| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1873
|
||||
| 11 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | shafirajput (24-01-11), shafresha (15-06-10), محمدخلیل (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), آبی ٹوکول (01-07-10), اویسی (15-06-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10), رضی (23-01-11), عبداللہ حیدر (15-06-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُوْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّي يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ، فَبَيْنَاهُمْ کَذَلِکَ اسْتَغَاثُوْا بِآدَمَ، ثُمَّ بِمُوْسَي، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
الحديث رقم 27 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : مَنْ سأل الناس تَکَثُّرًا، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن منده في کتاب الإيمان، 2 / 854، الرقم : 884، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 8725، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 377، الرقم : 3677، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، ووثّقه. ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔‘‘ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10), رضی (23-01-11), عبداللہ حیدر (15-06-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.
وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. الحديث رقم 28 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 625، الرقم : 2435، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في الشفاعة، 4 / 236، الرقم : 4739، وابن ماجه عن جابر رضي الله عنه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4310، والحاکم في المستدرک، 1 / 139، الرقم : 228، وقال الحاکم : هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين، وأبو يعلي في المسند، 6 / 40، الرقم : 3284، والطبراني في المعجم الصغير، 1 / 272، الرقم : 448، والطيالسي في المسند، 1 / 233، الرقم : 1669. ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے ان افراد کے لئے ہے جنہوں نے کبیرہ گناہ کئے۔‘‘ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عَنْ أَبِي مُوْسَي الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : خُيِرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يُّدْخَلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ. فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَکْفَي أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِيْنَ؟ لَا. وَلَکِنَّهَا لِلْمُذْنِبِيْنَ، الْخَطَّائِيْنَ الْمُتَلَوِّثِيْنَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.
الحديث رقم 29 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1441، الرقم : 4311، وأحمد بن حنبل عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما في المسند، 2 / 75، الرقم : 5452، والبيهقي في الاعتقاد، 1 / 202، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 378. ’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ اختیار دیا گیا کہ خواہ میں قیامت کے روز شفاعت کو چن لوں یا میری آدھی اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے تو میں نے اس میں سے شفاعت کو اختیار کیا ہے کیونکہ وہ عام اور (پوری اُمت کے لئے) کافی ہوگی اور تم شائد یہ خیال کرو کہ وہ پرہیزگاروں کے لئے ہو گی؟ نہیں بلکہ وہ (میری شفاعت) بہت زیادہ گناہگاروں، خطاکاروں اور برائیوں میں مبتلا ہونے والوں کے لئے ہو گی۔‘‘ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَتَدْرُوْنَ مَا خَيَرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ؟ قُلْنَا : اﷲُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ قَالَ : فَإِنَّهُ خَيَرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخَلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ. فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ قُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، ادْعُ اﷲَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ : هِيَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ مُسْلِمٍ. الحديث رقم 30 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1444، الرقم : 4317، والحاکم في المستدرک، 1 / 135، الرقم : 221، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 68، الرقم : 126، وفي مسند الشاميين، 1 / 326، الرقم : 575، وابن منده في الإيمان، 20 / 873، الرقم : 932. ’’حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جانتے ہو رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول سب سے بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ اگر میں چاہوں تو میری نصف اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں، میں نے شفاعت کو پسند کیا صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اﷲ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں (بھی) شفاعت کے حقداروں میں (شامل) کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ ہر مسلمان کے لئے ہے۔‘‘ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدً مَوْتِي کَانَ کَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالدَّارُقُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. الحديث رقم 31 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 406، الرقم : 13496، والدارقطني عن حاطب رضي الله عنه في السنن، 2 / 278، الرقم : 193، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 489، الرقم : 4154، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 2. ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔‘‘ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُوْنَ أَلْفًا، أَوْسَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ (لَا يَدْرِي أَبُوْحَازِمٍ أَيُّهُمَا قَالَ) : مُتَمَاسِکُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، لايَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّي يَدْخُلَ آخِرُهُمْ، وُجُوْهُهُمْ عَلَي صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
الحديث رقم 32 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الرِّقاق، باب : صفة الجنة والنار، 5 / 2399، الرقم : 6187، وفي باب : يدخل الجنة سبعون ألفا بغير حساب، 5 / 2396، الرقم : 6177، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : الدليل علي دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 198، الرقم : 219. ’’امام ابوحازم حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ افراد جنت میں داخل ہوں گے (ابو حازم کو یاد نہیں رہا کہ ان میں سے کون سی تعداد مروی ہے) وہ ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوں گے ان میں سے پہلا شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا جب تک ان کا آخری فرد بھی داخل نہ ہو جائے (یعنی وہ اپنے ہزاروں لاکھوں افراد کی نگرانی کر رہا ہوگا) ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔‘‘ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), حیدر (04-07-10), عبداللہ حیدر (15-06-10) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِکُمْ فِي الْحَقِّ يَکُوْنُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ أُدْخِلُوْا النَّارَ قَالَ : يَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَا إِخْوَانُنَا کَانُوْا يُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَيَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَيَحُجُّوْنَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ : فَيَقُوْلُ : اذْهَبُوْا فَأَخْرِجُوْا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ، قَالَ : فَيَأْتُوْنَهُمْ فَيَعْرِفُوْنَهُمْ بِصُوَرِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَي أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَي کَعْبَيْهِ، فَيُخْرِجُوْنَهُمْ، فَيَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا قَالَ : وَيَقُوْلُ : أَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِيْنَارٍ مِنَ الإِْيْمَانِ ثُمَّ قَالَ : مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّي يَقُوْلَ : مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ. قَالَ أَبُوْسَعِيْدٍ : فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الآيَةَ : (إِنَّ اﷲَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَکَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَلِکَ لِمَنْ يَشَاءُ) إِلَي (عَظِيْمًا). (النساء، 4 : 4
. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه.الحديث رقم 33 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التوحيد، باب : في قول اﷲ تعالي : وجوه يومئذ ناضرة إلي ربها ناظرة، 6 / 2707، الرقم : 7001، والنسائي في السنن، کتاب : الإيمان وشرائعه، باب : زيادة الإيمان، 8 / 112، الرقم : 5010، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب : في الإيمان، 1 / 23، الرقم : 60، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 94، الرقم : 117، والحاکم في المستدرک، 4 / 626، الرقم : 8736، وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِِ، وابن راشد في الجامع، 11 / 410. ’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے کسی ایک شخص کا بھی دنیا میں کسی حق بات کے لئے تکرار کرنا اس قدر سخت نہیں ہو گا جو تکرار مومنین کاملین اپنے پروردگار سے اپنے ان بھائیوں کے لئے کریں گے جو جہنم میں داخل کئے جا چکے ہوں گے۔ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار! ہمارے یہ بھائی ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ہی ساتھ حج کرتے تھے اور تو نے انہیں دوزخ میں ڈال دیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اچھا تم جنہیں پہچانتے ہو انہیں جا کر خود ہی دوزخ سے نکال لو۔ کہتے ہیں : وہ ان کے پاس جائیں گے اور ان کی شکلیں دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے۔ ان میں سے بعض کو تو آگ نے پنڈلیوں کے نصف تک اور بعض کو ٹخنوں تک پکڑا ہو گا۔ وہ انہیں نکالیں گے اور پھر عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں جن کے نکالنے کا حکم فرمایا تھا انہیں ہم نے نکال لیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : انہیں بھی جا کر نکال لو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہے۔ پھر فرمائے گا : اسے بھی نکال لاؤ جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہے (پھر) یہاں تک فرمائے گا : اسے بھی (نکال لاؤ) جس کے دل میں ذرّہ برابر ایمان ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب جس شخص کو یقین نہ آئے تو وہ یہ آیتِ کریمہ پڑھ لے۔ ’’بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔‘‘(النساء، 4 : 4 ۔
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-06-10), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (15-06-10), احمد بلال (02-07-10), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (15-06-10), عبداللہ حیدر (15-06-10) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : يَصُفُّ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوْفًا (وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : أَهْلُ الْجَنَّةِ) فَيَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عَلَي الرَّجُلِ، فَيَقُوْلُ : يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ اسْتَسْقَيْتَ فَسَقَيْتُکَ شَرْبَةً؟ قَالَ : فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَمُرُّ الرَّجُلُ، فَيَقُوْلُ : أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ نَاوَلْتُکَ طَهُوْرًا؟ فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَقُوْلُ : يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْکُرُ يَوْمَ بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ کَذَا وَکَذَا؟ فَذَهَبْتُ لَکَ، فَيَشْفَعُ لَهُ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَبُوْيَعْلَي. الحديث رقم 34 : أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب : الأدب، باب : فضل صدقة الماء، 2 / 1215، الرقم : 3685، وأبو يعلي في المسند، 7 / 78، الرقم : 4006، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 317، الرقم : 6511، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 39، الرقم : 1415، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 382، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 3 / 275. ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ صفیں بنائیں گے (ابن نمیر نے کہا یعنی کہ اہلِ جنت) تو دوزخیوں میں سے ایک شخص جنتیوں میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا : اے فلاں! تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے پانی مانگا تھا اور میں نے تجھے پانی پلایا تھا؟ راوی فرماتے ہیں : پس وہ جنتی اس دوزخی کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی دوسرے آدمی کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا : تجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دن تجھے طہارت کے لئے پانی دیا تھا؟ چنانچہ وہ اس کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی کہے گا : اے فلاں : تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے مجھے اس اس کام کے لئے بھیجا تھا چنانچہ میں تیری خاطر چلاگیا تھا؟ پس وہ اس کی شفاعت کرے گا۔‘‘ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق سے شناسا ہیں ۔۔۔
خرم بھائی اجکل بہت جوش میں ہیں ۔۔ اچھی شیرنگ ہے ۔۔۔۔۔شکریہ
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک |
|
|
|
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بس حیدر بھائی کسی اللہ کے بندے نے پڑھنے پر لگا دیا ہے اور کوشش کر رہا ہوں ایک ہی موضوع پر احادیث ارسال کرتا رہوں
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
جزاک اللہ خیرا۔ یہ بھی دیکھیں: اقتباس:
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (30-06-10), اویسی (16-06-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (16-06-10), خرم شہزاد خرم (15-06-10) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
السلام علیکم،
اگرچہ شفاعت کا گمان ہی ایک خوش کُن خیال ہے، لیکن یہ عقیدہ گناہگاروں (مجھ سمیت) میں بجائے عبرت کے ہمت پیدا کرتا ہے۔ اللہ ہمیںاپنے حبیب کی محبت اور شفاعت نصیب فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (30-06-10), آبی ٹوکول (16-06-10), اویسی (16-06-10), احمد بلال (02-07-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (16-06-10), رضی (16-06-10) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,043
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے بھائی عقیدہ شفاعت سے بھی پہلے اللہ کی رحمت اور اسکے فضل کا بے انتہا ہونا اس سے بھی زیادہ ہمت دلاتا ہے کہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ میری رحمت ہر شئے کو محیط ہے اور حقیقت یہ ہے تمام اذن والوں کو حق شفاعت دینا حقیقت میں اللہ کی رحمت اور فضل ہی کے مرہون ہے والسلام ۔ ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | rabab (21-06-10), sahj (01-07-10), shafresha (16-06-10), مفتی (23-01-11), مرزا عامر (30-06-10), اویسی (16-06-10), احمد بلال (02-07-10), بلال اویسی (14-05-11), حیدر (04-07-10), حیدر Rehan (16-06-10), خرم شہزاد خرم (16-06-10), سحر (19-06-10), عبداللہ حیدر (24-01-11) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
شاھد بھائی ، اگر اس موضوع سے متعلق صحیح روایات تک محدود رہتے ہوئے ، موضوع کے تمام پہلووں کا مطالعہ کیا جائے تو ان شاء اللہ کسی خوش فہمی ، یا کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں رہتی ، اور اسی طرح اللہ کی رحمت کے بارے میں بھی کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں ، """ :::::: قران و سنت کے سایے میں ::: اللہ کی رحمت کی کیفیت اور وسعت کا کچھ اندازہ ::::::: """" کا مطالعہ ان شاء اللہ فائدہ مند ہو گا ، ہم لوگ اکثر موضوعات کی نامکمل معلومات حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے اپنے خیالات کے مطابق انہیں سمجھنے کو کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورت حال ظاہر ہوتی ہے جس کا آپ نے ذکر فرمایا ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو دین اور دنیا کی ہر بات ، پر مسئلہ ٹھیک ذرائع سے ، فہم وعمل کے ٹھیک منھج پر رہتے ہوئے جاننے اور اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rabab (21-06-10), shafresha (03-07-10), مرزا عامر (30-06-10), حیدر (04-07-10), عبداللہ حیدر (20-06-10) |
![]() |
| Tags |
| کیجئے۔, کتاب, کرے, گی, گی۔, گے۔, پیچھے, وآلہ, وسلم, لوگ, مقام محمود, اپنے, اللہ, بیان, باب, تعالیٰ, جائیں, حضور, ختم, در, روایت, سنا, علی, عبداللہ, عرض |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ہمارے سفارتکار کو منصفانہ سماعت سے محروم رکھا گیا، امریکا، ریمنڈ کا 8 روزہ ریمانڈ | گلاب خان | خبریں | 0 | 04-02-11 03:45 AM |
| ::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: | عادل سہیل | ایمان | 95 | 03-08-09 05:51 PM |
| گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت | sahj | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 40 | 26-07-09 09:52 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 08:28 AM |
| بے روزگار نعت خوانوں کیلئے فنڈ قائم | عبدالقدوس | فلمی دنیا | 0 | 04-12-07 12:40 PM |