|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 588
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الســلامُ علیــکم
بہت خوبصورت اورقابلِ غور تحریر ہے۔ شُـــکریہ قبول کیجئــے۔ سرورق کیلئے اپلائی کریں۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے بھئی مجھے ابھی یہ کرنا نہیں آتا پچھلی دفعہ بھی یہی ہوا تھا آپ مشورہ دیں کیا کرں اور ستائش کا شکریہ لیکن میری ستائش کا معیار وہی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں بہر حال شکریہ
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپــکو طریــقہ کار پــی ایــم کر دیـا ہے۔ اُمــید ہے سمجھ آجائے گا۔ شُـــکریہ
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائی بہت اچھی تحریر ہے اللہ کرے زور قلم زیادہ
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھے خیال کو شیئر کرنا بھی خیرات کی طرح ہے
سعدی شیرازی اسی خیال کو یوں پیش کر تے ہیں: ابر وباد و مہہ وخورشید ہمہ در کار اند تا تو نانے بکف آری و بغفلت نہ خوری ہمہ ز بہر تو سر گشتہ و فرماں برد ا ر شرطِ انصاف نباشد کہ تو فرماں نہ بری [بادل اورہوا،چاند اورسورج سب اس لیے مصروفِ کار ہیں تاکہ تجھے ’نان‘ملے اور تو اس کو غفلت سے نہ کھائے۔ یہ سب تو تیرے لیےجفا کشی اورفرماں برداری سے کام کیےجاتے ہیں،یہ انصاف نہ ہو گا اگر تو مطیع فرمان نہ ہو] Last edited by عبدالہادی احمد; 03-04-11 at 07:11 AM. |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واقعی! عرفانِ ذات ہی وہ سیڑھی ہے جس سے انسان دنیا اوردنیا کی متاعِ قلیل کی پستیوں سے اپنے رب کی پہچان کی رفعتوں کی جانب بلند ہوتا ہے۔ آگاہی ذات کی سوچ پیدا نہ ہوتوعرفانِ الٰہی پیدا نہیں ہوتا۔ ذات کی آگاہی اورعرفان رب نہ ہوتوانسان اور چوپائے میں کوئی فرق نہیں رہتا،بلکہ اس حال میں تواولادِ آدم چوپائے سےبھی بد ترہوجاتی ہے،قرآن اس کی نشان دہی کرتا ہے"اولٰئک کا الانعام بل ھم اضل"[ یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ گم راہ ہیں۔] یاد رہے صرف گائے اور بھیڑ بکری ہی نہیں کتا اور سور بھی چوپایوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ ذات کی آگاہی کے بعد ہی انسان میں شعور کے ساتھ عبادت کرنے اورذوق وشوق سے ذکرالٰہی کرنے کا شغف اور سلیقہ پیدا ہو تا ہے۔عرفان رب ہی وہ منزل ہے جو ایک ذرئہ بے مقدار کو واصلینِ حق کے مرتبے تک پہنچاتی ہے۔اس منزل تک پہنچنے کے لیے پہلے سے اللہ کا ولی ہونا ضروری نہیں،ایک عام انسان بھی اس مقام تک پہنچ جائے تووہ صرف مادی اور محسوس نعمتوں کاہی مخاطب نہیں رہتا بلکہ اس مقام پراس کا رب اسےاپنی غیر محسوس نعمتوں اور غیر مرئی رحمتوں کا مستحق بھی ٹھہراتا ہے:"فَاذکُرونی اَذکُر کُم " [ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ ]
|
|
|
|
| عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (04-04-11) |
![]() |
| Tags |
| کرن, گمان, پہچان, پاک, وزیر, لوگ, نماز, نظر, متعارف, محبت, معلوم, آج, اکبر, اللہ, انسان, تلاش, جاہل, حکم, خوش, خدا, دل, راستہ, زندگی, سفر, علی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|