واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


روزِ قیامت شفاعت کا بیان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-06-10, 01:43 AM   #1
روزِ قیامت شفاعت کا بیان
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 15-06-10, 01:43 AM

عَنْ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما يَقُوْلُ : إِنَّ النَّاسَ يَصِيْرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُثًا، کُلُّ أُمَّةٍ تَتْبَعُ نَبِيَهَا يَقُوْلُوْنَ : يَا فُلاَنُ اشْفَعْ، يَا فُلاَنُ اشْفَعْ، حَتَّي تَنْتَهِيَ الشَّفَاعَةُ إِلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَذَلِکَ يَوْمَ يَبْعَثُهُ اﷲُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ. رَوَاهُ الْبُخَارِِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

الحديث رقم 26 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : تفسير القرآن، باب : قوله : عسي أن يبعثک ربک مقاما محمودا، 4 / 1748، الرقم : 4441، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 381، الرقم : 295، وابن منده في الإيمان، 2 / 871، الرقم : 927.

’’حضرت آدم بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا : روزِ قیامت سب لوگ گروہ در گروہ ہو جائیں گے۔ ہر امت اپنے اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور عرض کرے گی : اے فلاں! شفاعت فرمائیے، اے فلاں! شفاعت کیجئے۔ یہاں تک کہ شفاعت کی بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ختم ہو گی۔ پس اس روز شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1873
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (24-01-11), shafresha (15-06-10), محمدخلیل (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), آبی ٹوکول (01-07-10), اویسی (15-06-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10), رضی (23-01-11), عبداللہ حیدر (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 01:44 AM   #2
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُوْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّي يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ، فَبَيْنَاهُمْ کَذَلِکَ اسْتَغَاثُوْا بِآدَمَ، ثُمَّ بِمُوْسَي، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 27 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : مَنْ سأل الناس تَکَثُّرًا، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن منده في کتاب الإيمان، 2 / 854، الرقم : 884، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 8725، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 377، الرقم : 3677، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، ووثّقه.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10), رضی (23-01-11), عبداللہ حیدر (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 01:46 AM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 28 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 625، الرقم : 2435، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في الشفاعة، 4 / 236، الرقم : 4739، وابن ماجه عن جابر رضي الله عنه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4310، والحاکم في المستدرک، 1 / 139، الرقم : 228، وقال الحاکم : هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين، وأبو يعلي في المسند، 6 / 40، الرقم : 3284، والطبراني في المعجم الصغير، 1 / 272، الرقم : 448، والطيالسي في المسند، 1 / 233، الرقم : 1669.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے ان افراد کے لئے ہے جنہوں نے کبیرہ گناہ کئے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10), رضی (23-01-11)
پرانا 15-06-10, 01:47 AM   #4
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَبِي مُوْسَي الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : خُيِرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يُّدْخَلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ. فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَکْفَي أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِيْنَ؟ لَا. وَلَکِنَّهَا لِلْمُذْنِبِيْنَ، الْخَطَّائِيْنَ الْمُتَلَوِّثِيْنَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 29 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4311، وأحمد بن حنبل عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما في المسند، 2 / 75، الرقم : 5452، والبيهقي في الاعتقاد، 1 / 202، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 378.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ اختیار دیا گیا کہ خواہ میں قیامت کے روز شفاعت کو چن لوں یا میری آدھی اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے تو میں نے اس میں سے شفاعت کو اختیار کیا ہے کیونکہ وہ عام اور (پوری اُمت کے لئے) کافی ہوگی اور تم شائد یہ خیال کرو کہ وہ پرہیزگاروں کے لئے ہو گی؟ نہیں بلکہ وہ (میری شفاعت) بہت زیادہ گناہگاروں، خطاکاروں اور برائیوں میں مبتلا ہونے والوں کے لئے ہو گی۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), رضی (23-01-11)
پرانا 15-06-10, 01:50 AM   #5
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَتَدْرُوْنَ مَا خَيَرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ؟ قُلْنَا : اﷲُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ قَالَ : فَإِنَّهُ خَيَرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخَلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ. فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ قُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، ادْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ : هِيَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ مُسْلِمٍ.

الحديث رقم 30 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1444، الرقم : 4317، والحاکم في المستدرک، 1 / 135، الرقم : 221، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 68، الرقم : 126، وفي مسند الشاميين، 1 / 326، الرقم : 575، وابن منده في الإيمان، 20 / 873، الرقم : 932.

’’حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جانتے ہو رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول سب سے بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ اگر میں چاہوں تو میری نصف اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں، میں نے شفاعت کو پسند کیا صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اﷲ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں (بھی) شفاعت کے حقداروں میں (شامل) کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ ہر مسلمان کے لئے ہے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مفتی (23-01-11), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 01:51 AM   #6
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدً مَوْتِي کَانَ کَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالدَّارُقُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث رقم 31 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 406، الرقم : 13496، والدارقطني عن حاطب رضي الله عنه في السنن، 2 / 278، الرقم : 193، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 489، الرقم : 4154، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 2.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مفتی (23-01-11), مرزا عامر (30-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10)
پرانا 15-06-10, 01:52 AM   #7
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا، أَوْسَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ (لَا يَدْرِي أَبُوْحَازِمٍ أَيُّهُمَا قَالَ) : مُتَمَاسِکُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، لايَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّي يَدْخُلَ آخِرُهُمْ، وُجُوْهُهُمْ عَلَي صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 32 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الرِّقاق، باب : صفة الجنة والنار، 5 / 2399، الرقم : 6187، وفي باب : يدخل الجنة سبعون ألفا بغير حساب، 5 / 2396، الرقم : 6177، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علي دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 198، الرقم : 219.

’’امام ابوحازم حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد جنت میں داخل ہوں گے (ابو حازم کو یاد نہیں رہا کہ ان میں سے کون سی تعداد مروی ہے) وہ ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوں گے ان میں سے پہلا شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا جب تک ان کا آخری فرد بھی داخل نہ ہو جائے (یعنی وہ اپنے ہزاروں لاکھوں افراد کی نگرانی کر رہا ہوگا) ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), حیدر (04-07-10), عبداللہ حیدر (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 01:54 AM   #8
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِکُمْ فِي الْحَقِّ يَکُوْنُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ أُدْخِلُوْا النَّارَ قَالَ : يَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَا إِخْوَانُنَا کَانُوْا يُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَيَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَيَحُجُّوْنَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ : فَيَقُوْلُ : اذْهَبُوْا فَأَخْرِجُوْا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ، قَالَ : فَيَأْتُوْنَهُمْ فَيَعْرِفُوْنَهُمْ بِصُوَرِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَي أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَي کَعْبَيْهِ، فَيُخْرِجُوْنَهُمْ، فَيَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا قَالَ : وَيَقُوْلُ : أَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِيْنَارٍ مِنَ الإِْيْمَانِ ثُمَّ قَالَ : مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّي يَقُوْلَ : مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ. قَالَ أَبُوْسَعِيْدٍ : فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الآيَةَ : (إِنَّ اﷲَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَکَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَلِکَ لِمَنْ يَشَاءُ) إِلَي (عَظِيْمًا). (النساء، 4 : 4. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه.

الحديث رقم 33 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : في قول اﷲ تعالي : وجوه يومئذ ناضرة إلي ربها ناظرة، 6 / 2707، الرقم : 7001، والنسائي في السنن، کتاب : الإيمان وشرائعه، باب : زيادة الإيمان، 8 / 112، الرقم : 5010، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب : في الإيمان، 1 / 23، الرقم : 60، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 94، الرقم : 117، والحاکم في المستدرک، 4 / 626، الرقم : 8736، وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِِ، وابن راشد في الجامع، 11 / 410.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے کسی ایک شخص کا بھی دنیا میں کسی حق بات کے لئے تکرار کرنا اس قدر سخت نہیں ہو گا جو تکرار مومنین کاملین اپنے پروردگار سے اپنے ان بھائیوں کے لئے کریں گے جو جہنم میں داخل کئے جا چکے ہوں گے۔ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار! ہمارے یہ بھائی ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ہی ساتھ حج کرتے تھے اور تو نے انہیں دوزخ میں ڈال دیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اچھا تم جنہیں پہچانتے ہو انہیں جا کر خود ہی دوزخ سے نکال لو۔ کہتے ہیں : وہ ان کے پاس جائیں گے اور ان کی شکلیں دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے۔ ان میں سے بعض کو تو آگ نے پنڈلیوں کے نصف تک اور بعض کو ٹخنوں تک پکڑا ہو گا۔ وہ انہیں نکالیں گے اور پھر عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں جن کے نکالنے کا حکم فرمایا تھا انہیں ہم نے نکال لیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : انہیں بھی جا کر نکال لو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہے۔ پھر فرمائے گا : اسے بھی نکال لاؤ جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہے (پھر) یہاں تک فرمائے گا : اسے بھی (نکال لاؤ) جس کے دل میں ذرّہ برابر ایمان ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب جس شخص کو یقین نہ آئے تو وہ یہ آیتِ کریمہ پڑھ لے۔ ’’بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔‘‘(النساء، 4 : 4۔
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10), عبداللہ حیدر (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 01:55 AM   #9
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : يَصُفُّ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوْفًا (وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : أَهْلُ الْجَنَّةِ) فَيَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عَلَي الرَّجُلِ، فَيَقُوْلُ : يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ اسْتَسْقَيْتَ فَسَقَيْتُکَ شَرْبَةً؟ قَالَ : فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَمُرُّ الرَّجُلُ، فَيَقُوْلُ : أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ نَاوَلْتُکَ طَهُوْرًا؟ فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَقُوْلُ : يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ کَذَا وَکَذَا؟ فَذَهَبْتُ لَکَ، فَيَشْفَعُ لَهُ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَبُوْيَعْلَي.

الحديث رقم 34 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الأدب، باب : فضل صدقة الماء، 2 / 1215، الرقم : 3685، وأبو يعلي في المسند، 7 / 78، الرقم : 4006، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 317، الرقم : 6511، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 39، الرقم : 1415، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 382، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 3 / 275.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ صفیں بنائیں گے (ابن نمیر نے کہا یعنی کہ اہلِ جنت) تو دوزخیوں میں سے ایک شخص جنتیوں میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا : اے فلاں! تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے پانی مانگا تھا اور میں نے تجھے پانی پلایا تھا؟ راوی فرماتے ہیں : پس وہ جنتی اس دوزخی کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی دوسرے آدمی کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا : تجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دن تجھے طہارت کے لئے پانی دیا تھا؟ چنانچہ وہ اس کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی کہے گا : اے فلاں : تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے مجھے اس اس کام کے لئے بھیجا تھا چنانچہ میں تیری خاطر چلاگیا تھا؟ پس وہ اس کی شفاعت کرے گا۔‘‘
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 04:01 PM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق سے شناسا ہیں ۔۔۔


خرم بھائی اجکل بہت جوش میں ہیں ۔۔
اچھی شیرنگ ہے ۔۔۔۔۔شکریہ
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (16-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), خرم شہزاد خرم (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 11:03 PM   #11
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بس حیدر بھائی کسی اللہ کے بندے نے پڑھنے پر لگا دیا ہے اور کوشش کر رہا ہوں ایک ہی موضوع پر احادیث ارسال کرتا رہوں
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (16-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (16-06-10)
پرانا 15-06-10, 11:21 PM   #12
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,428
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
جزاک اللہ خیرا۔ یہ بھی دیکھیں:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَشَ مِنْهَا نَهْشَةً ثُمَّ قَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمْ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنْ الْغَمِّ وَالْکَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ وَلَا يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ النَّاسُ أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَکُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ عَلَيْکُمْ بِآدَمَ فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُونَ لَهُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ نَهَانِي عَنْ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ إِنَّکَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ وَقَدْ سَمَّاکَ اللَّهُ عَبْدًا شَکُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ کَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُهَا عَلَی قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی إِبْرَاهِيمَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَدْ کُنْتُ کَذَبْتُ ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ فَذَکَرَهُنَّ أَبُو حَيَّانَ فِي الْحَدِيثِ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُوسَی فَيَأْتُونَ مُوسَی فَيَقُولُونَ يَا مُوسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَضَّلَکَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِکَلَامِهِ عَلَی النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ فَيَأْتُونَ عِيسَی فَيَقُولُونَ يَا عِيسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَکَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ عِيسَی إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ ذَنْبًا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِيَائِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَائِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَی أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِکَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَکَائُ النَّاسِ فِيمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ الْأَبْوَابِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَحِمْيَرَ أَوْ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَبُصْرَی صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى
{ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

"ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا تو آپ کو ایک دست اٹھا کردی گئی کیونکہ دست کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا آپ نے اس کو تناول فرمایا پھر ارشاد فرمایا کہ میں قیامت کے دن سب کا سردار ہوں کیا تم کو معلوم ہے کہ روز قیامت تمام اولین و آخرین ایک ہی میدان میں جمع کیے جائیں گے وہ میدان ایسا ہموار اور وسیع ہوگا کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب سن سکیں گے اور دیکھنے والا سب کو دیکھ سکے گا سورج بہت قریب آ جائے گا لوگوں کو ایسی تکلیف ہوگی کہ برداشت نہ کر سکیں گے وہ کہیں گے دیکھو! کتنی بڑی تکلیف ہو رہی ہے کسی سفارشی کو تلاش کرو بعض کی رائے ہوگی کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلو لہذا سب ان کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ ابوالبشر ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا ہے اور اپنی روح آپ میں پھونکی ہے اور ملائکہ سے آپ کو سجدہ کرایا ہے ہماری سفارش فرمائیے دیکھئے ہم کیسی تکلیف میں مبتلا ہیں آدم جواب دیں گے کہ آج میرا رب بہت غصہ میں ہے اس نے مجھے ایک درخت کے قریب جانے سے روکا تھا تو میں اس سے شرمندہ ہوں اور وہ نفسی نفسی کہیں گے اور فرمائیں گے کہ تم سب نوح کے پاس جاؤ وہ سب نوح کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ پہلے نبی ہیں اور خدا نے آپ کو اپنے شکر گزار بندے کے نام سے یاد فرمایا ہے لہذا آپ ہماری سفارش کیجئے کیونکہ ہماری حالت بہت خراب ہو رہی ہے نوح فرمائیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ بہت غصہ میں ہے میں نے ایسا غصہ کبھی نہیں دیکھا اور اس نے تو مجھے ایک دعا دی تھی وہ میں اپنی امت کے لئے مانگ چکا ہوں پھر وہ بھی نفسی نفسی فرمائیں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ خلیل اللہ ہیں اور اللہ کے پیغمبر ہیں آپ ہمارے لئے شفاعت کیجئے وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ بہت غصہ میں ہے غصہ جو نہ پہلے آیا اور نہ پھر آئے گا اور میں نے دنیا میں یہ خطا کی تھی کہ تین جھوٹ بولے تھے ابوحیان نے ان تینوں جھوٹوں کا بھی بیان کیا ہے پھر وہ بھی نفسی نفسی پکاریں گے اور لوگوں سے فرمائیں گے کہ تم موسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ چناچہ تمام لوگ موسٰی علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں خدا نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کو لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی ہے آپ ہماری شفاعت فرمایئے دیکھے ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں موسٰی علیہ السلام فرمائیں گے آج تو میرا رب بہت خفا ہے اس سے پہلے اتنے غصہ میں نہیں آیا اور نہ آئندہ آئے گا میں نے دنیا میں ایک خطا کی تھی ایک آدمی کو مار ڈالا تھا جس کے مارنے کا حکم نہیں تھا آج مجھے نفسی نفسی پڑی ہے۔ تم عیسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ سب لوگ عیسٰی علیہ السلام کی خدمت میں آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور وہ کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم پر ڈالا تھا آپ اللہ کی روح ہیں آپ نے بچپن میں لوگوں سے باتیں کی ہیں لہذا ہماری سفارش کیجئے دیکھئے ہم کیسی مصیبت میں مبتلا ہیں وہ فرمائیں گے آج میرا رب بہت غصہ میں ہے نہ پہلے ایسا غصہ آیا نہ آئندہ آئے گا پھر وہ دنیا کا کوئی گناہ بیان نہیں کریں گے اور صرف نفسی نفسی فرمائیں گے اور کہیں گے آج تو تم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس جاؤ لوگ آن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے اللہ کے رسول! آپ خاتم الانبیاء ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے آپ ہماری شفاعت فرمایئے دیکھئے! ہم کیسی تکلیف میں ہیں اس وقت میں عرش کے نیچے سجدہ میں گر جاؤں گا خدا تعالیٰ اپنی حمد و تعریف کا ایسا طریقہ مجھ پر منکشف فرمائے گا جو اس سے قبل کسی کو نہیں بتایا گیا لہذا میں اس طرح اس کی حمد بجا لاؤں گا پھر حکم باری ہوگا اے محمد! اپنے سر کو اٹھایئے اور مانگئے جو آپ مانگنا چاہتے ہیں جو شفاعت آپ کریں گے قبول کی جائے گی میں سجدے سے سر کو اٹھا کر امتی امتی کہوں گا حکم ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم! اپنی امت میں ان ستر ہزارلوگوں کو جن کا حساب کتاب نہیں ہوگا داہنے دروازے سے جنت میں داخل کردیجئے اور ان کو بھی اختیار ہے جس دروازے سے چاہیں داخل ہو جائیں اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جنت کے ایک دروازہ کی چوڑائی اتنی ہے جیسا مکہ اور حمیر کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ اور بصری کے درمیان کی مسافت۔"
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (30-06-10), اویسی (16-06-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (16-06-10), خرم شہزاد خرم (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 11:33 PM   #13
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,719
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
اگرچہ شفاعت کا گمان ہی ایک خوش کُن خیال ہے، لیکن یہ عقیدہ گناہگاروں (مجھ سمیت) میں بجائے عبرت کے ہمت پیدا کرتا ہے۔

اللہ ہمیں‌اپنے حبیب کی محبت اور شفاعت نصیب فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (30-06-10), آبی ٹوکول (16-06-10), اویسی (16-06-10), احمد بلال (02-07-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (16-06-10), رضی (16-06-10)
پرانا 16-06-10, 05:33 AM   #14
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
اگرچہ شفاعت کا گمان ہی ایک خوش کُن خیال ہے، لیکن یہ عقیدہ گناہگاروں (مجھ سمیت) میں بجائے عبرت کے ہمت پیدا کرتا ہے۔

اللہ ہمیں‌اپنے حبیب کی محبت اور شفاعت نصیب فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔
میرے بھائی عقیدہ شفاعت سے بھی پہلے اللہ کی رحمت اور اسکے فضل کا بے انتہا ہونا اس سے بھی زیادہ ہمت دلاتا ہے کہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ میری رحمت ہر شئے کو محیط ہے اور حقیقت یہ ہے تمام اذن والوں کو حق شفاعت دینا حقیقت میں اللہ کی رحمت اور فضل ہی کے مرہون ہے والسلام ۔ ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), sahj (01-07-10), shafresha (16-06-10), مفتی (23-01-11), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (16-06-10), احمد بلال (02-07-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (16-06-10), خرم شہزاد خرم (16-06-10), سحر (19-06-10), عبداللہ حیدر (24-01-11)
پرانا 18-06-10, 11:48 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
اگرچہ شفاعت کا گمان ہی ایک خوش کُن خیال ہے، لیکن یہ عقیدہ گناہگاروں (مجھ سمیت) میں بجائے عبرت کے ہمت پیدا کرتا ہے۔

اللہ ہمیں‌اپنے حبیب کی محبت اور شفاعت نصیب فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
شاھد بھائی ، اگر اس موضوع سے متعلق صحیح روایات تک محدود رہتے ہوئے ، موضوع کے تمام پہلووں کا مطالعہ کیا جائے تو ان شاء اللہ کسی خوش فہمی ، یا کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں رہتی ،
اور اسی طرح اللہ کی رحمت کے بارے میں بھی کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں ،
""" :::::: قران و سنت کے سایے میں ::: اللہ کی رحمت کی کیفیت اور وسعت کا کچھ اندازہ ::::::: """" کا مطالعہ ان شاء اللہ فائدہ مند ہو گا ،
ہم لوگ اکثر موضوعات کی نامکمل معلومات حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے اپنے خیالات کے مطابق انہیں سمجھنے کو کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورت حال ظاہر ہوتی ہے جس کا آپ نے ذکر فرمایا ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو دین اور دنیا کی ہر بات ، پر مسئلہ ٹھیک ذرائع سے ، فہم وعمل کے ٹھیک منھج پر رہتے ہوئے جاننے اور اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
rabab (21-06-10), shafresha (03-07-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (04-07-10), عبداللہ حیدر (20-06-10)
جواب

Tags
کیجئے۔, کتاب, کرے, گی, گی۔, گے۔, پیچھے, وآلہ, وسلم, لوگ, مقام محمود, اپنے, اللہ, بیان, باب, تعالیٰ, جائیں, حضور, ختم, در, روایت, سنا, علی, عبداللہ, عرض


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہمارے سفارتکار کو منصفانہ سماعت سے محروم رکھا گیا، امریکا، ریمنڈ کا 8 روزہ ریمانڈ گلاب خان خبریں 0 04-02-11 03:45 AM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 05:51 PM
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 09:52 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:28 AM
بے روزگار نعت خوانوں کیلئے فنڈ قائم عبدالقدوس فلمی دنیا 0 04-12-07 12:40 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:17 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger