضرت عاتکہ بن عبدالمطلب کا لڑکا تھا ،آپ کے ساتھ ہولیا اور کہنے لگا یہ تو بڑی نامنصفی کی بات ہے کہ قوم نے جو کہا وہ بھی آپ نے منظور نہیں کیا ،پھر جو طلب کیا وہ بھی آپ نے پورا نہیں کیا ،پھر جس چیز سے آپ انہیں ڈراتے ہیں وہ مانگا وہ بھی آپ نے نہ کیا ،اب تو اللہ کی قسم میں آپ پر ایمان لاوں گا ہی نہیں جب تک کہ آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ کر کوئی کتاب نہ لائیں اور چار فرشتے اپنے ساتھ اپنے گواہ بناکر نہ لائیں ۔حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم ان تمام باتوں سے سخت رنجیدہ ہوئے ۔۔۔ گئے تو آپ بہت شوق سے تھے کہ شاید قوم کے سردار میری بات مان لیں لیکن جب ان کی سرکشی اور ایمان سے دوری آپ نے دیکھی ،بڑے ہی مغموم ہوکر واپس اپنے گھر آئے

(تفسیر طبری )
اور قاضی بیضاوی رحمتہ اللہ علیہ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
نہیں ہوں مگر ایک بشر رسول “ کا یہ مطلب ہے کہ میں دیگر انسانوں کی طرح ایک انسان اور دیگر رسولوں کی طرح ایک رسول ہوں اور وہ نبی اپنی قوم کے پاس صرف وہی نشانیاں ظاہر فرماتے تھے جو اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پر صادر فرماتا تھا جو ان کی قوم کے حال کے مناسب ہوتیں تھیں اور انبیاءکرام کے بس میں یہ نہ تھا کہ وہ معجزات صادر کرسکیں اور نہ یہ کہ اللہ تعالیٰ پر ان کا کوئی فیصلہ نافذ تھا کہ وہ اس میں اپنے اختیار سے کام لیتے “(تفسیر بیضاوی)

معزز قارئین کرام !
اس آیت مبارکہ کے شان نزول اور اس کی تفسیرسے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عابد صاحب کا "معجزات" پر اختیار و قدرت رکھنے کا گمان صریح باطل ہے.

اور کیوں نہ ہو جبکہ لفظ "معجزہ" اپنی وضاحت آپ کرتا ہے کہ جس سے ساری مخلوق عاجز ہو اور مخلوق کی عاجزی اُسی صورت ہوسکتی جب وہ وہ فعل خالص خالق کائنات کا ہو .... اور معجزات پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اختیار و قدرت رکھنے کے نظریہ سے اگر ایک طرف قرآن کریم کی صریح آیات مبارکہ کی تکذیب لازم آئے گی
تو دوسری طرف یہ نظریہ بھی سامنے آئے گا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کفار کی طرف سے مانگے گئے تمام معجزات ( جیسا کہ لفظ معجزہ کی بحث ہم پچھلی پوسٹ میں پیش کرچکے ہیں کہ وہ فعل جس کو کرنے سے مخلوق عاجز ہو)پر قدرت رکھتے تھے ۔۔۔۔ جو کہ بذات خود "خدائی اختیارات" رکھنے کا عقیدہ بن جائے گا (العیاذ باللہ تعالیٰ)

اور یہ بالکل واضح ہے کہ ایسا عقیدہ قرآن پاک کی صریح قطعی الدلالت آیات مبارکہ سے متصادم ہے

اور اعلیٰ حضرت صاحب خود فرماتے ہیں کہ "عموم آیات قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض ہرزہ بانی ہے"
اسی طرح حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : یعنی جن مسائل کا تعلق عمل سے ہے ان میں صحیح احادیث سے استدلال کرنا کافی ہے .کیوں کہ اعمال کے لئے ظنی دلائل ہی کافی ہیں لیکن جب عقائد کی باری آئے گی تو ان میں صرف وہی حدیثیں قابل قبول ہوں*گی جو صرف قطعی ہوں (فتح الباری ج 8 ص 431)

لہذا عابد عنایت صاحب نے جواخباراحاد سے "معجزات" پر اختیار و قدرت کا جو استدلال فرمایا ....یا اپنے فلسفیانہ قیاس پیش فرمائے یااپنی اگلی پوسٹ میں ایسے ہی دلائل پیش فرمائیں گے ۔۔۔۔۔ تو ہماری عابد صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اپنے امام کے قول کی روشنی میں اپنے فلسفیانہ قیاس کو تو ایک طرف رکھتے ہوئے ۔۔۔۔ اسی طرح اخبار احاد سے بھی استناد نہ فرمائیں
بلکہ عابد صاحب اپنے دعوے(معجزات اور کرامات پر مخلوق کااختیار و قدرت) پر قطعی الدلالت نص(یعنی جس میں چند اور احتمال نہ نکلتے ہوں)پیش فرمائیں.

ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے بعد یہ مسئلہ با آسانی حل ہوجائے گا ۔ فالحمدللہ

معزز قارئین کرام !
اس ساری تفصیل کے بعد آپ باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کے متعلق "معجزات" اور کرامات کے کسب اختیار و قدرت رکھنے کا عقیدہ کیوں شرک ہے ?
کیوں کہ یہی وہ چیز ہے کہ جس کی وجہ سے "مافوق الاسباب استعانت غیر اللہ " قائل کے لئے اگرایک طرف "مافوق الاسباب مدد مانگنے پر مدد مانگنے والی ہستی کا ساری دنیا میں اُس کی پکار سننے کا عقیدہ ہونا لازمی امر ہے
تو دوسری طرف ہرہر چیز پر معجزانہ یا کرامتا قدرت اوراختیار رکھنے کا عقیدہ بھی لازمی امر ہوگا ۔۔۔۔
کیوں کہ ان دو چیزوں کے بغیر مافوق الاسباب مدد مانگنے والے کی پکار فضول اور لایعنی ہے ۔۔۔۔ یعنی اگر پکارنے والا کو علم ہو کہ اُس کا مددگار اُس کی پکار نہیں سن سکتا ۔۔۔۔ یا مخصوص جگہ ہی سن سکتا ہے ۔۔۔۔ یا مخصوص معاملہ میں ہی اُس کا مددگار اُس کی مدد کرسکتا ہے تو پھر مدد مانگنے والی کی پکار لایعنی اور فضول ہی ہوگی۔
تو واضح ہوتا ہے کہ کسی شخص کا کسی ہستی کو "مافوق الاسباب مدد گار" سمجھنے سے اُس ہستی کا ساری دنیا میں ہر جگہ فریاد سننا اور ہر ہر چیز پر اختیار اور قدرت رکھنا لازم ہوتا ہے ۔
ایسا اللہ رب العزت کے سوا کون ہے جو ساری دنیا میں ہر جگہ پکارنے والے کی پکار سن سکے ??
اور ایسا قادر مطلق کے سوا کون ہے جو دنیا کی ہر ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتا ہو ??
تو اس کے بعد جو بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو "مافوق الاسباب مدد گار سمجھتا ہے وہ غیر اللہ کو ایسا سننے والا اور ہر ہر چیز پر اختیار رکھنے والا سمجھتا ہے ۔۔۔۔ پھر ایسا عقیدہ رکھنا بھی شرک نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا ?


حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
"جاننا چاہیے کہ مردوں سے یہ جانتے ہوئے حاجتیں طلب کرنا کہ وہ حاجات کے پورا ہونے کا محض سبب ہیں خالص کفر ہے اس سے احتراز کرنا واجب ہے اور اس کو یہ کلمہ (شہادت) حرام قرار دیتا ہے اور اس زمانہ میں لوگ اس میں مبتلا ہیں ۔(الخیر الکثیر ص 501)
شیخ المحدثین حضرت شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 1239 ھ) کفریہ شرکیہ اور باطل عقائد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :انبیاء اور مرسلین کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے لوازم الوہیت ثابت کرنا مثلا علم غیب اور ہر ایک کی اور ہر جگہ فریاد سننا اور تمام مقدورات پر قدرت ثابت کرنا(وغیرہ وغیرہ) (تفسیر عزیزی پارہ اول ص 52)
اور حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 1225ھ) لکھتے ہیں کہ :
"طلب مراد من غیر اللہ" مسئلہ:اولیاء معدوم پیدا کرنے یا موجود کو نابود کرنے پر قادر نہیں پس پیدا کرنے نابود کرنے ،رزق پہنچانے ،اولاد دینے ،بلادور کرنے ،مرض سے شفاء بخشنے وغیرہ کی نسبت ان سے مدد طلب کرنا کفر ہے بلفظہ ( ارشاد الطالبین ص 20)

ایسا عقیدہ رکھنے کے باوجود کسی شخص کا یہ کہنا "ہم غیر اللہ سے الہ ،معبود سمجھ کرنہیں مانتے"
ایسا ہی ہوسکتا ہے جیسے کوئی چور چوری بھی کرے اور ساتھ میں یہ کہہ دے کہ میں نے چوری کی نیت سے فلاں چیز نہیں اٹھائی تو چوری کے لوازمات ہوتے ہوئے بھی اس چور کا محض یہ کہہ دینا کہ میری نیت چوری کی نہیں کیا معنی رکھتا ہے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرک و بدعات سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین

(ضروری گذارش : اگر کسی بھائی کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کوتاہی نظر آئے تو ہمیں ضرور نشادہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں ۔جزاک اللہ )
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (13-03-11), آبی ٹوکول (14-03-11), حیدر Rehan (16-03-11)
پرانا 13-03-11, 10:14 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ڈسپنسر اور ڈاکٹر میں فرق، شعبہ ایک ہی ھے مگر تعلیمی اعتبار سے دونوں میں ایک نیم حکیم خطرہ جان
لیکن جب پہلے ہی کوئی ڈسپنسر مستند ڈاکٹرز کے پیش کردہ نسخوں کے برخلاف عوام کا خطرناک علاج کررہا ہو تو ایسے وقت میں دوسرا ڈسپنسر مستند ڈاکٹرز کے تجویز کردہ نسخوں سے عوام کو پہلے ڈسپنسر کے خطرناک علاج کی نشادہی کرتا ہے تو یہ خطرہ نہیں بلکہ خطرہ کی نشادہی کہلائے گی

ہاں البتہ اگر دوسرے ڈسپنسر کی مستند ڈاکٹرز کے تجویز کردہ نسخوں کو سمجھنے میں کوئی کوتاہی ہو تو ہر وقت نشادہی کی درخواست ہے۔
والسلام
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-03-11), مرزا عامر (14-03-11), آبی ٹوکول (15-03-11), حیدر Rehan (16-03-11)
پرانا 15-03-11, 03:07 PM   #9
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم معزز قارئین کرام !
ایک بار پھر آپکو زحمت دینے پر انتہائی معذرت خواہ ہوں مگر مجبوری تھی کہ اک شخص کی افتاد طبع اس بات پر مصر ہوئی کہ اسکی مضحکہ خیزیوں کا یوں
" تخصیصا " پردہ چاک کیا جائے اور اس کے اس ڈھول کا پول جو کہ وہ جگہ جگہ بجاتا پھر رہا ہے یوں " فَرْداً " کھولا جائے سو آپ ہمیں اس ضمن میں معذور جانیئے کیونکہ حقیقت میں ہمیں اس قسم کے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں مگر چونکہ " مرتب دھاگا ھذا " کو بڑا ناز ہے اپنی لایعنیت پر یہی وجہ ہے وہ ان مباحث کو دوسرے فورمز پر بھی نقل کرچکا ہے ثبوت یہاں ملاحظہ ہو
اور یہ ہماری بات کی بین دلیل ہے کہ یہ حضرت یہاں پر نقاب اوڑھے خود کو طالب علم ظاہر کرتے ہیں جبکہ حرکتیں ان کی یہ ہیں کہ ہر دوسرے فورم پر محض اختلافی مسائل کو ہوا دینے کے لیے رجسٹرڈ ہیں لہذا یہی وجہ ہے کہ یہاں پاک نیٹ پر ہمارے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ایک ایسے فورم جو کہ دیوبندی مسلک کا پرچارک ہے اور جس کا اسپیشل مقصد ہی دیوبندی عقیدہ کا دفاع و ترویج ہے وہاں پر نقل کرنا چہ معنٰی دارد جب کہ ہم وہاں پر رجسٹرڈ ہی نہیں سوائے اس کے کہ جناب کو اپنی " لایعنیت " پر بڑا ناز ہے اور جناب اپنے بھائی بندوں سے اپنی ان " مضحکہ خیزیوں " پر داد و تحسین کے ڈونگرے " وصولنا " چاہتے ہیں اب اسی سے انکی ذہنیت کا اندازہ لگا لیجیئے کہ یہ کتنے حق کے متلاشی اور " طالب خیر "ہیں خیر ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی ہمیں اعتراض کہ انھوں نے یہ مضمون وہاں کیوں لگایا ہم تو بس انکی ذہنیت کی قلعی کھولنا چاہتے تھے وگرنہ ان میں اگر اتنی اخلاقی جرات ہوتی تو اس مضمون کا بشکل عینہ اس "اہل سنت فورم " پر بھی لگاتے کہ جہاں پر جناب بھی رجسٹرڈ ہیں اور ہم بھی مگر ہم وہاں کی کاروائیوں میں بہت ہی کم حصہ لیتے ہیں مگر وہاں پر جناب کی چونکہ پہلے بھی خوب دھلائی ہوچکی ہے اس لیے " مفر "رہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ جناب اس اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنے میں کتنی شتابی دکھاتے ہیں یا پھر دکھاتے بھی ہیں یا نہیں ؟؟؟ خیر بات بہت لمبی ہوگی کیا کریں جناب کی شخصیت ہی ایسی ہے اور ایسے ایسے نہاں گوشے ہیں کہ پھر جناب کے حوالہ سے گفتگو ہمیشہ طوالت کا ہی تقاضا رکھتی ہے ۔

بحرحال معزز قارئین کرام ہم یہاں پر جناب ناصر نعمان صاحب کہ اعتراضات کو بصورت اعتراض نقل کریں‌ اور نیچے ازالہ اعتراض کی صورت میں اس اعتراض کا جواب نقل کرتے چلے جائیں گے ہمارے تمام مراسلے انداز یہی ہوگا کہیں کہیں قرآن و سنت کی نصوص سے حاصل ہونے والے فوائد کو بھی نقل کریں گے آپ احباب سے گذارش ہے کہ تمام تحریر کو دلجمعی سے ضرور پڑھیئے گا اور جب تک ہم مکمل نہ کرلیں کوئی بھی شخص مخل نہ ہو ہمارا اس سے اگلا مراسلہ براہ راست موضوع پر ہوگا ۔ ۔ واسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (16-03-11), مہتاب (15-03-11), حیدر Rehan (16-03-11)
پرانا 15-03-11, 03:48 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
خیر ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی ہمیں اعتراض کہ انھوں نے یہ مضمون وہاں کیوں لگایا ہم تو بس انکی ذہنیت کی قلعی کھولنا چاہتے تھے وگرنہ ان میں اگر اتنی اخلاقی جرات ہوتی تو اس مضمون کا بشکل عینہ اس "اہل سنت فورم " پر بھی لگاتے کہ جہاں پر جناب بھی رجسٹرڈ ہیں اور ہم بھی مگر ہم وہاں کی کاروائیوں میں بہت ہی کم حصہ لیتے ہیں مگر وہاں پر جناب کی چونکہ پہلے بھی خوب دھلائی ہوچکی ہے اس لیے " مفر "رہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ جناب اس اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنے میں کتنی شتابی دکھاتے ہیں یا پھر دکھاتے بھی ہیں یا نہیں ؟؟؟ [/B]
معزز قارئین کرام !
عابد صاحب کیوں کہ اپنی عادت شریفہ سے مجبور ہیں اس لئے ان کے دیگر کمنٹس پر ہمیں کچھ نہیں عرض کرنا ہے ۔۔۔۔ البتہ جہاں تک موصوف کی طرف سے جس فورم پر اس موضوع پر بات چیت کا سوال ہے ۔۔۔۔ تو عابد صاحب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اس موضوع پر ہماری اسی فورم پر تقریبا 06 ماہ مختلف لوگوں سے بات چیت ہوچکی ہے ۔۔۔۔ 18 نومبر 2008 کو ہماری بات چیت شروع ہوئی مختلف لوگ آتے رہے بالآخر 06 اپریل 2009 تک ہماری بات چلی ۔۔۔۔ باقی دھلائی کے حوالے سے عرض ہے کہ گڑھے مردے نہ اکھیڑنے میں ہی "اُس فورم" کی بھلائی ہے ۔ شکریہ
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
sahj (23-03-11), آبی ٹوکول (15-03-11)
پرانا 15-03-11, 04:02 PM   #11
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

آپ لوگوں بات جاری رکھیں لیکن ایک التماس کروں گی کہ ایک دُوسرے کی ذات کو نشانہ مت بنائے گانہ سخت الفاظ استعمال کیجئے گا جیسا کہ کچھ کچھ الفاظ سے اندازہ ہو رہا ہے۔ باقی کیپ ڈوئنگ۔ جزاک اللہ خیر۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
ناصر نعمان (15-03-11), آبی ٹوکول (15-03-11)
پرانا 15-03-11, 05:25 PM   #12
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گذشتہ سے پیوستہ
اسلام علیکم معززقارئین کرام سب سے پہلے ہم اس مراسلہ میں اپنا عقیدہ قرآن و سنت سے پیش کریں گے اور پھر مخالفین کے اس پر اعتراضات اور پھر انکا جواب بشکل ازالہ اعتراضات کہ یاد رہے کہ اولا ہمارا اسلوب علمی و تحقیقی ہی ہوگا مگر کہیں کہیں مناظرانہ بھی ہوسکتا ہے مگر ضرورت پڑنے پر مگر دلائل کا مرکز اول قرآن پھر حدیث اور پھر اقوال سلف و صالحین لہذا یہی ترتیب پیش رہے گی ۔۔۔

باب استعانت میں عقیدہ اہل سنت

{ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ }

۔ ۔ ۔۔ ۔ علامہ حافظ عماد الدین ابن کثیر اسی آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔
مفھوم :-یعنی تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔اور شریعت میں عبادت نام ہے کمال محبت اور خشوع و خضوع اور خوف کا ۔ مفعول (ایاک) کو مقدم کیا ۔ اورحصر اہتمام کے لیے اسے دوبارہ ذکر کیا کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں یہی کمال اطاعت ہے اور پورے دین کا حاصل صرف یہی دو چیزیں ہیں جس طرح بعض سلف کا قول ہے کہ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا راز ہے اور سورہ فاتحہ کا بھید یہ کلمہ ہے ۔

{ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ } میں پہلے حصہ میں شرک کی نفی ہے اور دوسرے میں اپنی (ذاتی) قوت و طاقت کی نفی ہے اور اپنے سارے امور کو اللہ پاک کے سپرد کرنا ہے نیز اس مضمون کی اور بھی ٰآیات ہیں ۔ ۔
جیسے کہ سورہ: 123
سورہ ملک: 29
سورہ مزمل: 9
وغیرہ
اسی آیت کی تفسیر میں صدر الافاضل مولانا مراد آبادی رحمہ اللہ جو خلیفہ مجاز اور شاگرد رشید ہیں امام احمد رضا رحمہ اللہ کے رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔ ۔

ایاک نستعین: میں یہ تعلیم فرمائی ۔ کہ استعانت خواہ بواسطہ ہو یا بے واسطہ ہر طرح سے اللہ پاک کے ساتھ خاص ہے ۔حقیقی مستعان وہی ہے باقی سب آلات وخدام و احباب وغیرہ سب عون الہٰی کے مظہر ہیں ۔ بندے کو چاہیے کہ اس (یعنی ذات الہٰی ) پر (ہی) نظر رکھے اور ہر چیز مین دست قدرت کو کارکن دیکھے ۔ اس سے یہ سمجھنا کہ اولیاء و انبیاء سے مدد چاہنا شرک ہے عقیدہ باطلہ ہے کیونکہ مقربان حق کی امداد ،امداد الہٰی (ہی) ہے استعانت بالغیر نہیں۔ اگر اس آیت کے وہ معنٰی ہوتے جو کہ (فرقہ باطلہ) نے سمجھے تو قرآن پاک میں اعیونی بقوۃ اور استعینوا بالصبر والصلوۃ کیوں وارد ہوتا ۔اور احادیث میں اہل اللہ سے استعانت کی کیوں تعلیم دی جاتی ۔

اسی آیت کہ دوسرے حصہ کی تفسیر میں پیر کرم شاہ صاحب الازھری علیہ رحمہ رقمطراز ہیں کہ ۔ ۔۔

ایاک نستعین : یعنی جیسے ہم عبادت صرف تیری کرتے ہیں اسی طرح مدد بھی صرف تجھ ہی سے طلب کرتے ہیں توہی کار ساز حقیقی ہے توہی مالک حقیقی ہے ہرکام میں ،ہر حاجت میں تیرے سامنے ہی دست سوال دراز کرتے ہیں لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ اس عالم اسباب میں اسباب سے قطع نظر کرلی جائے ، بیمار ہوئے تو علاج سے کنارہ کش ،تلاش رزق کے وقت وسائل معاش سے دست بردار، حصول علم کے لیے صحبت استاد سے بے زار ۔ اس طریقہ کار سے اسلام اور توحید کو کوئی سروکار نہیں کیونکہ وہ جو شافی ،رزاق و حکیم ہے اسی نے ان نتائج کو ان اسباب کے ساتھ وابستہ کردیا ہے اسی نے ان اسباب میں تاثیر رکھی ہے اب ان اسباب کی طرف رجوع استعانت بالغیر نہیں ہوگی ۔ اسی طرح ان جملہ اسباب میں سب سے قوی تر سبب دعا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعا تو تقدیر کو بھی ٹال دیتی ہے اور اس میں بھی کلام نہیں کہ محبوبان خدا کے ساتھ اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی عاجزانہ اور نیازمندانہ التجاؤں کو ضرور شرف قبول بخشے گا چناچہ حدیث قدسی کہ جسے امام بخاری کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی روایت کیا ہے میں مذکور ہے کہ اللہ پاک اپنے مقبول بندوں کے متعلق ارشاد فرماتا ہے کہ اگر میرا مقبول بندہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور ضرور اس کا سوال پورا کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔الخ

حاصل کلام بصورت عقیدہ اہل سنت درج زیل ہے ۔ ۔

ان مذکورہ بالا تفاسیر کی روشنی میں مبرھن ہوا کہ استعانت ہر حال میں اللہ ہی سے کرنی چاہیے بندہ جس حال میں بھی ہو مستعان حقیقی اپنے رب ہی کو جانے چاہے مدد بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ چاہے مدد کا سبب عادی ہو یا غیر عادی چاہے مدد مافوق الاسباب امور کے تحت ہو یا ماتحت الاسباب امور کے تحت ہر حال میں مستعان حقیقی اللہ پاک کو ہی جانے اور سمجھے لہذا اسباب میں جو تاثیر امداد ہے اسکو عون الہٰی کا مظہر سمجھے اور جانے اور ماذون من اللہ تسلیم کرتے ہوئے حقیقی اور مستقل کار ساز فقط اللہ ہی کو جانے چاہے کوئی مدد کرنے والا سامنے موجود نہ ہو یا پھر اگر سامنے موجود ہو تو بھی اسکی ظاہری اسباب کی شکل اور موجودگی کی صورت میں اپنی مدد کرنے میں اسے فاعل حقیقی یا مستقل نہ سمجھے بلکہ اسکی مدد کو بھی بالواسطہ جانے کہ استعانت للغیر کہ جائز یا ناجائز ہونے میں اصل تفریق استقلال و عدم استقلال کی ہے کہ نہ اسباب کے ظاہری اور پوشیدہ ہونے کی ۔ ۔۔
لہذا اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء علھم السلام اور اولیاء کرام اور دیگر مقرب بندگان خدا سے استعانت (مجازی معنٰوں میں) جائز ہے بشرطیکہ انھے مستعان حقیقی نہ سمجھا جائے بلکہ انھے عون الہٰی کا مظہر جان کر اور سمجھ کر ان سے امداد و استعانت و استغاثہ کیا جائے (لہذا یہ مدد اس صورت میں اللہ ہی کی مدد ہوگی ) اور اس امداد میں حقیقی تقسیم مستعان حقیقی و مجازی کی ہوگی نہ کے ما تحت و ما فوق اسباب کی لہذا تمام قسم کے امور میں چاہے وہ ظاہری ہوں باطنی ہوں ماتحت الاسباب ہوں یا ما فوق الاسباب، امور عادیہ ہوں یا غیر عادیہ ان سب میں حقیقی مددگار فقط اللہ پاک ہی ہے اور ان میں سے کسی بھی امر پر جب بندوں سے مدد طلب کی جائے چاہے وہ بندہ سامنے موجود ہو یا نہ ہو چاہے امر ماتحت الاسباب کے ہو یا ما فوق الاسباب کہ چاہے امور عادیہ میں سے ہو یا غیر عادیہ میں سے جب بھی کسی بندے سے مدد طلب کی جائے گی تو اس کا اسنا بطور مجاز کے ظاہری طور پر بندے کی طرف ہوگا جبکہ حقیقی مددگار اور مستغاث حقیقی صرف باری تعالی ہے سو اسناد حقیقی فقط اللہ ہی کو سزاوار ہے ۔۔ اور ہمارے اس عقیدہ پر قرآن و سنت سے بے شمار نصوص شاہد و عادل ہیں جنکا تذکرہ اپنے اپنے مقام پر آجائے گا ۔
یہ تھا اہل سنت کا عقیدہ باب استعانت میں جس پر ناصر نعمان صاحب نے جو پہلا اعتراض کیا وہ بھی بغیر اپنا عقیدہ ظاہر کیئے حالانکہ اصول یہ ہے کہ اگر آپ کو کسی عقیدہ پر اعتراض ہے تو پہلے اپنا عقیدہ اس باب میں واضح کریں اور پھر مخالف کے عقیدہ کو جہاں اپنے عقیدہ میں مخالف پائیں وہاں پر اس کا رد نقل و عقل سے کریں لہذا قارئین کرام ہم باب استعانت میں اپنا عقیدہ بیان کرچکے اب اس سے اگلے مراسلہ میں ہم براہ راست ناصر صاحب کے اعتراضات اور پھر اپنے جوابات نقل کریں گے وما توفیقی الا باللہ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (16-03-11), حیدر Rehan (16-03-11)
پرانا 15-03-11, 06:29 PM   #13
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔
اسلام علیکم ! درج زیل میں ہماری وہ عبارت ہے کہ جس میں ہمارا عقیدہ موجود ہے اور جس پر ناصر صاحب نے اعتراض فرمایا ہے پہلے ہمارا عقیدہ پھر ناصر صاحب کا اعتراض اور پھر اس اعتراض پر ہماری طرف سے جواب ملاحظہ ہو ۔ ۔

اقتباس:
آبی ٹوکول : میرا عقیدہ ہے کہ تمام قسم کے امور میں چاہے ظاہری ہوں باطنی ہوں ماتحت الاسباب ہوں یا ما فوق الاسباب ہے امور عادیہ ہوں یا غیر عادیہ ان سب میں حقیقی مددگار فقط اللہ پاک ہی ہے اور ان میں سے کسی بھی امر پر جب بندوں سے مدد طلب کی جائے چاہے وہ بندہ سامنے موجود ہو یا نہ ہو چاہے امر ماتحت الاسباب کے ہو یا ما فوق الاسباب کہ چاہے امور عادیہ میں سے ہو یا غیر عادیہ میں سے جب بھی کسی بندے سے مدد طلب کی جائے گی تو اس کا اسنا بطور مجاز کے ظاہری طور پر بندے کی طرف ہوگا جبکہ حقیقی مددگار اور مستغاث حقیقی صرف باری تعالی ہے سو اسناد حقیقی فقط اللہ ہی کو سزاوار ہے ۔ ۔
اگر میرے اس عقیدہ پر جناب کو کوئی اعتراض ہو تو پیش فرمائیے
اعتراض : ناصر نعمان
جناب عابد صاحب ہمیں آپ کے پیش کئے مذکورہ عقیدے پر کچھ اشکالات ہیں ۔۔۔۔ امید ہے آپ افہام و تفیہم کے ساتھ مختصرا وضاحت فرمائیں گے
جیسا کہ آپ نے اپنے عقیدے میں واضح فرمایا ہے کہ"ماتحت الاسباب ہوں یا ما فوق الاسباب ہے امور عادیہ ہوں یا غیر عادیہ ان سب میں حقیقی مددگار فقط اللہ پاک ہی ہے"
ہمیں اس پر کوئی اختلاف نہیں
لیکن اختلاف اس بات پر ہے کہ آپ (مجازا)غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد اور امور غیر عادیہ مدد مانگنے کے قائل ہیں
کیا آپ اپنے دعوی (غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد مانگنا) پر قرآن پاک سے کوئی دلیل پیش فرماسکتے ہیں ؟؟؟


جواب ازالہ اعتراض :-
اول تو جناب کو چاہیے تھا کہ اس ضمن میں پہلے اپنا عقیدہ واضح کرتے اور پھر اعتراض کرتے ۔ثانیا آپ نے ہمارے عقیدہ کہ پہلا حصہ کہ ساتھ اپنی موافقت یہ کہہ کر ظاہر فرمادی کہ آپ کو امور عادیہ اور غیر عادیہ میں مستعان حقیقی اللہ پاک کے ہونے پر کوئی اعتراض نہیں یعنی اس طرح بدیہی طور پر آپ نے استعانت کہ باب میں حقیقی اور مجازی کی تقسیم کو مان لیا اب آپ کے اور ہمارے اسی مشترکہ اصول کو لیکر آگے چلتے ہیں آپکے اعتراض کی جانب ۔۔۔
اول تو یہ عجب بات کہ جب آپ دونوں طرح کہ امور میں حقیقی مستعان اللہ پاک کو مان چکے ہیں پھر آپ کے مافوق الاسباب امور میں غیر اللہ کی طرف استعانت کی نسبت مجازی پر معترض کیوں ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ آپ یہاں پر اپنے اعتراض کی نوعیت کو واضح کرتے تو کچھ بات بنتی لیکن جہاں تک ہم سمجھ پائے ہیں کہ آپ اوپر حقیقی اور مجازی کی تقسیم کو مان کر بھی سمجھنے سے قاصر رہے ہیں سو اسی غلط فہمی کی وجہ سے آپ سے یہ سوال سرزد ہوگیا اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ حقیقت و مجاز کی تھوڑی سی وضاحت نقل کردی جائے ۔
علماء معانی اسناد کی دو قسمیں بیان کی ہیں
نمبر1 : حقیقت عقلی
نمبر 2 مجاز عقلی
ان دونوں کا استعمال قرآن و حدیث میں جابجا ہوا ہے ۔ ۔


حقیقت عقلیہ : جب فعل کی نسبت اسکے حقیقی فاعل کی طرف کی جائے گی تو اسے حقیقت عقلی کہا جائے گا جیسے انبت اللہ البقل یعنی اللہ نے سبزہ اگایا یہاں سبزہ اگنے کی نسبت اسکے حقیقی فاعل اللہ کی طرف کی گئی ہے اور اسکی قرآن پاک میں متعدد مثالیں ہیں جیسے وہ اللہ ہی جو کہ تمہیں ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے ۔۔۔
مجاز عقلی :
مجاز علقی یہ ہے کہ فعل کے موصوف کی بجائے اسکے متعلق (سبب) کی طر ف اسکی نسبت کردی جائے جیسے بنی المدینہ الامیر یعنی امیر شہر نے شہر تعمیر کیا حالانکہ امیر شہر نے وہ خود تعمیر نہیں کیا ہوتا بلکہ مزدور اور راج اسے تعمیر کرتے ہیں مگر امیر شہر چونکہ اسکی تعمیر کا فائنینشلی سبب ہے اس لیے اس کی تعمیر کی نسبت اسکی طرف مجازا کردی جاتی ہے اسی طرف انبت الربیع البقل یعنی بہار نے سبزہ اگایا حالانکہ حقیقت میں وہ سبزہ اللہ ہی نے اگایا ہوتا مگر بہار میں چونکہ اللہ پاک نے اس سبزے کے اگنے کا ایک سبب بطور علت و تاثیر کے رکھ دیا ہوتا ہے اس لیے ایسا کہہ دیا جاتا ہے ۔۔۔
پھر یہ کہ مجاز پر دلالت کا کوئی نہ کوئی قرینہ عبارت میں یا تو لفظی ہوگا یا پھر معنوی طور پر ہوگا معنوی کی مثال علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ جب بہار نے سبزہ اگایا والا کلمہ کوئی مشرک یا کافر بولے گا تو اسکو اسناد حقیقی کے معنٰی میں لیا جائے گا کیونکہ کافروں کہ اعتقادات اسی قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ اسباب یا زمانہ کو بالذات موثر مانتے ہیں جبکہ یہی جملہ اگر کوئی مومن کہے گا تو اس سے مراد مجاز عقلی لیا جائے گا بطور حسن ظن کہ یہ مسلم ہے اور یہ زمانہ یا سبب کو بالذات مؤثر نہیں مانتا بلکہ اللہ ہی کی مؤثریت کا قائل ہے مگر بطور سبب ہونے کہ مجازا اس فعل کی نسبت متعلق فعل کی طرف کررہا ہے ۔ اسی طرح کی بے شمار مثالیں ہیں قرآن پاک میں جو کہ حقیقت اور مجاز کے فرق کو واضح کرتی ہیں جیسے حجرت جبرائیل کا حضرت مریم علیہ السلام کو بیٹا دینے کی نسبت اپنی طرف کرنا حالانکہ کے کون نہیں جانتا کہ اولاد اللہ ہی دیتا ہے ۔ ۔ ۔
اب چلتے ہیں آپ کے اعتراض کی طرف آپ نے فرمایا کہ ۔۔۔

لیکن اختلاف اس بات پر ہے کہ آپ (مجازا)غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد اور امور غیر عادیہ مدد مانگنے کے قائل ہیں ۔ ۔

اب آپ بتائیے کہ آپ کو مافوق الاسباب امور میں مجازا غیر اللہ سے استعانت پر کیوں اعتراض ہے کیا آپ قرآن پاک کے حقیقت و مجاز کے قائل نہیں ہیں ؟؟؟
اب جبکہ اوپر آپ پر حقیقت و مجاز کی حقیقت واضح ہوگئی اب آپ یا تو اپنا یہ اعتراض واپس لیجیئے یا پھر قرآن پاک میں حقیقیت و مجاز کے تصور کی نفی کردیجیئے جو کہ بالاتفاق تمام مفسرین کے نزدیک جائز ہے قریبا سب مفسرین نے اپنی اپنی تفسیر میں اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے بلکہ علوم قرآن پر جتنی بھی کتابیں ہیں ان سب میں مجاز عقلی کی ابحاث موجود ہیں ۔۔۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔
اعتراض :
کیا آپ اپنے دعوی (غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد مانگنا) پر قرآن پاک سے کوئی دلیل پیش فرماسکتے ہیں ؟؟؟

جواب ازالہ اعتراض :
آپ نے غیراللہ سے مجازا مدد مانگنے کہ ثبوت کہ بطور ایک آیت کا مطالبہ کیا جو ہم نے پہلے بھی پورا کردیا تھا اب پھر دہرائے دیتے ہیں ۔۔

نوٹ : یاد رہے کہ آپ کا مطالبہ ہے کہ مافوق الاسباب امور میں غیر اللہ سے مجازا مدد مانگنے کہ ضمن میں کوئی قرآنی آیت پیش کی جائے لہذا ہم ذیل میں وہ آیت پیش کررہے ہیں اور پہلے بھی کی تھی کہ جس میں ایک پیغمبر نے مافوق الاسباب امر میں غیر اللہ سے مدد لی تھی اور پیغمبر کہ اصحاب نے اس مافوق الفطرت امر میں مدد فرماکر اسکا اسناد مجازی خود اپنی طرف کیا تھا اب وہ مدد اپنے منطقی انجام کو کس طریق سے پہنچی آیا وہ معجزہ تھی یا کرامت اس سے بحث نہیں بلکہ اصل نزاع یہ ہے کہ مافوق الاسباب امور میں غیراللہ کی طرف متوجہ ہونا جو کہ اس آیت سے چڑھے ہوئے دن کی طرح روشن ہے سو ایک بار پھر پیش خدمت ہے ۔ ۔
حضرت سلمان علیہ السلام ایک مافوق الاسباب امر میں اپنے درباریوں کو حکم دیتے ہیں کہ ، ۔ ۔ ۔۔

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَO
38. (سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: اے دربار والو! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجائیںo

اب اس ایت سے صاف صاف ظاہر ہوا کہ تحت ملکہ صبا بلقیس جو کہ بعض تفاسیر کہ مطابق دو ماہ کی مسافت پر موجود تھا اور جو بہت بھاری بھرکم بڑا اور طویل و عریض تھا لہذا اس کو ملکہ کے آنے سے پہلے پہلے منگانا بالخصوص اس وقت سے بھی پہلے کہ جب ایک جن نے دربار کا وقت ختم ہونے سے پہلے لانے کا عندیہ دے دیا تھا سے صاف صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس تحت کو ملکہ کہ پہنچنے سے پہلے پہلے منگانا بھی مافوق الاسباب امر میں سے تھا اور عفریت کی گئی پیشکش کے بعد تو یہ اور بھی زیادہ مشکل اور مافوق الاسباب امر میں سےہوگیا تھا مگر ان سب باتوں کے باوجود حضرت سلمان علیہ السلام کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ پاک نے یہ طاقت مجازا اپنے بندوں اور میرے غلاموں کو دے رکھی ہے سو اسی لیے بجائے براہ راست اللہ پاک سے دعا کرنے کہ حضرت سلمان علیہ السلام نے اس تحت کو منگوانے کا حکم اپنے درباریوں کو دیا حالانکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر آپ خود چاہتے تو آپ خود بھی اپنی دعا کی برکت سے لاسکتے تھے کہ اللہ کا ہر نبی مستجاب الدعا ہوتا ہے مگر قرآن کا مقصود اولیاء اللہ اور خادمین رسول کی عظمتوں کو ظاہر کرنا تھا سو اس قرآن میں صاف صاف اس ما فوق الاسباب امر کی نسبت ایک غیر اللہ کی طرف کی گئی اور یہ سب اسناد مجازی ہیں پہلے نبی اللہ کا ایک مافوق الاسباب امر میں غیر اللہ کی طرف متوجہ ہونا ثانیا ان غیر اللہ کو اس فعل کو انجام دینے کی نسبت خود اپنی طرف انا اتیک کہہ کر کرنا یہ سب مجاز عقلی کی بہت عمدہ قرآنی مثالیں ہیں جو استعانت للغیر کے باب میں آئی ہیں اور ہمارے ان آیات کو یہاں پیش کرنے سے آپکا وہ مطالبہ پورا ہوگیا جو کہ آپ نے غیراللہ سے مافوق الاسباب امور میں مدد طلب کرنے کی بابت خود غیراللہ کی طرف رجوع کی ضمن میں قرآنی آیت کے نقل کرنے کہ مطالبہ کی صورت میں کیا تھا ۔ ۔۔
جاری ہے باقی تفصیل اگلے مراسلہ میں ۔ ۔ ۔ ۔۔والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 15-03-11 at 08:53 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (16-03-11), مہتاب (15-03-11)
پرانا 16-03-11, 02:41 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
کاش کہ عابد عنایت صاحب ہمارا نکتہ نظر اور نکتہ استدلال سمجھ کر جواب دیتے ۔۔۔۔ تو شاید نہ تو اتنی طویل پوسٹ لکھنے کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی اتنے سوالات اور اعتراضات پیش کرنے پڑتے۔
معززقارئین کرام !
ہم ایک بار پھر مختصرا سمجھانے کی کوشش کرتےہیں کہ ہمارا اختلاف کس چیز پر ہے اور پچھلی وضاحتوں میں‌ ہمارا نکتہ استدلال کیا تھا ؟؟؟

جناب عابد صاحب "مدد ماتحت الاسباب ہوں یا ما فوق الاسباب ہے امور عادیہ ہوں یا غیر عادیہ ان سب میں حقیقی مددگار فقط اللہ پاک ہی ہے" ہمارا اس پر کوئی اختلاف نہیں ۔۔۔۔۔ لہذا آپ کی طرف سے بار بار اسی نکتہ کی وضاحت کرنے کا فائدہ نہیں۔
ہمارا اختلاف غیر اللہ سے مافوق الاسباب مدد مانگنے پر ہے

یہ بات ہمارے اور آپ کے درمیان متفقہ ہے ‌کہ "خرق عادت امور"کا جب انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کے ہاتھ پر صدور ہوگا تو اس کو معجزہ یا کرامت کہا جائے گا۔
جس پر ہمارا سوال " معجزات اور کرامات پر اولیاء کرام کے کسب اختیار اور قدرت پر تھا ۔
جس پر آپ نے ایسے امور پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کو بطور کسب اختیار اور قدرت ایسے ہی رکھنے کی نشادہی کی تھی جیسے کہ امور عادیہ میں انسان اپنے فعل پر اختیار رکھتا ہے۔
جس کے بعد ہم نے آپ کی غلط فہمی کی قرآن کریم کی صریح ایات مبارکہ سے نشادہی کی ۔۔۔۔ اور ساتھ ہی بزرگان دین کے واضح اور صاف صاف اقوال بھی پیش کئے ۔۔۔۔ جس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر آپ کے نزدیک ہمارے سمجھنے کی غلطی تھی تو آپ ہمیں اسی نکتہ پر رہتے ہوئے اپنے دلائل سے ہماری غلطیوں کی نشادہی فرماتے۔۔۔۔ لیکن اس کے برعکس آپ نے ایک بار پھر اپنی پچھلی باتیں کچھ ردوبدل کے ساتھ دہرانی شروع کردیں ؟؟؟
محترم جناب عابد عنایت صاحب !
تو جب یہ بات طے شدہ ہے کہ "خرق عادت امور"کا جب انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کے ہاتھ پر صدور ہوگا تو اس کو معجزہ یا کرامت کہا جائے گا۔
تو اس کے بعد جب آپ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کو مافوق الاسباب مدد گار ثابت کرنا چاہیں گے ۔۔۔۔ تو لازم آئے گا کہ آپ مخلوق کے لئے معجزات اور کرامات پر کسب اختیار و قدرت رکھنے کے بھی قائل ہیں۔(جیسا کہ آپ خود بھی فرماتے ہیں)
جو کہ قرآن کریم کی صریح آیات مبارکہ سے متصادم ہے (جیسا کہ ہم پچھلی پوسٹ میں تفصیلی واضح کرچکے ہیں )
اور اس طرح معجزات پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اختیار و قدرت رکھنے کے نظریہ سے اگر ایک طرف قرآن کریم کی صریح آیات مبارکہ کی تکذیب لازم آئے گی۔۔۔۔تو دوسری طرف یہ نظریہ بھی سامنے آئے گا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کفار کی طرف سے مانگے گئے تمام معجزات ( جیسا کہ لفظ معجزہ کی بحث ہم پچھلی پوسٹ میں پیش کرچکے ہیں کہ وہ فعل جس کو کرنے سے مخلوق عاجز ہو)پر قدرت رکھتے تھے ۔۔۔۔ جو کہ بذات خود "خدائی اختیارات" رکھنے کا عقیدہ بن جائے گا (العیاذ باللہ تعالیٰ)

اس لئے کسی کا ایسا عقیدہ رکھتے ہوئے بھی"مجازی" کہنا ایسا ہی ہے کہ کوئی غیر اللہ کے لئے خدائی اختیارات رکھنے کا مدعی بھی بن جائے اور ساتھ میں لفظ "مجازی" کا استعمال کرلے ۔۔۔۔۔ تو آپ خود ایمانداری سے جواب دیں کہ کیا اس طرح کسی کا مجازی اور عطائی کہنا اُس کے غلط عقیدے پر پردہ ڈال سکتا ہے ؟؟؟

میرے دوست ہمیں مجازی اور حقیقی کی تقسیم سے کوئی اختلاف نہیں ۔۔۔۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجازی کا مطلب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کو معجزات اور کرامات پر(مجازی) استقلال حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں جیسے چاہیں معجزہ اور کرامت ظاہر فرماسکتے ہیں؟؟؟

پلک جھپکتے تخت لانے کی کرامت کا حضرت آصف برخیا کے ہاتھ پر صادر ہونا مجازی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن اس مجازی کا یہ مفہوم نہیں کہ حضرت آصف برخیا کے پاس وہ طاقتیں حاصل ہوگئیں تھیں کہ جس سے انہیں مجازا کرامات پر استقلال حاصل ہوگیا تھا اور وہ جب چاہتے جو چاہتے کرتے ؟؟؟
نہیں بلکہ جیسا کہ حضرات مفسرین کرام نے اس چیز کی تصریح فرمائی ہے کہ حضرت آصف برخیا نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آصف کی دعا قبول فرمائی اور وہ تخت حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچادیا ۔اور اسی تصریح سے اس چیز کی بھی بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت لانے کا سوال مافوق الاسباب مدد طلب کرنا نہیں بلکہ حضرت آصف برخیا سے دعا کی درخواست پر محمول تھا.

اور اسی تفصیل کے لحاظ سے غیر اللہ سے ماتحت الاسباب مدد کا اثبات اور مافوق الاسباب مدد مانگنے کی نفی کی تقسیم خود بخود ہوجاتی ہے ۔۔۔ کیوں کہ ماتحت الاسباب میں‌ بندہ کے کسب کا عمل دخل ہے اور بندے کو اختیار قدرت حاصل ہے۔
جبکہ انبیاء کرام کی طرف سے خٌرق عادت (مافوق الاسباب) امور کا صدور ہونا معجزہ یا کرامت کے زمرے میں ہے ۔۔۔ جو مجازی طور پر اتنا ہے کہ وہ فعل مخلوق کے ہاتھ پر صادر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن معجزات اور کرامات پر نہ تو مخلوق کے کسب کا عمل دخل ہے اور نہ اختیار و قدرت حاصل ہے ۔(جیسا کہ قرآن کریم کی آیات مبارکہ شاہد ہیں)
اس کے بعد بھی اگر آپ "معجزات اور کرامات پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء کرام کا کسب اختیار و قدرت رکھنا ثابت کرنا چاہتے ہیں تو پھر اپنے اعلیٰ حضرت کا قول ایک بار پھر ملاحظہ فرمائیں :
اعلیٰ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ "عموم آیات قرآنیہ کی مخالفت میں اخبار احاد سے استناد محض ہرزہ بانی ہے"
اسی طرح حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : یعنی جن مسائل کا تعلق عمل سے ہے ان میں صحیح احادیث سے استدلال کرنا کافی ہے .کیوں کہ اعمال کے لئے ظنی دلائل ہی کافی ہیں لیکن جب عقائد کی باری آئے گی تو ان میں صرف وہی حدیثیں قابل قبول ہوں*گی جو صرف قطعی ہوں (فتح الباری ج 8 ص 431)

لہذا آپ جو اخبار احاد سے "معجزات" پر اختیار و قدرت کا جو استدلال فرمانا چاہتے ہیں یا ....یا اپنے فلسفیانہ قیاس سے اپنے موقف کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ تو ہماری آپ سے درخواست ہے کہ وہ اپنے امام کے قول کی روشنی میں اپنے فلسفیانہ قیاس کو تو ایک طرف رکھتے ہوئے ۔۔۔۔ اسی طرح اخبار احاد سے بھی استناد نہ فرمائیں
بلکہ آپ اپنے دعوے(معجزات اور کرامات پر مخلوق کااختیار و قدرت) پر قطعی الدلالت نص(یعنی جس میں چند اور احتمال نہ نکلتے ہوں)پیش فرمائیں.

ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے بعد یہ مسئلہ با آسانی حل ہوجائے گا ۔ فالحمدللہ
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
sahj (23-03-11), آبی ٹوکول (17-03-11)
پرانا 17-03-11, 05:50 PM   #15
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ناصر نعمان مراسلہ دیکھیں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
کاش کہ عابد عنایت صاحب ہمارا نکتہ نظر اور نکتہ استدلال سمجھ کر جواب دیتے ۔۔۔۔ تو شاید نہ تو اتنی طویل پوسٹ لکھنے کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی اتنے سوالات اور اعتراضات پیش کرنے پڑتے۔

اور کاش آپ نے خود ہی اپنے اصولوں کی پابندی کی ہوتی کہ جس مقصد کے تحت یہ دھاگا آپ نے الگ سے لگایا تاکہ گفتگو ایک ترتیب سے ہو وہ پورا ہوتا مگر آپ سے صبر نہیں ہوتا جب ہم نے ابھی تک اپنی گفتگو کے اختتام کا عندیہ نہیں دیا بیچ میں دو دن پاک نیٹ میں کوئی فنی مسئلہ رہا تو آپ درمیان میں کیوں وارد ہوئے ؟؟؟؟؟؟؟ اور یوں گفتگو کا سارا تسلسل خراب کردیا جبکہ ابھی ہم اپنے دلائل رقم کررہے تھے خیر میرے محترم بھائی آپ سے گذارش ہے کہ فی الوقت صبر سے کام لیجیئے کیونکہ ہمیں تفصیل سے آپکے تمام لایعنی اور قیاس فاسدہ پر مشتمل اعتراضات کا رد کرنا ہے سو کچھ دن لگیں گے سو آپ دھیرج رکھیئے ہم معجزہ و کرامت کی تعریف اور اسے معجزہ کہنے کی وجہ تسمیہ اور معجزہ میں کسب مخلوق کے دخل ہونے یا نہ ہونے کی بحث کو بھی زیر بحث لائیں گے اور آپکے تمام اعتراضات کا جواب بھی دیں گے یہ واضح کرتے ہوئے کہ کون قرآن کی صریح آیات پیش کررہا ہے اور کون ان پر محض اپنے قیاس فاسدہ کی صورت میں اعتراض کررہا ہے اور کون حقیقی اور مجازی کے فرق کو مان کر بھی اسے سمجھنے سے ابھی تک قاصر ہے اور کون ہے کہ جس نے مافوق الاسباب امور میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے پر صریح قرآنی آیت نقل کی اور کن ہے کہ جو اس صریح ٰآیت کا جواب اقوال اکابرین کی تعریف معجزہ کی صورت میں اپنی کج فہمی سے دے رہا ہے حالانکہ ابھی تو دلائل کے نزول کی یہ گھڑی نہیں پہنچی کہ آپ براہ راست اقوالات صلحاء امت تک نزول فرمائیں پہلے تو قرآن و سنت مقدم ہیں پہلے دلائل تو براہ راست وہاں سے پیش کیے جائیں گے جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے قرآن و حدیث پیش کرنے پر جضور نے نزول فرماتے ہوئے اپنی جاہ پناہ اقوالات صلحائے امت میں ڈھونڈی ہے آپ فکر نہ کیجئے دلائل کہ ضمن میں جب اقوالات امت کی باری آئی تو ہم انھی اکابرین کے اقوالات کے صحیح فہم سے آپ کے فہم کا پردہ بھی فاش کریں گے مگر تب تک کے لیے صبر شرط اول است ۔ ۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-03-11), مفتی (24-03-11)
جواب

Tags
color, کوشش, گذارش, پاک, وقت, قرآن, نظر, مقصد, اللہ, جواب, حضرات, خدمت, خصوصی, درخواست, سیکشن, شخص, عقیدہ, عقیدے, عقلی, عنایت, عابد, عرض, غلط, صورتحال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا عشق ایک زندگی مستعار کا زارا شاعر مشرق علامہ اقبال 2 16-04-12 11:41 PM
رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر محمدخلیل دلچسپ اور عجیب 7 17-12-10 12:20 PM
کچھ باتیں مغیث و منیب سے! shafresha اپکے کالم 18 26-08-10 02:37 AM
ٹئسٹ ٹیوب بے بی ذہنی استعداد میں کم نہیں ہوتے جاویداسد دلچسپ اور عجیب 0 06-07-10 07:49 PM
كيا غير مسلموں كے استعال كردہ برتن دھونے لازمى ہيں ؟ بنت آدم علوم حدیث 0 02-04-10 07:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger