واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


::::::: دِلوں میں اِیمان کو تازہ رکھنے کا ایک مجرب طریقہ :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-01-12, 09:25 PM   #1
::::::: دِلوں میں اِیمان کو تازہ رکھنے کا ایک مجرب طریقہ :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آن لائن ہے 27-01-12, 09:25 PM

بِسَّمِ اللہِ و الحَمدُ للہِ وَحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبی بَعدہ ُ
اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں

::::::: دِلوں میں اِیمان کو تازہ رکھنے کا ایک مجرب طریقہ :::::::

عبداللہ بن عَمرو بن العاص رضی اللہ عنھُما کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےارشاد فرمایا (((((إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ الْخَلِقُ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ ::: بے شک تُم لوگوں کے سینے میں اِیمان مَیل زدہ ہوتا رہتا ہے جس طرح کہ کپڑا مَیلا ہوتا ہے ، لہذا تُم لوگ اللہ سے سوال کیا کرو کہ وہ تمہارے دِلوں میں اِیمان کو تازہ کر دیا کرے))))) المستدرک الحاکم ، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ /حدیث 1590 ،
اللہ تعالیٰ نے اِیمان والے بندوں کو اس طرح ایک مسسلسل جِہاد میں ڈال رکھا ہے کہ ہر وقت انہیں اپنے اِیمان کی حالت اور اس میں کمزوری کی صورت میں اس کی تجدید کی مشقت میں رہیں،
اس حدیث میں ہمیں یہ مذکورہ بالا سبق بھی دیا گیا ہے ، اور یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ اِیمان بڑھتا اور گھٹتا ہے ، اور گھٹنے کی صورت میں اس کی تجدید اور تازگی کے لیے ہمیں اللہ کی طرف ہی رجوع کرنا ہے،
نیک زمانوں کے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ """ میں نے اپنے نفس پر چالیس سال تک جہاد کیا یہاں تک کہ وہ اللہ کے دِین پر استقامت پا گیا """ یہ بات دوسرے بزرگوں تک پہنچی تو انہوں نے کہا """ اگر اس کا نفس استقامت پا گیا ہے تو اس کے لیے تو بڑی خوش خبری ہے ، مجھے تو اپنے نفس پر جِہاد کرتے ہوئے چالیس سال سے زیادہ ہو گئے لیکن وہ استقامت والا نہیں ہوا """
یہ ان لوگوں کا حال تھا جو بلا شبہ ساری اُمت میں سے افضل ترین لوگوں میں سے تھے، اور جن کا ماحول تاریخء اسلام کے صاف ترین ماحول میں پلے بڑھے تھے ، اور ان کے مجاھدہ ء نفس کا یہ عالم تھا، توذرا غور فرمایے کہ آج ہمارے دِل اور اس میں ہمارے اِیمان کی کیا حالت ہو گی ؟ کہ ہمارے چاروں طرف ہر وقت گمراہ کُن دلچسپیاں اور خیالات اور مشغولیات ہیں ،
اس زمانے میں گناہ کرنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سامانء گناہ حاصل کرنا پڑتا تھا ، اور اس کواستعمال کرنے کے لیے کہیں کوئی بہت چُھپا ڈھکا سا مکان ء گناہ تلاش کرنا پڑتا تھا ، لیکن اب ہمارے زمانے میں تو گناہ اور برائی خود سے ہمارے دِلوں اور زندگیوں میں گھسی جاتی ہے، صرف ایک نظر اُٹھایے ، اپنی انگلیوں اور ز ُبان کو تھوڑی سے حرکت دیجیے ، گناہ کا سامان میسر ہو جاتا ہے ، رہا مسئلہ مکان کا تو اب بے گناہ زندگی بسر کرنے کے لیے مکان کی تلاش کرنا پڑتی ہے ، انا للہ و انا الیہ راجعون ،
پس یاد رکھیے کہ دِلوں کی سختی جو کہ اِیمان کی کمزوری کا بڑا سبب ہے ، اس سختی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب ایسے ماحول ومعاشرے میں رہنا ہے جس میں گناہ کی کثرت ہو اور اگر سر عام ہو تو یہ دوہری مصیبت ہے ، اس کمزوری سے بچنے کے لیے سب سے أہم طریقہ اللہ سبحانہ ُ وتعالی کا ذِکر ہے ، جی ہاں ، اللہ کا ذِکر ، اللہ کی محبت اور اللہ سے خوف اور اللہ کے تقویٰ کو زندہ رکھتا ہے ، مضبوط کرتا ہے، جو اِیمان میں اضافے اور اس کی مضبوطی کا سبب بنتا ہے ،
اور اللہ کے ذِکر کا سب بڑا اور بہترین اور مؤثر ترین ذریعہ اللہ کی کتاب قران الکریم کا تدبر کے ساتھ مطالعہ ہے ،
ذِکر و عِلم کی محفلیں ، اہل اللہ عُلماءکی مجالس ، اللہ کی مخلوق میں غور و فِکر ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مذکورہ بالا حدیث مبارک کے مطابق اللہ سے دُعا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ سب نیک کام کرنے سے اِیمان پر لگ جانے والی مَیل کچیل صاف ہوتی ہے اور اِیمان کی تجدید اور تازگی ہوتی ہے ،
اور اپنے لُطف و کرم سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دِلوں میں اِیمان کو محبوب بنا دیتا ہے جو اِیمان کو اپنے دِلوں میں قائم رکھنے ، ز ُبانوں پر جاری رکھنے ، اور اپنے اعمال میں ظاہر رکھنے کی کوشش کرتے ہی رہتے ہیں ،
یہاں یہ بات خُوب یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ کا ذِکر عِبادت ہے اور اللہ کے ہاں کوئی عِبادت بھی اخلاص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کی موافقت کے بغیر قُبول نہیں ہوتی ،
لہذا ذِکر کرتے ہوئے خود ساختہ اوراد ، چلّے ، نامکمل عبارات جیسا کہ اللہ تبارک و تعالٰی سے کچھ مانگے بغیر اُس کے ناموں سے اسے بس پکارتے رہنا ، وغیرہ ،
اللہ تعالیٰ ہمیں اُن اِیمان والوں میں سے بنائے جو اپنے اِیمان کی حالت کی خبر گیری کرتے رہتے ہیں اور اس کی تازگی اور قوت کو برقرار رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 476
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (28-01-12), Miss Khan (28-01-12), shafirajput (28-01-12), skjatala (27-03-12), گلاب خان (27-02-12), محمد یاسرعلی (28-01-12), مرزا عامر (27-02-12), ابن آدم (29-01-12), تبتیلا انجم (28-01-12), شکاری (27-02-12), عبداللہ حیدر (28-03-12)
پرانا 28-01-12, 12:30 AM   #2
Senior Member
 
Miss Khan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,514
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آمین ۔۔۔۔۔۔ بہت خوبصورت اور جامع مضامین ہوتے ہیں آپ کے۔۔۔اچھی طرح سے سمجھ آگئی بات!!!! جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔ اللہ آپ کے علم میں‌ بہت بہت اضافہ کرے،آمین
Miss Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
Miss Khan کا شکریہ ادا کیا گیا
گلاب خان (27-02-12)
پرانا 28-01-12, 01:27 PM   #3
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-02-12, 12:29 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Miss Khan مراسلہ دیکھیں
آمین ۔۔۔۔۔۔ بہت خوبصورت اور جامع مضامین ہوتے ہیں آپ کے۔۔۔اچھی طرح سے سمجھ آگئی بات!!!! جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔ اللہ آپ کے علم میں‌ بہت بہت اضافہ کرے،آمین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاکِ اللہ خیرا ، خانم بہن ، یہ سب فقط اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی عطاء ہے ،
اللہ تبارک و تعالٰی آپ کی دعا قبول فرمائے اور آپ کو اس سے زیادہ عطاء فرمائے جس کی دعا آپ نے میرے لیے کی ہے ، والسلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حسنین ایوب مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے بھائی حسنین ایوب صاحب ، و ما توفیقی الا باللہ ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Miss Khan (27-02-12), گلاب خان (27-02-12)
پرانا 08-03-12, 11:58 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ،

بلخی اور بخاری کتب کے مطابق ، اللہ سے سوال کرنے سے ایمان بڑھتا ہے ۔

جبکہ اللہ کے فرمان قرآن سئ ایمان بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی آیات پڑھی جائیں۔ یہی آیات رسول اکرم کی زبان مبارک سے بھی ادا ہوئی ہیں۔

8:2 إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
مومن تو درحقیقت وہی لوگ ہیں کہ جب لیا جاتا ہے اللہ کا (نام) تو لرزجاتے ہیں اُن کے دل اور جب پڑھی جاتی ہیں اُن کے سامنے اللہ کی آیات تو بڑھا دیتی ہیں (وہ آیات) اُن کا ایمان اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔


والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (09-03-12), حیدر Rehan (30-03-12)
پرانا 25-03-12, 12:19 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سلام ،

بلخی اور بخاری کتب کے مطابق ، اللہ سے سوال کرنے سے ایمان بڑھتا ہے ۔

جبکہ اللہ کے فرمان قرآن سئ ایمان بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی آیات پڑھی جائیں۔ یہی آیات رسول اکرم کی زبان مبارک سے بھی ادا ہوئی ہیں۔

8:2 إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
مومن تو درحقیقت وہی لوگ ہیں کہ جب لیا جاتا ہے اللہ کا (نام) تو لرزجاتے ہیں اُن کے دل اور جب پڑھی جاتی ہیں اُن کے سامنے اللہ کی آیات تو بڑھا دیتی ہیں (وہ آیات) اُن کا ایمان اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔


والسلام
السلام علی من اتبع الھدی ،
و انا للہ و انا الیہ راجعون،
اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادات مسلمان کے ایمان میں اضافے کے یقینی اساب میں سے ہیں ، اور اللہ سے دعا کرنا عبادت ہے ، جو لوگ دعا کو اللہ کی عبادت میں شمار نہیں کرتے ، اور اللہ سے دعا کرنے سے خود کو روکتے ہیں ، یا دوسروں کو روکتے ہیں ، ان کے لیے اللہ کا یہ فرمان خوفناک انجام کی خبر لیے ہوئے ہے ((((( وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ::: اور تُم لوگوں کے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دُعا کرو ، میں ہی تمہارے لیے(تمہاری دعا) قبول کروں گا ، بے شک جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ جلد ہی ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ))))) سورت غافر،آیت ۶۰،
پس ہم تو اپنے ایمان میں اضافے کے لیے اپنے رب کے فرمان کے مطابق اور اپنے رب کےرسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عطاء کردہ تعلیم کے مطابق اپنے رب سے دعا کرتے ہیں ، جس کسی کو اللہ سے دعا کرنے پر اعتراض ہو وہ اللہ کے اس مذکورہ بالا فرمان کی روشنی میں اپنا انجام ملاحظہ فرما لے ،
رہا معاملہ اُن اعمال کا جو اللہ کی خبر کے مطابق ایمان میں اضافے کا سبب ہیں تو اُن میں صرف قران کریم پڑھنا سننا ہی نہیں ، بلکہ اسی قران کریم میں اللہ نے اور اسباب بھی بیان فرمائے ہیں ،
کیا ہی بھلا ہو کہ اعتراض کرنے والے جناب ہمیں وہ اسباب بھی بتاتے چلیں ، والسلام علی من اتبع الھدیٰ۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-03-12, 06:19 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جس شخص کو دو لفظوں کا فرق ہی نا معلوم ہو کہ "سوال" کسے کہتے ہیں‌اور "دعا" کسے ؟
تو ایسے شخص سے متھا کٹی کرنے کا فائیدہ۔

سورۃ‌البقرۃ نا فرمان لوگوں‌کے سوالات کے بارے میں‌ہے جو اللہ تعالی سے ایک گائے کی قربانی دینے کے بجائے مسلسل سوالات کرتے رہے اور اپنی زندگی تنگ کرلی۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (30-03-12)
پرانا 28-03-12, 01:05 PM   #8
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2012
مراسلات: 28
کمائي: 944
شکریہ: 8
23 مراسلہ میں 71 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق صاحب کہتے ہیں۔
اقتباس:
جس شخص کو دو لفظوں کا فرق ہی نا معلوم ہو کہ "سوال" کسے کہتے ہیں‌اور "دعا" کسے
گزارش یہ ہے کہ عربی میں لفظ "سل" صرف سوال"question"کے مفہوم میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ مانگنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ھے مثلاً الھم انی اسئلک العفو اور اللہ سے مانگنا دعا ہی ہے۔
مصطفوی آف لائن ہے   Reply With Quote
مصطفوی کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (28-03-12)
پرانا 28-03-12, 04:52 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb """ اللہ سے سوال """ کا حقیقی شرعی مفہوم یہی ہے ،

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھإئی مصطفوی صاحب ،
ان صاحب کا یہ مراسلہ میں نے کل دیکھا تھا ، اور جوابا کچھ معلومات لکھیں ، لیکن کل پاک نیٹ کا مزاج گراں تھا ، کہ ایک گھنٹہ پھر کوششوں کے باجود مراسلہ ارسال نہ ہو پایا ،
ابھی ان شاء اللہ ان صاحب کے مراسلے کا جواب پیش کرتا ہوں ، الحمد للہ ، میرے بروزر میں کل کا لکھا ہوا جوں کا توں محفوظ ل گیا ہے ، والسلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
جس شخص کو دو لفظوں کا فرق ہی نا معلوم ہو کہ "سوال" کسے کہتے ہیں‌اور "دعا" کسے ؟
تو ایسے شخص سے متھا کٹی کرنے کا فائیدہ۔

سورۃ‌البقرۃ نا فرمان لوگوں‌کے سوالات کے بارے میں‌ہے جو اللہ تعالی سے ایک گائے کی قربانی دینے کے بجائے مسلسل سوالات کرتے رہے اور اپنی زندگی تنگ کرلی۔

والسلام
السلام علی من اتبع الھدی
ایسے لوگوں کے بارے میں کیا کہا جائے جنہیں احادیث مبارکہ کے بارے میں محض اعتراض کرنا ہوتے ہیں، اور اتنا بھی نہیں جانتے کہ احادیث مبارکہ میں """اللہ سے سوال کرنا """ بمعنی """اللہ سے کچھ مانگنا """ ہوتا ہے ، جسے عام طور پر """ دُعا ء کرنا """ کہا جاتا ہے ،
یہ مفہوم قران کریم میں بھی مذکور ہے ،
احادیث شریفہ میں جو اللہ سے سوال کرنے کی تعلیم و ترغیب ہے اُس کا مطلب ہر گز ہر گز اللہ سے کسی چیز ، کسی عمل کی بابت دریافت کرنا نہیں ہوتا ، استفسار نہیں‌ہوتا ، بلکہ اللہ سے کوئی چیز عطاء کرنے کی دُعا ہوتا ہے،

یہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُس صحیح ثابت شدہ حدیث شریف میں مذکور ہے ، جس پر ایسے لوگ اعتراض کر بیٹھے جو """ اللہ سے سوال کرنے """ اور """اللہ سے دُعاء کرنے """ کا مترادفی مفہوم تک نہیں جانتے ،لیکن اعتراض جڑ دیا ،
اگر حدیث شریف کے الفاظ مبارکہ پر ہی غور کرتے تو سمجھ جاتے کہ اللہ سے ایمان کی تجدید کا سوال ، دعا ہے ، یا معاذ اللہ استفسار ہے ، یوں بھی عربی زبان کے کچھ قواعد ہیں جو لفظ سوال کو استفسار والے سوال کے معنی میں مقید کرتے ہیں ورنہ سوال کو استفسار کے معنی میں مقید نہیں کیا جا سکتا ، یہ باتیں وہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے عربی لغت ، لغت کے مطابق پڑھی سیکھی ہو ،
قارئین کرام ، سورت طہ /آیت 25 تا 36 کا مطالعہ فرمایے ، اللہ نے چاہا تو بالکل واضح طور پر نظر آجائے گا کہ اللہ سے سوال کرنے کا کیا مطلب ہے ،o
(((((قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي o وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي o وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي o يَفْقَهُوا قَوْلِي o وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي o هَارُونَ أَخِي o اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي o وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي o كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا o وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا o إِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيرًا o قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَى ::: (موسیٰ نے) کہا میرے رب میرے سینے کو میرے لیے کھول دیجیےo اور میرا کام میرے لیے آسان فرما دیجیے o اور میرے ز ُبان کی پر سے گرہ کھول دیجیے o (تا کہ سننے والے)لوگ میری بات سمجھ سکیں o اور میرے گھر والوں میں سے میرا وزیر مقرر فرما دیجیے oھارون (کو ) جو میرا بھائی ہے o اُس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرمایے o اور اُسےمیرے(اس) کام میں شامل فرما دیجیے o تا کہ ہم آپ کی بہت زیادہ تسبیح کر سکیں ، اور ہم آپ کا بہت زیادہ ذِکر کر سکیں o یقیناً آپ ہمیں (ہمارے ہر حال میں)دیکھتے ہیں o )اللہ نے( فرمایا اے موسیٰ جو کچھ سوال آپ نے کیا یقیناً وہ آپ کو دیا گیا)))))
قارئین کرام غور کیجیے ، ان آیات مبارکہ میں موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے """ سوال """ کیے ہیں ، یا دُعائیں ؟
اللہ تبارک و تعالیٰ توموسیٰ علیہ السلام کی اِن دعاؤں کو سوال فرما رہے ہیں ،
اس کے بعد بھی اگر کسی کو یہ سمجھ نہ آئے کہ """ اللہ سے سوال """ ، """ اللہ سے دُعاء """، """ اللہ سے مانگنا """ ایک ہی بات ہیں ، تو اس کی عقل پر افسوس کیا جانا ہی چاہیے

اللہ سے دُعا کو سوال کرنا کہنا ، اللہ کے کلام سے ثابت ہو چکا ،
اسی طرح کسی سے کو ئی چیز مانگنے کو بھی سوال کرنا ، قران حکیم کی بہت سے آیات مبارکہ میں مذکور ہے،
اب اگر کسی کو اتنی سی بنیادی بات کا بھی علم نہ ہو، اور اعتراض کرنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ احادیث شریفہ پر تو میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے اور اگر اللہ کی مشئیت میں اُن لوگوں کے لیے ہدایت نہیں ہے تو اللہ اُن کے شر سے اپنی ساری ہی مخلوق کو محفوظ رکھے ،
احادیث شریفہ میں جو """ اللہ سے سوال """ کرنے کی ترغیب و تعلیم ہے اس میں کسی بھی طور یہ مفہوم نہیں ملتا کہ اللہ تعالیٰ سے اُس کے یا کسی کے بھی کسی کام یا کسی چیز کے بارے میں استفسار کیا جائے یا معاذ اللہ اعتراض کیا جائے ،ایسا سمجھنا صحیح عقل و علم کےفقدان کا مظہر ہے ،
کیونکہ ایسا سوال اللہ کے ہاں سخت نا پسندیدہ فعل ہے اور بسا اوقات کفر کی حدود میں داخل ہوجانے کا سبب ہوتا ہے ، پس یقینی طور پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سنت میں اللہ سے سوال کرنے کی جو ترغیب ملتی وہ اللہ سے کچھ مانگنے ، دُعا ء کرنے کی ترغیب ہے ، اور یہ بات ہر وہ شخص بہت آسانی سے سمجھ سکتا ہے جو اُن احادیث شریفہ کودرست عقل کے مطابق سمجھے ،حدیث پاک کے سارے متن کو سمجھے تو اسے یقیناً سمجھ آئے گا کہ """ اللہ سے سوال """ کرنا ، اللہ سے کچھ مانگنا ہے ، اور اللہ سے کچھ مانگنے کو ہی اللہ سے دُعاء کرنا کہا جاتا ہے ، لیکن ،،،،،،،
حدیث شریف پر تو ان لوگوں کو اعتراضات کرنا ہی ہوتے ہیں ، خواہ کچھ سمجھ نہ رکھتے ہوں ، اب دیکھیے کہ اللہ کے اس مذکورہ بالا فرمان کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
افسوس صد افسوس ان لوگوں پر جنہیں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث شریف سے عدوات میں اعتراضات کرنے کا شوق ہے ، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے حساب و بے تعداد شکر جو ایسے لوگوں کی غلطیوں اور کم علمیوں کو ظاہر کرواتا ہے ،
پورے قران کریم میں ایسے نافرمان لوگوں کے خوفناک انجام کی خبریں ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی اختیار نہیں کرتے ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، والسلام علی من اتبع الھدیٰ ۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (30-03-12), مصطفوی (29-03-12), احقر (28-03-12), احمد نذیر (28-03-12), عبداللہ حیدر (28-03-12)
پرانا 30-03-12, 03:30 PM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سہیل بھائی
اگر آپ اپنے مراسلے میں حدیث پاک کے ساتھ ساتھ قران مجید کی ایک آیت بھی شامل کرلیتے تو شائد بات یوں اگے نہ بڑھتی

اور اگر ’خدا سے دعا کرنے اور سوال کرنے‘ کے فرق کو زرہ سا تحریر کرتے ہوئے گزر جاتے تو ایک طرف پڑھنے والے کی معلومات میں اضافہ ہوتا اور دوسری طرف ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔۔۔۔


ہم جیسے لکھنے کی کوشش کرنے والوں کی تحریر میں ایسی غلطی ہوجاتی ہے مگر آپ کو تو زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
اب کم از کم میں تو یہی کہونگا کہ یہ موضوع فاروق بھائی کی وجہ سے زیادہ معلوماتی ہورہا ہے


اچھا اور درست موضوع چُنے کا شکریہ
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-03-12, 09:20 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
سہیل بھائی
اگر آپ اپنے مراسلے میں حدیث پاک کے ساتھ ساتھ قران مجید کی ایک آیت بھی شامل کرلیتے تو شائد بات یوں اگے نہ بڑھتی

اور اگر ’خدا سے دعا کرنے اور سوال کرنے‘ کے فرق کو زرہ سا تحریر کرتے ہوئے گزر جاتے تو ایک طرف پڑھنے والے کی معلومات میں اضافہ ہوتا اور دوسری طرف ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔۔۔۔


ہم جیسے لکھنے کی کوشش کرنے والوں کی تحریر میں ایسی غلطی ہوجاتی ہے مگر آپ کو تو زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
اب کم از کم میں تو یہی کہونگا کہ یہ موضوع فاروق بھائی کی وجہ سے زیادہ معلوماتی ہورہا ہے


اچھا اور درست موضوع چُنے کا شکریہ
السلام علیکم ،
بھائی ریحان حیدر صاحب ،
سب سے پہلی بات تو یہ کہ میں نے یہ مضمون اختصار کے ساتھ صرف اس کے موضوع کے عین مطابق محدود معلومات کے لیے لکھا ،
تفصیلات کے لیے نہیں ،
الحمد للہ ، میرے اکثر مضامین موضوع سے متعلق کافی تفصیلات والے ہوتے ہیں اور یہ صرف اللہ کی عطاء کردہ توفیق سے ہوتا ہے ،
لیکن اکثر قارئین کرام کا کہنا ہے کہ مضامین کی طوالت ان کے لیے ذہنی بوجھ کا سبب ہو جاتی ہے اور ان کی توجہ مرکوز نہیں رہتی ، پس میں نے تجربے کے طور پر یہ مضمون اور کچھ اور مضامین مختصر طور پر لکھے ،
جس کے نتیجے میں یہ ظاہر ہوا کہ تفصیلی مضامین ہی لکھنے چاہیں ، اور جن قارئین کرام کے لیے انہیں پڑھنا بوجھل ہوتا ہے ان سے گذارش کی جائے کہ انہیں تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھتے رہیں ،
دوسری بات یہ کہ الحمد للہ ، مجھے مضمون ارسال کرتے ہوئے جس بات کا اندازہ ہو رہا تھا اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ ظاہر کر دی ، اور الحمد للہ مسئلہ زیادہ واضح ہو کر سامنے آ گیا ، کہ اگر میں سوال اور دعا کے شرعی مفہوم کو مضمون میں شامل کر دیتا تو شاید اس مفہوم پر قارئین کی اتنی توجہ مبذول نہ ہوتی جتنی ایک اعتراض کے بعد ہوتی ہو گی ،
تیسری بات یہ میرے بھائی کہ اللہ کی حکمت اللہ کی جانتا ہے ، کسے کس کام کا سبب بناتا ہے اور کیوں بناتا ہے وہی جانتا ہے ، و للہ الحمد،

امید ہے آپ کے لیے واضح ہو چکا ہو گا کہ ، الحمد للہ میرے طرف سے اصل مضمون میں تفصیل بیان نہ کرنا کسی غلطی کے سبب سے نہیں ہوا ، بلکہ قصداً تھا ، اور اللہ نے اس کے دو ایسے نتائج ظاہر فرما دیے جو اِن شاء اللہ مستقبل میں زیادہ فوائد کا سبب ہو سکتے ہیں ، واللہ اعلم ، والسلام علیکم
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (01-04-12)
جواب

Tags
ایمان،تازہ،عادل سہیل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں خوش ہوں اور زندگی سےلطف اٹھاتا ہوں ۔۔۔ بازو اور ٹانگوں کے بغیر نک وجےچک موجو عمومی بحث 7 02-01-12 08:56 AM
کراچی میں فائرنگ، گھروں دکانوں بسوں سے شہری اغوا، مزید 28 افراد قتل، گاڑیوں سے لاشیں پھینکی گئیں گلاب خان خبریں 0 19-08-11 03:17 AM
ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے گلاب خان خبریں 4 11-06-11 01:45 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:16 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger