واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


ذات کی آگہی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-03-11, 07:49 PM   #1
ذات کی آگہی
M A Ansari M A Ansari آف لائن ہے 30-03-11, 07:49 PM

ذات کی آگہی



میرا دل دنیا سے اچاٹ ہوچکا تھا اور میں کسی ویرانے کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا لیکن اس گنجان آباد دنیا میں ویرانہ میسر آنا گویہ کہ جوئے شیر لانے کے مترادف تھا لیکن پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا سفر جاری رکھا کہتے ہیں نہ کہ ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے یہاں ساتھ ہی ایک نہر تھی نہر کے کنارے کنارے درختوں کا ایک طویل سلسلہ تھا جو قبرستان تک جاکے اختتام پزیر ہوتا تھا لوگ اس راستے سے تقریبا کم ہی گزرتے تھے اس لئے یہ راستہ اکثر سنسان ہی رہتا تھا میں اسی سنسان راستے پر گامزن تھا اور دور سے قبرستان کی دیوار نظر آرہی تھی قبرستا ن سے کچھ پہلے تین چار درختوں کے جھرمٹ نے مل کر ایک سائبان نما ملگجا ساماحول بنا دیا تھا اور یہ ملگجا سا منظر اس وقت جنت کے کسی گوشے کی طرح محسوس ہو رہا تھا اس سے تھوڑی دوری پر ایک چھوٹے سے تھلے پر پانی کا ایک مٹکا ٹکا ہو ا تھا اور ساتھ ہی ایک گلاس تھا اور پانی کی کچھ نمی نے ماحول کو اور خواب ناک سا بنا دیا تھامیں پہلے بھی کئی باریہاں سے گزرا تھا لیکن یہ محسوسات جو میرے اس وقت تھے پہلے ان کا شائبہ تک نہ تھا کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ باہر کی دنیا اندر کی دنیا کا عکس ہے دل کی کیفیت باہر کے ماحول کو کس طرح تبدیل کر دیتی ہے ۔ان درختوں پر پرندوں کی چہچہاہٹ بڑی بھلی معلوم ہو رہی تھی دوپہر کے عجیب سے سناٹا میں پرندوں کی بولیاں ساتھ ساتھ نہر میں شفاف پانی کی روانی اور یہ ملگجا سا ماحول قریب ہی پانی کا مٹکا مجھے لگا کہ میں اسی جگہ کی تلاش میں تھا گاؤں اور علاقے سے دور یہاں ویرانے میں بالکل قبرستان جیسا سناٹا تھا میں نے چپلیں اتاریں اور ان درختوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ گیا۔
مجھے اپنا ماضی یادآنے لگا میں بالکل بے مصرف چیز تھا بلکہ شاید دنیا پر ایک بوجھ ہی تھا میرے لئے کوئی کیوں پریشان ہوگا میں نے ایک طویل سانس لی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا میری نگاہیں اوپر تھیں جہاں کچھ پرندے بیٹھے مجھے نظر آرہے تھے کبھی ہوا چلتی تو وہ پتوں میں چھپ جاتے کبھی نمایاں ہوجاتے آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوا نے مجھے تھپکنا شروع کردیا اور میری آنکھیں بوجھل ہونے لگیں پرندے اور پتے آپس میں گڈ مڈ ہونے لگے اچانک مجھے لگا کہ یہ پرندے نہیں بلکہ نقش و نگار ہیں جو پتوں پر بنے ہوئے ہیں اور پھر یہ نقش و نگار عجیب سا رنگ اختیار کر گئے ایسا لگا کہ جیسے سارے رنگ آپس میں یکجا ہو گئے ہوں اور پھر آہستہ آہستہ مجھے لگا کہ میں خود بھی اسی ماحول کا ایک حصہ ہوں یا شاید میں بھی کوئی پرندہ ہی ہوں اور انہیں پرندوں کے درمیان موجود ہوں جو کسی کے متعلق باتیں کر رہے تھے جب میں نے غور سے ان کی باتیں سنیں تو وہ باتیں میرے ہی متعلق تھیں ۔
وہ کہ رہے تھے یہ انسان بھی عجیب نا شکری مخلوق ہے اب اسی انسان کو دیکھ لو جو اس درخت کے نیچے سو رہا ہے کتنا ناشکرا ہے اپنے رب کا بالکل بالکل بہن تم نے بالکل سہی کہا ایک بھاری سی آواز میرے پیچھے سے آئی تو میں اچھل پڑا یہ اسی درخت کی آواز تھی وہ کہ رہا تھا اب اسے کیا پتا کہ میں کتنے عرصے سے خدا کے حکم سے ا س کی آمد کا منتظرہوں کہ یہ آئے تو میں اس کو اپنی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں سلاؤں میرے کروڑوں پتے اسی کے لئے مصروفِ اطاعت ہیں میری کونپلیں میری جڑ اور سالوں کا انتظار اور اس انتظار کے ساتھ سالوں کی نشو نمااور اس کے ہزاروں مر حلے جن سے مجھے اب تک گزرنا پڑاسب اسی کے لئے وقف رہے ہیں اس غافل انسان میں اس کو سمجھنے کا شعور کہاں میری یہ تمام اطاعت اسی کے لئے وقف ہے ہر شخص اپنی انفرادی کائنات رکھتا ہے جس میں و ہ زندہ رہتا ہے دوسرے کی کائنات میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
بھائی تم نے بالکل ٹھیک کہا اب مجھے ہی دیکھ لو کتنے عرصے سے میں صرف اسی کے لئے یہاں ہوں کہ میں اس کا دل بہلاؤں اللہ نے میرے ذمہ یہ کام لگایا ہے اسی لمحے نیچے سے ایک سر سراتی ہوئی سی آواز آئی تم دونوں تو ابھی میرے سامنے کی پیداوار ہو میں تو جب سے یہاں ہوں کہ جب تم دونوں بلکہ اس کا خو د کا بھی وجود نہیں تھا یہ آواز اس نہر کی تھی جو نیچے بہہ رہی تھی مجھے تم تینوں سے پہلے یہاں بھیجا گیا ہے تاکہ تمہاری آمد سے پہلے میں رواں دواں ہوسکوں اور میں کئی سو سالوں سے اس کی خدمت کے لئے یہاں موجود ہوں کہ میرے بہتے ہوئے پانی کو دیکھ کر یہ اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے اور مجھ سے سکون حاصل کرے ۔
ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ ایک چھوٹی سی مچھلی نے نہر سے منہ نکال کر بڑے معنی خیز انداز میں مجھے دیکھا اور واپس نہر میں چلی گئی میں سمجھ گیا کہ یہ بھی اپنی افادیت جتانے کے لئے آئی تھی کہ اے انسان ہماری جانیں بھی تیر ے لئے ہی وقف ہیں ہمارا اس کائنات میں صرف اتنا ہی کردار ہے کہ ہم تیری غذا بنیں ہماری نشو نما ہماری افزائش نسل صرف تیرے ہی لئے ہے ہم بڑھتے اور پھلتے پھولتے ہی صرف اس لئے ہیں کہ تیرے کام آسکیں۔
مجھے پچھلی دفعہ کی کھائی ہو ئی مچھلی یاد آگئی اور اس لمحے مجھے ایک عجیب سا خیال آیا جس نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ کے رکھ دیا اور اس مسئلے پر میں جتنا سوچتا گیا میں اندر ہی اندر لرزتا گیا اور بے اختیار میری آنکھوں سے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے بے شک میرے پرور دگار تو نے سچ ہی کہا ہے کہ انسان ظالم اور جاہل ہے یہ جہالت ہی تو ہے اتنے سامنے کی بات مجھے اب تک نظر نہ آسکی اور ایک معمولی سی مخلوق نے میری توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ وہ مچھلی جو میری خوراک بنی تھی اسے میرے اللہ نے صرف اور صرف میرے ہی لئے تخلیق کیاتھا ہاں ہاں یہ حقیقت ہی تو تھی بلکہ ہر انسان اس حقیقت سے متعارف ہے بلکہ ہر وہ چیز جو میں استعمال کرتا ہوں وہ میرے رب نے صرف میرے لئے ہی تخلیق کی ہے اس کا وجود میرے ہی لئے دنیا میں بھیجا گیا تھا اللہ اکبر میں تو اس قابل بھی نہیں کہ کوئی توجہ سے میری بات ہی سن لے اور ایک میرا رب ہے کہ میرے اتنے ناز اور نخرے اٹھا رہا ہے اور میں اب تک اس سے غافل ہوں یہاں اگر کوئی صدر یا وزیر اعظم کسی پر مہربان ہوجائے تو اس کے پیر زمین پر نہیں ٹکتے اور یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا کہاں خدا اور کہاں بندہ وہ چیزوں کو صرف میری ناز برداری کے دنیا میں بھیجے پہ بھیجے جارہا تھا اور میں تھا اس کی نافرمانی پہ نافرمانی کئے جا رہا تھا اف یہ کیسا تضاد تھا جس میں میں آج تک مبتلا تھا میرے لئے اس نے اس مچھلی کو پیدا کیا پھر اس کو نشو نما کے کتنے مراحل سے گزار کر اتنا بڑا کیا اس کی زندگی کو قائم و دائم رکھا اس کو کتنے دشمنوں سے بچائے رکھا اس کی مشین کے کل پرزوں کو صحیح طور پر منظم کیا صرف میرے لئے کہ ایک ایک وقت آئے گا کہ اسے میری خوراک بنایا جائےگا میں جتنا سوچتاجاتا میرا دماغ ماؤف ہوتا جاتا اور میرا سر ندامت سے جھکتا جاتا ۔
ابھی میں اس حیرت کے سمندر سے پوری طرح سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ ایک شہد کی مکھی میرے کان کے پاس آکر بھنبھنائی تجھے یاد ہے جب تو بیمار پڑا تھا تو تیرے لئے شہد لایا گیا تھا اس شہد کا جتنا حصہ تونے استعمال کیا تھا وہ حصہ صرف تیرے لئے ازل میں ہی مخصوص کر دیا گیا تھاتو جانتا ہے کتنی مکھیوں نے مل کر تیرے لئےوہ شہد جمع کیا تھا وہ مکھیاں تیرے لئے ہی ماری ماری پھرتی رہیں اور اس مخصوص حصے کو تیرے لئے جمع کرتی رہیں جو خدا نے تیرے لئے وقف کررکھا تھا ۔
یکایک سورج کی کرن میرے چہرے پر پڑی اور میں نے چندھیا کر آنکھیں بند کرلیں مجھے ایسا لگا جیسے سورج مجھ سے پوچھ رہا ہو کہ کیا ہوا آنکھیں کیوں بند کرلیں میں کروڑوں میل کا سفر طے کر کے روز صرف تیرے لئے ہی تو یہاں آتا ہوں میری روشنی کا وہ حصہ جو تیرے لئے مخصوص ہے وہ میرے ذمے ہے تجھ تک پہنچا نا روشنی کی کروڑوں کرنیں کروڑوں میل کا سفر طے کر کے تیرے لئے ہی نیچے اترتی ہیں برسات کا ہر وہ قطرہ تیرے اور صرف تیرے لئے ہی آسمانِ دنیا سے زمین پر نازل ہوتا جس سے تو کسی طرح بھی مستفیض ہوتا ہے چاہے وہ تیرے جسم کو مس کر کے ہو یا تیری آنکھوں کا خیرہ کر کے ۔
یہ پھول یہ پھل جنہیں تو کھاتا ہے صرف اور صرف تیرے لئے ہی تخلیق کیا ہے ناکہ کسی اور کے لئے کیوں کہ وہ تیرے حصے کی کائنات ہے اور تو پھر بھی کہتا ہے کہ اس دنیا میں میر ا کوئی مصرف ہی نہیں اے بے مصرف انسان تیرا رب تجھ سے کتنی محبت کرتا ہے تجھے کچھ اندازہ ہے اس کا یہ سب کچھ تیرے رب نے تیرے لئے ہی پیدا کیا ہے یہ کائنات کی ساری رعنائیاں سب تیرے ہی لئے ہیں لیکن خبردار تو ان کے لئے نہیں ہے تو صرف اپنے رب کے لئے ہے تو کہیں ان میں گم مت ہوجانا تیرا ایک بہت بڑا مصرف ہے اگر تو اپنے آپ کو پہچان لے تو تو اپنے رب کو پہچان لے رب کا پہچاننا تیرے اپنے پہچاننے پر موقوف ہے اگر تو اپنے آپ کو ہی بے مصرف سمجھ بیٹھا تو معاملہ بہت آگے تک چلا جائے گا اپنے آپ کو پہچان ۔۔اپنے آپ کو پہچان ۔۔اپنے آپ کو پہچان ایک ہی آواز ہر طرف سے مجھے آرہی تھی اور میرا سر پھٹنے لگا بس بس بس بس میں زور سے چینخا اور اس چینخ کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔
اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا اور ہر سو ہو کا عالم تھا اور مغرب کا وقت قریب تھا دن جارہا تھا اور رات آرہی تھی مجھے ایسا لگ جیسے یہ دن مجھے الوداع کہ رہا ہو اور یہ رات مجھے خوش آمدید کہ رہی ہو میرا سر ندامت اور شرمندگی سے جھکا جا رہا تھا ۔
اے میرے رب تو مجھ سے اتنا قریب ہے اور میں تجھ سے اتنا دور میرے رب مجھے معاف کردے میری سوچ کو معاف کردے میں کمتر نہیں ہوں حقیر نہیں ہوں بلکہ میں تو بہت عظیم ہو ں بہت بلند ہو ں جس کے دل میں خدا کی عظمت ہو وہ بھلا کمتر کیسے ہوسکتا ہے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول یاد آنے لگا جس کا مفہوم ہے اے اللہ میری عزت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تو میرا رب ہے ۔
میں نے سچے دل سے توبہ کہ میں تیرا ایک نیک بندہ بن کر زندگی گزاروں گا اور ا ن تمام چیزوںکا شکر ادا کرنے کے لئے میں کم سے کم روزانہ پانچ وقت کی نماز تو ضرور پڑہو ں گا ۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کہیں دور سے اذان کی بانگ سنائی دی میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے ۔


ناگاہ ہوئی لبریز فضا بانگ اذاں سے
وہ نعرہ دہل جاتا ہے جس سے دلِ کہسار

دوستوں یہاں تک تو بات ایک فسانہ کی تھی لیکن آپ کو اس بات کا اندازہ ہوجانا چاہئے کہ میں
یہ افسانے کیوں لکھتا ہوں اب فسانے کی بات چھوڑ کر میں اب اپنے اپنوں سے مخاطب ہوں میرے وہ دوست جو یہ سمجھتے ہیں کہ میری یہ کاوش ستائش کے قابل ہے تو میں آپ سے عاجزانہ التماس کروں گا کہ آپ لوگ اپنے رب سے جڑ جائیں میری ستائش ہوجائے گی اور میری یہ کاوش ٹھکانے لگ جائے گی اسے صرف ایک فسانہ ہی نہ سمجھیں بلکہ میرے لئے بخشش کا بہانہ سمجھیں اور جومیرے دوست اس کو پڑھ کرنمازکی طرف مائل ہوگئے تو میں سمجھوں گاکہ انہوں نے میرے لکھے کا حق ادا کردیا ورنہ میں سمجھوں گا کہ میری محنت اکارت گئی ۔
میرا اپنا ذاتی گمان یہ ہے کہ پاک نیٹ کا ہر ممبر نمازی ہے
اے میرے رب مجھے اپنے گمان میں سچا کردے آمین


M A Ansar

M A Ansari
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 588
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), فیصل ناصر (30-03-11), محمدعدنان (01-04-11), wajee (01-04-11), حیدر (03-04-11)
پرانا 30-03-11, 07:56 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

الســلامُ علیــکم

بہت خوبصورت اورقابلِ غور تحریر ہے۔ شُـــکریہ قبول کیجئــے۔

سرورق کیلئے اپلائی کریں۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), حیدر (03-04-11)
پرانا 30-03-11, 08:05 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ارے بھئی مجھے ابھی یہ کرنا نہیں آتا پچھلی دفعہ بھی یہی ہوا تھا آپ مشورہ دیں کیا کرں اور ستائش کا شکریہ لیکن میری ستائش کا معیار وہی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں بہر حال شکریہ
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), حیدر (03-04-11)
پرانا 30-03-11, 08:12 PM   #4
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپــکو طریــقہ کار پــی ایــم کر دیـا ہے۔ اُمــید ہے سمجھ آجائے گا۔ شُـــکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), حیدر (03-04-11)
پرانا 01-04-11, 12:22 AM   #5
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,171
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی بہت اچھی تحریر ہے اللہ کرے زور قلم زیادہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), حیدر (03-04-11)
پرانا 01-04-11, 12:22 AM   #6
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,171
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
آپــکو طریــقہ کار پــی ایــم کر دیـا ہے۔ اُمــید ہے سمجھ آجائے گا۔ شُـــکریہ
ارے زارا ی ہ ک ی ا ہ ے ؟
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), حیدر (03-04-11)
پرانا 03-04-11, 07:07 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھے خیال کو شیئر کرنا بھی خیرات کی طرح ہے
سعدی شیرازی اسی خیال کو یوں پیش کر تے ہیں:
ابر وباد و مہہ وخورشید ہمہ در کار اند
تا تو نانے بکف آری و بغفلت نہ خوری
ہمہ ز بہر تو سر گشتہ و فرماں برد ا ر
شرطِ انصاف نباشد کہ تو فرماں نہ بری
[بادل اورہوا،چاند اورسورج سب اس لیے مصروفِ کار ہیں تاکہ تجھے ’نان‘ملے اور تو اس کو غفلت سے نہ کھائے۔ یہ سب تو تیرے لیےجفا کشی اورفرماں برداری سے کام کیےجاتے ہیں،یہ انصاف نہ ہو گا اگر تو مطیع فرمان نہ ہو]

Last edited by عبدالہادی احمد; 03-04-11 at 07:11 AM.
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-04-11), حیدر (03-04-11)
پرانا 03-04-11, 07:32 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی! عرفانِ ذات ہی وہ سیڑھی ہے جس سے انسان دنیا اوردنیا کی متاعِ قلیل کی پستیوں سے اپنے رب کی پہچان کی رفعتوں کی جانب بلند ہوتا ہے۔ آگاہی ذات کی سوچ پیدا نہ ہوتوعرفانِ الٰہی پیدا نہیں ہوتا۔ ذات کی آگاہی اورعرفان رب نہ ہوتوانسان اور چوپائے میں کوئی فرق نہیں رہتا،بلکہ اس حال میں تواولادِ آدم چوپائے سےبھی بد ترہوجاتی ہے،قرآن اس کی نشان دہی کرتا ہے"اولٰئک کا الانعام بل ھم اضل"[ یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ گم راہ ہیں۔] یاد رہے صرف گائے اور بھیڑ بکری ہی نہیں کتا اور سور بھی چوپایوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ ذات کی آگاہی کے بعد ہی انسان میں شعور کے ساتھ عبادت کرنے اورذوق وشوق سے ذکرالٰہی کرنے کا شغف اور سلیقہ پیدا ہو تا ہے۔عرفان رب ہی وہ منزل ہے جو ایک ذرئہ بے مقدار کو واصلینِ حق کے مرتبے تک پہنچاتی ہے۔اس منزل تک پہنچنے کے لیے پہلے سے اللہ کا ولی ہونا ضروری نہیں،ایک عام انسان بھی اس مقام تک پہنچ جائے تووہ صرف مادی اور محسوس نعمتوں کاہی مخاطب نہیں رہتا بلکہ اس مقام پراس کا رب اسےاپنی غیر محسوس نعمتوں اور غیر مرئی رحمتوں کا مستحق بھی ٹھہراتا ہے:"فَاذکُرونی اَذکُر کُم " [ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ ]
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-04-11)
پرانا 03-04-11, 04:41 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ تمام دوستوں کے سراہنے کا بہت بہت شکریہ
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
M A Ansari کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-04-11)
پرانا 04-04-11, 12:38 PM   #10
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدعدنان مراسلہ دیکھیں
ارے زارا ی ہ ک ی ا ہ ے ؟
سرورق پر اپلائی کرنے کا طریقہ پی ایم کیا ہے
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-04-11)
جواب

Tags
کرن, گمان, پہچان, پاک, وزیر, لوگ, نماز, نظر, متعارف, محبت, معلوم, آج, اکبر, اللہ, انسان, تلاش, جاہل, حکم, خوش, خدا, دل, راستہ, زندگی, سفر, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:17 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger