واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


دنیا کے مشہور مذاہب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-05-09, 05:23 PM   #1
دنیا کے مشہور مذاہب
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 13-05-09, 05:23 PM

انسانی تاریخ میں لاتعداد مذاہب گزر چکے ہیں اور ہر دور میں انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار رہا ہے۔بے شمار مذاہب اب ناپید ہو چکے ہیں
مذاہب کون کون سے ہیں اور ان میں بنیادی طور پر کیا اختلاف پائے جاتے ہیں اور ان میں کیا باتیں مشترک ہیں۔لیکن یہ بات سب مذاہب میں مشترک ہے کہ ایک اللہ ہی اس کائنات کا مالک ہے۔
اسلام
مذہب اسلام کے بانی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جو پانچ سو اکہترعیسوی میں سعودی عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔جو بچپن سے ہی اپنے خدا سے محبت کرتے تھے ۔ہمیشہ سچ بولتے اور دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے تھے ۔عہد جدیدمیں اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کے ماننے والے دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔اس کی مقدس کتاب قرآن ہے۔اسلام کے دو بڑے فرقے شیعہ اور سنی ہیں جبکہ دیگر بھی پائے جاتے ہیں۔اسلام میں رنگ، نسل اور زبان کی کوئی تفریق نہیں اس لئے موجودہ دور کا انسان اس مذہب کو قبول کرنے میں کافی دلچسپی رکھتاہے اور یہ دنیا میں دیگر مذاہب کی نسبت سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔

عیسائیت
عیسائیت کے بانی اللہ کے رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے جو دوہزارچھ سال قبل بیت المقدس میں پیدا ہوئے۔یہ بچپن سے ہی عام لوگوں سے مختلف تھے ،نیک اور با عمل تھے ۔ان کی ذات سے بہت سے معجزے منسوب تھے۔اُس دور کے مذہبی پیشواﺅں نے ان کی شدیدمخالفت کی اور شہر کی عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کر دیاجس کے نتیجے میں انہیں سزائے موت سنائی گئی اور مصلوب کر دیا گیا ۔مگر خدا نے انھیں صلیب سے ہی زندہ آسمانوں پراٹھا لیا ۔بعد میں ان کے ماننے والوں نے مذہب کی تبلیغ کی۔اس کی مقدس کتاب انجیل (بائبل) ہے۔ عیسائیت کے دو بڑے فرقے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ہیں جبکہ دیگر فرقے بھی ہیں۔اس مذہب کے ماننے والے بھی دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔

یہودیت
یہودیت بھی اللہ کا مذہب ہے اس کے بانی اللہ کے رسول حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ اللہ کے دیگر پیامبر یہودی قوم کو ہدائت دینے کیلئے آتے رہے۔اس کی مقدس کتاب توریت ہے جو کئی صحیفوں پر مشتمل ہے۔اسلام اور عیسائیت کی نسبت قدیم مذہب ہونے کے باوجود اس کے ماننے والے بہت کم ہیں کیونکہ ان کے ہاں مذہب کی تبلیغ نہیں کی جاتی اور یہ اپنے مذہب میں ضرورت کے تحت بہت کم لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔یہودیت کے دوبڑے فرقے آرتھوڈکس اور کنزرویٹو ہیں جبکہ دیگر بھی پائے جاتے ہیں۔یہودی اسرائیل کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔

ہندومت
ہندو مت کا آغاز تقریباً تین ہزارسال قبل مسیح میں ہوا۔یہ اپنے ابتدائی دور میں زیادہ تر جادو ٹونے کی رسوم پر مشتمل تھا۔برصغیر میں آریاﺅں نے اسے مربوط مذہب کی شکل دی۔اس میں دیوی دیوتاﺅں کی پوجا کی جاتی ہے ۔اس کی مقدس کتاب وید ہے جو بہت سے پرانوں پر مشتمل ہے۔رامائن ، گیتا اور مہا بھارت بھی مذہبی کتابیں ہیں۔ دوہزار سال قبل مسیح ان کے لکھے جانے کا آغاز ہوا اور یہ عمل صدیوں میں جا کر مکمل ہوا۔اس کا کوئی ایک بانی نہیں ہے بلکہ بہت سے اصحاب کا حصہ ہے۔اہم اصحاب میں رام کا بہت مقام ہے۔ اس مذہب میں انسانی تقسیم پائی جاتی ہے سب سے اعلی لوگ برہمن کہلاتے ہیں ۔ ان کے بعد کھشتری اور ویش ہیں جبکہ شودر سب سے گھٹیا لوگ ہوتے ہیں ۔ہندو مت بھارت کا سب سے بڑا مذہب ہے۔

سکھ مت
سکھ مت دنیا کے نئے مذاہب میں سے ایک ہے اس کا آغاز سولہویں صدی ہوا۔سکھ مت کے بانی بابا گرونانک جی چودہ سو انہتر میں پنجاب (پاکستان) کے شہر ننکانہ صاحب میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے جبکہ تعلیم مسلمان استاد سے حاصل کی۔یہ بچپن سے ہی خدا سے لگاﺅ رکھتے تھے اور ابتدائی عمر میں ہی بھجن لکھنے شروع کر دیے۔ سکھ مت میں ہندو مت کے ساتھ ساتھ اسلام کی تعلیمات بھی ملتی ہیں۔یہ بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ان کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب ہے جس میں زیادہ ترمسلمان صوفی شاعربابا فرید اور دیگر مسلمان صوفی شعرا کی کافیاں بھی شامل ہیں۔ ہندوستان کے پنجاب میںان کی اکثریت ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی آباد ہیں۔

بدھ مت
بدھ مت چھٹی صدی قبل مسیح میں ہندوستان میں پیدا ہونے والا مذہب ہے جس کے بانی مہاتما بدھ تھے۔یہ راجہ کے بیٹے تھے اور اپنی ابتدائی عمر سے ہی حقیقت کی تلاش میں سرکرداں ہو گئے تھے۔ ان کا نام سدھارتھ تھا اور گیان ملنے کے بعد بدھ کا لقب ملا اور تعلیمات کا پرچار کیا۔بدھ مت کے آٹھ بنیادی اصول ہیںجن میں سچا یقین ، سچا مقصد ، سچا بیان ، سچا کام ، سچی زندگی ، سچی محنت ، سچی من کی حالت ، سچا دھیان شامل ہیں۔بدھ مت ایک فلسفیانہ مذہب ہے اس میں انسان کو خود اپنی اصلاح کرنے کو کہا گیا ہے۔ مہاتما بدھ کے بعد ان کے شاگرد آنند نے پانچ سو اہم بھکشوﺅں کے ساتھ مل کر ان کی تعلیمات کو مرتب کیا۔ بدھ مت دنیا کے تین بڑے مذاہب میں سے ایک ہے ۔ہندوستان کے بعد چین اور جاپان کے لوگ بدھ مت سے زیادہ متاثرہیں۔اب دنیا کے تمام ممالک میں یہ آباد ہیں۔

جین مت
جین مت بھی بدھ مت کا ہم عصر مذہب ہے۔یہ ہندو مت میں پائی جانے والی ذات پات کے نظام کے خلاف ہے۔مہا ویر اس مذہب کے بانیوں میں اہم مقام رکھتا ہے۔مہاویر کا والد بھارت کی ریاست بہار میں واقع ایک چھوٹی سی ریاست کا حکمران تھا اور والد کی وفات کے بعد حکمرانی چھوڑ کر گیان کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔یہ ہندوستان کا سب سے طاقتور اور قدیم مذہب ہے۔مہاویر کے زمانے سے ہی اس میں دو فرقے بن گئے تھے۔بھارت کے صوبے گجرات میں ان کی اکثریت ہے جبکہ ممبیٰ میں ان کی تعداد بیس لاکھ سے زائد ہے۔جین مت میں راست عقیدہ ، راست علم اور راست رویہ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے ۔جین مت میں سچ بولنے والے کا بہت احترام ہے۔


کنفیوشس مت
چین کا سب سے با اثر مذہب کنفیوشس مت ہے۔کنفیوشس مت کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ابتداءمیں یہ کوئی باقاعدہ مذہب نہیں تھا بلکہ اخلاقیات کا ایک ضابطہ تھا جس نے رفتہ رفتہ مذہب کی صو رت اختیار کر لی۔کنفیوشس نے کبھی بھی اپنی خود کو اللہ کا نبی یا اوتار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔جس شخص نے کنفیوشس کی وفات کے بعد کنفیوشس مت کا پرچار کیا اس کا نام کنگ تھااور جب اس نے شہرت حاصل کی تو اسے کنگ گرو کا خطاب دیا گیا جسے کنگ قونسو بھی کہا جاتا تھا۔یہی لفظ جب لاطینی زبان میں تبدیل ہوا تو کنفیوشس میں ڈھل گیا۔کنفیوشس چھٹی صدی قبل مسیح میں پیداہوئے تھے ۔ان کی تحریری تعلیمات کا نام گلدستہ تحریر کہلاتی ہیں۔کنفیوشس چین کے ایک ایسے شاہی خاندان کے فرد تھے جو اپنی شان و شوکت کھو چکا تھا اور ان کے والدہ ماجدہ نے انتہائی تنگ دستی میں کنفیوشس کا اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔کنفیوشس نے اپنی ابتدائی زندگی میں ہی اپنے نظریات کا پرچار شروع کر دیا تھا۔34برس کی عمر میں ان کے ماننے والوں کی تعداد چار ہزار کے قریب پہنچ گئی تھی جو چینی معاشرے میں ایک حیرت انگیز بات تھی کیونکہ چینی معاشرے میں دانائی اور عقل کو بڑھاپے میں خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔کنفیوشس مذہب اور سیاست کو علیحدہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ انھوں نے اپنی زندگی میں اہم حکومتی عہدوں پر کام کیا اور اسے اپنے اثرورسوخ اور تصوارات کو پھیلانے میں استعمال کیا۔کنفیوشس انسان کے اندر کی نیکی اور بھلائی کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ان کا خیال تھا کہ اصل سچائی انسان کے دل کے اندر ہوتی ہے۔کنفیوشس کے مطابق نیک آدمی تین طرح کے خوف میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ایک آسمانی فیصلوں کا خوف ، دوسرے عظیم انسانوں کا خوف اور تیسرے روحانی لوگوں کا خوف۔کنفیوشس کی تعلیمات کے مطابق دنیا میں واحد خدائی قانون سچ ہے اور سچ تک رسائی صرف اور صرف خدا کے ذریعے ہو سکتی ہے۔

تاﺅ مت
تاﺅ مت بھی چین کا مذہب ہے۔اس کی ہیت بھی مذہب سے زیادہ اخلاقی فلسفہ کی ہے۔چین کے حوالے سے دوسرے ممالک کے لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ چین کے رہنے والے ایک ہی وقت میں بدھ مت ، تاﺅ مت اور کنفیوشس ازم کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں جبکہ دنیا کے باقی لوگ ایک وقت میں ایک ہی مذہب کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں۔قدیم چین کے لوگ کثرت پسند تھے اور اپنے اجداد کی ارواح کی پرستش کرتے تھے ۔کائنات کے بنایدی اصول کی وضاحت کےلئے قدیم چینی مفکرین نے ین اور یانگ کے تصورات کا استعمال کیا۔ین فطرت کی منفی قوت اور یانگ فطرت کی مثبت قوت کا کہا جاتا ہے۔ین میں تاریکی ،ٹھنڈک ، نسوانیت ،نمی ،زمین ،چاند اور سایہ شامل ہیں جبکہ یانگ میں روشنی ، نور ، گرمائش ، مردانگی ، خشکی اور سورج شامل ہیں۔قدیم چین میں بزرگوں کا غیر معمولی احترام کیا جاتا تھا۔تاﺅ مت کے بانی کا اصل نام لی پوہ تانگ تھالیکن وہ لاﺅتزو کے نام سے مشہور ہوئے جس کے معنی بوڑھا استاد کے ہیںکیونکہ چین میں بڑھاپے کو ہی زندگی کا اصل آغاز سمجھا جاتا ہے۔اس مذہب کی کتاب کا نام تاوتی چنگ ہے جس کا معنی فطرت کا راستہ ہے۔ تاﺅ مت کے بانی چھ سو چار قبل مسیح میں پیدا ہوئے اور ایک عرصے تک شاہی کتب خانے کے انچارج کے طور پر کام کیا اور بعد ازاں ملازمت ترک کردی اور ایک لمبی سیاحت کو نکل گئے اور بعد میں گوشہ نشینی اختیار کر لی۔تاﺅ انسانی زندگی کو ایک عظیم اثاثہ قرار دیتے ہیں۔انھوں نے تعلیم،دولت،طاقت ،خاندان اور شہرت وغیرہ کو زندگی کےلئے بیکار بوجھ قرار دیا جس سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔

شنتو مت
شنتو مت جاپان کا ایک اہم ترین مذہب ہے ۔شنتو چینی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی خدائی راستہ کے ہے۔شنتو مت قدرتی مظاہر کی پرستش کا نام ہے۔شنتو مذہب کا باقاعدہ آغاز تین سو سال قبل مسیح میں ہوا۔اس کی بنیادی تعلیمات کے مطابق انسان خدا کی مرضی سے فرار حاصل نہیں کر سکتا ، آباﺅ اجداد اور بزرگوں کی خدمت کرنا لازمی فرض ہے ، حکومت اور ریاست سے وفاداری کرنا ضروری ہے ،دیوتاﺅں کی اچھائی پر نظر رکھو، اپنے غصے پر قابو پاﺅ اور اپنی حدود کو فراموش نہ کرو، بیرونی تعلیمات کی اندھا دھند تقلید مت کرو ، اپنا کام دل جمعی اور لگن کرو۔ شنتو مت میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سے تبدیلیاں ہوئی اور اس پر بیرونی مذاہب کے بھی اثرات مرتب ہوئے ۔اس مذہب میں تیرہ فرقے ہیںاور جاپان کے سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل ہے۔

Last edited by حیدر Rehan; 13-05-09 at 05:26 PM..

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 387
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
Salmaan (15-05-10), shafresha (09-09-10), فاروق سرورخان (04-12-09), نیلم خان (14-05-10), نورالدین (14-05-10), مرزا عامر (29-08-10), اویسی (14-05-10), احمد بلال (23-05-10), حیدر (14-05-10), عارف اقبال (26-03-10)
پرانا 13-05-09, 08:17 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,719
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی جان کون سی کتاب سے "کاپی پیسٹ" کیا ہے؟
حوالہ دینا ضروری تھا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-05-10), Salmaan (15-05-10), فیصل ناصر (13-05-09), فاروق سرورخان (04-12-09), نیلم خان (14-05-10), نورالدین (14-05-10), مرزا عامر (29-08-10), حیدر (14-05-10), حیدر Rehan (14-05-09), سام (13-05-09)
پرانا 14-05-10, 10:04 AM   #3
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
بھائی جان کون سی کتاب سے "کاپی پیسٹ" کیا ہے؟
حوالہ دینا ضروری تھا!
السلام علیکم بھائی شاھفریشہ
جہاں سے یہ تحریر کاپی کی گئی ھے اس کا لنک یہ ھے
دنیا کے زندہ مذاہب

شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
Salmaan (15-05-10), shafresha (14-05-10), نورالدین (14-05-10), محمد عاصم (14-05-10), مرزا عامر (29-08-10), حیدر (14-05-10)
پرانا 14-05-10, 12:59 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,038
کمائي: 55,090
شکریہ: 11,755
1,557 مراسلہ میں 4,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دوسروں کی تخلیق سے فائدہ اٹھا کراس کا حوالہ دینا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے
ہم اس سوچ کو فروغ دیں گے
تو کل کلاں کو ہماری تحریر بھی کوئی کاپی کر کے ہمارا حوالہ دینے کی عادت اپنائے گا
اس طرح ہمیں یہ شکایت نہيں ہوگی
کہ ہمارے ہاں ہر کوئی ایک دوسرے کی تحریر چرا لیتا ہے
اور اصل مصنف کو کوئی فائدہ نہيں ہوتا

دوسری بات یہ کہ
تحریر کو نستعلیق میں ہی رکھیں
بس رنگ وہی رہنے دیں
باقی یہ کہ
قابل ذکر معلومات ہيں
اس انداز میں بھی معلومات ہونی چاہیئں
دعا ہے کہ اللہ آپ کو اسی طرح فائدہ مند کام کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
sahj (15-05-10), Salmaan (15-05-10), shafresha (14-05-10), ھارون اعظم (14-05-10), نیلم خان (14-05-10), مرزا عامر (29-08-10), احمد بلال (23-05-10), حیدر (14-05-10)
پرانا 14-05-10, 02:37 PM   #5
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,293
شکریہ: 25,518
10,377 مراسلہ میں 38,434 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ پاک ھم سب کو راہ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
sahj (15-05-10), Salmaan (15-05-10), shafresha (14-05-10), نورالدین (14-05-10), مرزا عامر (29-08-10), حیدر (14-05-10)
پرانا 14-05-10, 05:20 PM   #6
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
دوسروں کی تخلیق سے فائدہ اٹھا کراس کا حوالہ دینا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے
ہم اس سوچ کو فروغ دیں گے
تو کل کلاں کو ہماری تحریر بھی کوئی کاپی کر کے ہمارا حوالہ دینے کی عادت اپنائے گا

چلیں اسی بہانے اپ نے کچھ پڑھ تو لیا ۔ ۔ ۔ ۔بلکہ زیادہ پڑھ لیا ۔ ۔ ۔ ۔اچھا ہے ۔۔
رہی یہ بات کہ کل کلاں کو کوئی ہماری تحریر کاپی پیسٹ کرکے بغیر حوالے کہ لکھے گا ۔۔۔۔تو بھائی ہماری تحریر تو ایک بار پڑھ کو دوبارہ پڑھتا کوئی نہی ۔ ۔ ۔
تو کاپی پیسٹ کیا کرئے گا ۔ ۔

اسی حوالے سے ایک اور بات ۔ ۔بھائی میرے ہر ایک اپنا نام نہی چاہتا کچھ لوگ دنیا میں اچھی باتیں پھیلانا چاہتے ہیں ۔علم پھیلانا چاہیتے ہیں ۔تو اچھی بات کسی کی بھی ہو نام سے فرق نہی پڑتا ۔ ۔ اسے برا نہی لگے گا جس کا یہ مراسلہ تھا یا جس کتاب سے لیا تھا ۔ ۔ ۔


اپ ایک کام کیا کریں گھر جاکر روز بلب جلاتے ہوئے بچوں سے کہا کریں یہ بلب اڈیسن نے ایجاد کیا تھا
ٹی وی چلاتے ہوے ، کار چلاتے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ سب بتایا کریں کس نے بنایا کس نے ایجاد کیا ۔ ۔
یہ اپ سے خاص کر اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ کی تنقید میں سمجھ رہا ہوں
بہت آسان ہے تنقید کرنا ۔ ۔ ۔ ۔

میں مانتا ہوں کہ یہ پاک نیٹ کی بھی حدود ہیں کہ ایسا نہی کرنا چاہیے تھا مگر جب میں نے یہ مراسلہ جاری کیا تھا تو مجھے اتنا اندازہ نہی تھا کہ اس کا حوالہ دینا ضروری ہے ۔کیونکہ میں نیا تھا مجھے تو اردو بھی لکھنی نہی آتی تھی ۔۔۔۔۔
اور ان دنوں مجھ پر آئے دن بینڈ لگ رہا تھا ۔ ۔ پھر میرے مراسلات مٹا دیے گئے ۔ ۔ ایک یا دو ماہ بعد میرے مراسلوں میں سے یہ دو ایک جو پرانے مراسلے ہیں واپس ملے ۔ ۔ ۔ پھر دھیان نہی دیا ۔۔ ۔ ۔ ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
Salmaan (15-05-10), نورالدین (14-05-10), مرزا عامر (29-08-10), اویسی (29-05-10), احمد بلال (15-05-10), حیدر (14-05-10)
پرانا 14-05-10, 06:45 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
میں مانتا ہوں کہ یہ پاک نیٹ کی بھی حدود ہیں کہ ایسا نہی کرنا چاہیے تھا مگر جب میں نے یہ مراسلہ جاری کیا تھا تو مجھے اتنا اندازہ نہی تھا کہ اس کا حوالہ دینا ضروری ہے ۔کیونکہ میں نیا تھا مجھے تو اردو بھی لکھنی نہی آتی تھی ۔۔۔۔۔
ایک یا دو ماہ بعد میرے مراسلوں میں سے یہ دو ایک جو پرانے مراسلے ہیں واپس ملے ۔ ۔ ۔ پھر دھیان نہی دیا ۔۔ ۔ ۔ ۔
ویری لاجیکل۔ تو اب ریفرنس دے دیں اپنے آرٹیکل کے نیچے۔
اکثر میں بھی بھول جاتا ہون
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
Salmaan (15-05-10), ھارون اعظم (14-05-10), نورالدین (14-05-10)
پرانا 14-05-10, 07:34 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
اکثر میں بھی بھول جاتا ہون

میں بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ مطلب
آپ بھی ۔ ۔ ۔ ۔بھول جاتے ہیں‌؟؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
Salmaan (15-05-10), اویسی (29-05-10)
پرانا 15-05-10, 02:00 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ریحان بھائی ، ایک مشورہ میرا بھی قبول فرما لیجیے کہ حوالہ درج کرتے وقت رنگوں کو بھی کچھ دھیما کر دیجیے گا خاص طور پر تاو مت والا رنگ والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Salmaan (15-05-10), shafresha (09-09-10), ھارون اعظم (15-05-10), نورالدین (15-05-10), اویسی (29-05-10), احمد بلال (23-05-10), حیدر Rehan (15-05-10)
جواب

Tags
color, فرض, کنفیوشس, پاکستان, پسند, قرآن, چین, مکہ, مکمل, موت, موجودہ, موسیٰ علیہ السلام, محبت, اللہ, اسلام, استاد, اعلیٰ, بھائی, تلاش, تعلیم, خدا, راستہ, سیاست, عیسیٰ, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger