واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


دونوں ہاتھوں سے مصافحہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-06-11, 07:57 PM   #1
دونوں ہاتھوں سے مصافحہ
قاسم کیانی قاسم کیانی آف لائن ہے 11-06-11, 07:57 PM

دونوں ہاتھوں سے مصافحہ

اگر میں غلطی پر ہو تو میری اصلاخ فرمائے اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا کوئی فقہ کا مسئلہ نہیں ہے شاہد ہماری سمجھنے کی غلطی ہے اللہ حق سنے حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ئے
حصرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا ۔ جامع ترمذی میں ہے:حدثنا سویدنا عبداﷲ ناحنظلۃ بن عبیداﷲ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رجل یا رسول اﷲ ا لرجل منا یلقی اخاہ او صدیقہ اینحنی لہ قال لا، قال افلیتزمہ ویقبلہ قال لا، قال فیاخذ بیدہ ویصافحہ قال نعم.

یعنی ایک شخص نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں کوئی آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو کیا اس کے لئے جھکے؟ فرمایا: نہیں۔ عرض کی کیا اسے گلے لگائے اور پیار کرے ؟ فرمایا: نہیں۔ عرض کی: اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ فرمایا: ہاں۔

قرآن عزیز میں ہے
:بیدک الخیر انک علی کل شیئ قدیرتیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے بیشک تو ہر چیز پر قدرت والا ہے۔
ا لقرآن الکریم ۳/ ۲۶)
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ تیرے ایک ہی ہاتھ میں بھلائی ہے؟ معاذاللہ دوسرے میں نہیں۔

احمد، بخاری، مسلم اور ترمذی حضرت سیدنا سعد بن مالک بن سنان رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے۔
حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان اﷲ تعالٰی یقول لاھل الجنۃ یا اھل الجنۃ فیقولون لبیک یاربنا وسعدیک والخیر فی یدیک .بیشک اللہ تعالٰی جنتیوں سے فرمائے گا: اے جنت والو۔ عرض کریں گے۔ لبیک اے رب ہمارے! ہم تیر ی خدمت میں حاضر ہیں، تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہے۔

اسی طرح تفسیر مقام محمود میں حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ نسائی نے بسند صحیح اور حاکم نے بافادہ تصحیح اور طبرانی اور ابن مندہ نے روایت کی ___ یوں آئی:یجمع اﷲ الناس فی صعید واحد فلا تکلم نفس فاول مدعو محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیقول لبیک وسعدیک والخیر فی یدیک ۔اللہ تعالٰی روز قیامت لوگوں کو ایک میدان میں جمع میں فرمائے گا تو کوئی کلام نہ کرے گا سب سے پہلے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ندا ہوگی، حضور عرض کریں گے : الٰہی! میں حاضر ہوں خدمتی ہوں تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہے۔
ابن مندہ نے کہا:حدیث۔ مجمع علی صحۃ اسنادہ وثقۃ رجالہ۔ اس حدیث کی صحت اسناد وعدالت روات پر اجماع ہے۔

(المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۶۴۲)

اللہ عزوجل فرماتا ہے:قل ان الفضل بیداﷲ۔تو فرماؤ بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
کیا اس کے یہ معنٰی ہیں کہ ایک ہی ہاتھ میں فضل ہے؟
(القرآن الکریم ۳/ ۷۳)

اب رہا یہ کہ دو ہاتھ سے مصافحہ کا ثبوت کیا ہے۔

صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا:علمنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکفی بین کفیہ التشھد۔حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے کر مجھے التحیات تعلیم فرمائی۔


(صحیح البخاری کتاب الاستیذان باب المصافحۃ(

امام المحدثین امام بخاری نے اپنی جامع صحیح کی کتاب الاستیذان میں مصافحہ کے لئے جو باب وضع کیا اس میں سب سے پہلے اسی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نشان دیا۔ پھر اس باب مصافحہ کے برابر دوسراباب وضع کیابَابُ الْاَخْذِ بِالیَدینِ یعنی یہ باب ہے دونوں ہاتھ میں ہاتھ لینے کا ۔ اس میں بھی وہی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ مسندا روایت کی، اگر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰیٰ علیہ وسلم کا یہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ لینا مصافحہ نہ تھا تو اس حدیث کوباب المصافحہ سے کیا تعلق ہوتا۔ صحیح بخاری کی اس تحریر پر دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت۔ ہاں اگر حضرات منکرین جس طرح ائمہ فقہ کو نہیں مانتے اب امام بخاری کی نسبت کہہ دیں کہ وہ حدیث غلط سمجھتے تھے ہم ٹھیک سمجھتے ہیں۔ تو وہ جانیں اور ان کا کام۔

معہذا مصافحہ دونوں جانب سے صفحات کف ملانا ہے اور یہ معنی اس صورت کفّی بَیْنَ کفیہ (میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے۔) میں ضرور متحقق ، تو اس کے مصافحہ ہونے سے انکار پر کیا باعث رہا____ بعض جہلا ء کا کہنا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے تو ایک ہی ہاتھ تھا۔ یہ محض جہالت وادعائے بے ثبوت ہے۔ دونوں طرف سے دونوں ہاتھ ملائے جائیں توایک کا ایک ہی ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان ہوگا نہ کہ دونوں___وَھٰذَا ظَاہِرجدًّا (اوریہ بہت زیادہ ظاہرہے۔) اور جب حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے دونوں ہاتھ کا ثبوت ہوا تو ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف سے ثبوت نہ ہونا کیا زیر نظر رہا۔




اکابر علماء عامہ کتب مثل خزانۃ الفتاوٰی وفتاوٰی عالمگیریہ وفتاوٰی زاہدی ودرمختار ومنتقٰی شرح ملتقی ومنیۃ الفقہاء وشرح نقایہ ورسالہ علامہ شرنبلالی ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر و فتح اللہ المعین للعلامۃ السید ابی المسعود الازہری وحاشیہ طحطاوی وحاشیہ شامی وغیرہامیں تصریح فرماتے ہیں کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے سنت ہے۔ ہندیہ میں ہے:یجوز المصافحۃ والسنۃ فیہا ان یضع یدیہ علی یدیہ من غیر حائل من ثوب او غیرہٖ کذا فی خزانۃ الفتاوٰی ۱؎۔مصافحہ جائز ہے۔ سنت اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طور پر رکھے کہ درمیان میں کوئی کپڑا یا اورکوئی چیز حائل نہ ہو، ایسے ہی خزانۃ الفتاوٰی میں ہے۔

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹)

شرح تنویر پھر حواشی الکنز للسید میں ہے:فی القنیۃ السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ ۲؎۔قنیہ میں ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھ سے سنت ہے۔

(۲؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴)

شرح متن الحلبی للعلامۃ العلائی پھر ردالمحتار میں ہے:السنۃ ان تکون بکلتا یدیہ ۳؎۔سنت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرے۔

(۳؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۴)

جامع الرموز میں ہے:السنۃ فیہا ان تکون بکلتا یدیہ کما فی المنیۃ ۳؎۔مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے کرے۔ جیسا کہ منیہ میں ہے۔

(۴؎ جامع الرموز کتاب الکراہیۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۶)

شرح علامہ شیخی زادہ قاضی رومی میں ہے:السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ ۱؎مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کرے۔

(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتا ب الکراہیۃ فصل فی احکام النظر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۱)


شیخ محقق مولاناعبدالحق محدث دہلوی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:مصافحہ سنت است نزد ملاقات وباید کہ بہردو دست بود ۲؎۔ملاقات کے وقت مصافحہ سنت ہے اور چاہئے کہ دونوں ہاتھوں سے ہو۔

(۲؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ المصابیح کتا ب الآداب باب المصافحہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۰)

مخالفین کا یہ دعوٰی ہے کہ فقہاء کی جو بات ہم اپنے زعم میں حدیث کے خلاف سمجھیں گے اسے نہ مانیں گے یہاں تک کہ ان کے ارشادات کو اصلا کسی حدیث کے مخالف نہیں بتاسکتے۔ نہ ماننے کی وجہ کیا ہے مگریہ کہے کہ فقہ وفقہاء سے خاص عداوت ہے کہ اگر چہ ان کی بات میں ادعائے مخالف حدیث کی راہ نہ پائیں تاہم قابل تسلیم نہیں جانتے۔

ثالثا صحیح بخاری شریف کے اسی باب مذکور میں ہے:صافح حماد بن زید ابن المبارک بیدیہ ۳؎۔امام حماد بن زید نے امام اجل عبداللہ بن مبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔

(۳؎ صحیح البخاری کتاب الاستیذان باب الاخذ بالیدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۲۶)

تاریخ امام بخاری میں ہے:حدثنی اصحابنا یحٰیی وغیرہ عن اسمعیل بن ابراہیم قال رأیت حماد بن زید وجاء ہ ابن المبارک بمکۃ فصافحہ بکلتا یدیہ؎۔یعنی مجھ سے میرے اصحاب یحیٰی ابوجعفر بیکندی وغیرہ اسمعیل بن ابراہیم سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حماد بن زید کو دیکھا اور ابن المبارک ان کے پاس مکہ معظمہ میں آئے تھے تو انھوں نے ان سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔

(۴؎ التاریخ البخاری باب اسمعیل ترجمہ ۱۰۸۴ دارالبازمکہ المکرمہ ۱/ ۳۴۳)

یہ امام اجل حماد بن زید ازدی بصری قدس سرہ اجلہ ائمہ تبع تابعین سے ہیں۔ انس بن سیرین و ثابت بنانی وعاصم بن بہدلہ وعمرو بن دینار ومحمد بن واسع وغیرہم علمائے تابعین شاگردان حضرت انس بن مالک وعبداللہ بن عمر و عبداللہ بن عباس وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم سے علم حاصل کیا۔ اور اجلہ ائمہ محدثین و علمائے مجتہدین مثل امام سفیان ثوری وامام یحیٰی بن سعید قطان وامام عبدالرحمن بن مہدی وامام علی بن مدینی وغیرہم کہ امام بخاری وامام مسلم کے اساتذہ واساتذۃ الاساتذہ تھے اس جناب کے شاگرد ہوئے امام عبدالرحمن بن مہدی فرمایا کرتے:ائمۃ الناس فی زمانھم اربعۃسفٰین بالکوفۃ ومالک بالحجاز والاوز اعٰی بالشام وحماد بن زید بالبصرۃ ۱؎مسلمانوں کے امام اپنے زمانے میں چار ہیں۔ کوفہ میں سفیان۔ حجاز میں مالک، شام میں اوزاعی، بصرۃ میں حماد بن زید۔

(۱؎ تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰)

اور یہ بھی فرماتے :مارأیت اعلم من مالک وسفین وحماد بن زید ۲؎۔میں نے مالک وسفیان وحماد بن زید سے زیادہ کوئی علم والا نہ دیکھا۔

(۲؎ تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰)

اوریہ بھی فرماتےکہ :مارأیت بالبصرۃ افقہ منہ ولم ار احدا اعلم بالسنۃ منہ ۳؎۔میں نے بصرے میں ان سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہ دیکھا اور میں نے ان سے زیادہ حدیث جاننے والا کوئی نہ پایا۔

(۳؎ تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰)

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:حماد بن زید من ائمۃ المسلمین ۴؎۔حماد بن زید مسلمانوں کے اماموں میں سے ہے:

(۴؎ تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰)

اس جناب نے ماہ رمضان ۱۷۹ھ میں وفات پائی، جس دن انتقال ہوا یزید بن زریع بصری کو خبر پہنچی فرمایا:الیوم مات سید المسلمین ۵؎آج مسلمانوں کے سردار نے انتقال کیا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔ذکر کل ذٰلک الامام الذھبی فی تہذیب التھذیب۔امام ذہبی نے ان میں سے ہر ایک کو تہذیب التہذیب میں ذکر فرمایا۔
(۵؎ تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰)


شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے ہیں:نہ کردن چیزے دیگر است ومنع فرمودن چیزے دیگر ۳؎۔نہ کرنا اور چیز ہے اور منع کرنا اور چیز۔پھر کیسی جہالت ہے کہ نہ کرنے کو منع کرنا ٹھہرا رکھاہے۔

(۳؎ تحفہ اثنا عشریہ باب دہم درمطا عن خلفائے ثلثہ الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۶۹)
سابعامصافحہ امو رمعامشرت سے ایک امر ہے جس سے مقصود شرع باہم مسلمانوں میں ازدیاد الفت اور ملتے وقت اظہار انس ومحبت ہے حدیث میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:تصافحوا یذھب الغل عن قلوبکم ۴؎۔ اخرجہ ابن عدی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما ونحوہ ابن عساکر عن ابی ھریرۃ اولہ تھادوا وتحابوا ونحوھذا اخرجہ مالک فی المؤطا ۱؎ بسند جید عن عطاء الخراسانی مرسلا ۔آپس میں مصافحہ کرو تمھارے سینوں سے کینے نکل جائیں گے۔ (ابن عدی نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے اس کی تخریج کی ہے اور اس کی مثل ابن عساکر نے ابوہریرہ سے روایت کیا جس کی ا بتداء ان الفاظ سے ہے ہدیہ لینا دینا چاہئے تم آپس میں محبت کروگے اورا س کی مثل امام مالک نے مؤطا میں جید سند کے ساتھ مراسل طریقہ پر عطاء خراسانی سے روایت کی ہے۔

(۴؎ الکامل لابن عدی ترجمہ محمد بن ابی زعیزعۃ الخ دارالفکر بیروت ۶/ ۲۲۱۱)
(کنز العمال بحوالہ عد عن ابن عمر حدیث ۲۵۳۴۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۱۳۰)
(الترغیب والترھیب بحوالہ مالک عن عطاء الخراسانی الترغیب فی المصافحۃ مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۳۴)
(۱؎ مؤطا امام مالک باب ماجاء فی المہاجرۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۷۰۷)
(کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۱۵۰۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/۱۱۰)

شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں :السرفی المصافحۃ وقولہ مرحبا بفلان ومعانقۃ القادم ونحوھا انھا زیادۃ المؤدۃ والتبشیش ورفع للوحشۃ والتدابر ۲؎۔مصافحہ اور مرحبا فلان کو، اور آنے والے سے معانقہ جیسے امور میں محبت اور خوشی زیادہ ہوتی ہے اور ان سے وحشت اور اجنبیت ختم ہوتی ہے۔
(۳؎حجۃ اللہ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ /۱۹۸)

اسی میں ہے :التحابب فی الناس خصلۃ یرضا ھااﷲ تعالٰی وافشاء السلام اٰلۃ صالحۃ لانشاء المحبۃ وکذالک المصافحۃ وتقبیل الید ونحوذلک ۳؎۔لوگوں میں محبت وہ خصلت ہے جو اللہ تعالٰی کی رضا کا باعث ہے اور سلام کی عادت محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور یوں ہی مصافحہ اور دست بوسی وغیرہ بھی
(۲؎ حجۃ اللہ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ /۱۹۷)

اور بیشک یہ امور عرف وعادت قوم پر مبنی ہوتے ہیں جو امر جس طرح جس قوم میں رائج اور ان کے نزدیک الفت وموانست اور ا س کی زیادت پر دلیل ہو وہ عین مقصود شرع ہوگا جب تک بالخصوص اس میں کوئی نہی وارد نہ ہو وجہ یہ کہ اس کی کسی خصوصیت سے شرع مطہر کی کوئی خاص غرض متعلق نہیں۔ اصل مقصود سے کام ہے جس ہیئت سے حاصل ہو۔ آخر نہ دیکھا کہ انھیں امور میں جو وقت ملاقات بغرض مذکور مشروع ہوئے ایک مرحبا کہنا تھا کہ اس سے بھی خوشدلی اور اس شخص کے آنے پر فرحت ظاہر ہوتی ہے۔

حدیث براء ابن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے گزرا کہ حضور صلی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :لایلقی مسلم مسلما فیر حب بہ ویأخذ بیدہ الاتناثرت الذنوب بینھما ۱؎۔ الحدیث۔جو مسلمان مسلمان سے مل کر مرحبا کہے اور ہاتھ ملائے ان کے گناہ جھڑ جائیں۔

(۱؎ نصب الرایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء نوریہ رضویہ لاہور ۴ /۵۶۶)
(شعب الایمان حدیث ۸۹۵۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۴۷۵)

پھر بلاد عجمیہ میں اس کا رواج نہیں، فارس میں اس کی جگہ خوش آمدی کہتے ہیں۔ اور ہندوستان میں آئیے آئیے تشریف لائیے، اورا س کی مثل کلمات ____ اب کوئی عاقل اسے مخالفت حدیث ومزاحمت سنت نہ جانے گا، رات دن دیکھا جاتا ہے کہ خود حضرات منکرین میں دوستوں کے ملتے وقت اسی قسم کے الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ کیوں نہیں بدعت وممنوع وخلاف سنت قرار پاتے۔ تو وجہ کیا کہ اصل مقصود شرع وہی اظہار خوشدلی بغرض ازدیاد محبت ہے۔ یہ مطلب عر ب میں لفظ مرحبا سے مفھوم ہوتا تھا۔ یہاں ان لفظوں سے ادا کیا جاتاہے۔ تو غرض شریعت کی ہر طرح حاصل ہے۔ خود مصافحہ بھی شرع مطہر کا اپنا وضع فرمایا ہوا نہیں بلکہ اہل یمن آئے انھوں نے اپنے رسم ورواج کے مطابق مصافحہ کیا، شرع نے اس رسم کو اپنے مقصود یعنی ایتلاف مسلمین کے موافق پاکر مقرر رکھا۔ اگر رسم کسی اور طریقے سے ہوتی اور اسکی خصوصیت میں کوئی محذور شرعی نہ ہوتا تو شرع اسے مقرر رکھتی اور ایسے ہی وعدہائے ثواب اس پر فرماتی۔ ہاں! وہ بات جس میں کسی طرح مقاصد شرع سے مخالفت ہوبے شک ناپسند ہوگی اگر چہ کسی قوم میں اس کی رسم پڑی ہو۔ جیسے سلام کے عوض بلا ضرورت شرعیہ انگلی یا ہتھیلی کا اشارہ کہ بوجہ مشابہت یہود ونصارے اس سے ممانعت آئی، حدیث ضعیف میں ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ـ

لیس منامن تشبہ بغیرنالاتشبہوا بالیہود ولابالنصارٰی فان تسلیم الیھود الاشارۃ بالاصابع وان تسلیم النصاری بالاکف ۲؎ رواہ الترمذی والطبرانی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال الترمذی ھذا حدیث اسنادہ ضعیف۔ہم میں سے نہیں جو ہمارے غیر سے مشابہت پیدا کرے۔ یہودونصارٰی سے تشبہ نہ کرو کہ یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور نصارٰی کا سلام ہتھیلیوں سے ہے (اس کو ترمذی اور طبرانی نے عمرو بن شعیب سے انھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے اپنے دادا سے روایت کیا۔ ترمذی نے کہا اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے۔ ۲؎

(۲؎ جامع الترمذی کتاب الاستیذان باب ماجاء فی فضل الذی بیدأ بالسلام امین کمپنی دہلی ۲ /۹۴)

جو امر نوپیدا کہ کسی سنت ثابتہ کی ضد واقع اور اس کا فعل فعل سنت کا مزیل ورافع ہو وہ بیشک ممنوع ومذموم ہے جیسے السلام علیکم کی جگہ آج کل عوام ہند میں آداب مجرا کو رنش، بندگی کا رواج ہے ____اگر غریب بندے بعض معززوں سے بطریق سنت مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم السلام علیکم کہیں اپنے حق میں گویا گالی سمجھیں، اس احداث نے ان سے سنت سلام اٹھادی۔ یہ بیشک ذم وانکار کے لائق ہے بخلاف دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے کہ بالفرض اگر سنت میں ایک ہی ہاتھ کا رواج تھا تو دو ہاتھ سے مصافحہ سے وہ بھی ادا ہوئی اور اس کے ساتھ ایک اور امر زائد ہوا جو کسی طرح اس کے منافی نہ تھا، اس میں سنت ثابتہ کا اصلا رد ورفع نہیں پھر ممنوع ومذموم ٹھہرا نا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔

امام حجۃ الاسلام محمد غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:انما البدع المذمومۃ ماتصادم السنن الثابتۃ ۱؎۔بدعت مذمومہ وہی ہے جو سنن ثابتہ کا ردکرے۔

(۱؎ احیاء العلوم کتاب آداب السماع والوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۲/ ۳۰۵)

یہاں مصافحے کی نظیر تلبیہ حج ہے کہ صحاح ستہ میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اسی قدر منقول :لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک۔

پھر خود حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما با آں شدت اتباع سنت اس میں یہ لفظ بڑھایا کرتے:لبیک وسَعَدَیْک وَالْخَیْرُ بَیَدَ یْک وَالرَّغْبَاءُ اِلَیْکَ والْعَمْل۔اوریہ زیادت امیر المومنین فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی فرماتے

کما اخرجہ مسلم ۲؎۔

(۲؎ صحیح مسلم کتاب الحج باب التلبیۃ وصفتہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۵)

اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لبیک عددالتراب زیادہ کیااخرجہ اسحق بن راھویۃ فی مسندہ ۳؎۔

(۳؎ نصب الرایۃ بحوالہ اسحق بن راہویہ کتاب الحج باب الاحرام نوریہ رضویہ لاہور ۳ /۲۹)

اور سید نا امام حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نےلبیک ذاالنعماء والفضل الحسن بڑھایا اخرجہ ابن سعد فی الطبقات ۴؎

(۴؎ نصب الرایۃ بحوالہ ابن سعد فی الطبقات کتاب الحج باب الاحرام نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۳۰)

ہمارے علماء اس کی وجہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:ان المقصود الثناء واظہار العبودیۃ فلایمنع من الزیادۃ علیہ۔ قالہ الامام برھان الدین علی ابوالحسن الفرغانی قدس اﷲ تعالٰی سرہ الصمد انی فی الہدایۃ ثم الامام فخر الدین الزیلعی فی تبیین ۱؎ الحقائق شرح کنز الدقائق وغیرھمافی غیرھما۔تلبیہ سے مقصود اللہ تعالٰی کی تعریف اور بندگی کا اظہار ہے تو اس پر اور کلمات بڑھانا ممنوع نہیں (اسے برہان الدین علی ابوالحسن فرغانی قد س سرہ الصمدانی نے ہدایہ میں پھر امام فخر الدین زیلعی نے تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں اور دیگر حضرات نے اپنی کتابوں میں فرمایا۔ (ت)

(۱؎ الہدایۃ کتاب الحج باب الاحرام المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۲۱۷)
(تبیین الحقائق کتاب الحج باب الاحرام المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۲ /۱۱)

یونہی جبکہ مصافحے سے اظہار محبت وازدیاد الفت مقصود تو دوسرے ہاتھ کی زیادت کہ ہر گز اس کے منافی نہیں بلکہ بحسب عرف بلد مؤیدومؤکد ہے۔ زنہار ممنوع نہیں ہوسکتی۔

یہ حدیث عسکری نے کتاب الامثال میں یوں روایت کی :خالطوا الناس باخلاقھم ۲؎۔لوگوں کے ساتھ ان کی عادتوں سے میل کرو۔

(۲؎ کنز العمال بحوالہ العسکری فی الامثال حدیث ۵۲۳۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۳ /۱۹)
عاشراً حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:خالقواالناس باخلاقھم اخرجہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین ۱؎۔لوگوں سے وہ برتاؤ کرو جس کے وہ عادی ہورہے ہیں (اس کو حاکم نے روایت کیا اور اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا۔


جب دوہاتھوں سے مصافحہ اب تمام مسلمانوں میں رائج ہے____ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو توفیق رفیق عنایت فرمائے (آمین!)


ماخوز فتاوی رضویہ
[/QUOTE]

قاسم کیانی
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 39
شکریہ: 39
22 مراسلہ میں 66 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 294
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے قاسم کیانی کا شکریہ ادا کیا
مہتاب (12-06-11), سحر بٹ (13-06-11), عروج (12-06-11)
پرانا 11-06-11, 09:20 PM   #2
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,336
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واعتصموا بحبل اللٰہ جمیعا و لا تفرقوا
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (11-06-11), قاسم کیانی (12-06-11)
پرانا 12-06-11, 11:54 AM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 39
کمائي: 775
شکریہ: 39
22 مراسلہ میں 66 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
واعتصموا بحبل اللٰہ جمیعا و لا تفرقوا
میں نے بھی تو یہ ہی کہا ہے فرقے مت بناو
قاسم کیانی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 12-06-11, 02:41 PM   #4
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,512
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی تحریر ہے اگر چہ پوری پڑھ نہیں سکا ۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
ابوسعد کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسم کیانی (13-06-11)
پرانا 12-06-11, 05:26 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک ہاتھ سے کریں یا دو ہاتھ سے کریں ۔۔ اگر اخلاص اور اتباع سنت کی نیت کے ساتھ کریں، دل بھی ہاتھوں کا ساتھ دے رہا ہو تو اللہ اجر دیے گا، اور یہ مصافحہ محبت و اخوت بڑھانے کا باعث ہو گا۔
لیکن اگر دل صاف نہ ہوں اور ہم انہی باتوں میں الجھے رہیں کہ ایک سے کرنا ہے یا دو سے تو کوئی اہم فائدہ نہیں ہوگا۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
قاسم کیانی (13-06-11), عروج (12-06-11)
پرانا 12-06-11, 05:43 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مَیں تو گرمجوشی کو ظاھر کرنے کے لیے اور سنّت کی ارادے سے ھی ھاتھ ملایا کرتی ھوں سہیلیو ں یا بہنوں سے۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسم کیانی (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 10:09 AM   #7
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 39
کمائي: 775
شکریہ: 39
22 مراسلہ میں 66 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابوسعد مراسلہ دیکھیں
اچھی تحریر ہے اگر چہ پوری پڑھ نہیں سکا ۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے
بہت شکریہ پسند کرنے کا اللہ آپ کے قول وفعل میں برکت عطا فرماے آمین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
ایک ہاتھ سے کریں یا دو ہاتھ سے کریں ۔۔
مجھے امید ہے کہ آپ میری بات کا برا نہیں مناے گے بھاہی ہم نے دیکھنا سنت ہو کہ خدیث میں کیا ہے عموماً کہا جاتا ہے کہ ایک ہاتھ سے سنت ہے اس لیے میں نے اس تھریڈ کو مرتب کیا کہا جاتا ہے کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کریں یا دونوں سےاس میں کیا حرج ہے تو میرا ان سے سوال ہے کہ کیا مسلمان جب بھی نماز کے لئے کھڑا ہو تو وضوء کی جگہ غسل کر لے؟
یا جب بھی وضوء کرے تو استنجہ بھی کر لے؟
کیونکہ! کرنے میں کیا حرج ہے؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
اگر اخلاص اور اتباع سنت کی نیت کے ساتھ کریں، دل بھی ہاتھوں کا ساتھ دے رہا ہو تو اللہ اجر دیے گا، اور یہ مصافحہ محبت و اخوت بڑھانے کا باعث ہو گا
میں آپ کی بات کو سولہ عانے صیح کہتا ہو
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
لیکن اگر دل صاف نہ ہوں اور ہم انہی باتوں میں الجھے رہیں کہ ایک سے کرنا ہے یا دو سے تو کوئی اہم فائدہ نہیں ہوگا
دل صاف ہے عشق نبی ہے تو سنت کی بات کر رہے ہیں ہم تو اس بات پر جھگڑا کرتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کو سنت کا نام مت دو انسان کا دل صاف اس وقت ہوتا ہے جب اس میں عشق نبی ہو اور جو وہ سن لے کہ میرے نبی نے ایسافرمایا ہے یا ایسا کیا ہے تو کسی مسلمان کے لیے اس کا نہ کرنے کی حجت ہی نہیں رہتی
قاسم کیانی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے قاسم کیانی کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (14-06-11)
پرانا 13-06-11, 10:54 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,018
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : قاسم کیانی مراسلہ دیکھیں
مجھے امید ہے کہ آپ میری بات کا برا نہیں مناے گے بھاہی ہم نے دیکھنا سنت ہو کہ حدیث میں کیا ہے عموماً کہا جاتا ہے کہ ایک ہاتھ سے سنت ہے اس لیے میں نے اس تھریڈ کو مرتب کیا کہا جاتا ہے کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کریں یا دونوں سےاس میں کیا حرج ہے تو میرا ان سے سوال ہے کہ کیا مسلمان جب بھی نماز کے لئے کھڑا ہو تو وضوء کی جگہ غسل کر لے؟
یا جب بھی وضوء کرے تو استنجہ بھی کر لے؟
کیونکہ! کرنے میں کیا حرج ہے؟
جو لوگ ایک ہاتھ ملانا سنت کہتے ہیں کیا ان کے پاس اس کے سنت ہونے کے دلائل نہیں ہیں؟؟
اگر ہیں تو پھر اگر وہ اخلاص کے ساتھ اور اتباع سنت کی نیت سے ایسا کر تے ہیں تو اللہ تعالی ان کو اجر دے گا ’’انہ علیم بذات الصدور‘‘

سنت کے مطابق زندگی کا ہر ہر عمل کرنا ہمارے لیے لازم ہے۔ لیکن ایسے فروعی معاملات جن پر بے شمار مواد ہر جگہ موجود ہو اور جانبین کی طرف سے اپنے اپنے دلائل نہایت ہی واضح انداز میں پیش کیے جا چکے ہوں ان موضوعات کے بجائے ایسے موضوعات پر کام کی ضرورت ہے جو وقت کی ضرورت ہیں اور جن سے امت مسلمہ کے بنیادی اصولوں اور موجودہ مسائل کے حوالے سے کچھ فائدہ ہو۔

یہ میری رائے ہے۔ باقی آپ ماشاء اللہ سمجھدار ہیں اور حالات اور وقت کے تقاضوں کو بخوبی سمجھتے ہوں گے۔
و السلام
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (13-06-11), قاسم کیانی (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), عبداللہ آدم (05-07-11)
جواب

Tags
کتابوں, کراچی, نظر, مکہ, مقام محمود, آدمی, ایران, اللہ, امیر, بھائی, بندگی, تعلیم, حدیث, حسن, حضرات, خلاف, خبر, دوست, رمضان, سردار, شخص, عالم, عزیز, عسکری, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہاتھوں اور ناخنوں کے دھبے دور کرنا gorgeous فیشن اور بیوٹی ٹپس 2 01-01-12 02:25 AM
ہاتھوں اور پیروں کی حفاظت سائرہ علی فیشن اور بیوٹی ٹپس 18 01-01-12 02:04 AM
رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد بیوی کے ہاتھوں میاں کی پٹائی کا منظر گوہر عمومی بحث 2 15-10-10 08:33 AM
بھلا کیا پڑھ لیا اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں گل رعنا شعر و شاعری 0 28-01-09 04:50 PM
جمہوری عمل انتہا پسندوں کے ہاتھوں یر غمال نہیں بنے دوں گا،صدر پر ویز خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 08:59 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger