واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا ہمہ جہت نظام حکومت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-09-11, 10:36 AM   #1
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا ہمہ جہت نظام حکومت
محمدخلیل محمدخلیل آف لائن ہے 24-09-11, 10:36 AM


ابنا: آج ہم اگر عادلانہ نظام کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے حضرت علی کی عادلانہ حکومت کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔امامت کے لئے منصوب ہونے کے باوجود آپ نے حکمرانی عوام کے بے پناہ اصرار پر قبول فرمائی۔ عوام کا اصرار آپ کی بے پناہ عوامی مقبولیت اور عوامی اعتماد کی دلیل ہے اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں الہی اور جمہوری عہدے کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنا منفرد اور ممتاز مقام رکھتے تھے۔ لیکن عاجزی کا ایک انداز ان کے اپنے فرمان میں ہے کہ ''میں امیر المومنین کہلانے کا حق دار نہیں بن سکتا جب تک میں عوام کے دکھ درد میں برابر کا شریک نہ بن سکوں' یہی وجہ ہے کہ برسراقتدار آنے کے بعد انہوں نے کوئی امتیازی رویہ نہیں اپنایا اور اور کسی قسم کی مراعات کی رسم نہیں ڈالی بلکہ میرٹ اور شفافیت کے رہنما اصول پیش کئے۔ علوی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ امیر المومنین نے حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں سمجھا بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا۔ اس حوالے سے آپ کا ایک معروف قول ہے کہ ''میرے نزدیک حکومت ایک پھٹے پرانے جوتے سے بھی کم تر حیثیت رکھتی ہے مگر اس صورت میں جب اس کے ذریعے کسی حق کو قائم کرسکوں اور کسی باطل کا خاتمہ کرسکوں'' ذاتی نوعیت کے مسائل پر گفتگو کے لئے بیت المال کے چراغ کو ہٹاکر حضرت کا اپنے گھر سے چراغ منگوانا حکمرانوں کے لئے ایک روشن مثال ہے کہ ذاتی ضروریات پر قومی امانت کو صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ فرامین حکمرانوں کے لئے روشن مثالیں ہیں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دیتے ہیں اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت کی طرف سے مالک اشتر کو گڈگورننس کے حوالے سے ارسال کردہ ہدایات آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔

آپ نے اپنی حکمرانی میں عدل کے قیام کی بھرپور کوشش کی اس کا ثبوت یہ ہے کہ قومی خزانے سے ہر شخص کو مساوی مواقع فراہم کرنے کا اصول سختی سے متعارف کرایا۔ لوٹی ہوئی قومی دولت کو ہر صورت میں واپس کرنے کے احتسابی عمل کی بنیاد رکھی۔ قومی خزانے اور بیت المال کو اس انداز میں صرف کیا کہ ہر شخص بلاامتیاز اس سے استفادہ کرسکے۔ انہوں نے کسی کو لوٹ مار کرنے اور بدعنوانی کی اجازت نہ دی اس سلسلہ میں آپ کا مشہور فرمان ہے کہ ''اگر مجھے پتہ چل جائے کہ لوٹی ہوئی قومی دولت کئی ہاتھوں تک منتقل ہوچکی ہے تو اس کو تب بھی واپس قومی خزانے میں پلٹا دوں گا۔ امیر المومنین نے بیت المال سے اپنے بھائی کو حصہ دینے کے بعد اپنے بھتیجوں کے خشک چہروں کو دیکھنے کے باوجود بقیہ مال قومی خانے میں پلٹاکر اقرباء پروری کو پائو ں تلے روندنے کی اعلی مثال قائم کی۔ آئین و قانون کی پابندی نہ کرنے والے عمال حکومت کو برطرف کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ کو اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے اور طویل دینے کی فکر نہ تھی بلکہ آئین و قانون کی بالادستی آپ کا مطمع نظر تھا۔
امیر المومنین کی ذات مجموعہ کمالات تھی۔ ان کی فضیلت اور خصوصیات پر قرآنی آیات اور احادیث پیغمبر گرامیۖ قدر اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ قرآنی تعلیمات اور سنت رسولۖ کی عملی تعبیر کا مشاہدہ آپ کی سیرت عالیہ میں کیا جاسکتا ہے۔ آپ انسانی اخلاق اور فضائل و کمالات میں انسان کامل تھے لہذا ان کی زندگی کا ہر پہلو کمال کے متلاشی انسانوں کے لئے چراغ راہ ہے۔ چنانچہ قرآن اور سنت پر ایمان رکھنے والوں کو یہ دونوں چیزیں سیرت علی میں تلاش کرنی چاہیں کیونکہ پیغمبر گرامیۖ قدر اپنے اس فرمان میں فیصلہ فرماچکے ہیں کہ ''علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔ علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے۔ علی خلوت و جلوت میں میرے ساتھ رہے''
دور حاضر میں حضرت علی کے تصور اسلام کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس تصور اسلام کی بنیاد آپ نے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انتہائی اہم' حساس اور دورس اقدامات کئے اور زندگی کے سیاسی' معاشی' معاشرتی اور عمومی اخلاق میدانوں میں جو نقوش چھوڑے ہیں ان کے گہرے مطالعے کی ضرورت ہے تاکہ امیر المومنین کے اقدامات کی روشنی میں گھمبیر معاشرتی مسائل کا عصری تقاضوں کے مطابق حل نکالا جاسکے۔ حضرت علی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کی سیرت کے ہر پہلو سے ہر انسان استفادہ کرسکتا ہے۔ ایک عام مزدور سے لے کر ایک بااختیار حکمران تک کے تمام نمونے آپ کی حیات طیبہ میں نظر آتے ہیں جبکہ ذاتی زندگی میں ایک فرمانبردار بیٹے' وفادار بھائی' ذمہ دار شوہر اور قابل تقلید باپ کی حیثیت سے آپ کا عمل ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔ لہذا ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں امیر المومنین کی سیرت اقدس سے استفادہ کرنا چاہیے اور اسے ہی نمونہ قرار دے کر اپنی دنیاوی و اخروی نجات کا سامان پیدا کرنا چاہیے۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟

 
محمدخلیل's Avatar
محمدخلیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
شکریہ: 7,285
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 212
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-09-11), کنعان (24-09-11), ننھا بچہ (24-09-11), حیدر Rehan (24-09-11), رضی (24-09-11), عارف اقبال (24-09-11), عبداللہ حیدر (24-09-11)
پرانا 24-09-11, 10:56 AM   #2
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,535
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے شک اصحابہ اکرام ہمارے لیئے مشعل راہ ہیں دیگر اوصاف تو ہیں ہی لیکن ذاتی طور پر میرے لیئے حضرت علی کی فہم و فراست سب سے زیادہ متاثر کن ہے۔ اور حضرت عمر کا انصاف سب سے زیادہ متاثر کن ہے۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (24-09-11), فیصل ناصر (24-09-11), کنعان (24-09-11), محمدخلیل (24-09-11), عارف اقبال (24-09-11)
پرانا 24-09-11, 11:15 AM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,833
شکریہ: 7,285
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

رضی بھائئ میرا بھی یہی حال ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کا انصاف اور عدل کا نظام نے تو ہر ایک کو متاثر کیا ہے۔۔۔
محمدخلیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-09-11), کنعان (24-09-11), ننھا بچہ (24-09-11), رضی (24-09-11)
پرانا 24-09-11, 01:01 PM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عدل و عدالت

العدل ماقام فی النفوس انہ مستقیم وھو ضد جور والظلم
عدل ایسی صفت ہے کہ جو نفس میں قائم یا نفس کے ساتھ راہ مستقیم پر چلے،یہ ظلم و جور کی ضد ہے۔


فقہ کی کتب میں عدل کی تعریف:
وضع کل شیٔ فی موضعہ یا فی محلہ
ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنا


١۔ مولائے کائنات عدل کے متعلق متعدد تعبیرات نہج البلاغہ میں بیان فرماتے ہیں
العدل ھوالانصاف والاحسان التفضل
عدل انصاف ہے اور احسان لطف وکرم ہے۔

٢۔مولائے کائنات کے کلام اقدس میں دوسری تعبیرکچھ اس طرح ہے:
العدل یضع الامور ہو مواضعھاوالجود یخرجھا:
عدل یعنی تما م امور کوان کے موقعہ ومحل پر رکھنااور سخاوت ان کو ان کی حدود سے باہر کردیتی ہے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (24-09-11), محمدخلیل (24-09-11)
پرانا 24-09-11, 01:19 PM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مولا علی ع ایک مقام پر فرماتے ہیں

عدل اسلام کے ستونوں میں سے چار شعبوں میں بٹا ہوا ہے:۔
عمیق فہم۔۔۔۔۔ ٍگہرائی علم۔۔۔۔۔ حسن قضاوت اور استحکام حلم،


تہوں تک پہنچنے والی فکروسمجھ
علم کی گہرائی
فیصلہ کی خوبی
عقل کی پائیداری
چنانچہ جس نے غوروفکر اور علم کی نعمت پالی وہ علم کی گہرائیوں سے آشنا ہوا اور جو علم کی گہرائیوں میں اترا وہ فیصلہ کے سرچشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کرزندگی بسر کی



مولا علی علیہ سلام کا فرمان ہے کہ
عدل کی ایک شکل ہے اور ظلم کئی صورتوں والا ہے اسی لئے ظلم کرنا آسان ہے اور عدل کرنا مشکل۔
یہ دونوں تیر اندازی میں صحیح اور غلط نشانے کی طرح ہیں یقینا تیر کے ٹھیک نشانے پر بیٹھ جانے کے لئے بڑے زمانے اور ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ نشانہ کے خطا ہوجانے کے لئے ان سب میں کسی ایک کی ضرورت نہیں ہے۔

Last edited by حیدر Rehan; 24-09-11 at 01:22 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (24-09-11), محمدخلیل (24-09-11)
جواب

Tags
color, کوشش, قرآنی, نظر, منتقل, متعارف, مسائل, مشعل, آج, ایمان, امیر, اسلام, بھائی, حل, زندگی, سیاست, شخص, عوام, عوامی, علی, علوی, عمومی, عاجزی, عدل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger